Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 08)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 08)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
یہ سکندر بھائی سے کیا باتیں ہورہی تھی اور وہ کہاں ملے تھے تمہیں؟وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تو زوہا نے آئرہ سے پوچھا جو ونڈو کی طرف رخ کیے ہوئے تھی۔
بتایا جو تھا وہ اپنی محبوبہ کے ساتھ ڈیٹ پہ آئے تھے۔آئرہ نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا
ٹھیک سے بتاؤ۔زوہا نے سنجیدگی سے پوچھا
میں جب فوڈ کارنر پہنچی تو سکندر بھائی پہلے سے وہاں موجود تھے ایک حنا نامی لڑکی کے ساتھ تو میں اُن کے پاس گئ اور اُس لڑکی کے ساتھ باتیں کرنے لگی تو سکندر بھائی غصہ ہوکر مجھے باہر گھسیٹ آئے۔آئرہ نے منہ بناکر بتایا۔
تم نے ضرور کوئی غلط بات کی ہوگی اور تم یہ کیسے بول سکتی ہو وہ سکندر بھائی کی محبوبہ تھی دوست بھی تو ہوسکتی تھی۔۔زوہا نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
میں نے کوئی غلط بات نہیں کی ہاں وہ الگ بات ہے سکندر بھائی کو میری ہر بات غلط لگتی ہے دوسری بات یہ کے سکندر بھائی جس طرح اُس کو دیکھ رہے تھے اُس سے صاف ظاہر تھا کے وہ لڑکی سکندر بھائی کی محبوبہ تھی ۔آئرہ جھٹ سے بولی
یہ بار بار محبوبہ محبوبہ تو نہ بولو۔زوہا اُس کے منہ سے یہ لفظ سن کر بیزار ہوئی۔
کیوں نہ بولوں اب محبوبہ کا محبوبہ نہ بولوں تو اور کیا بولوں سکندر بھائی نے بھی محبوبہ تو رکھ لی پر یہ نام سننا اُن کو گوارہ نہیں تھا جانے کیوں یہ لوگ گرلفرینڈ بتانے سے اور اپنی لور بتانے سے ہچکچاتے نہیں پر محبوبہ نام پہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے غیرت کا معاملہ ہوں بھلا کوئی ان کو بتائے اُردو میں تو یہی بولتے ہیں محبوبہ یہ گرلفرینڈ اور لور ورڈز تو انگریزوں نے اب ایجاد کیے ہیں ورنہ تو سب محبوبہ بول کر ڈٹ کے اپنی محبوبہ کا تعارف کرواتے تھے۔آئرہ سرجھٹک کر بولی
اچھا اِن باتوں کو چھوڑو یہ تو بتاؤ کیا بات ہوئی تمہاری اُس حنا نامی لڑکی کے ساتھ؟زوہا نے جاننا چاہا
وہ پتلی تھی تو میں نے کہا کیا آپ بچپن میں پولیو والا انجیکشن نہیں لگواتی تھی تو بس سکندر بھائی اور اُن کی محبوبہ بُرا مان گئ۔آئرہ کی بات پہ زوہا کا منہ حیرت سے کُھلا کا کھلا رہ گیا۔
آئرہ تم نے اُس کو یہ کہا؟زوہا حیرت سے اُس کو دیکھ کر بولی
ہاں تو اِس میں غلط بات کیا ہے؟آئرہ نے اُلٹا اُس سے پوچھا
آئرہ کسی کا یوں مذاق نہیں اُڑاتے۔زوہا نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔
ویٹ ویٹ زوہا میں نے نہ اُس کا مذاق اُڑایا اور نہ کسی کو کبھی میں نے جج کیا ہے وہ تو بس میں نے مذاق میں کہا تھا۔آئرہ کجھ سنجیدہ ہوئی۔
تمہارا اُس سے کونسا رشتہ تھا جو تم اُس سے مذاق کرنے بیٹھ گئ۔زوہا نے طنزیہ کیا
تو کیا مذاق کرنا گُناہ ہے؟آئرہ نے پوچھا
مذاق کرنا گُناہ نہیں پر مذاق کرنے کی بھی ایک لِمٹ ہوتی ہے ہم کیسی سے بھی مذاق کرنے نہیں بیٹھ جاتے کیونکہ ہر کوئی تمہارا یا میرا مذاق سہن نہیں کرجاتا تو وہ اجنبی لڑکی کیسے کرلیتی۔زوہا نے اُس کو سمجھایا۔
خیر مذاق تو میرا سکندر بھائی بھی سہن نہیں کرتے تو میں نے کیسے اُن کی محبوبہ عرف بینڈی سے اُمید لگالی۔آئرہ منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی۔
بہت بدتمیز ہوتی جارہی ہو سُدھر جاؤ۔زوہا اُس کے بازوں پہ تھپڑ رسید کرتی ہوئی بولی۔
ایسا انہوں نے بھی بولا تھا۔آئرہ اُس کے پاس تھوڑا جُھک کر بولی
کیا بولا تھا؟زوہا اپنا چہرہ پیچھے کرتی ونڈو کے ساتھ لگی۔
یہی کے آئرہ سُدھر جاؤ۔آئرہ ہوبہو سکندر کی ایکٹنگ کرکے قہقہقہ لگاکر اپنی جگہ پہ بیٹھی۔
پھر تم نے کیا کہا تھا۔زوہا نے متجسس بھری نظروں سے اُس کو دیکھا۔
واللہ حبیبی ہم نہیں سُدھرے گے کبھی بھی۔آئرہ نے کہا تو زوہا نے اپنا ماتھا پیٹا۔
اب یہ کیا نیا ڈائلاگ سیکھا ہے تم نے؟زوہا ضبط کیے بولی۔
افکورس اب جب تک پُرانہ نہیں ہوجاتا میں نے یہی کہنا ہے۔آئرہ مزے سے بولی۔
سکندر بھائی اور اُس لڑکی سے ایکسکیوز کرنا۔زوہا نے نرمی کا مظاہرہ کیا۔
ایکسکیوز کیوں میں نے کونسا اُن کا سر پھاڑ دیا سچی بتاؤ تو جس لہجے میں اب تم مجھ سے بات کررہی ہو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی قتل کرکے بھاگ گئ ہوں مطلب حد ہے میری ایک بات اور ایک حرکت کو تم سب پکڑ ہی لیتے ہو۔آئرہ تنگ ہوتی بولی۔
قتل نہیں کیا پر یہ ٹھیک نہیں تھا پہلے تمہارا اُس سے پولیو کا پوچھنا اب اُس کو بینڈی بولنا ایسے کون کسی کو کہتا ہے۔زوہا نے سمجھایا
میں بولتی ہوں خیر میں سوچتی ہوں اللہ نے مجھے ایک اور بہن کیوں نہ دی جو میری کرائم پارٹنر ہوتی تم تو بس روک ٹوک کرتی رہتی ہوں جڑواں بہنیں ہیں ہمیں لوگوں کی ناک پہ دم کرکے رہنا چاہیے۔آئرہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تو زوہا نے تاسف سے سر کو جنبش دی۔
دشمن آپ کا ساتھ دیتے ہیں غلط کام پہ جب کی جو آپ کے رہنما ہوتے ہیں آپ کو اچھے بُرے کی تہمیز سِکھاتے ہیں اُس کو روک ٹوک کا نام دے کر چڑ نہیں کھاتے بلکہ اُن کی باتوں پہ عمل کرتے ہیں تمہیں لگتا ہے تم نے کجھ غلط نہیں کہا تو سوچو آئرہ کوئی یہی بات مجھے کہے گا تمہیں کیسا لگے گا؟زوہا بات کرنے کے بعد سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی جس کی چھوٹی ناک غصے سے پُھول چُکی تھی۔
میں نے جبڑا توڑ دینا ہے منہ نوچ لینا ہے اُس کا کوئی تمہیں ایسا بول کر تو دیکھائے۔آِئرہ جذباتی ہوکر بولی۔
کیوں پولیو کا انجیکشن بچپن میں لگوایا تھا یا نہیں یہ پوچھنا اِس میں کونسی بڑی بات ہے جو تم مرنے مارنے پہ اُتر آؤگی؟زوہا مسکراہٹ دباکر بولی کیونکہ آئرہ اپنی باتوں میں خود ہی پھس چُکی تھی۔
مجھے نہیں پتا۔آئرہ یہاں وہاں دیکھ کر بولی اُس کو پتا تھا اگر اُس سے کوئی باتوں میں جیت سکتا تھا یا جواب دے کر اُس کو خاموش کروایا جاسکتا تھا تو یہ کام بس زوہا کرسکتی تھی اُس کے علاوہ کوئی نہیں۔
تم نے اُس سے یہ سوال اِس لیے پوچھا کیونکہ اُس کا وزن کم تھا کسی کی جسامت پہ چوٹ کرنا کیا اچھی بات ہے؟زوہا نے پوچھا۔
معاف کردو نہیں کہوں گی اب کسی کو ایسا کجھ تم بھی نہ حد کردیتی ہو اپنی بات منواکر خود کو ٹھیک ثابت کرکے ہی تمہیں چین آتا ہے۔ آئرہ باقاعدہ اُس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی۔
اِٹس مین تم نے گِیو اپ کرلیا؟ زوہا شریر نظروں سے اُس کو دیکھا تو آئرہ گھور کر اُس کو دیکھ کر اپنا چہرہ ونڈو کی جانب کرگئ۔







گھر آکر زوہا اپنے کمرے میں آکر سونے کا اِداہ رکھتی تھی پر وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی اُس کا فون رنگ کررہا تھا۔
اذہاد کی کال اِس وقت؟زوہا اسکرین پہ اذہاد کا نام دیکھ کر تعجب سے بڑبڑا کر فون ریسیو کرنے لگی۔
اذہاد اِس وقت کال خیریت؟زوہا نے پہلا سوال یہی کیا۔
جی خیریت ہے تم بتاؤ کسی ہو؟اذہاد نے مسکراکر پوچھا
ٹھیک ہوں میں تو صبح ہی تو ہماری ملاقات ہوئی تھی۔زوہا بیڈ پہ بیٹھ کر بولی۔
اُس کو تم ملاقات بولتی ہو تمہاری بہن نے تو ویلن کا رول پلے کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی سوچا تھا تمہارے ساتھ اکیلے میں کافی پیو گا۔اذہاد جھرجھری لیکر بولا تو زوہا ہنس پڑی۔
ایسی بات نہیں دراصل وہ تم سے کجھ خاص متاثر نہیں اور نہ آئرہ کو میری فرینڈز سے لگاؤ ہوتا ہے۔زوہا نے مسکراکر بتایا۔
ایسا کیوں؟اذہاد نے حیرانگی کا اظہار کیا۔
وہ میرے معاملے میں تھوڑا پوزیسیو ہے بچپن میں تو جو مجھ سے بات کرتا اُس سے لڑنے لگ جاتی تھی اب کالج یونی میں آئے ہیں تو بس ایسا کرنا چھوڑدیا ہے اُس کا ماننا ہے اگر میں فرینڈشپ کروں گی تو مجھے بہن کی کمی محسوس نہیں ہوگی یا میرے پاس اُس کے لیے وقت نہیں ہوگا۔زوہا نے بتایا تو اذہاد کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آئی۔
مطلب آپ کی بہن سے بنانی پڑے گی کیا پتا یہ دوستی مستقبل میں کام آجائے۔اذہاد زومعنی لہجے میں بولا جو زوہا سمجھ نہیں پائی۔
وہ کیسے؟زوہا ناسمجھی سے بولی
وہ ایسے کے اگر میری اُس کے ساتھ فرینڈشپ ہوجائے گی تو وہ مجھے آپ سے بات کرنے سے کم سے کم روکے گی تو نہیں۔اذہاد نے کہا
تمہیں لگتا ہے وہ تمہارے ساتھ دوستی کرے گی؟زوہا نے جیسے اُس کو چیلینج کیا۔
کیوں نہیں کرے گی اتنا پیارا سا ہینڈسم ہوں سب سے بڑی بات ہماری نیچر بھی کجھ ایک جیسی ہے اگر ہماری فرینڈشپ ہوگئ تو ہم کرائم پارٹنر بہت اچھے اور مثالی بن سکتے ہیں۔اذہاد کالر جہالڑ کر بولا جب کی کرائم پارٹنر کے نام پہ زوہا کو آئرہ کی باتیں یاد آنے لگی تو اُس نے تھوک نگلا۔
پھر تو میری یہی دعا ہوگی کے تم دونوں کی دوستی نہ ہو۔زوہا اتنا کہتی کال کٹ کرگئ۔
کیوں نہ ہو؟اذہاد موبائیل اسکرین کو گھورتا بڑبڑایا۔
