Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ناول کن فیکون
تحریر آمنہ گل
الہام اور جہانداد نے دن کا کھانا الہام کے گھر سب کے ساتھ کھایا تھا۔ رات میں الہام جب کمرے میں چاۓ کے دو مگ لیے آئی تو جہانداد بیڈ پہ بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے مصروف نظر آیا تھا۔الہام نے چاۓ کا مگ اسے پکڑنا چاہا مگر جہانداد نے اسے سائیڈ ٹیبل پہ رکھنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ الہام اس کا مگ سائیڈ پہ رکھتے ، اپنا مگ لیے بیڈ کے دوسری طرف بیٹھی تھی۔ جہانداد اس کو نظر انداز کیے اپنے کام میں مصروف رہا تھا۔
” جہانداد ” الہام کو اس کا نظر انداز کرنا جیسے اچھا نہیں لگا تھا ، اس لیے خود سے پکارا تھا۔
” ہممم” جہانداد لیپ ٹاپ پہ نظریں جماۓ بولا تھا۔ جس پہ الہام کو مزید الجھن ہوئی تھی ، یعنی وہ اس کے پکارنے پہ بھی متوجہ نہیں ہوا تھا۔
” مرد کو جب عورت کا اقرار محبت مل جاتا ہے تو پھر وہ بدل جاتا ہے ، پھر چاہے شوہر ہی کیوں نا ہو۔” الہام نے اس کے لیپ ٹاپ پہ نظریں جماۓ کہا تھا۔ اس کی بات سنتے جہانداد کے چہرے پہ ایک جانبدار مسکراہٹ آئی تھی۔
” اچھا ایسا ہے کیا۔” جہانداد لیپ ٹاپ چھوڑے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
” جی بلکل ایسا ہے ،” جہانداد نے طرف دیکھ کر جواب دیا تھا۔
” میں ایسا نہیں مانتا ،انسان محبت کرنے والے کا اظہار سن کر لاپرواہ نہیں بلکہ مطمئن ہوجاتا ہے کہ سامنے والا اس کا ہے، سب اندیشے ختم ہوجاتے ہیں ۔” جہانداد نے الہام کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
” مطمئن کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کہ آپ جتانا ہی چھوڑ دو۔” الہام نے اس کی طرف دیکھتے شکایتی انداز اپنایا تھا۔ اس کی بات سنتے جہانداد نے قہقہ لگایا تھا۔
” او اچھا آپ کہنا چاہ رہی ہیں میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد الہام سے کہوں کہ میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔” اس کی طرف دیکھتے اس نے شرارت سےکہا گیا تھا۔
” میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” الہام شرمندہ ہوئی تھی۔
” الہام میری بات سنیں ہوسکتا ہے میں لفظوں سے بار بار اظہار نہ کرسکوں ، کیوں کہ میں الفاظ سے زیادہ عمل پہ یقین رکھتا ، ہوسکتا میں روز آپ سے اقرار محبت نا کرسکوں لیکن میں روز آپ کے لیے گجرے لا سکتا ہوں ، ہوسکتا میں روز آئی لو یو نا کہہ سکوں لیکن میں آپ کا سر اپنے کندھے پہ رکھ کر پوری رات بیٹھ کر آپ کے ساتھ چاند دیکھ سکتا ہوں، ہوسکتامیں روز اظہار محبت نا کروں لیکن میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر گھنٹوں تک کسی کچی سڑک پہ آپ کے ساتھ چل سکتا۔” اس کے تفصیل سے جواب دینے پہ الہام نے نظریں جکائی تھیں ، جبکہ جہانداد کو اس کا یہ عمل ہمیشہ کی طرح بھلا سا لگا تھا۔
” لیکن ابھی میں چاۓ لے کر آئی آپ نے میری طرف توجہ نہیں دی ۔” یاد آنے پہ فوراً الہام نے اسے ، اس کی غلطی بتائی تھی۔جہانداد کو اب اس کی شکایت سمجھ آئی تھی، یعنی اس کی بیوی اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ شکایت کرنے والی تھی۔
” واٹ الہام ، آپ اس بات پہ کہہ رہی کہ مرد بدل جاتا ، لائیک سیریلی ۔” وہ حیران الہام کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو لاپرواہ سی سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔
” ہاں آپ نے مجھ پہ ، الہام پہ توجہ نہیں دی۔” الہام نے جہانداد کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔ جہانداد مزید حیران ہوا تھا۔
” یہ تو خود پسندی ہوئی۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
” خود پسندی نہیں ، ایک یقین ہے کہ ، جہانداد الہام کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔” اس کی طرف دیکھتے اعتماد سے جواب دیا گیا تھا۔ اس کے جواب پہ جہانداد کے ہونٹوں پہ تبسم بکھرا تھا۔
” آپ کی موجودگی میرے لیے باعث تسکین ہوتی کہ آپ موجود ہیں ، جب آپ کو لگا کہ میں آپ کو اگنور کر رہا تب میں یہ سوچتے مزید پرسکون ہو کہ کام میں مصروف ہوگیا کہ آپ آگئی ہیں، آپ پاس ہیں۔” جہانداد نے اس کی غلط فہمی دور کی تھی ، جبکہ الہام اس کی بات سنتے خاموش ہوگئی تھی۔ وہ الگ تھا ، اس کی محبت کرنے کا اپنا انداز تھا۔ وہ ایک بار پھر سے لیپ ٹاپ پہ مصروف ہوچکا تھا جبکہ الہام چاۓ کے گھونٹ لیتی اس اپنے نظروں کے حصار میں لیے ہوۓ تھی۔
” آپ کی چاۓ ٹھنڈی ہوگئی ہے۔” الہام نے اس کی توجہ چاۓ کی طرف مکرز کروائی تھی۔ جہانداد نے مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا تھا۔ جبکہ الہام اپنے فون میں مصروف ہوگئی تھی۔ تھوڑی دیر گزری تھی جب الہام نے اس کو پکارہ تھا۔ جس پہ جہانداد اس کی طرف موڑا تھا۔
” دیکھیں یہ بچے کتنے پیارے ہیں ۔” اپنے موبائل میں چلتی ویڈیو دیکھانے کے لیے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھایا تھا۔ جہانداد نے موبائل تھما تھا۔
” جہانداد ہم اپنے ایک بیٹے کو عالم بنائیں گے ، ایک کو آرمی میں بھجیں گے ، ایک کو فٹ بالر ” ابھی وہ اپنی بات جاری رکھے تھی جب جہانداد نے اسے ٹوکا تھا۔
” بس بس ، میں فوجی ہوں ، کوئی سمگلر نہیں جو اتنے بچے پال سکوں۔” جہانداد نے آدھے میں اس کی بات کاٹ کر اسے کہا تھا۔
” فوجی ہیں تبھی تو اتنے بچوں کا کہہ رہی ، سمگلر ہوتے تو ایک کا بھی نا کہتی۔” اس نے اپنا موبائل جہانداد کے ہاتھ سے لیتے منہ بنا کر کہا تھا۔
” اچھا ایسا کیوں ۔” جہانداد کو تجسس ہوا تھا تبھی سوال کیا تھا۔
” کیونکہ ایک سمگلر کا بچہ سمگلر ہی بن سکتا ، پیٹ میں جب حلال رزق ہی نہیں جاۓ گا ، تو حلال کمائی والے ذرائع بھلا کہاں اسے بھائیں گے۔” الہام نے اپنے موبائل کی طرف دیکھتے سکون سے جواب دیا تھا۔
” ضروری تو نہیں ہے ، بیٹا باپ پہ ہی جاۓ ،بد کے ہاں نیک بھی جنم لے سکتا، اور نیک کے ہاں بد بھی جنم لے سکتا ۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے کہا تھا۔ الہام نے اس کی بات پہ نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
” ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، ایسا بتاؤں کب ہوتا ہے جب اللہ کسی پہ اپنا خاص کرم فرماتا ہے اور اسے ہدایت دے دیتا ، اور کرم تو سو میں سے صرف کسی ایک پہ ہوتا جو اللہ کے نزدیک بہت ہی خاص ہوتے ہیں جن کو چن لیا جاتا ہے، جیسے کربلا کے میدان میں ہزاروں میں سے صرف حضرت حرؑ اور ان کے بیٹے نے حضرت حسین ؑ کی آواز پہ لبیک کہا تھا ، باقی تو کوئی نا آیا تھا ،حالانکہ سب کو ایک جیسا پیغام دیا گیا تھا ، سب ہی مسلمان تھے ، لیکن کرم صرف حضرت حر ؑ پہ ہوا تھا کیونکہ وہ خاص تھے۔” اس نے جہانداد کی طرف دیکھتے تفصیل سے جواب دیا تھا۔ جہانداد نے اس کی تفصیل پہ سر ہلایا تھا۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی کچھ لوگوں پہ واقعی ہی اللہ کا خاص کرم ہوتا ، اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو بدوں کی بستی میں رہ کے بھی پارسا ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھ سال بعد :
“عمر بیٹا کھانا کھا لو، بابا سے بعد میں بات کر لینا ۔” الہام اپنی دس ماہ کی بیٹی فاطمہ کو اٹھاۓ ، پانچ سالہ عمر کو کھانا کھانے کے لیے راضی کر رہی تھی جو فون اٹھاۓ باپ سے بات کرنے کے لیے ضد کر رہا تھا۔
” الہام بچے کیا ہوا۔” ماما نے اسے عمر کے پیچھے لگے سوال کیا تھا۔
” ماما یہ سکول سے آکر کھانا نہیں کھا رہا ، ایک ہی ضد کہ بابا سے بات کرنی۔” الہام نے دور ہاتھ میں موبائل لیے کھڑے اپنے بیٹے کی شکایت کی تھی۔
” الہام بچے آپ فاطمہ کو دیکھیں ، میں عمر کو کھانا کھلا دیتی ہوں۔” ماما نے الہام سے یہ کہتے عمر کو اپنے پاس بلایا تھا۔
ان چھ سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا، جہانداد کیپٹن سے میجر کا رینک حاصل کر چکا تھا ، جہانداد اور الہام کے دو بچے تھے جن کے نام خود جہانداد نے رکھے تھے ، اور اب بھی وہ مہینہ مہینہ اپنے خاندان سے دور وطن کی حفاظت میں مصروف رہتا تھا، اور آج کل اس کی پوسٹنگ بلوچستان میں تھی۔شاہ میر نےڈگری پوری کرکے ، اپنے حصے کی جائیداد کا کچھ حصہ بیچ کر اپنا سافٹ وئیر ہاوس بنایا تھا، جبکہ وریشہ واپس گلگت جا چکی تھی، اور ان دونوں کی باہمی رضامندی سے دونوں کی بات طے کردی گئی تھی ، ابوبکر اور حرا کے ہاں دو جڑواں بچوں اسماعیل اور ابراہیم نے جنم لیا تھا جو کہ اب چار سال کے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں الہام نے بچوں کو سلا کر جہانداد کا فون ٹراۓ کیا تھا جو بند جا رہا تھا۔ ان چھ سالوں میں ان دونوں کی محبت ایک دوسرے کے لیے مزید بڑھ گئی تھی۔ وہ فون سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر لیٹی تھی۔ بچے پرسکون سو رہے تھے۔ دونوں نے اپنے نقوش اپنے باپ سے چراۓ تھے۔ زندگی جیسے ان دونوں کے آنے سے مزید پرسکون ہوگئی تھی۔
صبح نماز کے وقت الہام کا الارم بجا تھا ، اور وہ الارم کی آواز پہ اٹھی تھی۔ اور سائیڈ ٹیبل سے فون لے کر الارم بند کیا تھا، جب اس نے محسوس کیا تھا ، فاطمہ اس کے پاس نہیں ہے ، اس نے فوراً سے لیمپ جلا کر بیڈ پہ نظر دوڈائی تھی جب سامنے کے منظر نے چہرے پہ تبسم بکھرا تھا۔ جہانداد فاطمہ کو اپنے سینے پہ رکھے اور عمر کو اپنی بازو پہ رکھے پرسکون نیند سو رہا تھا۔ کچھ دیر تک وہ ان کو دیکھتی رہی تھی پھر اس نے فون لے کر ان کی ایک تصویر بنائی تھی ، وہ یہ خوبصورت منظر ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنا چاہتی تھی۔ اسے رات میں پتا ہی نہیں چلا کہ کب جہانداد گھر آیا اور بچوں کو لیے سو گیا۔ محبت سے ایک نظر تینوں کو دیکھتے وہ نماز پڑھنے کے لیے اٹھ چکی تھی۔ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو اس نے جہانداد کو واش روم سے وضو کر کے باہر آتے دیکھا، وہی لمبی چوڑی جسامت ، وہی خوبصورت نقوش کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی تھی۔ الہام نے جاۓ نماز ہاتھ میں اٹھاۓ اسے دیکھا تھا، سامنے کھڑا شخص اس کے لیے کیا تھا وہ الفاظ نہیں ڈھونڈ پاتی تھی۔ جہانداد نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا، اور ہمیشہ کی طرح اس کے آنے پہ آج بھی اس نے اپنا ضبط کھو دیا تھا، اللہ کے بعد اور اس شخص کے سامنے آنسو بہانے سے نہیں ڈرتی تھی۔ یہ شخص اس کی محفوظ پناہ تھا۔
” آۓ مسڈ یو سو مچ۔” جہانداد نے آہستہ سے اس سے کہا تھا۔ جس سے اس کے رونے میں روانی آئی تھی۔ اور پھر کتنی ہی دیر وہ اس سے لگ کر اس کی خوشبو اپنے اندر اترتی رہی تھی۔ فاطمہ کے رونے پہ وہ اس سے الگ ہوئی تھی اور فاطمہ کی طرف بڑھی تھی جبکہ جہانداد نے نماز ادا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کی نیند سے کافی لیٹ بیدار ہوا تو کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا ، تبھی الہام کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ جہاں جہانداد اسے الجھے ہوۓ بالوں میں بہت ہنڈسم لگا تھا۔
” اٹھ گئے آپ ” الہام نے اس کے پاس کھڑے ہوتے سوال کیا تھا۔
” جی بڑی مشکل سے ، بچے کدھر ہیں۔” جہانداد نے جمائی لیتے سوال کیا تھا۔
” بچے شاہ میر کے پاس ہیں ، آج سنڈے نا تو آج کا آدھا دن ان کا ادھر ہی گزرنا۔” الہام نے جہانداد کے اوپر سے کمفرٹ ہٹا کر تہہ کرتے جواب دیا تھا۔
” الہام ۔” جہانداد نے الہام کی طرف دیکھتے پکارا تھا۔
“جی” کمفرٹ سائیڈ پہ رکھتے وہ بولی تھی۔
” میں تھوڑی دیر اور سو جاؤں پلیز۔” بند کمفرٹ کی طرف دیکھتے معصوم سی ریکوسٹ کی گئی تھی۔ الہام کی آنکھیں حیرانگی میں کھولی تھیں۔
” آپ گھر میں ہمارے ساتھ ٹائم سپنڈ کرنے آتے ہیں یا سونے کے لیے ، کبھی کبھی تو مجھے بلکل نہیں لگتا کہ آپ ایک فوجی ہیں ، آج آپ جاگنگ پہ بھی نہیں گئے ، ایک منٹ سے پہلے اٹھ کر شاور لیں میں ناشتہ بناتی ہوں ۔” وہ اس کی طرف دیکھتے ایک ہی سانس میں سب بول گئی تھی۔ جس کے جواب میں جہانداد مسکرایا تھا۔
” الہام آپ کو پتا، ہماری خراب عادتیں یا کہہ سکتے ہمارا بچپنا صرف کچھ خاص لوگوں کے سامنے باہر آتا ، جن کے بارے میں ہمیں پتا ہوتا کہ یہ ہمیں ہماری خراب عادتوں کے ساتھ بھی ہم سے محبت کریں گئے ، ورنہ باقی لوگوں کے سامنے ہم خود کو پرفیکٹ شو کرتے کہ ہمارے میں تو کوئی خرابی ہے ہی نہیں کیونکہ سب خاص نہیں ہوتے کہ وہ ہمارے نخرے اٹھائیں ، نخرے تو صرف محبت کرنے والے اٹھا سکتے ، تو میری یہ والی سائیڈ ماما کے بعد آپ کے سامنے آتی کیونکہ مجھے پتا آپ میرے نخرے ہمیشہ اٹھاتی ہیں۔” آخری بات پہ وہ مسکرایا تھا ، سامنے کھڑی الہام بھی مسکرائی تھی کیونکہ ان سالوں میں اتنے سنجیدہ شخص کو اپنے سامنے ایسی بچگانہ حرکتیں کرتے دیکھ چکی تھی۔
” لیکن اب آپ خود بابا بن چکے ، تو کنڑول کریں ، اور اب آٹھ جائیں۔” الہام نے یہ کہتے اب ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا رہی تھی۔ جس پہ اب وہ اٹھا تھا اور الہام کو سائیڈ ہگ دیتے سر پہ پیار کرتے وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد شاور لے کر نیچے آیا تھا جہاں شاہ میر فاطمہ کو گود میں لیے بیٹھا تھا جبکہ عمر شاہ میر کے فون پہ گیم کھلنے میں مصروف تھا۔ جہانداد کو دیکھتے فاطمہ ہاتھ پھیلا کر اس کی طرف لپکی تھی جس پہ شاہ میر کا منہ بنا تھا۔
” واہ بابا کو دیکھتے ہی پارٹی بدل لی ۔” شاہ میر نے فاطمہ کو ایسے بولا تھا جیسے وہ اسے سمجھ سکتی ہو۔ اور پھر اس کے گال پہ زور سے پیار کیا تھا جس پہ وہ رو پڑی تھی، اور پھر اسے جہانداد کو دیا تھا۔
” تم نے میری بیٹی کو رولا دیا۔” جہانداد نے فاطمہ کو لیتے شاہ میر سے کہا تھا۔
” پارٹی چینچ کرنے کی اتنی تو سزا ہے نا بھائی۔” شاہ میر نے ہنستے ہوۓ جہانداد کو جواب دیا تھا جس پہ وہ کھول کے ہنسا تھا۔ باپ کو ایسے ہنستے دیکھ فاطمہ بھی ہنسی تھی۔اور اب اپنے دونوں ننھے ہاتھوں سے جہانداد کے منہ پہ تھپڑ مار رہی تھی جو شاید اس کے محبت کرنے کا طریقہ تھا۔ جبکہ شاہ میر اب عمر کے ساتھ مصروف ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں جہانداد بچوں اور الہام کو لیے پارک آیا تھا۔ عمر اپنے بابا کو دیکھ کر خوش تھا ، جبکہ چھوٹی فاطمہ بھی جیسے باپ کی خوشبو سے آگاہ ہوچکی تھی ، جہانداد کی گود میں آتے ہی پرسکون ہوجاتی تھی، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کا چہرہ چھوتی اور کبھی ڈھیر ساری تھوکیں اس کے منہ پہ بوسے کے بہانے لگاتی۔ اور جہانداد اس کی سب حرکات سے خوب لطف اٹھاتا۔ بچے ماں سے بہت انسیت رکھتے تھے لیکن باپ کے آنے پہ ماں کو بھول جاتے تھے اور الہام اس بات پہ خوش ہوتی تھی کہ جہانداد کے دور ہونے کے باوجود بچے اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے، فاصلے محبت کو کم نہیں کر پاۓ تھے۔ شام میں سب وریشہ کی طرف جانے کے بعد الہام کے میکے گئے تھے۔ رات میں واپسی تک بچے گاڑی میں ہی سو چکے تھے۔ جہانداد عمر کو گود میں اٹھا کر لایا تھا ، جبکہ فاطمہ الہام کی گود میں تھی۔ دونوں بچوں کو بیڈ پہ لیٹا کر جہانداد ماما بابا کے کمرے میں چلا گیا تھا۔ جبکہ الہام نے نماز ادا کی تھی۔ کچھ دیر میں جہانداد کمرے میں واپس آیا تھا ، جہاں الہام بچوں کے پاس بیٹھی تھی۔اس کے اندر آنے پہ الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
” چاۓ مل سکتی ۔” سائیڈ ٹیبل پہ اپنی گھڑی اتار کر رکھتے اس نے الہام سے کہا تھا۔
” جی آپ فریش ہوجائیں ، تب تک میں بنا کر لاتی ہوں۔” الہام جہانداد کی طرف دیکھتے یہ کہتے ہوۓ اٹھی تھی۔ جس پہ جہانداد نے ہلکی سے مسکراہٹ دی تھی۔ اور کپڑے لے کر واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
جہانداد جب واش روم سے نکلا تو الہام چاۓ لے کر آچکی تھی۔
” ٹیرس پہ چلیں۔” جہانداد نے اپنا چاۓ کا مگ اٹھاتے الہام سے کہا تھا جو اپنا مگ لیے بیڈ پہ بیٹھی تھی۔
” جی چلیں ۔” الہام یہ کہتے اٹھی تھی۔ اور دونوں ٹیرس پہ آۓ تھی۔ جہاں ہر طرف خاموشی چھائی تھی ، اور چاند اپنی پوری آب وتاب سے چمک کر اسے بنانے والے کی بڑائی بیان کر رہا تھا۔
” الہام” خاموشی کو جہانداد کی آواز نے توڑا تھا۔
” جی۔” الہام نے نظر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا تھا ، آج جہانداد اسے الگ لگ رہا تھا ، کسی الجھن میں الجھا ہوا ، اپنی سوچوں سے لڑتا ہوا۔
” میں نے کبھی تم سے ایسی بات نہیں کی نا کبھی ضرورت محسوس کی ، نا کبھی میں ڈرا ہوں ، لیکن اب کہیں نا کہیں میں سہم جاتا ہوں۔” الہام کی طرف دیکھتے اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی۔ الہام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا ، دل دھڑکا تھا ، بھلا جہانداد خان کو کس بات سے ڈر لگ سکتا ہے ، اگر جہانداد خان ڈر گیا ہے تو مطلب کچھ تو بات ہے۔ اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھتے جہانداد نے اپنی بات جاری رکھی تھی۔
” الہام آپ بہت بہادر ہیں ، بہت صبر والی ، آپ پہ مجھے فخر ہے۔ آپ کو لے کر میں کبھی نہیں ڈرا مجھے پتا تھا آپ مضبوط ہیں۔ میں جس فیلڈ میں ہوں وہاں زندگی کا کچھ پتا نہیں ہوتا، ” جہانداد رکا تھا ، کیونکہ سامنے والے کی آنکھوں نے شکوہ کیا تھا جیسے اسے معلوم پڑ گیا تھا کہ وہ کیا بات کرنے والا ہے ، جہانداد نے آہ بھری تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔ اس نے بات جاری رکھی تھی۔ ” الہام میں مرنے سے نہیں ڈرتا ، موت تو کہیں بھی کسی وقت بھی آسکتی ، اور اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی وطن کے لیے آپ کی جان چلی جاۓ، لیکن اب ڈر لگتا ہے جب سے فاطمہ آئی ہے ، مجھے پتا ہے اگر کل کو میں نہیں رہتا ،”” جہانداد رکا تھا کیونکہ سامنے والی کی آنکھوں سے برسات شروع ہو چکی تھی۔ لیکن اس کو اپنی بات پوری کرنی تھی ، آج وہ اس کے آنسو دیکھ کے گلے لگا کر کوئی حوصلہ نہیں دینا چاہتا تھا۔ ” زمانے سے ڈرتا ہوں ، اپنی بیٹی کے لیے ۔ ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے ، باپ ہو تو بیٹی سر اٹھا کر فخر سے چلتی ہے۔ بس میں چاہتا ہوں کہ کل کو اگر میں نہیں ہوتا تو آپ میرے غم کو بھول کر بچوں کو مضبوط بننا جیسی آپ خود ہیں ، ویسا فاطمہ کو بنانا ، عمر کو ایسا بنانا کہ وہ فاطمہ کے لیے وقت پڑنے پہ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن سب بن جاۓ جیسے ابوبکر آپ کے لیے بن جاتا۔ آپ تو زندگی میں پہلے بھی ایک بڑے حادثے سے گزری ہیں ، اور تب آپ پھر سے اٹھی، میں چاہتا پھر اگر کچھ ایسا ہوتا ہے تو اس بار بھی آپ پھر سے اٹھیں پہلے کی طرح مضبوط ہوکر ، اللہ کی رضا میں راضی ہو کر آگے بڑھیں، عورت کمزور ہو بھی تو ایک ماں کبھی بھی کمزور نہیں ہوتی وہ اولاد کے لیے دنیا سے لڑ جاتی ، وہ کرنے پہ آۓ تو دنیا فتح کر سکتی، ” وہ بول رہا تھا ، اور سامنے موجود وجود جیسے پتھر کا ہو گیا تھا ، بناء حرکت کیے وہ اس کی باتیں سن رہی تھی ، اس پتھر وجود کا احوال اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو بیان کر رہے تھے۔ لیکن جہانداد کو تو جیسے آج بولنا تھا۔ ” میں چاہتا ہوں اگر کل کو میں نہیں ہوتا تو آپ مضبوط بنیں ، ہمارے بچوں کو باپ کی کمی محسوس نا ہونے دیں ، ان کو فخر سے بتائیں کہ ان کے بابا سپر ہیرو تھے ، ایسے سپر ہیرو جو اپنے لیے نہیں جیتے بلکہ اپنی مٹی کے لیے جیتے ہیں ، اور وطن کے لیے سینے پہ گولی کھانے سے بھی ڈرتے۔ پھر آپ ان کو بتانا کہ ہمارے مذہب میں شہادت کا کیا رتبہ ہے۔” وہ مزید بولنا چاہتا تھا مگر الہام کی درد بھری سسکی نے اسے خاموش کروا دیا تھا ، اب اس میں آگے بولنے کی ہمت نہیں تھی۔
” جہانداد ۔” الہام نے آنسوؤں بھری آواز میں اسے پکارا تھا۔
” میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے ، کہ میں مزید کوئی سانحہ برداشت کر پاؤں گی ، آپ نے کتنی آسانی سے کہہ دیا سب ، آپ مجھے بتائیں کیا میری زندگی کی کوئی گارنٹی ہے ، آپ فوج والے ہیں تو بس آپ لوگوں کی ہی زندگی کو خطرہ ، خالد بن ولیدؓ نے کتنی جنگیں لڑی لیکن موت بستر پہ آئی ، تو موت کو لے کر صرف ایک فوجی کو ہی نہیں بلکہ ہر انسان کو آنکھیں کھولی رکھنی چاہیں کہ کبھی بھی کسی بھی وقت ہماری باری آسکتی، میں آرمی کی بہت بڑی فین ہوں ، ان کی قربانیاں ہمیں دشمن سے سےبجاۓ ہوۓ ہیں ، موت سے نہیں ڈرنا چاہیے اور حب وطن کی بات آۓ پھر تو سینہ تان کے کھڑے ہوجانا چاہئے لیکن میرا یہ بھی ماننا ہے کہ آپ کا خدا پہ یقین اتنا پختہ ہونا چاہے کہ آپ میدان کے جنگ سے زندہ فاتح لوٹو ، آپ کا یقین اتنا پختہ ہونا چاہیے کہ اس میں اگر ، مگر ،شاید، لیکن ، نہیں، کی جگہ نہیں ہونی چاہیے ، اگر ، مگر ،شاید کرنے والوں کے لئے سمندر دو ٹکڑے ہو کر راستہ نہیں بناتا ، اور نا ہی ان کے لیے آگ ٹھنڈی کی جاتی، معجزے صرف یقین والوں کے لیے ہوتے ہیں ، جہانداد میرا اتنا بڑا دل نہیں ہے کہ میں آپ کے نا ہونے کا سوچوں پتا نہیں لوگ کیسے اتنا بڑا دل کر کے کہہ دیتے ہیں انھیں اپنے شہید بیٹے ، خاوند پہ فخر ہے وہ بہت عظیم لوگ ہوتے ہیں ، میں اتنی عظیم نہیں ہوں ، اس معاملے میں ، میں خود عرض ہوں ، مجھے میرے اللہ پہ یقین ہے کہ آپ ہمیشہ دشمن کو ہارا کر زندہ سلامت میرے اور ہمارے بچوں کے پاس لوٹیں گے ، مجھے معاف کر دیں ، میں آپ کے لیے اتنا بڑا رتبہ نہیں چن رہی جہانداد کیونکہ ہم سب کو آپ کی ضرورت ہے ۔” بس اس سے آگے میں کچھ نہیں بول رہی ، نا ہی آپ بولیں ، میرا اللہ میرا یقین ہمیشہ بنائیں رکھے گا۔ ” وہ خاموش ہو چکی تھی، ہاتھ میں موجود مگ میں چاۓ ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ اب دونوں طرف خاموشی چھا چکی تھی۔ الہام نے چاۓ کا مگ ٹیرس پہ رکھ کر اپنا سر جہانداد کے سینے پہ رکھ کر آنکھیں بند کر لیں تھیں جبکہ جہانداد اس کے یقین پہ حیران تھا ، آج کے دور میں جہاں بندہ اپنے مسائل میں خدا کو ہی بھول ہی چکا ہے ، اسی دور کی لڑکی کو خدا پہ کامل یقین تھا ، جہاں وہ خود اگر ، مگر کا شکار تھا وہاں وہ کسی بھی شک کا شکار نہیں تھی۔ وہ مسکرایا تھا وہ انمول تھی ، محبت کیے جانے کے قابل، اس نے سر نیچے کر کے اسے دیکھا تھا جہاں وہ آنکھیں بند کیے پرسکون تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد کو گئے ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا۔ شاہ میر اور وریشہ کی شادی کی تاریخ طے کر دی گئی تھی۔ اور الہام اب بچوں کے ساتھ ساتھ شادی کی تیاریوں میں بھی مصروف ہوچکی تھی۔ جہانداد کو ماما نے پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ وہ زیادہ چھٹی لے کر آۓ تاکہ بھائی کا شادی کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے۔ الہام اور ماما شادی کی شاپنگ کرکے شام میں گھر پہنچی تھیں اور ٹی الاؤنج میں بیٹھ کر سب کپڑے وغیرہ ارینچ کر رہیں تھیں جبکہ بابا ٹی وی پہ کوئی ٹک شو دیکھنے میں مصروف تھے اور دونوں بچے قالین پہ بیٹھے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے۔۔ اچانک ٹی وی پہ نیوز الرٹ کی سرخی چلی تھی ، اور نیوز کاسٹر سکرین پہ نظر آئی۔
” آپ کو تازہ ترین خبر دیتے چلیں ، بلوچستان کے علاقے چمن بارڈر پہ سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے بیچ چھڑپ ، اہلکاروں نے بھرپور کاروائی کرتے تمام دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ، اس جھڑپ کے نتیجے میں دو فوجی زخمی جن کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔” ٹی وی کے سامنے بیٹھے تین نقوش سکتے کے عالم میں ٹی وی پہ نظریں جماۓ ہوۓ تھے، بابا نے فون نکل کر کال ملائی تھی لیکن سامنے سے کال نہیں اٹھائی گئی تھی۔ تینوں میں بے چینی بڑھی تھی مگر سوال کرنے کا حوصلہ کسی میں نہیں تھا۔ تبھی بابا کا فون بجا تھا ، اور سب کی توجہ اس طرف گئی تھی۔ انہوں نے فون اٹھایا تھا اور سامنے والے نے جانے کیا کہا تھا کہ ان کے چہرے کا رنگ اترا تھا۔
” ٹھیک ہے ، میں ہسپتال پہچ کر سب ارینچ منٹس دیکھتا ہوں۔”آج آواز میں وہ اعتماد نا تھا جو ہمیشہ ہوتا تھا۔ ہسپتال کا نام سن کر الہام اور ماما سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھ رہیں تھیں جیسے آنے والی سوچوں کی تردید چاہتی ہوں۔ دونوں کی آنکھوں میں جیسے ایک طوفان برپا ہو۔
” جہانداد کو گولیاں لگی ہیں، اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پنڈی لایا جا رہا ہے ، میں شاہ میر کے ساتھ ہسپتال جا رہا ہوں ، آپ لوگ دعا کریں ۔” سامنے کھڑا شخص یہ الفاظ ادا کرکے فورا وہاں سے چلا گیا تھا شاید وہ ان کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ ایسے لگا تھا جیسے کسی نے اونچائی سے زمین پہ پھینک دیا تھا۔ وہ ماں جس کا بیٹا موت سے لڑ رہا تھا ، وہ اپنے حواس کھوئی تھی ، اور وہ بیوی جس کا شوہر زندگی سے دور جا رہا تھا ، اس نے اٹھ کر ماما کو گلے لگایا تھا ، کچھ آنسو اس کی آنکھوں سے چھلکے تھے۔ وہ ایسی تھی جیسے کسی طوفان کی زد میں آنے والی کشتی ، جس کو موجوں کا مقابلہ کرکے ساحل تک جانا ہے۔ منہ سے کوئی الفاظ ادا نہیں ہوۓ تھے ، بھلا ایک ماں کو کیسے تسلی دی جاۓ ، بچے دادی کو ایسے روتے دیکھ پریشان ہوگئے تھے ، الہام کی سوچیں ماضی کی طرف گئی تھیں ، تب اس کے پاس ماں اور بھائی تھے تب وہ رو سکتی تھی لیکن آج اسے سامنے بیٹھی ماں کو سنبھالنا تھا ، آج وہ ایک ماں تھی آج اسے اپنے بچوں کو سنبھالنا تھا ، آج اس کے پاس رونے کا احتیار نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے !!
