Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 07)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

ہاتھ چھوڑے میرا سکندر بھائی۔آئرہ اپنا ہاتھ سکندر کی مضبوط گرفت سے نکالنے کی جدوجہد کرتی بولی جو کی ناممکن سا تھا

چپ ایک دم چپ۔سکندر غصے سے اُس کو اپنے سامنے کھڑا کرتا انگلی دیکھا کر بولا

کیوں چپ ایویں چپ کرجاؤ میرا جرم کیا ہے جب دیکھو آپ مرنے مارنے پہ اُتر آتے ہیں۔آئرہ اُس کا غصے کسی خاطے میں نہ لاتی بولی

آئرہ آئے وِل کِل یو۔سکندر اپنے دونوں ہاتھ اُس کے گلے کی طرف بڑھاتا بولا تو آئرہ بدک کر پیچھے ہوئی۔

ہوش کریں کیا ہوگیا ہے آپ کو۔آئرہ دل پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔

کیا کررہی تھی تم وہاں اور حِنا سے ایسے بات کیوں کی۔سکندر ضبط کی حدود چھوتا ہوا بولا

کون حِنا؟آئرہ ۔ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی کجھ دیر والا قِصہ وہ مکمل طور پہ بُھلاچُکی تھی۔

وہی جس کو تم پولیو کا مرض دے آئی ہو۔سکندر دانت پیس کر بولا

اوو اچھا اچھا آپ کی محبوبہ اُس کی بات کررہے ہیں میں کہاں اؐس کو مرض دے آئی ہوں میں نے تو جسٹ ایک بات کہی تھی۔آئرہ سمجھنے والے انداز میں کہتی اپنے کندھے اُچکاگئ

وہ میری محبوبہ نہیں۔سکندر کو محبوبہ لفظ پسند نہیں آیا تو کہا

گرلفرینڈ تو ہے نہ ویسے بھی گرلفرینڈ اور لور کو محبوبہ اور معشوقہ ہی کہا جاتا تھا پہلے یہ تو اب انگریزوں نے محبوبہ کو گرلفرینڈ کا نام تو معشوقہ کو لور کا نام دے دیا ہے۔آئرہ نے اپنے حساب سے پتے کی بات کی۔

یہ ایسے ورڈز یوز مت کیا کرو۔سکندر کو عجیب لگنے لگا۔

کیسے ورڈز؟آئرہ نے زچ کرنے کی خاطر پوچھا

یہ معشوقہ محبوبہ وغیرہ وغیرہ۔سکندر یہاں وہاں دیکھ کر بولا تو آئرہ زور زور سے ہنسنے لگی۔

سُدھر جاؤ آئرہ۔سکندر اُس کو گھور کر بولا

واللہ حبیبی ہم نہیں سُدھرے گے کبھی بھی۔آئرہ اتنا کہتی اور زور زور سے ہسنے لگی سکندر بس اُس کو تیکھی نظروں سے دیکھ سکا۔

آرو تم یہاں ہو میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی اور سکندر بھائی آپ یہاں۔زوہا شاپنگ بیگز پکڑتی آئرہ سے بولی ساتھ میں سکندر کو دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا۔

ڈیٹ پہ آئے تھے آپ کے سکندر بھائی میں نے اپنے رنگے ہاتھوں سے پکڑا ہے اُن دونوں کو۔آئرہ نے مزے سے بتایا

سکندر بھائی کیا سچ میں؟؟زوہا تعجب سے سکندر کو دیکھ کر بولی جو کھاجانے والی نظروں سے آئرہ کو دیکھ رہا تھا۔

یہ بیگز مجھے دو اور تم دونوں گاڑی میں بیٹھو میں گھر تک ڈراب کردوں گا۔سکندر نے بات کو بدل کر کہا تو زوہا نے ہاتھ میں پکڑے بیگز سکندر کے ہاتھ میں تھمائے۔

تھینک یو پر ہم ڈرائیور کے ساتھ آئے تھے۔آئرہ نے بیگز واپس لیکر کہا

جی آپ کا شکریہ۔زوہا اپنے سر پہ ہاتھ مارکر بولی کیونکہ وہ یہ بات بھول چُکی تھی۔

اِٹس اوکے۔سکندر نے مسکراکر کہا۔

چلیں۔زوہا نے آئرہ کو کہا تو اُس نے ہاں میں سرہلایا۔

اُن دونوں کو جاتا دیکھ کر سکندر نے اپنے قدم دوبارہ سے فوڈ کارنر کی طرف بڑھائے جہاں حِنا تپی ہوئی بیٹھی تھی۔

کون تھی وہ ان مینرڈ لڑکی؟حِنا کی نظر جیسے ہی سکندر پہ پڑی وہ غصے سے کُھولتی استفسار کرنے لگی۔

حِنا بیہیو کزن تھی میری وہ۔سکندر کجھ ناگواری سے بولا

تمہارے سامنے وہ مجھے کیسے بات کرکے گئ اور ابھی تم مجھے ایسے بول رہے ہو۔حِنا حیرت سے اُس کس دیکھ کر بولی تو سکندر نے گہری سانس خارج کی۔

آئرہ فرینک نیچر کی ہے تبھی اُس نے تم سے ایسی بات کی تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو بھی وہ ایسے ہی کوئی بات کہتی کیونکہ وہ ہر ایک سے جلدی سے فرینڈلی ہوجاتی ہے۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا

لُک سکندر فرینڈلی ہونے میں اور انسلٹ کرنے میں فرق ہوتا ہے تمہاری کزن نے میری انسلٹ کی ہے۔حنا نے جتایا

اُس کے لیے آئم سوری پر تم اپنا موڈ ٹھیک کرو آئرہ کا اِرادہ تمہاری انسلٹ کرنے کا نہیں تھا اور وہ نہ کبھی کسی کی انسلٹ کرتی ہے بس اُس کی عادات کجھ بچوں والی ہیں۔سکندر آئرہ کی حمایت میں بولا جو بات حنا کو پسند نہیں آئی۔

آئیندہ وہ مجھ سے ایسے بات نہ کریں کیونکہ میں ہر بار برداشت نہیں کروں گی میرا جواب اُس کو شاید پسند نہ آئے پھر مجھے نہ کہنا تم کجھ۔حنا نے کہا

اُس کا تو پتا نہیں پر تمہارا جو ایکشن کا ہوگا آئرہ کا ری ایکشن وہ اُس کا بہت بُرا ہوگا جو شاید تم واقع برداشت نہ کرسکو اب ہر کوئی میری طرح صابر تھوڑئی نہ ہوسکتا ہے۔یہ سب کجھ سکندر حِنا کی شکل دیکھ کر سوچ سکا بول کر وہ حنا کو آئرہ سے بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *