Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
عمر کو دنیا سے گئے آج پانچواں دن تھا، زندگی جیسی رک گئی تھی۔ الہام اپنے کمرے تک محدود ہوگئی تھی۔ خدیجہ اپنی بہن کا دکھ ساتھ لیے واپس اپنے گھر چلی گئی تھی۔ عالم شبیر نے ایک چپ سد لی تھی۔اور عائشہ بیگم تو بیٹی کودیکھ دیکھ کر آدھی ہوگئیں تھیں۔ الہام زیادہ تر جاۓ نماز پہ بیٹھی پائی جاتی تھی، یا قرآن پڑھتے ہوۓ۔ اس نے ایک خاموشی اوڑھ لی تھی۔ عائشہ بیگم کھانا کھلا دیتیں اور وہ کھا لیتی وہ ماں باپ کو پریشان نہیں کرسکتی تھی۔ شام میں جب ابوبکر چاۓ کے دو مگ پکڑے کمرے آیا تھا تو اسے کھڑکی کے پاس کھڑے پایا۔ وہ پاس آیا تھا، اور اس کے سامنے دوسری طرف دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تھا۔ چاۓ کا مگ اس کی طرف بڑھایا تھا۔الہام نے مگ کی طرف دیکھا تھا۔
“بھائی اب دل نہیں کرتا۔” آنسوؤں نے بند توڑا تھا، جیسے باہر آنے کا موقع ڈھونڈ رہے تھے۔
” تو کیا عمر کے جانے کے بعد اس کی پسندیدہ چیزوں کو رد کر دو گی، وہ عمر جو دنیا کو جینا سکھاتا تھا ، کیا اس کو اچھا لگے گا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے اپنے جینا ترک کر چکے ہیں،” ابو بکر نے چاۓ کا مگ ویسے ہی اس کے آگے کئے اسے جواب دیا تھا۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنا مگ پکڑے ہوۓ تھا۔الہام نے مگ تھام لیا تھا۔
“بھائی انسان بہت سخت جان ہے ، جس چیز کے بارے میں گمان بھی نہیں کرسکتا جب وہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں ، یہ سہہ جاتا ہے، سانس بھی لیتا ہے ، جی بھی لیتا ہے۔” الہام کی آواز رونے کی وجہ سے بھر آئی تھی ، ایک ہاتھ سے اس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
“الہام بچے ، مرنے والے کے ساتھ اگر مرا جاتا ، تو آج کوئی ماں بھی زندہ نا ہوتی جن کے بچے اس دنیا سے چلے گے ، ماں سے زیادہ تو کوئی محبت نہیں کرتا ، اور کوئی مرتا نہ مرتا لیکن مجھے اتنا پتا ہے ہر ماں اپنے بچے کے بعد مر جاتی، اللہ کی ذات مرہم رکھ دیتی ،دکھ تو کم نہیں ہوتا ہاں آپ سہہ جاتے پھر وہ آپ کو صبر سے روشناس کرواتا ہے، وہ آپ سے آپ کی من پسند چیز لے کر آزماتا ہے ، جتنی آپ اس سے محبت کا دعوا کریں گے اتنی سخت آزمائش سے گزرنا پڑے گا۔” ابوبکر نے بہت محبت سے اسے سمجھایا تھا۔
“بھائی ، میں ہارنے لگی ہوں۔” آنسوؤں کا ایک ریلا بند توڑ کر باہر آیا تھا۔ ابوبکر نے اگے بڑھ کر اسے ساتھ لگایا تھا۔
“تم کبھی بھی نہیں ہارو گی ، اللہ تمہیں کبھی ہارنے نہیں دے گا، عمر کا چند دن کا ساتھ تمہیں کبھی ہارنے نہیں دے گا ، وہی ساتھ تمہاری طاقت بنے گا ، وہ عمر جو اپنی ذات پہ ہمیشہ دوسروں کو فوقیت دیتا تھا ، وہ جو ہمیشہ دوسروں کے لئے جیتا تھا۔” ابوبکر نے آہستہ سے اسے اپنے ساتھ سے الگ کیا تھا، جو اس کی باتوں کا مہفوم سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی.ابوبکر نے مزید بات جاری رکھی تھی۔
“تم نے نا عمر کی والدہ کی خیریت دریافت کی ، نا عمر کے ان اپنوں کی جو پھر سے بیٹے کی محبت سے محروم ہوگئے ، تم ایسی تو نہیں تھی، تم تو ہمشہ خود سے پہلے دوسروں کے بارے میں سوچتی تھی ،” اور الہام نے آنکھیں اٹھا کر ابوبکر کی طرف دیکھا تھا ، ہاں وہ واقعی ہی اپنے دکھ میں، عمر کے اپنوں کے بارے میں بھول گئی تھی، انسان ایسا ہی تو خود غرض ہے ، اسے لگتا ہے اس کا ہی دکھ بڑا ہے۔
“بھائی آپ ملے ان سے ،سب کیسے ہیں۔” الہام نے مدہم آواز میں شرمندگی لئے پوچھا تھا۔
“میں ہسپتال سے واپس آتے عمر کے گھر سے ہو کر آتا ، آنٹی کی حالت بہت خراب ہے ، وہ روز تمھارے بارے میں پوچھتی ، اور انکل تو بالکل ٹوٹ سے گئے ہیں ، انھوں نے مجھے اولڈ ہاوس جانے کا کہا تھا ، تو اس لئے روز صبح اور شام وہاں سے ہوکر آتا ، وہ بوڑھی آنکھیں اب بھی عمر کی منتظر رہتیں ہیں، ہر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چھپاۓ پھرتا ہے، میں نے ان سب سے کہا ہے کہ میں تمہیں ان سے ملوانے لاؤں گا، تمہیں عمر سے جوڑے لوگوں کو زندگی سے ہارنے نہیں دینا الہام۔” ابوبکر نے تفصیل سے جواب دیا تھا۔ اور الہام سوچوں میں گم تھی۔ دونوں کے ہاتھوں میں پکڑے مگوں میں چاۓاب ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ابوبکر نے الہام کے ہاتھ سے چاۓ کا مگ لیا تھا۔
“چاۓ ٹھنڈی ہو گئی ہے ، اور عمر کو ٹھنڈی چاۓ بلکل پسند نہیں تھی۔” ابوبکر نے چاۓ کا مگ سامنے کھڑکی میں رکھتے ہوۓ کہا۔
“دیں میں گرم کرکے لاتی ہوں ” فورا الہام کے منہ سے نکلا تھا۔ اور وہ دونوں مگ اٹھاۓ کمرے سے باہر نکل گئی تھا۔ جب کہ پیچھے کھڑے ابوبکر نے ایک گہری سانس خارج کی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ایک مہینہ گزار چکا تھا اور ایک مہینے میں صرف یہ فرق آیا تھا کہ الہام نے رونا چھوڑ دیا تھااور گھر کے کام خود کرنے لگ گئی تھی، ابوبکر نے سب کو اسے کچھ وقت دینے کو کہا تھا۔اس نے گفتگو کم کر دی تھی۔عائشہ بیگم بیٹی کی حالت پہ آنسو بہاتیں۔ الہام کمرے میں بیٹھی تھی ، جب حرا کمرے میں آئی تھی، وہ بیڈ سے ٹیک لگاۓ آنکھیں بند کئے تسبیح پڑھ رہی تھی ، اب اس کی خاموشی سب کو تنگ کرنے لگ گئی تھی۔
“الہام” حرا نے پاس بیٹھتے ہوۓ مخاطب کیا۔
“ہمم۔” الہام نے جواب دیا تھا۔آنکھیں اب بھی بند تھیں۔
” الہام تمہاری خاموشی ہم سب کو چبھتی ہے، الہام رو لو ، لیکن ایسے خاموش نا رہو ، اپنوں کے ساتھ رو لینے سے دل ہلکا ہوجاتا ہے۔” حرا نے منت کرتے ہوۓ کہا تھا۔ الہام نے آنکھیں کھولیں تھیں۔
“حرا تمھارے کندھے پہ سر رکھ کے روؤں گی نا تو تم عمر سے زیادہ میرے لئے رو گی ، امی بھی ایسا ہی کریں گی ، مجھے ایسا انسان چاۂیے جو میرے ساتھ صرف عمر کے لیے روۓ، وہ خالص عمر کے لیے روۓ اس میں ملاوٹ نا ہو ،اورایسا عمر کی ماں اور بہن کر سکتیں ہیں، تمہیں پتا آنٹی کے وجود سے عمر کی خوشبو آتی ہے ، آخر وہ ان کے وجود کا حصہ تھا۔ میری عدت ختم ہوجاۓ تو میں جاؤں گی اور ان کے گلے لگ کر خوب رؤں گی، بس تم دعا کرو میں رب کی آزمائش پہ پوری اتروں۔” الہام نے گم صم انداز میں جواب دیا تھا۔ اور حرا خاموش بیٹھی اسے دیکھتی رہی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عمر کا چہلم ہو چکا تھا۔عمر کی والدہ الہام سے ملنے آئیں تھیں،سب موجود تھے۔ الہام ان سے لپٹ کر روئی تھی، آج پھر سے زخم ہرا ہوا تھا ، آج پھر سے صبر کا پیمانا لبریز ہوا تھا اور وہ دونوں خالص عمر کے لئے روئیں تھیں۔ الہام کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں ، پھر نمرہ سے لپٹ کر بھی وہ ایسے ہی روئی تھی۔کافی دیر بعد عمر کی والدہ نے خود پہ ضبط کیا تھا اور بات شروع کی تھی۔
“ابوبکر بچے عمر نہیں رہا ، رب کی یہی مرضی تھی، اس کے ادھورے کام ہیں، اب ہم میں اتنی توانائی نہیں رہی، میں اولڈ ایج ہاوس کی زمہ داری تمہیں سونپتی ہوں ، تم سے بہتر توجہ میرا کوئی اپنا بھی نہیں دے سکتا، میں جانتی ہوں یہ بہت بڑی زمی داری ہے، لیکن بچے میں تمھارے علاوہ کسی پہ بھروسہ نہیں کرسکتی،اس ادارے کو ایسے ہی ڈونیشنز آتی رہیں گی جیسے پہلے آتیں تھیں ، مالی لحاظ سے کبھی کوئی تنگی نہیں ہوگی۔ یہ رہے وہاں کے پیپرز ، انھوں نے وہ پیپرز ابوبکر کے آگے کیے تھے ، اور اس نے تھام لئے تھے ، اور اس نے اتنی بڑی زمہ داری سامنے بیٹھی عورت کا مان رکھنے کے لئے اٹھا لی تھی۔ اب وہ الہام سے مخاطب ہوئیں تھیں، جو ان کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔
“الہام میرے بچے شادی کر لینا ، یہ بہت مشکل فیصلہ ہے ، تمہیں اس وقت برا لگے گا ، لیکن میری خواہش ہے کہ تمہارا بیٹا ہو اور اسے تم بلکل عمر کی طرح بناؤ ، ایک اور عمر یہ دنیا دیکھے ، اس دنیا کو عمر کی ضرورت ہے ، اور مجھے پتا ہے ، تمھاری تربیت میں ایک اور عمر دنیا دیکھے گی ، پھر ابوبکر سے یہ ذمہ داری لے کر اسے دے دینا، مجھے امید ہے ابوبکر کی طرح تم بھی میری بات کا مان رکھو گی۔” الہام ان کی بات کے جواب میں بس خاموش رہی تھی
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
پانچ مہینے گزار چکے تھے ، اب الہام نے اولڈ ایج ہاوٴس جانا شروع کر دیا تھا ، وہ صبح ابوبکر کے ساتھ آتی ، سب کے ساتھ دو، تین گھنٹے گزرانےکے بعد لوکل واپس گھر آجاتی تھی۔ گھر کے سارے کام وہ خود کرتی تھی، عائشہ بیگم کو نہیں کرنے دیتی تھی۔ وہ عمر کو آج بھی پہلے کی طرح یاد کرتی تھی ، ہر نماز میں اس کے لئے دعا کرتی تھی، قرآن پڑھ کر اس کو بخشتی تھی۔ اس کے مسیجز پڑھتی اور کبھی کبھی اس کی تصویر گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتی رہتی۔ انہی دنوں الہام کے لیے ایک رشتہ آیا تھا، لڑکا ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاپ کرتا تھا ، انتہائی شریف خاندان تھا۔ عائشہ بیگم جو کہ بیٹی کے لئے پریشان تھیں۔انھوں نے سکھ کا سانس لیا تھا اور ابوبکر اور شبیر عالم کے علم میں بات لاۓ بغیر الہام سے بات کرنے کا سوچا تھا۔
“الہام عمر چلا گیا ہے، اتنی لمبی زندگی اکیلے نہیں کٹتی، میں اور تمارے بابا آج ہیں کل نہیں ، اپنی زندگی میں تمارا گھر بسا دیکھنا چاہتے ہیں، ایک اچھا رشتہ آیا ہے تمارے لیے، انہیں تمہارے بیوہ ہونے پہ بھی کوئی اعتراض نہیں ہے بیٹا۔” انہوں نے اپنی بات پوری کی تھی اور الہام جو خاموش بیٹھی ماں کو سن رہی تھی، اس کی آنکھوں نے برسات پکڑی تھی۔
“امی وہ جو مرا ہے نا ابھی تک تو لوگ اس کا غم منا رہے ، ابھی تک تو لوگ اس کے سحر سے نہیں نکلے اور میں جو اس کی زندگی میں بیوی کا مقام رکھتی تھی، اس کے لئے کچھ مہینوں کا سوگ بھی نا مناؤ ، آپ اتنی خود غرض کیسے ہوسکتی ہیں ، وہ جو مرا ہے نا وہ اس قابل تھا کہ ساری عمر اس کا غم منایا جاۓ اور آپ مجھے کہہ رہی ہیں کہ میں شادی کر لوں۔” اور آخر میں وہ روتے ہوۓ ماں کے گلے لگی تھی جو شرمندہ سی اپنی جان سی پیاری بیٹی کی قسمت پہ اشک بہا رہیں تھیں۔
جاری ہے !!
