Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“الہام جاپ کے لئے کیوں اپلائے نہیں کر رہی ، کیوں ایک پرائیویٹ سکول میں جاپ کر کے وقت ضائع کرنے پہ ضد کر رہی ہو۔”
حرا اور الہام دونوں کا دو دن پہلے ہی لاسٹ سیمسٹر کا رزلٹ آیا تھا جو دونوں نے اپھے جی پی اے سے پاس کیا تھا۔ اور اب حرا گورنمنٹ کی جاپ کے لیے اپلائے کرنے کا کہہ رہی تھی جبکہ الہام اپنے لئےکسی پرائیویٹ سکول میں جاپ کرنے کا کہہ رہی تھی۔جو حرا کو غصہ دلا گئی تھی۔
الہام نے حرا کی طرف دیکھا تھا ، “کیونکہ میں شادی کے بعد جاپ نہیں کرنا چاہتی اور جب میں نے جاپ کرنی ہی نہیں تو بہتر کہ جو جگہ مجھے ملنی کسی مستحق کو ملے۔ حرا نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا
“تم جاپ کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ حرا نے سوال کیا تھا۔
الہام مسکرائی تھی “عورت کو سچ میں انڈیپنڈنٹ ہونا چاہئے، پڑھا لکھا ، جو اس معاشرے میں ضرورت پڑنے پہ اکیلے سرویو کر سکے بنا کسی کے سہارے کے ، ہمارے ہاں کتنی عورتیں ہیں جن کی جلدی شادی کر دی جاتی ہے اور وہ تعلیم مکمل نہیں کر پاتی، اور پھر کچھ بیوہ ہوجاتی ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ بے سہارا ہو جاتی ہیں، قسمت کے کھیل ہیں، ان کو نا سسرال والے سہارا دیتے ہیں، اور ماں باپ دیتے تو ہیں لیکن اپنی زندگی تک ، پھر ان کے جانے کے بعد بھائی منہ موڈ لیتے ہیں، ایسے میں تعلیم ہو تو وہ اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو سکتی ہے،اس لیے ایسا بالکل نہیں ہے کہ میں عورت کی نوکری کے حق میں نہیں ہوں، میں صرف اپنی بات کر رہی کے مجھے نوکری نہیں کرنی، کیونکہ میری اپنی ایک سوچ ہے، جو میری ہے جو کسی پہ مسلط نہیں کرسکتی نا یہ حق مجھے میرے دین نے دیا ہے ، میں چاہتی ہوں شادی کے بعد اپنا سارا وقت اپنے نئے گھر کو دوں ، نئے رشتوں کو دوں، میرے شوہر صبح آفس جائیں تو میں جلدی جلدی میں ان کو ناشتہ نا دے رہی ہوں ، ان کو یہ نا کہہ رہی ہوں کہ فلاں چیز وہاں پڑی ہے اٹھا لیں، “میں خودتیار ہو رہی ہوں”، بلکہ خود جا کر ان کے ہاتھ میں دوں اور ان کو دروازے تک چھوڑ کر آوں اور شام میں جب وہ گھر آئیں تو میں ان کو فریش ملوں بنا کسی تھکاوٹ کی شکایت کرتے ہوئے ان سے ان کی تھکاوٹ کا پوچھوں ،اور جب میرے بچے ہو جائیں تو ان کو میڈ یا کسی ڈے کیئر میں نا چھوڑنا پڑے ، ان کی پہلی کروٹ ، ان کا پہلا قدم، ان کی پہلی بار بات کرنا، مجھے کسی اور کے منہ سے پتا نا چلے بلکہ یہ سب میرے خود کے سامنے ہو۔” الہام اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوگئی تھی جبکہ حرا ہمیشہ کی طرح لاجواب ہوگئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام اور حرا بیٹھی ٹی وی دیکھ رہیں تھیں جب گھر کی ڈور بیل بجی اور الہام دروازہ کھولنے کے لئیے سر پر اچھے سے دوپٹہ کرکے آگے بڑھی۔
تھوڑی دیر میں الہام کے پیچھے ابوبکر گھر میں داخل ہوا۔اور بلند آواز میں سلام کیا۔
الہام ابوبکر کے لئے پانی لینے چلی گئی تھی جبکہ حرا نے ایسے ریکٹ کیا جیسے وہ تو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔
“میرے خیال سے سلامتی کے جواب میں سلامتی بھیجنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔”
ابو بکر نے دوسرے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔
اپنے دشمنوں پہ سلامتی بھیجنے والا منافق ہوتا ہے سچا نہیں ہوتا، حرا نے بغیر دیکھے جھٹ سے جواب دیا۔
ابوبکر کا قہقہہ گونجا تھا اور تب تک الہام پانی لے کر آ چکی تھی اور اس نے ناسمجھی میں ابوبکر کو دیکھا مقصد یہ تھا کہ اب کون سی جنگ چھڑ گئی آپ دونوں میں۔۔۔
“تمھاری دوست کہہ رہی ہے کہ وہ دشمنوں پہ سلامتی نہیں بھیجتی، اب ان محترمہ سے پوچھو میں ان کا دشمن کب بنا۔” ابوبکر نے پانی کا گلاس لیتے ہوئے الہام سے کہا۔ چہرے پہ مسلسل ایک مسکراہٹ تھی جس کا مقصد مخالف کو اور تش دلوانا تھا۔
“اتنے شریف بننے کی ضرورت نہیں ہے،آپ میرےساتھ جیسا انڈیا پاکستان کے ساتھ سلوک رکھتا ہے ویسا رکھیں اور بدلے میں ، میں آپ پہ سلامتی بھیجنوں اتنا بڑا دل نہ پاکستان کا ہے اور نہ میرا۔” ہاتھ کا ہائی فائف بنا کر جواب دیا گیا تھا۔
“پاکستان کو تو اپنے ساتھ مت ملائیں ، پاکستان میں اچھے خاصے مجھ جیسے بڑے دل والے لوگ رہتے ہیں اور انفکٹ اتنا بڑا دل ہے کہ باہر والوں کو گھر میں جگہ دی ہوئی ہے۔” ابوبکر نے الہام کو دیکھتے ہوئے آخر میں حرا کو دیکھا تھا اور ساتھ ہی اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگائی تھی۔ جبکہ حرا نے ہاتھ میں پکڑاہوا کشن ابوبکر کی طرف پھینکا تھا۔
“آپ کو تو میں انکل آنٹی سے کہہ کر اس گھر سے نکالوؤں گی۔” حرا نے اونچی آواز میں کمرے میں بند ہوتے ابوبکر کو جواب دیا تھا۔
“مجھے تو آپ نکلوئیں گی آپ کو آپ کے گھرسے کس نے نکالا جو ہر وقت یہاں پائی جاتیں ہیں۔” کمرے کر اندر سے آواز آئی تھی۔ وہ منہ کھولے دروازے کو گھور رہی تھی وہ کبھی ابوبکر سے جیت نہیں پاتی تھی۔الہام نے آکر اس کا منہ بند کیا تھا۔
“بڑے آئے ان کا گھر، میں تو نہیں جانے والی میں تو اپنی رخصتی بھی اس گھر سے کروؤں گئی ،سڑتے رہیں ابوبکر عالم” الہام کو کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔الہام نے ہاتھ پکڑا تھا مقصد پوچھنا تھا کہ کدھر!!
“چائے بننے جا رہی ہوں۔” مسکرا کے جواب دیا گیا تھا۔
“آپ کے گھر کیا دودھ نہیں ہے۔” ابوبکر نے کمرے سے نکلتے ہوئے چھڑنے والے انداز میں کہا تھا۔
“دودھ تو ہے لیکن دشمن کے گھر بیٹھ کر ،اس کے سامنے چائے پینے کا اپنا مزہ ہے۔” حرا نے ابوبکر کے طرف دیکھتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کر چیلنچگ انداز میں جواب دیا تھا۔
“ہاں بس شرط یہ ہے کہ آپ ابی نندن نا ہوں” ابوبکر نے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔” اور حرا کا منہ کھول گیا تھا مطلب وہ پھر ہار چکی تھی اور پھر وہ بنا کچھ بولے کیچن میں چلی گئی تھی اور پیچھے سے ابوبکر کا قہقہہ سنائی دیا تھا۔ جبکہ الہام منہ بنا کر بھائی کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے ہمیشہ کی طرح آنکھوں سے تسلی دی تھی کہ کچھ نہیں ہوتا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عائشہ بیگم، عالم شبیر اور الہام ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب ڈور بیل بجی تھی۔
“ابوبکر بھائی ہوں گئے میں کھول کر آتی ہوں” الہام یہ کہتے ہوئے خود کو دوپٹے میں ڈھانپتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی تھی۔اور تھوڑی دیر بعد دونوں بہن بھائی مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے۔
“امی ابو آپ دونوں جلدی سے باہر چلیں ۔آپ دونوں کے لئے ایک سرپرائز ہے۔ الہام نے عالم شبیر کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا تھا جبکہ ابوبکر نے عائشہ کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔
” ارے کیسا سرپرائزجو تم دونوں ہمیں ایسے لے کر جا رہے ہو؟ ” عالم شبیر نے سوال کیا تھا ۔
” آپ چلیں تو ” الہام ان کو لے کر مین ڈور کی طرف بڑھی تھے جبکہ پیچھے ابوبکر ماں کو لے کر آیا تھا۔الہام نے ان کو دروازے سے باہر کھڑا کر کے ابوبکر اور ماں کو باہر جانے کو راستہ دیا تھا جبکہ خود چہرے کو ڈھانپے دروازے پر کھڑی تھی جبکہ وہ لوگ باہر تھے۔
“یہ رہا آپ لوگوں کا سرپرائز، ابوبکر نے پاس کھڑی نئی سفید رنگ کی مہران گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ فلحال یہی افواڈ کر سکتا ہوں لیکن انشاءاللہ بہت جلد دوسری گاڑی لوں گا”۔ ابوبکر نے مسکرا کر پاس کھڑے اپنے ماں باپ کو دیکھا جن کی بدولت آج وہ اپنی گاڑی لینے کے قابل ہوا تھا، جو ابھی تک سکتے کے عالم میں گاڑی کو دیکھ رہے تھے۔ پھر عالم شبیر نے ابوبکر کو گلے لگایا تھا۔ عالم شبیر بچوں کے تعلیم اور باقی اخراجات کی وجہ سے کبھی گاڑی نہیں لے سکے تھے۔
“پتا ہے بیٹا جب میری نوکری لگی تھی اور ایک دن میں نے موٹر سائیکل لی۔ اسی طرح میں اور تمھاری پھوپھی اماں ابا کو دروازے پہ لے کر آئے تھے اور وہ دونوں موٹرسائیکل دیکھ کر رونے لگ گئے تھے۔تب میں نے ابا جی سے رونے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا!
“پتر جب تیری اولاد تجھے ایسے دروازے پہ اپنی کمائی سے خریدا ہوا کچھ دیکھانے کے لئے لائے گی نا تب تجھے میرے آنسو سمجھ آئیں گے،ان کی آواز بھر گئی تھی۔”اور آج بیٹا میں سمجھ گیا وہ کیوں رو رہے تھے۔”وہ مزید بولے تھے۔ وہ ابھی تک ابوبکر کے گلے لگے ہوئے تھے۔
“ابو مجھے خوشی ہے کہ میں نے آج آپ کو موقع دیا کہ آپ محسوس کر سکیں کہ اس وقت جو دادا ابو نے محسوس کیا تھا۔شکر ہے میری وجہ سے آپ اس احساس سے محروم نہیں رہے۔”ابوبکر نے ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کرچومے تھے۔پھر ماں کی طرف دیکھا تھا جو اپنی آنکھوں کی نمی صاف کر رہیں تھیں۔ابوبکر نے آگے بڑھ کر ماں کو گلے لگایا تھا۔
“اللہ تمھارے لیے اس کو بابرکت کرے۔ تمہیں نصیب کرے۔”عائشہ نے بیٹے سے الگ ہو کر، اس کے سر کو نیچے کر کے پیشانی کو چوما تھا۔
“آمین!” پیچھے سے الہام کی آواز آئی تھی۔ “بھائی چلیں ہم سب کو اپنی گاڑی پرآسکریم کھلانےلے چلیں۔”
“نہیں بیٹا تم دونوں چلے جاو میں اور تمھارے ابو پھر کسی دن تم دونوں کے ساتھ چلے جائیں گے۔ ” عائشہ نے جواب دیا تھا۔
“ہاں بیٹا آپ لوگ جائیں، اور احتیاط سے جانا” عالم شبیر نے ہدایت دی تھی۔
“آپ لوگ بھی چلتے نا یار ” ابوبکر نے منہ بنایا تھا۔اور ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ کھول کر الہام کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔جو چہرا دوپٹے میں ڈھانپے دروازے پر کھڑی تھی حالانکہ کہ رات ہونے کی وجہ سے گلی سنسان پڑی تھی۔ لیکن گلی میں موجود گھروں کے چھتوں پر سے کوئی بھی گلی میں جھانک سکتا تھا۔
“بھائی حرا کو بھی لے کر چلیں گے۔” الہام نے دروازے میں سے نکلتے ہوئے ابوبکر کو کہا تھا جو گاڑی کا دروازہ کھولے الہام کے بیٹھنے کے انتظار میں تھا۔
“رات میں تو مشکل سے وہ اپنے گھر جاتیں ہے اور پھر سے ان کو ساتھ بلوا رہی”۔ ابوبکر نے الہام کو آنکھیں دیکھائی تھی۔
“ابو دیکھیں نا بھائی کو” الہام بے منہ بنا کر عالم شبیر کی طرف دیکھا تھا۔جو چمکتی آنکھیں لئیے عائشہ کے ساتھ کھڑے اپنے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔
“اچھا لے جائیں گئے پہلے گاڑی میں تو بیٹھ جاو”۔ ابوبکر نے باپ کی ڈانٹ سے پہلے جواب دیا تھا جو اس بات پہ مسکرا رہے تھے۔ الہام گاڑی میں بیٹھی تو ابوبکر نے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔ اور ماں پاپ کی طرف آیا۔ “امی ، ابو ہم تھوڑی دیر میں واپس آتے ہیں “ان کے پاس رک کر کہا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔ بہن کا خیال رکھنا۔ فی امان اللہ ” عائشہ نے ہمیشہ کی طرح بیٹے کو نصیحت کی تھی۔
“جی خود سے ذیادہ رکھوں گا۔ ہمیشہ کی طرح یہی جواب دیا گیا تھا”اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔وہ ایسا ہی تھا ایک فرمانبردار بیٹا اور ذمےدار بھائی جو بہن کے لئے گھنا سایہ تھا۔شبیر عالم بیوی کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئے تھے۔
ابو بکر نے گاڑی اسٹاٹ کی تھی جبکہ الہام گاڑی میں بیٹھی، گاڑی پر غور وفکر کر رہی تھی۔
“تمہیں تو لینڈ کروزر کے علاوہ کوئی گاڑی ہی نہیں پسند، تو یہ مہران میں بیٹھ کر لینڈ کروزر والی خوشی کیوں دیکھا رہی ہو” ابوبکر نے ڈرائیو کرتے ہوئے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔کیونکہ گھر میں جب بھی گاڑی کی بات ہوتی تھی الہام کی سوئیں لینڈ کروزر پہ ہی اٹکی رہتی تھی۔ابوبکر نے حرا کے گھر کے آگے گاڑی روک دی تھی جو ان کے گھر سے دو گھر چھوڑ کر تھا۔
“لیکن بھائی مجھے تو یہ لینڈ کروزر سے سے بھی اچھی لگ رہی ہے کیونکہ یہ میرے بھائی کی حلال کمائی سے لی گئی ہے اس کے سامنے تو مہنگی سے مہنگی گاڑی پھیکی پڑ جائے۔ چیزیں کہاں خوبصورت ہوتی ہیں ان سے جوڑے لوگ خوبصورت ہوتے ہیں”
اس نے معصومیت سے بھائی کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔وہ اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر مسکرایا تھا وہ اپنی بہن کو جانتا تھا وہ اپنے بھائی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی تھی۔ اور پھر الہام نے حرا کو دروازہ کھولنے کا مسیج کیا تھا۔ اور تھوڑی دیر میں دروازہ کھولا تھا اور وہ حیران نظروں سے گاڑی کو دیکھ رہی تھی جبکہ الہام گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوئی تھی اسے حرا کی امی سے حرا کو لے جانے کی اجازت لینی تھی۔تھوڑی دیر میں وہ دونوں دروازے سے باہر نکلی تھیں۔اور گاڑی میں آکر بیٹھیں تھیں ۔ جبکہ حرا کی امی دروازے میں کھڑی تھیں ان کو دیکھ کر رہیں تھیں، ابو بکر گاڑی سے اتر کر ان سے ملنے گیا تھا اور سلام کر نے کے بعد ان کے آگے سر کو جھکایا تھا جس پر انھوں نے ست پر ہاتھ پھیر کر دعا کے ساتھ مبارک بھی دی تھی اوروہ ان سے اجازت لیتا دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا تھا۔وہ بہن بھائی ایسے ہی بڑوں کو عزت دینے والے تھے۔
“ارے واہ دشمنوں نے تو گاڑی لے لی۔” پچھلی سیٹ پہ بیٹھی حرا کی آواز آئی تھی۔
“اور مجھے لگا تھا آپ دشمن کی گاڑی میں کبھی نہیں بیٹھیں گی لیکن آپ نے حاصا مایوس کیا ہے” ابوبکر نے جواب دیا تھا۔ الہام خاموش بیٹھی مسکرا رہی تھی کیونکہ اسے پتا تھا، اب پورے راستے اس کو ان دونوں کی لڑائی سن کر انجوائے کرنا تھا۔
“آج جو کہہ لیں میں کچھ نہیں بولوں گی۔ “الہام کو جھٹکا لگا تھا اس نے پیچھے موڑ کر اپنے دوست کو دیکھا کہ آیا،حرا ہی ہے نا وہ کسی اور کو تو نہیں بیٹھا لائے ۔
“آخر کو آج میں خوش ہوں دشمن نے نئی گاڑی لی ہے۔خوشی میں آپ کو سب معاف ہے۔” حرا نے الہام کی پریشان شکل دیکھ کر اس کی مشکل آسان کی۔اور الہام نے فرط جذبات پورا پیچھے موڑ کر حرا کا ہاتھ پکڑا تھا۔ اور ابوبکر ڈارئیو کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ ہاں وہ ان کی فیملی کا ایک فرد ہی تو تھی جو ان کے غم میں آنسو بہلاتی تھی اور ان کی خوشی میں مسکراتی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
آج ابوبکر کے دوست کا ولیمہ تھا۔الہام اپنے کمرےمیں شادی پر جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔ جب حرا غصے سےلال ہوتی کمرے میں داخل ہوئی۔
” اپنے بھائی کو سمجھا لو، مجھ سے دور رہا کریں۔” وہ ہاتھ کی انگلی دیکھاتی دھڑام سے الہام کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔
“اب کیا کر دیا میرے بھائی نے” الہام نے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں سے حرا کو دیکھ کر پوچھا تھا۔
” مجھے دروازہ کھول کرکہتے ہیں آج جمعرات نہیں ہے، جمعرات کو آنا”۔ اس نے رونے والا منہ بنا کر الہام کو بتایا تھا۔ اور الہام کا قہقہہ گونجا تھا۔
“یہ تو ویسے بھائی نے آج تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے۔” الہام نے پیچھے مڑ کر حرا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“دیکھنا تم میں تو اپنی رخصتی بھی اسی گھر سے کرواؤں گی، ابوبکر عالم سڑتے رہیں” حرا نے الہام کو جتا کر جواب دیا تھا۔
“یہاں سے رخصتی کا تو پتا نہیں البتہ رخصت ہو کر یہاں آ سکتی ہو۔” الہام نے مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا تھا۔جبکہ حرا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔
“انڈیا پاکستان تو ایک ہو سکتے ہیں مگر یاد رکھنا ابوبکر عالم اور حرا سکندر ایک نہیں ہو سکتے” ۔ اس نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے الہام کو جواب دیا تھا۔
“اف یار ان ابوبکر عالم کے چکر میں یہ تو دیکھنا بھول ہی گئی کہ میری دوست کتنی پیاری لگ رہی ہے۔” اس نے موضوع گفتگو بدلتے ہوئے پیار سے الہام کی طرف دیکھا تھا جو آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنا حجاب سیٹ کر رہی تھی۔ اس نے پیچ رنگ کی کی سلک کی شرٹ کے ساتھ کیپری پہن رکھی تھی۔ پوری شرٹ پہ گولڈن موتیوں اور تللے کا کام ہواتھا۔ کپڑوں سے میچنگ سٹالر حجاب کی صورت میں لیا تھا۔ اور ڈریس کا دوپٹہ دائیں کندھےکی ایک سائیڈ پر ڈالا تھا۔اور پاؤں میں گولڈن پینسل ہیل پہن رکھی تھی ۔
” ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو”۔ حرا نے اٹھ کر الہام کو اپنی طرف موڑا تھا۔
“یار امی کے کہنے پر میں اچھی خاصی تیار ہو گئی ہو لیکن میں سوچ رہی ہوں لڑکیوں کی سائیڈ پہ بھی لڑکوں کا آنا جانا لگا رہے گا تو میں کیسے مینج کروں گی” ۔ الہام نے اپنی پریشانی حرا کو بتائی تھی۔
“ارے لڑکی جو بھی آئے گا سٹیج کی طرف آئے گا تم سٹیج سے اپنی بیک کر کے بیٹھنا،اور اگر کوئی اچانک سامنے آگیا تو تم دوپٹے سے نقاب کر لینا۔” حرانے اس کی پریشانی دور کی تھی اور الہام نے پریشانی میں سرہلایا تھا۔ حرا نے بیڈ پر پڑی چادر اسے تھمائی تھی۔ اور اس کا ہاتھ پکڑتی باہر لے آئی تھی جہاں سب تیار الہام کا انتظار کر رہے تھے۔
جاری ہے!!
