Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
گاڑی ایک پوش علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ الہام سر جھکاۓ بیٹھی ہوئی تھی، جب کہ پلوشہ اس سے کوئی نا کوئی بات کر لیتی تھی جس کا جواب وہ اچھے سے دے رہی تھی۔ جہانداد فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا تھا جبکہ شاہ میر گاڑی ڈرائیور کر ریا تھا ، پلواشہ جس کا تعارف الہام سے وہ پہلے ہی کروا چکی تھی۔ تھوڑی دیر میں گاڑی ایک بڑے سے دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی۔ بڑے سے گھر کو برقی قمقموں سے بہت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ گاڑی لان کے بیچ بنے گیراج میں رکی۔ اور پلواشہ نے الہام کو گاڑی سے اتار کر اندر کی طرف قدم بڑھاۓ تھے جہاں اس پر پھولوں کی پتیوں کی برسات کی گئی تھی اور پھر اس کو بڑے سے لاوٴنج میں بیٹھایا گیا، جہاں اب صرف عورتیں موجود تھیں، اس لئے اب پلوشہ نے اس کا گھونٹ اوپر کر دیا تھا تاکہ سب خاندان والے اسے دیکھ سکیں۔ سب ہی بہت محبت سے اس سے ملے تھے ، اور وہ حیران بیٹھی سوج رہی تھی کہ شاید پٹھان عورتوں کی خمیر میں ہی محبت شامل ہے تبھی ان کو صرف محبت ہی بانٹنا آتی ہے، ابھی وہ یہ سوج ہی رہی تھی کہ ایک خوبصورت سی لڑکی اس کے پاس آکر بیٹھی تھی۔
” السلام علیکم الہام میں وریشہ ہوں جہانداد کی کزن ، میں تو اس کی فیورٹس میں آتی۔” وہ اپنا تعارف کروا کر خاموش ہوئی تھی، شاید وہ اپنے الفاظ سے الہام کو کچھ باور کروانا چاہا رہی تھی، لیکن الہام نے زیادہ نوٹس نہیں لیا تھا کیونکہ وہ دیکھنے میں ہی چھوٹی بچی سی لگ رہی تھی، الہام نے اس کا جواب بس مسکراہٹ سے دیا تھا۔ کافی ہلے گلے کے بعد الہام کو جہانداد کے کمرے میں لا کر بیٹھایا گیا تھا، جو بہت ہی یونیک طریقے سے سجایا گیا تھا۔ بیڈ کے سائیڈ ٹیبلز پہ پانی سے بھرے کانچ کے باؤلز میں گلاب کی پتیاں تیر رہیں تھیں اور ان کے پاس ہی چھوٹے چھوٹے دیے جل رہی تھے اسی طرح ڈریسنگ ٹیبل اور صوفے کے آگے موجود ٹیبل کی دونوں طرف بھی بولز اور دیے رکھے گئے تھے۔ جو کمرے کو مسحور کن بنا رہے تھے۔ کمرے کی دیواریں ہاف وائیٹ کلر میں رنگی تھیں جب کہ پردوں ، بیڈ شیٹ اور صوفے کا کلر گرے تھا۔ واش روم کے ساتھ ہی ڈریسنگ کارنر تھا جس کے ساتھ ہی گلاس سلائیڈ نگ ڈور تھا جو ٹیرس کی طرف کھلتا تھا جب کہ دوسری طرف کارنر کی طرف ڈریسنگ ٹیبل موجود تھا جس سے کچھ فاصلے پر صوفہ تھا جس کے آگے ٹیبل تھا۔الہام کے ساتھ پلوشہ موجود تھی۔
“الہام جہانداد کو زیادہ سجاوٹ پسند نہیں ، اس لیے اس نے اپنے طریقے سے بس اتنی ہی کمرے ہی سجاوٹ کروائی ہے ، امید ہے تمہیں اچھی لگی ہوگی، چلو اب میں چلتی ہوں اور جہانداد کو بھیجتی ہوں اور کھانا بھی بھجواتی ہوں دونوں ایک ساتھ کھا لینا۔” وہ الہام کا گھونگھٹ ڈالتی چلی گئی تھی۔اور الہام سانس روکے بیٹھی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی دروازہ کھولا تھا اور کوئی اندر داخل ہوا تھا اور کچھ ہی پل میں الہام کو کوئی اپنے پاس بیٹھتے محسوس ہوا تھا۔
” السلام علیکم ۔” اسے جہانداد کی آواز پاس سے آئی تھی۔ دھڑکن نے رفتار پکڑی تھی۔
” وعلیکم السلام ” دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔ کل تک جس کے سامنے وہ آرام سے بات کر لیتی تھی آج جب وہ محرم کے روپ میں موجود تھا تو شرم وحیا نے خود ہی دل میں گھر کر لیا تھا یا شاید اللہ نے نکاح میں اتنی طاقت رکھی ہے کہ اس طاقت کے زیر اثر آپ اسی طرف کھینچتے چلے جاتے، جیسے زمین اپنے مدار میں سے کسی چیز کو نکلنے نہیں دیتی ایسے ہی نکاح بھی پھر جھٹلانے نہیں دیتا ، اور پھر آپ اس انسان کو اپنا لیتے ہو ، جیسے ہر چیز زمین کو اپناۓ ہوۓ ہے۔
” آپ تھک گئی ہوں گی۔” جہانداد نے سوال کیا تھا۔
“نہیں ، میں ٹھیک ہوں۔” مدہم آواز میں جواب دیا گیا تھا۔
” ویسے آپ کو نہیں لگتا کہ اصل منہ دیکھائی آپ جیسی دلہنیں ڈیزرو کرتیں ، باقی کیسے حق دار ہوسکتیں جن کو پہلے سے ہی دلہے دیکھ چکے ہوتے۔” وہ آخر میں ہلکا سا ہنسا دیا۔ جبکہ الہام خاموش بیٹھی اس کو سن رہی تھی جس کے لہجے سے کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ پٹھان ہے۔
“آۓ ڈونٹ ہیو وڈز ،کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ میں آپ کا گھونگٹ اٹھانے سے پہلے میں کیسا فیل کر رہا ہوں اور آپ یقین مانے اس کے بعد بھی میرے پاس الفاظ کا فقدن ہوگا، آپ کو جب پہلی بار دیکھا مجھے تب بھی آپ کا چہرہ دیکھنے کی خواہش نہیں ہوئی کیونکہ جو اندر سے خوبصورت ہوتے ہیں ان کی ظاہری خوبصورتی سے ہمیں سروکار نہیں رہتا ، آپ کہہ سکتے کہ آپ کا اندر ہمیشہ ظاہر پہ ڈومینٹ رہتا ہے، لائیک اندر اچھا ہوگا تو باہر کیسا، ڈازنٹ میٹرز لیکن آپ کا اندر خوبصورت نہیں تو باہر جتنا مرضی پیارا ہو ، یو آر یوز لیس ۔” الہام حیران اس کی باتیں سن رہی تھی ، اور دل کے کسی کونے میں اسں کی سوچ پہ خوشی نے ڈیرا ڈالا تھا۔ پھر جہانداد نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تھا۔اور جیسے کسی جادوگر نے اس پر کوئی طلسم پھونک دیا تھا جس کے زیر اثر وہ پتھر کا ہوگیا ہو۔ وہ بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔ الہام کنفیوز ہوئی تھی جس کے باعث اس نے سر جھکا لیا تھا اس کے اس عمل سے جہانداد کا طلسم ٹوٹا تھا۔
” سی آۓ ڈونٹ ہیو وڈز ، خوبصورت تو آپ ہیں ، لیکن آپ کے چہرے پہ کچھ ایسا ہے کہ انسان بس دیکھتا رہے ، لائیک جیسے چاندنی رات میں چاند سے نظر نہیں ہٹ پاتی ، آپ میں کچھ ایسی چمک ہے کہ آپ کو ایک بار دیکھنے والا پھر دیکھنا چاہے گا” الہام کو اس کی باتیں عجیب لگی تھیں۔ ” آپ کو پتا ہے الہام ایسا کیوں ہے کیونکہ آپ کو کبھی کسی نامحرم نے کبھی نہیں دیکھا ، اللہ تو باقاعدگی سے نماز ادا کرنے والے کا چہرہ نور سے بھر دیتا اور آپ نے تو پردے کو اپنایا جس کو شہادت سے بھی افضل قر ار دیا گیا تو پھر آپ کے چہرے کو بھی ایک روشنی عطا کردی گئی ہے کہ دیکھنے والا بس دیکھتا رہ جاۓ۔” اور اب الہام کو اس کی باتیں سمجھ آئیں تھیں جبکہ وہ اب اپنی پاکٹ سے کچھ نکل رہا تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سا گولڈ بال پنڈینٹ تھا، اس نے آنکھ کے اشارے سے اسے پہنانے کی اجازت چاہی تھی جس پہ الہام نے اسے سر ہلا کر اجازت دی تھی۔ اب تک الہام کو جہانداد کے بارے میں اتنا آئیڈیا ہو چکا تھا کہ اس کی پسند لاجواب ہے۔ وہ جب پہنانے کے لیے آگے ہوا تھا تو الہام کی سانسیں تھمی تھیں ، اس کی خوشبو محسوس ہوئی تھی ، ایک انجانے سے خوبصورت احساس نے دل کو آن گھیرا تھا۔ جو چلا گیا تھا اس کی تو خوشبو بھی روٹھ گئی تھی اور جو پاس تھا اس کی خوشبو میسر تھی، اس سوچ نے آنکھیں بھگوئی تھی۔
“آپ سےریکویسٹ ہے کہ آپ اس کو ہمیشہ پہن کے رکھیں گی۔” اس نے پہنا کر پیچھے ہوتے کہاتھا جبکہ اس نے الہام کی آنکھوں کی نمی محسوس کی تھی۔
“الہام مجھے پتا ہے آپ کے لیے مشکل ہے ، میں آپ سے کبھی نہیں کہوں گا، آپ عمر کو بھول جائیں ، آپ ان کی باتیں بھی مجھ سے کرسکتی ہیں ، آۓ ول ناٹ مائنٹ آیٹ آل ، میں نے آپ سے پہلے بھی کہا کہ میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں ، اور حیقیت یہی کہ آپ مجھ سے پہلے بھی کسی کے نکاح میں رہی ہیں۔ اور جہاں تک میری بات تو آپ کو مجھ سے بھی محبت ہوجاۓ گی ، نکاح کا بندھن بڑا مضبوط ہوتا ہے ،اس کے الفاظ میں ایک ٹہھراؤ اور آنکھوں میں سچائی تھی، میں کم ظرف مردوں میں سے نہیں ہوں ، عمر کے لئے رونے کے لیے آپ کو اگر میرا کندھا بھی چاہے ہوا تو میں دوں گا ، محبت ہے کہہ دینا بڑا آسان ہوتا لیکن نبھانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔” اور الہام کا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ جہانداد کے کندھے پہ سر رکھے رو پڑی تھی۔ وہ واقعی مرد ہو کہ بہت بڑے ظرف کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ جہانداد نے آہستہ سے اس کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا اور آہستہ آہستہ سہلا رہا تھا وہ اسے رونے دینا چاہتا تھا۔ اس بات سے انجان کہ اس کا بڑا پن اس کے دل میں جگہ بنا رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد الہام اس سے الگ ہوئی تھی۔ اور اس نے اپنی آنکھیں صاف کی تھیں۔ جب کہ جہانداد نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس لے کر اس کی طرف بڑھایا تھا۔ اس نے دو گھونٹ پی کر کلاس پھر سے جہانداد کو دیا تھا جو اس واپس جگہ پر رکھا تھا۔
” فیلنگ گوڈ ” جہانداد نے پوچھا تھا، جس پہ الہام نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
“ویسے یہ آنسو آنکھوں کا حسن دوبالا کر دیتے ہیں۔” جہانداد نے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓکہا تھا۔ جس پہ الہام آنکھوں کو پھر سے صاف کرتے مسکرائی تھی۔
“اور نم مسکراتی آنکھوں میں جادوئی کشش ہوتی ہے کہ بس انسان دیکھتا رہے۔” اس نے الہام کو دیکھتے ہوۓ کھوۓ انداز میں کہا تھا جس پہ الہام نے سر جھکا لیا تھا۔
“اور یہی آنکھیں جب جھک جائیں تو اگلے انسان کو زیر کردیتیں ہیں۔” جہانداد نے ویسے ہی کھوۓ ہوۓ انداز میں کہا تھا۔
“جہانداد۔” الہام نے چہرہ اوپر کر کے اسے پکارہ تھا۔اس نے ایک دم سے آنکھیں پوری کھول کر الہام دیکھا تھا جیسے وہ خود کو یقین لا رہا تھا کہ الہام نے اسے اس کے نام سے پکارا ہے، جو اب منتظرسی اس کو دیکھ رہی تھی۔
“ہممم جی جی بولیں۔” یقین آنے پہ اس نے فورا جواب دیا۔
“میں نے نکاح پہ سائن کرتے وقت ہی آپ کو دل سے اپنایا تھا ، عمر ہمیشہ اچھی یاد بن کر ساتھ رہیں گئے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتی ہوں میں اس رشتے کو پوری سچائی اور رضا مندی سے نبھاؤں گی، اللہ کا یہی فیصلہ ہے میرے لئے ، میں اس رشتے کو تہہ دل سے اپناتی ہوں۔” وہ بول رہی تھی اور جہانداد حیرت سے اس کو دیکھ رہا تھا، سامنے بیٹھی مضبوط لڑکی جو تھوڑی دیر پہلے اس کے کندھے سے لگی رو رہی تھی اب اپنا سب کچھ اس کو سونپنے کو تیار تھی۔
“میرے پاس الفاظ نہیں ہیں میں کیا کہوں، تھینک یو سو مچ۔” وہ سامنے بیٹھا اسے دیکھے بولا تھا۔ جب ڈور پہ دستک ہوئی تھی اور جہانداد کے دروازہ کھولنے پہ پلوشہ کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئی تھی۔اور وہ کھانا دے کر واپس چلی گئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
صبح فجر کے وقت الارم بجا تھا جس پہ اس کی آنکھ کھلی تھی۔ جو اس نے رات کو سونے سے پہلے لگایا تھا۔ الارم بند کر کے اس نے لیمپ جلائی تھی اور بیڈ پہ اپنی ساتھ والی جگہ پہ نظر دوڑائی تھی جو خالی تھی ، اپنی حیرت کو پس پشت ڈال کر ڈریسنگ سے اپنے کپڑے لے کر وہ واشروم گئی تھی۔ اور تھوڑی دیر میں وہ لال رنگ کی قمیض شلوار میں دوپٹہ نماز کے لئے سر پہ لئے باہر آئی تھی۔ اور جاۓ نماز کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تھی جو اسے ڈریسنگ پہ پڑی مل گئی تھی۔ کمرے میں موجود ہلکی تاریکی اور گلوبوں کی خوشبو مسحور کن سما بندھے ہوئی تھی۔ اس نے اپنی جاۓ نماز بچھائی تھی اور نماز کی نیت بندھی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ بندھے تھے، اور دیر تک وہ اپنے رب سے محو گفتگو رہی تھی جب اسے احساس ہوا تھا کہ کوئی اس کے پاس آکر بیٹھا ہے، دعا ختم کر کے جب اس نے نظر دوڑائی تو اس نے جہانداد کو اپنے ساتھ نیچے زمین پہ بیٹھے پایا تھا۔
” آپ” اس کی نظروں سے پزل صرف اتنا کہہ کہ نظر جھکا گئی تھی۔
” میں نماز پڑھنے مسجد گیا تھا ، بابا نے بچپن سے ایسی عادت ڈالی اور وہ اتنی پکی ہوگئی ہے کہ جو ہوجاۓ نماز مسجد میں ہی پڑھنی ہے۔” اس نے اس کی ادھوری بات کو سمجھ کہ اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔ الہام نے پھر سے نظر اٹھا کر جہانداد کی طرف دیکھا تھا ، بلیک ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ہی نائٹ پینٹ پہنے ، فوجی ہیر کٹ میں کچھ بال ماتھے پہ آرہے تھے ، بھوری آنکھیں بے پناہ نرمی لئے ہوۓ تھیں، وہ فوجی اور پٹھانی حسن دونوں لیے ، بازو ایک گھٹنے کے گرد بندھے بیٹھا ہوا تھا۔ جہانداد کی نظر اس کی ہاتھوں پہ موجود مہندی پہ تھی۔
“آپ کے ہاتھوں پہ مہندی بہت اچھی لگ رہی ہے،یہ آپ ہمیشہ لگا کر رکھنا ، اس کا رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑنا چاہیے ۔” پتہ نہیں وہ حکم دے ریا تھا یا ریکویسٹ کر رہا تھا، الہام نے غور نہیں کیا تھا کیونکہ اس کے الفاظ الہام کو ماضی میں لے گئے تھے۔ لیکن اس نے جلد اپنی کیفیت پہ قابو پایا تھا اور سر ہاں میں ہلایا تھا۔
“میں جاگنگ کے لیے جا رہا ، آپ ساتھ چلیں گی۔” وہ اٹھا تھا۔
“میں کیسے۔” اس کے ساتھ اٹھ کر جاۓ نماز تہہ کرتے اس نے حیرت سے کہا تھا۔
” میرے ساتھ چل کر ، ہمارے گھر میں سب جاتے ، ماما بابا ایک ساتھ اور میں اور شاہ میر ۔” اس نے الہام کے ہاتھ سے جائے نماز لے کر ٹیبل پہ رکھتے ہوۓ ہنس کر کہا تھا۔
“لیکن سب مہمان ہیں ، اچھا نہیں لگتا۔” الہام نے بیڈ پہ بیٹھتے ہوۓ کہا تھا۔
“چلیں پھر ابھی پانچ ہوۓ ہیں، اس نے دیوار پہ موجود گھڑی کی طرف دیکھتے کہا تھا، ” آپ سو جائیں ، میں آکر جگا دوں گا۔” یہ کہتے ہوۓ آخر میں آگے بڑھ کر جہانداد اس کا گال تھپتپایا تھا اور پھر اپنے ہاتھوں سے اپنے ماتھے پہ آۓ بال پیچھے کرتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ الہام نے اپنا ہاتھ اپنے گال پہ رکھا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ اپنا لمس چھوڑ گیا تھا۔ محرم کے لمس میں جادوئی اثر ہوتا ہے ، دنیا کا خوبصورت احساس جو انسان کو محبت سے روشناس کرواتا ہے۔ پھر اپنا ہاتھ ہٹا کر خود پہ ہنس کر وہ بستر میں ڈھیر ہوئی تھی۔
جاری ہے !!
