Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 13)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

نانو بچالیں مجھے اپنی جلاد اولاد سے۔آئرہ سوہا کے کمرے میں آتی اُس کے پیچھے چُھپنے لگی۔

آئرہ کیا ہوگیا ہے کونسی آفت آگئ۔سوہا اچانک افتادہ پہ بوکھلائی۔تبھی معصومہ آگ بگولہ ہوتی کمرے میں داخل ہوئی۔

وہ والی۔آئرہ نے معصومہ کی طرف اِشارہ کیا تو معصومہ کو تاؤ۔

بس اب یہ سننا رہ گیا تھا یہ چھٹان بھر کی لڑکی اپنی ماں کو آفت کہے گی۔معصومہ کو تپ کے بولی۔

کیا ہوگیا ہے معصومہ کیوں بےچاری کی جان ہلکان کررہی ہو۔سوہا نے اُس کو ٹوکا

نیچے جو ہوا اُس کو تو آپ چھوڑے ابھی یہ دیکھے آپ کے سامنے اِس نے مجھے آفت کہا۔معصومہ کھاجانے والی نظروں سے آئرہ کو دیکھ کر بولی۔

میں نے کب کہا ایسا؟آئرہ سٹپٹاکر بولی

آئرہ نے کجھ نہیں کہا اور تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جو باپ کو کبھی گنگسٹر کا نام دیتی تھی تو کبھی اُس کے سامنے پستول تان لیا کرتی تھی۔سوہا نے فل آئرہ کی سپورٹ کی جس پہ سٹپٹانے کی باری معصومہ کی تھی۔

امی میں بچی تھی تب جب کی یہ نہیں اور آپ کی اولاد میں ہوں یہ آئرہ کی بچی نہیں۔معصومہ منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی۔

امی ایسے تو نہ کہے مجھے شرم آرہی ہے اور میری شادی کہاں ہوئی ہے جو بچے ہوگے۔آئرہ سوہا کا ڈوپٹہ دانتوں تلے دباکر شرمانے کی اداکاری کرکے بولی تو سوہا نے پلٹ کر اُس کو گھورا

بیٹا تمہاری شرم تو میں چٹکی میں ختم کرتی ہوں۔معصومہ اُس کی طرف آنے لگی پر سوہا جلدی سے آئرہ کو اپنے پیچھے کرکے معصومہ سے دور کیا۔

امی۔معصومہ نے احتجاج کیا۔

کیا امی پہلے یہ بتاؤ بات ہے کیا؟سوہا نے پوچھا

سکندر کی کال آئی تھی اور اُس نے بتایا پڑھائی میں اِس کا رکارڈ بہت خراب ہے اسائمنٹ تک سمبٹ نہیں کرواتی اور آج تو کلاس سے ہی باہر نکال دیا اِس کو۔معصومہ نے بتایا

تو بول تو ایسے رہی ہو جیسے تم خود بڑی ٹاپر تھی یونیورسٹی میں۔سوہا کی بات پہ آئرہ اور زوہا کی ہنسی نکل گئ۔

اِس کی طرح نکمی بھی نہیں تھی۔معصومہ جلدی سے بول پڑی

سب پتا ہے میں ماں ہوں تمہاری سب جانتی ہوں کبھی تم کلاس میں گانا گارہی ہوتی تھی تو کبھی کوئی اور کارنامہ سرانجام دے رہی ہوتی تھی کم سے یہ ایسا تو کجھ نہیں کرتی۔سوہا نے ٹھیک ٹھاک اُس کو آئینہ دیکھایا

اب آپ میری بے عزتی کررہی ہیں میری اولاد کے سامنے ورنہ جتنے نیک خیالات آپ کے میرے بارے میں ہیں نہ اُس سے زیادہ تو ڈیڈ کے آپ کے بارے میں ہیں کہے تو یاد کرواؤ۔معصومہ شیطانی مسکراہٹ سے بولی تو سوہا کا منہ حیرت سے کُھل گیا جب کی زوہا اور آئرہ دلچسپی سے اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

تم مجھے دھمکارہی ہو نکلو میرے کمرے سے اُس سے پہلے اِن دونوں کے سامنے تمہاری چھترول کروں۔سوہا نے خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

ڈارلینگ آپ تو بُرا ہی مان گئ میں تو جسٹ آپ سے مذاق کررہی تھی۔معصومہ شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی۔

جاتی ہو یا کروں تم سے دو دو ہاتھ۔سوہا بیڈ سے اُٹھنے لگی تو معصومہ جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئ اُس کے جاتے ہی آئرہ اور زوہا کا قہقہقہ کمرے میں گونج اُٹھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

اگر تمہیں حنا پسند ہے اُس سے شادی کرنے کا اِرادہ بھی رکھتے ہو تو شادی آج ہو یا کل کیا فرق پڑتا ہے۔اذہاد سکندر کی ساری بات سننے کے بعد بولا کیونکہ حنا سے ملنے کے بعد سکندر اپنے گھر کے بجائے اذہاد کے پاس آگیا تھا اور اُس کو ساری بات بتادی ساتھ میں اپنی کنفیوزن بھی۔

میں بس موم ڈیڈ کے ری ایکشن کا سوچ کر پریشان ہورہا ہوں۔سکندر نے بتایا

پریشانی کیسی اُن کا ردعمل شدہ ہوگا جب تم اُن سے بات کروگے پر یار وہ ماں باپ ہیں تمہارے بعد میں مان جائے گا۔اذہاد نے تسلی کروائی۔

تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے اُن کا ردعمل شدید ہوگا؟سکندر نے جاننا چاہا

بات سمپل ہے تم اُن کی اکلوتی اولاد ہو اور تمہارے متعلق اُنہوں نے بہت خواب سجائے ہوگے جیسے تمہارے فادر چاہتے تھے تم ڈاکٹر بنو پر تمہارا انٹرسٹ پولیس میں تھا تو وہ خاموشی اختیار کرگئے ایسے ہی تمہاری ماں نے تمہاری شادی کے متعلق کجھ سوچا ہوگا شاید ان کی نظر میں کوئی لڑکی بھی ہو ایسے میں اگر تم اِس بار بھی اپنی مرضی کروگے تو ہرٹ ہوگے۔اذہاد نے ساری بات تفصیل سے بتائی۔

ایسا نہیں موم ڈیڈ کے لیے اپنی اولاد کی خوشی سب سے زیادہ عزیز ہے۔سکندر پُریقین لہجے میں بولا

اور اولاد کے لیے؟کیا اُس کے لیے ماں باپ کی خوشیاں اپنی خوشیوں سے زیادہ عزیز ہوتی ہیں؟اذہاد کے سوال نے سکندر کو مزید پریشان کیا۔

میں یہاں اِس لیے آیا تھا تاکہ پرسکون فیل کروں پر تم تو مزید ٹینشن دے رہے ہو۔سکندر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

یار میں تو جسٹ ایک بات کررہا تھا تم تو بُرا مان گئے۔اذہاد اُس کا ہاتھ تھام کر بولا

میں آج بات کروں گا اُن سے پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔سکندر نے کہا

اچھا ہی ہوگا اگر حنا جلدی مچارہی ہے تو ضرور کوئی ریزن ہوگا تمہیں بھی اب دیر نہیں کرنی چاہیے۔اذہاد کی بات پہ اُس نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔رات کھانے کے وقت سکندر نے تبریز اور عبیر کو مخاطب کیا

کہو۔تبریز نے اِجازت دی۔

میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔سکندر دونوں کے چہرے دیکھتا بول پڑا۔

اچھی بات ہے شادی کی عمر ہو بھی گئ ہے تمہاری۔تبریز نے بس اتنا کہا تو سکندر عبیر کو دیکھنے لگا جو کجھ حیرانی سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

کیا تمہیں کوئی پسند ہے؟عبیر نے پوچھا

پسند کی ہوئی ہے تبھی تو کہہ رہا ہے اگر نہ کی ہوتی تو جُملا الگ ہوتا اور وہ یہ ہوتا آپ لوگ میری شادی کروادے۔تبریز پانی کا گلاس پی کر بولا اُس کی بات پہ جانے کیوں سکندر کو شرمندگی ہوئی۔

کون ہے وہ؟عبیر ایک نظر تبریز کو دیکھتی پوچھنے لگی۔

حنا نام ہے اُس کا میں چاہتا ہوں اِس اُتوار آپ لوگ اُس کے گھر رشتہ لینے جائے۔سکندر نے بتایا

ٹھیک ہے جیسا تم کہو زندگی تم نے گُزارنی ہے۔عبیر نے مسکراکر کہا تو سکندر کجھ پرسکون ہوا۔

شکریہ۔سکندر محبت سے دونوں کی جانب دیکھ کر بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فائنلی تم نے گھر میں بات تو کی۔کمرے میں آنے کے بعد سکندر نے حنا کو کال کرکے بتایا تو اُس نے شکر کا سانس لیکر کہا

ہاں بس اب آئے گے وہ رشتے کی بات کرنے تم نے تو اپنے والدین سے بات کردی ہے نہ؟سکندر کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

ہاں کل کروں گی۔حنا نے لاپرواہی سے کہا تو سکندر ٹھٹکا

کیا مطلب کروں گی تم نے بات نہیں کی ابھی تک مجھ سے تو بار بار کہا کرتی تھی اور ایک بار تو یہ بھی کہا تھا کے تم نے بات کردی ہے۔سکندر ناگوای سے بولا

صبح کروں گی ویسے تمہاری فیملی میں کون کون آنے والا ہے؟حنا نے بات ٹال کر کہا

میرے پرینٹس اور شاید نانا نانو دادا اور دادی تو آؤٹ آف کنٹری ہیں۔سکندر نے بتایا

ابھی رشتے کی بات ہورہی ہے تو بارات کیوں لارہے ہو۔حنا کو اُس کی بات پسند نہیں آئی۔

میرے فیملی میمبرز ہیں دوسری بات میری زندگی میں سب سے پہلے وہ ہیں اُس کے بعد کوئی اور اِس لیے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنا۔سکندر دو ٹوک انداز میں کہتا کال کٹ کرگیا اُس کا موڈ بُری طرح سے خراب ہوچکا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ایک بات بتانی تھی اِجازت ہو تو بتاؤ۔معصومہ عماد کو دیکھتی بولی۔

اجازت تو ایسے مانگ رہی ہو جیسے ہر ایک لفظ کے لیے میری اجازت درُوکار ہوتی ہے۔عماد طنِزیہ کیے بنا نہ رہ پایا

تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔معصومہ گھور کر بولی۔

اگر پتا ہے تو کیوں کرتی ہو بات۔عماد نے اُس کی جانب دیکھ کر کہا

کیا کروں تمہیں میرے مجازی خدا ہونے کا شرف جو حاصل ہے تبھی ناچاہتے ہوئے بھی دل پہ پتھر رکھتے ہوئے بھی تم سے مخاطب ہونا پڑتا ہے۔معصومہ نے مجبوری بتائی

کم ٹو دی پوائنٹ۔عماد گود میں رکھا لیپ ٹاپ بند کرتا بولا

عبیر کا فون آیا تھا۔

کیا پہلی بار آیا تھا۔عماد اُس کی بات کاٹ کر بولا تو معصومہ نے دانت پیسے

نہیں پر آج اُس نے ضروری بات کرنے کے لیے کال کی تھی۔معصومہ نے صبر کا گھونٹ پی کر بتایا۔

کونسی بات؟عماد نے جاننا چاہا

سکندر ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔معصومہ نے بتایا

ظاہر ہے لڑکی سے ہی شادی کرے گا لڑکے سے تو کرنے سے رہا۔عماد سرسری لہجے میں کہتا بیڈ پہ لیٹ گیا جب کی معصومہ کا پارہ ہائے ہوا

تم اتنی بڑی بات کو سرسری کیسے لیں سکتے ہوئے۔معصومہ نے اُس کو جھنجھور کر کہا

کہاکہ اور کیا کروں۔عماد تپ پڑا

میں نے آئرہ اور سکندر کا سوچا تھا۔معصومہ کی بات پہ اُس کے دروازے سے گُزرتی آئرہ اپنے نام پہ وہی رُک گئ تھی۔

آئرہ چھوٹی ہے سکندر سے ویسے بھی آئرہ کو پسند نہیں سکندر۔عماد نے کندھے اُچکاکر کہا اُس کی بات پہ آئرہ کا دل کیا اندر جاکر اپنے باپ کا منہ چوم لیں

یہاں بات آئرہ کی پسند کی نہیں میرے ارمانوں کی ہورہی ہے ویسے بھی آئرہ کو اگر کوئی سیدھا کرسکتا ہے تو وہ سکندر ہے۔معصومہ کی بات پہ آئرہ منہ بناکر گول گول گھومتی خود کا جائزہ لینے لگی۔

اچھی بھلی سلم سمارٹ اور سیدھی تو ہوں اب کیا ٹیلیوژن بن جاؤں۔آئرہ بدمزہ ہوتی بڑبڑائی۔

سکندر کو کوئی اور لڑکی پسند ہے ایسے میں اگر عبیر اُس کو آئرہ کے لیے منا بھی لے تو وہ آئرہ کو محبت نہیں دے سکے گا کیونکہ آئرہ اُس کو بھی خاص پسند نہیں زوہا کی الگ بات ہے۔عماد نے اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہا

زوہا کا مسئلہ نہیں اُس کے لیے اپنا ابراہیم ٹھیک ہے۔معصومہ نے ہاتھ جہاڑ کر کہا

ابراہیم چھوٹا ہے اُس سے کیا ہوگیا ہے تمہیں۔عماد نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔

آئرہ اور زوہا کی پیدائش کے دو تین ماہ بعد ہی ابراہیم پیدا ہوا تھا تو کوئی خاص ایج ڈفرنس نہیں۔معصومہ نے کہا

مرضی ہے تمہاری پر میں شادی کروانے وقت پہلے اُن دونوں کی رضامندی جانوں گا۔عماد نے صاف لفظوں میں کہا

تو جاننا رضامندی میں نے کونسا روکا ہے۔معصومہ نے منہ بناکر کہتے خود بھی سونے کے لیے لیٹ گئ۔

آئرہ ان کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے ٹھیک بند کردی زوہا کے کمرے میں آئی جو نوٹس بنارہی تھی۔

زوہا کیا میں ٹیڑھی ہوں۔آئرہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہر اینگل سے خود کا جائزہ لیتی زوہا سے بولی۔

یہ اب کس نے بول دیا تمہیں۔زوہا اُس کے سوال پہ ہنس پڑی

جس نے بھی کہا ہو پر وہ جو کہاوت ہوتی ہے نہ بلکل مجھ پہ سوٹ ایبل ہے۔آئرہ بیڈ کے پاس آکر بولی۔

کونسی کہاوت؟زوہا مصروف انداز میں پوچھنے لگی۔

امی مجھے برداشت نہیں کرسکتی تنگ ہیں مجھ سے ساس نے تو یار مجھے ایک ہی دن میں گھر سے باہر نکال دینا ہے۔آئرہ کو پریشانی لاحق ہوئی۔

اتنی تم معصوم مجھے تو لگتا ہے تم نے پہلی فرصت میں ساس کو باہر نکالنا ہے۔زوہا طنزیہ بولی۔

اللہ اللہ کرو میں کیوں ایسا کرنے لگی ساس کا مقام بھی تو ماں جیسا ہوتا ہے۔آئرہ اُس کو گھور کر بولی

بڑی سمجھدار ہوگئ ہو۔زوہا اُس کی بات پہ مسکرائی۔

میں معصوم ہوں۔آئرہ نے معصوم شکل بنائی۔

تو اپنی معصومیت پہ ایک کتاب لکھ دو۔زوہا جل بھن کر بولی

کیا فائدہ کونسا کسی نے اعتبار کرنا ہے۔آئرہ ایسی بولی جیسے سچ میں کتاب لکھنے کا اِرادہ ہو

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تقدیر ہے مگر قسمت نہیں کُھلتی

تاج محل بنانا چاہتا ہوں پر ممتاز نہیں ملتی

اذہاد سیڑھیوں کے پاس بیٹھی زوہا کے ساتھ بیٹھ کر شاعرانہ انداز میں بولا

کافی سستی شاعری تھی۔زوہا نے اُس کے خاموش ہوتے ہوئے کہا

عاشق مزاج لوگوں کے جذبات دیکھا کرتے ہیں اُن کے پیار یا شاعری کی قیمت نہیں۔اذہاد اُس کے پاس تھوڑا جھک کر بولا

ایسی بات ہے؟زوہا نے پوچھا

بلکل۔اذہاد بنا تاخیر کیے بولا

تو پھر ممتاز کو تلاش کرکے شادی کرلوں۔زوہا نے مشورہ دیا۔

ممتاز تو پاس بیٹھی ہے بس وہ مان جائے پھر شادی کرلینگے۔اذہاد اُس کی جانب دیکھ کر بولا تو زوہا ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔

میری کلاس کا وقت ہوگیا ہے میں چلتی ہوں۔زوہا اتنا کہتی جانے لگی۔

تقدیر ہے مگر قسمت نہیں کُھلتی

ممتاز مل گئ ہے پر شادی نہیں کرتی۔

اذہاد اُس کو جاتا دیکھ کر دوبارہ سے شاعری کرنے لگا تو آئرہ وہاں بیٹھ گئ جہاں کجھ قبل پہلے زوہا بیٹھی ہوئی تھی۔

خیر تو ہے آج بڑے عاشقانہ موڈ میں ہو۔آئرہ نے غور سے اُس کی جانب دیکھ کر کہا

تمہیں پتا ہے میرا لاسٹ سمسٹر ہے اور میں اُس کے بعد شادی کرنا چاہتا ہوں۔اذہاد نے بات گول کرکے بتایا

تو کرلینا شادی کس نے روکا ہے۔آئرہ کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔

تم کوئی میرے لیے لڑکی تلاش کرو۔اذہاد نے کہا

میں اپنے لیے لڑکا تو تلاش کرلوں پھر تمہارے لیے بھی دیکھتی ہوں کسی کو۔آئرہ نے رازدرانہ انداز میں اُس سے کہا

تمہارے لیے لڑکا میں تلاش کروں گا تم بس میرے لیے زوہا جیسی لڑکی تلاش کرو۔اذہاد نے اُس کا دھیان زوہا کی طرف کروایا

زوہا جیسی کیوں زوہا میری بہن میں کیا مسئلہ ہے۔آئرہ لڑاکا انداز میں بولی

ارے ارے بریک پہ پاؤں رکھو میں نے کب کہا اُس میں کوئی مسئلہ ہے میں نے اُس کا نام نہیں لیا اپنے ساتھ مجھے لگا شاید تمہیں غصہ نہ آجائے۔اذہاد جلدی سے بول پڑا اُس کے من کی مراد جو بھرآئی تھی۔

تو کرو اُس کو پرپوز کونسی بڑی بات ہے بس چار ورڈز ہی تو کہنے ہیں۔آئرہ نے عام انداز میں کہا

چار یا تین؟اذہاد تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔

وِل یو میری می؟یہ چار ورڈز ہیں بدھو اتنا بھی نہیں پتا کیا اسکول کے باہر پڑھائی کی تھی کیا۔آئرہ نے جیسے اُس کی عقل پہ افسوس کیا۔

ایسی بات نہیں میں کجھ اور سمجھا۔اذہاد کھسیانا سا ہوگیا

اور کیا سمجھے؟آئرہ نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

مجھے لگا آے لو یو کہنا ہے۔اذہاد نے بتایا

جو سچ مچ پیار کرتے ہیں وہ ڈائریکٹ نکاح کرنے کا کہتے ہیں آے لو یو سے کام نہیں چلاتے یہ ورڈز تو شادی کے بعد بھی کہے جاسکتے ہیں۔آئرہ اتنا کہہ کر اپنے ڈپارٹمنٹ جانے لگی

اتنی بے وقوف ہے نہیں جتنی نظر آتی ہے۔اذہاد اُس کی بات سن کر ایمپریس ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *