Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

الہام کے نکاح کو آج دو دن ہو چکے تھے۔ صبح کے وقت الہام ٹی وی لاوٴنج میں آئی جہاں پہلے ہی ابوبکر عائشہ بیگم اور شبیر عالم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
“الہام بیٹے آپ شام کو تیار رہنا ، ابوبکر آپ کو ہوسپٹل ساتھ لے جاۓ گا، وہاں سے عمر آپ کو پک کر لیں گے، عمر نے آپ کو اس کے اولڈ ایج ہاوس سینٹر لے کر جانا ہے۔ گھر سےلے جانے کےلئے اس لئے منع کر دیا کہ کہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی، لوگوں کو باتیں کر نے کاموقع مل جائے گا۔” عالم شبیر نے الہام کو کہا تھا۔
“جی اچھا ابو ، ” الہام نے سر نے اثبات میں ہلا کر جواب دیا تھا۔لیکن گھبراہٹ اس کے چہرے سے واضح تھی۔
“ٹھیک ہے الہام شام کو تیار رہنا، پانچ بجے نکلیں گے” ابوبکر نے الہام کو جانے کا وقت بتایا تھا۔جس پہ الہام نے مخص اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
شام میں الہام تیار تھی۔ اس نے سکن کلر کے عباۓ پہ اسکارف لے رکھا تھا۔ جب کہ حرا اس کے پاس بیٹھی تھی۔ ابوبکر کمرے میں آیا تھا۔
“چلیں الہام بچے نکلتے ہیں” بیلک جینز ٹی شرٹ پہنے لاپرواہ سے حلیے میں الہام کے کمرے میں جھونکتے ہوۓوہ الہام سے مخاطب ہوا تھا۔
“جی بھائی” الہام نے یہ کہتے ہوۓ اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا تھا۔
“مجھے بھی لے چلیں اس بہانے میں آپ کا ہوسپٹل دیکھ لوں گی” حرا نے بچوں کی طرح منہ بنا کر ابوبکر سے درخواست کی تھی۔جس پہ الہام نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔
“محترمہ وہ ہوسپٹل ہے کوئی پارک نہیں ، جو آپ وہاں جا کر سیر کریں گی” ابوبکر نے ہاتھ اٹھا کر ہلاتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
“تو محترم میں نے کون سا وہاں جھولے لینے ہیں” حرا کی طرف سے جواب آیا تھا۔
“آپ کو دیکھ کرمیرے مریض مزید بیمار پڑ جائیں گے” ابوبکر نے لاپروائی سے جواب دیا تھا۔
“ان بچاروں کا بھی کیا قصور ، ہر وقت سڑی ہوئی شکلیں دیکھ دیکھ کر ان کو عادت ہو گئی ہے کہ اب وہ کوئی بھلی شکل دیکھ ہی نہیں سکتے۔” حرا نے حسب عادت پلکیں جپکاتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
“ہا ہا، نو کمنٹس ” ہنس کہ کہتے ہوۓ وہ دروازے سے باہرنکل گیا تھا جبکہ اس کی ہنسی حرا کو آگ لگا گئی تھی۔ حرا منہ بناۓ کھڑی الہام کو دیکھ رہی تھی، جو ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ابوبکر ،الہام کو لے کر جب ہوسپٹل کے پہنچا تو عمر کو پارکنگ میں ہی موجود پایا۔
“ارے تمہارا شوہر تو وقت کا بہت پابند ہے، ابوبکر نے ہاتھ سے عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا جو اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔الہام نے ابوبکر کے ہاتھ کے آشارے کی سمت نظر دوڑائی تو سامنے کھڑی بلیک لینڈ کروزر میں اس کو بیٹھا پایا۔
“ویسے الہام میں نے سنا تھا اللہ ہمیشہ اپنے پسندیدہ بندوں کے لئے دنیا قدموں میں بچھا دیتا ہے،وہ کسی چیز کی خواہش کیا صرف سوچ لیں تو ان کو عطا کر دی جاتی ہے، ابھی عمر کو میں نے اس گاڑی میں دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا ہے اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کے لئے سچ میں دنیا بھی قدموں میں لا کر رکھ سکتا ہے، یہ گاڑی تو اس کے لئے کوئی چیز ہی نہیں۔”ابو بکر بول رہا تھا۔ جب کہ وہ خود حیران تھی ، یہ اللہ کی اپنے بندے سے محبت کا کون سا مقام تھا جہاں بندہ صرف پسندیدگی کا اظہار کرتا ، خواہش بھی نہیں کرتا لیکن وہ اس کو عطا کر دی جاتی ہے، ہاں اللہ چاہے تو دنیا قدموں میں لا کر رکھ دے، لیکن اس سے پہلے انسان کو دنیا کو ٹھوکر مارنی ہوگی کہ مجھے تو نہیں چاہیے مجھے تجھے بنانے والا چاہیے، پھر اس کو دونوں عطا کر دئیے جاتے، ہاں لیکن یہ بات بھی بھی سچ تھی کہ سامنے بیٹھے شخص کے ساتھ وہ میلوں پیدل بھی چل سکتی تھی، کسی خستہ حال بس میں بھی اس کے پہلو میں بیٹھ سکتی تھی، اہم تو صرف اس کا ساتھ تھا۔ الہام سوچ میں گم تھی کہ ابوبکر نے اس کی سائیڈ والا ڈور کھولا تھا۔اور وہ باہر نکلی تھی۔
“الہام بچے آپ جائیں عمر رات کو آپ کو یہیں ڈراپ کر دیں گے”ابوبکر نے مسکراتے ہوئے الہام سے کہا تھا، جبکہ عمر ابوبکر کے ساتھ کھڑا الہام کو دیکھ رہا تھا،وہ بلیک جینز پہ گرے ٹی شرٹ ،سر پہ بلیک سپورٹ کیپ پہنے ہوۓ تھا ، نکاح کےبندھن نے کتنا کچھ بدل دیا تھا ،آج وہ اسے دیکھ سکتا تھا، ساتھ لے جا سکتا تھا۔ جبکہ الہام نروس سی کھڑی ابوبکر کو دیکھ رہی تھی۔
“عمر میری بہن کا خیال رکھنا ، ویسے اکیلے میں تو یہ کافی کانفیڈنٹ ہوتی لیکن جب اس کو کسی اپنے کا سہارا ہوتا تو پھر یہ اس کا کندھا ڈھونڈتی ہے، اور مجھے لگتا ہے تمہارے ساتھ بھی اس نے یہی کرنا ہے۔” ابوبکر نے مسکراتے ہوئے الہام کے سر پر ہلکی سی چت لگائی تھی۔ جبکہ اس نے آگے سے ابوبکر کو گھورا تھا۔ جبکہ عمر مسکرایا تھا۔
“جی میں ان کا خیال رکھوں گا۔” عام سے الفاظ تھے لیکن اپنائیت اور احترام سے بھرپور تھے۔ پھر ابوبکر نےالہام کو ابوبکر کی گاڑی میں بیٹھا کر ان کو سی آف کیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام گاڑی میں گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ گاڑی میں مسحورکن خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ جو یقینا عمر کے پرفیوم کی خوشبو تھی۔
” کیسی ہیں آپ ” عمر نے گفتگو کا آغاز کیا۔
“الحمداللہ! میں ٹھیک ہوں ،آپ کیسے ہیں ” نظریں ویسے ہی جھکاۓ دھیمی آواز میں جواب دیا گیا تھا۔ عمر کے چہرے پہ مسکان پھیلی تھی ، تو گویا اس نے پچھلی بار کی طرح اس کو اگنور نہیں کیا تھا بلکہ اس نے اس کی طبعیت پوچھی تھی۔
” الحمداللہ میں بھی ٹھیک” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ جواب دیا تھا۔ ڈرائیو کرتے ہوئے اس کی توجہ مسلسل الہام کی طرف تھی۔ جو مسلسل گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“آپ بیشک مجھے نہ دیکھیں، لیکن آس پاس دیکھ سکتی ہیں” الہام نے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو ڈرائیو کرنے میں مشغل تھا ، لیکن چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی۔الہام کی نظریں اس پر بے احتیار رک گئیں تھیں ،وہ کتنا مکمل شخص تھا، کہ خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے آج تک جتنے الفاظ استعمال ہوۓ ہوں ،ان سب کی تاثیر اس کی ایک مسکراہٹ پہ ختم ہوجاۓ۔ وہ اس کو نواز دیا گیا تھا ، اللہ نے اس کا تن من دونوں خوبصورت بناۓ تھے۔
“کیا میں بری ڈرائیونگ کر رہا ہوں” عمر نے الہام کو مسلسل خود کو گھورتے پا کر سوال کیا تھا۔ عمر کی آواز پر الہام اپنی سوچ سے باہر میں آئی تھی۔
“نہیں” ، فورا جواب دے کر الہام نے منہ کھڑی کی طرف کر لیا تھا۔ عمر مسکرایا تھا۔ باہر بادل چھاۓ ہوۓ تھے۔ اور لوگ موسم کو انجوائے کرنے کی عرض سے باہر نکلے ہوۓ تھے۔
“آپ کو میرا تحفہ کیسا لگا ، غریب آدمی ہوں زیادہ مہنگا تحفہ نہیں افواڈ کرسکتا۔” اس کے غریب کہنے پہ الہام نے شاک کے عالم میں موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔اور پھر اس نے جان بوجھ کر پہلے پوری گاڑی پہ نظر دوڑائی تھی، اس کے بعد ڈش بورڈ پہ موجود اس کے لیٹیسٹ آئی فون کودیکھا تھا اور آخر میں اس کے ہاتھ میں موجود رولیکس گھڑی کو دیکھا تھا ، مقصد اس کو بتانا تھا کہ غریب ایسے ہوتے ہیں۔ الہام کے اس انداز پر عمر نے قہقہ لگایا تھا۔
“گاڑی بابا نے میری ڈگری ختم ہونے پہ مجھے گفٹ کی ، ماما نے فون دیا، جبکہ گھڑی نمرہ (بہن) نے باہر سے بھیجی ، خود تو میں معمولی سی بابا کے آفس میں جاپ کرتا ہوں ،ہاں یہ کپڑے میں نے خود کے پیسوں سے لیے ہیں ،” اس نے اپنی ٹی شرٹ کو پکڑ کر منہ بنا کر الہام کو کہا۔ جبکہ الہام نے اس کے اس انداز پہ اپنی ہنسی دبائی تھی۔ عمر الہام کو اپنے ساتھ ایزی فیل کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
“خیر آپ کو تحفہ کیسا لگا” اس نے سڑک پر نظریں جماۓ پھر سے الہام سے پوچھاتھا۔
“آپ کی چوائس بہت خوبصورت اور منفرد ہے۔اور مجھے نہیں لگتا تحفے کی خوبصورتی اس کے قیمتی ہونے سے ہوتی ہے،میرے نزدیک تحفے کی پسندیدگی ، ناپسندیدگی کا تعلق دینے والے انسان سے ہوتا ہے، جب دینے والا انسان آپ کے لیے قیمتی ہو تو پھر چاہیے وہ ایک مٹھی ریت ہی کیوں نا بھر کر دے، وہ بھی قیمتی لگنے لگتی ہے،”الہام نے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا تھا۔عمر نے نظریں سامنے سے ہٹا کر اپنے ساتھ بیٹھی پیاری سی لڑکی کو دیکھا تھا، وہ چوبیس سال کی لڑکی اپنی عمر کے لحاظ سے بہت بڑی سوچ رکھتی تھی۔ وہ خود بتیس سال کا تھا اور اس کو لگتا تھا الہام کی سوچ میں پحتگی نہیں ہوگی لیکن الہام اس کو پہلے دن سے حیران کر رہی تھی۔وہ مسکرایا تھا، اور نظریں دوبارہ سڑک پہ کر دیں تھیں۔
“اس کا مطلب ہے میں آپ کے لیے قیمتی ہوں، اس نے لبوں پہ آئی مسکراہٹ چھپائی تھی۔” اس کو الہام کا بے احتیاری میں کیا گیا اظہار اچھا لگا تھا۔ الہام اس کی بات سن کر خاموش ہوگئی تھی۔ عمر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی، وہ اس کو نروس نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس لیے بات کو بدلنا ضروری سمجھا۔
“آپ صرف میری ایک فیملی سے ملی ہیں ، یہ میری دوسری فیملی ہےلوگوں کے لئے یہ ایک اولڈ ایج ہاؤس ہے لیکن میرے لیے یہ میرا دوسرا گھر ہے، ان سے ملوانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ عمر کی دو فیملیز ہیں۔ مصر سے آنے کے بعد سب سے پہلے میں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی، یہاں سٹاف کے علاوہ چالیس بزرگ مرد اور عورتیں ہیں جو میری ذمہ داری ہیں۔میں ان سب کا بیٹا ہوں،میں آفس جانے سے پہلے روز ان سے مل کر جاتا ہوں ، پھر شام میں آفس سے گھر جانے سے پہلے ان سے مل کر جاتا ہوں یہ سب میری راہ دیکھتے ہیں، میں اپنے نکاح والے دن شام کو نہیں جا سکا رات کو جب گیا تو سب میری راہ دیکھ رہے تھے ان سب کو لگا میں شادی کے بعد بدل جاوں گا وہ مسکرایا تھا ،سب مجھے شکایتی نظروں سے دیکھ رہے تھے پھر سب کو میں نے سمجھایا کہ وہ آپ لوگوں کی بیٹی بنے گی ، آپ کو سب اس لیے بتا رہا ہوں کہ یہ سب میری زندگی کا اہم حصہ ہیں ، میری بیوی کو ان سب کو اپنانا ہے ، جو میرے اپنے ہیں، ان سب نے مجھے بیٹا بنایا ہے ، ان کی سگی اولاد جب ان سے منہ موڑ کر یہاں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جب خون کے رشتوں سے بھی بھروسہ اٹھ جاتا ہے ،اس کے بعد بھی ان سب نے مجھ پر بھروسہ کیا جن سے میرا خون کا رشتہ بھی نہیں ہے،انہوں نے مجھے پیار دیا مجھے بیٹا کہا تو پھر میں ان کا بیٹا بن گیا ، خون سے تو ان کا بھروسہ اٹھ گیا ہے ، میں احساس کے رشتوں سے ان کا بھروسہ نہیں اٹھانا چاہتا۔ آپ میری بیوی ہیں اور مجھے یقین ہے جیسے میں ان کا بیٹا بن گیا ہوں آپ ان کی بیٹی بن جائیں گی۔” وہ حیران اس کو دیکھ رہی تھی، کیا آج کی دنیا میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، ہاں شاید پائے جاتے ہیں، تبھی تو دنیا ابھی تک قائم ہے۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب عمر بڑے سے دروازے سے گاڑی اندر لے کر گیا تھا۔یہ ایک بہت بڑا گھر تھا جہاں دور تک ہرا بھرا لان پھیلا ہوا تھا۔الہام کو لگا تھا وہ کسی سرکاری طرز کی عمارت میں جائیں گے۔ عمر گاڑی روک کر باہر نکلا تھا اور الہام کے لیے دروازہ کھولا تھا۔الہام باہر آئی تھی۔ اور عمر نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا تھا۔جس پہ وہ دروازے کی طرف چل پڑی تھی۔ دروازے کے پاس پہنچ کر عمر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا۔ دروازے سے انٹر ہو کے سامنے جھوٹا سا ریسپشن بنا تھا۔
اسلام علیکم عمر بھائی، ریسیپشن پر موجود ینگ سے لڑکے نے بھرپور مسکراہٹ سے عمر کو سلام کیا تھا۔
وعلیکم اسلام ، اور بھائی کیا چل رہا ہے ،یہ بزرگ لوگ آج مجھے باہر رسیو کرنے نہیں آۓ۔ عمر نے تعجب سے پوچھا تھا۔
“بھائی آج آپ جلدی آگئے ہیں، سب مغرب کی نماز ادا کر رہے ہیں۔” لڑکے نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
” تم نےنماز نہیں پڑھی” عمر نے گھورتے ہوئے سوال کیا وہ لڑکا مسکرایا تھا بھائی میں پہلے ادا کر لیتا ہوں تاکہ یہاں موجود رہوں۔ باقی سٹاف اور بزرگ لوگ ایک ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔الہام ان دونوں میں بھائیوں والی بونڈنگ دیکھ سکتی تھی۔اتنے میں سٹاف کے باقی لوگ بھی آ گئے تھے ، عمر سب سے ملا تھا،الہام کو وہ سب بات کرتے ہوۓ ایک فیملی کی طرح لگ رہے تھے۔یہاں کا سارا سٹاف مردوں پر مشتمل تھا۔عمر نے ان سب کا تعارف الہام سے کروایا تھا۔
” ہمیں ہمیشہ سے تجسس رہتا تھا کہ عمر بھائی کی وائف کیسی ہوں گی، کبھی کبھی ہم سوچتے تھے کہ کیا کوئی ایسی لڑکی ہو گی جو عمر بھائی کو ڈیزرو کرتی ہو گی، لیکن آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بالکل آپ جیسی ہی لڑکی عمر بھائی کو ڈیزرو کرتی ہے” ان میں سے ایک لڑکے نے کہا۔ان سب کی آنکھوں میں الہام کے لئے احترام تھا۔وہ سر جھکا ۓ کھڑے تھے۔
“شکریہ” الہام نے مخص ایک لفظ میں جواب دیا تھا۔پھر وہ عمر کے ساتھ ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ جہاں صرف قالین بچھی ہوئی تھی ، شاید یہاں سب نماز ادا کرتے تھے۔عمر کو دیکھ کر وہاں موجود سب لوگ عمر کی طرف چل کر آۓ تھے، اب عمر ان سب سے بھاری بھاری مل رہا تھا، وہ سب کے ہاتھ چوم کر ان سے مل رہا تھا۔ وہ سب لوگ کافی ضعیف تھے۔ چہرے پہ جھریاں، کمر میں جھکاو ، اور آنکھوں میں اپنوں کی بے رخی لیے وہ عمر کے ذریعے اپنا غم بھولنے کی کوشش کر رہے تھے، الہام کو لگا اس کے دل پہ جیسے کسی نے کچھ نوکیلی چیز مار دی ہو، کوئی اتنا سنگدل کیسے ہو سکتا ہے۔ کیسے اپنے جان سے پیاروں کو کوئی چھوڑ سکتا ،اس نے اپنی آنکھوں میں نمی محسوس کی تھی۔
“آپ لوگ اپنی بیٹی سے نہیں ملیں گے” عمر نے ان سب کی توجہ الہام کی طرف دلوائی تھی ،جو اپنے آنسو ضبط کئے کھڑی تھی۔ان سب نے اس کی طرف دیکھا تھا۔الہام کو عبایا نقاب میں دیکھ کر ان سب کر تاثرات بدلے تھے۔ان سب نے پھر سے عمر کی طرف دیکھا تھا۔
“عمر کیا یہ ہے ہماری بہو ” انھوں نے تعجب سے عمر سے پوچھا تھا۔
“بہو نہیں بیٹی” الہام کی طرف سے جواب آیا تھا۔ سب نے الہام کی طرف دیکھا تھا۔ ان کو جواب مل گیا تھا، سب کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
“آپ لوگ اپنی بیٹی سے نہیں ملیں گے” الہام نے مزید کہا تھا۔سب کے چہروں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔ سب نے باری باری آکر الہام کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ عمر پاس کھڑا مسکرا رہا تھا، پاس کھڑی لڑکی کچھ دنوں میں اسے بہت پیاری ہوگئی تھی۔ اچانک الہام کا فون بجا تھا وہ کال سننے کے لیے ذرا سائیڈ پہ چلی گئی تھی۔جب اس نے کال بند کی تو اس نے عمر کو ان سب کے ساتھ نیچے قالین پہ بیٹھے پایا ، وہ سب کے درمیان میں بیٹھا سب کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ قصے جو ان کے بیٹوں اور ان کے پوتے ،پوتیوں نے سننے تھے، وہ عمر سنتا تھا۔ ان کی باتوں پہ مسکراتا ، قہقے لگاتا ، ان کے ہاتھ چومتا وہ بلاشبہ دنیا کا سب سے خوبصورت مرد تھا، الہام کی نظریں اس پہ تھی وہ سوچوں میں الجھی تھی، اس نے سپر ہیروز موویز میں دیکھے تھے لیکن وہ آج اصل ذندگی میں سپر ہیرو دیکھ رہی تھی۔اس نے ہمیشہ پردہ کیا ، کبھی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ، اس نے ہمیشہ اپنی ذات پہ دوسروں کو ترجیح دی ، اپنی خواہشات قربان کر دیں تو آج بدلے میں اس کو عمر سے نواز دیا گیا تھا۔اللہ کے لیے دنیا چھوڑ دو تو وہ بدلے میں ایسا عطا کرتا ہے جس کا آپ گمان بھی نہیں کرسکتے جس کے آگے سب فنٹیسی بھی مدہم پڑ جاۓ ،ایسا جو کسی معجزے جیسا ہو ،خوبصورت راستے کا انتخاب کرو گے تو منزل بھی خوبصورت ہوگی۔اس نے جب بھی ایسے نیک مرد کی بات کی یہی سننے کو ملا کہ آج کل ایسے مرد نہیں پاۓ جاتے، شاید نیک مرد کو پانے کے لئے پہلے ان کے قابل بننا پڑتا ہے، جب ہم خود ہی اچھے نہیں ہوں گے توہمیں ایسے مرد عطا بھی نہیں کیے جائیں گے اور ہمیں لگے گا کہ دنیا میں ایسا مرد پایا ہی نہیں جاتا۔ عمر نے اسے ایسے کھڑے پایا تو اسے ان کے پاس رکھی ایک کرسی پہ بیٹھنے کو کہا۔ جو شاید اسی کے لۓ رکھی گئی تھی۔پھر کچھ دیر کے بعد عمر نے جانے کا کہا کیونکہ ابھی وہ صرف مردوں کی طرف آۓ تھے، عورتوں کی طرف جانا باقی تھا جو ساتھ والے گھر میں ہی رہ رہے تھے۔دونوں گھروں کی بیج کی دیوارمیں گیٹ لگا کر ان کو کمبین کردیا گیا تھا۔وہ دونوں ابھی نکل رہے تھے۔
“بیٹی کیا تم ہم سے اپنی نکاح کی سلامی نہیں لے کر جاؤ گی” ان میں سے ایک بزرگ نے آگے بڑھ کرالہام کے ہاتھ میں کچھ پیسے دیے تھے، اور وہ حیران ان کو دیکھ رہی تھی۔ وہ انکار کرنا چاہتی تھی، لیکن ان کی آنکھوں میں موجود چمک نے اس کی زبان کو بولنے نہیں دیا تھا ، اس نے اپنے ہاتھ میں موجود سو کے نوٹ کو دیکھا تھا۔ آنکھوں میں نمی دوڑی تھی۔ یہ وہ پیسے تھے جو ان کے بیٹے مہینوں بعد ملنے آتے تھے تو تھاما جاتے تھے۔ عمر نے ان سب کو ہر طرح کی سہولت دی رکھی تھی۔لیکن اس کے باوجود عمر نے ان سب سے کہا ہوا تھا اگر ان کے گھر والے اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں تو یہ لے لیں شاید وہ چاہتا تھا کہ کچھ فرائض کی ادائیگی ان کے حصے میں رہے تاکہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کسی معاملے میں تو سر اٹھا سکیں۔ وہ بوڑھے لوگ ابھی بھی اپنی روایات نہیں بھولے تھے ، الہام کے ہاتھ میں باری باری سب نے پیسے تھماۓ تھے اور وہ آنسو روکے کھڑی تھی،اس نے قارون کے خزانے کے بارے میں سنا تھا لیکن یہ سو کے نوٹ اسے اس خزانے سے زیادہ قیمتی لگ رہے تھے،اس نے نظر اٹھا کے عمر کی طرف دیکھا جو شاید اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی۔ پھر وہ دونوں سب سے مل کر باہر آگے تھے۔ عمر نے الہام کے ہاتھوں کی طرف دیکھا تھا جہاں اس نے ان پیسوں کو ایسا پکڑ رکھا تھا جیسے اسے ان کے چھین جانے کا ڈر ہو۔
“تو پھر آپ ان پیسوں کا کیا لیں گی۔”عمر نے جان کر سوال کیا تھا،شاید وہ الہام کو پڑھ نہیں پایا تھا اس لیے وہ اس کو کھوجنا چاہا رہا تھا۔الہام مسکرائی تھی۔اس نے ہاتھ میں موجود پیسوں کو دیکھا تھا۔
“آپ کو یہ پیسے لگ رہے ہوں گے لیکن میرے لیے یہ کوئی قیمتی اینٹیک پیس جیسے ہیں، جن سے ہمارے بزرگوں کی باتیں جوڑی ہوتی ہیں، ان کی دعائیں جوڑی ہوتی ہیں، ان کو ہم خرچ نہیں کرتے بلکہ کسے خوبصورت ڈبے میں ڈال کر سب سے محفوظ جگہ پر رکھ دیتے ہیں کہ جب ہمارا دل چاہے ان کی دعاوں کو اور خلوص کو محسوس کر لیا جاۓ، آپ بتائیں جب کسی فین کو اس کا پسندیدہ ایکٹر کوئی نوٹ تھما دے تو کیا وہ اس کو خرچ کرے گا ، کبھی نہیں۔ تو میں اپنے بزرگوں کے ہاتھ سے دیا گیا یہ خلوص اور محبت کیسے خرچ کر سکتی۔” اس نے ہاتھ میں موجود ان پیسوں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔جب کہ عمر حیران کھڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا، جسے بس محبتوں کا پاس رکھنا آتا تھا,وہ محبتوں میں عقل کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ پھر وہ دونوں خواتین کی طرف گئے تھے ، جہاں کا سارا سٹاف خواتین پہ مشتمل تھا ، پھر اس نے وہی منظر دیکھا تھا، وہ سب بوڑھی نگاہیں عمر کو دیکھ کر چمک اٹھی تھیں، وہی عمر میں ستر ،اسی کے الگ بلگ، کتنے ہی بیٹوں کی جنتیں یہاں اپنے بیٹوں کی بے رخی پہ عمر میں اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہیں تھیں، اس کے ہاتھ چوم رہیں تھیں جیسے شاید کبھی اپنے سگے بیٹوں کے چومتی تھیں۔ عمر ان کو گلے لگتا ، ان کے ہاتھ چومتا شاید ان کی محرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس نے الہام کوان سب سے ملوایا تھا، وہ سب اس کو چوم رہیں تھیں ، گلے لگا رہیں تھیں۔ الہام ان کی محبتوں پہ حیران تھی، عمر تو ان کا بیٹا بن کر سب ذمہ داریاں نبھا رہا تھا، وہ ان کا بیٹا تھا تو ان کو پیارا تھا ، لیکن وہ تو پہلی بار مل رہی تھی وہ کیوں اتنی پیاری ہوگئی تھی، ہاں شاید وہ عمر سے جوڑی تھی، جن سے محبت کی جاتی ہے اس سے جوڑا ہر انسان ،ہر چیز ہی تو پیاری ہوتی ہے۔ عمر کی وجہ سے کتنی محبتیں اس کو مل گئیں تھیں۔ان سب کی آنکھوں میں الہام کے لیے عزت ، محبت ، رشک تھا ، کیونکہ وہ عمر کی بیوی تھی۔ کیا تھا وہ شخص ایک گھنا درخت جس کے ساۓ تلے کوئی بھی آرام کر سکتا تھا، صحرا میں کوئی ندی جس سے راہ چلتا مسافر اپنی پیاس بجھا سکتا تھا، اندھیری راہ میں کوئی جگنو جو بھولے بھٹکے کو راہ دیکھا سکتا تھا۔
“الہام آپ تھوڑی دیر ذرا سٹاف کے ساتھ ٹائم سپنڈ کرلیں سب کو اچھا لگے گا” اسے عمر کی آواز سنائی دی تھی۔ الہام نے مسکرا کر سر ہلا یا تھا اور باہر کی طرف گئی تھی۔ابھی دروازے پہ تھی کہ اسے ایک آواز سنائی دی تھی۔
“ہمارے نصیب میں عمر جیسے مرد کیوں نہیں ہوتے” الہام کے قدم اس نسوانی آواز پہ رک گئے تھے ، وہ شاید سامنے والے کا جواب سنانا چاہتی تھی۔ اس سوال پہ مخالف کی ہنسی کی آواز آئی تھی۔
” تمہیں پتا ہے ، عمر بھائی کی والدہ پچھلے دنوں آئیں تھیں تو ان سے جب میں نے پوچھا کہ عمر بھائی کی دلہن کو آپ نے کیا دیکھ کر پسند کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ ان سے شادی پر ملیں تھیں، اور وہ سب لڑکیوں کو دیکھ رہیں تھیں جو اپنے میک اپ اور ہیر سٹائل کو لے کر کانشیئس ہورہیں تھی ،وہاں میں نے الہام کو دیکھا جو اپنے پردے کو لے کر کانشیئس ہورہی تھی، کہ کوئی اسے بناء نقاب کے نا دیکھ لے ، اسٹیج سے بیک کر کے بیٹھی رہی ‘ ان کی والدہ سے مجھے یہ بھی پتا چلا کہ وہ کسی بہت رئیس خاندان سے نہیں ہے ، بلکہ ہماری طرح ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے، تو بتاؤں بات اتنی سی ہے کہ عمر کو پانے کے لیے الہام بننا پڑتا ہے ، ہاں اگر تم الہام بن جاؤگی تو اللہ کوئی بھی وسیلہ بنا کر کسی عمر کو تمہارے لیے خود بھیج دے گا۔” لڑکی کی جواب سن کر الہام کے چہرےپہ ایک مسکراہٹ پھیلی تھی۔ پھر اس نے قدم آگے کو بڑھاۓ تھے۔
وہ سب سٹاف کے ساتھ بیٹھی تھی جہاں سب نے اس کی چاۓ اور دیگر لوازمات سے تواضع کی تھی ۔کچھ دیر گزارنے کی بعد عمر وہاں آیاتھا۔
“الہام آپ اندر سب سے مل لیں پھر چلتے ہیں، میں ذرا منہ ہاتھ دھو کر آیا، آپ یہ میرا فون پکڑیں زرا میں آتا ہوں۔” وہ اپنا فون الہام کو تھما کر خود واش روم چلا گیا۔ الہام نے اپنے ہاتھ میں موجود اس کے فون کو دیکھا تھا۔اس سے منسوب شے اس کے ہاتھ میں تھی، یہ کتنا انوکھا احساس تھا۔ وہ اس کی چیزوں کو چھونے کا حق رکھتی تھی، جو اس سے جوڑا تھا، یہ بھی تو سچ تھا چیزیں کہاں خوبصورت ہوتی ہیں ان سے جوڑے انسان خوبصورت ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں وہ دونوں سب سے مل کر واپسی کے لئے گاڑی میں بیٹھے تھے۔
“پھر آپ کو کیسا لگا” گاڑی میں چھائی خاموشی کو عمر نے توڑا۔
“میں نے جو یہاں آ کر محسوس کیا ، میں الفاظ میں ڈھال نہیں سکتی۔ آج تیسری بار میں آپ سے متاثر ہوئی ہوں” الہام نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
مطلب ؟ اس نے ناسمجھی سے الہام کی طرف دیکھا۔
“پہلی بار جب آپ کی انٹرنیٹ پہ نادرن ایریا میں نماز پڑھتے ہوئے جو ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس کو دیکھ کر متاثر ہوئی تھی تب تو میں آپ کو جانتی بھی نہیں تھی، لیکن مجھے اچھا لگا تھا ایک انسان بھیڑ کی پرواہ کیے بنا اللہ کے ذکر میں مشغول ہے۔” الہام نے اس کو بتایا تھا۔
“ہاں وہ وڈیو پتا نہیں کس نے بنا کر سوشل میڈیا پر دے دی تھی۔وہ مسکرایا تھا۔ جب محبوب اللہ ہو تو چھپ چھپ کر ملاقاتیں نہیں کرنی پڑتی۔ کہیں بھی جاۓ نماز بچھا لو ، کوئی روک نہیں سکتا کوئی ٹوک نہیں سکتا۔” الہام نےاس کی آنکھوں میں ایک چمک دیکھی تھی۔
” اور دوسری بار کب ہوئیں” عمر نے بات مکمل کر کے الہام سے آخر میں سوال کیا تھا۔
” جب آپ نےکسی کالج کے سیمینار میں لڑکوں کو اسپیچ دی تھی، میں نے اور حرا نے وہ آپ کا میرے لیے پرپوزل آنے کے بعد سنی تھی۔” الہام نے جواب دیا تھا ، اب پہلے کی نسبت وہ عمر سے کافی ریلیکس ہو کر بات کر رہی تھی۔
“ہمممم ، موسم کافی اچھا ہوگیا ہے ، لگتا ہے بارش شروع ہوجاۓ گی” عمر کے کہنے پہ الہام نے کھڑی سے باہر دیکھا موسم واقعی ہی بارش والا ہوگیاتھا۔ رات کے ساڑھے آٹھ بج چکے تھے ،اور وہ جس روڈ پہ تھے وہ کافی سنسان تھی۔
” آپ یہاں کے اخراجات کیسے مینیج کرتے ہیں” الہام نے سوال کیا تھا۔
” جاب کے علاوہ میری جو انکم ہے لائیک یو ٹیوب، ایک ،دو یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتا ہوں، ایک پرائیویٹ چینل پہ میرا پروگرام ہوتا، اس کے علاوہ بابا اور فیملی میں کچھ لوگ ڈونیٹ کرتےہیں”اس نے الہام کے سوال کا جواب دیا تھا۔
“آپ کیسے مینچ کرتے سب کچھ ، کیسے وقت نکلتے ہیں”الہام نے پھر سے سوال کیا تھا۔وہ مسکرایا تھا۔
“بس اللہ کر راستے پہ نکلتا ہوں تو وہ خود آسانیاں پیدا کر دیتا، کبھی کبھی خود حیران ہوجاتا کہ میں کیسے کر لیتا ہوں” عمر نے جواب دیا تھا۔
“آپ اپنی روٹین بتائیں” الہام نے فرمائش کی تھی.
“صبح پانچ بجے سے تھوڑی دیر پہلے اٹھتا ہوں، تاکہ تہجد ادا کر سکوں اس کے بعد مسجد میں فجر کی نماز ادا کرتا ہوں وہاں سے پھر جاگنگ پہ چلا جاتا ہوں۔ واپسی پہ ناشتہ کرتا ہوں، پھر آفس کے لیے تیار ہوتا ہوں، آفس جانے سے پہلے اپنے دوسرے گھر جاتا ہوں، وہاں سے پھر آفس، بارہ بجے لیکچر دینے کے لیے نکلتا ہوں، دو بجے گھر مما کے ساتھ دن کا کھانا کھاتا ہوں، پھر دوبارہ آفس آتا ہوں، پھر یہاں سے پانچ بجے چھٹی کرتا ہوں، چھ سے سات پروگرام کرتا ہوں، پھر اس کے بعد اپنی دوسری فیملی کے پاس جاتا ہوں، رات کا کھانا کبھی وہاں کھا لیتا اور کبھی ماما بابا کے ساتھ کھا لیتا ہوں، ساڑھے آٹھ تک فری ہو کر میں گھر میں موجود ہوتا ہوں،اس کے بعد میرا جم کا ٹائم ہوتا یعنی میری ہر چیز بہت آسانی سے مینج ہو جاتی ہے۔اس نے روڈ پہ نظریں جماۓ اپنے دن کی ساری مصروفیات اس کو بتائی تھیں۔
“آپ آئسکریم کھائیں گی ، آپ کو بھوک لگ رہی ہوگی، ڈینر کر لیتے ہیں” اس نے فکر مندی سے الہام سے کہا تھا۔
“نہیں کھانا نہیں ، آئسکریم کھلا سکتے ہیں” الہام کو پتا تھا، وہ اصرار کرے گا ،اس لیے آیسکریم کا کہہ دیا تھا۔
“میں ابھی آئسکریم لے کر آیا، آپ کون سا فلیور لیں گی” اس نے گاڑی کسی آئسکریم پارلر پہ روکی تھی۔
“اسٹرابیری” الہام نے جواب دیا تھا۔
“میں ابھی آیا” عمر گاڑی سے باہر نکل گیا تھا۔ جب کہ الہام گاڑی میں بیٹھی اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔ آیسکریم پارلر کے باہر بیٹھے لوگوں میں سے کچھ عمر کو دیکھ کر اٹھ کر اس سے مل رہے تھے ، اور وہ ہر ایک سے خلوص سے مل رہا تھا۔اب سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ الہام نے ہمیشہ نوجوان نسل کو ایکٹرز ، کرکٹرز، فٹبالرز سے متاثر ہوتے دیکھا تھا، آج وہ ان کو ایک مذہیی اسکالر سے متاثر دیکھ رہی تھی، مطلب ہماری نوجوان نسل مذہب سے بیزار نہیں تھی ، ان کو صحیح گائیڈ لائن دینے والا کوئی نہیں تھا، ان کو ہمیشہ یہ تاثر دیا گیا کہ دین ان کو قید کر رہا ہے، ان کو اللہ کا پہلا انٹروڈکشن ہی یہ دیا گیا کہ یہ کرو گے تو اللہ ناراض ہوجاۓ گا ، ہم نے اپنے بچے کو یہی بتا یا کہ اللہ ناراض ہوجاۓ گا حالاکہ پہلا کام ہمیں ان کو اللہ سے محبت سکھانا تھا ، کہ دیکھو ایک ذات بنا کسی غرض کے تم سے محبت کرتی ہے ، تم نماز نہیں پڑھو گے تب بھی تمہیں رزق دے گی، تم ہزار برے کام کرو گی پھر بھی وہ ذات دنیا کے سامنے تمھارا بھرم ر کھے گی۔ جب خدا سے محبت ہو جاتی تو اس کی ناراضی کا بھی فرق پڑتا، ہم نے ہمیشہ قوموں پہ آۓاللہ کے عذاب کا ذکر پہلے کیا ، ان پہ اللہ کی بے پناہ مہربانیوں کا زکر اپنے بچوں سے نہیں کیا۔ ہم نے ان کو ہمیشہ اللہ سے ڈرنا سکھایا ، محبت کرنا نہیں سکھایا۔ ہم نے یہ تاثر دیا کہ اللہ اپنی منواتا لیکن یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ بندے کے مانگنے پہ مان جاتا ہے۔وہ ان ہی سوچوں میں تھی جب عمر آئسکریم لے کر آیا تھا۔وہ اپنے لیے بھی اسٹرابیری فلیور ہی لایا تھا۔
“کیا آپ کو بھی یہ فیلور پسند ہے” الہام نے اپنا کپ لیتے ہوئے سوال کیا تھا۔
” نہیں کبھی کبھی کسی اپنے کی پسند کا بھی کھا لینا چاہیے” عمر نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا کر جواب دیا تھا۔
“آپ تنگ نہیں پڑتے، جب لوگ ایسے آکر آپ سے ملنے لگتے ہیں”الہام نے اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا۔ وہ ایک گہری مسکراہٹ لیے مسکرایا تھا۔
“جس دن اللہ کی مخلوق سے تنگ پڑ گیا نا ، اس دن اللہ سے میلوں دور ہوجاؤں گا، اس دن اللہ کہے گا جا عمر نکل جا ، تیری محبت میں کھوٹ آگئی ہے۔ میرے دادا نے میرا نام عمر فاروق رکھا۔ پھر میں بچپن سے حضرت عمرؓ کی باتیں سنتا بڑا ہوا ،مجھے بتایا گیا کہ کس شخصیت کی نسبت سے میرا نام رکھا گیا، مجھے عمرؓ کی نبیؐ سے محبت بتائی گئی، ان کی مخلوق کی طرف احساس ذمہ داری بتائی گئی، یہ عمر ان عمر ؓ کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے، لیکن اگر میں اس نام کا بھرم نہیں رکھوں گا توقیامت کے دن اللہ اور نبیؐ کے سامنے شرمندہ ہوں گا، وہ عمر ؓجو ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کا فاتح ہو کر بھی خود کو لوگوں کا غلام کہتا تھا، تو یہ عام سا عمر کیسے لوگوں سے معتبر ہوسکتا ہے،” وہ بول کر خاموش ہو گیا تھا ، جبکہ الہام اس کے الفاظ کے زیر اثر تھی۔ گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی۔ اچانک باہر بارش زوروں سے شروع ہوچکی تھی۔ الہام نے کھڑی سے باہر دیکھا تھا۔ سڑک سنسان تھی۔شاید اسی وجہ سے عمر نے گاڑی کے شیشے نیچے کیے تھی۔مٹی کی خوشبو کا جھانکا اندر آیا تھا۔
“مجھے مٹی کی خوشبو پسند ہے، یہ انسان کو ہر چیز سے غافل کر دیتی ہے، شاید اسی لیے سائنس نے اس کو اسٹریس ریلیزر کہاہے” اس نے عمر کو کہتے سنا۔پھر اچانک عمر نے الہام کے ہاتھ سے اس کا کپ اور سپون لے کر وہاں سے آئسکریم کی ایک سپون لی تھی۔ الہام نے ناسمجھی میں اس کو دیکھا تھا۔
“کہتے ہیں جوٹھا کھانے سے محبت بڑھتی ہے اور یہ سنت بھی ہے” عمر نے اس کا کپ اس کو واپس دیتے ہوۓ ایسا کرنے کی وجہ بتائی تھی۔
“محبت کب ہوئی” سوال کیا گیا تھا۔
“جب پہلی بار بیوی کے روپ میں دیکھا “۔ فورا جواب آیا تھا۔ الہام نے نظریں نیچے کر لی تھیں۔ اب وہ اپنی آیسکریم ختم کرکے دوبارہ گاڑی اسٹاٹ کر رہا تھا۔ الہام ساتھ بیٹھی سوچوں میں گم تھی کہ اس نے اس سے اپنا جوٹھا کھانے کو نہیں کہا تھا ، نا اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اس سے محبت کرتی ہے ، وہ بے غرض محبت کرتا تھا ، بنا بدلے کی امید رکھے ، کاش وہ اس سے پوچھتا کہ کیا وہ اس سے محبت کرتی ہے تو اسے بتاتی کہ اسے اس سے محبت تب ہوئی جب وہ پہلی بار اس کے ساتھ آکر بیٹھا تھا اور اس کا بازو اس کے کندھے سے مس ہوا تھا، اسے تب محبت ہوئی تھی جب اس نےاسے بوڑھے ہاتھوں کو چومتے دیکھا تھا ، اسے اس سے تب محبت ہوئی تھی جب اس لڑکی نے کہا تھا عمر کو پانے کے لیے الہام بننا پڑتا ہے،اور اسے اس سے تب محبت ہوئی تھی جب اس نے اس کا جوٹھا کھایا تھا اور اسے اس سے تب تب محبت ہوئی تھی جب جب اس نے اللہ اور اس کے رسول کا زکر اس کے سامنے کیا تھا۔”
“بارش مجھے ہمیشہ سے خوبصورت لگتی تھی ، لیکن آج مجھے اندازہ ہوا بارش میں من چاہے بندے کا ساتھ ہو تو یہ اور خوبصورت لگتی ہے۔” عمر نے روڈ سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تھا۔ الہام نے اس بات پہ اپنی سوچوں کو چھوڑ کرموڑ کر اسے دیکھا تھا۔ نظریں ملیں تھیں۔ اللہ کی رحمت کی برسات میں ، پاکیزہ من چاہا ساتھ واقعی خوبصورت ہوتا ہے ،الہام اپنی سوچ پہ مسکرائی تھی اور پھر سے باہر دیکھنے لگی تھی اس نے اپنا ہاتھ گاڑی سے باہر نکالا تھا۔
“آپ کے ہاتھ سے مہندی اتر رہی ہے ، اس کو پھر سے ڈارک کر لیں ، اچھی لگ رہی ہے” اس نے الہام کا باہر بارش میں بھیگتا ہاتھ دیکھ کر کہا۔ الہام نے اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ مہندی کے لۓ تو وہ خود بھی دیوانی تھی ، لیکن عمر کے منہ سے سن کر جیسی شاد ہوگئی تھی۔
“آپ اپنا نمبر سیو کردیں ، شوہر ہوگیا ہوں لیکن ابھی تک بیوی کا نمبر نہیں ہے، اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے اپنا فون الہام کو تھمایا تھا۔ الہام نے اس کا فون لے کر اپنا نمبر ڈیل کر کے الہام کے نام سے سیو کیا تھا۔ وہ دونوں ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ اور عمر نے ابوبکر کو کال کردی تھی۔
“یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت سفر تھا ، کیونکہ ساتھ بہت خوبصورت تھا، آپ کی موجودگی کا احساس اتنا باعث فخر تھا کہ میں نے کتنی بار دل میں سجدہ شکر کیا ، آپ میری بیوی بن کر میرے ساتھ میرے پہلو میں بیٹھی ہیں، یہ احساس کیسا تھا میں آپ کو لفظوں میں نہیں بتا سکتا۔
I will just say , Thank you for your presence !!
اس نے ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات مکمل کی تھی، شاید وہ الفاظ دھونڈ رہا تھا ، وہ اپنے احساسات کے لۓ الفاظ نہیں لا پا رہا تھا ،لیکن اس کی آنکھیں اس کے جذبات کی گواہی دے رہی تھیں الہام حیران پریشان اس کو دیکھ رہی تھی وہ بھی تو ایسے ہی جزبات رکھتی تھی، وہ تو ہواؤں میں اڑ رہی تھی بس بظاہر زمین پر تھی۔ جلدی ہی ابوبکر باہرآگیا ، اور عمر سے ملنے کے بعد وہ الہام کو لے کر گھر روانہ ہوگیا تھا۔
جاری ہے!!