Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 17)Part 2

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

اچھا نہیں کیا تم نے سکندر بھائی کے ساتھ۔رات کے وقت آئرہ لان میں تاروں سے بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی جب زوہا اُس کے پاس والی چیئر پہ بیٹھ کر بولی

تمہارے سکندر بھائی تو میرے گلے میں جیسے پھولوں کے ہار پہنا رہے تھے نہ۔آئرہ نے طنزیہ کیا

جو بھی تھا پر وہ ہمارے کزن ہیں وہ بھی بڑے تمہارا یہ کیسا اخلاق تھا جو انہیں چلاکوں ماسی باندر پہاڑی بکڑے اور جانے کیا کجھ بول دیا۔زوہا خفا معلوم ہورہی تھی۔

تمہیں تو اُن کی بہن ہونا چاہیے تھا میری کیسے بن گئ جب دیکھو اُن کی حمایتی بنی ہوئی ہوتی ہو۔

تمہاری بہن ہوں میں تبھی بول رہی ہو اخلاق سے بات کیا کرو۔زوہا نے نرمی سے کہا

میں اخلاق سے انکار کررہی تھی کے مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی تو جواب آتا ہے اُن کی طرف سے کے میں نالائق نکمی ہوں میں نے کجھ نہیں کہا پھر جانے کیا نام دینے لگے مجھے کے میں چوزی باندری ہوں تو میں نے بھی اُن کے کہے جملے واپس کردیئے۔آئرہ نے ایسے بتایا جیسے جانے کیا کارنامہ انجام دے دیا ہو۔

میں مان ہی نہیں سکتی سکندر بھائی ایسے چوزی باندری نام کہے ہوگے وہ ایک میچیور پرسن ہیں اُپر سے جاب میں اتنی ٹف۔زوہا کو یقین نہ آیا

تمہیں کیوں یقین آئے گا میں تو ان کے سامنے بھی کہہ دوں۔آئرہ سرجھٹک کر بولی

اچھا خیر چھوڑو اِن باتوں کو رات بہت ہوگئ ہے سوجاؤ۔زوہا نے کہا

میری نیندیں تو حرام ہوگئ ہے اب کل میں بات کروں گی امی سے اور ڈیڈ سے وہ ایسے کیسے کرسکتے ہیں میرے ساتھ۔آئرہ جذباتی ہوئی

او ہو آئرہ کونسا خدانخواستہ تمہارا رشتہ کسی لولے لنگڑے کاڑے سے ہوا ہے جو ایسی باتیں کررہی ہو سکندر تبریز سے ہورہا ہے جو بہت اچھے انسان ہے۔زوہا اب زچ ہوئی۔

پتا ہے کتنے اچھے ہیں وہ چلتے ہیں تو وقت تھم جاتا ہے دیکھتے ہیں تو ہوائے رخ بدل دیتی ہیں بات کرتے ہیں تو پھول جھڑتے ہیں۔آئرہ تو سکندر کی تعریف پہ تپ اُٹھی۔

ناشکری ہو بہت۔زوہا تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولتی خود اندر کی طرف چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕

سکندر آج بہت دیر کردی آنے میں کھانا لگاؤ؟سکندر پولیس اسٹیشن سے واپس آیا تو عبیر اُس کو دیکھ کر بولی جس پہ سکندر نے وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے پھر عبیر کو دیکھا جو تبریز کے ساتھ بیٹھ کر پہلے چائے پی رہی تھی اب سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

بھوک نہیں مجھے۔سکندر اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں جانے لگا۔

اگر تمہیں لگتا ہے تم یوں رات کو دیر آؤ گے بھول ہڑتال کرو گے تو ہم اپنے فیصلے کو بدل دیگے تو ایسا کجھ نہیں ہوگا۔تبریز نے اُس کو جاتا دیکھا تو دو ٹوک لہجے میں کہا

آپ میرے ساتھ اچھا نہیں کررہے میں نہیں کرنا چاہتا آئرہ سے شادی آپ میری بات آخر سمجھ کیوں نہیں رہے؟سکندر اُن دونوں کے پاس آتا تنگ آکر بولا

پھر کس سے کرنی ہے شادی اُس حنا سے؟تبریز نے طنزیہ کیا

کسی سے بھی نہیں۔سکندر نے نظریں چُرائی

سب پتا ہے ہمیں اِس لیے اگر ڈرامہ کرلیا ہے تو اپنے کمرے میں جاؤ ویسے بھی تمہاری شادی آئرہ سے ہوگی وہ بھی بہت جلد۔تبریز مضبوط لہجے میں بولا تو سکندر خاموشی اُن دونوں پہ نظر ڈالتا چلاگیا۔

ہمیں سوچنا چاہیے اپنے فیصلے پہ۔عبیر پریشان کن لہجے میں بولی

ٹھیک ہے سوچ لو پھر اپنے بھائی کو جواب بھی دینا مگر یہ بات ذہین میں رکھ لینا پھر وہ تمہارے سے ویسے پیش نہیں آئے گے جسے اب آرہے ہے۔تبریز نے سنجیدگی سے کہا

ایسا کجھ نہیں ہوگا ہماری محبتیں اتنی کمزور بھی نہیں بچوں کی وجہ سے ہمارے درمیان ڈرار نہیں آئے گی بلکہ وہ میرے فیصلے پہ سوچ کر خود بھی ساتھ دینگے۔عبیر نے مسکراکر کہا

عجیب ہے تمہارا پورا خاندان پر میں ایک بات واضع کردوں میں نہیں ہٹوں گا اپنے فیصلے پہ۔تبریز کا انداز اٹل تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

نانوں مجھے شادی نہیں کرنی آپ سمجھائے نہ امی اور ڈیڈ کو۔صبح ہوتے ہی آئرہ سوہا کے کمرے میں آکر اُس سے بولی جہاں معصومہ پہلے سے موجود تھی۔

بیٹا تمہاری شادی تو سکندر سے ہوگی یہ بات طے ہوچکی ہے اِس لیے خاموش رہو۔جواب سوہا کے بجائے معصومہ نے دیا تھا۔

زندگی میں نے گُزارنی ہے اِس لیے میں نے سوچ لیا ہے میں سکندر بھائی کے ساتھ شادی ہرگز نہیں کروں گی۔آئرہ ہمت کرکے بول پڑی

چپ چاپ خاموشی سے یونی جانے کی تیاری کرو شادی کے لیے راضی تم کیا تمہارا باپ بھی ہوگا۔معصومہ نے گھور کر کہا

باپ راضی ہے تم بیٹی کو راضی کرو۔سوہا نے بیزار شکل بنائے کہا

آپ ہی سمجھائے اِس کو۔معصومہ نے سوہا کو دیکھ کر کہا

آئرہ بچے تم جاؤ یونی اور رشتے کی بات پہ بحث دوبارہ نہیں ہوگی۔سوہا نے سنجیدگی سے آئرہ سے کہا

نانو۔آئرہ روہانیسی ہوئی۔

آئرہ گو۔سوہا نے کہا

پر

آئرہ نے کجھ کہنا چاہا

ماں باپ کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے آج نہیں پر کل تمہیں یہ بات ضرور سمجھ آئے گی۔سوہا نے نرمی سے کہا تو وہ ناراض شکل بنائے کمرے سے باہر چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر کیا تم آج یونی نہیں جاؤ گے؟اذہاد یونی جانے کے لیے جیسے ہی گھر سے باہر آیا اُسی وقت سکندر بھی اپنی جیپ کی جانب بڑھ رہا تھا تبھی اُس نے اندازہ لگاکر کہا

ہاں نہیں بس اب میرا وہاں کام نہیں پروفیسر واپس آگئے ہیں۔سکندر نے سنجیدگی سے جواب دیا

اچھا ایک منٹ کے لیے اپنا موبائیل دینا۔اذہاد کان کی لو کُھجا کر اُس سے بولا

کیوں؟سکندر مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

کیا مطلب کیوں کام ہے تبھی بول رہا ہوں نہ۔اذہاد اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاکر تیز آواز میں بولا جس پہ سکندر چند پل سوچتا موبائیل اُس کی طرف بڑھا گیا۔

شکریہ۔اذہاد کی آنکھوں میں چمک اُبھری

جلدی کرو مجھے پولیس اسٹیشن بھی پہنچنا ہے آلریڈی لیٹ ہوچکا ہوں میں۔پانچ منٹ تک جب اذہاد نے سکندر کو فون نہیں لُٹایا تو اُس نے تنگ آکر کہا

ہاں بس میسج کرنا کسی کو ہوگیا یہ لو۔اذہاد کلوز آل کرتا موبائیل سکندر کو واپس کرگیا جس پہ سکندر جیپ پہ بیٹھ کر چلاگیا۔

اذہاد میر یو آر سو جینئس۔اذہاد فخریہ انداز میں کالڑ جہاڑتا خود کو داد دینے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آئرہ یونیورسٹی داخل ہوئی تو بہت سی لڑکیوں نے اُس کو گھیرے میں کیا۔

کانگریس آئرہ تم تو بڑی چھپی رستم نکلی۔اُس کی کلاس فیلو نے آئرہ کو ٹھوکا مارکر کہا تو وہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پھر زوہا کو دیکھنے لگی جو اُس کے دیکھنے پہ نظریں گُھماگئ تھی۔

میں نے کیا کردیا؟آئرہ نے کوفت سے پوچھا

لو جی یہ تم ہم سے پوچھ رہی ہو۔دوسری کلاس فیلو نے ایک خوبصورت پھولوں کا بُکے اُس کی جانب بڑھایا

آج میری سالگرہ نہیں۔آئرہ کو لگا شاید اُن کو کوئی غلطفہمی ہوئی ہو

جانتے ہیں ہم یہ تو تمہاری منگنی کے لیے ہے۔کہتے ہی اُس کی دوست نے اُس کے اُپر گلٹر گِرایا

جبکی منگنی کے نام پہ آئرہ خونخوار نظروں سے زوہا کو دیکھنے لگی جو ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال گلال ہورہی تھی۔

میری منگنی نہیں ہوئی۔آئرہ نے جلدی سے کہا

ارے ارے اب کیسی پردہ داری زوہا نے ہمیں بتادیا تھا تبھی تو ہم نے سرپرائز پلان کیا۔سب نے ایک آواز میں کہا تو آئرہ کا دل کیا ابھی رو پڑے۔

یہ لو اور ایک سیلفی۔سب باری باری اُس پہ اور بالوں پہ گلٹر ڈال کر تصویریں بنانے لگے جب کی آئرہ کو لگ رہا تھا وہ کسی بھول بھلیاں میں آگئ ہو۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سکندر اسٹیشن آیا تو وہ اُس کو لگا جیسے سب لوگ اُس کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے ہیں پر اُس نے اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کیا اور کیبن میں آکر بیٹھ گیا۔

بہت بہت مبارک ہو سر۔چار کانسٹبل بڑا پھولوں کا بُکے ہاتھ میں لیے اُس کی طرف بڑھا کر مسکراکر بولے

مبارک کس بات کی اور یہ میرے لیے کیوں میری کونسا پروموشن ہوئی ہے۔سکندر حیرت سے اُن چاروں کو دیکھ کر بولا

سچی سر اب تو ہمارے ارمان بھی جاگ چُکے ہیں۔وہ چاروں گول مٹول سا جواب دے کر باہر نکل گئے سکندر پھولوں کو دیکھنے لگا کے شاید کوئی کارڈ وغیرہ ہو مگر بے سود۔ابھی کجھ ہی منٹ سے گزرے تھے جب اُس کے سینئرز اور جونیئرز بھی پھولوں کا بُکا اُس کی طرف بڑھا کر مبارکباد دے کر چلے جارہے تھے۔سکندر کو سمجھ نہیں آرہا تھا اُس کو مبارکباد کس چیز کی دی جارہی ہے اُس نے اکتاہٹ بھری نظریں کیبن میں ڈالی جو کیبن کم پھولوں کا دکان زیادہ معلوم ہورہا تھا۔ابھی وہ اُس کو اُٹھاتا کے اُس کا سیل فون بجنے لگا جو اُس نے بنا دیکھے کال اٹینڈ کرلی۔

جھوٹے

دھوکے باز

چیٹر

فروڈیاں

کم ظرف

وعدہ خلاف

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے سے ٹائم پاس کرنے کی میں ایک بات بتادو اگر تمہیں لگ رہا ہے تمہاری منگنی کا جان کر میں ٹسوے بہاؤ گی تو یہ تمہاری خام خیالی ہے میں ایسا کجھ نہیں کروں گی اور تم کیا مجھے چھوڑو گے میں خود تمہیں چھوڑ دیتی ہوں مجھے تم جیسے کم ہمت لڑکے کا ساتھ چاہیے بھی نہیں آخر تم خود کو سمجھتے کیا ہو کہی کے شہزادے گلفام ہو یا پرنس چارنس ہو جس کی جدائی میں تڑپ اُٹھوں گی۔سکندر نے جیسے ہی فون کان کے پاس کیا کانوں کے پردے پھاڑنے والی دل خراش آواز اُس کے کان میں ٹکڑائی جس پہ سکندر غصے سے موبائیل اسکرین کو گھورنے لگا جہاں حنا کا نمبر تھا حنا کا نام دیکھ کر اُس کا غصہ بھک سے اُڑا

حنا یار میری بات سنو یہ کیا باتیں کررہی ہو ایسا کجھ نہیں میں نے کوئی چیٹ نہیں کیا۔سکندر نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا

اچھا مجھے کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے تم منگنیاں کرتے پِھرو پوسٹیں لگاتے پھروں اور مجھے کہوگے یہ سب غلط ہے تو کیا میں مان جاؤں گی ایسا کجھ نہیں ہوگا سمجھے۔حنا آگ بگولا ہوئی۔

منگنی پوسٹیں کیا بول رہی ہو میں نے کوئی منگنی نہیں کی پوسٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ تو بس ابھی بات چلائی ہے موم ڈیڈ نے پر میں سمجھادوں گا اُن کو۔سکندر پریشانی سے بولا

میں اب تمہاری باتوں میں نہیں آؤں گی تم مناؤ اپنی منگنی کی خوشیاں۔حنا اتنا کہہ کر کھٹاک سے کال کاٹ گئ۔

کونسی پوسٹ؟سکندر پرسوچ انداز میں بڑبڑایا پھر یکدم اُس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔

اذہادددد۔

سکندر دانت پیس کر اذہاد کا نام لیتا فیس بُک آن کرنے لگا جہاں اُس کی آج کی پوسٹ تھی جس کا پتا اُس کو خود کو بھی نہیں تھا۔

Got engaged 💍

Feeling very happy and glad

اپنی پوسٹ جو اذہاد نے بڑی چلاکی سے لگائی تھی اُس کو دیکھ کر سکندر کا پارہ ہائے ہوا۔

آج تم میرے ہاتھوں سے زندہ نہیں بچو گے۔سکندر اپنی موبائیل پہ گرفت مضبوط کرتا تصور میں اذہاد کو مخاطب ہوا اُس کو اب سمجھ آگیا کے پھول اُس کو کیوں دیئے جارہے تھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

بہت پیاری لگ رہی ہو اسپیشلی تمہارے بالوں میں موجود یہ گلٹر۔اذہاد بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا آئرہ سے بولا جو غصے سے بھری بیٹھی تھی۔

ہم کرائم پارٹنر ہیں نہ؟آئرہ اُس کی بات نظرانداز کرکے بولی

بلکل۔اذہاد نے بنا تاخیر کیے کہا

تو اب وقت آگیا ہے کجھ کرنے کا۔آئرہ نے اُس کو دیکھ کر کہا

کیا کرنا چاہتی ہو؟اذہاد کو تجسس ہوا۔

حنا سے ملاقات تم اُس کے ساتھ ہماری میٹنگ فِکس کرو۔آئرہ نے بتایا

حنا سکندر کی ایکس گرل فرینڈ؟اذہاد بونچکار کر آئرہ کو دیکھنے لگا۔

ہاں تمہارے پاس اُس کا نمبر تو ہوگا۔آئرہ نے پوچھا۔

میرے پاس کیوں ہوگا اُس کا نمبر میں تھوڑی اپنے دوست کی گرکفرینڈ کا نمبر اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔اذہاد جذباتی ہوا۔

گھامڑ تو حاصل کرو اُس کا نمبر ہمیں ضرورت ہے۔آئرہ اُس کی عقل پہ ماتم کیے بولی

ہمیں یا تمہیں؟اذہاد تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا

مت بھولوں ہم کرائم پارٹنرز ہیں ہمارا اکیلا کا کجھ نہیں ہوگا دونوں کا ہوگا اِس لیے جو کہا ہے وہ کرو کیونکہ پھر میں بھی تمہارے کام آؤں گی۔آئرہ نے بات کے احتتام پہ اُس کو لالچ دی۔

کونسے کام؟اذہاد کا چہرہ خوشی سے کِھل اُٹھا۔

وہ تب جب تم میرا کام کرو گے۔آئرہ نے شیطانی مسکراہٹ سے کہا

وہ تو میں کردوں گا تم پریشان مت ہو سمجھو تمہارا کام ہوگیا۔اذہاد رلیکس انداز میں بولا

تمہیں میرے ساتھ رہنے ہوگا۔آئرہ نے کہا

افکورس وی آر کرائم پارٹنرز۔اذہاد آنکھ ونک کیے بولا تو آئرہ رلیکس ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *