Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbatein (Episode 15)

Muhabbatein Season 3 by Rimsha Hussain

آئرہ کو ہوش کیوں نہیں آرہا سکندر بھائی؟زوہا سکندر کے ساتھ آئرہ کو لیتی ہسپتال آئی تھی ڈاکٹر نے تو اُس کی حالت ٹھیک بتائی تھی پر اُس کو آنکھیں نہ کھولتا دیکھ کر زوہا کو تفتیش ہوئی جبھی سکندر سے پوچھا

پتا نہیں تم بیٹھو یہاں میں آتا ہوں۔سکندر کا فون رنگ کرنے لگا تو وہ اتنا کہتا روم سے باہر نکل گیا اُس کے جانے کا یقین کرتے زوہا نے زوردار تھپڑ آئرہ کے بازوں پہ جڑا

ہائے اللہ ظالمہ کیا ہوگیا ہے۔آئرہ پٹ سے آنکھیں کھولتی اپنا بازوں سہلاکر بولی

یہ تو مجھے تم بتاؤ ڈرامہ کوئین یہ بے ہوشی کا دورہ کیوں پڑا تمہیں۔زوہا نے طنزیہ پوچھا

میں سچ میں بے ہوش ہوگئ تھی۔آئرہ نے گڑبڑا کر کہا

اتنی بھی تم نازک کلی نہیں جو پیٹ بھر کر ناشتہ کرنے کے بعد بھی گِرتی پھرو یا بے ہوش ہوجاؤ۔زوہا اُس کی بات پہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہوئی۔

تمہاری جیسی کمینی بہن اللہ دشمن کو بھی نہ دے۔آئرہ تاسف سے اُس کو گھور کر بولی

اور تمہاری طرح ڈرامے باز بھی۔زوہا نے حساب برابر کیا۔

دفع ہو یہاں سے۔آئرہ نے باہر کی طرف اِشارہ کیا۔

پہلے تم مجھے بتاتی ہو یا نہیں ورنہ میں سکندر بھائی کو آواز دوں گی۔زوہا نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا

سکندر بھائی جو میرے پہ دھماکے پہ دھماکے کررہے تھے اگر میں بیہوشی کا ناٹک نہ کرتی تو ہرٹ اٹیک آجانا تھا پھر میں آے سی یو میں ہوتی میرا بائے پاس ہورہا ہوتا۔آئرہ ہاتھ کھڑے کیے بتانے لگی۔

کیا فضول بولے جارہی ہو اصل بات پہ آؤ۔زوہا کو اُس کی باتیں سمجھ میں نہیں۔

انہوں نے کہا ڈیڈ سے کہے کے وہ میری ساری ایکٹویٹی پہ بینڈ لگالیں میرے کمرے سے ٹی وی اُتارے لاوٴنج میں مجھے کوئی سیریل نہ دیکھنے دے تم بتاؤ ود آؤٹ ٹی وی ود آؤٹ اینی ایکٹویٹی کے بنا جینا بھی کوئی جینا ہوا اور تو اور کہا میرے لیے ٹیوٹر بھی ہو امی سے کہے گے میری تین ماہ کی پاکٹ منی بند کرے تمہیں اندازہ نہیں میں نے یہ سب باتیں کس دل سے سُنی ہے وہ تو اللہ نے دل مضبوط دیا ہے ورنہ میں قبر میں ہوتی ڈیڈ اور تمہارا یہ سکندر بھائی نمازِ جنازہ پڑھ رہے ہوتے تم میرے پہ قرآن بخشش کررہی ہوتی

بس بھی کرو اور کتنی باتیں بناؤں گی۔زوہا نے اُس کو نان اسٹاپ بولتے دیکھا تو ٹوکا

کیا ہے میں تمہیں اپنی درد بھری داستان سُنا رہی ہو اور تمہارے مزاج ہی نہیں مل رہے۔ آئرہ کو اپنی بات ادھوری رہنے کا افسوس ہوا۔

تم

زوہا اُس سے پہلے اپنی بات مکمل کرتی سکندر اندر داخل ہوا اُس کو دیکھ کر آئرہ نے ایسی شکل بنائی جیسے جانے کتنی صدیوں سے بیمار ہو۔

کیسی طبیعت ہے تمہاری؟ سکندر نے سنجیدگی سے پوچھا

آپ کے آنے سے پہلے بہتر تھی۔ آئرہ نے جلدبازی میں کہا تو زوہا نے اُس کے بازوں پہ چٹکی کاٹی

میرا مطلب ہے کے آپ کی وجہ سے اب میں بہتر ہوں آپ کا شکریہ مجھے ہسپتال لیکر آئے۔ آئرہ کھاجانے والی نظروں سے زوہا کو دیکھتی سکندر سے بولی

ہمم ڈاکٹر نے بتایا تمہیں کجھ خاص ہوا نہیں اِس لیے اُٹھو تم دونوں کو گھر ڈراب کردوں۔ سکندر نے کہا

ابھی سے کیوں مجھے کمزور محسوس ہورہی ہے سر میں چکر آرہے ہیں۔ آئرہ نے اپنی آواز دھیمی کرکے بتایا اُس کا انداز دیکھ کر زوہا عش عش کر اُٹھی جو معصومیت کے رکارڈ توڑ رہی تھی۔

اچھا ایسی بات ہے میں کسی نرس سے کہتا ہوں تمہیں گلوکوز کی ڈرب لگائے اور کجھ انجیکشنز بھی۔ سکندر اُس کی بات پہ مصنوعی فکرمندی سے بولا

ارے نہیں نہیں اتنے خرچے کی کیا بات ہے ایک دو دن یہاں ایڈمٹ رہوں گی تو خودبخود ٹھیک ہوجاؤ گی۔انجیکشن کا نام سن کر آئرہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ۔

تو کیا ہسپتال کا دو دن بستر توڑو گی تو وہ مفت میں ہوگا۔ سکندر طنزیہ کرنے سے باز نہیں آیا۔

تو آپ انجیکشن کا نام ایسے لے رہے ہیں جیسے دکان سے تین چار ٹافیاں لانی ہو۔ آئرہ نے منہ بگاڑ کر کہا۔

مانا کے ڈرامے بہت دیکھتی ہو پر اِس کا یہ مطلب نہیں جو کجھ اُن سے سیکھا ہے سارا ایک دن میں کرکے دیکھاؤ۔سکندر نے آنکھیں دیکھائی

آپ جائے میں آتی ہوں۔آئرہ بالآخر ہار مان لی۔

گُڈ فار یو۔سکندر ایک نظر دونوں پہ ڈالتا باہر نکل گیا۔

اور کرلوں ڈرامے۔ سکندر کے جانے کے بعد زوہا نے کہا

بکو مت میری مدد کرو ویکنس ہو رہی ہے۔ آئرہ انگڑائی لیتی بولی

تمہاری ویکنس تو میں ایک چٹکی میں نکالتی ہوں مت بھولو میں تمہاری بہن ہو اور تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں۔زوہا نے ایک تھپڑ اُس کی پشت پہ مارا

تمہارے جیسی بہنیں ہوتی ہیں جو انسان کو دشمنوں کی کمی محسوس نہیں ہوتی اور یہ تمہارے ہاتھ آج کجھ زیادہ نہیں چل رہے میری شرافت کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ۔آئرہ اُس کے سامنے کھڑی ہوتی دانت پیس کر بولی

اچھا اچھا اب چلو باہر۔زوہا نے جان چھڑائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا دل نہیں مانتا اِس رشتے سے۔ سکندر جیسے ہی گھر پہنچا عبیر کی آواز سن کر اُس نے اپنے قدم روک لیے۔

تمہارا دل کیوں نہیں مان رہا شادی تو اُس نے کرنی ہے اگر وہ خوش ہے تو ہمہیں بھی خوشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تبریز نے اخبار فولڈ کیے جواب دیا

میں نے آئرہ کا سوچا تھا کتنے اچھے لگتے ساتھ۔ عبیر حسرت بھرے لہجے میں بولی پلر کے پاس کھڑا سکندر آئرہ کے نام پہ لاحول پڑھنے لگا

بلکل ٹوم اینڈ جیری کا نیو ورژن لگتے۔ تبریز نے بڑے سنجیدہ انداز میں غیرسنجیدہ بات کہی۔

میں سیریس ہوں اور ایک آپ ہیں جن کو مذاق سوجھ رہا ہے۔ عبیر بُرا مان کر بولی

یقین کرو میں تمہاری سوچ سے زیادہ سنجیدہ ہوں پر تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے تم مذاق کے موڈ ہو مطلب حد کرتی ہوں سکندر اور آئرہ جو کوئی موقع نہیں چھوڑتے ایک دوسرے پہ گولا بالی برسانے کے لیے اور تم چاہتی ہو ان کی شادی ہوجائے حد کرتی ہو دماغ اپنے بھائی کی طرح کھسک گیا ہے تمہارا بھی۔ تبریز نفی میں سر کو جنبش دیتے دوبارہ سے اخبار کھولنے لگا جب کی سکندر چپک سے اپنے کمرے میں جانے کے بجائے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

عماد کا یہاں کیا ذکر آپ کو تو بس بہانا چاہیے ہوتا ہے میرے گھروالوں کے خلاف تیر برسانے کے لیے۔ عبیر روہانسی ہوئی۔

میں ایسا کجھ نہیں کرتا میں بس یہ چاہتا ہوں اگر تم گھر میں امن شانتی سکون چاہتی ہو تو آئرہ کو بہوں بنانے کا خیال دماغ سے نکال دو۔ تبریز سنجیدہ تھا۔

ابھی بچی ہے نادان ہے بعد میں میچیور ہوجائے گی اِس میں کونسی بڑی بات ہے۔ عبیر نے آئرہ کا دفاع کیا۔

تمہاری وہ کزن بھی نادان معصوم تھی نہ اُس میں میچیورٹی آئی ہے جو تم اُس کی بیٹی میں میچیورٹی کی اُمیدین لگائے بیٹھی ہو۔ تبریز نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

اب آپ زیادتی کررہے ہیں۔ عبیر نے وارن کیا۔

میں کجھ نہیں کررہا تم بس تیاری کرو اپنے گھر میں سے بھی کہہ دو اگر ساتھ آنا چاہے تو۔ تبریز نے موضوع بدل ڈالا

ہاں میں نے کال کی تھی عماد شہر سے باہر ہے معصومہ کو گھر میں کام ہے اِس لیے وہ نہیں آئے پائے گے۔ عبیر نے بتایا

ان کے لیے نہیں کہا تھا انکل عباد اور آنٹی سوہا کی بات کررہا ہوں۔ تبریز نے جلدی سے کہا

اچھا وہ دراصل خالہ جان نے کہا اُن کو کہی جانا تھا۔عبیر نے بتایا

توبہ ہے ٹھیک اپنی بھتیجیوں کو ساتھ لے چلنا ورنہ مجھے الزام دو گی۔ تبریز نے کہا تو عبیر نے سر کو جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہاہاہاہا افففف اللہ توبہ سکندر ویڈز آئرہ او ایم جی جوک آف دا ڈے۔ سکندر نے جیسے ہی اذہاد کو اپنے ماں کے خیالات بتائے تب سے وہ ہنس ہنس کر اُس کا مذاق اُڑائے جارہا تھا۔

بس کر جا کمینے۔ سکندر تپ کے اُس کے اوپر کشن پھینکتا بولا

نہیں یار مطلب سوچنے کی بات ہے تم امیجن کرو جیسا تمہاری ماں چاہتی ہے اگر ویسا ہوجائے تو تم دونوں کا فیوچر کیسا ہوگا۔اذہاد پرسوچ انداز اپناکر بولا

تم ہی سوچو یہ سب۔ سکندر جل کے بولا

میں نے تو کرلیا ہے امیجن اور پتا ہے مجھے کیا نظر آرہا ہے مجھے یہ نظر آرہا ہے کے تمہارے بال آئرہ کے ہاتھ میں اور آئرہ کے بال تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اذہاد اتنا کہتا پھر سے قہقہقہ لگانے لگا۔

میں سیریس ہوں یار مطلب زوہا کی بات ہوتی تو الگ بات ہے میں کرلیتا اُس سے شادی مگر آئرہ اففف سوچنا ہی عجیب لگ رہا ہے۔ سکندر کی بے دھیانی میں کہی بات پہ اذہاد کا قہقہقہ یکدم بند ہوا۔

بے غیرت تجھے شرم نہیں آرہی اپنے دوست کی محبت پہ نظر ڈالتے ہوئے۔ اذہاد لڑاکا انداز میں بولا

اور تجھے شرم نہیں آئی تھی اپنے دوست کی عزت پہ نظر ڈالتے ہوئے۔سکندر نے حساب بے باک کیا تو وہ گڑبڑا گیا

مجھے کیا پتا تھا وہ تمہاری کزن ہے۔ اذہاد نے جلدی سے کہا

پتا ہو بھی جاتا تو تم پہ کونسا کوئی اثر ہونا تھا۔ سکندر نے طنزیہ کیا

بات تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اذہاد نے کہا تو سکندر نے نفی میں سر کو جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ گھر میں کون اسکیٹنگ شوز پہن کر گھومتا ہے۔ معصومہ نے آئرہ کو اسکیٹنگ شوز پہن کر یہاں وہاں چکر لگاتا دیکھا تو تپ کے بولی۔

آئرہ عماد کرتی ہے کیونکہ وہ یونیک ہے اِس لیے وہ کام بھی یونیک کرتی ہے سادہ لفظوں میں یہ آپ یہ سمجھ لے جہاں لوگوں کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں میری سوچ شروع ہوتی ہے۔ آئرہ ایک ادا سے کہتی چلی گئ۔ پیچھے معصومہ حیرت سے اُس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔

دُنیا جہاں کی نکمی اولاد میرے حصے میں ہی آنی تھی۔ معصومہ جل بھن کے بولی جو اُس کے پاس گُزرتی سوہا نے باخوبی سن لیا

افسوس نہ کرو میری اولاد اِس سے زیادہ نکمی تھی۔ سوہا ہمدردرانہ انداز میں کہتی سیڑھیاں اُترنے لگی۔

اچھا۔ معصومہ بنا اُس کی بات کا مطلب سمجھ کے بولی پھر اچانک بات سمجھ آنے پر چونک پڑی۔

قدر نہیں آپ کو حد ہے اتنی فرمانبردار نیک اور صالح اولاد کو نکمی نام دے رہی ہے۔ معصومہ نے پیچھے سے ہانک لگائی جو سوہا سن کر اٙن سنی کرگئ۔ معصومہ بھی سرجھٹک کر لاؤنج میں آئی جہاں زوہا کتابوں میں سر دیئے ہوئے تھی جب کی آئرہ اب چپس کھانے میں مصروف تھی۔

کل عبیر کی طرف کون جائے گا تم دونوں میں سے۔ معصومہ نے دونوں سے پوچھا۔

میں۔ آئرہ پرجوش آواز میں بولی

مجھے تو نوٹس بنانے ہیں کل اُتوار ہے تو۔ زوہا نے انکار کیا۔

ٹھیک ہے پر وہاں تم ادب سے بیٹھنا زیادہ بول چال بھی مت کرنا۔ معصومہ نے آئرہ کو سمجھایا

میں کیوں اِن چیزوں کا خیال کروں اِن سب کا تو سکندر بھائی کو خیال کرنا چاہیے کیونکہ رشتہ اُن کا دیکھنے جارہے ہیں میرا نہیں۔ آئرہ نے تعجب سے کہا

تمہاری اِنہی فضول گوئی کی وجہ سے میں نے عبیر سے تمہاری بات نہ کی اور ہیرے جیسا سکندر نکل گیا۔ معصومہ اُس کی بات سن کر ماتھا پیٹ کر بولی تو آئرہ کو اُس دن سُنی باتیں یاد آگئ۔

کیا پتا پھوپھو اور پھوپھا جان کو رشتہ پسند نہ آئے۔ زوہا نے سرسری لہجے میں کہا تو آئرہ اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو کم سے کم بات ہی اچھی کرلے۔ آئرہ جل کے بولی تو زوہا کا منہ بن گیا۔

کیا ہی بات ہوجائے اگر ایسا ہوجائے تو۔ معصومہ حسرت سے بولی تو آئرہ اپنے دماغ کے گھوڑے ڈورانے لگی پھر کسی خیال کے تحت بولی۔

میں نے سوچ لیا ہے میں ایل ایل بی کروں گی۔آئرہ نے معصومہ پہ بم گِرایا زوہا کو آئرہ کی دماغی حالت پہ شک گُزرا۔

ایل ایل بی کا فل فارم پتا ہے۔معصومہ نے طنزیہ کیا اُن کی باتوں کا موضوع بدل گیا تھا سکندر سے ہٹ کر آئرہ پہ آگیا۔

نہیں پتا تو ایل ایل بی کرنے وقت لگ جائے گا پتا اِس میں کونسی بڑی بات ہے۔آئرہ نے ناک میں سے مکھی اُڑائی۔

تمہارا ایم بی اے میں ایڈمیشن ہوگیا ہے پھر یہ ایل ایل بھی کی کہاں سے سوجھی۔معصومہ تپ کے بولی۔

میں آپ کی بیٹی ہوں۔

تو۔معصومہ نے گھورا

تو جب آپ کو ایم بی اے مشکل لگتا تھا تو میں کیسے کرسکتی ہوں میں بھی تو آپ کی بیٹی ہوں بیٹی ماں کا عکس ہوتی ہے۔آئرہ ہاتھ جہاڑ کر بڑی دلیل پیش کی۔اُس کی بات پہ زوہا نے نفی میں سرہلایا کیونکہ وہ اپنی شامت بلواچُکی تھی۔

میری بیٹی آسان سا ایم اے نہیں کرسکتی پر ایل ایل بی کرسکتی ہے۔معصومہ نے میٹھا سا طنِزیہ کیا۔جس پہ آئرہ گڑبڑائی۔

اُمید پہ دنیا قائم ہے اُمید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔آئرہ مضبوط لہجے میں بولی تو معصومہ کا فون رِنگ کرنے لگا۔

تمہیں تو میں واپس آکر دیکھتی ہوں ابھی کام ہے۔معصومہ اپنا سیل فون دیکھتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

یہ تم امی سے کیا بولی۔معصومہ کے جانے کے بعد زوہا آئرہ کے قریب بیٹھتی ہوئی بولی۔

بس میری بہن میں نے سوچ لیا ہے جب تک مقدر وقت کے سکندر کی شادی نہیں ہوجاتی مینوں بس پڑھنا ہے اور پڑھتے ہی جانا ہے چاہے پھر میرے بالوں میں چاندی ہی کیوں نہ آجائے۔آئرہ ہاتھ کھڑے کیے پرعزم لہجے میں بولی۔

ہاں واقع جب تک تم ایل ایل بی پاس کروں گی تب تک سکندر بھائی کے بچوں کے بالوں میں بھی چاندی آجائے گی پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں تم سے ایل ایل بی ہوگا بھی یا نہیں۔زوہا آئرہ کی بات سننے کے بعد جانے کیا بول گئ اُس کو خود بھی احساس نہیں ہوا پتا تک چلا جب آئرہ نے اُس پہ تکیوں کی برسات کردی۔

تمہیں میں اتنی نکمی لگتی ہوں۔ آئرہ صوفے سے کشن اُٹھاتی اُس پہ پھینک کر بولی۔

تم نے بات کی تو میں نے بھی اپنی جسٹ رائے پیش کی۔ زوہا اُس کے ہاتھ سے کشن کھینچتی بولی۔

جو بھی پر میں نے سوچ لیا ہے اب بس پڑھائی کرنی ہے ورنہ امی نے میری شادی کروا دینی ہے مجھے اُن کے اِرادے کجھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ آئرہ ہاتھ کھڑے کیے بولی۔

ایک تمہاری ماں تھی جو پڑھائی سے بچنے کے لیے شادی کرنا چاہتی تھی اور ایک تم ہو جو شادی سے بچنے کے لیے پڑھائی کرنا چاہتی ہو۔ سوہا کی آواز پہ وہ دونوں چونک پڑی۔

کیا امی پڑھائی سے بچنے کے لیے شادی کرنا چاہتی تھی۔ آئرہ متجسس لہجے میں کہتی سوہا کے پاس ہوئی۔

بلکل اسکول،کالج ،یونیورسٹی، اور کتابوں کے نام سے اُس کی جان نکلتی تھی۔ سوہا نے بتایا

پھر آپ اپنا بتائے آپ نے شادی کیوں کی تھی؟آئرہ نے شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

مجھے تو شوق چڑھا تھا شادی رچانے کا۔ سوہا نے تپ کے کہا

پلیز نانو بتائے نہ۔ اب کی زوہا نے پوچھا

میری زندگی میں تم دونوں کے نانا تھے کزن کی حیثیت سے جو قسم کھا کر پیدا ہوئے تھے مجھے پڑھانا ہے اور پڑھاتے ہی جانا ہے چاہے پھر میں شادی سے بچتی یا پڑھائی سے انہوں نے پھر بھی گھر میں بیٹھ کر مجھے پڑھانا تھا۔ سوہا نے بڑی سنجیدگی سے بتایا

ہائے اصل ظلم تو آپ کے ساتھ ہوا تھا۔ آئرہ رحم بھری نظروں سے سوہا کو دیکھ کر کہا جس پہ اُس نے ہاں میں سرہلایا جب کی زوہا نے آنکھیں گھمائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *