Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 05)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

شکریہ نوٹس بہت اچھے تھے۔زوہا نے نوٹس واپس اذہاد کی طرف بڑھا کر بولی

شکریہ کی کیا بات اور واپس کرنے کی کیا بات۔اذہاد نے جوابً کہا

میں نے کاپی کرلیے تھے تبھی واپس کیے۔زوہا نے بتایا۔

زوہا گھر چلیں۔اذہاد کجھ کہنے والا تھا جب آئرہ زوہا کے پاس آکر بولی۔

ہاں چلتے ہیں ڈرائیور آگیا ہے؟زوہا نے پوچھا

نہیں آج ہم سکندر بھائی کے ساتھ جائے گے۔آئرہ نے پرجوش آواز میں بتایا

سکندر بھائی یہاں۔زوہا کو حیرت ہوئی۔اذہاد دونوں کا منہ تکنے لگ گیا جو سِرے سے اُس کو نظرانداز کیے ہوئے تھیں۔

ہاں شاید ان کو کوئی کام تھا یہاں تبھی یہاں تشریف لائے اپنی اور میں نے سوچا کیوں نہ پھر اُن کے ساتھ جائے آئسکریم بھی کھائے گے اُن کے پئسو کی۔آئرہ نے کہا تو زوہا اذہاد کی جانب دیکھتی شرمندہ سی ہوگئ۔

یہ میری بہن ہے آئرہ۔زوہا نے اُس کو کسی اور کی موجودگی کا احساس کروایا۔

نائیس ٹو میٹ یو۔اذہاد نے مروتً کہا

نائیس ٹو میٹ یو ناٹ بکاز پہلی ملاقات وہ بھی آدی ادھوری سے میں خوشی محسوس نہیں کرتی وہ بھی کسی اجنبی کے ساتھ۔آئرہ ناک سکوڑ کر بولی اذہاد تو مسکرا پڑا پر زوہا نے اُس کے بازوں پہ چٹکی کاٹی۔جس پہ آئرہ بُلبُلا اُٹھی۔

ویسے میں نے بھی مروت نبھائی ورنہ آپ سے مل کر مجھے کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی۔اذہاد نے حساب چُکانا لازمی سمجھا جس پہ آئرہ لڑاکا موڈ میں آئی۔

مسٹر ای ٹو ذی آئرہ عماد نام ہے میرا جو بھی ایک بار ملتا ہے بار بار ملنے کی خواہش کرتا ہے پر میں کسی کو لفٹ نہیں کرواتی۔آئرہ نے جتانے والے انداز میں کہا تو اذہاد نے آئبرو اُپر کیے اُپر سے نیچے تک اُس کو دیکھنے لگا۔

مس ای ٹو ذی آپ لفٹ کروائے بھی تو کوئی آئے گا نہیں بھلا آپ پہ چڑھ کر لوگوں نے جانا کہاں ہیں۔اذہاد اپنی بات پہ خود ہی ہنسنے لگا۔زوہا پریشانی سے کبھی آئرہ کا لال بھبھو چہرہ دیکھتی تو کبھی اذہاد کو جو شیطانی مسکراہٹ سے آئرہ کو دیکھ رہا تھا۔

تمہاری یہ ہمت اتنی بے عزتی تو میری اُس کریلے نہیں کی جو تم نے کی معافی مانگو ابھی۔آئرہ اُس کے بال مٹھی میں جکڑتی بولی زوہا کا منہ کُھل گیا۔

جھنگلی عورت چھوڑو میرے بال۔اذہاد اچھا خاصا بھنس گیا شور کی آواز پہ آس پاس کھڑے اسٹوڈنٹس اُن کی جانب متوجہ ہوکر دلچسپی سے اُن کی لڑائی دیکھنے لگے۔

ابھی تو میں بیس کی نہیں عورت کس کو بولا عورت ہوگی تیری بہن اور تیری بیوی اور تیری اولاد کی اولاد۔آئرہ تپ کے بولی۔

آئرہ کیا حرکت ہے چھوڑو اِس کے بال۔زوہا اُس کو دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

ایسے کیسے جانے دوں اِس نے میری شان میں گستاخی کی ہے۔آئرہ نے کہا

میری ماں چھوڑو میرے بال گنجا کرنا ہے کیا اور کونسا میری شادی ہوئی ہے جو میری بیوی کی اولاد کی اولاد کو تم نے عورت کا لقب دے ڈالا۔اذہاد اُس کو خود سے دور کرتا دانت پیس کر بولا۔

کیا ہورہا ہے یہاں۔سکندر جو باہر جارہا تھا بھیڑ جمع دیکھی تو وہی آگیا اذہاد کے کرنٹ لگے بال اور آئرہ کا دبنگ انداز اُس کو بہت کجھ سمجھاگیا تھا۔

پاکستانی پولیس ہونے کا ثبوت دے ڈالا جائے وقوعہ پر تب انٹری ماری جب پانی سر سے گُزر گیا۔ سکندر کو دیکھتی آئرہ جل کے بڑبڑائی۔

ڈانس کررہے تھے پلیز جوائن اٙس۔اذہاد ہاتھ کی مدد سے اپنے بال ٹھیک کرتا تپ کے بولا پاس کھڑی آئرہ کی ہنسی چھوٹ گئ۔

ہاؤ فنی۔آئرہ اُس کے کندھے پہ ہاتھ مارتی دوستانہ انداز میں بولی جیسے پہلے کجھ ہوا ہی نہیں تھا۔اذہاد نے خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھا تو آئرہ زوہا کے پاس کھڑی ہوئی۔

سب اپنا اپنا کام کرو یہاں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔سکندر ایک اچٹنی نظر اُن تینوں پہ ڈالتا پاس کھڑے اسٹوڈنٹس سے بولا۔

عمر دیکھو اور حرکتیں دیکھو۔سکندر آئرہ کو گھور کر بولا

عمر آپ کو نظر آتی ہوگی مجھے دیکھنے سے بھی نہیں آتی رہی بات حرکتوں کی تو غلطی ان موصوف کی ہے۔آئرہ نے آرام سے سارا الزام اذہاد پہ ڈالا۔

جھوٹی ہو بڑی۔اذہاد دانت پیس کر بولا

نوازش۔آئرہ بنا اُس کی بات کا اثر لیے بولی۔

انہیں چھوڑے آپ پلیز ہمیں گھر ڈراپ کردے۔زوہا نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔

بیٹھو گاڑی میں۔سکندر نے کہا تو وہ دونوں چلی گئ۔

کیا تھا یہ سب۔اُن دونوں کے جانے کے بعد سکندر نے اذہاد کی کلاس لینے کا سوچا

میں نے کجھ نہیں کیا وہ محترمہ خود کو کوئی بڑی توپ چیز سمجھ کر لڑنا شروع ہوگئ۔اذہاد نے وضاحت دی۔

لڑکی تھی وہ کجھ تو شرم کرو پوری یونی کے سامنے انسلٹ کروادی اپنی۔سکندر نے اُس کو جھڑکا۔

کہا جو میری غلطی نہیں تھی۔اذہاد چڑ کر بولا

کزن ہے وہ میری کسی کا لحاظ نہیں کرتی اگر دوبارہ اپنی انسلٹ نہیں کروانا چاہتے تو اپنا یہ سال عزت سے گُزارو اُس کو دیکھ کر راستہ بدل دو کیونکہ اب اُس کی نظر تم پہ پڑگئ آسانی سے چھوڑے گے نہیں۔سکندر نے وارن کیا

واہ جی واہ اب میں اُس چھٹان بھر لڑکی سے ڈرو جو میری جونیئر ہے۔اذہاد اُس کی بات سن کر ہتھے سے اُکھڑ گیا۔

وہ چھٹان بھر کی لڑکی ایک دن میں تمہیں پاگل کردے گی۔سکندر کہتا وہاں سے چلاگیا۔

ایویں پاگل کردے گی اذہاد میر کوئی عام تھوڑئی اور اِس آئرہ بی بی کو تو میں چھوڑوں گا نہیں۔اذہاد منہ بناکر بڑبڑایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوبارہ اذہاد کے ساتھ تھمیز سے رہنا دوست ہے میرا۔سکندر گاڑی میں بیٹھتا آئرہ سے بولا

اندازہ ہوگیا تھا ایسا لڑکا آپ کا ہی دوست ہوسکتا ہے۔آئرہ طنزیہ بولی۔زوہا جب کی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئ اُس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔

ایکسکیوز می تمہارا کیا مطلب ہوا اُس بات سے سکندر گاڑی ڈرائیو کرتا پوچھنے لگا۔

میرا کوئی مطلب نہیں اور آپ گاڑی کسی آئسکریم پالر روکے آپ کے ساتھ بحث کرتے کرتے میرا گلا خشک ہوگیا ہے۔آئرہ شانِ بے نیازی سے حُکم صادر کرنے لگی۔

میں تمہارا نوکر نہیں جو حکم چلا رہی ہو۔سکندر اُس کا اندازہ نوٹ کرکے جل بھن گیا۔

کزن تو ہیں نہ اور غریب نہیں ہوجائے گے دو آئسکریم خریدنے میں اگر پئسے نہیں تو وہ بات کریں میں دے دیتی ہوں۔آئرہ مصنوعی فکرمندی سے بولی۔

اپنے پئسو کا روعب مجھے پہ نا ڈالو کیونکہ مجھے پتا ہے مامی جان نے تمہاری اِس ماہ کی پاکٹ منی بند کی ہوئی ہیں۔سکندر جلانے والی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجاتا بولا تو آئرہ گِڑبڑائی

ایسا کجھ نہیں۔آئرہ نے بھرم قائم کرنا چاہا

پلیز اب خاموش ہوجائے یونی میں کیا کم تماشا کیا جو اب دوبارہ یہاں شروع ہوگئے ہیں۔زوہا نے دونوں کو خاموش ہوتا نہ دیکھا تو تنگ ہوتی بولی۔جس پہ سکندر بیک مرر سے آئرہ کو چباجانے والی نظروں سے دیکھتا خاموش ہوگیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے لیے چائے لیکر آؤ سر میں درد ہوگیا ہے تمہاری وجہ سے۔آئرہ گھر آکر ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی جب زوہا اُس کے ہاتھ سے ریموٹ لیتی بولی

لاتی ہوں چائے پر تم چینل چینج مت کرنا۔آئرہ اُٹھ کر بولی

نہیں کرتی بس تم جلدی چائے لاؤ۔زوہا نے کہا

چائے کے ساتھ کجھ اور چاہیے؟آئرہ جاتے جاتے رک کر پوچھنے لگی۔

بسکٹ ہو تو لانا ورنہ خالی چائے۔زوہا نے کہا تو وہ کچن کی طرف بھاگی۔

آپی میچ ہے آج ریموٹ دے دیں۔ابراہیم زوہا کے ساتھ بیٹھا معصوم شکل بنائے بولا

ماموں جان کے کمرے میں جاکر دیکھو آئرہ بول کے گئ ہے چینل تبدیل نہ کرنا۔زوہا نے صاف ہڑی جھنڈی دِکھائی۔

ناٹ فیئر آپی۔ابراہیم کا منہ بن گیا۔

تمہیں تو پتا ہے اِس وقت اُس کا فیوٹ سیریل چلتا ہے وہ کسی کو ریموٹ دینا تو دور دیکھاتی بھی نہیں۔زوہا نے یاد کروانا لازمی سمجھا

پتا نہیں کب اِس ڈرامے سے جان چھوٹے گی۔ابراہیم جل کے بولا تو زوہا ہنس پڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نانو دو کپ چائے کے بناکر دے۔آئرہ کچن میں آئی تو وہاں سوہا کو دیکھا تو شیف پہ بیٹھ کر بولی۔

کھانا کھایا نہیں پہلے وہ تو کھالوں۔سوہا اُس کی جانب متوجہ ہوکر فکرمندی سے گویا ہوئی

وہ کھایا ہوا ہے ہم آج سکندر بھائی کے ساتھ گئے تھے وہ ہمیں ریسٹورنٹ لیکر گئے اُس کے بعد ہم نے آئسکریم بھی کھائی۔آئرہ نے پرجوش آواز میں بتایا

اچھا تم باہر جاؤ میں چائے بن جانے پہ لیں آؤں گی یہاں گرمی ہے اِس تمہارا باہر جانا ٹھیک ہے۔سوہا نے کہا۔

گرمی تو آپ کو بھی ہورہی ہوگی کیوں نہ ہم کچن میں ای سی لگوائے پھر تو آرام سے آپ کھانا بنا سکتے ہیں۔آئرہ سوہا کی بات سن کر کجھ سوچ کر چٹکی بجاکر بولی

شادی کے بعد اپنے شوہر سے کہنا وہ تمہیں کچن میں اے سی لگواکر دے ساتھ میں چولہے کے پاس ایئر کولر بھی۔آئرہ کی بات سوہا اپنی ہنسی ضبط کرکے بولی۔

ہاں یہ ٹھیک ہے۔آئرہ بنا سوہا کی بات کا مطلب جانے خوش ہوتی کچن سے باہر چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ایسے تمہیں مسئلہ نہیں ہوگا پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ یونی جانا؟سکندر نے عبیر کو بتایا تو وہ کجھ سوچ کر بولی

مسئلے والی تو کوئی بات نہیں ان شاءاللہ میں مینیج کرلوں گا۔سکندر مسکراکر بولا

ہاں وہ تو میرا بیٹا کرلے گا پر اُس کے ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا۔عبیر فکرمندی سے بولی

اُس کی آپ کوئی ٹینشن نہ لے کیونکہ یونی کا برڈن اتنا نہیں بس ایک یا دو کلاسس لینی ہیں مجھے۔سکندر نے پرسکون کرنے کی خاطر کہا تو عبیر نے سر کو جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آئرہ

آئرہ

آئرہ

آئرہ

زوہا آئرہ کے کمرے میں آتی اُس کا بلینکیٹ کھینچ کر اُس کو جگانے کی کوشش کرنے لگی جو ابھی تک سوئی ہوئی تھی۔

کیا ہے یار پلیز سونے دو۔آئرہ بنا آنکھیں کُھولے بولی

ارے اُٹھو تو تازہ ترین خبر دینی ہے۔زوہا نے زبردستی اُس کو اُٹھاکر کہا

کونسی قیامت آگئ ہے یار زوہا جو اتنی صبح صبح میری نیند خراب کرنے آگئ۔آئرہ جمائی کے درمیان بولی۔

گیس کرو ایسی کیا بات ہوگی؟زوہا نے سسپینس پِھیلایا

بتانا ہے تو بتاؤ ورنہ میں سونے لگی ہوں۔آئرہ بیزاری سے بولی

اچھا اچھا نہیں کرتی سسپینس دراصل تمہیں پتا ہے آج سے ہماری پہلی کلاس کون لے گا۔زوہا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

سر مجاہد اور کون؟آئرہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی

وہ کجھ وقت کے لیے آؤٹ آف کنٹری جارہے ہیں اور ہماری کلاس کسی اور کو سونپی ہیں اور ہستی سوچو کون ہوسکتا ہے۔زوہا کا لہجہ خاصا پرجوش تھا۔

کوئی دوسرا پروفیسر ہوگا یہ کوئی اتنی خاص بات تو نہیں جو تم نے میری نیند خراب کردی۔آئرہ کو ابھی بھی اپنی نیند کی پڑی ہوئی تھی۔

کسی پروفیسر کو نہیں بلکہ سکندر بھائی کو سونپا ہیں ہمارا اب کجھ ماہ وہ ہمیں پڑھائے گے۔زوہا خوشی خوشی بتانے لگی تو آئرہ کی نیند پل بھر اُڑی وہ ہونکوں کی طرح منہ کُھولے بنی کا چہرہ دیکھنے لگی۔

کیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ہوش میں آتی آئرہ چیخی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *