Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 14)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 14)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
آئرہ جیسے ہی اپنی کلاس کے پاس آئی عین اُسی وقت سکندر بھی کلاس میں اینٹر ہونے والا تھا پر اُس کو دیکھ کر رک گیا۔
تم اب جارہی ہو کلاس میں؟سکندر نے کڑے چتونوں سے اُس کو گھورا
آپ بھی تو ابھی جارہے ہیں۔آئرہ منمنائی۔
تمہیں مجھ سے پہلے کلاس میں ہونا چاہیے تھا۔سکندر نے کہا
آپ سے پہلے ہی کلاس میں ہوں۔آئرہ اتنا کہتی کلاس میں ڈور لگائی جب تک سکندر سمجھتا آئرہ اپنی سیٹ پہ بیٹھ بھی چُکی تھی۔سکندر تاسف سے سر کو جنبش دیتا خود بھی اندر آیا تو سب اسٹوڈنٹس نے اُس کو سلام کیا سب پہ نظر ڈالنے کے بعد اُس نے آئرہ کو مخاطب کرنے کا سوچا
مس آئرہ کل جو میں نے لیکچر دیا تھا وہ آپ یہاں آکر سب اسٹوڈنٹس کو بتائے گی۔سکندر کے اچانک کہی بات پہ آئرہ کو اپنے سامنے تارے ناچتے دیکھائی دیئے۔
سر میں؟آئرہ ہونک بن کر پوچھنے لگی
آپ کے علاوہ کوئی اور آئرہ ہے؟سکندر نے طنزیہ لہجے میں سوال کیا
کوئی میرا ہم نام ہے؟آئرہ پورے کلاس میں نظر گھماتی بولی جس پہ سب نے نفی میں سرہلایا زوہا کو تاسف بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کیا ہوجاتا جو ہوتا۔آئرہ منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
اگر آپ کا ڈرامہ ختم ہوگیا ہو تو آجائے۔سکندر نے دانت پہ دانت جمائے کہا تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق آئرہ اپنی سیٹ سے اُٹھتی اُس کے پاس آکر کھڑی ہوگئ۔
پلیز۔سکندر نے مارکر اُس کو دیا
اِس کی کوئی ضرورت نہیں۔آئرہ نے مارکر کی طرف اِشارہ کیا تو سکندر کو خطرے کی گھنٹی بجتی سُنائی دی
ایک بھینس گھبرائی ہوئی جھنگل سے بھاگی جارہی تھی۔
ایک چوہے نے پوچھا!
کیا ہوا بہن؟
کہاں بھاگے جارہی ہو؟
بھینس!جھنگل میں پولیس!ہاتھی کو پکڑنے آئی ہے
چوہا!پر تم کیوں بھاگ رہی ہو؟
تم تو ہاتھی نہیں!
بھینس!یہ پاکستان ہے میاں!
پکڑے گئے تو بیس سال تو یہ ثابت کرنے میں لگ جائے گے کے میں ہاتھی نہیں بھینس ہوں۔۔۔۔۔
یہ سن کر چوہے نے بھی ڈور لگائی۔
آئرہ بڑے سنجیدگی سے لیکچر عرف لطیفہ بتانے لگی جس پہ پورے کلاس میں ہنسی کی آوازیں گونجنے لگی زوہا پریشانی سے سکندر کا غصے سے لال پیلا ہوتا چہرہ دیکھے جارہی تھی۔
آؤٹ آپ مجھے پرنسپل کی آفس میں ملے۔سکندر ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولا
سر میری کیا غلطی میں کیسے کل آپ کا بتایا ہوا لیکچر بتاتی آپ نے تو مجھے کلاس سے باہر کیا تھا۔آئرہ جلدی سے صفائی دیتی بولی وہ جانتی تھی پرنسپل سے ایڈمن پھر ایڈمن سے گھر تک سفر کرنے میں دیر نہیں لگے گی پھر کیا ہوگا معصومہ کی چپل اور اُس کا سر یہ خیال آتے ہی اُس کو جھرجھری سی آئی۔
آپ کی بہن بھی ہوتی ہے یہاں آگر آپ کا ذرہ بھی اسٹڈی میں انٹرسٹ ہوتا تو آپ اُس سے پوچھتی۔سکندر ہنوز اُس انداز میں بولا
پھر تو وہ اُس کا بتایا ہوا نہ آپ کا تھوڑی۔وہ آئرہ ہی کیا جس کے پاس کسی بات کا جواب نہ ہو۔
پانچ منٹ بعد مجھے آپ اپنے آفس میں نظر آئے آپ کا فیصلہ اب پرنسپل کے سامنے ہوگا۔سکندر دو ٹوک انداز اپناتا کلاس روم سے باہر چلاگیا۔
زوہا اِس بار بچالوں سچی اگلی بار لیکچر پہ فوکس کروں گی۔آئرہ زوہا کے پاس آتی منت بھرے لہجے میں بولی
پانچ منٹ کا وقت دیا ہے سر نے اِس لیے جاؤ۔زوہا اُس کی منت نظرانداز کرتی بولی۔
زوہا۔آئرہ کی حالت پتلی ہونے لگی۔
کیا زوہا یہاں سکندر بھائی ہمارے بھائی نہیں بلکہ ہمارے سر ہیں تمہیں اُن کی رسپیکٹ کرنی چاہیے پرسنل لائیف اور پروفیشنل لائیف کو الگ الگ رکھو یہاں بھائی ہمیں کزنز کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ ایک اسٹوڈنٹس کی نظر سے دیکھتے ہیں اُب کا طرز خطاب ہی الگ ہوتا ہے وہ تمہیں تم کے بجائے آپ لفظ کا استعمال کرتے ہیں اِس لیے تمہیں چاہیے جیسے باقی کلاسس شرافت سے لیتی ہو بزنس ڈپارٹمنٹ کی کلاس میں ویسے ہی لو ورنہ باقی سب کیا سوچے گے کیا کہے آئرہ ایک بدتمیز نان سیریس لڑکی ہے جس کو بس ہر وقت مذاق سوجھتا رہتا ہے جو کسی کی عزت نہیں کرتی آئرہ کام وہ کرو جس سے موم ڈیڈ کی عزت بڑھے ناکہ اُن کی بدنامی ہو۔زوہا نے اچھی خاصی تقریر سُنا ڈالی آئرہ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہی ہو۔
اسپیچ اچھی کرلیتی ہو تمہیں تو پولیٹیکس میں پولیٹیکل ہونا چاہیے۔آِئرہ نے بڑے سنجیدہ انداز میں کہا تو زوہا نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔






اسلام علیکم آج تو بہت گرمی ہوگئ ہے۔ابراہیم آج جلدی کالج آگیا تھا اور آتے ہی اپنی سیٹ پہ بیٹھ گیا آدھے گھنٹے بعد جب ماہ نور کلاس میں آئی اُس کو پہلے سے بیٹھا دیکھا تو غصے سے اُس کو ایک گھوری سے نوازہ جس پہ ابراہیم کے اندر ٹھنڈک ہی پڑگئ تبھی کمنٹ پاس کرنے لگا۔
اتنی ہی گرمی لگ رہی ہے تو باہر دفع کیوں نہیں ہوجاتے۔ماہ نور اُس کے پاس کھڑی ہوکر بولی
ایکسیوز می آپ سے میں نے بات کی۔ابراہیم نے آئبرو اچکاکر کہا
دماغ خراب مت کرو اور اُٹھو یہاں سے یہ میری جگہ ہے۔ماہ نور نے ناک سکوڑ کر کہا
کیوں جی یہ سیٹ تم نے آرڈر پہ بنوائی ہے یا گھر سے اُٹھالائی ہو یا آتے وقت خریدی تھی جو میں کہی اور جاکر بیٹھو یہ کوئی پرائمری اسکول نہیں کالج ہے جہاں جو پہلے بیٹھ گیا سو بیٹھ گیا پُرانے خاطے یاد کرنے کی یا کروانے کی ضرورت نہیں۔ابراہیم نے جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر اُس کی کہی بات اُس کے منہ پہ ماری جس پہ ماہ نور منہ کھولے اُس کا چہرہ تکنے لگی اُس کو ذرہ اندازہ نہیں تھا وہ بدلا بھی لے سکتا ہے۔
دیکھو میرا میٹر مت گھوماؤ ورنہ تمہاری صحت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ماہ نور نے اُس کو وارن کیا۔
کیوں جی تم کیا کالج کی بجلی کا سارا سسٹم اپنے سر پہ ڈالے ہوئی ہو یا اپنے سر پہ بالوں کے بجائے بجلی کی تارے فٹ کی ہوئی ہیں جو میٹر گھوم جائے گا یا تم بلاسٹ ہوجاؤ گی دیکھو اگر ایسا کجھ ہے تو برائے مہربانی یہاں مت آؤ اگر آتی ہو تو مجھ سے فاصلہ کیا کرو۔ابراہیم اُس کی بات کا اپنا مطلب لیتا ایک سانس میں بولنے پہ آیا تو بولتا چلاگیا۔
کیا عجیب بددماغ انسان ہو دماغ خراب کردیا میرا۔ماہ نور کانوں کو ہاتھ لگاتی اُس کے پیچھے والی سیٹ پہ بیٹھ گئ اُس میں اور ہمت نہیں بچی تھی کے وہ ابراہیم کو کوئی کرارا جواب دے اِس لیے اگلے دن کے لیے رکھ دیا
بس کبھی غرور نہیں کیا۔ابراہیم اپنی جیت پہ فخریہ انداز میں بولا
غرور کرنے والی کوئی چیز ہے بھی نہیں تم میں۔ماہ نور نے بولنا ضروری سمجھا۔
شکریہ اتنی عزت کا۔ابراہیم بنا اُس کی بات کا اثرلیتا سر کو خم دیتا بولا جس پہ ماہ نور جل بھن کے رہ گئ۔






سکندر بھائی پلیز اِس بار معاف کردے سچی اگلی بار آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔آئرہ سکندر کے آفس آتی معصوم شکل بنائے بولی
فرسٹ آف آل ڈونٹ کال می بھائی بکاز آئے ایم یوئر سر ناٹ یوئر برادر۔سکندر اُس کی حالت کا مزہ لیتا پرسکون لہجے میں بولا
آپ جیسا سڑا ہوا کریلہ میرا بھائی ہو بھی نہیں سکتا۔یہ وہ بس سوچ سکی کہنے کی جرئت اِس بار نہیں کی۔
دے ڈالوں مس آئرہ گالیاں نکال لو اپنے دل کی بھراس پر اِس بار تمہاری عقل ٹھکانے نہ لگائی تو میرا نام بھی سکندر تبریز نہیں۔آنکھوں میں چمک لیے سکندر جیسے اُس کے اندر کی حالت جان گیا تھا تبھی مسکراکر سوچنے لگا۔
کمینہ کتنا مزہ لے رہا ہے میری بے بسی کا اللہ کرے لولی لنگڑی کالی بھینس سے ان کی شادی ہو جو دیکھنے میں ہاتھی کا عکس ہو۔سکندر کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر آئرہ جل کے دل میں اُس کو بددعائیں دینے لگی۔
سر پلیز اِس بار ایک چانس دے۔آئرہ نے دانت پہ دانت جمائے کہا
نو مس آئرہ اِس بار آپ نے ساری حدود پار کردی ہے شکایت تو لازم وملزم ہے۔سکندر آرام سے بولا
سر آپ نے تو میرے ایک پیارے سے لطیفے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا ہے وہ الگ بات ہے انجوائے آپ نے بھی خوب کیا۔آئرہ منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
شام کو آؤں گا میں ماما جان سے کہوں گا سب سے پہلے تمہارا سیل تم سے چھینے۔
پہلا دھماکہ
پھر کہوں گا تمہارے لیے کسی سخت ٹیوٹر کا بندوبست کریں۔
دل کو ہلانے والے دھماکہ
اُس کے بعد کہوں گا ساری تمہاری فضول ایکٹویٹی پہ بنڈ لگالیں۔
سب سے بڑا دھماکہ
تمہارے کمرے سے ٹی وی اُتار کر باہر کرے لاوٴنج میں تمہیں کوئی سیریل دیکھنے نہ دے تاکہ تمہارا سارا وقت پڑھائی میں ہو
آئرہ کو لگا اب اگر سکندر نے کوئی اور بات کہی تو اُس کا ہارٹ فیل ہوجائے گا تبھی پہلے سے ہی اُس نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ لیا اس کا گلا خشک ہوگیا تھا آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھی سکندر بڑی مشکل سے اپنا قہقہقہ ضبط کیے سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا تھا۔
آخر میں معصومہ مامی جان سے کہوں گا تمہاری تین ماہ کی پاکٹ منی بند کریں۔سکندر کا اتنا کہنا تھا آئرہ دھڑام سے نیچے گِر کر بے ہوش ہوگئ اُس کو نیچے گِرتا دیکھ کر سکندر تیر کی تیزی سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
ہے آئرہ آنکھیں کھولو کیا گھٹیاں مذاق ہے۔سکندر اُس کا سر اپنے گھٹنے پہ رکھتا ہوش میں لانا چاہا مگر آئرہ جوں کی توں تھی۔
کیا مصیبت ہے یار۔سکندر اپنے ماتھے پہ ہاتھ مارتا بڑبڑایا
