Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

وہ دونوں شام میں واپس پہنچے تھے۔ جب دونوں حویلی کے داخلی دروازے سے اندر گئے تو وریشہ بھاگتی ہوئی ان کے سامنے آئی تھی۔
” جہانداد آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے کر گئے۔” اس نے جہانداد کا ہاتھ پکڑے ناراضگی سے کہا تھا۔ الہام نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا تھا جس سے اس نے جہانداد کا ہاتھ تھما تھا۔ آج اس کو وریشہ کی یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگی تھی۔
” آپ سو رہیں تھیں۔” جہانداد نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
” تو آپ جگا دیتے ،” وہ جہانداد سے ایسے بات کر رہی تھی ، جیسے الہام تو موجود ہی نا ہو۔
” سوری معاف کر دیں۔” جہانداد نے منہ بناتے اس سے معافی مانگی تھی۔
” ایک شرط پہ ، مجھے ابھی آئسکرئم کھلانے لے جائیں۔” اس نے اس کی طرف دیکھتے محبت سے کہا تھا۔
” چلو چلتے ہیں ۔” جہانداد نے مسکرا کر کہا۔جب کہ الہام سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تو اس نے دونوں کو اگنور کرکے اندر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
” الہام آپ کدھر جارہی ہیں ، آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔” جہانداد نے الہام کو جاتا دیکھ پیچھے سے کہا تھا۔ وہ اس سے غافل نہیں تھا۔ الہام کے دل کو سکون ملا۔
” الہام تھک گئی ہوگی اسے آرام کرنے دیں۔” الہام سے پہلے وریشہ کا جواب آیا تھا۔ جہانداد آگے بڑھ کر الہام تک آیا تھا۔
” تھک گئیں ہیں کیا۔” الہام کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے پوچھا تھا، الہام کا دل کیا وہ رو پڑے، اس کی ذرا سی خود پر سے لاپروائی وہ برداشت نہیں کر پائی، لیکن وہ اپنی کیفت اس کے سامنے آفشاں نہیں کرنے دینا چاہتی تھی، اس نے سر محض اثبات میں ہلایا تھا ، کیونکہ وہ بولتی تو جہانداد کو اس کو پڑھ لیتا ، پڑھ تو اس نے اب بھی لیا تھا مگر اس نے چہرے پہ موجود ادادسی کو تھکاوٹ وجہ قرار دیا تھا۔
” ٹھیک ہے ، آپ جاکر آرام کریں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔” اس کا گال چھوتے کہا تھا، اور پھر الہام کے اوپر جانے تک وہ وہیں کھڑا رہا تھا اور الہام یہ بات باخوبی معلوم تھی۔ وہ آئی تو ماما ، بابا اور شاہ میر کو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا پایا۔ اس کو سلام کرتی وہ ماما کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی ، جہنوں نے بہت محبت سے اسے ساتھ لگایا تھا ، اور بابا بہت محبت سے اسے آج کے دن کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، جبکہ جہانداد کے وریشہ کے ساتھ جانے پہ شاہ میر اور ماما کر فیس ایکسپریشنز بدلے تھے جو اس نے واضح محسوس کیے تھے۔
” شام میر جاؤ بھابھی کے لیے اچھی سی چاۓ بنا کر لاؤں ۔” ماما نے شاہ میر سے کہا تھا۔
” نہیں ماما ، میں خود بنا لیتی۔” الہام نے اٹھنے لگی تھی مگر انھوں نے اس واپس بیٹھا دیا تھا۔
” ارے بھابھی آپ میرے ہاتھ کی چاۓ ایک بار پی کر دیکھیں ، ویسے بھی آج صبح آپ میرے لیے کمال کا ناشتہ بنا کر گئیں ، اس کے بدلے چاۓ تو بنتی ہی۔” اس نے اٹھتے ہوۓ الہام سے کہا تھا کیونکہ صبح وہ سویا ہوا تھا مگر الہام اس کا ناشتہ بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ کر ماما کو بتا کر گئی تھی۔ اس کے نزدیک ناشتہ بننا کوئی بڑا کام نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے گھر میں بھی اکثر سب کے لیے خود ناشتہ بناتی تھی ، مگر یہاں اس کے اس عمل نے ان سب کے دل میں مزید اس کے لیے جگہ بنا دی تھی۔ شاہ میر جاچکا تھا جبکہ وہ بیٹھ کر ماما بابا سے باتیں کرتی رہی تھی ، ان کی محبت میں وہ بھول چکی تھی کہ وہ کچھ دیر پہلے اداس تھی۔ تھوڑی دیر میں شاہ میر اس کے لیے چاۓ کا مگ لایا تھا۔
” بھابھی آپ روم میں جاکر آرام سے پی کر فریش ہوکر آرام کریں۔” شاہ میر نے اس سے کہا تھا ، جس پہ ماما نے بھی اسے یہی کہا تھا وہ مگ اٹھاۓ روم میں آگئی تھی۔ چاۓ پی کر فریش ہوکر اس نے مغرب کی نماز ادا کی تھی۔ اور عصر کی قضا ادا کی تھی ، جبکہ ظہر اس نے جہانداد کے دوست کے گھر ادا کردی تھی۔ تھوڑی دیر وہ ٹیرس پہ کھڑی ہوئی توتازہ ہوا نے جیسے سکون بخشا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
جہانداد کو گئے کافی دیر ہوچکی تھی ، لیکن وہ اب تک نہیں لوٹا تھا۔ الہام واپس آکر پھر سےسب کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے ماما سے کھانا بننے کا پوچھا تھا جس پہ انھوں نے بتایا تھا کہ خانساماں ہانڈی بنا گئی ہے ، اب بس روٹی ڈالنی ہیں ، الہام نے کہا تھا کہ وہ روٹیاں بنا دیتی ہے ، جس پہ انھوں نے منا کیا تھا کہ وہ تھکی ہوئی ہے ، وہ خود بنا دیں گی، کیونکہ وہ یہاں مستقل نہیں رہتے تھے اس لیے ملازم کا بندوبست نہیں تھا۔
” بابا چلیں آج باہر کھانا کھانے چلتے ہیں، یہاں کی مشہور مچھلی۔” شاہ میر نے ان دونوں کی بحث دیکھتے باپ سے کہا تھا۔
” ویسے آئیڈیا تو اچھا ہے ، جہانداد کو بھی فون کر کے بتا دو۔” انھوں نے شاہ میر سے کہا تھا۔
” چلیں پھر اٹھیں ، انتظار کس بات کا ہے ، میں اور بابا آپ دونوں کا گاڑی میں ویٹ کر رہے ، جلدی سے آجائیں،” شاہ میر ان دونوں کو حکم سناتے بابا کولیے چلا گیا تھا۔
” چلو بیٹا میں چادر لے کر آتی ہوں ۔” ماما اس کو کہتی کمرے کی طرف گئیں تھیں کیونکہ الہام پہلے ہی شاہ میر کی موجودگی میں چادر سے نقاب کیے ہوۓ تھی۔ الہام اپنے کمرے سے اپنا موبائل لینے کے لیے گئی تھی۔ جہانداد کا فون ان کو آف مل رہا تھا جبکہ وریشہ کے نمبر پہ کال کرنے پہ کال نہیں اٹھائی گئی تھی۔ الہام کے دل میں بے چینی نے گھر کیا تھا ، وہ اس کا شوہر تھا ، اور وہ کسی اور کے ساتھ تھا جو اس کے لیے محبت بھرے جذبات رکھتی تھی۔لیکن وہ ان سب کے سامنے اپنی بے چینی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ سب اسے بہت اپنائیت سے ڈیل کر رہے تھے۔ الہام نے ماما کے ساتھ گاڑی میں کھانا کھایا تھا جبکہ شاہ میر نے اپنے بابا کے ساتھ ریسٹورنٹ کے اندر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ الہام کو خوشی ہوئی تھی وہ لوگ اس کے پردے کا خیال رکھتے تھے۔ اس کی ایک دن میں ہی ان تینوں سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ماما بابا اسے بلکل پلوشہ کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے جبکہ شاہ میر اسے بلکل بڑی بہن کی جیسی عزت دے رہا تھا۔ کھانا کھا کر وہ لوگ واپس لوٹے تو جہانداد واپس آچکا تھا جو لاوٴنج میں ٹی وی پہ نیوز چینل لگاۓ بیٹھا تھا۔ سب کو سلام کرکے آگے بڑھ کر اس نے ماں کو گلے لگایا تھا ، جہنوں نے آگے سے اس کی پیشانی چومی تھی ، ماں کے بعد وہ باپ اور بھائی سے بھی ایسے ہی ملا تھا، اور آخر میں اس نے ایک نگاہ الہام پہ ڈالی جو اس کے ساتھ اس لئے نہیں گئی تھی کہ وہ تھک چکی تھی ، لیکن وہ ابھی اس کے گھر والوں کے ساتھ باہر سے ہو کے آرہی تھی ، کتنی کوشش کی تھی وہ جلد سے جلد گھر پہنچ جاۓ مگر وریشہ کی لونگ ڈرائیو کے بعد ڈنر اور آئسکرئم کی ضد میں وہ جلدی نہیں پہنچ سکا تھا اور فون کی بیٹری ڈیڈ ہونے کے باعث وہ اسے بتا بھی نہیں پایا تھا۔
” میں سب کے لئے چاۓ بنا کر لاتی ہوں” اس کی نظروں سے پزل اسے نے راہ فرار احتیار کی تھی۔
” بھابھی میں آپ بیٹھیں ، میں بنا لاتا ہوں ۔” شاہ میر اس کے پیچھے اٹھ کھڑا یوا تھا۔
” منا کہ آپ اچھی چاۓ بناتے ہیں ، لیکن ابھی آپ میرے ہاتھ کی پی لیں۔” وہ مسکرا کر کہتی کیچن کی طرف بڑھ گئی تھی ، شاہ میر صوفے پہ واپس گرنے والے انداز میں بیٹھا تھا جبکہ جہانداد مسکرایا تھا ، وہ اس کے گھر والوں کے ساتھ گل مل گئی تھی، اور اب وہ ان سب کی شکایت پہ ان کو بتا رہا تھا کی بیٹری ختم ہونے کے باعث اس کا فون ڈیڈ ہوچکا تھا، جبکہ وریشہ کے فون رسیو نا کرنے کو وہ سمجھ نہیں پایا تھا۔ سب کو چاۓ دینے کے بعد اپنا مگ لیے الہام اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
روم میں آکر مگ رکھ کر اس نے جلدی سے وضو کیا کیونکہ وہ نماز پڑھ کر جہانداد کے آنے سے پہلے جلد سے جلد سونا چاہتی تھی۔ وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ وہ بےشک وریشہ کو بہن سمجھتا تھا مگر وہ اس کے لیے اور طرح کی فیلینگز رکھتی تھی، اور وہ انتہا کی خوبصورت بھی تھی، طرح طرح کے خدشات اس کے دماغ میں چل رہے تھے۔ نماز پڑھ کر وہ قدرے پرسکون بستر پر گئی تھی۔ اور لحاف لے کر سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ دراوزہ کھولا تھا الہام نے فوراً آنکھیں بند کی تھیں۔ جہانداد اس کے پاس آکر رکا تھا اور اس کے اوپر لحاف درست کرتا واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا ، الہام نے دوبارہ آنکھیں کھولی تھی ، ایک بار پھر سے دماغ نے وہی سوچ پکڑی تھی اور ذہنی کشمکش کی وجہ سے نیند بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ، تھوڑی دیر میں ہی وآشروم کا دروازہ کھولا تھا اور وہ اپنے بلیک نائٹ سوٹ میں برآمد ہوا تھا جس پہ الہام نے ایک بار پھر سے آنکھیں بند کیں تھی۔ جہانداد بالوں میں ہاتھ پھیرتا بستر پر آیا تھا ، اور لحاف اٹھا کر وہ لیٹا تھا۔ الہام اس سے مخالف سمت کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی، اس کی نظر اس کے لمبےبالوں پہ پڑی تھی ، جو اس وقت ڈھیلی چوٹیا میں مقید تھے جو اس وقت لحاف سے باہر آرہی تھی اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے بالوں کو چھوا تھا، اور پھر آگے بڑھ کر چوٹیا ہاتھ میں لیے اس کی خوشبو محسوس کی تھی۔ الہام کو جب اپنے بالوں پہ کچھ محسوس ہوا تو وہ بےاحتیار پیچھے موڑی،جہانداد کو اپنی بالوں کی خوشبو محسوس کرتے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی۔ اس کے ایک دم پیچھے موڑنے پہ جہانداد مسکرایا تھا، اور اس کے بال چھوڑے تھے۔
” آپ جاگ رہیں ہیں۔” جہانداد نے واپس اپنے جگہ پہ لیٹتے اس سے پوچھا تھا۔
” جی بس سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔” الہام نے سیدھا ساجواب دیا تھا، اور اس کی طرف کروٹ لے کر لیٹی تھی۔
” آپ مجھ سے بھاگ رہی ہیں ۔” جہانداد نے اوپر چھت کو گھورتے جواب دیا تھا۔ اس نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا وہ ہمیشہ اس کا دماغ پڑھ لیتا تھا۔ الہام نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
” آپ نے مجھے کہا آپ تھک گئی ہیں ، اس لیے آپ نے جانے سے انکار کر دیا ، جبکہ ماما نے بتایا کہ آپ نے خاص آرام بھی نہیں کیا، اور جب میں گھر آیا تو آپ ماما لوگوں کے ساتھ باہر گئی ہوئیں تھیں۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھا تھا جبکہ اس نے نظریں چرائی تھی ، وہ جس چیز سے بچ رہی تھی وہ وہی پوچھ رہا تھا ، وہ اس کو کیا بتاتی وہ وہاں وریشہ کے بارے میں جانتے ہوۓ، بار بار اسے اس کے قریب نہیں دیکھ سکتی تھی ، وہ اس کے معاملے میں پوزیسو ہوگئی تھی۔
” میں ان سب کو انکار نہیں کر سکی۔” نا چاہتے ہوۓ بھی اس کی آواز بھیگی تھی۔
” الہام کیا ہوا ہے ۔” اس کی بھیگی آواز سن کر جہانداد نے پریشانی سے پوچھا تھا ، اور یہ ایک لمحہ الہام کو کمزور کرگیا تھا، اور وہ آگے بڑھ کر اس کے پہلو سے لگی رو پڑی تھی۔ جبکہ جہانداد کو پریشانی لحاق ہوئی تھی، اس نے اپنا ایک بازو اس کے گرد پھیلایا تھا۔ لیکن وہ اسے رونے دینے کے بعد کوئی سوال کرنا چاہتا تھا، وہ ایک ہاتھ سے اس کے بال سہلا رہا تھا ، جبکہ دوسرے ہاتھ سے اپنے سینے پہ موجود اس کا بازو تھام رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اس کے ساتھ لگی پرسکون ہو گئی تھی۔
” الہام آپ وریشہ کو لے کر پریشان ہیں۔”اس نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے پوچھا تھا جو چہرہ اس کے پہلو میں چھپاۓ ہوئی تھی۔ الہام کا دل دھڑکا تھا ، وہ کیسے بھول گئی تھی کہ وہ دماغ پڑھنے کا ہنر بھی جانتا تھا۔ وہ آرمی آفیسر تھا جو دشمن کو دیکھ اس کے دماغ کو پڑھنا جان لیتے ہیں۔ اور وہ تو اس کی بیوی تھی پھر بھلا اس کو کشمکش میں دیکھ کر کیسے جان نا پاتا کہ کیا چیز اس کو پریشان کر رہی ہے۔ الہام نے خاموشی احتیار کی تھی۔
” الہام وہ بچی ہے ، میں نے اس کو بچی اور چھوٹی بہن سمجھ کر ہمیشہ توجہ دی ، لیکن اب آپ سے شادی کے بعد مجھے بھی اس کے رویے کو دیکھتے شدت سے احساس ہوا ہے ، کہ مجھے بچپن سے ایک ہی اس کو ایک لیمٹ میں رکھنا چاہیے تھا ، لیکن الہام میں ایک دم سے اس کو چھوڑ نہیں سکتا ، آپ کو پتا ہے نا نشے کے عادی انسان کو بھی فوراً نشے سے الگ نہیں کیا جاتا ، بلکہ اس کی مقدر میں آہستہ آہستہ کمی لائی جاتی ، اگر ایک دم سے اسے روک لیا جاۓ تو یہ چیز اس کی جان بھی لے سکتی ، اسی طرح ایک انسان کی عادت بھی کسی نشے کی طرح ہے ، وہ انسان فوراً آپ سے لے لیا جاۓ تو ہوسکتا آپ کوئی غلط قدم اٹھا لو ، اس لیے میں وریشہ کو آہستہ آہستہ خود احساس دلانا چاہتا ، کہ وہ میرے لیے ایک چھوٹی سی پیاری سی بہن کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔” اس نے تفصیل سے الہام کو جواب دیا تھا ، جس نے اب تک اپنا سر نہیں اٹھایا تھا۔ وہ اب بھی خاموش تھی ، لیکن جہانداد کے الفاظ نے اسے تسکین پہنچائی تھی۔
” الہام ” جب کافی دیر تک کوئی ردعمل نہیں آیا تو جہانداد نے اسے پکارا تھا۔
” مجھے فری میڈوذ دیکھنا ہے۔” اس نے الہام کو کہتے سنا تھاگویا اس نے مطمئن ہوکر بات بدل ڈالی تھی۔ وہ مسکرایا تھا ، وہ اس سے فرمائش کر رہی تھی۔
” ہاں کل آپ کو لے چلوں گا۔” اس نے یہ کہتے الہام کو دیکھنے کی کوشش کی تھی جو اب تک اس نے پہلو میں سر چھپاۓ تھی۔
” صرف مجھے۔” الہام نے کہا تھا۔ اس بات پہ جہانداد کا قہقہ گونجا تھا۔
” آپ جیلس ہورہی ہیں۔” جہانداد نے اس کے بال سہلاتے پوچھا تھا۔
” ہاں” سیدھا سا جواب آیا تھا۔ جہانداد مسکرایا تھا ، وہ واقعی ہی الگ تھی ، وہ لڑکی ہوکر قبول کر رہی تھی کہ وہ جیلس ہورہی ہے۔
” آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے۔” جہانداد نے اسے کہا تھا۔
” میں اب سکون سے سونا چاہتی ہوں ۔” وہ اس کی بات اگنور کر گئی تھی۔ جب کہ جہانداد نے اس کی بازو کو دیکھا تھا جو وہ جہانداد کے سینے پہ دھرے ہوئی تھی ، وہ مسکرایا تھا ، وہ آج اس پہ اپنا حق جتا چکی تھی ، لیکن منہ اب بھی اس نے جہانداد کے پہلو میں دیا ہوا تھا۔
جاری ہے !!