Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain NovelR50574 Muhabbatein (Episode 10)
Rate this Novel
Muhabbatein (Episode 10)
Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain
کیا کہا تھا سکندر بھائی نے آج؟زوہا نے پاپ کارن کھاتی آئرہ سے پوچھا
وہ اب ہمارے بھائی نہیں بلکہ سر ہے اور اُن سر نے ٹھیک ٹھاک بے عزتی کرنے کے لیے بلایا تھا ۔آئرہ نے بتایا۔
تمہیں کتنا کہا تھا اسائمنٹ بنالوں پر تم کسی کی سنو تب نہ۔زوہا نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا
میں نے نہیں لکھا تو تمہیں کونسا توفیق ہوئی بہن کو لکھ کر دوں تاکہ اُس انسلٹ نہ ہو۔آئرہ نے سارا الزام اُس پہ ڈالا
اپنا بھی لکھوں تمہارا بھی لکھوں تم نے مجھے سمجھا کیا ہوا ہے میرے پاس کونسا جادو کی پینسل ہے جو میں اسائمنٹ لفظ لکھوں گی اور سارا کجھ خوبخود کام ہوجائے گا۔زوہا اُس کو گھوری سے نواز کر بولی
تو میرا دماغ کونسا جادو کا ہے جو میں اسائمنٹ بنانے کا سوچو گی اور اسائمنٹ خوبخود لکھ جائے گا۔وہ بھی آئرہ تھی جو جواب پہلے سے سوچ رکھتی تھی۔
اچھا اب میرا دماغ خراب مت کرو جب تک سکندر بھائی کا آنا جانا یونی میں ہے تم ادب سے اُن کے ساتھ پیش آؤ ایسا نہ ہو وہ ڈیڈ سے تمہاری شکایت کردے۔زوہا نے اُس کو سمجھانے کے غرض سے کہا
ایسے کیسے شکایت کردے گے اُن کو زرہ شرم نہیں آئے گی۔آئرہ ہتھے سے اُکھڑ گئ۔
افففف آئرہ تم لاعلاج ہو۔زوہا اپنے سر ہاتھ مارتی اُس کے کمرے سے باہر چلی گئ۔
انسان لاعلاج نہیں ہوتا ڈیئر سسٹر۔آئرہ نے پیچھے سے ہانک لگائی۔





کونسی بات کرنی ہے تم نے جس کو سننے کے لیے مجھے انتظار کی سولی پہ لٹکایا ہے ۔سکندر بیزار کن نظروں سے ازہاد کو دیکھتا بولا
بتاتا ہوں پر تھوڑا شرمانے تو دو۔اذہاد شرمانے کی ناکام کوشش کرتا بولا
ایسی بھی کیا بات ہے جس کو بتاتے ہوئے تمہیں شرم کے دورے پڑرہے ہیں؟سکندر نے جل کے کہا
وہ والی شرم نہیں دوسری والی شرم آرہی ہے۔اذہاد جلدی جلدی میں بولا
بتا بھی چکو اب۔
بتاتا ہوں تھوڑا پیشنس تھوڑا تحمل تھوڑا صبر تھوڑا انتظار۔اذہاد اُس کو زچ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
اوکے تم یہاں بیٹھ کر شرماؤ میں جارہا ہوں کیونکہ میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو تمہاری بے تکی باتیں سنوں۔سکندر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
ارے ارے رکو تو بیٹھو تو میں بتاتا ہوں اصل میں تمہارے دوست یعنی مجھے محبت ہوگئ ہے۔اذہاد تھوڑا شرما کر بولا
سیریسلی۔سکندر کو جیسے یقین نہیں آیا
اور نہیں تو کیا میں مذاق کررہا ہوں میرا یوں شرمانا گھبرانا تمہیں سمجھ نہیں آرہا؟اذہاد گھور کر بولا
یہ جو تمہارا شرمانا اور گھبرانا ہے نہ اِس کو ذرہ سائیڈ پہ کروں کیونکہ یہ کام لڑکیوں کے ہوتے ہیں لڑکوں کے نہیں۔سکندر نے طنزیہ کیا۔
تم جیسے مرد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زمانے بھر کے مرد بے شرم نام سے مشہور ہیں کیونکہ اُن کو بدنام کرنے والے تم ہوتے ہو۔اذہاد جذباتی ہوا۔
فضول مت بولو یہ بتاؤ کون ہے وہ لڑکی؟سکندر نے پوچھا تو اذہاد نے تھوک نگلا۔
شادی کروں گا تو ہوجائے گا پتا تمہیں۔اذہاد نے ٹالنے والے انداز میں کہا
جب پیار ہوجانے کا بتادیا ہے تو یہ بتانے میں کیا حرج ہے کے وہ لڑکی کون ہے؟سکندر کو تعجب ہوا۔
سرپرائز ہے۔اذہاد دانتوں کی نمائش کرتا بولا۔
اِس کا مطلب تم نہیں بتانے والے؟سکندر نے کنفرم کرنا چاہا۔
نہیں اگر بتادیا تو ڈر ہے کے وہ شادی سے پہلے بیوہ نہ ہوجائے۔اذہاد معصوم شکل بنائے بولا
میں پاگل ہوں جو تمہارے کہنے پہ آگیا اگر مجھے پتا ہوتا تم ایسی باتیں کرنے والے ہو تو میں کبھی نہ آتا۔سکندر افسوس سے بولا
