Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 12)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

سارا دن ہی بیکار گُزرا۔ابراہیم گھر آکر لاوٴنج میں منُہ پُھلا کر بیٹھ گیا۔

کیوں کیا ہوا بھائی۔ارسل جو ویڈیو گیم کھیل رہا تھا اُس کی لٹکی صورت دیکھ کر پوچھے بغیر نہ رہ پایا۔

آج کوئی سر پِھری لڑکی کلاس میں میری سیٹ پہ بیٹھ گئ اور بیٹھ کیا گئ سمجھو چپک گئ اُٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی جس وجہ سے سارا دن مجھے لاسٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا اُپر سے اُس کی اُنٹھ جیسی گردن سامنے بورڈ پہ کیا لکھا ہے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا بھئ اگر نظر آتا تو سمجھ آتا نہ۔ارسل کے پوچھنے کی دیر تھی ابراہیم ایک سانس میں سب کجھ بتانے لگا۔

ایک منٹ ابراہیم تم نے کہا وہ سر پِھری تھی تو کیا اُس کا سر بیک سائیڈ پہ تھا یا بار بار گول گول گھوم رہا تھا یا پھر ایک سائیڈ پہ تھا تم بتاؤ نہ کیسے تھا اور اُس کی گردن اُنٹھ جیسی کیسی تھی کیا وہ کوئی اور مخلوق تھی۔ارسل کی سوئی اُس کے پہلے جُملے پہ اٹک گئ تھی تبھی متجسس لہجے میں پوچھنے لگا جب کی ابراہیم کا دل کررہا تھا اپنا سر کسی دیوار پہ دے مارے۔

میں نے ایسے ہی سر پِھری کہا پاگل انسان تم سب سے تو بات کرنا ہی بین کے آگے بھینس چڑھانا ہے۔ابراہیم تپ کے کہتا اپنا بیگ صوفے سے اُٹھا کر سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگا۔

بین کے آگے بھینس چڑھانا بھی ہوتا ہے کیا؟ارسل اپنا سر کُھجاتا بڑبڑایا پھر دماغ میں کجھ کلک ہوا۔

سرپھرے انسان بھینس کے آگے بین بجانا کہتے ہیں ناکہ بھینس چڑھانا۔ارسل تیز آواز میں پیچھے سے اُس کو ہانک لگائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج تم کوئی فائنل بات کر ہی دو۔حنا نے سنجیدگی سے سکندر سے کہا وہ دونوں آج سی سائیڈ آئے تھے۔

کونسی فائنل بات؟سکندر کو سمجھ نہیں آیا

اتنے انجان مت ہو سکندر منگنی کرلوں پھر ٹھیک دو ماہ بعد شادی کی تیاریاں شروع ورنہ مجھے بھول جاؤ۔حنا نے ہاتھ کھڑے کیے کہا تو سکندر اُس کا انداز دیکھ کر ٹھٹک پڑا

از ایوری تھنگ اوکے حنا کیا بات ہے مجھے بتاؤ۔سکندر اُس کا ہاتھ پکڑ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

کجھ بھی ٹھیک نہیں سکندر اِس سال ہماری شادی ہوجانی چاہیے ورنہ میرے پرینٹس حذیفہ سے شادی کروادے دیگے۔حنا نے پریشانی کے عالم میں بتایا

کون حذیفہ اور تمہارے پرینٹس ایسے کیسے تمہاری شادی اُس سے کروادیگے۔سکندر سخت لہجے میں بولا

وہ میرا کزن ہے کولیفائیڈ ہے ویل سیٹڈ ہے ہر چیز اُس کے پاس ہے تو انہوں نے کیوں اوبجیکشن کرنا ہے اگر میں انکار کروں گی تو کیا کہہ کر ریجیکٹ کروں گی۔حنا اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔

اُس کی خوبیاں تو مجھے ایسے بتارہی ہو جیسے میں کوئی جاہل سرچھاپ قسم کا لڑکا ہوں اور ریجیکشن کی بات بھی خوب کہی۔سکندر بدمزہ ہوا۔

تمہیں مجھ سے محبت ہے یا نہیں اگر ہے تو اُتوار کو اپنے پرینٹس کو میرے گھر بھیجو رشتے کی بات کرنے کے لیے۔حنا نے دو ٹوک لہجے میں کہا

مجھے تم پسند ہو حنا پر یار میں نے ابھی موم ڈیڈ کو تمہارے بارے میں بتایا نہیں پہلے بتادو اُس کے بعد ایسے ہی رشتہ بھیجنے کا کہو۔سکندر پریشان سے یہاں وہاں ٹہل کر بولا

واٹ سکندر اتنا عرصہ ہم ایک ساتھ ہیں اور تم نے کبھی اپنے ماں باپ کو بتایا نہیں سچ بتاؤ کیا میرے ساتھ ٹائم پاس کررہے تھے۔حنا شاک کی حالت میں اُس پہ چیخ پڑی۔

آہستہ حنا مجھے یوں عورتوں کا چیخ کر بات کرنا سخت ناگوار لگتا ہے میں نے اپنی فیملی کو یہ نہیں بتایا کے ابھی شادی کرنا چاہتا ہوں ورنہ وہ تمہیں اچھے سے جانتے ہیں رہی بات ٹائم پاس کرنے کی تو دنیا میں لڑکیوں کی کمی نہیں۔سکندر سختی سے اؐس کا بازوں دبوچ کر بولا

سوری۔حنا نے جلدی سے کہا

ہونہہ سوری میں مزید اب کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا آج رات میں اُن سے بات کروں گا۔سکندر سرجھٹک کر بولا تو حنا کا چہرہ چمک اُٹھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آئرہ کارٹون دیکھنا بند کرو اور اسائمنٹ تیار کرو پچھلی بار سکندر بھائی نے بخشش کردی تھی اِس بار نہیں کرے گے۔زوہا لاونج میں آتی آئرہ کے ہاتھ سے ریموٹ کھینچ کر بولی

نا کرو زوہا مزے سے ٹی وی دیکھنے دو میرا موڈ خراب ہے۔آئرہ نے منہ کے زاویئے بناکر کہا

کیوں کیا ہوا ہے تمہارے موڈ کو سب سمجھتی ہوں میں یہ پڑھائی نا کرنے کے بہانے ہیں اگر اِس بار بھی تم نے اسائمنٹ نہیں بنایا تو میں خود ڈیڈ سے تمہاری شکایت کروں گی۔زوہا نے وارن کرنے والے انداز میں کہا

بہن ہو یا دشمن۔آئرہ نے کشن اُٹھا کر اُس کو مارنا چاہا پر عین وقت زوہا سائیڈ پہ ہوئی جس وجہ سے کشن سیدھا اپنے دھیان میں آتی معصومہ کے منہ پہ لگا معصومہ کو دیکھ کر آئرہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ۔

یہ کیا ہے۔معصومہ کشن نیچے پھینکتی غصے سے اُن کو دیکھا زوہا تو جلدی سے مسکین شکل بنائے بیٹھ گئ تھی۔

کشن ہے۔آئرہ نے کہا تو معصومہ نے دوبارہ سے کشن اُٹھا کر اُس کے منہ پہ مارا تو زوہا کی ہنسی نکل گئ۔

لگتا ہے آپ کو پلو فائیٹ کرنے کا دل کررہا ہے۔آئرہ پرجوش لہجے میں معصومہ کو دیکھ کر بولی۔

نہ میری بیٹی میرا دل چاہ رہا تمہاری چھترول کرو اپنی چپل سے۔معصومہ اتنا کہتی اپنے پیر سے چپل اُتار کر ہاتھ میں لی۔

کیوں میرا کیا قصور آپ کو غلطی سے کشن لگایا سچی ورنہ میں تو زوہا کو لگانے والی تھی میسنی زوہا بتاتی کیوں نہیں امی کو۔آئرہ بدک کر صوفے سے اُٹھ کر فر فر بولنے لگی ساتھ میں زوہا کو بھی گھسیٹا۔

میں تمہارے پاس آرہی تھی سکندر کا فون آیا تھا اُس نے مجھے سب بتایا ہے نکمی اولاد۔معصومہ چپل اُس کی طرف پھینک کر بولی جو آئرہ نے جلدی سے کیچ کرلیا۔

گُڈ شاٹ۔آئرہ چپل کو خوشی سے اُپر کرتی اچھل پڑی

شاٹ تو میں تمہیں اب دیتی ہوں۔معصومہ یہ کہہ کر اپنے دوسرے پیر سے بھی چپل اُتاری۔

امی نہ کرو معصوم بیٹی ہوں آپ کی اگر ایسا کریں گی تو ظالم ماؤں میں آپ کا نام سرفہرست میں ہوگا۔آئرہ نے اُس کو ڈرانا چاہا

ہونے دو سرفہرست میں نام پر تمہاری تو میں عقل آج ٹھکانے لگاکر رہو گی۔معصومہ نے پھر سے اُس کی طرف چپل اُچھالی جو اب بھی آئرہ کو نہ لگی جس پہ آئرہ نے شکر کا سانس خارج کرنا چاہا پر سانس سینے تب اٹکی جب ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں لال ہوتی زوہا نے اپنی ہیل والی سینڈل اُتار کر معصومہ کی طرف بڑھائی۔

امی یہ پکڑے آج تو سکندر بھائی نے کلاس سے بھی باہر نکال دیا تھا۔زوہا نے جلے پہ تیل کا کام کیا.

تم سے تو میں سارے حساب بے باک کروں گی چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں زوہا عماد تمہارا قتل مجھے پہ واجب ہوا۔آئرہ تیز نظروں سے زوہا کو گھورتی بولی جواب میں زوہا نے دانتوں کی نمائش کرنا لازمی سمجھا۔

زوہا عماد سے بعد میں نپٹا ابھی معصومہ عماد سے تو بچو۔معصومہ خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر سینڈل ہاتھ میں لہرایا جس کو دیکھ کر آئرہ کا گلا خشک ہورہا تھا۔

ڈیڈ نانا نانوں ارے کوئی تو مجھے ان ظالموں سے بچائے۔آئرہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کو لیتی اچانک تیز رفتار سے بھاگتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی اُس کی چلاکی پہ معصومہ ہکا بُکا رہ گئ پھر ہاتھ میں پکڑا سینڈل پھینک کر اُس کے پیچھے کو بھاگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *