Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Last Episode)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

آج کا دن بہت بزی تھا۔آئرہ ٹی وی آن کرتی تیز آواز میں بولی

یہ ٹی وی آن کیوں کیا بہت رات ہوگئ ہے مجھے سونا ہے۔سکندر واشروم سے نائٹ سوٹ پہن کر آیا تو آئرہ کے اِرادے جان کر بولا

آپ کو سونا ہے تو سوجائے میں نے کونسا آپ کے سونے پہ پابندی لگائی ہے ویسے بھی دراصل بات یہ ہے آج منگل ہے اور میرا فیورٹ ڈرامہ چلنے والا ہے سو میں وہ دیکھوں گی اور اتنی رات بھی نہیں صرف آٹھ ہی بجے ہیں۔آئرہ نے اچھی خاصی تقریر کرڈالی۔

تو کیا ہوا آٹھ بجے ہیں تو تمہیں اندازہ بھی نہیں آج میں نے کتنے کام کیے کل مجھے وقت پہ اسٹیشن بھی جانا ہے اِس لیے ریموٹ رکھو اور سونے کی تیاری کرو۔سکندر اُس کی بات سن کر گھور کر بولا

ایک گھنٹہ صبر کرے میں حبس ڈرامہ دیکھ کر سوئے ہوگی ورنہ نہیں۔آئرہ بضد ہوئی۔

اپنا فون پکڑو وہاں سے یوٹیوب میں دیکھ لو یا کمرے سے باہر چلی جاؤ پر میرا سکون برباد مت کرو۔سکندر زچ ہوا۔

نا میں موبائل پکڑوں گی اور نہ میں باہر جانے والی ہوں مسئلہ آپ کو ہے تو آپ جائے۔آئرہ نے سکون بھرے لہجے میں کہا

تم ایسے نہیں مانوں گی مجھے دو ریموٹ کنٹرول۔سکندر بیڈ پہ آتا اُس سے ریموٹ لینے کی کوشش کرنے لگا۔

میں نہیں دوں گی اور ہر بار آپ کی نہیں چلے گی۔آئرہ بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

دیکھو آئرہ تنگ مت کرو میں واقع تھک چُکا ہوں سونا چاہتا ہوں۔سکندر نے کجھ نرمی کا مظاہرہ کیا۔

صرف ایک گھنٹے کی تو بات ہے۔آئرہ نے کہا

تم کل بھی دیکھ سکتی ہوں۔سکندر نے ضبط کیے کہا

آپ بہت بُرے ہیں پتا نہیں کیوں موم ڈیڈ نے میری شادی آپ سے کروائی ایک ڈرامہ تو دیکھنے دے نہیں رہے دُنیا جہاں کی خوشیاں کہاں سے دینگے۔آئرہ جذباتی ہوتی ریموٹ بیڈ پہ پھینک کر کمرے سے باہر چلی گئ۔سکندر حیرت سے اُس کے ردعمل کے بارے میں سوچنے لگا پھر سرجھٹک کر بیڈ پہ لیٹ گیا۔

بار بار کروٹ بدلنے کے بعد بھی اُس کو نیند نہیں آئی تو اُٹھ بیٹھا پورے کمرے میں نظر گھمائی تو آئرہ موجود نہیں تھی اُس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا سیل فون اُٹھایا تو نو بجے کا وقت ہورہا تھا۔

کہاں چلی گئ یہ۔سکندر بلینکٹ خود سے دور کرتا کمرے سے باہر آیا ہال لاوٴنج ٹیرس ہر جگہ اُس نے دیکھ لیا پر آئرہ اُس کو کہی نظر نہیں آئی ابھی وہ لان میں جاتا کے پلر کے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا سکندر نے سیل فون کی ٹارچ آن کرکے وہاں روشنی کی تو پلر کے ساتھ ٹیک لگائے خاموش بیٹھی آئرہ نظر آئی سکندر شکر کا سانس خارج کرتا اُس کے پاس بیٹھ گیا۔

یہاں کیوں بیٹھی ہو؟سکندر نے پوچھا

آپ سے مطلب۔آئرہ نے بے رخی دیکھائی۔

مطلب ہے تبھی تو پوچھ رہا ہوں یہاں کیوں بیٹھی ہو؟سکندر نے اپنا سوال دوبارہ سے رپیٹ کیا۔

آپ کو مطلب نہیں ہونا چاہیے آپ کو تو نیند آرہی تھی نہ تو جائے جاکر سوجائے یہاں میرے پاس کیوں آئے ہیں۔آئرہ نے غصہ دیکھایا۔

تمہیں غصہ بھی آتا ہے مجھے آج پتا چلا۔سکندر اندھیرے میں بھی اُس کے تاثرات نوٹ کرسکتا تھا۔

آپ کو غصہ کرنے سے فرصت ملے تو آپ کو پتا چلے کسی اور کو بھی غصہ آ سکتا ہے۔آئرہ نے منہ بسورا

اچھا اُٹھو باہر بیٹھنا ٹھیک نہیں کمرے میں آؤ۔سکندر نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا۔

مجھے کہی جانا ہے آپ کو جانا ہے تو جائے۔آئرہ نے اپنا ہاتھ کھینچ کر کہا

آئرہ لِسن اگر میں نرمی سے پیش آرہا ہوں تو اُس کا غلط فائدہ مت اُٹھاؤ اگر میں کہہ رہا ہوں کمرے میں چلو تو مطلب چلو۔سکندر نے اِس بار روعب سے کہا

آئے ہیٹ یو۔آئرہ اُس کو دھکا دے کر کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی پیچھے سکندر کو جانے کیوں آج پہلی بار آئرہ کا یوں بولنا بُرا لگا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماہ نور آج کالج آئی تو ابراہیم کے ہوتے ہوئے بھی سامنے والی پہلی سیٹ خالی تھی جس کو دیکھ کر ماہ نور کجھ حیران ہوئی۔

خیر ہے آج تم بنا لڑے دوسری سیٹ پہ بیٹھ گئے۔ماہ نور ابراہیم کے پاس کھڑی ہوکر حیرت کا اظہار کرنے لگی۔

ہاں کیونکہ مجھے لگا لڑائی ختم کردینی چاہیے۔ابراہیم نے جواب دیا۔

اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟ماہ نور نے دوسرا سوال کیا۔

کیا تمہیں مجھ سے لڑنا اچھا لگتا ہے؟ابراہیم نے پوچھا

بلکل نہیں۔ماہ نور نے فورن سے جواب دیا

تو بس اِس لیے میں نے سوچا لڑائی ختم کرکے دوستی کی شروعات کرتے ہیں۔ابراہیم نے کہنے کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا ماہ نور کجھ پل تو اُس کا بڑھایا ہوا ہاتھ دیکھتی رہی پھر مسکراکر تھام لیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کبھی تو اپنے چہرے پہ اِس ہرے پیلے نیلے رنگ کے ماسک کو اُتارا کرو۔حماد کمرے میں آیا تو فرشتے پہ نظر ڈال کر بولا جو چہرے پہ کوئی ماسک لگا رہی تھی۔

جس کو تم ہرا پیلا نیلا بول رہے ہو اُس کو مڈ ماسک بولتے ہیں۔فرشتے نے گھور کر بتایا

تمہارا یہ مڈ ماسک مجھے میڈ کردیتا ہے جب اچانک کمرے میں آؤں اور تمہاری شکل دیکھو تو ایسا لگتا ہے جیسے میرے کمرے میں کوئی چڑیل آگئ ہے۔حماد نے سرجھٹک کر کہا

واٹ چڑیل میں تمہیں چڑیل نظر آتی ہوں۔فرشتے اپنا رخ موڑ کر لڑاکا انداز میں اُس سے پوچھنے لگی۔

ظاہر ہے اگر بیوی اپنی شکل پہ ایسا کجھ لگائے گی تو معصوم شوہر کو ڈر ہی جانا ہے ایسی چڑیلوں کو دیکھ کر۔حماد نے مزے سے کہا

بڑے تم معصوم۔فرشتے نے ماسک کا پورا ڈبہ حماد کی جانب پھینک کر طنزیہ کہا

گستاخ شوہر ہوں تمہارا۔حماد اپنی عزت افزائی پہ تلملا اُٹھا۔

اِسی بات کا تو رونا ہے۔فرشتے نے بیڈ سے تکیے اُٹھا کر اُز کی جانب پھینکتی چلی گئ تو حماد کو سمجھ نہیں آیا اپنا بچاؤ کیسے کرے تبھی اُس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پہ پڑے فیشل پہ پڑی تو اُس کی آنکھوں میں شیطانی چمک آئی۔

یہ وہی فیشل ہے نہ جو تمہاری دوست دبئی سے لائی تھی یہ کہہ کر کے ایک دفع لگانے سے جِلد میں نکھار آجاتا ہے۔حماد ایک ہی جست میں ڈریسنگ ٹیبل سے اُس کا فیشل اُٹھاتا خالص زنانہ آواز کیے پوچھنے لگا۔

دیکھو حماد اِس کے ساتھ کوئی مزاق نہیں میں نے بس ایک بار لگایا ہے یہ بہت ایکسپینسو ہے تمہاری اوقات سے بھی زیادہ۔اپنے پیارے فیشل کو فلحال بنے اپنے دشمن کے ہاتھوں میں دیکھ کر فرشتے کو اپنے سامنے تارے ناچتے نظر آنے لگے جبھی جو منہ میں آیا بولتی چلی گئ۔

اچھا تو یہ دو ٹکے کا فیشل میری اوقات یعنی حماد عباد سے زیادہ ضروری ہے تمہارے لیے۔حماد آہستہ سے اپنے قدم کھڑکی کی جانب کرتا اُس سے پوچھنے لگا۔

میں فرمانبرادر بیوی بن جاؤں گی بس تم مجھے یہ میرا فیشل واپس کرو۔فرشتے منت پہ اُتر آئی۔

فلحال تو اِس ماسک والے چہرے پہ منت والے انداز میں تم مجھے ایک تھی ڈائن والی عورت لگ رہی ہو۔حماد اپنی ہنسی ضبط کرتا اُس سے بولا ساتھ میں فیشل کا ڈھکن بھی پوری طرح سے وہ کھول چُکا تھا۔

میرا فیشل میرے ہاتھ آجائے پھر یہ ڈائن تمہارا خون نہ پی جائے تو کہنا۔فرشتے نے بس یہ بات دل میں کہی حماد کے سامنے کرنے کی جرئت نہیں کی۔

مت بھولوں میں کون ہوں تبریز جنید کی بہن ہوں میں۔فرشتے نے اُس کو ڈرایا

تمہاری بھائی سے تو میں پہلے نہیں ڈرا اب کیا خاک ڈروں گا میں بھی معصومہ عماد کا بھائی ہوں ڈرنہ خون میں شامل ہی نہیں۔حماد فخریہ انداز میں کہتا رُک گیا کیونکہ اب وہ کھڑکی کے پاس پہنچ گیا تھا۔

تم یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟فرشتے کو آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی اُس کو حماد کے اِرادے ٹھیک نہیں لگے۔

آخری دیدارِ فیشل کرلوں اِس بعد تمہیں شاید یہ والا فیشل نصیب ہو کافی ایکسپینسو جو ہے۔حماد اتنا کہتا ہاتھ میں پکڑا فیشل کھڑکی سے باہر پھینک دیا جب کی اُس کا ڈھکن فرشتے کی جانب پھینکا جو صدمے میں آگئ تھی۔

میرا فیشل۔فرشتے بھاگ کر کھڑکی کے پاس آئی

اللہ اِس کو جنت میں اعلیٰ مقام دے۔حماد مصنوعی افسوس سے کہتا کمرے سے باہر چلاگیا اُس کو پتا تھا اگر ایک منٹ بھی وہ یہاں مزید رُکا تو فرشتے نے اُس کو کچا چباجانا ہے۔

ابھی تو میں نے ٹھیک سے تمہیں لگایا بھی نہیں تھا چہرے پہ۔فرشتے روہانسی شکل بنائے نیچے اپنے فیشل کی حالت پہ ماتم کناں ہوگئ۔

میر

ابھی وہ کجھ اور کہتی جب اُس کے موبائل پہ میسج ٹون بجی فرشتے آخری دکھ بھری نظر اپنے فیشل پہ ڈالتی سائیڈ ٹیبل سے اپنا سیل فون اُٹھایا جہاں حماد کا میسج جگمگارہا تھا

اُمید ہے اب تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا حماد عباد سے پنگا ناٹ آ چنگا فار یو اینڈ یوئر ایکسپینسو فیشل۔اتنے میسج کے ساتھ چڑانے والے ایموجز تھے جن کو دیکھ کر فرشتے نے دانت کچکچائے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

پھر کیا سوچا آپ سب نے؟فیصل نے چائے کا سِپ لیتے معصومہ اور عماد سے پوچھا وہ دوپہر کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ آیا تھا رشتے کی بات کرنے۔

میں نے امی سے بات کی انہوں نے ڈیڈ سے اور ڈیڈ کو کوئی اعتراض نہیں تو مطلب رشتہ فائنل ہوگیا۔معصومہ نے خوشی سے بتایا

چلو یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے۔فیصل بھی خوش ہوا۔

تو تاریخ کونسی فکس کرے؟فیصل کی بیوی ہانیہ نے پوچھا۔

نیکسٹ منتھ۔عماد نے کہا

اِس منتھ کی آخری تاریخ۔فیصل نے عماد کی بات پہ اپنا فیصلہ سُنایا تو بس مسکرا پڑے

میں تو اب بھی کہوں گا جلدی میں ہورہا ہے سب۔عماد نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

کوئی جلدی نہیں آئرہ کی ہوگئ ہے تو زوہا کی بھی خیر سے ہوجانی چاہیے۔معصومہ نے فورن سے کہا

لو جی تمہاری کزن عرف بیوی نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا۔فیصل نے شرارت سے کہا تو سب ہنس پڑے جب کی عماد کو کزن لفظ پہ بہت کجھ یاد آگیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہاں میں اپنی ضروری فائلز رکھ رہا ہوں تو خیال رکھنا میں شام کو آکر لے جاؤں گا۔سکندر ایک ریڈ کلر کی فائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا آئرہ کو بتانے لگا۔

ابھی کیوں نہیں لیکر جارہے؟ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے آئرہ نے پوچھا

کیونکہ کے ابھی ضرورت نہیں اِس کی۔سکندر اتنا کہتا کمرے سے باہر چلاگیا جب کی آئرہ اُس کے جانے کے بعد فائل کو کھول کر چیک کرنے لگی پر اُس کو کجھ سمجھ نہیں آیا تو ایسے ہی چھوڑدیا۔

زوہا کو تو کال کروں۔آئرہ کو اچانک خیال آیا تو اپنا سیل فون اُٹھاتی زوہا کا نمبر ڈائل کرنے اور بے خیالی میں وہ اپنا کافی کا کپ فائل پہ رکھ چُکی تھی۔

ہاں ہیلو زوہا کیسی ہو کیا بات ہوئی تمہارے رشتے کا کیا بنا؟آئرہ نے ایک ہی سانس میں سب کجھ پوچھ لیا

میں ٹھیک ہوں اور اِس مہینے کی آخری تاریخ طے ہوئی ہے۔زوہا نے مسکراکر بتایا۔

واہ ڈیٹس گریٹ۔آئرہ خوشی سے کہتی اپنا ہاتھ کافی کے کپ کی طرف بڑھایا۔

ہاں اور تمہیں پتا ہے اذہاد کا میسج آیا تھا جس میں اُس نے لکھا تھا ہم شادی کے بعد آمریکا شفٹ ہوگے۔زوہا نے مزید بتایا

کیاااا۔آئرہ پرجوش ہوتی تیزی سے ہاتھ اُپر کیا تو کپ اوندھا ہوگیا اور کافی فائل کے اُپر گِری جس کو دیکھ کر آئرہ کی آنکھیں پھٹنے کی حدتک کُھل چُکی تھی۔

میں بعد میں بات کرتی ہو۔آئرہ جلدی سے زوہا کو کہتی سیل فون سائیڈ پہ کیا۔

یااللہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا۔آئرہ پریشانی سے فائل اُٹھا کر اُس کا جائزہ لینے لگی جہاں فائل کے بیچوں بیچ بڑا سا داغ لگ گیا تھا اگر وہ فائل کھول کر نہ رکھتی تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔

سکندر تو مجھے کچا چبا جائے گا۔آئرہ کو نئ فکر لاحق ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اِس کو کیا ہوا؟زوہا موبائیل اسکرین کو دیکھتی بڑبڑائی اُس کو آئرہ کا یوں اچانک کال کاٹنا سمجھ میں نہیں آیا۔

زوہا باہر اذہاد آیا ہے۔معصومہ اُس کے کمرے میں آتی بتانے لگا۔

وہ کیوں آیا ہے؟زوہا نے پوچھا

تمہیں شادی کا جوڑا دلانے اُس کے ساتھ جاؤ اور خود سے پسند کرو اپنے نکاح کا جوڑا۔معصومہ نے مسکراکر کہا تو زوہا نے سر کو جنبش دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے آئرہ کو بتایا آمریکا جانے کا۔زوہا نے اذہاد سے کہا

اچھا پھر کیا کہا اُس نے؟اذہاد گاڑی ڈرائیو کرتا پوچھنے لگا

کجھ کہنے والی تھی پھر اچانک سے کال کاٹ دی۔زوہا نے گہری سانس بھر کر بتایا

بزی ہو شاید۔اذہاد نے اندازہ لگایا

آئرہ کو کیا کام ہوگا جو بزی ہوگی۔زوہا نے ہنس کر کہا

تو کوئی آیا ہوگا تم پریشان کیوں ہورہی ہو۔اذہاد نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آئرہ بہت ڈری ہوئی شام کا وقت ہوگیا تھا اُس کو پتا تھا سکندر راستے میں ہوگا وہ اُس کو کیا جواب دے گی یہ کیسا ہوا۔

یااللہ آج بچالیں سچ میں پانچ وقت نماز پڑھوں گی پابندی سے صبح کو اُٹھ کر ایک سیپارے کی تلاوت بھی کرلیا کروں گی بس آج مجھے اُن سے بچادے۔زندگی میں شاید ہی آئرہ کو کسی سے ڈر لگا ہو جتنا آج سکندر سے محسوس ہورہا تھا

آئرہ۔

سکندر کی آواز پہ اُس کا دل چار سؤ چالیس کی اسپیڈ ڈورنے لگا۔

ہائے اللہ ان کی آواز سن کر تو مجھے چار سؤ چالیس وولٹ کے جھٹکے لگ رہے ہیں۔آئرہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتی بڑبڑائی۔

آئرہ فائل دینے مجھے لیٹ ہورہا ہے۔سکندر جلدی سے کمرے میں آتا آئرہ سے بولا

سکندر وہ۔آئرہ اتنا کہتی خاموش ہوگئ۔

تمہاری باتیں بعد میں سنوں گا ابھی لیٹ ہورہا ہے۔سکندر عجلت سے کہتا سائیڈ ٹیبل سے فائل اُٹھانے لگا تو آئرہ نے اُس کے ہاتھ سے فائل لی

آئرہ کیا ہے یار مجھ

سکندر کی بات بیچ میں رہ گئ جب آئرہ نے فائل کھول کر سامنے کی۔فائل کا حشر دیکھ کر سکندر کے تاثرات یکدم سخت ہوئے تھے۔

وہ یہ

چٹاخ۔

آئرہ اپنی صفائی میں کجھ کہنے والی تھی جب سکندر کا ہاتھ اُٹھا تھا اور اُس کے چہرے پہ نشان چھوڑگیا۔

آئرہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھتی بے یقین نظروں سے سکندر کو دیکھنے لگی جو شعلہ برساتی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا اُس کی زندگی کا یہ پہلا تھپڑ تھا جو اُس کو پڑا تھا۔

میں تمہیں ناسمجھ سمجھتا بے وقوف نالائق بھی مگر مجھے یہ نہیں تھا پتا تم مجھ سے بدلا لینے کے لیے اتنا گِر سکتی ہو میں نے کل تمہیں ڈرامہ کیا دیکھنے نہیں دیا تم تو چیپ حرکتوں پہ اُتر آئی۔سکندر تیز آواز میں دھاڑا جس پہ آئرہ بنا کوئی جواب دیئے اُس کے سینے پہ تھپڑوں کی بارش کرنے لگی

دور ہٹو پاگل لڑکی۔سکندر اُس کو خود سے دور کرنے لگا مگر آئرہ اُس کے قابوں میں نہیں آئی۔

میں نے کوئی چیپ حرکت نہیں کی سمجھے آپ یہ سب اچانک ہوا تھا میری کوئی غلطی نہیں تھی آپ نے مجھ پہ ہاتھ اُٹھایا میری انسلٹ کی میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی اور نہ اب آپ کے ساتھ رہوں گی۔آئرہ اُس کو دھکا دیتی بولی

اپنی غلطی ماننا تو تم نے سیکھا ہی نہیں نہ۔سکندر نے طنزیہ کیا

میں نے کوئی غلطی نہیں اور ہٹے سامنے سے مجھے آپ کی شکل بھی دیکھنی دو ٹکے کی فائل کی وجہ سے آپ نے مجھے مارا ہے میں اپنے ڈیڈ کے پاس جاؤں گی۔آئرہ اتنی کہتی باہر جانے لگی۔

یہی رکو تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے ڈرامے سے میں ایمپریس ہوگا۔سکندر اُس کا بازوں دبوچتا بولا

اللہ کی قسم اگر آپ مجھ سے عمر میں چند سال بڑے نہ ہوتے تو یہ تھپڑ میں آپ کو سود سمیت واپس لوٹاتی مگر افسوس سے میرے ماں باپ نے مجھے بڑوں پہ ہاتھ اُٹھانا نہیں سِکھایا اور چھوڑے مجھے یہ اپنی مردانگی کا زور کسی اور پہ چلائے مجھے پہ نہیں چلے گا۔آئرہ ایک ہی جھٹکے میں خود کو اُس کی گرفت سے آزاد کرواتی طنزیہ لہجے میں بولی۔سکندر آئرہ کی بات سن کر اپنی جگہ ساکت ہوگیا اُس کو آئرہ کی باتیں حیران کرگئ تھی جب کی آئرہ بنا اُس پہ ایک نظر ڈالے کمرے سے باہر چلی گئ تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *