Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 03)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 03)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
سکندر کہاں جارہے ہو؟ عبیر نے سکندر کو باہر جاتا دیکھا تو پوچھا
کام ہے کجھ آپ بتائے کوئی بات کرنی ہے آپ نے؟ سکندر نے بتانے کے بعد پوچھا۔
ہاں آج اورعماد معصومہ آرہے ہیں بچوں کے ساتھ تو تم یہی رہنا۔ عبیر نے مسکراکر بتایا۔
جی ٹھیک ہے ایک کام ہے وہ کرلوں اُس کے بعد۔ سکندر کہہ کر باہر کی طرف بھاگا۔
اب آپ کہاں جارہے ہیں؟ عبیر نے تبریز کو بھی باہر جاتا دیکھا تو ناراض لہجے میں بولی
ہوسپٹل جارہا ہوں کیوں۔ تبریز انجان بنا
کیا کیوں آپ کو پتا ہے معصومہ اور عماد آنے والے ہیں۔ عبیر برا مان کر بولی
عبیر میری جان تمہیں تو پتا ہے ہماری آپس میں کتنی بنتی ہے تو اچھا نہیں میں باہر جارہا ہوں۔ تبریز نرمی سے بولا
ایسی کوئی بات نہیں آپ ہمیشہ بہانے بناتے ہیں ہربار بچے آپ کے بارے میں پوچھتے ہیں اِس لیے آپ کہیں نہیں جارہے۔ عبیر حکیمہ لہجے میں بولی اُس کا انداز دیکھ کر تبریز مسکرایا
بڑی ہمت آگئ ہے ویسے۔ تبریز شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
تو کیا نہیں آنی چاہیے۔ عبیر نے پوچھا
آنی تو چاہیے آفٹر آل تم تبریز جُنید کی بیگم ہو۔تبریز کالر جہاڑ کر بولا تو مسکرا پڑی




سکندر یو ٹو لیٹ۔ حِنا سکندر کی کالج لائیف سے دوست تھی اُس نے سکندر کو آتا دیکھا تو نروٹھے پن سے کہا
سوری یار جاب کا پہلا دن تھا پھر ٹریفک کا مسئلہ ہوگیا ورنہ میں تو جلدی آنا چاہ رہا تھا۔ سکندر معذرت خواہ لہجے میں بولا۔
اچھا پر شام میں پھر تم مجھے لانگ ڈرائیو پہ لیں جانا ہوگا۔ حِنا نے نخرہ دیکھا کر کہا
وہ کجھ بعد کیونکہ مجھے جلدی نکلنا ہوگا۔ سکندر نے بتایا
ابھی تو آئے ہو اور ابھی جانے کی باتیں کررہے ہو۔ حنا بُرا مان کر بولی
ہمارے گھر گیسٹ آنے والے ہیں تبھی۔سکندر نے وجہ بتائی۔
اچھا۔حِنا بُجھے دل کے ساتھ بولی۔
ہاں اور تم بتاؤ کیا پلینز ہیں۔سکندر نے مسکراکر اس کا دھیان دوسری طرف کیا۔
پلینز کجھ خاص تو نہیں موم ڈیڈ بس اب میرے اچھے پرپوزل کے انتظار میں ہیں۔حنا نے کندھے اُچکاکر بتایا۔
انتظار میں کیوں ہم ایک دوسرے کے ساتھ پرفیک ہیں اور اِس بات کا فیصلہ ہم نے کردیا تھا۔سکندر سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر بولا
ہاں یار پر میں کونسا شادی کرنے والی ہوں تم نے وقت مانگا سِٹل ہونے کا جو تم ہوگئے ہو تو بس اپنے والدین کو بھیجو ہمارے گھر۔حنا نے کہا
کہاں سٹل ہوا ہوں یار نئ نئ جاب ہے میری بس ایک دن ہوا کجھ عرصہ مزید ویٹ کرو۔سکندر کہتا پانی کا گلاس پینے لگا۔
دو سال سے یہی سنتی آرہی ہو سکندر۔ حِنا نے اُس کو گھورا
ایک دو سال اور سن لو کونسا بڑی بات ہے۔ سکندر پرسکون لہجے میں بولا
تمہیں مجھ سے محبت ہے بھی یا نہیں۔ حنا نے جاننا چاہا تو سکندر سوچ میں پڑگیا۔
محبت کہاں سے آگئ بیچ میں۔ سکندر کو عجیب لگا۔
کیا مطلب کہاں سے آگئ محبت ہے تبھی تو بات شادی تک پہنچی۔ حِنا کو اُس کی بات اور عجیب لگی
شادی کرنے کے لیے محبت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ سکندر نے کہا
پھر کیا ہوتا ہے یہی بھی بتادو۔
انڈرسٹیننگ ہونی چاہیے برداشت ہونی چاہیے جو ہم میں ہیں ہم خود کو اچھے سے انڈرسٹینڈ کرتے ہیں یقیناً برداشت بھی کرلیں گے۔ سکندر پہلے سوچتا رہا پھر بولا
برداشت وہی کرتا ہے جو محبت کرتا ہے محبت کے بنا کسی میں برادشت نہیں ہوتی۔ حِنا نے اُس کی بات پہ اختلاف کیا۔ (اور سکندر کا ماننا ہے دونون ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ کرتے ہیں)
یار لڑ کیوں رہی ہو ہم کونسا لڑنے آئے ہیں اتنے دنوں بعد ملے ہیں اور تم نے گھسا پِٹا ٹاپک لیا۔سکندر اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتا سمجھانے لگا۔
یہ لاسٹ بار ہے اُس کے بعد کوئی ایکسکیوز نہیں۔ حِنا نے وارن کیا۔
ہاں سچ میں لاسٹ بار ہے۔ سکندر نے جلدی سے سرہلاکر فرمانبرداری کا ثبوت دیا۔






تم نے یہ ڈریس کیوں پہن لیا۔ زوہا آئرہ کے کمرے میں آتی اُس کو تیار ہوتا دیکھا تو منہ بناکر پوچھا۔
آئرہ اسکن کلر کا فراق پہنے بالوں کو پونی میں مقید کیا تھا چہرے پہ بھر بھر کے میک اپ کیا تھا جیسے کسی شادی میں جانے کا اِرادہ ہو۔
کیا بُرائی ہے اِس ڈریس میں۔آئرہ گول گول گھومتی پوچھنے لگی
میرے پاس یہ کلر نہیں میں بلیک پہننے والی ہوں تو تمہارے پاس بھی وہ فراق ہے تم بھی وہ پہنو اچھا ہے میچنگ ہوجائے گی۔ زوہا نے بتایا
بلیک کلر نہیں یار اُس میں۔میں بیمار لگتی ہوں اور کونسا ہم ماتم میں جارہے ہیں جو کالا جوڑا پہنوں۔ آئرہ نے اُس کی بات رد کی۔
تو شادی پہ بھی نہیں جارہے ہو جو تم نے پیسٹری لگائی ہوئی ہے چہرے پہ۔زوہا نے کمر پہ ہاتھ ٹکاکر کہا۔
تم بھی لگالوں پیسٹری اگر جلن ہورہی ہے تو اور دوسری بات ریڈ کلر کا فراق بھی تو ہے وہ پہنتے ہیں ایسے بھی میچنگ ہوجائے گی۔ آئرہ پرجوش آواز میں بولی۔
ریڈ کلر نہیں یار اُس میں۔ میں موٹی لگتی ہوں اور کونسا ہم کسی شادی پہ جارہے ہیں جو لال جوڑا پہنوں۔ زوہا بھی اُس کی بہن تھی اُس کا کہا اُسی کو لوٹایا مطلب صاف اگر تم میری بات نہیں مان رہی تم میں کیوں مانوں۔
بڑی کمینی ہو۔ آئرہ نے اُس کو گھورا
تمہاری بہن ہونے کا شرف جو حاصل ہے۔ زوہا دوبدو بولی۔
یہ تم نے چہرے کا نقشہ کیوں بگاڑا ہے۔ معصومہ کمرے میں آئی تو آئرہ کو دیکھ کر بولی۔
بگاڑا کہاں ہیں میک اپ سے سنورا ہے۔ آئرہ آئینے میں محبت سے اپنا عکس دیکھتی بتانے لگی۔
زوہا مسکراہٹ دباتی بیڈ پہ بیٹھ گئ اُس کو پتا اب کیا ہونے والا ہے۔
کارٹون لگ رہی ہو جاؤ جلدی سے منہ دھوکر آؤ۔معصومہ نے سختی سے کہا
ایسے ہی دھوکر آؤں پورے گھنٹہ لگ گیا ہے تیار ہونے میں۔آئرہ ہتھے سے اُکھڑ ہوگئ
آئرہ امی بول رہی ہیں تو بات مان لو نا ضد کیوں کررہی ہو۔زوہا مسکراہٹ ضبط کرتی بظاہر سنجیدگی سے بولی۔
تم خاموش رہو امی کی چمچی۔ آئرہ نے اُس کو گھورا تو زوہا معصوم شکل بنائے معصومہ کو دیکھنے لگی جس پہ معصومہ کو آئرہ پہ مزید تاؤ آیا۔
یہ کیا طریقہ ہے بہن سے بات کرنے کا آئیندہ خیال کرنا اور جو کہا ہے وہ کرو ورنہ ہم نہیں لیکر جارہے وہاں عبیر کی طرف۔معصومہ دھمکی آمیز لہجے میں بولی تو آئرہ پاؤں پٹختی واشروم کی طرف چلی گئ۔






اذہاد۔سکندر اپنے گھر کے پاس گاڑی روکی تو اُس کو اپنے گھر کے سامنے کھڑا دیکھا تو اُس کے پاس آیا۔
تمہارے پاس ہی آرہا تھا میں۔اذہاد اُس کے بغلگیر ہوتا ہوا بولا
تو چلو پھر۔سکندر خوشدلی سے بولا۔
اذہاد کجھ اور کہتا تبھی دو گاڑیاں گیٹ کے پاس رُک گئ دونوں گاڑیوں کو دیکھ کر سکندر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اذہاد کے فون پہ کال آئی تو وہ سائیڈ پہ ہے ہوگیا۔
کیسے آپ ماما جان۔سکندر سب سے پہلے عماد سے ملتا بولا تبھی آئرہ بھی جلدی سے گاڑی سے نکلی۔
سکندر بھائی اسلام علیکم آپ شاید سلام کرنا بھول گئے۔عماد کے کجھ کہنے سے پہلے آئرہ شرارت سے اُس کو دیکھ کر بولی
وعلیکم اسلام۔سکندر اُس کو گھوری سے نوازتا بولا۔
ابراہیم ارسل حماد فرشتے یہ چاروں دوسری گاڑی سے باہر نکلے تو عبیر اور تبریز بھی گیٹ کے پاس آگئے۔
اسلام علیکم پھوپھا جان۔ابراہیم تبریز سے ملتا بولا
ماما ہوں تمہارا۔تبریز اُس کے کان کھینچ کر بولا
جی جی وہی۔ابراہیم اپنا کان آزاد کرواتا جھٹ سے بولا
اسلام علیکم پھوپھا جان عرف خالوں جان۔آئرہ نے تبریز کو انوکھے انداز میں سلام کیا تو تبریز ٹھنڈی سانس خارج کرتا عبیر کو دیکھنے لگا جو مسکراکر اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔
پھوپھا آپ اُس کے لیے یہ ہیں کیونکہ آپ آئرہ کے پھوپھو کے شوہر ہے اور خالوں اِس لیے کیونکہ معصومہ مجھے اپنا بہن سمجھتی ہے۔عبیر نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
کیا ہوتا اگر تمہارے بھائی کو بھی اپنا بھائی سمجھتی۔تبریز بڑبڑایا جو کسی اور نے تو نہیں عماد نے بخوبی سن لیا تھا۔
تم نہ سُدھرنا۔عماد احسان کرنے والے انداز میں اُس سے ملتا کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
تم سُدھر گئے ہو کافی نہیں۔تبریز اُس کی آنکھوں سے چشما اُتار کر پھونک مار کر بولا۔
نہیں ہے۔عماد چھین نے والے انداز میں اُس سے اپنا چشما لیتا گھور کر بولا
بڑا سالا ہوں تمہارا۔تبریز نے کجھ روعب سے کہا
جی وہ تو تم ہو بڑے سالے۔عماد اُس کو آنکھ مار کر اُس کی بات سے اپنا مطلب نکال کر بولا تو تبریز اُس کو بس دیکھتا رہ گیا۔
اندر چلیں۔عبیر نے کہا تو سب اندر کی طرف بڑھ گئے۔زوہا بھی اپنے ڈوپٹے سے اُلجھتی اندر کی جانب جانے لگی جب اذہاد کو دیکھ کر ٹھٹک کر اُس کو دیکھا تبھی اذہاد کی نظر بھی اُس پہ پڑی تو وہ پہچان گیا۔
کیا اتفاق ہے امیزنگ تمہارا نام کیا ہے ویسے؟اذہاد اُس کے سامنے آتا بے تکلف لہجے میں بولا
کس کا نام۔زوہا ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
جو آپ کے پیچھا کھڑا ہے اُس سے پوچھ رہا ہوں۔اذیاد دانت پیس کر بولا تو زوہا نے پلٹ کر اپنے پیچھے دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا۔
میرے پیچھے تو کوئی نہیں۔زوہا اُس کو دیکھ کر بولی
جی تو میں آپ سے ہی پوچھ رہا تھا۔اذہاد نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
میرا نام زوہا عماد ہے پر آپ یہاں کیوں کیسے اور میرا نام کیوں پوچھا۔زوہا نے ایک سانس میں پوچھ ڈالا۔
نام تو بہت پیارا اور یونیک ہے آپ کا دوسرا کے میں یہاں تو جی میں یہاں رہتا ہوں تیسرا کیوں تو اُس کا جواب میرا گھر یہاں ہے تو ظاہر ہے مجھے یہی ہونا ہے چوتھا اور آخری سوال کے میں نے نام کیوں پوچھا تو اُس کا جواب یہ ہے کے نام پوچھنا غلط تو نہیں انسان جان پہچان کے لیے پہلے نام ہی پوچھتا ہے۔اذہاد نے بڑے تحمل سے اُس کے ہر سوال کا جواب دیا۔زوہا ہونکوں کی طرح مُنہ کُھلے اُس کو بس بولتا دیکھ رہی تھی۔
کتنا بولتے ہیں آپ۔زوہا جھرجھری لیکر بولی۔
شکریہ تعریف کا۔اذہاد دانتوں کی نمائش کرتا بولا۔
آپ یہاں کب سے میں ہم تو بہت بار آچُکے ہیں پر کبھی آپ سے سامنا نہیں ہوا۔زوہا کجھ حیرانگی سے بولی
میں تو بہت عرصے سے یہاں ہوں پہلے ہماری ملاقات یونی میں بھی نہیں ہوئی تھی وہاں ہوئی تو یہاں بھی ہوئی اور اب بار بار ہوگی ایسا ہوتا ہے نہ جن سے ایک بار سامنا ہوجائے تو پھر قسمت بار بار ملاتی ہے جیسے کسی بات کا اِشارہ دے رہی ہو۔اذہاد نے پھر سے لمبا چوڑا جواب دیا۔
اچھا اچھا میں اندر جاتی ہوں نائیس ٹو میٹ یو۔زوہا نے جانے میں ہی عافیت جانی۔
نائیس ٹو میٹ یو ٹو۔اذیاد مسکراکر بولا تو اندر کی طرف بڑھی۔اذہاد مسکراتا دیر تک اُس کو دیکھتا رہا پھر خود سکندر کے پاس جانے کے بجائے اپنے گھر کی جانب گیا۔