تمہارے نزدیک میرے جذبات کی کوئی ویلیو نہیں میں نے اتنی بڑی بات سب سے پہلے تمہارے ساتھ شیئر کی ہے اور تم ایسے برتاؤ کررہے ہو؟اذہاد مصنوعی افسوس سے بولا
نام بتاؤ لڑکی کا؟سکندر مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
پہلے واعدا کرو تمہاری غیرت نہیں جاگے گی؟اذہاد نے کہا
تم نام بتاؤ میں نے اپنی غیرت کو کبھی سُونے نہیں دیا۔سکندر سکون سے اُس کو بے سکون کرگیا۔
اب تم مجھے ڈرا رہے ہو۔اذہاد احتجاجاً بولا
میں بس بتارہا ہوں۔سکندر نے کندھے اُچکائے
زوہا نام ہے اُس کا۔اذہاد یہ کہتا جلدی آنکھوں کو بند کرگیا۔
زوہا کون؟سکندر کے ماتھے پہ بل پڑے
تیری بہن۔اذہاد اتنا کہتا بھاگنے ہی والا تھا جب سکندر اُس کے سامنے آگیا۔
سالے
میں نہیں توں میرا سالہ۔اذہاد اُس کی بات درمیان میں اچکتا بولا
تیری تو۔سکندر یہاں وہاں دیکھتا گلدان ہاتھ میں پکڑلیا
اوے کیا پاگل ہوگئے ہو؟اذہاد کی سٹی گم ہوئی سکندر کے ہاتھ میں گلدان ہوگئے
تم میری کزن پہ اپنی نظر ڈالے بیٹھے ہو اور کہتے ہو میں پاگل ہوگیا ہوں۔سکندر گلدان اُس کی طرف پھینک کر بولا
نہیں یار محبت کرنے لگا ہوں اُس سے تو اب ویلن نہ بنے۔اذہاد جلدی سے نیچے جھک کر بولا
کب سے چل رہا ہے یہ سب؟سکندر جاچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
جب اُس کو دیکھا آنکھیں پلٹنے سے انکاری ہوئی دل کی دھڑکنیں عجیب ہوگئ میں نے سوچا ایسا کیوں ہورہا ہے تو دل سے آواز آئی ہونا تھا پیار ہوا میرے یار۔ اذہاد فل ڈرامائی انداز میں بولا تو سکندر نے ایک ٹھوکا اُس کی کمر پہ جڑدیا
بہت ظالما ہو۔ اذہاد اپنی کمر سہلاتا بولا
کمینے میری جنس خراب مت کرو۔ سکندر ظالم کے بجائے ظالمہ سن کر تڑپ اُٹھا۔
منہ سے نگل گیا۔ اذہاد ہنس کر بولا
یہ بتاؤ سیریس ہو اُس کے لیے؟سکندر نے پوچھا
خود سے زیادہ تمہیں یقین نہیں آتا تو لے آؤ اُسے اور مولوی صاحب کو میں نکاح کرنے پہ تیار ہوں۔اذہاد نے جھٹ سے کہا
بہت بے صبرے ہو انتظار کرو جب تک اُس کی اسٹڈی مکمل نہیں ہوجاتی۔سکندر نے کہا
میری تو ہوگئ ہے بس آدھا سال رہتا ہے وہ شادی کے بعد پڑھ لے مجھے کوئی ایشو نہیں۔اذہاد نے اپنی طرف سے خوشدلی کا مظاہرہ کیا
مہربانی تمہاری ماما جان نہیں مانے اور تم ذرہ تھم کے رہو زوہا سے ایسی ویسی کوئی بات مت کرنا وہ آئرہ سے کرے گی پھر تمہیں پتا نہیں آئرہ کا پورے شہر میں تمہاری محبت کے چرچے ہوگے۔سکندر اُس کی عقل پہ ماتم کناں ہوا۔
کیا سچ میں میری محبت کے چرچے ہوگے پھر تو میں یہ والا گانا گاؤ گا تیرے میرے پیار کے چرچے ہیں بازار میں۔اذہاد سکندر کی بات پہ کِھل اُٹھا۔
اذہاد تمہارا کوئی علاج نہیں اگر تم ایسے رہے اور ایسی باتیں تم نے ماما جان سے کی تو وہ تمہاری شادی کبھی زوہا سے نہیں ہونے دیگے کیونکہ تم ایک نان سیریس انسان ہو۔ سکندر اپنے غصے کو ضبط کرتا بولا
شکر تم نے نانسینس نہیں بولا اور کیا خرابی ہے میری باتوں میں۔ اذہاد منہ بناکر بولا
نان سیریس کا مطلب نہیں پتا تمہیں تم ایسی باتیں کروگے تو ہنسے گے وہ تمہیں۔سکندر نے بتایا پر اذہاد تو کجھ اور یہ سوچ رہا تھا
مطلب میری باتیں لوگوں کے چہرے پہ مسکراہٹ لاتی ہیں تو گؐڈ ہوگیا اب تو میں ایسی باتیں کروں گا دیکھنا پہلی ملاقات میں ہی ایمپریس ہوجائے گے ویسے بھی ماں باپ چاہتے ہیں کے ان کی بیٹی کی جس سے شادی ہو وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہے۔ اذہاد سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دیتا بولا
تمہاری باتوں سے مامی جان ایمپریس ہوسکتی ہیں پر ماما جان ہوگے یہ تمہاری بھول ہیں۔ سکندر نے دانت پیس کر کہا
مامی جان مطلب میری ساسوں ماں وہ ایمپریس ہوگی تو اور اچھی بات ہے ویسے بھی آجکل عورتوں کی حکومت ہوتی ہے۔ اذہاد ابنا کسی بات کا اثرلیے بولا تو سکندر بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔
