Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
گھر پہنچ کر الہام اور جہانداد ماما، بابا کے کمرے میں جاکر ان کے پاس بیٹھے تھے۔ اس کے بعد جہانداد شاہ میر کے کمرے میں گیا تھا۔ جبکہ الہام اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ فریش ہونے کے بعد اس نے قضا نمازوں کے ساتھ عشاء کی نماز بھی ادا کی تھی، جبکہ جہانداد ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اب وہ جلدی سے بستر میں جانا چاہتی تھی۔ بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر اس نے کمفرٹر اپنے اوپر لیا تھا۔ تبھی جہانداد دروازہ کھولے اندر داخل ہوا تھا اور آ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ کھڑا ہوا تھا۔
” تھک گئی ہیں۔” بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ اپنا موبائل اور کیز رکھتے اس نے الہام سے پوچھا تھا۔
” جی ،” اتنا سفر زندگی میں نہیں کیا ، جتنا ان چار دنوں میں کردیا۔” کیونکہ جہانداد اپنی واچ اتر کر رکھ رہا تھا ، اس لیے الہام نے یہ بات اس کی طرف دیکھتے ہوۓ مسکرا کر کہی تھی۔ ورنہ الہام کہاں اس سے نظریں ملاتی تھی۔
” چلیں آپ پھر آرام کریں۔” یہ کہتے ہوۓ وہ ڈریسنگ کارنر کی طرف بڑھا تھا۔
” جہانداد ۔” الہام نے اسے پکارا تھا۔
“جی” کپڑے نکلتا جہانداد اس کی طرف موڑا تھا۔
” آپ فجر کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھتے کیا۔” الہام نے جہانداد کے ہاتھ میں موجود کپڑوں کو دیکھتے کہا، کیونکہ جب سے وہ آئی تھی اس نے اسے صرف فجر پڑھتے دیکھا تھا، وہ مسکرایا تھا۔اب اس نے ڈریسنگ کے ساتھ ٹیک لگائی تھی۔
” پڑھتا ہوں ، لیکن جب سفر میں مسلسل رہتا تب نہیں پڑھ پتا ، یہ نہیں کہوں گا تھک جاتا ، بس کوتاہی کر دیتا” اس نے الہام کی طرف دیکھتے صاف گوئی سے کام لیا تھا۔ الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
” آپ تو لڑکے ہیں ، سفر میں بھی گاڑی رک کر پڑھ سکتے ، محبتیں ایسی نہیں چلتی کہ آپ دعوے بڑے بڑے کریں لیکن زرا سی مصروفیات میں محبوب کو بھول جائیں ، آپ ہی کہتے نا ظرف نا ہو تو محبت بے کار ہے ، تو اللہ کی محبت میں ہم دل بڑا کیوں نہیں کرتے ، ہمیشہ اللہ سے ہی وسعت کی توقع کیوں کرتے کہ وہ معاف کر دے گا ، عشق حقیقی میں تھکاوٹ کو نہیں دیکھتے ، آپ نے ماما بابا ، شاہ میر کے لیے کوتاہی کی ؟ نہیں کی ، ابھی آکر ان سے ملے ، کافی دیر بیٹھے رہے ، یہ وسعت اللہ کے لیے کیوں نہیں ۔” وہ شرمندہ ہوا تھا لیکن اسے اچھا لگا تھا الہام کا اسے یوں سمجھانا اور اس نے نوٹ کیا تھا ، وہ آج اس کے دیکھنے پہ بھی اس سے نظریں ملاۓ بات کر رہی تھی ، جس پہ وہ مسکرایا تھا، یعنی اس کی بیوی اس کی غلطی پہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی تھی۔اس کے مسکرانے پہ الہام نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
” آپ نے مجھے شرمندہ کر دیا، یہ شرمندگی والی ہنسی ہے۔” الہام کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اس نے جواب دیا تھا۔
” ہونا بھی چاہیے ، ابھی آپ عشاء کی نماز پڑھیں اور آئندہ کوئی نماز نہیں چھوڑیے گا چاہے جو ہوجاۓ۔” الہام نے نصیحت کی تھی۔
” تو کیا اللہ کو برا نہیں لگے گا ، کہ پہلے میں سفر میں نمازیں چھوڑ دیتا تھا ، لیکن اب آپ کے کہنے پہ پڑھنے لگ جاؤں۔” جہانداد الجھ گیا تھا ، جیسے وہ اپنی اور اللہ کی محبت میں کسی تیسرے کو نہیں لانا چاہتا تھا۔
” بالکل بھی نہیں، یہاں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے وسیلہ بنتا ، مجھے بھی یہ باتیں کسی نے سکھائی ، جیسے میرے لیے وہ انسان وسیلہ بنا ، آپ کے لیے میں بن گئی ، آگے کسی اور کے لیے آپ بن جائیں گے۔” اس نے سکون سے جواب دیا، جس پہ جہانداد نے مسکرا کر سر ہلایا ، اس کی الجھن سلجھی تھی۔ اور وہ واشروم چلا گیا تھا۔ الہام نے اپنا فون اٹھا کر گیلری اوپن کی تھی ، جہاں اس نے گلگت کی خوبصورت یادیں قید کی تھیں ، لیکن زیادہ پکچرز جہانداد کے فون میں تھی ، اس نے نظر اٹھا سائیڈ ٹیبل کو دیکھا ، جہاں جہانداد کا آئی فون پڑا تھا ، لیکن اس نے خود سے فون لینا مناسب نہیں سمجھا۔ اس لیے اپنے فون میں مگن رہی۔ تھوڑی دیر میں وہ گیلے بالوں کے ساتھ وائیٹ ٹی شرٹ اور نائٹ ٹرؤزر میں واشروم سے برآمد ہوا تھا۔بالوں پہ ہاتھ پھیرتے اس نے آگے بڑھ کر جاۓ نماز اٹھائی تھی۔
” جہانداد اپنے فون میں گیلری اوپن کرکے دے دیں ، مجھے پکچرز دیکھنی ہیں۔” اس سے پہلے کہ وہ نماز شروع کرتا ، الہام فورا بولی۔
” تو وہ فون پڑا ہے لے لیں ، پاسورڈ ، آیان خان ہے۔” اس نے اپنے فون کی طرف اشارہ کرتے ، ساتھ پاسورڈ بھی بتایا تھا، اس کا بہت ہی عام سا انداز تھا ،لیکن الہام کی آنکھیں چمکی ، یعنی وہ اسے حق دے رہا تھا کہ وہ اس کا فون بلا جھجک استعمال کرسکتی، جبکہ جہانداد نے جاۓ نماز بچھا کر نیت باندھی تھی۔ الہام نے آگے ہوکر جہانداد کا فون اٹھایا تھا، اور پاسورڈ اوپن کر کے گیلری اوپن کی تھی۔ الہام نے ایک ایک پکچر غور سے دیکھی تھی۔ گلگت کی پکچرز کے بعد جہانداد کی پکچرز سٹارٹ ہوگئیں تھیں ، جو اس نے مختلف جہگوں پہ لی تھی، کتنا مکمل شخص تھا وہ ، تصویریں دیکھتے الہام نے سوچا تھا ، پھر ایک تصویر پہ الہام جیسے آکر رک گئی، وہ کتنے سیکنڈیز اس تصویر کو دیکھتی رہی تھی، آنکھوں نے نمی پکڑی تھی، یا اللہ اس نے بے احتیار نظر اوپر اٹھا کر دل میں رب کو پکارا تھا، اب آنسوؤں نے گال بھگوۓ تھے اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ انسان دعا کرتے ہوۓ زیادہ آنسو بہتا ہے یا تب جب آپ کی دعا پہ کن فیکون کہہ دیا جاتا ہے، ہاں انسان اپنی قبول کی ہوئی دعاؤں پہ ذیادہ آنسو بہتا ہے، پھر سر نیچے کر کے تصویر کو دیکھا تھا ،
اسے نے تصویر پہ ہاتھ پھیرا تھا ، جہان جہانداد آرمی یونیفارم میں ، اپنی پوری وجاہت اور روپ لیے کھڑا تھا ، اس نے ذوم کر کے یونیفارم پہ موجود بیج کو دیکھا جس پہ جہانداد لکھا تھا ، شولڈر پہ موجود تین سٹارز موجود تھے۔ اسے یہ یونیفارم ، ان کے شووز ، یونیفارم پہ موجود جھنڈا کتنا پسند تھا۔ اور سامنے ان سب میں موجود شخص اس کا تھا۔ آنکھوں سے کچھ آنسو نکلے تھے۔ پھر جہانداد کا خیال آتے ہی اس نے آنسو صاف کیے تھے اور موبائل رکھ کر لیٹ گئی تھی ، کیونکہ وہ جانتی تھی جو انسان اس کی سوچ تک پڑھ لیتا تھا یہ کیسے ہوسکتا تھا ، وہ آنکھوں کی نمی نہ دیکھ سکے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
اگلے دن جہانداد کی واپسی تھی ، اور یہ سن کر الہام کو اداسی نے آن گھیرا تھا ، اس کی ڈیوٹی جنوبی وزیرستان میں واناپاک افغان بارڈر پہ تھی، یہ سن کر الہام کا دل ڈوبا تھا۔ اب اسے صحیح معنوں میں اندازہ ہورہا تھا کہ فوجی کی بیوی ہونا انتہائی کٹھن ہے۔ جہانداد پلواشہ اور بچوں سے ملنے گیا تھا۔ جبکہ وریشہ اور شاہ میر یونیورسٹی گئے ہوۓ تھے۔ الہام نے ماما سے اصرار کرکے کیچن کی ذمہ داری خود لے لی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی کھانا گھر کی عورت خود بناۓ۔ اس کا زیادہ تر وقت آج ماما کے ساتھ گزارا تھا۔ رات میں جہانداد نے الہام کو اپنی پیکنگ کرنے کے لیے کہا تھا۔ جہانداد صوفے پہ بیٹھا چاۓ کا مگ پکڑے بیٹھا تھا، جبکہ الہام اس کی پیکنگ کرنے میں مصروف تھی۔
” آپ واپس کب آئیں گے۔” الہام نے ٹی۔شرٹ فولڈ کرتے پوچھا تھا۔ چاۓ کا گھونٹ لیتے جہانداد کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
” کیا آپ میرا انتظار کریں گی۔” اس کی طرف دیکھتے سوال کے جواب کے بجاۓ سوال کیا گیا تھا۔
” پہلے میں نے سوال کیا ہے ۔” شرٹ کو بیگ میں رکھتے الہام نے جواب دیا تھا۔
” شاید ایک مہینے بعد ، یا دو ۔” جہانداد نے اس کی طرف غور سےدیکھتے جواب دیا تھا ، شاید وہ اپنے جواب کے بدلے چہرے پہ آنے والے اس کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا۔ الہام کے چہرہ ایک دم بجھا تھا،لیکن وہ خاموش رہی تھی، جیسے جہانداد نے باخوبی نوٹ کیا تھا۔ جہانداد چاۓ کا مگ ٹیبل پہ رکھتے اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا، الہام کے ہاتھ میں موجود شرٹ لے کر بیڈ پر رکھ کر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے، الہام کی نظریں جہانداد کے ہاتھوں پہ تھی جس میں اس نے اس کے ہاتھ تھام رکھے تھے۔
” پتا ہے نا کہ آپ ایک فوجی کی بیوی ہیں ، اور آپ کو تو خوش ہونا چاہیے آپ کا شوہر وطن کے محافظوں میں آتا ، اور ویسے بھی دوریاں محبت کو بڑھاتی ہیں۔” اس کی طرف دیکھتے جہانداد نے اسے تسلی دی تھی۔ الہام کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا ، کہ وہ کیسے اسے بتاۓ کہ عمر کے جانے کے بعد وہ ڈر گئی ہے ، وہ کیسے اسے بتاۓ کہ اسے اب اس کے قرب کی عادت ہوگئی ہے ، اسے کیسے بتاۓ کہ اسے اس کی خوشبو کے حصار میں سکون ملتا ہے۔
” الہام پلیز ایسا مت کریں ، الہام کمزور نہیں ہوسکتیں۔” جہانداد نے اسے روتے دیکھ ساتھ لگاتے کہا تھا اور پھر ضبط کا دامن ٹوٹا تھا ، اور وہ اس میں منہ چھپاۓ زور زور سے روئی تھی۔ وہ اسے کیسے بتاتی کہ دنیا کے سامنے مضبوط رہنے والا محبت کرنے والے کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔ جہانداد نے اسے اپنے حصار میں لیے کچھ دیر رونے دیا تھا۔
” الہام وہاں بالکل بھی لڑکیاں مجھ پر لائن نہیں مارتی ، آپ تسلی رکھیں۔” جہانداد نے بات کو بدلنا چاہا تھا۔ الہام نے اس کے پہلو سے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا تھا ، جو سر نیچے کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ، الہام نے ہلکا سا قہقہ لگاتے نظریں پھر سے جھکائی تھی۔ آنسوؤں کے بیچ یہ قہقہ جہانداد کو بہت بھلا لگا تھا، جیسے دھوپ میں بارش، اور اس نے شعر پڑھا تھا۔
ہم نے روتی ہوئی آنکھوں کو ہنسایا ہے عدم
اس سے بہتر تو عبادت نہیں ہوتی ہم سے!!
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
صبح فجر کی نماز کے بعد جہانداد نے جانے کی تیاری کی کیونکہ اس نے بس کے ذریعے جانا تھا۔ وہ گرے کلر کی قمیض شلوار پہنے ڈرسنگ کے سامنے کھڑا ہوا تھا، اور برش اٹھاۓ بال بناۓ تھے۔ الہام خاموش بیڈ پہ بیٹھے اسے تیار ہوتے دیکھ رہی تھی ، دل عجیب اداس ہورہا تھا۔ ڈریسنگ کے پاس پہنچ کر اس نے اپنی سیلوار کلر کی واچ اٹھا کر پہنی ، اور فون اپنی پوکٹ میں رکھا، اس نے نظر اٹھا کر الہام کو دیکھا تھا جو اب نظریں نیچے کیے جانے کس سوچ میں گم تھی، اسے دیکھ وہ مسکرایا تھا۔وہ والٹ اٹھاتے اس کی طرف آیا تھا، اور والٹ سے پانچ ہزار کے کچھ نوٹ الہام کی طرف بڑھاۓ تھے۔ الہام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
” یہ آپ کی پوکٹ منی۔” جہانداد نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔
” لیکن مجھے نہیں چاہیے ، میرے پاس ہیں۔” الہام نے یہ کہتے اداسی سے نظریں نیچے کی تھیں۔
” شوہر کی حلال کمائی سے خرچ کرنے کا اپنا مزا ہوتا، مجھے اچھا لگے گا جب آپ میرے دیے گئے پیسے خرچ کریں گی یہ لیں۔” جہانداد نے اس کے ہاتھ نرمی سے تھامتے پیسے ہاتھوں میں تھماۓ تھے، وہ اب خاموش ہوگئی تھی۔ جہانداد نے واپس جاکراپنا سفری بیگ اٹھایا تھا۔ اور الہام کے پاس آکر رکا تھاجو اب بھی ویسے ہی بیٹھی تھی۔ بیگ نیچے رکھ کر بازوؤں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔
” اپنا خیال رکھیے گا ، کوئی چیز ضرورت ہوتو ماما کو بول دیجیے گا ، اور جب دل کرے اپنے میکے بھی رہنے کے لیے چلی جائیے گا ، اور میں فون کرتا رہوں گا، اور آخری بات میں آپ کو بہت مس کروں گا۔” سب باتیں کہہ کر آخر میں اسے اپنے ساتھ لگایا تھا،وہ خاموش اس کی خوشبو محسوس کر رہی تھی اور پھر الہام کےسر پہ پیار کرتے اسے خود سے الگ کیا تھا۔ اور بناء اس سے نظریں ملاۓ بیگ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا تھا ، الہام بھی بھاری قدم اٹھاتی اس کے پیچھے گئی تھی۔ باہر سب گاڑی کے پاس اسے اللہ خافظ کہنے کے لیےموجود تھے ، شاہ میر نے اس کو بس اسٹیشن چھوڑنا تھا۔ جہانداد نے ماما کے پاس جاکر ان کو گلے لگایا تھا ، اور پھر ان کے سر پہ پیار کیا تھا،اور انھوں نے اسے نیچے کرکے اس کی پیشانی چومی تھی۔
” رب کی مان میرے بچے ، اللہ تمھاری حفاظت کرے ۔” ان سے دعا لیتے وہ بابا کے پاس آکر ان کے گلے لگا تھا۔
” ایم پروڈ آف یو ماۓ سن۔” گلے لگاتے انھوں نے جہانداد سے کہا تھا۔ پھر آخر میں اس نے وریشہ کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔ لیکن وہ آگے بڑھ کر اس کے گلے لگی تھی۔
” جہانداد میں آپ کو بہت مس کروں گی۔” وہ اداس ہوئی تھی، جہانداد کے لیے اس کا لگاؤ سب جانتے تھے ، وہ اس کی لاڈلی تھی۔ جہانداد نے اسے اچھے سے پڑھائی کرنے کی تلقین کرتے خود سے الگ کیا تھا۔ اور گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔ الہام ماما کے پاس کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
” بھائی بھابھی سے نہیں ملیں گے۔” گاڑی کے پاس کھڑے شاہ میر نے شرارت سے کہا تھا۔ اس کی بات پہ وریشے کے سوا سب ہنسے تھے ، الہام نے سر جھکایا تھا۔ جہانداد نے اسے گھوری ڈالی تھی۔
” اچھا مطلب ان سے آپ پہلے مل آۓ ہیں۔” اس کے لہجے میں شرارت واضح تھی۔ جہانداد پیچھے موڑا تھا، اور الہام کے پاس جاکر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
” میرا انتظار کریے گا۔” جہانداد نے شرگوشی کی تھی ، جس پہ الہام نے سر ہلایا تھا۔ اور پھر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ اور کچھ دیر میں گاڑی باہر چکی تھی۔
” الہام بچے آؤ ، ہمارے ساتھ واک پہ چلو۔” ماما نے الہام کو مخاطب کیا تھا، جو اب بھی دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اب چوکیدار بند کر رہا تھا۔شاید وہ اس کا دل بہلانا چاہتی تھی ، خود تو اب وہ عادی ہوچکی تھیں ، پہلے شوہر کو رخصت کر کر کے اور اب بیٹے کو ، وہ اس کی کیفیت اچھے سے سمجھ سکتی تھی۔
” ہاں بیٹے ، آجاؤ۔” بابا نے بھی اس سے کہہ کر دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ تھے ، اور ماما نے الہام کا ہاتھ پکڑتے اپنے ساتھ لیا تھا، الہام اپنی کیفیت پہ قابو پاتے ان کے ساتھ چل پڑی تھی، جبکہ وریشہ پہلے ہی اندر جاچکی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ناشتہ کرکے وہ جب کمرے میں آئی تو ، جہانداد کی کمی اسے شدید سے محسوس ہوئی تھی۔ اس کی پرفیوم کی مہک اب بھی کمرے میں موجود تھی ، لیکن وہ خود کہیں نہیں تھا۔ ٹھنڈی آہ بھر کر واشروم گئی تھی ، باہر آئی تو اس کے ہاتھ میں جہانداد کا نائٹ سوٹ موجود تھا، شرٹ سے آنے والے کی مہک کو اپنے اندر اترا تھا۔ تبھی دروازہ ناک کرتےتیس سالہ ندا اندر آئی تھی۔ الہام نے کپڑے بیڈ پہ رکھے تھے۔
” السلام علیکم ! باجی دھونے والے کپڑے دے دیں۔” اس نے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر الہام کو کہا تھا۔ وہ یہاں صرف لونڈی کا کام کرتی تھی۔ الہام نے واشروم سے کپڑے لا کر اسے تھماۓ تھے۔
” باجی جی یہ۔” اس نے بیڈ پہ موجود کپڑوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔
” نہیں یہ رہنے دیں۔” الہام نے اس سے کہا تھا۔الہام ان کپڑوں میں موجود اس کی خوشبو محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔
” باجی آپ بہت قسمت والی ہیں ،جہانداد بھائی جیسا ہیرا آپ کے نصیب میں آیا۔” وہ آج پہلی بار الہام سے مل رہی تھی، اس لیے اپنی راۓ دینا ضروری سمجھا۔ الہام مسکرائی تھی۔
” یہ بات تو صحیح بولی آپ نے۔” الہام نے مسکرا کر جہانداد کے کپڑوں کو تہہ کرتے اس کو جواب دیا تھا۔ ندا کو چادر میں لپٹی الہام بہت بہائی تھی۔ اور وہ ہنستی ہوئی باہر چلی گئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
جہانداد کو گئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔ اور کیونکہ قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے سنگلز بہت کم ملتے تھے ، اس لیے جہانداد مشکل سے خیریت ہی بتا پاتا تھا۔ الہام گھر میں سب سے گھول مل گئی تھی، ماما ، بابا اور شاہ میر کی اپنائیت میں اب وہ گھر واقعی ہی اسے اپنا لگانے لگا تھا۔
شام میں الہام ماما کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھیں ، جب شاہ میر اونچی آواز میں سلام کرتا اندر داخل ہوا تھا ، جس کے پیچھے وریشہ بھی تھی ، الہام نے نوٹ کیا تھا شاہ میر ہمیشہ اندر داخل ہونے سے پہلے اونچی آواز میں سلام کرتا تھا ، جس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ الہام جہاں کہیں بھی ہو نقاب کر لے حالانکہ گاڑی کا ہارن سن کہ الہام کو ان کے آنے کی خبر پہلے ہی ہوجاتی تھی، اور یہ بات ماما نے اسے بتائی تھی کیونکہ الہام کے آنے سے پہلے وہ ایسا بالکل نہیں کرتا تھا۔ اپنا بیگ صوفے پہ رکھتے وہ ماما کے کے پاس بیٹھتے ان کے گلے لگا تھا۔ جبکہ وریشہ بھی ایک صوفے پہ آکر بیٹھی تھی۔
“کیسا رہا دن۔” ماما نے دونوں کو مخاطب کیا تھا۔
” بہت اچھا لیکن ماما میں تو جہانداد بھائی کو بہت مس کررہا۔” شاہ میر نے ماما کے کندھے پہ سر رکھتے کہا تھا۔
” مس تو میں بھی بہت کر رہی۔” ماما نے جواب دیا تھا۔
” میں سب کے لیے چاۓ بناتی ہوں۔” جہانداد کے زکر پہ الہام وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی، کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی اس کی اداسی سب دیکھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات میں الہام جب کمرے میں آئی تو خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ وضو کرکے نماز پڑھنے کے بعد وہ بستر پہ آئی تھی۔بیڈ کے ایک طرف بیٹھ کر جہانداد والی سائیڈ کو اس نے دیکھا تھا۔ پھر سائیڈ ٹیبل پہ نظر دوڑائی جہاں اس کی گھڑی ، فون اور والٹ رکھا ہوتا تھا ، لیکن آج وہ جگہ خالی تھی۔ دل اداس ہوا تھا۔ اتنے میں میسج ٹون بجی تھی۔
” السلام علیکم ! کیسی ہیں آپ۔” واٹس اپ پہ جہانداد کا میسج جگمگا رہا تھا۔ الہام نے خوشی میں جلدی سے میسج اوپن کیا تھا۔
” وعلیکم السلام ! الحمداللّٰه میں ٹھیک ، آپ کیسے ہیں۔” الہام نے میسج ٹائپ کرکے بھیجا تھا۔
” الحمدللہ ۔” میسج موصول ہوا تھا۔
” آج سگنل کیسے مل گئے۔” الہام نے ٹائپ کرکے بھیجا تھا۔ میسج فوراً سین ہوا تھا، اور اب ٹائپنگ لکھا آرہا تھا۔
” ہاہا ، آج پشاور آیا ہوں ایک اہم کام سے ، تو سوچا کیوں نا آپ سے بات کرنے کا شرف حاصل کیا جاۓ، ایک ہفتے سے خیر خیریت کے علاوہ صحیح سے بات نہیں ہوپائی۔” اس نے تفصیل بتائی۔
” ہمممم ، آپ واپس کب آئیں گے ،۔” الہام کی یہ لکھتے آنکھیں بھیگی تھی۔ وہ خود نہیں جانتی تھی ، وہ اتنی جذباتی کیوں ہورہی تھی ، شاید اس کی محبت کی عادت ہوگئی تھی۔
” آپ مجھے مس کر رہی ہیں۔” آگے سے سوال پوچھا گیا تھا۔ الہام کو سمجھ نہیں لگ رہی تھی ، وہ کیا جواب دے۔
” سب مس کرتے ہیں۔” کچھ سوچتے ہوۓ اس نے یہ ٹائپ کرکے بھیجا تھا۔
” سب کا ان سے پوچھ لوں گا ، آپ اپنا بتائیں۔” آگے سے جواب آیا تھا۔
” سائیڈ ٹیبل پہ آپ کی چیزیں نہیں ہوتی ، اس کا خالی ہونا اچھا نہیں لگتا۔ ” آنسوؤں نے گال بھگوۓ تھے۔ الہام کے اظہار بھی اس کی طرح خاص ہوتے تھے ، یہ بات جہانداد کو اچھے سے پتا تھی۔
” آپ رو رہی ہیں۔” اگلے میسج پہ الہام چونکی تھی، اپنے گال پہ ہاتھ رکھا تھا جو تر تھا ، ہاں وہ رو رہی تھی۔
” میرے سامنے جتنا رونا ہو ، رو لیا کریں ، لیکن میری غیر موجودگی میں ، میں بالکل آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتا، میری غیر موجودگی اگر باعث تکلیف ہے ، تو اس کے آنسو بھی میری خاصری پہ بہا لیجییے گا لیکن ابھی بالکل بھی نہیں، میری موجودگی میں آپ کی میری محبت میں نکلے آنسو راحت کا باعث ہوتے ، لیکن میری غیر موجودگی میں یہ آنسو مجھے تکلیف دیتے چاہے میری محبت میں ہی کیوں نا ہوں۔” الہام کا جواب نا پا کر اس نے پھر سے میسج کیا تھا۔ میسج پڑھ کر الہام کو اور رونا آیا تھا، لیکن دل میں ایک سکون بھی اترا تھا۔
” جی۔” محتصر سا جواب لکھ کر بھیجا گیا تھا۔
” اپنی پکچر بنا کر بھیجیں۔” اگلا میسج دیکھ کر فوراً الہام اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے جاکر اپنا حلیہ دیکھا تھا،ڈھیلا چوڑا کیے بال، گلے میں جہانداد کا دیا گولڈ بال پنڈینٹ موجود تھا۔
” جیسی ہیں ، بلکل ویسی ہی۔” اگلا میسج آیا تھا۔ الہام نے سیلفی بنا کر بھیجی تھی۔ میسج سین ہوا تھا۔
” بالوں کی بس ڈھیلی سی چوٹیا بنایا کریں، اور آنکھیں صرف میری موجودگی میں بھیگایا کریں ،” اگلہ میسج پڑھ کر الہام مسکرائی تھی۔باقی شوہر اپنی بیویوں کو لمبے بال کھولے چھوڑنے کو کہتے تھے ، جبکہ اس کا شوہر اس کو ڈھیلی سی چوٹیا بنانے کو کہہ رہا تھا۔
” جی اچھا۔” الہام نے جواب دیا تھا۔
” الہام میں ، پلوشہ ، ایان اور باقی سب سے کال پہ بات کر لوں ، پھر آپ کو کال کرتا، آپ انتظار کر لیں گی۔” جہانداد نے اگلا میسج بھیجا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا ، رشتوں میں برابری رکھنے والا ، اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا ، اپنے باپ کا فخر ، اپنے بھائی کا بہترین دوست ، پلوشہ کے لیے مخافظ ، ایان اور عنایہ کا سپر ہیرو اور وریشہ کا آئیڈیل ، اور اس کے لیے اس کے صبر کا انعام۔۔۔۔۔
” جی میں انتظار کر رہی، آپ آرام سے سب سے بات کرلیں ۔” اس نے میسج ٹائپ کرکے بھیجا تھا۔
” میں تھوڑی دیر میں آیا، تب تک آپ یہ دیکھیں۔” میسج کے ساتھ اس نے اپنی تصویر بھی بھیجی تھی۔ یونیفارم میں وہ الہام کا دل دھڑکا گیا تھا، الہام نے اس کی تصویر پہ ہاتھ پھیر کر اسے محسوس کرنا چاہا تھا
جاری ہے !!
