Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 04)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

پُھوپھاں جان آپ اتنے کمزور کیوں ہوگئے ہیں؟سکندر حماد سے پوچھ کر پچھتایا۔

بس بیٹا کیا بتاؤ تھوڑی صحت بناتا ہوں تو تمہاری یہ پھوپھو میرا خون چوس دیتی ہے۔حماد معصوم شکل بنایا فرشتے کی جانب اِشارہ کیے بولا۔

میں تمہارا خون چوستی ہوں یا تم میرا خون جلاتے رہتے ہو اتنا پریشان اور تنگ تو ابراہیم اور ارسل نہیں کرتے جتنا تم نے کیا ہوا ہوتا ہے مجھے۔فرشتے کو تو آگ ہی لگ گئ حماد کی بات پہ جب کی ینگ جنریشن دلچسپ نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگا۔

کب میں نے تمہارا خون جلایا اچھی خاصی موٹی ہو اور کونسا تم میرے کام کرتی ہو ہر وقت تو ڈرامے دیکھتی رہتی ہو۔حماد نے اُس کو آئینے دِکھایا

تمہیں کہاں سے میری بہن موٹی لگ رہی ہے۔تبریز گھور کر حماد سے بولا(حماد اور فرشتے کی لڑائی ہو اور تبریز معصومہ خاموش رہے ایسا تو ہو نہیں سکتا تھا اِن دونوں کی لڑائی تو تبریز اور معصومہ کے بنا اِدھوری رہتی ہے)

یہ دونوں میاں بیوی کا معاملہ ہے تمہارا کیا کام جو بیچ میں پڑرہے ہو۔معصومہ نے ڈبل گھوری سے تبریز کو نوازہ۔

معصومہ۔عماد نے اُس کو تمبیہہ کرتی نظروں سے دیکھا جس کو معصومہ کسی خاطے میں نہیں لائی۔

میری بہن ہے فرشتے اور میرا حق ہے اُس کے لیے لڑنا۔تبریز نے اپنی توپوں کا رخ معصومہ کی جانب کیا۔

اُس کے لیے لڑنا یا اُس کا لڑنا دیکھو بھئ حماد میرا بھائی ہے وہ بھی اکلوتا اگر کوئی اُس کو آنکھیں دیکھائے گا تو میں اُس کی آنکھیں نوچ لوں گی۔معصومہ نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا۔

مامی جان سوچ سمجھ کر بات کریں۔سکندر کو معصومہ کا اپنے باپ سے ایسے بات کرنا پسند نہیں آیا۔

میری ماں سوچ سمجھ کر بات کرتی ہے اور آپ کیوں بڑوں کی لڑائی میں مداخلت کر رہے ہیں آرام سے لڑنے دے انہیں۔آئرہ جو مزے سے اُن سب کو بحث کرتا دیکھ رہی تھی سکندر کی بات پہ اُس کو سُنا ڈالا۔

تم سے بات نہیں کی میں نے۔سکندر نے اُس کو گھورا

پر میں آپ سے بات کررہی ہوں۔آئرہ اُس کی بات اثر لیے بنا بولی۔

عماد اور عبیر حماد فرشتے۔تبریز معصومہ۔اور سکندر آئرہ کو لڑتا دیکھ کر اپنے سر پکڑ کر بیٹھ گئے زوہا جو ابھی اندر آئی تھی اتنا شور سن کر گِرتے گِرتے بچی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میری توبہ جو میں تمہیں عبیر کے گھر لیکر گیا۔عماد گھر واپس آکر سخت لہجے میں معصومہ کو دیکھ کر بولا۔

مجھے پتا ہے عبیر کا گھر کہاں ہے اِس لیے تم نہ بھی لے جاؤ تو میں خود چلی جاؤں گی۔معصومہ نے ناک سے مکھی اُڑائی۔

تمہاری لڑنے کی عادت کب جائے گی تمہیں یوں ہر ایک سے لڑتا دیکھ کر آئرہ بھی لڑاکا ہوگئ ہے ڈوپلیکیٹ چابی ہے تمہاری۔عماد تنگ آکر بولا

بیٹی ماں کا عکس ہوتی ہے اگر وہ مجھ پہ گئ ہے تو کونسی بُری بات ہے زوہا بھی تو تم پہ گئ ہے پڑھاکو کیڑا میں نے کیا کبھی کجھ کہا۔معصومہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔

اِسی بات کا تو افسوس ہے بس زوہا میرے پہ گئ ہے آئرہ نہیں اگر وہ بھی جاتی تو کیا ہی بات ہونی تھی۔عماد نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔

تم ہو ہی ناشکرے انسان۔معصومہ کہتی کمرے سے باہر چلی گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا ضرورت تھی تبریز برو کے گھر لڑائی کرنے کی۔فرشتے کشن حماد کی جانب پھینکتی خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

گُستاخ بے ادب یہ عزت ہے تمہارے نزدیک مجازی خُدا کی۔حماد کشن واپس اُس کی جانب پھینکتا شرمندہ کرنے والے انداز میں بولا۔

بلکل یہی ہے مجازی خُدا کی عزت۔فرشتے دوبارہ سے کشن اُس کو مارکر بولی۔

فرشتے انسان بن جاؤ ورنہ میں شیطان بن جاؤں گا۔حماد دھمکی آمیز لہجے میں بولا

ابھی تم کونسا کسی شیطان سے کم لگ رہے ہو جو اُس کا سردار بننا چاہتے ہو۔فرشتے نے طنزیہ انداز میں کہا تو وہ بس اُس کو گھورتا رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر بھائی بڑا ہے ہم سے تمہیں اُن کے ساتھ یوں بات نہیں کرنی چاہیے اُن کو بُرا بھی لگ سکتا ہے۔آئرہ سونے کی تیاری کررہی تھی جب زوہا اُس کے کمرے میں آتی بولی۔

لگتا ہے تو لگتا رہے میرا کیا جاتا۔آئرہ ناک سکوڑ کر بولی۔

ڈیڈ کا بھانجا ہے وہ عزت کیا کرو اُس کی۔زوہا نے جیسے اُس کو یاد کروایا

اور میں تمہارے ڈیڈ کی بیٹی ہوں اُس کو چاہیے مجھ سے پیار کرے ظاہر ہے بڑے چھوٹو سے پیار کرے گے تبھی تو چھوٹے اُن کی عزت کرے گے پر نا جی وہ تو مجھے ایسے دیکھتے جیسے میں نے اُن سے قرض لیا پھر کبھی نہ دیا ہو سڑا ہوا کریلہ نہ ہو تو۔آئرہ منہ کے زاویئے بناکر بولی تو زوہا کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں۔

بہت بدتمیز ہو تم۔زوہا نے اُس کے سر پہ چپت لگائی۔

بس کبھی غرور نہیں کیا۔آئرہ گردن اکڑا کر بولی تو زوہا ہنس پڑی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

اتنے وقت بعد وہ سب آئے تھے سب ساتھ میں بیٹھے تھے اور آپ نے جھگڑا شروع کردیا۔تبریز کمرے میں آیا تو عبیر نے خفگی بھرے لہجے میں کہا۔

میں نے جھگڑا شروع کردیا یا تمہاری میکے والوں نے میں تو جارہا تھا تم نے ہی روکا تھا۔تبریز سرجھٹک کر بولا

مجھے کیا پتا تھا آپ کو رُکنے کا کہوں گی اور آپ ایسا کجھ کرے گے۔عبیر افسوس سے بولی۔

اب اپنا موڈ خراب مت کرو آرام سے سوجاؤ تمہارے بھائی کی ہڈیاں نہیں توڑی۔تبریز جل کے بولا

آپ کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ آپ ایسا کر گُزرتے۔عبیر نے گھور کر کہا

ہاں پھر وہ تمہاری بہن عرف بھابھی مجھے چھوڑ دیتی۔تبریز نے کجھ اِس انداز سے کہا تو وہ ہنس پڑی۔

کیا آپ معصومہ سے ڈرتے ہیں۔عبیر مسکراہٹ دبائے بولی۔

ایکسکیوز می میں تبریز جنید اُس معصومہ سے ڈروں گا نو نیور۔عبیر کی بات پہ تبریز ہتھے سے اُکھڑ گیا۔

