Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

تحریر آمنہ گل
آج الہام اپنے میکے رہنے کے لیے آئی تھی۔ ابوبکر اسے خود جاکے لے کر آیا تھا۔ رات میں حرا اور الہام چھت پہ موجود کرسیوں پر بیٹھی تھیں۔
” الہام تم خوش ہو نا۔” حرا نے الہام کی طرف دیکھتے سوال کیا تھا۔ جس پہ الہام مسکرائی تھی۔
” تمہیں کیا لگتا۔” الہام نے اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
” چہرے سے تو خوش لگتی ، میں تمہارے منہ سے سننا چاہتی۔” حرا نے اسے کہا تھا۔
” حرا اللہ نے میرا دل پہلے دن ہی بدل دیا تھا ، نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے، اس کا مجھ سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا ، جس شخص سے میں شادی کے لیے انکاری تھی، وہ شوہر کے روپ میں جب آیا تو جان سے پیارا ہوگیا۔” الہام نے سر کرسی کی بیک سے ٹکاۓ آسمان کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
” مجھے بہت اچھا لگا سن کے ” حرا دل سے خوش ہوئی تھی۔
” پتہ ہے حرا ، ” الہام سیدھی ہوئی تھی۔ ” میں کبھی کبھی سوچتی تھی اللہ نے اگر میری دعا سننی تھی تو مجھے جہانداد سے پہلے بھی تو نواز سکتا تھا ، عمر کیوں آۓ ، تو پھر جب جہانداد ڈیوٹی پہ گئے اور وہ بھی ایسی جگہ جہاں کسی وقت بھی حالات خراب ہوجاتے تب مجھے پتا چلا کہ اگر جہانداد پہلے آجاتے تو میں ایسے حالات کبھی فیس نا کر پاتی کہ میرا شوہر ایسی جگہ جہاں زندگی کسی وقت بھی روٹھ سکتی ، میرا دل ہر وقت بے چین رہتا ، لیکن عمر لے کر اللہ نے مجھے یقین سونپ دیا کہ اللہ اب مجھے کسی آزمائش میں نہیں ڈالے گا، اور معجزے تو یقین والوں کے لیے ہوتے ، جیسے موسیؑ کے لیے سمندر میں راستہ بنا دیا گیا ، جیسے ابراہیمؑ کے لئے آگ کو ٹھنڈا کردیا گیا ، ویسے ہی میرے یقین پہ اللہ جہانداد کو ہمیشہ سلامت رکھیں گئے، اللہ نے مجھے اس قدرمعتبر کر دیا کہ میرا خود کی ذات پہ یقین پکا کرنے کے لیے بھی کسی عام انسان کا انتحاب نہیں کیا بلکہ عمر جیسے انسان کا انتحاب کیا ، جیسے یاد کرکے دنیا آج بھی غمگین ہوتی ہے۔” حرا کی طرف دیکھ کر کہتے آخری بات پہ الہام کا لہجہ بھیگا تھا۔ حرا حیران اس کو دیکھ رہی تھی ، وہ الہام تھی وہ ہر بات کی گہرائی میں جاتی تھی۔ تبھی ابوبکر سیڑھیوں کے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔
” ارے کیا باتیں ہورہی ہیں۔” ان کی طرف آتے اس نے پوچھا تھا۔
” حرا سے آپ کی شکاتیں سن رہی ہوں۔” الہام نے فوراً جواب دیا تھا۔
” میں بہت ہی اچھا شوہر ہوں ، میری شکایتیں ہو ہی نہیں سکتی۔” الہام کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھتے حرا کو دیکھتے کہا تھا۔ جس پہ حرا مسکرائی تھی ، جبکہ الہام نے ان دونوں کو دیکھتے دل سے ان کی سلامتی کی دعا کی تھی۔
” الہام بچے آپ بتاؤ جہانداد واپس کب آرہا۔” ابوبکر نے سوال کیا تھا۔
” مہینہ یا دو مہینے بعد ۔” الہام نے اداسی سے جواب دیا تھا۔ ابوبکر نے اس کی اداسی محسوس کی تھی۔
” میں نے چاۓ چڑھائی تھی ابھی لے کرآتی ہوں۔” حرا نے اٹھتے ہوۓ کہا تھا، اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
” مس کر رہی ہو۔”ابوبکر نے اس کی طرف دیکھتے سوال کیا تھا۔الہام نے اٹھ کر اپنی کرسی اس کی کرسی سے جوڑی تھی ، اور واپس بیٹھ کر اپنا سر ابوبکر کے کندھے پہ رکھا تھا، ابوبکر مسکرایا تھا، وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ وہ اپنی بہن کی محفوظ پناہ گاہ تھا۔
” آپ میری چھوڑیں ، اب بھی آکر شوز کے ساتھ لیٹ جاتے ہیں۔” اس نے سر اٹھا کر ابوبکر کو دیکھتے مسکرا کر کہا تھا۔ ابوبکر اس کی بات پر مسکرایا تھا۔
” ہاں ، تمھارے جانے کے بعد اب شوز اترانے کی، تمہاری والی زمہ داری حرا نے لے لی ہے ، اور منع کرنے پہ تمہاری طرح کہاں منا ہوتیں ہیں ، تمھاری جو دوست ،” ابوبکر نے اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
” پتا ہے بھائی حرا مجھے کبھی باہر کی لگی ہی نہیں ، مجھے ہمیشہ سے وہ بہت پیاری تھی ، اور مزے کی بات بھابھی بن کے اور بھی پیاری ہوگئی یے ، پہلے وہ دوست تھی ، اب آپ کی نسبت سے مجھے اور پیاری لگنے لگی ہے حالانکہ میں سوچ رہی تھی میں کوئی نند والا رؤب جماؤں گی لیکن میرے سب ارادے دھارے کے دھارے رہ گئے۔” اس نے آخری بات پہ منہ بناتے ابوبکر سے کہا تھا۔ جس پہ ابوبکر نے قہقہ لگایا تھا۔
” واہ کیا ارادے تھے تمہارے الہام کی بچی۔” دروازے کے پاس ٹرے پکڑے کھڑی حرا نے کہا تھا۔ ابوبکر اور الہام ہنسے تھے۔
” یار حرا اتنا تو حق بنتا ہے ، اپنے جان سے پیارے بھائی تمہیں دیے ہیں۔” ابوبکر کے کندھے پہ سر رکھ کر اس کے بازو کے گرد اپنے ہاتھ لپیٹتے الہام نے اسے تنگ کرنا چاہا تھا، ابوبکر مسکرایا تھا۔
” الہام میری جان جاؤ اجازت ہے کیا یاد رکھو گی کس سخی سے پالا پڑا ہے۔” حرا نے ٹرے ان دونوں کے آگے کرتے کہا تھا، جبکہ الہام آنکھیں کھولے اس کو دیکھ رہی تھی جو امید کر رہی تھی کہ وہ آگے سے لڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانداد کو گئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔الہام لاؤنچ میں بیٹھی تھی، ماما بابا کسی رشتہ دار کی فوتگی کے پیش نظر گلگت گئے ہوۓ تھے، اور اگلے دن رات کو ان کی واپسی تھی۔ اس لیے وہ اکیلی بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی۔جب وریشہ اس کے آگے ٹیبل پہ رکھا اس کا چاۓ کا مگ اٹھا کر چاۓ پینے لگی اور اس کے سامنے صوفے پہ بیٹھ گئی۔ الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا مگرخاموش رہی۔
” ایسے کیا دیکھ رہی چاۓ ہی تو ہے ، ابھی تو تمہیں اپنا شوہر بھی مجھ سے بانٹنا ہے۔” وریشہ نے اس کی طرف دیکھتے تسلی سے کہا تھا، جبکہ الہام پہ تو یہ بات سن کر سکتہ طاری ہوا تھا، وہ بالکل وریشہ سے ایسی بات کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
” کیا بکواس کر رہی ہو۔” پیچھے شاہ میر کی آواز پہ الہام کا سکتہ ٹوٹا تھا۔ اس نے جلدی سے دوپٹے سے نقاب کیا تھا۔ جبکہ وریشہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی۔ شاہ میر اس کے بالکل سامنے آکر کھڑا ہوا تھا، جس پہ الہام بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” میں نے حقیقت بیان کی ہے، پتا نہیں کیا ہے اس میں، پہلے اس نے جہانداد کو اپنا اسیر بنایا اور اب تمہیں۔” وریشہ نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا تھا۔
” وریشہ۔” شاہ میر کا ہاتھ اٹھا تھا۔ الہام جو ابھی وریشہ کے الفاظ پہ غور کر رہی تھی ، شاہ میر کے تھپڑ پہ گھبرا گئی تھی۔ جبکہ وریشہ منہ پہ ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے شاہ میر کو دیکھ رہی تھی۔
” شاہ میر اپنے کمرے میں جاؤ۔” الہام نے غصے سے شاہ میر کو مخاطب کیا تھا جو اب بھی طش میں وریشہ کو گھور رہا تھا۔ شاہ میر نے موڑ کر الہام کی طرف دیکھا تھا۔ جس پہ الہام نے غصے سے اندر جانے کا اشارہ کیا تھا۔
” آج تمھاری زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ، اور یہ میرا معمولی سا ری ایکشن تھا ، بھابھی میرے لیے اتنی قابل احترام ہیں کہ اگر اگلی بار تم نے ان کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کیا تو سب کا لحاظ بھولا کر تمھیں جان سے مار دوں گا ،” اسے ہاتھ اٹھا کر وارنگ دیتا وہ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا، جبکہ وریشہ اب بھی بے یقینی کی صورت میں کھڑی تھی۔ الہام چل کر اس کے سامنے آئی تھی۔
” مجھے نہیں پتا وریشہ آپ کو مجھ سے کیا مسئلہ لیکن میرے کردار کے بارے میں بات کرنے کا آپ کو کوئی رائٹ نہیں ہے، آپ کو جو سوچنا آپ سوچیے، میرا اللہ جانتا میں کیسی، میرے لیے یہ بہت۔۔ یقین کریں، میں حیران ہوں کہ کیا آپ واقعی ہی جہانداد کی فیملی کا پارٹ ہیں جہاں ہر انسان نے اپنے اخلاق سے مجھے اپنا گرویدہ بنا دیا ” الہام نے اس کی طرف دیکھتے کہا تھا ، وریشہ کو محسوس ہوا تھا شاہ میر کے تھپڑ نے اتنی تکلیف نہیں دی تھی جتنی الہام کے الفاظ نے ، اس کی آخری بات پہ ایک آنسو وریشہ کی آنکھ سے نکلا تھا ، الہام اپنی بات پوری کرکے وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ وریشہ وہیں بت بنے کھڑی رہی تھی..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام اپنے کمرے میں آئی تھی، اور جو ضبط وہ وہاں کر کے آئی تھی وہ اب ٹوٹا تھا، اور بیڈ کو پکڑے فرش پہ بیٹھی وہ رو پڑی تھی ، آج اس کے کردار پہ بات کی گئی تھی ، اسے تو ہمیشہ احترام ملا تھا تو آج کیسے کوئی اس کے کردار پہ بات کر سکتا تھا۔ کچھ دیر رونے کے بعد اٹھ کر واشروم سے وضو کر کے نکلی تھی ، اور دو رکعت نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تھے۔
” یاللہ تو جانتا ہے کہ تیری بندی کیسی ہے ، مجھے کسی کے سامنے رسوا نا ہونے دینا ، میں یہ معاملہ تجھ پہ چھوڑتی ہوں،” دعا کرنے کے بعد وہ قدرے پرسکون ہوچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں الہام لان میں بیٹھی تھی، جب اسے پیچھے سے شاہ میر کی آواز آئی تھی ، اس نے جلدی سے نقاب کیا تھا۔
” کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔” پاس آکر کرسی کے پاس کھڑے ہوتے شاہ میر نے پوچھا تھا۔
” جی ۔” الہام نے نرمی سے جواب دیا تھا۔
” بھابھی آج کے لیے میں بہت شرمندہ ہوں۔” اس نے کرسی پہ بیٹھ کر الہام سے کہا تھا۔
” آپ کو نہیں ہونا چاہیے ، بس آپ کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ، وہ بڑی ہیں آپ سے۔” الہام نے نظریں بیچ میں موجود ٹیبل پہ رکھتے اس سے کہا تھا۔
” جب بڑے غلطی پہ ہوں تو چھوٹوں کو ہی انتہائی قدم اٹھانا پڑتا۔” شاہ میر نے سیدھا سا جواب دیا تھا۔
” جہانداد ہوتے تو کبھی ہاتھ نا اٹھاتے ، چاہے بات میرے کردار کی ہی کیوں نا ہوتی۔” الہام بولی تھی ، شاید ابھی وہ خود بھی اخذ نہیں کر پائی تھی کہ جہانداد کا ریکشن کیسے ہو سکتا تھا، لیکن ایک بات اسے پتا تھی وہ عورت پہ ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔
” آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، بھائی میرے غصے کو دیکھ کر اکثر کہتے شاہ میر جو غصے پہ قابو نہیں رکھ سکتا وہ کیسا مرد ہوا ، اصل مرد تو وہی ہوتا جو بڑے سے بڑا کام آسانی سے کر جاۓ ، اس لیے اگر وہ غصے کو کنڑول میں رکھنے جیسا مشکل کام کرنے میں ناکام تو پھر وہ کیسا مرد ہوا ، آپ کو پتا میرے سے کچھ غلط ہو جاۓ نا تو جہانداد بھائی غصہ نہیں کرتے ، وہ بڑے پیار سے لفظوں کی مار مارتے یا خاموشی کی مار مارتے، ابھی میری اور وریشہ دونوں کی کلاس پکی ہے۔” بہت آرام سے بتاتے آخری بات پہ وہ ہنسا تھا۔
” تو آپ نے جہانداد کو بتا دیا۔” الہام نے پوچھا تھا۔
” جی پہلی فرصت میں۔” وہ مسکرایا تھا۔
” وہ اتنا دور ہیں گھر سے ، آپ کو نہیں بتانا چاہیے تھا وہ پریشان ہوں گے ، وریشہ بچی ہے ، میں نے اس کی باتوں کو دل سے نہیں لیا، ” الہام نے اس سے کہا تھا۔
” بھابھی ایک بات کہوں۔” شاہ میر نے اس کی بات کو اگنور کرتے کہا تھا۔
” آپ میرے لیے بالکل ماما جیسی ہیں ، میں ماما کی طرح آپ کی عزت کرتا ہوں۔” شاہ میر نے بہت احترام سے کہا تھا۔
” شاہ میر بچے میں جانتی ہوں ، یہ آپ کے بناء بولے مجھے پتا ہے ، آپ کو پتا ہے مجھے اتنا دل کرتا تھا کہ میرا کوئی چھوٹا بھائی ہوتا ، میں اس پہ حکم چلاتی ، اس کو ڈانٹتی اور دیکھو اللہ نے مجھے تمہیں دے دیا ، لوگ کیا کہتے مجھے پرواہ نہیں رہی انہوں نے تو یوسفؑ اور مریمؑ کو بھی نہیں چھوڑا تھا، ہماری خود کی نیت صاف ہونی چاہیے ، اللہ تو نیتیں دیکھتا ہے ۔” الہام نے بڑی تفصیل سے اسے کہا تھا، جو سامنے بیٹھا ٹیبل پہ نظریں جماۓ بیٹھا تھا، وہ کبھی آنکھ اٹھا کر الہام کو نہیں دیکھتا تھا۔
” بھابھی آپ مجھے ڈانٹ سکتی ہیں ، اور حکم بھی چلا سکتی ، جہانداد بھائی از لکی ٹوہیو یو ان ہیز لائف۔” یہ کہتے ہوۓ وہ اٹھا تھا۔
” اور ہاں بھابھی آج کھانے میں پلاؤ بنا دینا۔” یہ کہتے وہ وہاں سے چلا گیا تھا، جس پہ الہام نے منہ بنایا تھا۔
” کوئی پلاؤ نہیں ، بھنڈی بناؤں گی ، آرام سے کھا لینا۔” پیچھے سے الہام نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا تھا، تاکہ وہ سن لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں جہانداد نے کال کرکے الہام سے محض اتنا کہا تھا کہ وہ کل واپس آرہا ہے اور شام تک گھر پہنچ جاۓ گا ، اور اس سے زیادہ بات اس نے نہیں کی تھی۔ الہام کو اس کا رویہ تھوڑا عجیب لگا تھا۔لیکن وہ اگنور کر گئی تھی کہ شاید یہ اس کا وہم ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن الہام جہانداد کے آنے پہ خوش تھی، اس نے اس کے سارے کپڑے ترتیب سے واڈروب میں ہینگ کیے۔اس کے لیے بریانی بنائی۔شام میں الہام اچھا سا تیار ہوئی، کالے رنگ کی کھلی سی شارٹ شرٹ کے ساتھ کھلا سا کالا ٹروزر پہنے،بالوں کی ڈھیلی سی چوٹیا بناۓ اس نے آنکھوں کو کاجل سے آراستہ کیا تھا، پلکیں مسکارا لگنے سے اور دراز ہوئی تھیں، اور ہونٹوں کو لپ اسٹک سے مزین کیا تھا، کانوں میں جھمکے پہنے تھے،وہ زندگی میں پہلی بار اتنی تیار ہوئی تھی۔ سر پہ لال دوپٹہ لیے وہ باہر نکلی تھی کیونکہ شاہ میر کسی دوست کی طرف گیا تھا ، اس لیے الہام بلا جھجک باہر آ گئی تھی۔وہ ابھی کمرے کے پاس ہی سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی، جب جہانداد کو اس نے دروازے سے اندر آتے دیکھا۔ الہام کا دل دھڑ کا تھا ، اور قدم وہیں رکے تھے، اسے لگا تھا وہ ابھی اوپر آۓ گا کیونکہ وہ جانتا تھا ماما بابا گھر پر نہیں ہیں۔ اپنا سامان لاؤنچ میں صوفے کے پاس رکھ کر آگےبڑھ گیا تھا، اس نے اوپر نہیں دیکھا تھا ، اور پھر ماما بابا کے ساتھ والے روم کے اندر گیا تھا جو وریشہ کا تھا۔ الہام نے بے یقینی کی کیفیت میں بند کمرے کو دیکھا تھا۔ کیا ہو رہا تھا ، اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا، تھوڑی دیر میں دروازہ کھولا تھا، جب جہانداد وریشہ کا ہاتھ پکڑے باہر آیا تھا ، وہ غیر ارادی طور پہ پیچھے ہوئی تھی۔ نظر بس جہانداد کے ہاتھ میں موجود وریشہ کے ہاتھ میں تھی ، پھر وہ دونوں دروازے سے باہر نکلے تھے ، اور کچھ دیر میں گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی تھی ، وہ دونوں جا چکے تھے۔ الہام بے جان قدموں سے واپس کمرے میں آئی تھی۔ اور آکر بیڈ پہ بیٹھی تھی۔ ذہین میں وریشہ کے الفاظ نے بازگشت کی ” ابھی تو تم نے اپنا شوہر بھی مجھ سے بانٹنا ہے۔” ” نہیں جہانداد ایسے نہیں ہیں ” دل نے جوابی وار کیا تھا۔ ” تم جانتی ہی کتنا ہو۔” دماغ نے نئی سوچ سے الجھن میں ڈالا تھا۔۔کیا وہ نہیں جانتے کہ “وریشہ نے مجھ پہ الزام لگایا،” آنکھوں سے آنسو جاری ہوۓ تھے۔ “میں یہ تو نہیں کہہ رہی تھی وہ ماریں اسے ، لیکن زرا سا ناراض تو رہتے ، کیا ان کو اپنی بیوی پہ یقین نہیں ، پھر رات میں کال پہ اس کی بے رخی یاد آئی تھی ، ” تو کیا سچ میں وہ مجھ پہ یقین نہیں کرتے” مختلف سوچیں اس کے حواس باختہ کررہیں تھیں۔ “وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جا رہے تھے ، وہ تو کہیں سے ناراض بھی نہیں لگ رہے تھے۔ وہ مجھ سے ملے بھی نہیں ، کیا میں ان کو یاد بھی نہیں آئی جب انھیں نے گھر میں قدم رکھا ہوگا۔” لامحدود سوچیں اس کو جکڑے ہوئی تھیں۔ تبھی مغرب کی اذان سنائی دی تھی۔ وہ آنسو صاف کرتی اٹھی تھی اور تھوڑی دیر میں وضو کرکے دوپٹہ حجاب کی صورت میں لے کر جاۓ نماز بچھائی تھی۔ نماز پڑھ کر باہر ٹیرس پہ آئی تھی، تھوڑی دیر ہوئی پہلے بارش نے موسم سہانا کر دیا تھا، لیکن دل کی اداسی سہانے موسم پہ غالب آچکی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا ، وہ خاموش رہے گی۔تبھی واچ مین نے دروازہ کھولا تھا اور گاڑی اندر داخل ہوئی تھی۔ وہ جس کا ایک مہینے سے وہ انتظار کر رہی تھی ، وہ آیا تھا تو اس سے ملا تک نہیں تھا۔یہی سوچتے وہ کمرے میں آگئی تھی ، مزید ان دونوں کو ساتھ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اندر آکر وہ بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی، بے مقصد اپنے فون پہ انگلیاں چلا رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھولا تھا ، الہام نے آنکھ اٹھا کر سامنے دیکھا تھا، آنکھیں جس کو ایک مہینے سے دیکھنے کے لیے تمنائی تھیں ، وہ سامنے تھا، بلیک ٹی شرٹ، بلیک جینز کے ساتھ واکنگ بلیک سنیکز پہنے ،کلائی پہ اپنی مخصوص سیلوار واچ پہنے ، ایک شاندار پرسنلٹی کا حامل جو اپنے پہناؤے سے اپنے آپ کو مزید باوقار بنا دیتا تھا۔ وہ اندر آیا تھا۔
” السلام وعلیکم” سلام کرتے اپنے ہاتھ میں موجود سفری بیگ صوفے پہ رکھتے وہ الہام کی طرف بڑھا تھا۔ دل نے کہا تھا کہ بھاگ کے اس کے پاس جاؤ ، مگر دماغ کہا تھا یہیں رک جاؤ وہ بے وفا ہے۔
” میرے پاس نہیں آنا۔” جہانداد دو قدم دور تھا، جب الہام کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی، وہ تو پہلے ہی اس کے گم صم بیٹھنے پہ حیران تھا اب اس کی اگلی بات پہ مزید حیرت کا شکار ہوتے اس نے حیران شکل بنائی تھی، پہلے تو وہ رکا تھا پھر اس کی بات کو خاطر میں نا لاتے آگے بڑھ کر الہام کو پہلو میں لینا چاہا تھا جب وہ پیچھے ہوئی تھی۔
” مجھے ہاتھ نہیں لگانا جائیں ، جہاں سے آۓ ہیں وہیں واپس جائیں،” اور اپنے ہاتھوں سے بڑھے ہوۓ جہانداد کے ہاتھوں کو پیچھے کیا تھا، جبکہ جہانداد پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو کہہ رہی تھی وہ خاموش رہے گی اس کو پاس پا کر ضبط کھو بیٹھی تھی۔
” میں جانتی ہوں ، میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہوں، جو چیز آسانی سے مل جاۓ وہ اپنا مول کھو دیتی ہے ، لیکن میرا کیا قصور تھا جہانداد میں نے آپ سے نہیں کہا تھا مجھ سے شادی کریں ،” وہ رو رہی تھی اور ساتھ بول رہی تھی اور جہانداد حیرت سے کھڑا سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” اگر آپ کو وریشہ پسند تھی تو شادی کر لیتے ، مجھے اپنی زندگی میں لانے کی کیا ضرورت تھی جہانداد جو کب سے حیران کھڑا تھا ، وریشہ کے نام پہ چونکا تھا مطلب الہام سب دیکھ چکی تھی اس سے پہلے کہ وہ الہام کو چپ کروانے کے لیےکچھ بولتا الہام کے اگلے الفاظ اسے شیشدر کر دیا تھا۔
” کاش عمر نا جاتے ، تو میں یہاں نا ہوتی ، میں کتنی اکیلی پڑھ گئی ہوں ، مجھے آپ چھوڑ دیں میرا بھائی مجھے رکھ لے گا ۔” غصے میں اس کے منہ میں جو آرہا تھا ، وہ بول رہی تھی ، اور رو رہی تھی، اس وقت تو صرف غصہ غالب تھا۔
“بس الہام اس سے آگے ایک لفظ نہیں،” اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ الہام ایک دم خاموش ہوگئی تھی، الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا بے تاثر سا چہرہ لیے سامنے کھڑا تھا۔
” اگر آپ محض جیلس ہوتی تو میں ضرور وضاحت دیتا ، لیکن آپ نے تو مجھ پہ بھروسہ ہی نہیں کیا اس لیے میں آپ کو کوئی دلائل نہیں دوں گا، اور آخری دو جملوں میں تو آپ نے مجھے زمین پہ ہی پٹخ دیا ، شکریہ مجھے میری جگہ بتانے کے لیے۔” اس کی طرف دیکھ کر کہتے جو حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، وہ جن قدموں چل کر اس کے پاس آیا تھا، انہیں قدموں واپس چلا گیا تھا۔
جاری ہے !!