Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ناول کن فیکون
تحریر آمنہ گل
الہام نے فون کرکے ابوبکر کو بتایا تھا۔ ابوبکر حرا اور عائشہ بیگم کو لے کر تھوڑی دیر میں پہنچ چکے تھا جبکہ عالم شبیر وہاں سے ہی ہسپتال چلے گئے تھے۔ ماں اور بھائی کو دیکھ کر بھی ضبط نا ٹوٹا تھا ، ویران آنکھیں لیے وہ خاموش تھی جبکہ حرا بچوں کو وہاں سے لے گئی تھی۔ عائشہ بیگم جہانداد کی والدہ کو سنبھالے ہوۓ تھیں ، جو شدید رو رہیں تھیں۔ بچوں کو حرا کے پاس چھوڑ کر سب ابوبکر کے ساتھ ہسپتال پہنچے تھے۔ جہاں کچھ دیر پہلے ہی جہانداد کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تھا۔ ڈاکٹرز نے دعا کرنے کے لیے کہا تھا۔ سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ، شاہ میر ماں کی گود میں سر رکھے آنسو بہا رہا تھا ، کون کہتا ہے مرد نہیں روتا ، مرد بھی روتا ہے جب بات جان سے پیارے رشتوں کی آتی ہے۔ عائشہ بیگم مسلسل تسبیح کر رہیں تھیں ، جبکہ ایک طرف جہانداد کے والد گہری سوچوں میں بیٹھے تھے ، عالم شبیر ان کے ساتھ بیٹھے تھے ، ہر شخص ہی جیسے اپنی الگ دنیا بساۓ بیٹھا تھا ، جو کسی خوف پہ مبنی تھی۔ ابوبکر الہام کے ساتھ بیٹھا تھا۔
” وہ ٹھیک ہو جاۓ گا ، وہ فائیٹر ہے ۔” ابوبکر نے آہستہ سے الہام کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے کہا تھا۔
” مجھے اللہ پہ پورا یقین ہے ایسا ہی ہو گا ،” اپنا سر ابوبکر کے کندھے پہ رکھتے بھیگی آواز میں جواب دیا تھا ، ابوبکر نے اسے دیکھا تھا جو آنکھیں بند کیے اس کے کندھے پہ سر رکھے کچھ پڑھ رہی تھی۔ وہ کچھ نہیں بولا تھا۔ جب الہام کی آواز آئی تھی۔
” پتا ہے بھائی ، ان ہسپتال کی دیواروں نے مسجد ، مندر اور چرچ کی دیواروں سے زیادہ دعائیں سنی ہوں گی مگر اسی دعا پہ کن فیکون کہا گیا ہو گا جو یقین کے ساتھ کی گئی ہو گی، آپ کا یقین کامل ہونا چاہے ، صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ہوتا ، اللہ کے ٹیسٹ کو پاس بھی کرنا ہوتاہے، اور اللہ یقین کو پرکھنے کے لیے آپ کو مشکل کے دہانے تک لے جاتا ہے جیسے موسیؑ جب دہانے پہ پہنچے تبھی سمندر نے راستہ بنایا ، ابراہیمؑ آگ میں گود گئے تب ٹھنڈی ہوئی ایسا نہیں ہوا تھا کہ پہلے ہی اس کی تپش ختم ہوگئی تھی ، تو جو امتحان میں پاس ہوجاتے ہیں انھیں کے لیے راستے بناۓ جاتے ہیں ، میں بھی دہانے پہ ہوں ، یقین چھوڑ دوں گی تو فیل ہوجاؤں گی ، اور مجھے فیل نہیں ہونا ہے ، مجھے اللہ پہ یقین کے اس ٹیسٹ کو پاس کرنا ہے مجھے اسے بتانا ہے کہ مجھے اس پہ کامل یقین ہے۔” الہام نے آنکھیں بند کیے ہی یہ باتیں ابوبکر سے کیں تھیں ، اور ابوبکر حیرانی سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھ رہا تھا۔ وہ سمجھ داد تو پہلے بھی تھی ، اب مضبوط بھی ہوگئی تھی۔
” اور مجھے یقین ہے اللہ تمہیں کبھی اس امتحان میں فیل نہیں ہونے دے گا۔” ابوبکر نے یہ کہتے اس کے سر پہ پیار کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت تو حیسے گزر ہی نہیں رہا تھا و، اندر کی صورتحال سے سب بے خبر تھے ، البتہ سب کی دعاؤں میں مزید شدت آگئی تھی۔ ابو بکر نے کوشش کی تھی کہ سب زیادہ کچھ نہیں تو چاۓ پی لیں مگر کسی نے حامی نہیں بھری تھی۔ سب دروازے پہ نظریں جماۓ تھے۔ تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد ڈاکٹر باہر آۓ تھے ڈاکٹر جہانداد کے والد کی طرف بڑھے تھے۔
“اللہ کے کرم سے آپریشن کامیاب رہا ، گولی کندھے پہ لگی ہے جس کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا ، گولی نکل لی گئی ہیں ، اب وہ خطرے سے باہر ہیں ، جلدی ہوش میں آ جائیں گے۔” ڈاکٹر نے نہایت احترام سے ان کو آگاہ کیا تھا کیونکہ وہ سرجری سے پہلے ان سے مل چکے تھے ۔ ڈاکٹر کے الفاظ جیسے سب کی جان میں جان آئی تھی۔ جہانداد کی والدہ نے عائشہ بیگم کو گلے لگایا تھا ، جبکہ شاہ میر ابوبکر کے گلے لگا تھا۔ اور الہام کے آنسو نہیں تھم رہے تھے ، وہ پاس ہوگئی یقین کے امتحان میں۔۔۔۔۔۔
” بہت شکریہ ڈاکٹر ، کیا ہم مل سکتے ہیں۔” ان کے چہرے پہ جیسے سکون اترا تھا۔
” ایک ایک کرکے ، فلحال پیشنٹ کو آرام کی سخت ضرورت ہے ۔” ڈاکٹر یہ کہہ کر چلے گئے تھے ، اور وہ عالم شبیر کے گلے لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد کو ہوش میں آنے کے بعد روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ سب باری باری اس سے ملے تھے۔ وہ اب بھی دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں تھا۔ اس لیے کوئی اس سے بات نہیں کر پایا تھا۔ رات ہونے کے باعث ابوبکر اور شاہ میر نے سب کو زبردستی واپس بھیج دیا تھا ، اور خود اس کے پاس روکے تھے ، الہام نے جاتے ہوۓ ان دونوں کو سختی سے کھانا کھانے کی ہدایت کی تھی۔
” آپ کے شوہر نے جس حساب سے آج مجھے رولایا ہے نا ، میں تو پانچ چھ برگر آسانی سے کھا لوں گا۔ ” شاہ میر نے الہام کے پیچھے سے کہا تھا ، جس پہ ابوبکر ہنسا تھا۔
” ہاں آپ کے تو کچھ لگتے ہی نہیں نا صرف میرے شوہر ہیں۔” الہام پیچھے موڑ کر مسکرا کر جواب دیتے ہوۓ پھر آگے موڑ کر چلنے لگی تھی ، باقی سب اس سے آگے چل رہے تھے۔
” اچھا شاہ میر تم اندر جاؤ ، میں ان کو باہر تک چھوڑ کر کچھ کھانے کو بھی لے آتا۔” ابوبکر شاہ میر سے کہہ کر سب کے پیچھے گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بیٹھےسینڈوچ کھا رہے تھے ، جب جہانداد بیدار ہوا تھا ، آنکھیں کھول کر حیرانگی سے اس نے آس پاس دیکھا تھا۔ سامنے بیٹھے دو لوگوں کو سوالیہ نظروں سے اس نے دیکھا تھا ، جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
” اٹھ گئے میرے شیر ، گولی بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ پائی۔” شاہ میر بھائی کو کہتے اٹھ کر پاس آیا تھا ،” اور دیکھیں سامنے بیٹھے انسان کو آپ یہاں بستر پہ اور وہ کھانا کھا رہے۔” شاہ میر نے ابوبکر کی طرف دیکھ کر مصنوعی غصہ دیکھایا تھا۔ ابوبکر نے سامنے پڑے سینڈوچ دیکھے تھے۔ اور پھر سے شاہ میر کو دیکھا تھا جو چند گھنٹے پہلے ماں کی گود میں سر رکھے کسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہا تھا، ابوبکر مسکرایا تھا۔
” بیٹا یہ چھ تم نے کھاۓ ہیں ، میرا تو ابھی پہلا تھا۔” ابوبکر بھی جوابی کاروائی کرتے اس کے پاس کر کے کھڑا ہوا تھا۔
” اچھا تو آپ میرے نوالے گن رہے تھے ، کیسا زمانہ آگیا ہے۔” شاہ میر نے منہ بنایا تھا ، جبکہ جہانداد خود کو اگنور ہوتا دیکھ شوکڈ ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
” نوالے نہیں ، سینڈوج اور ہاں جہانداد یہ وہ انسان ہے جس نے ایک آنسو نہیں بہایا تمہارے لیے ۔” ابوبکر نے شاہ میر کے طرف دیکھ آنکھ دباتے جہانداد سے کہا تھا۔
” بھائی یہ جھوٹ بول رہے ہیں ، میری تو جان نکل گئی تھی ، میں وہ وقت سوچنا نہیں چاہتا۔” آخری بات کہتے اس کی آواز بھیگی تھی ، ابوبکر نے مسکرا کر اس کے بال خراب کیے تھے۔ جہانداد دونوں کو دیکھ کر ہنسا تھا ، تو گویا وہ ایک طوفان پار کر آیا تھا ، اپنے اپنوں کے پاس۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام گھر پہنچی تو حرا بچوں کو سولا دیا تھا۔ حرا رات الہام کے پاس ہی رکی تھی۔کتنی ہی دیر وہ دونوں رات کو باتیں کرتی رہیں تھیں ، وہ دوستیں جو دکھ سوکھ میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتیں تھیں۔ صبح الہام نے ماما اور بابا کے ہاتھ ناشتہ بھجوا دیا تھا اور شام میں بچوں کے ساتھ جانے کا سوچا تھا۔ عمر نے گزرے دن کو لے کر کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ شاہ میر گھر آکر ناشتہ کر کے سو گیا تھا کیونکہ شام میں اسے الہام اور بچوں کو ہسپتال لے کر جانا تھا۔ ابوبکر آکر حرا کو واپس لے گیا تھا۔شام میں شاہ میر الہام ، عمر اور فاطمہ کو ہسپتال لے کر گیا تھا۔ روم میں داخل ہوتے ہی عمر باپ کی طرف بھاگا تھا ، اور جہانداد کی کندھے پہ بینڈج دیکھ پریشان ہوا تھا۔
” بابا آپ بیڈ مین سے فائٹ کر رہے تھے تو آپ کو لگ گئی ۔” اس نے ماں کے بتاۓ ہوۓ کی تصدیق باپ سے کروانی چاہی تھی۔ جہانداد نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔
” تو کیا آپ نے بیڈ مین کو مار دیا۔” پھر سے سوال کیا تھا، ماما نے عمر کو اٹھا کر جہانداد کے بیڈ پہ بیٹھایا تھا۔
” جی میں نے مار دیا ، ” جہانداد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوما تھا۔ اور اس نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کی آنکھوں میں اپنے لیے کے لیے تحسین دیکھی تھی۔ کہ جیسے کہہ رہا ہو اس کے بابا سپر ہیرو ہیں۔ تبھی اس نے نظر اٹھا کر الہام کو دیکھا تھا جو ماما کے پیچھے فاطمہ کو اٹھاۓ خاموش کھڑی تھی۔ وہ لڑکی جس سے وہ محبت کرتا تھا۔جس کے یقین کی بناء پہ وہ موت کے منہ سے واپس آیا تھا۔ وہ لڑکی جس کے سامنے دنیا کی ہر خوبصوت لڑکی مانند پڑ جاۓ، وہ لڑکی جو اس کی بیوی کے عہدے پہ فائز تھی۔ فاطمہ نے منہ سے آواز نکلی تھی جس پہ جہانداد کی توجہ اس کی طرف گئی تھی جو جہانداد کے پاس جانے کے لیے ہاتھ پھیلا رہی تھی۔ اور جہانداد نے اپنا سلامت کندھے والا بازو پھیلا کر ، الہام کو اسے دینے کو کہا تھا۔ جس پہ سب نے اسے منا کر دیا تھا ، اور اپنی بیٹی کی لیے پھیلایا گیا اپنا ہاتھ اس نے پیچھے کر لیا تھا۔ ماما بابا چاۓ کا کہہ کر باہر چلے گئے تھے۔ عمر باپ کے ساتھ سرلگاۓ خاموشی سے بیٹھا تھا جبکہ فاطمہ اب بھی اس کے پاس جانے کی ضد کر رہی تھی۔
” کیسے ہیں آپ۔” الہام نے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پہ بیٹھتے سوال کیا تھا۔
” آپ کے سامنے ہوں ، آپ کیسی ہیں۔” جہانداد نے جواب دے کر آگے سے سوال کیا تھا۔
” آپ کے سامنے ہوں۔” مسکرا کر جواب دیا گیا تھا۔
” آپ کا اللہ پہ یقین مجھے صحیح سلامت لے آیا آپ کے پاس” جہانداد نے آنکھوں میں ایک چمک لیے الہام سے کہا تھا ، جس کے جواب میں الہام مسکرائی تھی۔ فاطمہ ماں کی گود سے اترنے کی کوشش میں مصروف تھی جبکہ عمر اب دوسری طرف آکر اب باپ کے کندھے پہ ہوئی پٹی کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ عمر کو خود کے لیے فکر مند دیکھ جہانداد مسکرایا تھا ، اور الہام کو کہہ کر سامنے موجود ایل ای ڈی آن کروا کر کارٹون چینل لگوایا تھا تاکہ عمر کی توجہ ڈئیوٹ ہوسکے۔ اور اب عمر کارٹون دیکھنے میں مصروف ہوچکا تھا۔
“آپ اس کو اگر مجھے دے نہیں رہی تو میرے سامنے ہی کردیں تاکہ میں اپنی بیٹی کو پیار تو کر سکوں۔” جہانداد نے الہام کو مخاطب کیا تھا ، جس پہ وہ اٹھی تھی اورفاطمہ کو جھک کر جہانداد کے آگے کیا تھا، جہانداد نے اپنی بیٹی کے گال چومے تھے اور ساتھ ہی الہام کے سر کو اپنے ہاتھ سے ذرا سا آگے کر کے اس کے سر پہ پیار کیا تھا، اس کی خوشبو نے آج بھی راحت دی تھی،اور پھر سے وہ بیٹی کی طرف متوجہ ہوگیا تھا جبکہ الہام اب بھی جیسے اس کے زیر اثر تھی۔ اب فاطمہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو چھو رہی تھی ، اور پھر اس نے اس کے بال پکڑے تھے جب الہام نے اس کو پیچھے کر لیا تھا۔ کل کا آیا طوفان گزر چکا تھا ، زندگی پھر سے خوبصورت ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد واپس گھر شفٹ ہو چکا تھا۔ شام میں ابوبکر جہانداد سے ملنے آیا ہوا تھا۔ بچے دادا دادی کے ساتھ گارڈن ایریا میں موجود تھے۔ الہام ابو بکر کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ جہانداد بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔ تبھی کمرے کا دروازہ ناک کرکے شاہ میر فاطمہ کو اٹھاۓ اندر آیا تھا اور آکر بلند آواز میں سلام کیا تھا، ابوبکر اٹھ کر اس سے گلے ملا تھا ، جبکہ فاطمہ حیرانی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
” بھائی اس سے فیصلہ نہیں ہورہا کہ چاچو زیادہ ہنڈسم یا ناموں ۔” اس کے چہرے کو دیکھتے شاہ میر نے ابوبکر سے کہا تھا ، جس پہ کمرے میں موجود سبھی لوگ ہنسے تھے۔
” ابھی میں سامنے نہیں ہوں ، ورنہ تو تم دونوں کو وہ دیکھتی بھی نا۔” جہانداد فوراً بولا تھا ، جس پہ ابوبکر اور شاہ میر کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی تھیں۔ جبکہ پاس کھڑی الہام نے دل ہی دل میں تینوں کی نظر اترای تھی ، سامنے موجود تینوں مرد شکل و صورت کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی لاجواب تھے۔
” اچھا جوک تھا ، بھابھی چاۓ پلا دیں آج بہت تھک گیا ہوں۔” جہانداد کو جواب دے کر ساتھ ہی شاہ میر نے الہام سے کہا تھا کیونکہ وہ آفس سے گھر آکر سیدھا جہانداد سے ملنے آیا تھا۔ فاطمہ اب شاہ میر سے ابوبکر کے پاس جاچکی تھی جو اب صوفے پہ بیٹھے اسے گود میں لیے اس کے ننھے ہاتھوں سے کھیل رہا تھا۔
” اب شادی کر لے ، تاکہ چاۓ بنانے والی آجاۓ۔” ابوبکر نے فاطمہ کے ساتھ کھیلتے کہا تھا۔
” چاۓ کے لیے میں پھر بھی بھابھی سے کہوں گا۔” شاہ میر نے فوراً سے پہلے جواب دیا تھا۔ جس پہ الہام مسکرائی تھی۔
” واہ اپنی بیوی کی اتنی بچت۔” ابوبکر پھر سے بولا تھا جبکہ جہانداد ان دونوں کی باتوں کو انجوائے کر رہا تھا۔ جبکہ الہام چاۓ بنانے جا چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں الہام فاطمہ کو اٹھاۓ کمرے میں آئی تھی ، جہاں ماما جہانداد کے ساتھ بیٹھیں تھیں۔ الہام کے آنے کے بعد انھوں نے اسے پھر سے شادی کی تیاریاں شروع کرنے کو کہا تھا اور جاتے ہوۓ جہانداد کے بعد انھوں نے الہام کا ماتھا بھی چوما تھا۔ ان دونوں کا رشتہ بالکل ماں بیٹی جیسا تھا۔ ان کے جانے کے بعد الہام نے فاطمہ کو بیڈ پہ رکھا تھا جبکہ عمر آج کل اپنے آغا جان کے ساتھ سو رہا تھا۔
” فاطمہ آج جلدی سو گئی ۔” جہانداد نے سوئی ہوئی فاطمہ کو دیکھتے کہا تھا۔
” ہاں میں کیچن میں تھی تو شاہ میر نے اس کو سولا دیا۔” ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنا دوپٹہ اتر کر شانوں پہ ڈالتے اس نے جواب دیا تھا۔
” ہممممم شاہ میر نے تو پہلے سے پریکٹس شروع کر دی ہے ۔” الہام کی طرف دیکھتے اس نے ہنس کے جواب دیا تھا۔
“اچھی بات ہے نا، اچھا میں نماز پڑھ لوں پھر آپ کا پینڈچ چینج کرتی ہوں۔” الہام نے جہانداد سے کہا تھا جو بیڈ سے ٹیک لگاۓ لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا ، اس کا زخم اب ٹھیک ہورہا تھا ، اور بہت جلد بینڈچ ہٹ جانا تھا۔ جہانداد نے او کے میں سر ہلایا تھا جبکہ الہام وضو کے لیے واشروم چلی گئی تھی۔ کچھ دیر میں جب الہام نماز مکمل کر چکی تھی اور ابھی جاۓ نماز پہ ہی بیٹھی تھی ، اس نے نظر اٹھا کر جہانداد کو دیکھا تھا جو لیپ ٹاپ پہ نظریں جماۓ ہوۓ تھا۔ ڈھیلی سی ٹی شرٹ پہنے ، بڑی ہوئی داڈھی کے ساتھ وہ ہمیشہ کی طرح عام سے حلیے میں بھی اپنا سحر طاری کر دیتا تھا۔
” نظر لگائیں گی۔” جہانداد نے نظریں لیپ ٹاپ پہ جماۓ کہا تھا۔ جس پہ الہام نے فوراً اپنی نظریں ہٹائی تھیں۔
” محبت والی نگاہ بد نہیں ہوتی۔” الہام نے اٹھ کر جاۓ نماز تہہ کرتے جواب دیا تھا۔
” محبت کا اظہار سامنے بیٹھ کر بھی کردیا کریں۔” جہانداد نے جیسے شکایت کی تھی۔
” کھولے اظہار محبت کے چارم کو ختم کر دیتے۔ ” الہام نے جاۓ نماز ٹیبل پہ رکھتے جواب دیا تھا۔
” پھر مجھ سے کیوں گلا کرتی کہ میں کیوں کھولے عام اظہار نہیں کرتا۔” جہانداد نے اسے یاد کروایا تھا۔
” کیونکہ عورت اور مرد میں فرق ہوتا ، عورت کی محبت کھولے عام اظہار سن کر اور بڑھتی ہے ، کیونکہ عورت فطری طور پہ ہمیشہ انسکیور ہوتی ہے ، اسے ہمیشہ الفاظ چاہیے ہوتے جبکہ مرد کو ہمیشہ الگ طرح کا اظہار چاہیے ہوتا ، کبھی عام لفظوں میں ، کبھی ڈھکا چھپا ، کبھی عورت کےعمل میں ، کبھی عورت کا اس کے لیے سجانے میں ۔” بات کرتے ہوۓ وہ فاسٹ ایڈ بکس لے کر جہانداد کے پاس آکر کھڑی ہوئی تھے ، جو اسے بات کرتا دیکھ رہا تھا۔
” آہاں واہ آپ نے تو پورا تجزیہ کیا ہوا ہے ، آۓ ایم ایمپریسڈ ۔” جہانداد بولا تھا۔
” تھینک یو ۔” کہتے ہوۓ اب وہ جہانداد کی شرٹ کندھے سے نیچے کر کے بینڈیچ اتر رہی تھی ، جبکہ جہانداد کی نظر اس کے چہرے پہ تھی جو بینڈیج اترتے شکلیں بنا رہی تھی۔
” آپ کو پتا ہے ۔” الہام نے اس کے بولنے پہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ ” محبوب کا لمس بھی شفا کا کام کرتا ، سامنے جب محبت کرنے والا ہو نا تو درد کم ہوتا ،” الہام نے اس کی بات سن کر پلکیں گرائی تھیں۔ ” اور اب تو زخم بھی پہلے سے بہتر تو درد نہیں ہوتا ، آپ آرام سے کریں ۔” جہانداد نے اسے مزید کہا تھا۔ جس پہ وہ پھر سے اپنے کام میں لگ گئی تھی۔ بینڈیج کرنے کے بعد الہام اٹھانے لگی تھی ، جب جہانداد نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا ، اور آگے ہو کر اپنے چہرہ اس کے بالوں کے پاس رکھا تھا ، وہ اس کی خوشبو محسوس کر رہا تھا ، اس کے بعد اس کے بالوں کی ڈھیلی چوٹی پکڑ کر اس کی خوشبو کو محسوس کیا تھا۔
” میں نے اس خوشبو کو بہت مس کیا۔” وہ آہستہ سے بولا تھا۔ جب الہام نے اپنا سر اس کے سینے پہ رکھا تھا ، اور رو دی تھی ، اس کا ضبط ہمیشہ کی طرح اس شخص کے سامنے ٹوٹا تھا۔ اور آج بھی وہ اسے رونے دے رہا تھا۔
” آپ کو پتا ہے میں ایک بار بھی نہیں روئی ، اکیلے میں اللہ کے سامنے روئی مجھے اللہ پہ یقین تھا ، اس نے میرا یقین سلامت رکھا ، اللہ کے بعد میں آپ کے سامنے ضبط نہیں رکھ پاتی، بکھر جاتی ہوں ، اب اتنا ورنا آرہا ہے ، آپ کے سامنے میں بالکل کمزور پڑ جاتی۔ دنیا کے لیے شیرنی بھی بن جاؤں ، آپ کے سامنے ڈری سہمی بچی بن جاتی۔ ” وہ روتے ہوۓ اس میں منہ چھپاۓ بول رہی تھی۔ اور اس کی آخری بات پہ وہ مسکرایا تھا۔
” اور میں ہمیشہ اس چھوٹی سی پیاری سی بچی کے لیے محفوظ پناہ گاہ رہوں گا۔” محبت سے اس کے بال سہلاتے جہانداد نے جواب دیا تھا۔
” اور آپ مجھ سے روز اظہار محبت بھی کیا کریں گئے۔” جہانداد کے سینے میں منہ دباۓ اس نے فرمائش کی تھی۔ جس پہ جہانداد نے قہقہ لگایا تھا ، الہام نے منی اوپر کر کے شکایتی نظروں سے جہانداد کو دیکھا تھا ، جس پہ جہانداد ایک دم خاموش ہوا تھا۔
” الہام میں اظہار نا بھی کر پایا روز تب بھی میں آپ سے ہی محبت کروں گا ، میرے لیے محبت کا مطلب ہی الہام ہے۔” جہانداد نے یہ کہتے پھر سے الہام کا سر اپنے سینے پہ رکھا تھا۔ اس کی خوشبو جہانداد کے لیے سکون کا باعث تھی ، زندگی اس کے سنگت میں بے پناہ خوبصورت ہوگئی تھی۔۔۔
زندگی میں “کن فیکون ” کے لیے محنت درکار ہوتی ہے اس سے آپ کو ایسے ہی نہیں نواز دیا جاتا ، کہیں دعاؤں میں خشوع وخصوع لانا پڑتا ہے ، اور کہیں اللہ پہ کامل یقین رکھنا پڑتا ہے ، اور کہیں ان گنت صبر سے کام پینا پڑتا ہے اور پھر اللہ تمھارے لیے “کن قیکون” فرما دیتا ہے اور دنیا حیران دیکھتی رہ جاتی ہے!!
آپ میں سے بہت لوگ کہیں گے آجکل کے دور میں کوئی عمر ، کوئی ابوبکر ، کوئی جہانداد ، کوئی الہام ، کوئی حرا نہیں ہوتی ، تو آپ مجھے بتائیں آپ میں سے کوئی کیوں یہ نہیں بن جاتا ، کیا عمر کی طرح اسلام سے محبت کرنا مشکل کام ہے ، کسی نامحرم کو نا دیکھنا مشکل ہے؟؟ ابوبکر کی طرح اچھا بھائی بننا بہت مشکل ہے کیا ، اپنے پیشے سے مخلص ہونا مشکل ہے ؟؟؟ اور جہانداد کی طرح اصل مرد ہونا جو غصے کو خود پہ حاوی نہیں کرتا ، جو الفاظ سے چیزیں سلجھاتا ہے، میں نے بہت ہی عام سے کرداروں کو بہت خاص لکھا ہے جو آپ میں سے کوئی بھی ہوسکتا ، اور رہی الہام کی بات تو وہ بھی ہم سے ہی کوئی ایک ہوسکتی ، صابر ، پردہ دار ، خدا پہ کامل یقین رکھنے والی ، مہندی کر پسند کرنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ میں سے ہی کوئی حرا ہو سکتی دوستی نبھانے والی ۔۔۔۔۔
ختم شد !!
