Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 18)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

کیوں بلایا ہے مجھے یہاں؟حنا اُن دونوں پہ اچٹنی نظر ڈال کر پوچھنے لگی جو اُس کو ریسٹورنٹ آنے کا کہہ کر خود لیٹ آئے تھے اور خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے تھے۔اُس کے سوال پہ آئرہ نے اذہاد کو دیکھا جو اپنے لیے جوس منگوا کر دلجمعی سے اُس کو پی رہا تھا جیسے زندگی میں کوئی اور کام تھا ہی نہیں۔

مجھے سکندر بھائی کے بارے میں آپ سے بات کرنی ہے۔آئرہ ایک تاسف بھری نظر اذہاد پہ ڈال کر بات کی شروعات کی۔بھائی لفظ پہ اذہاد نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہقہ ضبط کیا۔

مجھے اُس دھوکے باز کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔حنا ناگواری سے بولی

دھوکے باز وہ بھی سکندر بھائی۔آئرہ نے مصنوعی حیرانگی کی انتہا کردی۔

اور نہیں تو کیا منگنی کرکے بڑے پوسٹیں لگارہا تھا۔حنا تاسف سے سر جھٹک کر بولی تو اذہاد کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی اُس کو ڈر تھا کہی یہ لفظ آئرہ پکڑ نہ لے۔

ایسی کوئی بات نہیں تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میں تو تمہیں یہ بتانے والی ہوں کے کے آپ کی جُدائی میں سکندر بھائی کیا سے کیا ہوگئے ہیں ان کے دن کا چین رات کا سکون میرا مطلب دن کا سکون رات کا چین ختم ہوگیا ہے آپ کی یاد میں لاتعداد سگریٹس کی ڈبیاں خالی کرتے ہیں اُن کے ہونٹ کالے توے کی طرح ہوگئے ہیں کھانا پینا تو جیسے اُن پہ حرام ہوگیا ہے اپنی صحت کا بلکل خیال نہیں رکھتے بس حنا حنا کرتے رہتے ہیں۔آئرہ نے اپنے نادیدہ آنسو صاف کیے کہا۔اُس کے اتنے سارے جھوٹ پہ کانوں پہ ہاتھ لگانے لگا

پتا نہیں کیا کرنا چاہتی ہے یہ لڑکی؟اذہاد خشمگین نظروں سے آئرہ کو دیکھ کر سوچنے لگا۔

تمہاری کسی بھی بات کا میں یقین کیوں کروں تم ہو کون؟اور مجھے اِس بات کا اندازہ سو فیصد ہے سکندر کسی لڑکی کے لیے اتنا مجنوں نہیں ہوسکتا۔حنا کا لہجہ طنزیہ تھا۔آئرہ کو وہ پہلے کے حساب سے آج مختلف لگی پر اُس کا اپنا کام تھا اِس لیے اخلاق کے دائرے میں رہی۔

آپ نے کبھی سُنا ہے ایک لڑکا دوسرے لڑکے کے لیے مجنوں ہوگیا یقینً نہیں سُنا ہوگا اور رہی بات میں کوں ہوں تو میں دودھ میں مکھی کباب میں ہڈی۔آئرہ نے اپنا تعارف کروایا تو حنا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔جب کی اذہاد اُس کی اداکاری پہ عش عش کر اُٹھا تھا۔

ٹھیک سے بتاؤ اپنی بات کا مطلب۔حنا نے کہا

ٹھیک بات یہ ہے کے پلیز تم سکندر بھائی کو مت چھوڑو وہ تمہارے لیے گولڈن چانس ہے جس کو گنوا کر تم بعد میں پچھتاؤں گی اِس لیے اپنے پرینٹس سے بات کرو تاکہ وہ آپ دونوں کی شادی کرواکر اِس کہانی کی ہپی اینڈنگ کرلے۔آئرہ نے ایک سانس میں کہا تو حنا سائیڈ میں بیٹھے اذہاد کو پرشوق نظروں سے دیکھنے لگی جس کی پوری توجہ اب دوسرے جوس پہ تھی۔

سکندر بھائی تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔آئرہ نے اُس کی نظریں اذہاد پہ محسوس کی تو دانت پہ دانت جمائے کیونکہ اُس نے اب اذہاد کو اپنا جیجوں مان لیا تھا۔

