Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 20)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

یہ بات تم مجھ سے بھی کرسکتی تھی موم ڈیڈ کے سامنے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔سکندر گاڑی ڈرائیو کرتا خشمگین نظروں سے آئرہ کو گھور کر بولا جو بظاہر خود کو لاپرواہ ظاہر کررہی تھی۔

آپ کو خود کو تو توفیق نہیں ہوئی کے اکلوتی بیوی کی شکل دیکھائی دی جائے میری جگہ اگر وہ حنا ہوتی تو آپ نے تو اُس کو تاج محل بنواکر دینا تھا۔آئرہ نے جیسے سکندر کو شرمندہ کرنا چاہا

پہلی بات شکل دیکھائی نہیں منہ دیکھائی ہوتی ہے دوسری بات میرے پاس شاھجہان کی طرح اتنے فضول پئسے نہیں۔سکندر نے طنزیہ انداز میں کہا

سیدھا یوں کیوں نہیں کہتے آپ کا دل کنجوس ہے۔آئرہ نے منہ بناکر کہا

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں یہ بتاؤ کیا چاہیے تمہیں ویسے منہ دیکھائی تمہیں دینا بنتی تو نہیں بچپن سے جانے کتنی دفع تمہاری شکل دیکھی ہوئی ہے۔سکندر نے سر جھٹک کر کہا

بچپن سے میری شکل دیکھی ہے مگر اِس بار تو اپنی بیوی کی نظر سے دیکھنا ہوا نہ۔آئرہ کی بات پہ سکندر لاجواب ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیسی ہو کل سے تمہاری کال کا انتظار کررہا تھا مگر تم نے کی ہی نہیں۔اذہاد زوہا کو کال کرتا اُس سے شکوہ بھرے لہجے میں بولا

میں تمہیں کال کیوں کرتی؟زوہا اپنے لیے ولیمے کے حساب سے ڈریس سلیکٹ کرتی اذہاد سے بولی

کیونکہ میں تمہارا فیوچر مجازی خدا ہوں۔اذہاد نے فخریہ انداز میں بتایا

اچھا تو مسٹر فیوچر مجازی خدا آپ یہ بتائے اِس وقت کال کیوں کی جب کی آپ کو پتا ہے آج میری بہن کا ولیمہ ہے اور مجھے تیار بھی ہونا ہے۔زوہا نے بڑے اخلاق سے پوچھا

تمہیں یہ بتانا تھا آج میرے پرینٹس آئے گے ولیمے پہ لگے ہاتھ ہماری بات بھی پکی کرے گے۔اذہاد نے پرجوش لہجے میں بتایا

تمہیں شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے؟زوہا نے جاننا چاہا

تمہاری جڑواں بہن کی شادی ہوگئ اُس کا ولیمہ ہے کیا تمہیں اُس سے جلن نہیں ہورہی؟اذہاد کو افسوس ہوا اُس کے سوال پہ

نہیں مجھے جلن نہیں ہوتی۔زوہا نے بنا تاخیر کیے کہا

پر مجھے بہت ہورہی ہے میرے دوست کی شادی ہوگئ اور میں اب تک کنوارہ ہوں۔اذہاد نے افسردگی کا مظاہرہ کیا

اچھا اذہاد میں کال رکھتی ہوں مجھے تیار ہونا ہے۔زوہا نے جلدی سے کہا

ہائے جب تم میرا نام لیتی ہوں تو سیدھا سینے پہ ٹھاہ کی طرح لگتا ہے یہ لفظ۔اذہاد دلکش انداز میں بولا

اچھا بائے۔زوہا اُس کی بات ہنس کر بولی

بائے۔اذہاد نے کہا تو وہ سیل فون کو بیڈ پہ رکھتی تیار ہونے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕

ہائے اللہ میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں۔آئرہ آئینے میں خود کا عکس دیکھتی اپنی تعریف کرنے لگی اُس نے ولیمے کے حساب سے گولڈن کلر لہنگا پہنا تھا میچ جیولری اور ہلکے سے میک اپ میں وہ واقع بہت پیاری لگ رہی تھی اُس نے پارلر جانے کے بجائے گھر میں تیار ہونے کو ترجیح دی تھی دوسری طرف سکندر نے اسکن کلر کے شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔

اگر تم تیار ہو تو چلیں۔سکندر ایک گہری نظر اُس پہ ڈالتا بولا

میں کیسی لگ رہی ہوں؟آئرہ گول گول گھومتی پرجوش لہجے میں اُس سے پوچھنے لگی

اچھی لگ رہی ہو۔سکندر نے کہا

صرف اچھی دو گھنٹے لگا کر تیار ہوئی ہوں اور آپ ایسے بول رہے ہیں۔آئرہ مصنوعی افسردگی سے بولی۔

بہت اچھی لگ رہی ہو۔سکندر آج شاید اچھے موڈ میں تھا۔

پھر بھی کتنی عائزہ خان جتنی ثنا جاوید جتنی ہانیہ عامر جتنی نمل خاور جتنی یا ایمن خان جتنی۔آئرہ نے نیا سوال داغا

کوئی اور ایکٹریس رہ گئ ہے تو اُس کا بھی نام لے لیتی۔سکندر نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

نہیں میری تو یہی فیورٹ ہیں اِس لیے بس اِن میں سے بتائے۔آئرہ اُس کا طنزیہ سمجھے بنا بولی

تم اِن سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو کیونکہ تم اُن جیسی نہیں ہوں تم آئرہ سکندر ہو اِس لیے خود کو کسی ایکٹریس کے ساتھ کمپیئر نہ کرو۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا جس پہ آئرہ کے اندر ہلچل ہوئی پر اُس نے ظاہر نہیں کیا۔

بندہ تعریف کجھ رومانٹک انداز میں کرتا ہے آپ ایسے کررہے ہیں جیسے کوئی احسان کررہے ہیں۔آئرہ اپنی حالت پہ قابوں کیے ناک سکوڑ کر بولی۔

اگر تمہارا ہوگیا ہو تو چلیں کیونکہ ہمیں دیر ہورہی ہے۔سکندر اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا

ہاں ہاں کیوں نہیں۔آئرہ نے جلدی سے اپنا حنائی والا ہاتھ سکندر کی ہتیھلی پہ رکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ دونوں بہت پیارے لگ رہے ہو اللہ بُری نظر سے بچائے۔عبیر اُن کی بلائیں لیتی مسکراکر دعا دینے لگی۔

شکریہ پھپھو جان۔آئرہ خوش ہوتی بولی

سر نیچے کرکے بیٹھو ایک دن کی دولہن ہو۔سکندر اُس کے کان کے پاس چہرہ کیے آہستہ آواز میں بولا

دو دن کی دولہن ہو اور سر نیچے کیسے کروں میرا سر گردن کے اُپر ہے پیروں کے نیچے نہیں۔آئرہ پورے ہال میں نظر گھماتی سکندر کو تپانے والا جواب دیا۔

تم کبھی سیریس نہیں ہوسکتی جب بھی تمہارے لیے اچھی فیلنگز رکھنا چاہتا ہوں تو تمہاری باتیں تپادیتی ہیں مجھے۔سکندر دانت پیس کر بولا

میں کیوں سیریس رہو اُس کے لیے آپ کافی ہے سڑے ہوئے کڑیلے کی طرح مجھے معاف ہی رکھیں رہی بات اچھی فیلینگز کی تو وہ آپ اپنی حنا کے لیے رکھے ہونہہ۔آئرہ ناک منہ چڑھا کر بولی۔

ہیں سکندر کیا باتیں ہورہی ہیں؟اُس سے پہلے سکندر آئرہ کو کوئی جواب دیتا اذہاد اسٹیج پہ آتا اُس سے بولا

دراصل سکندر جی بول رہے تھے آج میں حوروں کو بھی مات دے رہی ہو۔سکندر کے جواب دینے سے پہلے آئرہ شرمانے کی اداکاری کیے بتانے لگی۔سکندر اُس کے اتنے سفید جھوٹ پہ اُس کا چہرہ تکتا رہ گیا۔

سکندر جی واہ کیا بات ہے امیزنگ۔اذہاد ہونٹوں کو گول شیپ دیتا سکندر کو چِڑانے لگا۔

انکل آنٹی نہیں آئے کیا تم نے تو کہا تھا آج اُن کق بھی آنا ہے۔سکندر نے بات کا موضوع تبدیل کیا۔

آرہے ہیں وہ تو آئرہ تم یہ بتاؤ زوہا کہاں ہیں؟اذہاد نے بے چینی سے پوچھا

وہ رہی۔آئرہ نے کونے کی طرف اِشارہ کیے بتایا جہاں زوہا جانے کس کے ساتھ باتوں میں مگن تھی۔

واہ میرے والی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔اذہاد غور سے زوہا جا جائزہ لیتا بولا جس نے ریڈ پیروں تک آتی میکسی پہنی ہوئی تھی ساتھ میں حجاب کیا ہوا تھا اُس کو زوہا کو حجاب میں دیکھ کر انجانی خوشی محسوس ہوئی تھی

خاک پیاری لگ رہی ہے ڈیپ ریڈ کلر پہنا ہے مجھے تو اُس سے ویمپائر کی بوء آرہی ہے۔آئرہ نے منہ بناکر کہا کیونکہ آئرہ چاہتی تھی زوہا بھی گولڈن کلر کا کوئی پہنے پر زوہا نے ریڈ کلر کی میکسی زیب تن کی تھی ساتھ میں ریڈ کلر کا حجاب کیا ہوا تھا

جل ککڑی نہ ہو تو۔اذہاد اُس کو نیا لقب دیتا نو دو گیارہ ہوگیا۔

جل ککڑی۔آئرہ کا منہ پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔

خود کیا ہے مسٹر بین بینڈی جیسی شکل والا۔آئرہ اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتی اُس کو مختلف ناموں سے نوازنے لگی۔

مسٹر بین جیسی ناک تو خود بنائی ہوئی ہے۔سکندر نے جلے پہ نمک کا کام کیا۔

آپ تو خاموش رہے خود کوئی فیروز خان نہیں لگ رہے بلکہ جلی پولیس والے ہی لگ رہے ہیں۔آئرہ تپ کے بولی

کیا تمہیں میں جلی پولیس والا لگتا ہوں۔سکندر تو تڑپ اُٹھا۔

آپ کو کوئی شک ہے تو آئینے میں خود کو غور سے دیکھئے گا۔آئرہ نے اِتراکر کہا۔

ہائے۔اذہاد خاموشی سے زوہا کے پیچھے کھڑا ہوتا بولا تو زوہا کا دل اُچھل پڑا

افففف جان نکال دی تھی میری۔زوہا اپنے سینے پہ ہاتھ رکھتی اُس کو گھورنے لگی۔

وہ میں تو یہ بتانے آیا تھا تمہارے ساس سسر آنے والے ہیں تو کیوں نہ گیٹ پہ اُن کا ویلکم کیا جائے۔اذہاد شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

میں ک

زوہا کی بات اچانک ہال میں ہوتے شور کی وجہ سے بیچ میں رہ گئ۔

یہ کیسا شور ہے۔اذہاد بڑبڑاتا آس پاس دیکھنے لگا مگر جیسے ہی اُس کی نظر سائیڈ پہ گِرتے اپنے باپ پہ پڑی تو اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا اُس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہوا کیونکہ اُس کا باپ عماد کے مُکے کی وجہ سے گِرا تھا

واٹ دا۔اذہاد غصے سے کھولتا جیسے وہاں جانے لگا تبریز نے بیچ راستے میں اُس کو روک لیا زوہا بھی پریشانی سے اپنے باپ عماد کو دیکھنے لگی سکندر اور آئرہ بھی اسٹیج سے اُتر آئے تھے

کیوں اپنی خوبصورت شکل بگاڑنا چاہتے ہو۔تبریز دوستانہ انداز میں اذہاد سے بولا

انکل وہ میرے فادر کو پیٹ رہا ہے۔اذہاد نے دانت پہ دانت جمائے

تمہارا باپ بھی تو اُس کو پیٹ رہا ہے۔تبریز اُس کی گردن پہ بازوں ڈالتا بتانے لگا۔

شروعات تو انکل عماد نے کی نہ۔اذہاد نے جلدی سے کہا

احتتام بھی وہی کرے گا تم پریشان مت ہو۔تبریز نے سکون بھرے لہجے میں کہا

چاہے پھر میرے باپ کی روح پرواز کرجائے۔اذہاد دانت پیس کر بولا

پھوپھان جان آپ ڈیڈ کو روک کیوں نہیں رہے۔زوہا پریشانی سے تبریز سے بولی۔

کیونکہ مجھے اپنی خوبصورت شکل بہت عزیز ہے اور جو تمہارا باپ ہے نہ بہت کمینہ ہے وار سیدھا چہرے پہ کرتا ہے۔تبریز نے سنجیدگی سے غیرسنجیدہ بات کہی۔

اب ایسی بھی بات نہیں پھوپھو بتاتی ہیں آپ اپنی کالج لائیف میں بہانا تلاش کرتے تھے لوگوں کو پیٹنے کا بس آتے جاتے کسی نہ کسی کے چہرے پہ مُکہ برسا دیتے تھے۔زوہا کی بات پہ تبریز گڑبڑا گیا۔

تمہاری پھوپھو کو تو دُنیا جہاں کی خامیاں مجھے میں نظر آتی ہیں اُس سے پیار سے بھی بات کرو تو اُس کو لگتا ہے میں ڈانٹ رہا ہوں۔تبریز اپنے دفاع میں بولا۔اذہاد نے اُن دونوں کو آپس میں مگن دیکھا تو اپنی موجودگی کا احساس کروایا۔

زوہا تمہارا باپ تمہارے فیوچر مجازی خدا کے باپ کو پیٹ رہا ہے تمہارے دل کو کجھ ہو نہیں رہا۔اذہاد نے ایموشنل تقریر کی۔

یہ جو تمہارا باپ ہے نہ۔تبریز نے اُس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اِشارہ کیا

وہ زوہا کے باپ کا جگری یار ہے اور جب دو جگری یار سالوں بعد ملتے ہیں نہ تو پیار ایسے جتاتے ہیں۔تبریز اتنا کہتا اُس کا چہرہ عماد کی طرف کیا جہاں وہ اب اذہاد کے باپ کو گلے لگا رہا تھا یہ دیکھ کر زوہا کے چہرے پہ خوشگوار حیرت چھائی۔

یہ ہو کیا رہا ہے۔اذہاد زچ ہوا۔

ہو تو میرے بیٹے کے دوست مگر عقل نام کی چیز تمہیں چھو کر نہیں گُزری۔تبریز نے افسوس سے کہا تو اذہاد جلدی سے اپنے باپ کی جانب گیا۔

ڈیڈ آپ ٹھیک ہیں۔اذہاد نے فکرمندی کا مظاہرہ کیا۔

بلکل ٹھیک ہے تمہارا ڈیڈ اگر آج میری بیٹی کا ولیمہ نہ ہوتا تو تمہارے باپ کا جنازہ ہوتا کیوں فیصل ٹھیک کہہ رہا ہوں نہ میں۔جواب فیصل کے بجائے عماد نے دیا تھا

جی جناب آپ کبھی غلط ہوسکتے ہیں۔فیصل اپنے دُکھتے چہرے سمیت دانت پیس کر بولا

ج سے جاہل

ن سے نااہل

ا سے احمق

ب سے بے وقوف

ہائے اللہ آپ کے دوست کے باپ نے ایک لفظ میں میرے باپ کو چار گالیاں دی۔آئرہ فیصل کی بات سن کر سکندر سے بولی

خاموش رہو آئرہ۔سکندر نے اُس کو جھڑکا تو آئرہ کا منہ لٹک گیا۔

میری ماں نے بتایا تھا جناب لفظ کا مطلب اور بڑے بزرگ کہتے ہیں والدہ کی بات نظرانداز نہیں کرنی چاہیے۔وہ آئرہ ہی کیا جو خاموش ہوجائے۔

آپ لڑ کیوں رہے تھے؟اذہاد کی سوئی ایک جگہ پہ اٹکی ہوئی تھی۔

کیونکہ آج سے پندرہ سال پہلے تمہارا باپ روپوش ہوگیا تھا اور اب ظاہر ہوا ہے نہ کال نہ میسج نہ ای میل کجھ بھی نہیں کیا اِس نے اِن سب کو تو چھوڑو یہ تک نہیں بتایا تھا کے یہ مُلک سے باہر جارہا ہے جب کے ہماری دوست آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔عماد نے تفصیل سے وجہ بتائی۔

واہ کیا دوستی ہے اگر میری ایسی کوئی دوست سالوں بعد ملتی تو میں نے اُس کو گنجا کرنا تھا۔عماد کی بات سن کر آئرہ نے کمنٹ پاس کیا

اِس لیے تو تمہاری کوئی دوست نہیں۔سکندر نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

یار عماد اُس وقت حالات ایسے بن گئے تھے کے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا۔فیصل نے وجہ بتائی۔

اِس مطلب آپ دونوں بڈیز ہیں۔اذہاد کا چہرہ کِھل اُٹھا۔

بدقسمتی سے ہاں۔عماد نے کہا

اب غصہ تھوک بھی دو اتنا مارا تو ہے اتنی طاقت تو تم میں جوانی میں نہیں تھی جتنی اب ہوگئ ہے۔فیصل نے مزاحیہ انداز میں کہا

اچھا یہ بتاؤ تم اب یہی رہو گے؟عماد نے پوچھا

بلکل اب اور کہاں جانا ہے۔فیصل نے کہا تو عماد نے سمجھنے والے انداز میں سرہلایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہاں آنے سے پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا میں تم سے ملنے والا ہے ہوں مجھے تو بس اذہاد نے کہا میرے سسر سے رشتے کی بات کریں۔ولیمے کی تقریب ختم ہوئی تو عماد فیصل کو اپنے گھر لایا تھا جہاں لان میں بیٹھے وہ چائے سے لطف اندروز ہونے کے ساتھ ساتھ باتوں میں بھی مگن تھے۔

رشتے کی بات؟عماد نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

ہاں رشتے کی بات میرے بیٹے کو زوہا بہت پسند ہے اور وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے پڑھائی میں اُس کا لاسٹ ایئر ہے نیکسٹ منتھ امتحان ہے اُس کے اُمید ہے تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔فیصل نے مسکراکر کہا

مجھے کوئی اعتراض نہیں پر گھر میں سب سے ایک دفع بات کروں گا۔عماد نے تسلی بخش جواب دیا۔

تمہاری طرف سے تو ڈن ہے نہ مجھے پتا ہے معصومہ کو بھی اعتراض نہیں ہوگا۔فیصل نے کہا

میری طرف سے تو ڈن ہے۔عماد نے کہا تو فیصل پرسکون ہوا۔

زندگی کتنی عجیب ہے نہ کبھی کبھی خوفناک حادثات سے ملاتی ہے تو کبھی کبھی خوبصورت اتفاق سے نوازتی ہے۔فیصل آسمان کی جانب دیکھ کر بولا

یہی تو زندگی ہے اِسی کو زندگی کہتے ہیں کیونکہ زندگی میں سب کجھ ہماری سوچ کے مطابق نہیں ہوتا۔عماد نے اُس کی بات کے جواب میں بولا

تم آج سب سے بات کرنا کل میں شادی کی تاریخ طے کرنے آؤں گا۔فیصل کی اچانک بات پہ عماد حیران ہوا

یہ کجھ جلدبازی نہیں؟عماد نے پوچھا

نہیں کیونکہ بیٹیوں کے فرائض سے جلدی سبکدوش ہونا چاہیے تم میرے دوست ہو تبھی بتارہا ہوں۔فیصل اُس کی طرف دیکھ کر آنکھ ونک کیے بولا

کمینے کے کمینے ہی رہنا۔عماد اُس کی بات سمجھتا گھور کر بولا

کیا کروں تمہاری دوستی کا شرف جو حاصل ہے۔فیصل سر کو خم دیتا بولا تو عماد بھی ہنس پڑا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *