Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 11)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 11)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
یہ میری جگہ ہے۔ابراہیم کالج پہنچ کر کلاس میں آیا تو کلاس میں جہاں وہ روز بیٹھا کرتا تھا وہاں کوئی اور تھا تبھی اُس کے سر پہ کھڑا ہوتا بولا اُس کی آواز سن کر ماہ نور جو پورے دھیان سے کتاب پڑھ رہی تھی اُچھل پڑی
کون ہو تم؟ماہ نور اُپر سے نیچے تک اُس کو دیکھتی بولی۔
میں پاکستان کا پرائم منسٹر ہوں پہچانا نہیں جیو چینل نہیں دیکھتی یا سماء نہیں دیکھتی کوئی تو دیکھتی ہوگی تم۔ابراہیم اُس کی بات پہ دانت پیس کر بولا
پرائم منسٹر ہوگے اپنے گھر یہاں کالج میں سب اسٹوڈنٹ ہیں اِس لیے کہی اور جاؤ۔ماہ نور نے آرام سے کہا
میں کیوں کہی اور جاؤ تم پہلی بار آئی ہو تو لاسٹ والی رو پہ بیٹھو۔ابراہیم جلدی سے بولا
کیوں جی یہ سیٹ تم نے آرڈر پہ بنوائی ہے یا گھر سے اُٹھالائے ہو یا آتے وقت خریدی تھی جو میں کہی اور جاکر بیٹھو یہ کوئی پرائمری اسکول نہیں کالج ہے جہاں جو پہلے بیٹھ سو بیٹھ گیا پُرانے خاطے یاد کرنے کی یا کروانے کی ضرورت نہیں۔ماہ نور لڑاکا انداز میں بولی
دیکھو مس
ماہ نور شجاع نام ہے میرا تو بی کیئر فل دن میں تارے اور رات میں سورج دیکھادیتی ہوں۔ماہ نور اُس کی بات کاٹ کر فخریہ انداز میں بولی۔
بڑی آئی تم جادوگرنی دن کو تارے اور رات کو سورج دیکھادوں گی میں اپنی پہ آیا تو ایک ساتھ چاند اور سورج دیکھا دوں گا۔ابراہیم بادوں فولڈ کرتا بولا
اچھا جی ایسی بات ہے تو دیکھا ہی دو میں بھی تو دیکھو۔ماہ نور اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی تو ابراہیم اُس کو تیز نظروں سے دیکھتا اپنے بیگ سے موبائیل نکالنے لگا اُس کو موبائیل نکالتا دیکھ کر ماہ نور ناسمجھی سے پورے کلاس کو دیکھ کر ابراہیم کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی۔
سٹیا گئے ہو کیا؟ماہ نور گھور کر کہا
تمہاری خواہش کو پورا کررہا تھا۔ابراہیم یہ کہہ کر سیل فون کی اسکرین اُس کے سامنے کی جہاں ایک ایڈٹ شدہ تصویر تھی جس میں ایک طرف سورج تھا تو دوسری طرف چاند تھا یہ دیکھ کر ماہ نور کا چہرہ خفت سے سرخ پڑگیا
یہ کیا بکواس ہے۔ماہ نور اُس پہ چڑ ڈوری
بکواس کہاں تمہارے پاس اتنا بڑا ہنر ہے تو میں نے سوچا میں بھی اپنا ہنر تمہارے سامنے کروں۔ابراہیم مزے سے بولا
ٹائم ویسٹ نہ کرو میرا اور جاؤ یہاں سے۔ماہ نور دوبارہ اپنی سیٹ پہ بیٹھ کر بولی
دیکھو لڑکی اُٹھ جاؤ ورنہ
ابراہیم اُس سے پہلے مزید کجھ کہتا اُن کی کلاس ٹیچر انٹر ہوئی جس کو دیکھ کر ابراہیم جلدی سے ماہ نور کی پیچھے والی سیٹ پہ بیھ گیا اُس کی پُھرتی دیکھ کر ماہ نور نے بامشکل اپنا قہقہقہ ضبط کیا۔








آئرہ میں ضروری لیکچر سمجھارہا ہوں تمہارا دھیان کدھر ہے؟سکندر جو کافی دیر سے آئرہ کو اپنے بالوں سے کھیلتا دیکھ رہا تھا جب اُس کا صبر جواب دے گیا تو تیز آواز میں کہا
سر وہ میں بالوں کی پونی بنا رہی تھی تو میرا دھیان اُدھر ہے۔آئرہ نے ادب سے جواب دیا
اور جو میں پڑھا رہا ہوں اُس کے بارے میں کیا کہے گی آپ؟سکندر دانت پیس کر بولا
سر پورا کلاس سمجھ رہا ہے اُور میری بہن بھی اُن سے پوچھ لوں گی آپ میری فکر نہیں کرے۔آئرہ نے بڑے آرام سے کہا
پونی بنانا بند کرے اور لیکچر میں فوکس کرے۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا
وہ تو کرنا چاہتی ہوں پر بال کُھلے ہوئے ہیں تو پریشان کررہے ہیں۔آئرہ نے مسئلہ بتایا
اگر اتنی پریشانی ہورہی ہے تو گھر سے پونی بناکر آنا تھا نہ!سکندر گہری سانس خارج کرتا بولا باقی سب دلچسپی سے کبھی سکندر تو کبھی آئرہ کو دیکھتے۔
وہ بنانا چاہتی ہون پر بھول جاتی ہوں۔آئرہ نے ایک اور مسئلہ بتایا۔
تو یاداشت کے لیے بادام کھالیا کرو۔سکندر دانت پہ دانت جمائے بولا
میں نے بھی سوچا تھا اور ایک دن صبح کو کھائے بھی تھے پھر
آئرہ اتنا کہتی خاموش ہوئی۔
پھر کیا مس آئرہ۔سکندر نے پوچھا
پھر یہ کے دوسرے دن بادام کھانا ہی بھول گئے۔آئرہ کی بات پہ سب کی ہنسی چھوٹ گئ زوہا جو غصے سے اُس کو دیکھ رہی تھی اُس کی خود کی بھی ہنسی نکل گئ۔
باہر جائے۔سکندر ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولا
سر بیگ لیں جاؤں۔آئرہ اپنی خوشی پہ قابوں پاتی بولی سکندر جو یہ سوچ کر بیٹھا تھا آئرہ اب ایکسکیوز کرے گی اُس کی ڈھیٹائی پہ بیچ وتاب کھاتا رہ گیا۔
جی ہوسکے تو یہ سیٹ پہ لیکر جائے۔سکندر نے طنزیہ کیا
نو نو سر تھینکیو یہ آپ رکھ لیں ڈائیس کے پاس کب سے کھڑے ہیں۔آئرہ اتنا کہتی جلدی سے نو دو گیارہ ہوگئ سکندر کو جب اُس کی بات سمجھ آئی تب دیر ہوچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں تو اِس وقت کلاس میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔اذہاد نے آئرہ کو کیفے میں چاٹ کھاتا دیکھا تو تعجب سے بولا
ہونا تو چاہیے تھا پر سر نے کہا اتنا پڑھنا صحت کے لیے نقصانکار ہے کجھ دیر کا بریک لو تو میں یہاں آگئ۔آئرہ نے بنا اُس کی طرف دیکھ کر بتایا
یہ بولوں نہ سر نے کلاس سے باہر نکالا۔اذہاد اُس کے پاس والی چیئر پہ بیٹھ کر بولا
او ہیلو ایسی کوئی بات نہیں سب کو پتا ہے کتنی انٹیلیجنٹ ہوں میں۔آئرہ نے اپنا بھرم قائم کیا۔
ایسی بات ہے تو یہ بتاؤ میٹرک میں کیا رزلٹ آیا تھا تمہارا۔اذہاد نے پوچھا تو آئرہ کے گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی۔
ڈی گریڈ۔آئرہ کا اتنا کہنا تھا اذہاد ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوگیا۔
ہاہاہاہاہا سیریسلی اتنی ذین لڑکی کا گریڈ ڈی واہ واٹ آ جوک۔اذہاد ہنسی کے درمیان بولا
آئرہ تیکھی نظروں سے اُس کو گھورنے لگی جو اُس کی بات کا مذاق اُڑا رہا تھا
ہنسنا بند کرو۔آئرہ نے وارن کیا
نو ڈیئر فلحال میرا ہنسا میرے قابو میں نہیں۔اذہاد کہہ کر جان بوجھ کر مزیر ہنسنے لگا تو آئرہ نے ٹیبل پہ پانی کا گلاس اُٹھا کر پانی اُس کے سر پہ گِرایا تو اذہاد کی ہنسی کو بریک لگی۔
آگیا ہنسا تمہارا قابو میں آئرہ سے پنگا ناٹ چنگا۔آئرہ خالی گلاس ٹیبل پہ رکھ کر ہاتھ جہاڑ کر بولی
بہت گھٹیا مذاق تھا۔اذہاد اپنی شرٹ پہ نظر ڈال کر بولا
پارٹنرشپ ایک طرف پر خود پہ ہنستا ہوا کسی کو براشت نہیں کروں گی کیونکہ میری شکل معصوم ہے ورنہ دماغ تو شیطانی کی ٹکر کا ہے۔آئرہ اتنا کہتی کیفے سے باہر نکلنے لگی جب کی اذہاد افسوس سے اپنے کپڑو کو دیکھنے لگا۔