اُس نے میرے ساتھ چیٹ کیا ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا دنیا اُس پہ ختم نہیں ہوتی نہ وہ دُنیا کا آخری مرد تھا مجھے کوئی اور مل جائے گا ہینڈسم گُڈ لُکنک بندہ ساتھ میں گولڈن چانس پورا پیکیج۔حنا اذہاد پہ نظریں جمائے کر بولی تو آئرہ نے سارے لحاظ بلائے طاق کیے۔ساتھ میں اذہاد کا بھی نشانہ لیا جو اُس کے حق میں بولنے کے بجائے ندیدوں کی طرح کھانے پینے کی چیزوں میں مصروف تھا۔

یہ اذہاد ہے ہمارا پڑوسی بلکل کنگلا ہے کھانے کو دو وقت کی روٹی نہیں ہوتی بے چارا فاقے کی زندگی گُزارتا ہے لُنڈہ بازار سے شاپنگ کرتا ہے زندگی میں اِس نے کبھی کسی جوس کی شکل نہیں دیکھی آج پہلی بار جوس کا ٹیسٹ چکھا ہے اِس لیے ایک کے بعد ایک جوس پیتا جارہا ہے پیتا جارہا ہے اور بس پیتا ہی جارہا ہے۔آئرہ کو مزید حنا کا اٹیٹیوڈ اور اُس کی نظریں اذہاد پہ برادشت نہ ہوئی تو بول پڑی۔

اپنی شان میں ایسی باتیں سن کر اذہاد کی شکل دیکھنے لائق تھی حنا جلدی سے اپنی نظریں اذہاد پہ سے ہٹاکر آئرہ کو دیکھنے لگی جیسے معلوم کرنا چاہ رہی ہو سچ بول رہی ہے یا جھوٹ پر اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔

ریئلی۔حنا نے یقین لہجے میں پوچھنے لگی۔

ہینڈریڈ پرسنٹ۔آئرہ بنا تاخیر کیے بولی

آئرہ۔۔۔۔اذہاد جوس پینا بھول کر اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جو اُس کو نظرانداز کرنے میں مصروف تھی۔

تم کیا بات کررہی تھی سکندر کے بارے میں۔حنا نے اپنا پینترا بدلا

میں کہہ رہی تھی وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں کے تمہاری جیسی فلرٹی لڑکی سے جان چھوٹی۔آئرہ نے بڑے سلیقے سے پینترہ بدل دیا۔

واٹ ڈو یو مین۔حنا اُس کو گھورنے لگی۔

Meaning is very simple,

آئرہ جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولی

تم نے مجھے میری انسلٹ کرنے کے لیے یہاں بُلایا تھا۔حنا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

بلایا تو ایک الگ مقصد سے تھا پر تب تمہاری نیچر سے واقف نہیں تھی اب جب ہوئی ہوں تو بڑی حیرت ہورہی ہے سکندر بھائی کی پسند پہ۔آئرہ کو جیسے افسوس ہوا۔

تمہیں بات کرنے کی تہمیز نہیں۔حنا جلال میں آئی۔

پہلے تھی پر تمہیں دیکھا تو تھمیز شرماکر چلی گئ۔آئرہ نے حساب برابر کیا

اب ہمیں بھی چلنا چاہیے۔اذہاد جو مزے سے اُن دونوں کو دوبدو بات کرتا دیکھ رہا تھا بات بگڑتی دیکھی تو بیچ میں آیا۔

تم لوگ کیا جاؤ گے میں جاتی ہو اور آئیندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا۔حنا اپنا پرس اُٹھاتی دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ کر چلی گئ۔

اذہاد اب کیا ہوگا؟آئرہ رونی صورت بنائے اذہاد سے مخاطب ہوئی۔

اب ہوگا سکندر ویڈز آئرہ۔اذہاد پرسکون لہجے میں بولا نہیں۔آئرہ کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر روپڑے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ آئرہ ولد عماد عمار ‘سکندر ولد تبریز جنید کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

آج وہ دن بھی آگیا تھا جس کا کسی کو بھی انتظار نہیں تھا آئرہ دولہن کا جوڑا پہنے نکاح کے لیے تیار بیٹھی تھی یہ سب فیصلہ اچانک سے ہوا تھا جس پہ دونوں میں سے کسی کا بھی احتجاج کام نہیں آیا تھا

مولوی صاحب کی آواز پہ وہ جیسے گہری نیندی سے جاگی تھی۔

قبول ہے!

اُس نے دل پہ پتھر رکھ کر قبول ہے کہہ دیا دوسری طرف سکندر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ یہاں سے بھاگ جاتا۔

مُبارک ہو۔اذہاد نے پاس کھڑی زوہا کے کان کے پاس جُھک کر کہا تو زوہا نے اُس کو گھورا۔

ابھی رہتا ہے۔زوہا نے جتایا۔

آپ آئرہ ولد عماد عمار ‘سکندر ولد تبریز جنید کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

اتنی بار تو والدین نے رضامندی جاننے کی کوشش نہیں کی جتنی یہ مولوی صاحب پوچھ رہے ہیں بھلا اِن سے کوئی پوچھے اگر لڑکی تیار شیار ہوکر بیٹھی ہے تو ظاہر ہے خوشی سے یا دل پہ پتھر رکھ کر راضی ہی ہوگی پھر بار بار اُن کے زخموں پہ نمک چِھڑکنے کا کیا فائدہ۔

مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا تو لال چنڑی میں چہرہ چھپائے بیٹھی آئرہ دل ہی دل میں بڑبڑانے لگی پھر کہا۔

قبول ہے!

تمہیں قبول ہے اذہاد سے نکاح؟۔اذہاد اپنا بازوں زوہا کے بازوں سے ٹکڑاتا شرارت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا۔

مت بھولو میرے گھر میں ہو ایسا نہ ہو کسی کی نظر تمہاری چھچھوری حرکات پہ پڑے۔زوہا ایک نظر عماد اور تبریز پہ ڈال کر آہستہ آواز میں اذہاد سے بولی جس کو آج رومانس کے کیڑے نے بُری طرح سے کاٹا تھا۔

اچھا ہے کسی کی نظر پڑجائے لگے ہاتھ ہمارا بھی نکاح ہوجائے گا۔اذہاد اُس کی بات ہوا میں اُڑاتا بولا

ویری فنی پہلے اپنے والدین کو تو پاکستان آنے دو۔زوہا نے دانت پیس کر کہا

وہ بھی پہنچ جائینگے آج نہیں تو کل کل نہیں تو پڑسو تڑسو۔اذہاد نے کہا تو اِس بار زوہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

آپ آئرہ ولد عماد عمار ‘سکندر ولد تبریز جنید کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

قبول ہے!

مولوی صاحب کے تیسرے دفع پوچھنے پہ اُس نے ٹھنڈی سانس خارج کرکے قبول ہے کہہ دیا جس پہ چاروں طرف مبارکباد کا شور اُٹھ کھڑا ہوا۔

خوش ہو؟عماد اسٹیج پہ آتا آئرہ کے ماتھے پہ بوسہ دیتا پوچھنے لگا۔

آپ خوش ہیں؟آئرہ نے جواب کے بجائے سوال کیا۔

میں خوش تھا تبھی تو تمہاری شادی سکندر سے کروائی۔عماد نے مسکراکر کہا

اگر آپ خوش ہیں تو میں بھی بہت خوش ہوں کیونکہ نانو نے کہا تھا ماں باپ کبھی اپنے بچوں کا بُرا نہیں چاہتے۔آئرہ عماد کے دونوں ہاتھوں کو عقید سے چومتی بولی تو عماد سرشار ہوا۔

جیتی رہو۔عماد نے صدق دل سے دعا دی۔

مبارک ہو شادی کی بہت بہت۔اذہاد سکندر کے پاس بیٹھتا گرمجوشی سے مبارکباد دینے لگا۔

کس چیز کی مبارک میں نے تو ایک بچی ایڈوپٹ کی ہے۔سکندر جھنجھلائی آواز میں بولا

اب ایسی بھی کوئی بات نہیں تمہاری بیگم کافی چلاک ہیں۔اذہاد نے بتانا لازم سمجھا

بلکل شیطانی کاموں میں تو اُس کا کوئی ثانی نہیں۔سکندر اُس کی بات کی تائید میں بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری بہنا تو دولہن بن کر بہت پیاری لگ رہی ہے۔زوہا آئرہ کے ساتھ بیٹھ کر محبت سے اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی

دولہن مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ہاسٹل جارہی ہوں جہاں مجھے ہر وقت پڑھائی کا درس ملے گا۔آئرہ جلے کٹے انداز میں بولی تو زوہا ہنس پڑی۔

ایسی بھی اب کوئی بات نہیں دیکھنا سکندر جیجوں تمہارا بہت خیال رکھے گیں۔زوہا نے اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر کہا

سکندر جیجوں۔آئرہ ایک آئبرو اُپر کیے زوہا کو گھورنے لگی۔

ہاں تو بہن کا شوہر جیجا ہی ہوا نہ تو میں اُن کو نیا نام دوں گی۔زوہا نے کندھے اُچکا کر کہا۔

توبہ ہے۔آئرہ جھرجھری لیکر بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم یہاں بیٹھو تھک گئ ہوگی نہ۔رخصتی کے بعد وہ جب گھر پہنچے تو عبیر اُس کو سکندر کے کمرے میں بیٹھا کر بولی۔

پھوپھو جان میں یہاں؟آئرہ پورے کمرے میں نظر گُھماتی بس یہی بول پائی۔

ہاں میری جان تم یہاں اب سے یہ تمہارا بھی کمرہ ہوا تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دینا۔عبیر نے محبت سے کہا

مجھے بھوک لگی ہے۔آئرہ نے معصوم شکل بنائے کہا

میں تمہارے لیے کھانے کا کجھ بھیجتی ہوں۔عبیر اتنا کہہ کر کمرے میں چلی گئ۔

ہائے آئرہ تیرا کیا ہوگا۔عبیر کے جانے کے بعد آئرہ خود کو بڑے سے ڈوپٹے سے آزاد کرواتی بڑبڑائی۔

یہ سینڈلز کہاں رکھوں؟اپنے سینڈلز اُتارنے کے بعد اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ انہیں کہاں رکھیں تبھی اِدھر اُدھر پھینک کر اپنی ساری جیولری اُتار کر ڈریسنگ ٹیبل کے بجائے بیڈ پہ رکھتی گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئرہ تمہارا انتظار کررہی ہوگی کمرے میں جاؤ۔اذہاد نے سکندر کو لان میں یہاں وہاں ٹہلتا پایا تو کہا۔

آئرہ کا شُمار اُن مشرقی لڑکیوں میں نہیں ہوتا جو اپنے خاوند کے انتظار میں سوخ کے کانٹا ہوجاتی ہیں آئرہ میرا انتظار نہیں کررہی ہوگی اب تک تو خود کو ایزی کرکے مزے سے سوگئ ہوگی۔اذہاد کی بات پہ سکندر گہری سانس لیکر بولا

ہاؤ کیوٹ کتنا جانتے ہو تم دونوں ایک دوسرے کو پھر بھی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔اذہاد اشتیاق بھرے لہجے میں بولا

اِٹس ناٹ جوک۔سکندر اُس کو گھورنے لگا

آئے نو۔اذہاد فورن بولا

اپنے گھر جاؤ میرے سر میں درد نہ کرو۔سکندر نے اُس کو باہر کا رستہ دِکھایا

میں گھر جاؤں گا پہلے تم اپنے کمرے میں جاؤ اُس سے پہلے انکل تبریز آجائے۔اذہاد نے کہا

جاتا ہوں۔سکندر بیزاری سے بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر اذہاد کے بے حد اصرار کرنے پہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو اُڑتا ہوا کشن سیدھا اُس کے منہ پہ پڑا اپنے ایسے استقبال پہ وہ بیچ وتاب کھاتا رہ گیا۔

واٹ دا۔سکندر کشن کو نیچے پھینکتا غصے سے پھنکارا

دس از دا پلو کشن وغیرہ وغیرہ۔دولہن کے جوڑے میں ملبوس آئرہ نے انٹرڈیوس کروایا

تم یہاں کیا کررہی ہو؟سکندر اُس کی جانب دیکھتا بے تُکہ سوال کرنے لگا جو سوائے اپنے لہنگے کے کہی سے بھی دولہن نہیں لگ رہی تھی

سیم کوائسچن آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟آئرہ اپنے ہاتھ کمر پہ ٹکاتی سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی

بے وقوف عورت یہ میرا کمرہ ہے۔سکندر دانت پیس کر بولا

پہلی بات میں عورت نہیں کم سن خوبصورت سی لڑکی ہوں دوسری بات پھوپھو جان نے کہا یہ اب میرا کمرہ ہے اِس لیے آپ اپنا بندوبست کہی اور کریں کیونکہ میں روم شیئر زوہا سے بھی نہیں کرتی تو آپ کے ساتھ کیسے کروں گی۔آئرہ نے مزے سے کہا

دماغ خراب مت کرو میرا میں تھکا ہوا ہوں آرام کروں گا تمہیں اگر یہاں سونا ہے تو صوفے ہے وہاں سوجانا۔سکندر اُس کی بات ہوا میں اُڑاتا بولا

ہیں ہیں مجھے کیا آپ نے انڈین ڈراموں کی سُوشیل بہو سمجھا ہوا ہے جو اپنے درہم پتنی کے آرام کا سوچتی خود قُربانی کا بکرا بن کر اتنے چھوٹے سے صوفے پہ ایڈجسٹ کرلوں گی۔آئرہ سکندر کی بات سن کر ہتھے سے اُکھڑگئ۔

تم سے تو میں بعد میں نپٹتا ہوں۔سکندر گھور کر اُس کو دیکھتا واشروم کی طرف جانے لگا۔

آپ کہاں جارہے ہیں؟آئرہ نے بے تُکہ سوال کیا۔

واشروم۔سکندر رک کر بتانے لگا۔

اکیلے؟؟؟آئرہ نے اِس بار اپنے کم عقل ہونے کا ثبوت دیا

نہیں تم جوائن کرلوں مجھے۔سکندر پلٹ کر ہاتھ سینے پہ باندھ کر آرام سے بولا

اَسْتَغْفِرُاللّٰه۔آئرہ کے منہ سے بے اختیار پھسلا تو سکندر ایک اچٹنی نظر اُس پہ ڈال کر واشروم چلاگیا۔

لاحول ولاقوة کتنے بے شرم ہیں یہ۔سکندر کے جانے کے بعد آئرہ اپنے کانوں کو چھوتی بڑبڑائی

خیر میں تو اب آرام کروں گی۔آئرہ جمائی کے ساتھ انگڑائی لیتی آرام سے بیڈ پہ پھیل کر لیٹ گئ بنا ڈریس چینج کیے۔

سکندر بالوں کو تولیہ سے رگڑتا واشروم سے باہر آیا تو آئرہ کو ایسے سوتا دیکھا تو گیلا تولیہ اُس کے منہ پہ پھینکا جس پہ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔

یہ کیا تھا۔آئرہ ہاتھ میں تولیہ پکڑتی سکندر کو گھورنے لگی جو اب سِیٹی کی دھن بجاتا اپنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا۔

چیک کررہا تھا کہی مر ور تو نہیں گئ۔سکندر نے سکون سے جواب دیا۔

مرے میرے دشمن۔آئرہ مرنے کی بات پہ فورن سے بولی۔

ہٹو مجھے سونا ہے۔سکندر اُس کو پرے کرتا بیڈ پہ بیٹھنے لگا۔

میں کہاں ہٹو یہ میرا بیڈ ہے مجھے سونا ہے۔آئرہ جلدی سے تکیے پہ اپنی گرفت مضبوط کیے بولی

آئرہ ضد مت کرو یہاں تو بیڈ سے اُٹھو یا ایک طرف ہوجاؤ۔سکندر بیڈ پہ اپنی جگہ بناتا کروٹ بدل کر آرام سے اُس کو بولا۔

میں کیوں کہی اور جاؤں آپ جائے۔آئرہ اپنے ہاتھ اُس کی پشت پہ رکھتی زور سے دھکادینے لگی پر سکندر اپنی جگہ ٹس سے مس نہیں ہوا

کیوں اپنی نازک جان کو ہلکان کررہی ہوں شاید تم بھول رہی ہوں میں پولیس میں ہوں اور وہاں میں ایسے ہی نہیں گیا تھا ٹریننگ کی تھی سخت سے سخت۔سکندر بنا آنکھیں کھولے آئرہ تو سرتا پیر تپاگیا۔

آپ کو یہاں سے اُٹھانے کے لیے مجھے بلڈوزر بھی آپ پہ چڑھانا پڑا تو میں وہ بھی کر گُزروں گی۔آئرہ اب کی اپنے دونوں پیر اُس کی پشت پہ مارکر بولی

ٹھیک ہے اب میں بھی نہیں چاہوں گا تم یہاں لیٹو۔سکندر اُس کی طرف کروٹ لیتا بیڈ سے پڑے کرنے لگا جس پہ آئرہ سکندر کو اور سکندر آئرہ کو بیڈ سے گِرانے میں لگ گیا۔

توبہ ہے کتنی طاقت ہے تم میں۔سکندر اُس کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرقت میں لیکر بولا

اور نہیں تو کیا آپ نے مجھے ناولز کی نازک ہیروئن سمجھا ہوا ہے جو دھکا لگنے سے پہلے گِرجاتی ہیں۔آئرہ اِتراکر بولی

ایک تو تمہارے یہ ڈرامے اور ناولز ہٹو دور مجھے سونا ہے بہت ٹائم ویسٹ کیا ہے تم پہ۔سکندر نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

سکندر بھائی آپ صوفے پہ سوجائے۔آئرہ بے دھیانی پہ بولی

لاحول ولاقوة میں تمہارا تازہ ترین شوہر ہوں پاگل لڑکی۔بھائی لفظ پہ سکندر بدک کر اپنی جگہ سے اُٹھ بیٹھا جس پہ آئرہ نے اپنے لب دانتو تلے دبائے۔

جو بھی آپ وہاں جائے۔آئرہ بضد ہوئی۔

میں پانچ فٹ چھ انچ کا اتنے چھوٹے سوفے پہ سوؤں گا۔سکندر بے یقینی سے اُس کو دیکھ کر بولا

تو آپ کو کس نے کہا اتنے فٹوں کا ہونے کو اب مشکل پیش آرہی ہے نہ۔آئرہ نے کہا

فٹوں یہ کیا ہوتا ہے؟سکندر ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولا

واحد!فٹ تو اُس کا جمع !فٹوں ہوا نہ۔آئرہ نے اپنی عقل مندی کا ثابت دیا تو سکندر کا دل کیا یا اپنے بال نوچے یا آئرہ کا گلا دبادے۔

آئرہ بیڈ بہت بڑا ہے تم ایک طرف کروٹ لیکر سوجاؤ پر پلیز سوجاؤ مجھ میں مزید ہمت نہیں کے تمہارے ساتھ مغزماری کروں پتا نہیں معصومہ مامی نے کیا کھاکر تمہیں پیدا کیا تھا۔سکندر اب کی کجھ نرم لہجے میں بولا

اچھا ٹھیک ہے۔آئرہ کو بھی اُس پہ ترس سا آگیا۔

شکر اللہ کا۔سکندر سکون بھرا سانس خارج کرتا اپنے اُپر بلینکٹ لینے لگا جو آدھے سے زیادہ آئرہ اپنے قبضے میں کیے ہوئے تھی۔

بلینکٹ دو۔سکندر بلینکٹ اپنی طرف کھینچ کر بولا

روم شیئر کیا ہے بیڈ شیئر کیا ہے اُس پہ ہی صبر شکر کر لے پر بلینکٹ کو بھول جائے۔آئرہ بلینکٹ اپنی طرف کھینچ کر بولی

مجھ پہ کوئی احسان نہیں کیا یہ میرا اپنا خود کا پرسنل بیڈ روم ہے۔سکندر بلینکٹ اپنی طرف کھینچتا جتانے والے انداز میں بولا

میں نہیں دوں گی چاہے کجھ بھی ہوجائے۔آئرہ نے بلینکٹ پہ اپنی گرفت مضبوط کی۔

میں لیکر رہوں گا چاہے کجھ بھی ہوجائے۔سکندر اُس کے انداز میں بولا

میں نہیں دوں گی۔آئرہ جلدی سے بولی پر اُس کی گرفت ڈھیلی ہوتی جارہی تھی کیونکہ سکندر بہت زور سے بلینکٹ کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

دیکھتا ہوں کیسے نہیں دیتی۔سکندر دانت پیس کر بولا تبھی اُس کے دماغ میں شیطانی خیال آیا۔

میں نہیں دوں گی۔آئرہ بیڈ کے بلکل کونے پہ آگئ تھی۔

سوچ لو۔سکندر نے وارن کیا۔

سوچ لیا۔آئرہ زور سے آنکھوں کو بند کیے بولی کیونکہ اب اگر سکندر اپنی جانب بلینکٹ کو کرتا تو یقیناً سارا بلینکٹ اُس کے پاس آجاتا ایک خیال کے آتے اُس نے فورن سے اپنی آنکھوں کو کھولا۔

اوکے۔سکندر اتنا کہتا بلینکٹ پہ اپنی گرفت چھوڑی عین ٹائیم آئرہ نے بھی ایسے کیا تو دونوں بیڈ سے دھرام کی آواز پہ گِر پڑے۔

ہائے اللہ میری کمر۔آئرہ اٹھ کر رونا ڈالنے لگی۔

واٹ دا ہیل۔بیڈ کی دوسری سائیڈ سکندر غصے میں بڑبڑانے لگا پر جیسے ہی اُس کی نظر اپنی جانب دیکھتی رونی شکل بنائے آئرہ پہ پڑی تو اُس کی ہنسی چھوٹ گئ آئرہ نے بھی سکندر کو گِرتا پایا تو اُس کا چھت پھاڑ قہقہقہ کمرے میں گونجا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *