Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 17)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 17)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
سیریسلی آئرہ وہ حق مہر ایک کڑور لکھوانا چاہتے تھے؟زوہا آئرہ کی بات سن کر حیرت سے بولی
صبر کرو اتنی جلدی حیران ہوگئ ابھی میں نے کجھ بتایا کیا ہے حق مہر کے ساتھ ساتھ وہ گھر بھی اپنی بیٹی کے نام کروانا چاہتے تھے۔آئرہ نے ہاتھ جہاڑ کر کہا
بڑے ہی کوئی لالچی خاندان معلوم ہورہا ہے۔زوہا کو جیسے افسوس ہوا
اور نہیں تو کیا پر پھوپھاں جانے نے تو کیا جواب دیا سچی اُن دونوں کی شکل دیکھنے والی تھی مطلب پھوپھاں جانے جیسے حیسے لفظ ادا کررہے تھے اُن کے چہروں کی ہوائیاں اُڑتی جارہی تھی یو سمجھو پھوپھاں جان کل فل ایکشن میں تھے۔آئرہ نے مزے سے بتایا
بڑے تیز ہیں پھوپھاں جان۔زوہا اُس کی بات کے جواب میں بولی۔
ایسے ویسے میں تو سوچ رہی تھی خوامخواہ میڈیکل کی فیلڈ چُنی اُن کو تو آرمی میں یا پولیس میں ہونا چاہیے تھا سچی گُناہ کرنے والا اُن کے شر سے گُناہ کرنا چھوڑ دیتا پولیس میں ہوتے تو چور چوری کرنا بھول جاتے اُن کی تو دھشت ابھی ہی بہت ہے۔آئرہ اپنی بات پہ خود ہی ہنس پڑی
لائیک جو کہتے ہیں نام ہی کافی ہے۔زوہا نے کہا تو آئرہ اُس کے ہاتھ پہ تالی مار کر ہنس پڑی
اچھا تمہیں پتا ہے مامی جان بتاتی ہیں پھوپھاں جان کو لگتا ہے ہمارے ڈیڈ بہت شاطر مائینڈڈ ہیں۔زوہا نے رازدارنہ انداز میں بتایا
ہیں واقع وہ ایسا بولتی ہیں ہمارے باپ کے بارے میں۔آئرہ متجسس ہوئی۔
ہاں اور نہیں تو کیا وہ بتاتی ہیں کے جوانی میں ڈیڈ موم اور پھوپھاں جان کی آپس میں بلکل بھی نہیں بنتی تھی۔زوہا نے مزید بتایا
مجھے پتا ہے کیوں؟آئرہ پرسوچ انداز میں بولی
کیوں؟زوہا نے جاننا چاہا۔
کیونکہ وہ تینوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔آئرہ اتنا کہتی بیڈ پہ لیٹ کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگی۔







تمہارا منہ کیوں بنا ہوا ہے کوئی بات ہے جو تم مجھے بتانا نہیں چاہتے؟اذہاد کافی کا کپ سکندر کی طرف بڑھاکر پوچھنے لگا۔
وہ اصل
سکندر بات بتاتے بتاتے اچانک خاموش ہوکر سنجیدگی سے اذہاد کو دیکھنے لگا جو اُس کے جواب کا منتظر تھا۔
اگر بتادیا تو یہ میری دلجوئی کرنے کے بجائے میرا مذاق اُڑائے گا۔سکندر غور سے اذہاد کو دیکھ کر سوچنے لگا۔
کیا ہوا چپ کیوں ہوگئے؟اذہاد نے پوچھا
کجھ نہیں بس طبیعت خراب ہے۔سکندر نے ٹالا
شیور؟اذہاد کو یقین نہیں آیا۔
ہممم۔سکندر نے ہنکارہ بھرا






آئرہ آج تم عید والا جوڑا پہننا۔معصومہ آئرہ کے کمرے میں آتی اُس سے بولی
کیوں آج عید ہے کیا؟معصومہ کی بات سے وہ یہی اندازہ لگا پائی
نہیں تمہاری پھوپھو کی فیملی آرہی ہے کھانے پہ اِس لیے یونی بھی مت جانا۔معصومہ آج کافی اچھے موڈ میں تھی۔
ہائے سچی یونی سے چُھٹی۔آئرہ معصومہ کی آخری بات پہ خوشی سے نہال ہی ہوگئ
ہاں اب انسانوں کی طرح جلدی سے تیار ہوجاؤ وہ آتے ہی ہوگے۔معصومہ اتنا کہتی اُس کے کمرے سے باہر چلی گئ۔
روز تو جیسے میں گدھوں اور جانوروں کی طرح ہوتی ہوں۔آئرہ منہ کے زاویئے بگاڑتی وارڈروب کی طرف بڑھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں کھڑے ہو میں کمرے میں ڈھونڈ رہی تھی تمہیں پر تم نظر نہیں آئے۔معصومہ عماد کے پاس لان میں آتی بولی
یہاں تھا تو نظر کیسے آتا۔عماد نے کہا
ویری فنی یہ بتاؤ عبیر کب تک آئے گی؟معصومہ نے پوچھا
راستے میں ہیں۔عماد نے بتایا
ٹھیک ہے میں تو آج بہت خوش ہوں میرے دل کی مُراد پوری ہونے والی ہے۔معصومہ خوشی سے چور لہجے میں بولی
ایک بار آئرہ سے ضرور پوچھ لینا۔عماد نے کہا
پوچھ لوں گی اُس نے کونسا منع کرنا ہے۔معصومہ عام انداز میں بولی
بلکل اُس نے بس پورا گھر سر پہ اُٹھالینا ہے۔عماد کی بات پہ معصومہ نے گھور کر اُس کو دیکھا۔








السلام علیکم ۔کیسے ہیں آپ سب؟تبریز اور عبیر آئے تو آئرہ اور زوہا نے ایک ساتھ پوچھا
وعلیکم السلام ہم ٹھیک ہیں تم دونوں بتاؤ۔عبیر نے محبت سے دونوں کو دیکھا۔
برو آپ سچ میں سکندر کا رشتہ آئرہ کے لیے مانگنا چاہتے ہیں؟فرشتے کو جیسے یہ بات معلوم ہوئی تھی اُس کو یقین نہیں آرہا تھا
بلکل تبھی یہاں موجود ہیں ورنہ پاپڑ بیچنے تھوڑی آئے ہیں۔تبریز آئرہ کو دیکھ کر بولا
اچھا ہوا پاپڑ بیچنے نہیں آئے کیونکہ پاپڑ یہاں کوئی کھاتا بھی نہیں۔عماد اُس کی بات سن کر بولا
میں نے پھر بھی تمہارے منہ میں زبردستی ٹھونسنا تھا۔ تبریز اُس کی بات پہ تپ اُٹھا تھا۔
اصل بات پہ آنا چاہیے ہمیں۔سوہا نے اُن کو الجھتا دیکھا تو کہا
آئرہ زوہا ابراہیم ارسل تم دونوں اندر جاؤ۔عماد نے اُن چاروں سے کہا تو اُن کا منہ گیا۔
یہی رکتے ہیں پتا تو چلے بات کیا ہے۔آئرہ نے زوہا کو پلر کے پاس کھڑا کیے تجسس بھرے لہجے میں کہا
تو زوہا اُس کے ساتھ کھڑی ہوگئ۔
ہمارے آنے کا تو مقصد سب کو پتا ہے اِس بس منگنی کی تاریخ رکھنا چاہتے ہیں۔تبریز نے سنجیدگی سے کہا تو زوہا اور آئرہ ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔پر جواب دونوں کے پاس نہیں تھا۔
ہم نے ابھی ہاں نہیں کی۔عماد نے دانت پہ دانت جمائے کہا جس پہ حماد نے مسکراہٹ دبائی۔
یہ ہو کیا رہا ہے اِن کے درمیان۔آئرہ پریشانی سے بولی
مجھے لگ رہا ہے تمہارے اور سکندر بھائی کے رشتے کی بات ہورہی ہے۔زوہا نے دور کی کوڈی پھینکی
تمہاری منہ میں بڑی بڑی دو چھپکلیاں۔آئرہ کو اُس کی بات پہ صدما ہی لگ گیا اِس لیے جو منہ میں آیا بول دیا پر اُس کی بات پہ زوہا کا منہ ایسے بن گیا جیسے سچ میں ایسا کجھ ہوگیا ہو۔
آخ تھو۔زوہا کو اُلٹی آنے لگی۔
ہمیں پتا ہے انکار نہیں ہوگا اِس لیے میٹھائی منگواؤ گاڑی میں پڑی ہے میری۔تبریز رلیکس انداز میں بولا تو عماد نے اپنا سرجھٹکا۔
آئرہ کو تو اب بلواؤ۔عبیر نے بے چینی سے کہا
جاؤ بلاوا آیا ہے۔زوہا نے اُس کو دھکا دے کر کہا
مجھے نہیں جانا۔آئرہ بدک کر اُس سے دور ہونے لگی۔زوہا زبردستی اُس کا ہاتھ پکڑ کر ڈرائنگ روم میں لائی۔
آج سے تم ہمارے سکندر کی امانت ہو۔عبیر اُس کو اپنے ساتھ بیٹھا کر بولی تو آئرہ غش کھانے کے در پہ ہوئی۔زوہا کو اُس کی بات پہ خوشگوار حیرت ہوئی۔
اچھا مذاق ہے۔آئرہ کی حالت رونے والی ہوگئ جبھی یہ بولی
مذاق نہیں سچ ہے میری جان جلدی تم سکندر کی دولہن بننے والی ہو۔عبیر اُس کی ٹھوری پکڑ کر بولی تو آئرہ کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کُھل گئ زوہا نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہقہ روکا۔
میں آتی ہوں۔آئرہ اتنا کہتی اپنے کمرے میں چلی گئ۔اُس کو جاتا دیکھ کر زوہا بھی اُس کے پیچھے چلی گئ۔







یہ میٹھائی دے کر گیا ہے تیرا ڈرائیور کے تیرا رشتہ پکا ہوگیا ہے تیری کزن سے۔اذہاد میٹھائی کا ڈبا پکڑ کر جتنی حیرت سے یہ بات کہہ سکتا تھا اُتنی حیرت اپنے لہجے میں سموئے بولا
موم ڈیڈ نے میرا رشتہ آئرہ سے طے کردیا ہے۔سکندر اپنی پیشانی مسلتا اُس کو بتانے لگا۔
کیا کہا میں نے ٹھیک سے سُنا نہیں؟اذہاد کان اُس کی طرف کرتا ناسمجھی کی اداکاری کرنے لگا۔
میں نے کہا موم ڈیڈ نے میرا رشتہ آئرہ کے ساتھ طے کردیا ہے اب سمجھے بہرے انسان۔سکندر تپ کے بولا
تمہارا رشتہ۔اذہاد نے اُس کی طرف اِشارہ کیا
ہاں۔پھاڑ کھانے والا انداز
آئرہ کے ساتھ جو تمہاری کزن ہے؟اذہاد کا لہجہ بے یقین اور آنکھیں پوری کُھلی ہوئی تھی
اب کیا اسٹیمپ پیپر پہ سائن کرکے دوں۔سکندر کو غصہ آنے لگا
ایک منٹ مجھے ہنسنے دو۔اذہاد اُس کو خاموش رہنے کا اِشارہ کرتا پیٹ پکڑ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔سکندر کجھ پل تو خاموشی سے اُس کو دیکھتا رہا پھر اُس کے مکوں کی برسات کرنے لگا۔
ہاہاہاہاہا سکندر نا کرو یار مطلب تمہارے ماں باپ نے کیا سوچا ہوگا جو ان کو آئرہ ہی نظر آئی تمہارے لیے۔اذہاد اپنا بچاؤ کرتا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔
تجھ جیسا کمینہ دوست میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔سکندر صوفے پہ بیٹھتا اُس کو افسوس کرتی نظروں سے دیکھنے لگا جس کا چہرہ زیادہ ہنسنے کے باعث سرخ ہوگیا تھا
تو اِس میں کونسی بڑی بات ہے اب دیکھ لو۔اذہاد نے اپنی طرف اِشارہ کیا تو سکندر نے اُس کی طرف ہاتھ کیے پانچوں انگلیاں کھول کر لعنت بھیجی
لعنت بھجنا گُنا ہے۔اذہاد نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا
یار میں نہیں کرسکتا آئرہ سے شادی۔سکندر تنگ آکر بولا
تو یہ بتاؤ اگر تمہیں اتنا اعتراض ہے پھر کیوں کیا جارہا ہے یہ رشتہ تمہاری ماں کی خواہش ہے؟اذہاد نے جاننا چاہا
پہلے خواہش امی کی تھی جن کو پوری ڈیڈ کررہے ہیں ظاہر ہے اپنی بیگم کی خواہش ادھوری کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔سکندر جلے کٹے انداز میں بتانے لگا
ہاہاہاہاہا انکل تبریز نے ٹھیک تمہاری کلاس لگائی ہے سالوں پہلے اُن کی بات مان کر پولیس میں جانے کے بجائے اُن کی بات پہ عمل کرکے خواہش کا احترام کرکے میڈیکل کی فیلڈ میں آتے تو آج یہ دن دیکھنا نا پڑتا انہوں کے اچھا بدلا لیا ہے تم سے ورنہ تمہاری اور آئرہ کے جھگڑے پہ تو کتاب لکھنی چاہیے۔اذہاد کو پھر سے ہنسی کا دورہ پڑا۔
ایسا کجھ نہیں۔سکندر نے جلدی سے کہا
ایسا ہی ہے باپ باپ ہوتا ہے بچوں اور تبریز جنید کی تو کیا ہی بات ہے۔اذہاد نے پھر سے اپنی کہی تو سکندر تپ اُٹھا
تم خاموش نہیں رہ سکتے؟سکندر اپنے بال نوچنے کے قریب تھا۔
نہیں۔جواب فورن سے حاضر ہوا








او ایم جی۔
آآ ہاہاہاہا
بدلتے ہیں رنگ آسمان میں کیسے کیسے
بدلتے ہیں رشتے گھروں میں کیسے کیسے
جو تھا پہلے بھیا اب وہ بننے جارہا ہے سئیاں
ہاہاہا۔زوہا کمرے میں آتی ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتی آئرہ کو تپانے لگی۔
شٹ اپ جشٹ شٹ اپ۔آئرہ جھنجھلائے لہجے میں بولی
کیوں جی پہلے واہ واہ تو کرو اتنا اچھا یونیک سا شعر عرض کیا ہے۔زوہا بیڈ پہ لیٹ کر اُس کی حالت کا مذہ لینے لگی۔
بہنیں تمہاری جیسی بھی ہوتی ہے تمہیں چاہیے میرا ساتھ دو مگر بجائے اِس کے تم میرا مذاق اُڑا رہی ہو۔آئرہ نے ایک تھپڑ اُس کے بازوں پہ رسید کیا۔
پہلے مجھے خوشی تو منانے دو میرا ہوا میں چھوڑا تیر ٹھیک نشانے پہ لگا ہے میں تو بڑی خوش ہوں۔آگ لگے آئرہ کے دل میں۔زوہا اپنی مستی میں۔
کمینی نکلو میرے کمرے سے۔آئرہ نے غصے سے کہا
نہیں ابھی نہیں شادی میں کیا کیا فنکشنز ہوگے وہ پلین کرتے ہیں۔زوہا نے مزے سے کہا
مہں شادی سے انکار کر دوں گی۔آئرہ نے اپنا فیصلہ سُنایا۔
ہاں ہاں جیسے گھر والے تو تمہارے جواب کے منتظر ہیں نہ بی بی فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ پھوپھاں جان کی خواہش اور فیصلہ ہے جس سے انحراف کوئی نہیں کرسکتا دیکھا نہیں کتنے روعب سے بات کی جیسے اپنا قرضا لینے آئے ہو اُن کے سامنے تو ڈیڈ کی بھی نہیں چلی۔زوہا نے ٹھیک ٹھاک سُنا ڈالا
ایسی بھی کوئی بات نہیں ڈیڈ اگر اپنی پہ آئے تو تبریز پھوپھاں کی بھی نہیں چلے گی۔آئرہ نے خود کو یقین دلوایا
ویل پھر میں یہ کہوں گی کے ڈیڈ اپنی پہ نہیں آئے گے کیونکہ لڈوں تو اُن کے دل میں بھی پھوٹ پھوٹ رہے ہیں۔زوہا پرسوچ لہجے میں بولی
زوہا میری بہن کہہ دو یہ خواب ہے۔آئرہ روہانسے لہجے میں بولی
یہ حقیقت ہے میری بہن جس کی خبر سب کے سامنے نشر ہوئی ہے۔زوہا نے آرام سے اُس کے ارمانوں پہ پانی پھیرا۔
نہیں۔۔۔۔۔مجھے نہیں کرنی اُس کڑیلے سے شادی۔آئرہ اپنا سر پکڑ کر بولی
اب تم اوور ہورہی ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہاری شادی سکندر بھائی سے ہورہی ہے۔زوہا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا
نہیں ہوتی میں خوش اگر وہ اتنے اچھے ہیں تو خود کرلوں اُن سے شادی۔آئرہ زوہا کا گلا دبانے کے قریب تھی۔
میرے لیے پرپوزل تھوڑی آیا ہے تمہارے لیے آیا ہے۔زوہا نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔
تم جاؤ یہاں سے۔آئرہ نے اُس کو باہر کا راستہ دِکھایا
میں تمہارے لیے ٹھنڈا ٹھنڈا کول کول پانی لاتی ہو تاکہ تمہارا مائینڈ بھی کول ہو۔زوہا جمپ لگاکر بیڈ سے اُتری۔
نہیں چاہیے۔آئرہ چیخی
میں تو دوں گی اور تمہیں پینے بھی پڑے گا۔زوہا نے اُس کو زچ کرنے کی انتہا کردی۔
کمینی۔آئرہ نے گھور کر کہا جس سے بے نیاز زوہا باہر جاتے جاتے کسی شیطانی خیال کے آتے ہی وہ یکدم رکی پھر پلٹ کر آئرہ کو دیکھا جس کو سکون میسر نہیں تھا۔
سنو جانِ من۔
زوہا کے جملے پہ آئرہ آنکھیں پھاڑ کر اُس کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ شیطانیت ٹپک رہی تھی۔
یہ جو تمہارے چہرے پہ لالی چھائی ہوئی ہے
یہ شرم و حیا کی سرخی ہے یا انتہائے غصے کی وجہ سے گالوں پہ سرخ پن آگیا؟زوہا اپنی مسکراہٹ کا گلا بڑی مشکل سے گھونٹ کر شاعرانہ انداز میں بولی۔
بڑی آج تم میں جون ایلیا کی روح گھسی ہے تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں۔آئرہ اُس کے خاموش ہوتے ہی اپنا سینڈل اُتار اُس کی جانب پھینکنے لگی پر اُس سے پہلے زوہا گدھے کے سر سے سِنگ کی طرح غائب ہوگئ جس پہ وہ ضبط کرتی رہ گئ پھر اچانک بیڈ پہ پڑے اپنے سیل فون پہ پڑی تو کسی خیال کے آتے ہی اُس کو ہاتھ میں پکڑ کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے لیے رشتہ بھیجنے کی میرے سے شادی کرنے کا آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔آئرہ کمرے میں یہاں سے وہاں چکر لگاتی سکندر کو کال کیے بولی سکندر جو پہلے بھنا بیٹھا تھا آئرہ کی کال اور اؐس کی بات نے جلے پہ نمک کا کام کیا
بلکل ویسے ہی جیسے تم نے یہ سوچ لیا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور رشتہ بھی تمہارے لیے میں نے بھیجا ہے۔سکندر تپے ہوئے لہجے میں بولا
میں ایک بات صاف صاف بتادو میں ہرگز آپ سے شادی نہیں کروں گی۔آئرہ نے اپنی طرف سے وارن کیا۔
پلیز ایسے مت کرنا تمہارے انکار پہ تو مجھے تو صدمے میں مر ہی جانا ہے۔سکندر دانت پیس کر بولا
آپ خود کو آخر سمجھتے کیا ہے جب جی چاہا جو چاہا کر دیا ہر وقت تو زلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اب آپ چاہتے ہیں مجھے زلیل کرنے کا آپ کو آفیشل سرٹیفکٹ مل جائے تو میں بتادو میں مرتے دم تک ایسا ہونے نہیں دوں گی۔آئرہ جانے کیا کجھ سوچے ہوئے تھی۔
او میڈم اپنے یہ F16 کے قدم ذرہ درتی پہ رکھو سکندر تبریز نام ہے میرا تم دنیا کی واحد لڑکی بھی ہوگی نہ تو میں تم سے شادی کبھی نہیں کروں گا۔سکندر نے باور کروایا۔
ٹھیک ہے پھر آپ اپنی اِس بات پہ قائم رہنا۔آئرہ نے جلدی سے کہا
تاعمر قائم رہوں گا مجھے کیا پاگل کتے نے کاٹا ہے جو تم جیسی کم عقل نالائق نکمی خرمغز لڑکی سے شادی کروں گا۔سکندر نے اچھا خاصا سنا ڈالا
میں اگر کم عقل نالائق نکمی خرمغز لڑکی ہوں تو آپ خود کیا ہے چلاکوں ماسی۔آئرہ نے ایک ہی منٹ میں حساب بے باک کیا۔
چلاکوں ماسی؟سکندر کے سر پہ لگی تلوؤ پہ بُجھی۔اُس کی چیخ پہ اذہاد جو کچن میں کافی بنانے آیا تھا واپس باہر آکر سکندر کے پاس کھڑا ہوگیا
ہاں چلاکوں ماسی یہ نام آپ پہ بلکل سوت ایبل ہے۔آئرہ طنزیہ بولی تو سکندر کا چہرہ غصے سے سرخ انار ہوا جس پہ اذہاد نے ہاتھ کے اِشارے سے پوچھا کیا ہوا؟
مجھے چلاکوں ماسی بول رہی ہے۔سکندر نے آہستہ آواز میں بتایا
کیاااااااا۔اذہاد نے مصنوعی حیرت اور افسوس کی انتہا کردی۔
تہمیز سے بات کرو آئرہ۔سکندر کال پہ متوجہ ہوا اذہاد نے اسپیکر آن کرنے کا اِشارہ کیا تو ناچار سکندر کو کرنا پڑا۔
پھر آپ کے لیے اچھا ہے خود شادی سے انکار کردے کیونکہ میں آپ کو کبھی نہیں ملوں گی۔آئرہ نے شانِ بے نیازی سے کہا سکندر تو تپ اُٹھا پر اذہاد عش عش کر اُٹھا
پانی کا گلاس لاتی زوہا اُس کی بات پہ الرٹ ہوکر اُس کے ساتھ کھڑی ہوگئ۔
تم کیا حسن پری ہو یا تم میں کوئی سرخاپ کے پر لگے ہوئے ہیں جو میں تمہارا بننے کے لیے پاگل ہو گا۔سکندر نے سخت لہجے میں کہا
آپ بھی کوئی شہزادہ گلفام نہیں۔آئرہ نے جل کے کہا زوہا نے خاموش رہنے کا کہا پر آئرہ کجھ سننے کو تیار نہیں تھی۔
بولو کے خاموش رہو چوزی۔اذہاد نے اُس کے کان کے قریب منہ کرکے کہا تو سکندر کو عجیب لگا پر جب اذہاد بار بار اسرار کرنے لگا تو وہ بول پڑا
خاموش رہو چوزی۔
چوزی۔آئرہ کی چیخ نکلی۔
اذہاد نے یس کا نارا لگایا
خود آپ چوزے۔آئرہ نے حساب برابر کیا
لومڑی بولو۔اذہاد نے کہنی مار کر کہا
میں چوزہ ہو تو تم لومڑی۔سکندر اپنے آپ میں نہ تھا۔
ُآپ لومڑے دماغ والے۔آئرہ زوہا سے الگ ہوتی پھر سے بول پڑی زوہا اپنا ماتھا پیٹ کر موبائیل اُس کے ہاتھ سے لینا چاہا پر آئرہ اُس کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔
یہ زیادہ بول رہی ہے تم اِس کو باندری بولو۔اذہاد اپنی مسکراہٹ دباتا سنجیدگی سے بولا
باندری۔سکندر نے اذہاد کے کہنے پہ نیا نام دیا
آپ باندرے زکوٹا جن چلاکوں ماسی پہاڑی بکرے دیسی بکرے ایشن بکرے پاکستانی بکرے۔۔۔۔۔باندری نام پہ تو آئرہ کو آگ لگ گئ جبھی جو منہ میں نام آتے گئے بولتی چلی گئ سکندر کا منہ حیرت سے کھل کا کھلا رہ گیا۔زوہا اپنا سر پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھ گئ جب کی اذہاد زمین پہ لیٹ کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوا کیونکہ ساری آگ تو اُسی کی لگائی ہوئی