ایک بات کی میں نے تو۔عبیر گِڑبڑا کر بولی

سوجاؤ اب۔تبریز نے کہا تو وہ جلدی سے لیٹ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر پولیس اسٹیشن میں تھا جب اذہاد کی کال اُس کے موبائیل میں آنے لگی۔

کیا موت پڑگئ تمہیں۔سکندر نے چھوٹتے ہی کہا

موت تو کوئی نہیں پڑی تم بتاؤ کہاں ہو۔اذہاد نے کہا

پولیس اسٹیشن میں ہوں تمہیں کوئی بات کرنی ہے تو کہو ورنہ میں کال ڈراپ کررہا ہوں کیونکہ میں مصروف ہوں۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا

دراصل سر مجاہد تم سے ملنا چاہ رہے تھے۔اذہاد نے کام کی بات کہی۔

سر مجاہد خیریت سے۔سکندر کو پہلے خوشگوار حیرت ہوئی پھر اُس نے جاننا چاہا

پتا نہیں تم اُن کے قابل اسٹوڈنٹ رہے ہو آؤگے تو پتا چل جائے گا کیوں انہوں نے تمہیں اپنے دربار میں یاد فرمایا ہے۔اذہاد شرارت سے بولا

ایک فائل ریڈ کرکے آتا ہوں میں یونی۔سکندر نے کہا تو اذہاد کال بند کرتا اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گیا۔

۔…………………..۔۔۔۔۔

یہ کون ہے۔آئرہ کی دوست شہنیلا نے سامنے آتے شخص کی جانب دیکھ کر آئرہ سے پوچھا جو چپس کھانے میں مگن تھی وہ پہچان تو گئ تھی پر پولیس کی وردی میں جاذب نظر آتے سکندر کو دیکھ کر اُس کو لگا شاید اُس کا شک یا غلطفہمی ہو

سڑا ہوا کریلا۔آئرہ نے چپس کو زور سے دانتو تلے کترا جیسے دانتو کے درمیان سکندر تبریز ہو اُس نے اچانک یونی میں آتے سکندر کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا کے وہ یہاں کیوں آیا تھا وہ بھی پولیس یونیفارم میں۔

سکندر اپنی دھن میں جارہا تھا جب نظر آئرہ پہ پڑی چہرے پہ زاویئے ایسے بن گئے جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو پر آئرہ کو تو جیسے موقع مل گیا۔

دیکھا کہا تھا نہ سڑا ہوا کریلا۔کریلے کی شکل ایسی ہوتی ہے نہ؟آئرہ آنکھیں پٹپٹاکر بولی جس پہ سکندر نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا

سڑا ہوا کریلا

سڑا ہوا کریلا

سڑا ہوا کریلا

آئرہ کے منہ سے بچپن سے اتنی دفع اپنے لیے سن چُکا تھا کے نیند میں بھی اُس کو کریلے نظر آتے تھے۔

نانسنس۔سکندر تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر سائیڈ سے گُزرگیا جس پہ آئرہ نے آنکھیں گُھمائی۔

تم نے بتایا نہیں تمہارا اتنا پیارا کزن پولیس میں ہے۔شہنیلا متجسس ہوتی آئرہ سے بولی۔

پولیس میں ہے بس کوئی پائلٹ نہیں جو میں اشتہارات لگاتی یونی میں اور پیارا بھی نہیں بس دیکھنے والی شکل ہے اُس کی۔آئرہ کو سکندر کی تعریف ہضم نہیں ہوئی تو فورن سے کہا

اب ایسے تو اُس کے حُسن کی توہین نہ کرو۔شہنیلا نے کہا تو آئرہ نے عجیب نظروں سے اُس کو گھورا۔

بڑا حُسن ٹپک رہا تھا جس پہ میں پاؤں رکھ کر اُس کی توہین کررہی تھی پاگل نہ ہو تو۔آئرہ منہ بناکر کہتی بیگ اُٹھا کر کھڑی ہوئی تو شہنیلا بھی اُس کے ہمقدم ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہائے سویٹ ہارٹ۔اذہاد لائبریری میں آیا تو زوہا کو کسی کتاب کو مصروف پایا تبھی اُس کے پاس بیٹھتا شریر لہجے میں بولا

مجھے دوبارہ اِس چیپ ورڈ سے مت پُکارنا۔زوہا نے دانت پیس کر کہا

کیوں اتنا اچھا اور پیارا نام تو ہے۔اذہاد مصنوعی حیرت سے بولا

مجھے نہیں پسند یہ اچھا اور پیارا نام اِس لیے اپنے پاس رکھو۔زوہا نے کہا تو اذہاد سمجھنے والے انداز میں سرہلانے لگا

تو پھر میں کیا کہوں۔اذہاد پرسوچ لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولا

زوہا نام ہے میرا اِس لیے اگر کبھی پُکارنا ہو تو وہ نام یوز کرنا۔زوہا اپنی کتاب بند کرتی بولی۔

اوکے سویٹ ہارٹ میں تمہیں زوہا ہی بولوں گا۔اذہاد دانتوں کی نمائش کرتا بولا تو زوہا نے گھور کر اُس کو دیکھا

تم بہت ڈھیٹ ہو۔زوہا نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا پر سامنے بھی اذہاد میر تھا جس نے شرمندہ ہونا سیکھا نہیں تھا۔

تھینکس فار تعریف۔اذہاد اُردو انگلش میں بولا تو زوہا ہنس اُس کے مکچر جُملے پہ زور سے ہنس پڑی اُس کو ہنستا دیکھ کر اذہاد بھی مسکراتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا۔

تمہیں پتا ہے میری بہن بھی ایسی ہے وہ بھی کبھی اُردو اور کبھی انگلش دونوں کو مکس کرکے جُملا بولتی ہے۔زوہا نے اُس کو بتایا تو وہ دلچسپی سے اُس کے بدلتے فیس ایکیسپریشن دیکھنے لگا وہ کیا اُس کو بتا رہی تھی یہ سمجھنا اذہاد کے لیے مشکل تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مجھے پتا تھا میرے بُلانے پہ تم ضرور آؤں گے۔سکندر مجاہد صاحب کے کیبن میں گیا تھا وہ خوشگوار لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا جس پہ سکندر مسکرا پڑا۔

آپ نے پہلی بار کوئی پیغام پہچایا تھا کیسے نہ آتا۔سکندر نے کہا

یہ بھی تو ہے پر دراصل مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنا تھی پر تمہیں پولیس کی وردی میں دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہوں یا نہ کہوں۔مجاہد صاحب نے پرسوچ انداز اپناتے کہا

آپ کو جو کہنا آرام سے کہے۔سکندر نے مسکراکر کہا

ہممم داصل میں کسی کام سے آؤٹ آف کنٹری جارہا ہوں یونی سے میں نے لیو تو لیے پر ایسے میں اسٹوڈنٹس کی پڑھائی کا حرج ہوگا۔انہوں نے تہمید باندھی۔

حرج کیسا باقی کے پروفیسرز تب تک دیکھ لے گے۔سکندر ان کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پایا

وہ تو دیکھ لے گے پر میں چاہتا ہوں تم اپنے قیمتی وقت میں سے دو گھنٹے یونی کو دو۔مجاہد صاحب نے سنجیدگی سے کہا

مطلب۔سکندر حیران ہوا۔

مطلب یہ کے ایک کلاس کے اسٹوڈنٹس کافی شرارتی ہے وہ شاید کسی اور سے ہینڈل نہ ہو نیو کمر ہیں نہ تو بس اِس لیے پہلے بھی بہت سے اُستاد کو انہوں نے بھگادیا ہے۔مجاہد صاحب کجھ ہنس کر بولے تو سکندر بھی مسکرادیا

آپ چاہتے ہیں وہ اب مجھے بھگائے۔سکندر شرارت سے بولا

میں چاہتا ہوں تم ان کو سُدھارو کوئی اور پروفیسر سے کہہ دیتا پر ان کے اپنے کلاسس بھی ہیں جن کو انہوں نے وقت دینا ہوتا ہے تمہاری جاب کا اندازہ ہے نیو اور ٹف ہے لیکن پھر بھی تم سے فیور مانگ رہا ہوں۔مجاہد صاحب عاجزی سے بولے

کب سے جوائننگ ہے میری۔سکندر مسکراہٹ دباکر بولا تو وہ کُھل کر مسکرا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *