Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 02)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 02)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
معصومہ۔عماد ہاتھ میں اپنی شرٹ پکڑتا اُس کے سر پہ کھڑا ہوا۔
کیا ہے۔معصومہ نے بنا اُس کی جانب دیکھ کر پوچھا
وہ تو مجھے پوچھنا چاہیے کیا ہے یہ؟عماد اپنی شرٹ اُس کے سامنے کرتا دانت پیس کر بولا
صبح صبح کیا مذاق سوجھا ہے تمہیں کیا نظر نہیں آرہا یہ شرٹ ہے۔معصومہ نے گھور کر کہا۔
مجھے تو نظر آرہا ہے پر شاید تمہیں نظر نہیں آرہا میری یہ وائٹ شرٹ گلابی کیسے ہوگئ۔عماد کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔
گلابی ہوگی تم نے دھیان نہیں دیا ہوگا ویسے بھی مال میں لگی لائٹس کی وجہ سے کپڑے بڑے پیارے لگتے ہیں اصل رنگ تو گھر آکر معلوم ہوتا ہے۔معصومہ عام لہجے میں بولی۔
اپنی غلطی ناماننا۔عماد نے افسوس سے اُس کو دیکھا
میری کیا غلطی بھئ۔معصومہ نے تعجب سے اُس کو دیکھا
جب لونڈری سے کپڑے آتے ہیں تو ایک بار چیک کرلیا کرو اور انہیں سمجھایا کرو ایک ساتھ کپڑے نہ دھویا کرو۔عماد نے اب کی تحمل کا مظاہرہ کیا۔
یہ کام میں نے آئرہ کے ذمے لگایا ہے۔معصومہ نے بتایا۔
ریئلی آئرہ کے ذمے جس کو براؤن کلر بلیک لگتا ہے اور بلیک کلر بلیو۔عماد اپنے بال نوچنے کے قریب تھا۔
عماد یار اب یہ اتنا بڑا ایشو نہیں جلدی سے تیار ہوکر آفس جاؤ۔معصومہ تنگ آتی بولی۔
فار یوئر کائینڈ انفارمیشن آج سنڈے ہیں۔عماد کہتا واشروم میں داخل ہوا ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کیا








یہ کہاں سے آگیا۔ آئرہ جو اپنی دوستوں کے ساتھ باتوں میں مگن تھی ریسٹورنٹ میں سکندر کو آتا تو جلدی سے اپنے چہرے کے آگے مینیو کارڈ کیا۔
تمہیں کیا ہوا۔ اُس کی ایک دوست شہنیلا نے تعجب سے اُس کی حرکت کو دیکھا
موت کا فرشتہ نظر آگیا۔ آئرہ تھوڑا سا کارڈ نیچے کرتی سکندر کو دیکھ کر بولی
کہاں۔ اُس کی ساری دوستیں اُچھل کر کھڑی ہوئی تو ریسٹورنٹ میں موجود لوگوں کا دھیان اُن کی طرف گیا۔ آئرہ نے خونخوار نظروں سے اُن کو دیکھا۔
سکندر جو اذہاد سے کوئی بات کررہا تھا شور کی آواز پہ جیسا ہی سامنے دیکھا تو اُس کو آئرہ کی موجودگی کا شک ہوا۔ جس کو یقین میں بدلنے کے لیے وہ اُس ٹیبل پہ آیا۔
تو یہاں ایڈمٹ ہے تمہاری یتیم عرف مسکین دوست کا باپ۔ سکندر مینیو کارڈ اُس کے ہاتھ سے لیتا میٹھا طنزیہ کیے بولا۔
نہیں یہ تو ریسٹورنٹ ہیں اِس کے پیچھے جو ہسپتال ہے وہاں ایڈمٹ تھے وہ اب اُن کو ڈسچارج مل گیا تو میں یہاں آگئ۔ آئرہ نے جلدی سے بات بنائی۔
آرو وہ از؟شہنیلا پُرشوق نظروں سے سکندر کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
کیا آپ کے فادر کی طبیعت ناساز ہے۔سکندر کو آئرہ کو دیکھتا شہنیلا سے پوچھنے لگا جو اُس کی آواز پہ فدا ہی ہوگئ تھی۔
نہیں تو یہ وہ تھوڑئی ہے اُس کے باپ کی طبیعت خراب ہے تو وہ اپنے باپ کی خدمت کرے گی آپ کی طرح سیر سپاٹے تھوڑئی۔ آئرہ نے شہنیلا کے جواب دینے سے پہلے کہا۔
کس کی بات کررہی ہو تم؟ شہنیلا نے پوچھا تو آئرہ کا دل کیا اُس کے گلا دبادے۔
تم اُس کو نہیں جانتی اِس لیے خاموش رہو۔ آئرہ نے دانت پیس کر کہا
اچھا۔ شہنیلا نے کندھے اُچکائے
آپ یہاں جس کے ساتھ آئے ہیں وہاں جائے نہ۔ آئرہ نے سکندر کو بھگانا چاہا۔
تمہاری وجہ سے زوہا ابراہیم اور ارسل میرے ساتھ ٹریٹ پہ نہیں گئے اور ایک تو یہاں مزے کررہی ہو۔ سکندر نے اُس کو شرم دلوانی چاہی۔
بس اب سب آپ کی طرف خودغرض تو نہیں ہوتے نہ جو بنا کزنز کے عیش کریں۔ آئرہ نے اُلٹا اُس کو شرمندہ کردیا۔
اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔ سکندر کا فل لڑنے کا موڈ تھا
بڑے نیک خیالات ہے اب پوچھیے گا مت کونسے۔ آئرہ شانِ بے نیازی سے بولا
اگر تمہارا ڈرامہ ہوگیا تو چلو یہاں سے ماما جان کو پتا چل گیا نہ تم یہاں اکیلی آئی ہو تو سوچ لو کیسے تمہارے باہر آنے پہ ریسٹرکٹ لگاتے ہیں۔
سکندر کمینی مسکراہٹ سے بولا تو آئرہ کا منہ بن گیا۔
میری دوستیں کیا سوچے گی۔ آئرہ نے اپنی دوستوں کو بیچ میں گھسیٹا۔
ہاں جی آپ جائے کھانا کھانے کے بعد ہم خود آئرہ کو گھر چھوڑ آئے گے۔ شہنیلا نے آئرہ کا دفع کیا
آئرہ جانی کروں میں کال ماما جان کو۔ سکندر جیکٹ کی جیب سے اپنا سیل فون نکالتا دھمکی آمیز لہجے میں بولا
چلتی ہوں۔ آئرہ پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتی ریسٹورنٹ کے باہر جانے لگی۔
کون تھی وہ۔ اذہاد جو کب سے اُن کو بحث کرتا دیکھ رہا تھا سکندر سے بولا
کجھ نہیں یار کزن ہے لاپرواہ۔ سکندر بیزاری سے بتانے لگا۔
اچھا ہے کھانا کھالیتی ہم بھی تو یہاں ہیں۔ اذہاد نے کہا
میں اُس کو گھر ڈراپ کرکے آتا ہوں۔ سکندر اُس کی بات ان سنی کرتا باہر کی جانب بڑھا
میرے ساتھ چلو۔ آئرہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے والی تھی جب سکندر نے کہا
آئی بھی خود تھی جاؤں گی بھی خود۔آئرہ جھلا کر بولی۔
مرضی ہے جاؤ میں بھی ٹریفک پولیس کو کال کرتا ہوں کے اٹھارہ سال کی لڑکی بنا لائسنس کے گاڑی ڈرائیو کررہی ہے۔سکندر نے ایک بار پھر دھمکی دی۔
آپ تو پیدا ہی مجھے دھمکیاں دینے کے لیے ہوئے ہیں۔ آئرہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سکندر کا منہ نوچ لیتی۔






زوہا اور آئرہ کا یونیورسٹی میں پہلا سال تھا۔ روز تو وہ ایک ساتھ آیا کرتی تھی پر آئرہ آج نہیں آئی تھی کل کی بات کی وجہ سے اُس کا موڈ آف تھا جس وجہ سے زوہا کو اکیلے آنا پڑا۔
ستارے میں نے نوٹس کا کہا تھا وہ ہیں تمہارے پاس۔ زوہا اپنی دوست کے پاس آکر پوچھنے لگی
نہیں یار سوری وہ مجھ سے ضائع ہوگئے۔ ستارے کجھ شرمندگی سے بولی۔
کیا مطلب ضائع ہوگئے کیسے تمہیں پتا ہے نہ کتنے ضروری تھے وہ۔ زوہا کا منہ صدمے کی حالت سے کُھل چُکا تھا
میرے بھائی سے لڑائی ہوگئ تھی نہ تو اُس نے پانی پھینک دیا اُس پہ۔
پانی پھینک نے کے لیے نوٹس ہی ملے تھے۔ زوہا حیرت سے غوطہ زن ہوئی
سوری نہ پریشان مت ہو ازہاد میر سے مانگو اُس کے نوٹس کمال کے ہوتے ہیں۔ ستارے نے مشورہ دیا۔
وہ کون ہے؟ زوہا نے تعجب سے پوچھا
کیا مطلب کون ہے یونیورسٹی آتی ہو تمہیں اذہاد میر کا نہیں پتا۔ اب حیران ہونے کی باری ستارے کی تھی۔
نہیں پتا اِس لیے تو پوچھ رہی ہوں ویسے بھی یونی میں اتنے سارے لوگ ہوتے ہیں مجھے سب کا ڈیٹا تو معلوم نہیں ہوگا نہ۔ زوہا سرجھٹک کر بولی۔
وہ ہمارا سینئر ہے لاسٹ ایئر ہے اُس کا یونی میں بزنس ڈپارٹمنٹ میں جاؤ مل جائے گا۔ستارے نے بتایا
ایسے کیسے چلی جاؤں میں کونسا جانتی ہوں اُس کو تم جاکر لاؤ۔زوہا نے صاف انکار کیا۔
یار کیا ہوا جو نہیں جانتی ہیں تو ہم ایک یونی کے نہ تو ہمارا فرض ہے ایک دوسرے کی ہیلپ کرنا گائیڈ کرنا تو آرام سے جاؤ وہ بہت سویٹ نیچر کا ہے نوٹس کیا اگر تم دل کہو گی تو وہ بھی سینے سے نکال کر پیش کرے گا۔ستارے ڈرامائی انداز میں بولی۔
یوں بولوں نہ کے دل پھینک ہیں۔زوہا ناک سکوڑ کر بولی
جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں اگر تمہیں نوٹس چاہیے تو جا کر لاؤ پھر ہماری کلاس کا ٹائم ہوجائے گا۔ستارے نے کہا تو بے دلی سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
ایکسکیوز می۔ زوہا بزنس ڈپارٹمنٹ میں آئی تو ایک لڑکا اُس کو نظر آیا اُس نے کجھ سوچ کر اُس کو مخاطب کیا۔
جی فرمائے۔ازہاد جو ابھی یونیورسٹی آیا تھا اپنے پیچھے کسی لڑکی کی خوبصورت آواز آئی تو دل وجان سے متوجہ ہوا۔
ازہاد میر کہاں ملے گا۔ زوہا نے پوچھا
ہائے اتنے پیار سے تو میری ماں نے بھی میرا نام نہیں لیا ہوگا۔ ازہاد اپنے دل پہ ہاتھ رکھتا بڑبڑایا
کجھ کہا آپ نے؟ زوہا ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی
کجھ سُنا آپ نے۔ ازہاد دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ سوال کے بدلے سوال کیا۔
سُنا سہی پر کجھ سمجھ نہیں آیا۔ زوہا نے عقلمندی کا ثبوت دیا۔
اچھا خیر چھوڑے آپ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی۔ ازہاد نے اپنا نام اُس کے منہ سے دوبارہ سننا چاہا
ازہاد میر کہاں ملے گا۔ زوہا نے دوبارہ پوچھا
جی جہاں آپ تلاش کرے گی وہاں ملے گا سوائے کسی سیل شاپ پہ۔ اذہاد شریر لہجے میں بولا
مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آرہی۔ زوہا بیزاری سے بولی
یہ بول کر آپ نے تو میرا دل ٹوٹے ٹوٹے کردیا۔ اذہاد اپنے چہرے پہ افسردگی قائم کرتا بولا
غلطی کردی آپ سے پوچھ کر۔ زوہا کہہ کر جانے لگی۔
ارے ارے ناراض کیوں ہورہی ہیں دراصل میں ہوں اذہاد میر اب آپ بتائے کیا کوئی کام تھا۔ اذہاد اُس کے سامنے کھڑا آتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
اچھا تو ہیں مجھے کجھ نوٹس چاہیے تھے۔ زوہا اپنی حیرت چُھپاکر بولی۔
کونسے کوسنی کلاس کے ایک منٹ ایسا کریں آپ اپنی کلاس سبجیکٹ یہ سب مجھے بتادے میں کل بناکر آپ کو دے دوں گا۔ اذہاد خود ساری بات ترتیب دیتا بولا تو زوہا بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔






بس بھی کرو کل سے شکل غبارے کی طرح پُھولائی ہوئی ہے۔ ارسل آئرہ کے ساتھ بیٹھتا اکتاکر بولا
تم چپ کرو چوزے تم کیا جانو میرا غم۔ آئرہ نے اُس کو لتاڑا
سکندر برو نے کجھ غلط تو نہیں کیا آپ کو پھوپھا جان کی اجازت کے بنا جانا نہیں چاہیے تھا۔ ابراہیم نے بھی باتوں میں حصہ لیا
سب صحیح ہیں سوائے میرے۔ آئرہ جل کے بولی
چلے نہ موڈ ٹھیک کرو اپنا آج ہم نے عبیر خالہ عرف پھپھو کے پاس جانا ہے۔ ارسل اُس کو ٹھوکا مار کر بولا
افف خدایا میں تو بھول ہی گئ تو چلو میں اپنے کمرے میں جاتی ہوں ڈریس بھی تو سلیکٹ کرنا۔ آئرہ اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑی ہوتی اندر کی طرف بھاگ گئ پیچھے اُن دونوں کے اپنا سر پکڑلیا




