Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

الہام کے گھر میں دونوں کا اچھا وقت گزرا تھا۔ جہانداد سب کے ساتھ کافی گل مل گیا تھا، الہام کو اسے دیکھ کر یہی لگا تھا جیسے وہ اس کے گھر والوں کو صدیوں سے جانتا ہو۔ گھر واپس آکر الہام نے آرام دہ کپڑے پہن کر اپنی قضا نمازیں ادا کرنے کے ارادے سے جاۓ نماز اٹھائی تھی کیونکہ آج فجر کے علاوہ وہ کوئی نماز ادا نہیں کر سکی تھی جبکہ جہانداد اپنے والدین کے کمرے میں موجود تھا۔ الہام نماز ادا کر کے فارغ ہوئی تھی، اور ٹیرس کا سلائیڈنگ ڈور اوپن کر کے باہر نکلی تھی۔ تازہ ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا تھا۔ اس نے آسمان پہ موجود چاند کو دیکھا تھا۔ جو پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔زندگی کتنی بدل گئی تھی ، چار دن پہلے وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، اور آج اللہ نے اس کا دل بدل دیا تھا، اس کا دل اللہ نے جہانداد کے لیے کتنا نرم کر دیا تھا۔وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب جہانداد چاۓ کا مگ اٹھاۓ اس کے پاس کھڑا ہوا تھا۔
“پییں گی۔” اس نے چاۓ کا مگ آگے کیے اس سے پوچھا تھا۔
“آپ پھر سے پی رہے ، ابھی تو گھر سے پی کر آۓ تھے۔” الہام نے اس کے مگ کی طرف دیکھتے کہا تھا۔
“چاۓ کو کون انکار کرتا ، جب مل جاۓ ، جہاں مل جاۓ، وہاں سب بیٹھے چاۓ انجوۓ کر رہے تھے، میں نے بھی سب کو جوائن کر لیا۔” اس نے چاۓ کا مگ لہرتے مسکرا کر الہام سے کہا تھا، جو اسے ہی دیکھ رہی تھی، وہ مسکرائی تھی اسے زندگی میں سارے ہی چاۓ کے دیوانے ملے تھے۔
“آپ تیاری کرلیں ، کل گاؤں کے لیے نکلنا ہے ۔” جہانداد نے اسے پھر سے آگاہ کیا تھا وہ اس بارے میں اسے پہلے ہی بتا چکا تھا۔
“میرے لئے رات کے سوٹ کے علاوہ دو قمیض شلوار ڈال دینا، تین دن میں واپس آجانا، اور ہاں وہاں سردی ہو گی آپ اپنے لیے کچھ گرم سویٹر یا شال رکھ لینا۔” چاۓ کے گھونٹ بھرتا وہ اسے ہدایت کررہا تھا۔
“گلگت میرے لیے ہمیشہ ڈریم لینڈ رہا ہے” الہام کی آواز میں ایک چہک تھی جس سے خاموش ماحول میں ایک ترش پیدا ہوئی تھی اور اس نے ماحول کو مزید خوبصورت بنایا تھا۔ جہانداد نے اس کی آنکھوں میں ایک چمک دیکھی تھی۔
” انشاءاللّٰه‎‎ آ ڈریم دیٹ ایز گوئینگ ٹو کم ٹرو” جہانداد نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا۔
“انشاءاللّٰه‎‎” الہام نے اس کی تائید کی تھی۔
“چلیے اب تیاری کر کے سو جائیں ، صبح جلدی نکلنا ہے۔” اور الہام نے اس کے ساتھ اندر کی طرف قدم بڑھاۓ تھے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
فجر کے بعد سب تیار ہوکر سفر کے لئے روانہ ہوچکے تھے۔ وریشہ جوکہ جہانداد کے چچا کی بیٹی تھی ، اس کے والدین اور جہانداد کے والدین باۓ ائیر گلگت کے لئے روانہ ہوچکے تھے، ان کو جہانداد نے ایئر پورٹ چھوڑا تھا جبکہ وریشہ نے جہانداد ، شاہ میراور الہام کے ساتھ باۓ روڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جہانداد کو الہام بہت ایکسائٹڈ لگی تھی بنا جانے کے آگے کا طویل سفر تھکا دینے والا تھا۔ شاہ میر کے اصرار کرنے پر وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ جہانداد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ جبکہ وریشہ اور شاہ میر پیچھے بیٹھ گئے تھے۔ابھی ساڑھے پانچ بج رہے تھے اور روشنی پوری طرح نہیں پھیلی تھی۔جہانداد نے گھر کے مین ڈور کو لاک کرنے کے بعد فرنٹ سیٹ سنبھالی تھی۔ جہاں تینوں سفر کے لیے اسے تیار لگے تھے۔
“چلیں پھر۔” جہانداد نے گاڑی سٹارٹ کرتے سب کو مخاطب کیا تھا۔
“بھائی میں تو سونے لگا ، راستے میں جب ناشتے کے لیے روکے تو مجھے جگا دینا۔” شاہ میر کا فورا جواب آیا تھا۔سیٹ سے ٹیک لگاۓ وہ بلکل سونے کی پوزیشن بناۓ ہوۓ تھااور ناشتے کے لیے ان لوگوں نے پہلے ہی ڈیسائیڈ کیا تھا کہ وہ راستے میں کریں گے۔
“خبر دار جو تم نے سو کے منحوسیت پھیلائی تو۔” وریشہ نے اس کو تھپڑ مارا تھا جس سے اس کی بند آنکھیں فورا کھولی تھی۔
” تو تم جاگ لو ، میرا دماغ مت کھاؤ ، اور اپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھا کرو۔” شاہ میر نے اس کو وارننگ دیتے انداز میں کہا تھا۔
“اگر تم دونوں لڑے تو میں دونوں کو گاڑی سے اتر دوں گا۔” وریشہ کے جواب دینے سے پہلے جہانداد عضے سے بولا تھا۔
“تاکہ آپ اور بھابھی اکیلے جاسکیں۔” شاہ میر نے اس کے غصے کو خاطر میں لاے بنا اسے چھیڑا تھا جو اب گاڑی مین روڈ پہ ڈال چکا تھا۔ شاہ میر کی بات پہ الہام ونڈو سے باہر دیکھنے لگی تھی جبکہ گاڑی میں جہانداد کا قہقہہ گونجا تھا۔
” چلو اب مجبوری ہے ، جھیلنا تو پڑے گا۔” جہانداد نے منہ بناتے جواب دیتے موڑ کر الہام کو دیکھا تھا جو باہر دیکھ رہی تھی۔
“ویسے انسان کو شادی کے بعد اتنا نہیں بدلنا چاہیے ۔” وریشہ نے گلہ کیا تھا۔
“میں نے کون سا دکھوں کے پہاڑ توڑ دیے تم لوگوں پر ۔” جہانداد نے مرر سے دیکھتے جواب دیا تھا۔
“بھائی کچھ نہیں کچھ لوگوں کو بس دوسروں کی خوشیاں ہضم نہیں ہوتی۔” شاہ میر نے جٹ سے جواب دیا تھا۔
“تم اپنا منہ بند رکھو۔” وریشہ نے غصے سے بولا تھا۔
“بوتھ آف یو ، کلوز یور ماوتھس۔” جہانداد نے وارننگ دی تھی۔ جس پہ پیچھے خاموشی چھائی تھی۔ جبکہ الہام خاموش ان تینوں کی گفتگو سن رہی تھی، جبکہ وریشہ کا لہجہ اسے عجیب لگا تھا۔ موٹر وے سے ہوتے وہ دو گھنٹے میں ایبٹ آباد پہنچ چکے تھے۔ اور الہام وہاں کی خوبصورتی بنا آنکھ جھپکے دیکھ رہی تھی۔ وہاں ایبٹ آباد میں انھوں نے کچھ دیر سٹے کرنا تھا۔ جہانداد نے گاڑی ایک خوبصورت اور صاف ستھرے سے ڈھابے کے سامنے روکی تھی۔ گاڑی سے باہر نکل کر سب نے تازہ ہوا کو محسوس کیا تھا۔ پہاڑوں کے بیچ سورج طلوع ہوچکا تھا، اور اس کی مدہم مدہم سی کرنیں راحت افزا محسوس ہورہیں تھیں۔ جہانداد نے ناشتہ کا آڑد دیا تھا۔جو تھوڑی دیر میں سرو ہو چکا تھا۔
” بھائی آپ اور بھابھی گاڑی میں ناشتہ کرلیں، آپ دونوں چلیں میں لے آتا ہوں۔” الہام کے پردے کو دیکھتے شاہ میر نے کہا تھا۔
” اچھا ٹھیک ہے ، لیکن تم لوگوں نے لڑنا نہیں ہے۔” جہانداد نے اٹھتے ہوۓ نصیحت کی تھی۔
“جہانداد ہمیشہ تو ہم ساتھ ناشتہ کرتے ہیں ، آج کیوں نہیں ۔” وریشہ کو جیسے یہ آئیڈیا بلکل پسند نہیں آیا تھا۔
“کیونکہ تب جہانداد بھائی کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی ، اب بھابھی ان کی ذمہ داری ہیں ، اور وہ غفلت برتنے والوں میں سے بلکل نہیں ہیں۔” جہانداد کے جواب دینے سے پہلے شاہ میر نے غصے سے اس کو سنائی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کو جانتا تھا وہ وریشہ کو کبھی سخت الفاظ نا کہتا۔ وریشہ منہ پھیلاۓ اس کو دیکھ رہی تھی جبکہ الہام صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“اب جائیں آپ لوگ۔” شاہ میر نے مزید کہا تھا۔جس پہ وہ دونوں گاڑی کی طرف بڑھے تھے۔ شاہ میر ان کے لئے ناشتے کی ٹرے پیچھے اٹھا کر لیا تھا جو انہیں دے کر وہ واپس چلا گیا تھا۔ جہانداد نے ٹرے درمیان میں رکھی تھی۔ آملیٹ کی خوشبو ، پراٹھوں کی سہنری رنگت اور چاۓ سے اٹھتا دھواں بھوک کو بڑھا رہی تھی۔
“چلیں شروع کریں۔” جہانداد نے اپنا کپ اٹھا کرگھونٹ لیتے کہا تھا۔
“پہلے آپ شروع کریں۔” اس نےالہام کو کہتے سنا تھا جو ایسی بیٹھی تھی جیسے سارا کھانا جہانداد کے لیے رکھا گیا ہو۔جہانداد مسکرایا تھا۔
“کھانے میں شرمانے لگ گئیں نا تو سفر نہیں کر پائیں گی، پتا ہے ابھی کتنا سفر باقی ہے۔” جہانداد نے چاۓ کا گھونٹ لیتے جواب دیا تھا۔
“کتنا۔” الہام نے سوال کیا تھا۔
“مزید دس گھنٹے ” جہانداد نے نارمل انداز میں جواب دیا تھا۔
“کیا ، آپ مذاق کر رہے ہیں” الہام نے حیرانی سے جہانداد کی طرف دیکھا تھا۔
“نہیں میں بالکل مذاق نہیں کررہا۔” جہانداد اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔ الہام کی تو ساری ایکسائٹمنٹ اب ہوا ہوچکی تھی اس کو اتنے لمبے سفر کی عادت ہی کب تھی ،اور وہ تو ابھی سے تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔
“چلیں ناشتہ کر لیں تاکہ سفر کے لئے انرجی آۓ۔” جہانداد نے نوالہ توڑ کر اس کے منہ کی طرف بڑھایا تھا، اس نے نقاب نیچے کر کے نوالہ منہ میں لیا تھا۔ دوسرا نوالہ جہانداد نے اپنے منہ میں لیا تھا اور الہام نے اب جلدی سےخود کھانا شروع کردیا تھا کہ کہیں جہانداد پھر سے اسے کھلانے نہ لگ جاۓ ، جہانداد نے اس کا یہ عمل دیکھ مسکراہٹ دبائی تھی۔جہانداد نے پیچھے موڑ کر گاڑی سے باہر دیکھا تھا جہاں کچھ دور وریشہ اور شاہ میر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔گاڑی میں کچھ دیر خاموشی چھائی تھی۔
“آپ نے باہر وریشہ کی بات پہ کوئی جواب نہیں دیا، شاید میری وجہ سے آپ لوگ ڈسٹرب ہوۓ ہیں ۔” چاۓ کا گھونٹ لیتے الہام نے خاموشی کو توڑتے جہانداد سے کہا تھا۔
” ارے ایسی بات نہیں ہے ، آپ میری بیوی ہیں ، بس وہ بچی ہے ، میں اس کو ڈانٹ سکتا تھا ، لیکن بچے کو سمجھاۓ بنا ڈانٹ دینا، آپ پہ سوالیہ نشان ہوتا کہ آپ تربیت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، شاہ میر اسے نہ ڈانٹتا تو میں اسے بہتر الفاظ میں سمجھتا، میں ٹھنڈے مزاج کا انسان ہوں۔” آخری جملہ کہتے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود نوالہ الہام کی طرف بڑھایا تھا۔ جو الہام نے خاموشی سے کھا لیا تھا۔ وہ سامنے بیٹھے انسان کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ جو اب ٹیشو پیپر سے اپنے ہاتھ صاف کر رہا تھا، اور اپنے ہاتھ صاف کرنے کے بعد مزید ٹیشو نکل کر الہام کے ہاتھ تھام کر اس کے ہاتھ صاف کیے تھے ، جب کہ الہام اس کے اس عمل پہ اسے حیرانی سے دیکھا تھا، جہانداد نے صرف مسکرانے پہ اکتفا کیا تھا۔اور ٹیشو ٹرے میں رکھے تھے. اس کے بعد دونوں وریشہ اورشاہ میر کے پاس گئے تھے جو ناشتہ کر چکے تھے۔ اس کے بعد سنیکس وغیرہ لے کر دوبارہ سفر شروع کیا تھا۔ الہام تو باہر کے مناظر میں کھو گئی تھی ، بلند و بالا پہاڑ ، جبکہ وہ تینوں اسے سفر سے بیزار سے نظر آۓ ، ان کو باہر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، جہانداد اور شاہ میر اسے یہاں کے بارے میں کوئی نا کوئی بات بتا رہے تھے جبکہ وریشہ صرف جہانداد سے ہی بات کر رہی تھی۔ ناران پہنچنے پہ جہانداد نے قومی شاہراہ سے گاڑی جھیل سیف الملوک کی طرف موڑی تھی جو کہ ایک مشکل راستہ تھا اور زیادہ تر لوگ جیپ میں سفر کرتے تھے ، صرف کوئی ماہر ڈرائیور ہی کار سے وہ راستہ طے کرسکتا تھا، ان کا ارادہ تھوڑی دیر سیف الملک سٹے کا تھا، الہام تو اس منظر میں کھو گئی تھی، اسے وہ جگہ قدرت کا حسین شاہکار لگی تھی۔
“بھابھی آپ ابھی سے ہمیں بھول گئی ہیں ، اپنا گاؤں دیکھ کر تو ہمیں بھول ہی جائیں گی۔” شاہ میر نے اسے واپس دنیا میں لایا تھا۔ وہاں کاحسن واقعی ہی دنیا سے غافل کردینے والا تھا۔ الہام اس کی بات پر مسکرائی تھی۔
“چلیں پکچرز لیتے ہیں۔” شاہ میر نے اپنا فون نکلا تھا۔
“چلیں بھائی بھابھی کے ساتھ کھڑے ہوں۔” شاہ میر نے جہانداد کو کہا تھا۔ جس پہ وہ الہام کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ شاہ میر نے ان کی پکچر کلک کی تھی۔
“جہانداد میں نے ہارس رئیڈنگ کرنی ہے ، چلیں میرے ساتھ ۔” وریشہ جہانداد کا ہاتھ پکڑے ساتھ لے گئی تھی۔
“شاہ میر بھابی کا خیال رکھو ، میں آتا ہوں۔” جہانداد جاتے ہوۓ شاہ میر کوہدایت دینا نہیں بھولا تھا۔
“میں آتا ہوں” شاہ میر کے بعد وہ الہام کو کہتے وریشہ کے ساتھ چلا گیا تھا۔
“آئیں بھابھی بیٹھتے ہیں ۔” وہ اسے لیے سائیڈ پہ گیا تھا ،اور ایک پتھر پہ بیٹھنے کا کہا تھا ، اور خود اس سے کچھ فاصلے پہ دوسرے پتھر پہ بیٹھ گیا تھا۔
” آپ یہاں کتنی بار آچکے ہیں ،” الہام نے اس سے سوال کیا تھا۔
” میں تو بہت بار ، آج تو بھائی آپ کی وجہ سے یہاں آۓ ورنہ ہم سیدھا گزار جاتے ہوتے۔” شاہ میر نے اسے جواب دیا تھا۔
“بھابھی ، آپ کو برا نہیں لگا ، وریشہ جہانداد بھائی کو اپنے ساتھ لے گئی، آپ ان کی وائف ہیں۔” شاہ میر نے سامنے دیکھتے سوال کیا تھا۔
” نہیں وہ بچی ہے ، بچپن سے ساتھ رہی ہےتم لوگوں کے ، اور میں تو دو دن ہوۓ آئی ہوں اور ویسے بھی ہر انسان کی اپنی جگہ ، جیسے وہ اس کے لیے گئے ، میرے کہنے پہ میرے ساتھ بھی جاتے، مجھے برا تب لگتا اگر وہ مجھے اہمیت نہ دیتے جبکہ اوروں کو دیتے۔” اس نے اسے تفصیل سے جواب دیا تھا۔
“بھابھی وریشہ بھائی کی منگ تھی، بچپن میں ان کا رشتہ آغا جان نے طے کیا تھا ، لیکن وریشہ کی چھوٹی عمر کی وجہ سے بھائی کبھی نہیں مانے تھے، مگر چچی نے وریشہ کی چھوٹی عمر سے ہی یہ بات پکی کردی کہ جہانداد بھائی اس کے آئیڈیل بن گئے، جہانداد بھائی جو محبت اسی چھوٹی بہن اور بچی سمجھ کے دیتے وہ اس کا اور مطلب لیتی، آغا جان نے بھائی کے اصرار پہ رشتہ ختم کر دیا، اور وریشہ اس پہ بہت روئی تو جب جہانداد بھائی نے اسے سمجھایا تو وہ سمجھ گئی کیونکہ وہ جہانداد بھائی کے سامنے خود کا غلط تاثر کبھی نہیں دیتی ، سب کے پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے ، جہانداد بھائی کے علاوہ کسی کی نہیں سنتی ، میں آپ کو اس لیے بتا رہا کہ آپ کو سب پتا ہونا چاہیے ، وریشہ آج بھی بھائی کے لیے ویسے ہی جذبات رکھتی ہے ، لیکن بھائی اپنوں کے معاملے میں آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ ” وہ بتا رہا تھا جبکہ وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اسے اب وریشہ کے الفاظ کے پیچھے جوڑے مطلب سمجھ آرہے تھے۔
“آپ کے ساتھ کیوں نہیں کیا ، میرا مطلب آپ اس کے ایج فیلو ہو۔” الہام نے سوال کیا تھا۔
“کیونکہ میں وریشہ سے ایک سال چھوٹا ہوں۔” شاہ میر نے فورا جواب دیا تھا۔
“کیا ، لگتا تو نہیں ہے ، اور ساتھ آپ دونوں کی یونیورسٹی ابھی ایک ساتھ سٹارٹ ہوئی۔”
“کیونکہ آپ کے ہونہار دیور نے مونٹیسری کی کلاس سکیپ کی تھی” اس نے فخر سے بتا یا تھا۔ جس پہ الہام مسکرائی تھی۔ تبھی جہانداد اور وریشہ ان کے پاس آۓ تھے۔
” اب آپ دونوں کی اجازت ہو ، تو میں الہام کو ساتھ لے جاؤں۔” جہانداد نے ان دونوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ، وہ ان دونوں کا بڑا تھا اور بڑے ہونے کا حق باخوبی نبھانا جانتا تھا۔
“جی جی لے جائیں ، ہم بالکل نہیں لڑیں گئے ، ان فیکٹ میں وریشہ کو بوٹنگ کے لیے لے کے جا رہا ہوں ، آپ دونوں انجوائے کریں۔” شاہ میر نے فورا اگلا لائحہ عمل تیار کیا تھا شاید وہ اپنے بھائی بھابھی کو ‏ ساتھ میں وقت دینا چاہتا تھا، وریشہ بھی بوٹنگ کا نام سن کر اس کے ساتھ چلی گئی تھی۔ جہانداد نے اپنا ہاتھ الہام کے آگے کیا تھا، الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ، جس پہ اس نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا تھا ، جیسے تھام کر الہام کھڑی ہوگئی تھی۔ جہانداد اس کا ہاتھ تھامے جھیل کے بالکل سامنے کھڑا ہوا تھا۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ الہام نے اس کے بولنے کا انتظار کیا تھا۔اس کا ہاتھ تھامے وہ سامنے جھیل کو دیکھ رہا تھا، آس پاس موجود لوگوں میں سے کافی لوگ ان کو رشک سے دیکھتے گزرے تھے ، جیسے الہام نے باخوبی نوٹ کیا تھا۔
” یہ بہت خوبصورت ہے ،” کافی دیر اس کی خاموشی کو دیکھتے الہام نے کہا تھا۔
” ہاں ہے تو لیکن آج تو یہ پہلے سے بھی خوبصورت لگ رہی ہے۔” جہانداد نے ہلکا سا اس کا ہاتھ دباتے اس کی طرف مسکرا کر دیکھتے کہا تھا جو پہلے سے منہ اوپر کیے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ اس کی مسکراہٹ زیادہ گہری تھی یا سامنے موجود جھیل۔
” ایسا کیوں ۔” الہام نے سوال کیا تھا، اور فورا اپنی نظریں سامنے کی تھیں، اس کے اس عمل پہ جہانداد نے بھی مسکراتے ہوۓ اپنی نظریں جھیل کی طرف کی تھیں۔
” من پسند شخص کا ساتھ ہو توعام تالاب بھی خوبصورت لگانے لگاتا ہے ، یہ تو پھر جھیل سیف الملوک ہے۔” سامنے دیکھتے ہوۓ اس نے الہام سے کہا تھا۔ الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو سامنے دیکھ ریا تھا وہ ایسا ہی تھا اظہار کرکے لاپروائی دیکھاتا تھا۔ الہام نے مسکراہٹ ضبط کی تھی اور سامنے دیکھا تھا جہاں شاہ میر اسے بوٹ پہ بیٹھا نظر آیا تھا۔
“یار لڑکا کتنا ڈیشنگ ہے ، اور ساتھ لڑکی کتنی گریسفل لگ رہی۔” پاس سے گزرتی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کی آواز آئی تھی، الہام نے موڑ کر مسکراتے ہوۓ انہیں دیکھا تھا جو اسے دیکھتی مسکراتی ہوئی گزار گئیں تھی۔
“آپ کی وجہ سے میری بھی تعریف ہوگئی ۔” جہانداد کی آواز پہ الہام نے اسے موڑ کر اسے دیکھا تھا ، جو اب بھی سامنے دیکھ رہا تھا۔
” شاید میری آپ کی وجہ سے کی گئی ہو” الہام نے کنفیوژن ظاہر کی تھی۔
” نا بالکل بھی نہیں، یہاں اس جگہ آپ کو ڈیشنگ اور ہینڈسم لوگ تو بہت ملیں گے ، لیکن مکمل پردے میں بہت کم ، یا شاید ملیں ہی نا، تو آپ انسپائر کر رہیں ہیں یہاں موجود عورتوں کو۔” اس نے بہت آسان الفاظ میں وضاحت کی تھی۔
“لیکن میں نے کچھ لڑکیاں دیکھی ، وہ صرف آپ کو دیکھ رہیں تھیں۔” الہام نے جلدی سے کہا تھا ، جیسے اس کی زبان پھسل گئی ہو ، جہانداد نے اس کی بات پہ قہقہ لگایا تھا۔ جبکہ الہام اپنی تیزی پہ نادم ہوئی تھی۔
“دو دنوں میں پہلی بار آپ نے صحیح بیویوں کی طرح بات کی ہے ،ویسے جیلسی کے معاملے میں سب عورتیں ایک جیسی ہوتیں ، چاہے پھر وہ الہام ہی کیوں نا ہو۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے ہنستے ہوۓ کہا تھا جو شرمندہ سی نیچے دیکھتے اب اپنا ہاتھ جہانداد سے چھوڑا رہی تھی ، جس پہ جہانداد نے ہاتھ پہ گرفت مضبوط کر لی تھی۔ اس کا یہ روپ جہانداد کو اچھا لگا تھا۔
” آپ کو تو خوش ہونا چاہیے آپ کا ہسبنڈ اتنا ہنڈسم ہے کہ لڑکیاں دیکھنے پر مجبور ہوجاتی۔” جہانداد نے اسے مزید چھڑا تھا۔
” تو کوئی مجھے ایسے دیکھے تو۔” الہام نے غصے میں سر اٹھا کر کہا تھا۔
“ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی دیکھے، کیونکہ آپ قرآن کے حکم کے مطابق پورے پردے میں ہیں ، کوئی دیکھے گا بھی تو نظریں خود جھک جائیں گی، اور اگر نہیں جھکیں گی تو میرے نزدیک وہ مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں ہے، اور جہاں تک میری بات تو الہام کا ساتھ جس مرد کو حاصل ہو وہ کب کسی اور کو دیکھنے کا طالبگار ہوگا۔” وہ عام مردوں کی طرح جذباتی نہیں تھا ، وہ حقیقت پسند تھا، اس کی بات سن کر الہام کا غصہ ہوا ہوگیا تھا ، اس نے نظریں جھکائی تھیں، جبکہ جہانداد اس کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ خوش تھا وہ اب اس کے ساتھ نارمل زندگی کی طرف آرہی تھی۔ وہاں سے کھانا کھا کر انھوں نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا تھا۔ اور ایک طویل تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ لوگ رات کو گلگت اپنے آبائی علاقے میں پہنچے تھے۔ الہام کا تھکاوٹ سے برا حال تھا جبکہ وہ لوگ اسے فریش لگے تھے۔ شاید وہ لوگ عادی ہوچکے تھے۔ گاڑی بڑی سی حویلی سے اندر داخل ہوئی تھی۔ سب سے مل کر وہ لوگ اپنے پورشن میں گئے تھے کیونکہ نیچے والا پورشن جہانداد کے چچا کا تھا جبکہ اوپر والا پورشن جہانداد کے والد کا تھا، اسی طرح باقی کی زمینیں بھی بانٹی گئی تھی۔ جہانداد الہام کو اپنے کمرے میں لے کر آیا تھا ، جو اس کی والدہ نے آتے ہی صاف کروا دیا تھا۔ درمیان میں رکھا گیا بیڈ ، ایک طرف کپڑوں کی الماری ، کھڑکی کی طرف ٹیرس بنا ہوا تھا۔الہام کو اب سردی بھی کافی محسوس ہورہی تھی۔ لیکن تھکاوٹ بھگانے کے لیے اس نے شاور لے کر کپڑے بدلے تھے۔ اور بالوں پہ ٹاول باندھے وہ باہر نکل کر بھاگتی ہوئی بستر میں گھسی تھی، جہانداد نے اس کی پھرتی دیکھتے قہقہ لگایا تھا۔
“آپ کی پھرتی دیکھ کر لگ رہا کہ آپ واقعی ہی ایک آرمی والے کی بیوی ہیں۔” اس کو چھڑتے وہ واشروم میں گیا تھا جبکہ وہ اسے گھورتی رہ گئی تھی۔
جاری ہے !!