Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
جب حرا کمرے میں آئی تھی۔
“الہام باہر آنٹی بلا رہی ہیں، کوئی مہمان آۓ ہیں۔” اس نے الہام کو اطلاع دی تھی۔
“کون مہمان یاکوئی نئے رشتے والے” الہام نے حرا کی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا۔
“مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں ، ان کے آنے پہ منہ نہیں بنایا جاتا ، آ کے مل تو لو۔” حرا نے فورا سے جواب دیا تھا۔
” اچھا چلو۔” اور الہام اس کے ساتھ ہی باہر آئی تھی۔ سامنے ہی صوفے پہ دو خواتین بیٹھیں تھیں ،جن میں ایک درمیانی عمر خاتون جنہوں نے اچھے سے چادر لے رکھی تھی، گوری رنگت ، اور خوبصورت لباس پہنے ماحول پہ اثر انداز ہورہیں تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھی ینگ سی لڑکی جس کے سب نقوش ساتھ بیٹھی خاتون سے ملتے تھے جو شاید اس کی ماں تھیں، نفیس سا لباس پہنے سر پہ دوپٹہ لئے اور چارد کندھوں پہ ڈالے، شاید ان کے ہاں چادر پہننا ضروری سمجھا جاتا تھا ، تبھی دونوں نے خوبصورت لباس کے ساتھ چادر بھی اڑھ رکھی تھی۔ الہام ان سے آکر ملی تھی۔ اور وہ دونوں الہام سے بہت محبت سے ملیں تھیں، اور ان کی محبت کو دیکھتے الہام کو مجبوراً وہاں بیٹھ کر ان کے سوالوں کے جواب دینا پڑ گئے تھے۔ پھر ان کے جانے کے بعد وہ فوراً اپنے کمرے میں آگئی تھی۔اور حرا اس کے پیچھے آئی تھی۔
“یہ جہانداد بھائی کی فیملی تھی، تمہارے لئے ان کا پرپوزل لے کر آۓ ہیں” حرا نے آنے والے طوفان کو خاطر میں لاۓ بنا، بتایا تھا۔
“کیا” الہام اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑی ہوئی تھی، اتنے میں ابوبکر بھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“ان کو ہمارے گھر کا کس نے بتایا، میں عمر کی بیوہ ہوں۔” وہ حرا کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی۔
“میں نے بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ماضی میں تم پر کیا گزاری ، اور انھوں نے جائز طریقے سے رشتہ بھیجا ہے، اور ویسے بھی عمر بھائی کے ساتھ تو تمھاری رخصتی تک نہیں ہوئی تھی اور تمہیں شادی کی اجازت اسلام دیتا ہے۔” حرا نے تفصیلا جواب دیا تھا۔
“جو بھی ہے میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔” آنسوؤں نے آنکھوں کے بند توڑے تھے۔ابوبکر جو عائشہ بیگم کے کہنے پہ الہام کو سمجھنے آیا تھا،اور دونوں کو بات کرتے دیکھ رک گیا تھا اب آگے بڑھ کر الہام کو اپنے ساتھ لگارہا تھا۔
“الہام بچے ، اب مان جاؤ ،زندگی کے کٹھن سفر میں ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔” ابوبکر نے پیار سے سمجھایا تھا۔
” تو کیا آپ مجھے وہ ساتھ نہیں دے سکتے، کیا آپ مجھ سے تنگ آ جائیں گے ۔” الہام نے ابوبکر کی طرف دیکھتے ہوۓ معصومیت سے سوال کیا تھا۔
“میں اپنی گڑیا سے تنگ آسکتا ہوں کیا، لیکن یہ دنیا جینے نہیں دیتی ، میں نہیں چاہتا کل کو تم اس معاشرے کو فیس نہ کرسکو۔”
” یہ صرف بہانے ہیں ، آپ ابھی سے مجھ سے تنگ آگئے ہیں، جائیں یہاں سے، میں اپنا بندوبست خود کرلوں گی۔” اپنا آپ ابوبکر سے چھوڑا کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی تھی۔ اور ابوبکر اور حرا اس کے رویے پہ حیران ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، یہ الہام تو کوئی اور ہی تھی۔
” اتنےسالوں کی میری محبت پہ آپ نے پانچ سیکنڈ میں سوالیہ نشان لگا دیا، الہام آپ ایسی تو نہیں تھیں ، آپ تو ہر بات میں اللہ کو آگے رکھتیں تھیں ، آج آپ کے لئے خود کی ذات اور ضد اہم کیسے ہوگئی ، ماں باپ کی پریشانی آپ کو نظر نہیں آتی ، اللہ نے ماں باپ کے لیے اولاد کو کیا حکم دیا، کیا عمر کبھی ایسا چاہتا تھا کہ الہام ایسی بنے جیسی آپ بن رہی ہیں ، پھر بھی مجھے اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے آپ کی شادی کی بات کو یہیں ختم کرنا ہے تو ٹھیک ہے میں ابھی امی ابو کو منا کر دیتا کہ الہام کی شادی نہیں ہوگئی اور میں اس کا بھائی ساری عمر اس کی ذمہ داری اٹھاؤں گا۔” ابوبکر فرط جذبات اونچی آواز میں کہہ کر دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ جب الہام نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔
“بھائی میں شادی کے لئے تیار ہوں۔” آنسوؤں نے آواز روند دی تھی۔
“کوئی زبردستی نہیں ہے۔”
“بھائی میں غلط تھی، مجھے اپنے دکھ میں کوئی نظر نہیں آیا، مجھے معاف کردیں۔”
“آج تمہیں ہم خود عرض لگائیں گے ، لیکن کل کو تمہیں سمجھ آئی گی کہ یہ تمہارے حق میں بہترین فیصلہ تھا۔”
“بھائی اللہ میرے ساتھ کبھی کچھ برا کر ہی نہیں سکتا ، میں ہی اس کی آزمائش پہ گھبرا گئی تھی۔” الہام نے ابوبکر کو آنسوؤں سے لپٹا جواب دیا تھا اور ابوبکر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر باہر چلا گیا تھا جبکہ اتنی دیر سے خاموش کھڑی حرا اب الہام کی طرف بڑھی تھی۔
“حرا مجھے جہانداد کا نمبر دو۔” الہام نے دوٹوک انداز میں کہا تھا۔
“ہوگا تو سہی تمہارے پاس۔”سوال کیا گیا تھا۔
” ہےتو” جواب دیا گیا تھا۔
“فکر نا کرو شادی سے انکار نہیں کروں گی ، بس کچھ باتیں میں خود بتانا چاہتی ہوں۔” الہام نے وضاحت دی تھی۔
“اچھا پھر ٹھیک ہے ، دے دیتی ہوں۔” حرا نے اپنے فون سے جہانداد کا نمبر الہام کو سینڈ کیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کو الہام نے جہانداد کو میسج کرنے کے لئے فون ہاتھ میں لیا تھا۔
” السلام علیکم، الہام ہیر” بنا کوئی لمبی تمہید بندھے اس نے میسج بھیجا تھا۔اب وہ ریپلاۓ کا ویٹ کر رہی تھی۔
” وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ ” تھوڑی دیر میں جواب موصول ہوا تھا۔
“الحمدللہ میں نے آپ سے کچھ باتیں کلئیر کرنی ہے۔” الہام اصل وجہ کی طرف آئی تھی۔
” جی بولئیے میں سن رہا ہوں۔” سیدھا سا جواب دیا گیا تھا۔
” آپ نے پرپوزل بھیجا ہے یہ جانتے ہوئے کہ میں بیوہ ہوں۔” الہام نے سوال کیا تھا۔
” جی ہاں، کیا بیوہ کو پرپوزل نہیں بھیجا جا سکتا۔” جہانداد نے آگے سے سوال کیا تھا۔
” آپ کو تو کوئی بھی مل سکتی ہے ،میں ہی کیوں۔” الہام نے جواب دیا تھا۔
” آپ کیوں نہیں ۔” فورا جواب آیا تھا۔
“میں اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں۔” الہام کو اب اس کے سوالات پہ غصہ آرہا تھا۔
” وہ تو ہر سو میں سے نوے فیصد مشرقی بیویاں اپنے شوہر سے کرتی ہیں، جب میں شوہر ہو جاؤں گا آپ کو مجھ سے بھی ہوجاۓ گی۔” فورا جواب آیا تھا۔ اور الہام نے ایک حساس بھری تھی، وہ واقعی ایک آرمی والا تھا جو پہلے ہی ہر چیز کی تیاری کر چکا تھا۔ وہ جواب سوچ رہی تھی جب پھر سے میسج ٹون بجی تھی۔
“عمر ایک اچھا انسان تھا ، میں کبھی آپ کو اس کو پس پشت ڈال کر اپنے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے نہیں کہوں گا، اچھے لوگوں کو فراموش کیا بھی نہیں جاتا ،ان کو ہمیشہ دل کے ایک کونے میں زندہ رکھا جاتا ، ان کی یادوں کو سنبھال کہ رکھا جاتا ہے، میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں، اس لئے حقیقت سے کبھی منہ نہیں موڑ سکتا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ ایک اچھی لڑکی ہیں ہر رشتہ پوری امانت داری سے نبھائیں گی۔”جہانداد کا میسج پڑھ کر الہام کو تھوڑی تسلی ہوئی تھی وہ عمر کو کبھی اپنی زندگی سے نکلنا نہیں چاہتی تھی اور یہ بھی سچ تھا کہ وہ پوری صداقت کے ساتھ نئے رشتے نبھانا چاہتی تھی وہ اللہ کوناراض کر نے والوں میں سے نہیں تھی اور جہانداد نے اس کی مشکل آسان کردی تھی ، آج بھی اس دن کی طرح اس نے الہام کی سوچ کو جیسے پڑھ لیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ابوبکر اور الہام کی شادی ایک ساتھ طے پائی تھی۔ ابوبکر کے ولیمے والے دن الہام کی رخصتی رکھی گئی تھی، البتہ گھر میں اب ویسی خوشی نہیں دیکھائی دے رہی تھی۔ عائشہ بیگم اور عالم شبیر جہانداد کی فیملی سے کافی مطمئن تھےوہ ایک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ جہانداد کی ایک بہن اور بھائی تھا، جو دونوں اس سے چھوٹے تھے۔ بہن پلواشہ جو جہانداد سے ایک سال چھوٹی تھی ،کی تعلیم مکمل ہوتے ساتھ ہی شادی کر دی گئی تھی اب اس کے دو بچے تھے آٹھ سالہ ایان اور چھ سالہ عنایہ اور چھوٹے بھائی شاہ میر اور جہانداد میں دس سال کا ڈیفرنس تھااور وہ ابھی یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا۔ جبک جہانداد کے والد برگیڈیئر (ر) تھے اور والدہ ہاؤس وائف تھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ابوبکر کے مہندی فنکشن پہ سب عزیز رشتہ دار پہنچ چکے تھے۔ جبکہ الہام نے اپنی مہندی کے لیے انکار کردیا تھا کہ وہ صرف ابوبکر کی بہن بن کر شادی میں شرکت کرنا چاہتی ہے، اور کسی نے اسے مجبور نہیں کیا تھا کیونکہ اس کا شادی کے لئے مان جانا ہی بہت بڑی بات تھی۔ مہندی کا فنکشن شور شربے میں اختتام پذیر ہوا تھا۔اگلے دن بارات لے جانےکے لئے سب تیار تھے۔ابوبکر کالے رنگ کی شیروانی اور سر پہ مہرون کلاہ پہنے شہزادوں جیسا روپ لیے ہوۓ تھا۔ جبکہ الہام نے نفیس سے کام والی فراک پہن رکھی تھی کیونکہ خدیجہ کے بقول اگر اسے زیادہ تیار کر دیا تو دلہن بن کر روپ نہیں آۓ گا، جبکہ خدیجہ بھائی کی شادی کے لئے خوب سجی سنواری کھڑی تھی۔ اور پھر سب بارات لے کر متعلقہ مارکی پہ پہنچے تھے۔ حرا بلڈ ریڈ لہنگا پہنے پورے بناؤ سنگار کے ساتھ خوبصورت دلہن کا روپ لیے تیار تھی۔
“آج تو ابوبکر بھائی ساری دشمنی بھول جائیں گے۔” الہام نے برائیڈل روم میں داخل ہوتے ہی اسے چھیڑا تھا۔ اور حرا کی آنکھیں الہام پہ روک گئی تھیں آج کتنے دن بعد اس نے الہام نارمل دیکھا تھا۔ اور اس نے بے احتیار اپنا حنائی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تھا، جسے الہام نے تھام لیا تھا۔
“میں نے تمھارا یہ روپ بہت مس کیا الہام ۔” اس کی آواز بھر آئی تھی
“اب اپنی بھابھی کا ویلکم تو ہنسی خوشی کرنا تھا نا۔” وہ مسکرائی تھی، اور اس کے پیچھے حرا بھی مسکرا دی تھی۔ نکاح کے بعد جب دلہے کو ساتھ بیٹھنے کے لیے لایا گیا تو الہام وہاں حرا کی دوسری کزنز کے ساتھ نیگ لینے کے لئے بیٹھی پائی گئی تھی۔ دوپٹے سے حجاب لئےاور چادر سے نقاب کیے ہوئی تھی۔ ابوبکر دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
“چلیں بھائی اس جگہ کے آپ مجھے کتنے پیسے دے سکتے ہیں۔” الہام نے ابوبکر سے پوچھا تھا۔
“الہام بچے آپ میری بہن ہیں ، اٹھیں میرے ساتھ کھڑی ہوں۔”ابوبکر نے اس کو مصنوعی آنکھیں دیکھائی تھیں۔
” لیکن اس ٹائم میں حرا کی دوست ہوں، چلیں نکالیں۔” الہام نے اپنا موقف دیا تھا۔
“الہام بچے دیکھو تم دلہے والوں کی طرف سے ہو ، اٹھ جاؤ، دیکھو ایسے ہماری بچت ہو جاۓ گی” ابوبکر کے ساتھ آۓ کزنز میں ولید بولا تھا، جبکہ پیچھے سب کا قہقہ لگا تھا۔
“نہیں ولید بھائی ، میں اس وقت دلہن کی طرف سے ہوں اور کسی بچت کے موڑ میں نہیں ہوں۔” الہام نے ضد اپنائی تھی۔
“چلو ہم واپس چلتے ہیں، محلے میں ہی گھر ہے ، ہم بعد میں لے آئیں گے۔” ابوبکر نے یہ کہہ کر باقاعدہ پیچھے موڑ کر سب کو چلنے کا کہا تھا۔ جب پیچے سے الہام نے اس کو ہاتھ پکڑا تھا اور وہ پیچھے موڑا تھا۔
“بھائی یہ کیا بات ہوئی۔” منہ بنا کر کہا گیا تھا۔ جبکہ آس پاس کے سب لوگ اب بہن بھائی کی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔
“مذاق کر رہا ہوں۔” ابوبکر نے الہام کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا “بتاؤ کیا چاۂیے میری بہن کو، جان بھی حاضر ہے۔” اس نے پیار سے پوچھا تھا۔
“ایک وعدہ ، میری دوست کو ہمیشہ خوش رکھیں گے ۔” الہام نے ابوبکر کو مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔ وہ ایسی ہی تھی وہ کہاں زر کو رشتوں پہ فوقیت دیتی تھی ، وہ تو بھائی کے لیے اپنا غم بھی بھولاۓ بیٹھی تھی۔
“پکا وعدہ ، تمہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔” ابوبکر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا جس نے آج اس کی خوشی میں خود کوپہلے جیسا کر لیا تھا۔ باقی لوگ رشک سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
“چلیں میرا تو ہو گیا باقیوں کو تو نیگ دینا پڑے گا۔” الہام نے اطلاع دی تھی۔ اور ابوبکر نے ان سے پوچھ کر نیگ ان کو دیا تھا۔ الہام نے ابوبکر کو اپنی والی جگہ پہ حرا کے ساتھ بیٹھایا تھا جس پہ تالیوں کی گونج سنائی دی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد رخصتی کر دی گئی تھی۔اور حرا ہمیشہ کے لیے اس گھر کے مکینوں میں شامل ہوگئی تھی جن کو وہ ہمیشہ سے اپنا سمجھتی تھی۔ حرا کو ابوبکر کے کمرے میں لا کر بیٹھایا گیا تھا۔ جس کو ولید نے مکمل طور پر تازہ لال گلابوں سے سجایا تھا۔ تھوڑی دیر میں الہام زبردستی ابوبکر کو پکڑ کر لے آئی تھی، اور اسے حرا کے ساتھ بیٹھایا تھا۔
“ویسے الہام! میں ان سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ آپ کو گھر کیسا لگا۔” ابوبکر نے شرارت سے دیکھتے ہوۓ الہام سے کہا تھا، جس پہ باقی سب کزنز کا قہقہ گونجا تھا جبکہ الہام نے ابوبکر کو آنکھیں دیکھائی تھی ، جبکہ حرا نے خلاف موقع خاموشی اختیار کی تھی۔ جس پہ ابوبکر کو شاک لگا تھا۔
“یار الہام یہ حرا ہی ہیں نا کہیں تم لوگ کوئی اور تو پکڑ کر نہیں لے آئے۔” اس نے حرا کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اپنی طرف گھومایا تھا۔ ابوبکر کے پہلے لمس پہ بے احتیار حرا کا دل دھڑکا تھا۔جبکہ الہام منہ بناۓ اپنے بھائی کی حرکات دیکھ رہی تھی، جبکہ پیچھے موجود سب ہنسی کے مشغلے میں مصروف تھے۔
“ہیں تو وہی” اس نے حرا کی ٹھوڑی پر سے ہاتھ ہٹایا تھا۔ جس پہ اس نے سر فورا جھکا لیا تھا۔
“کیا ہو گیا ہے بھائی ، آج تو اسے تنگ نہ کریں۔” الہام نے کہا تھا۔
“تو ان سے کہو نارمل رہیں ، جیسی ہوتیں تھیں، یہ بولتے ہوۓ ہی اچھی لگتیں ہیں” ابوبکر کو جیسے اس کی خاموشی نے پریشان کیا تھا۔
” کوئی نہیں کچھ دن کے بعد آپ اس کی خاموشی کی دعائیں مانگیں گے۔” جس پہ سب نے قہقہ لگایا تھا۔ جب کے حرا نے کھا جانے والی نظروں سے الہام کو دیکھا تھا۔ اور پھر ان سے وہاں کچھ رسمیں کروائی گئیں تھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ابوبکر اور سب نے پوری رات جاگ کر گزرانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ الہام نے کل رخصت ہوجانا تھا۔ لیکن الہام نے سب کو منا کر دیا تھا کہ سب کو آرام کرنا چاۂیے اور سب منہ بنا کر اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف چل دئیے تھے۔ اور جاتے ہوۓ ابوبکر نے الہام کو ہاتھوں پہ مہندی لگانے کا کہا تھا جس پہ اس نے مسکراتے ہوۓ سر ہلایا تھا۔
ابوبکر جب کمرے میں داخل ہوا تو اس نے حرا کو سامنے بیڈ پہ بیٹھے پایا تھا۔ اس وقت وہ سفید قمیض شلوار پہنے ہوۓ تھا ، وہ حرا کے پاس آکر بیٹھا تھا۔
“ویسے مجھے یقین نہیں آرہا ، آپ اتنی دیر چھپ رہ سکتی ہیں۔” اس نے حرا کو چھڑا تھا۔
“پہلے کی اور بات تھی، اب کی اور بات ہے۔” حرا نے نظریں جھکاۓ جواب دیا تھا۔
“اچھا ایسا کیوں بھلا۔” سوال پوچھا گیا تھا۔
“پہلے آپ الہام کے بھائی تھے تو ہمیشہ آپ سے مقابلہ کرتی تھی لیکن جب آپ نے مجھے اپنی ماں اور بہن دونوں کے سامنے چنا تب میں ہار گئی اور وہ ہار اتنی خوبصورت تھی کہ پھر آپ سے جیتنے کی چاہ کہیں اس ہار میں ہی دب گئی۔” وہ سر جھکاۓ بول رہی تھی اور ابوبکر کسی ٹرانس کی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا اسے حرا سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی۔ اس کے خاموش ہونے پہ وہ ہوش میں آیا تھا۔اس نے اپنی پاکٹ سے ایک ڈبی نکل کر اس میں سے ایک خوبصورت رنگ نکل کر حرا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
” اور آپ کو پتہ ہے مجھے آپ سے محبت کب ہوئی ، حرا نے نظر اٹھائی تھی ، ابوبکر نے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی تھی اور ہاتھ ابھی بھی پکڑے ہوئے تھا، یاد ہے جب یونیورسٹی ہیں میرا آخری سال چل رہا تھا اور میرا بائیک پہ ایکیسڈنٹ ہوا تھا اور جب میں اسپتال سے پٹی کروا کے خون سے لت پت شاٹ کے ساتھ گھر واپس لوٹا تو سب کے ساتھ آپ نے بھی آنسو بہاۓ وہ لحہ تھا بس اس کے بعد جب، جب آپ کو اپنے گھر کے غم میں غمگین اور خوشی میں خوش ہوتے دیکھا تب تب محبت ہوئی،” حرا ٹک ٹکی بندھے اسے دیکھ رہی تھی۔
“صحیح وقت کا انتظار کیا کہ ایک ہی بار شادی کرکے اظہار کروں گا” وہ مسکرایا تھا اور حرا کے پاس جیسے الفاظ ہی ختم ہوگئے تھے ، ہاں ایسی محبت ابوبکر عالم ہی کر سکتا تھا اور ابوبکر عالم ہونا بھلا کہاں ہر ایک کے بس کی بات ہے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کا پچھلا پہر تھا۔ الہام واش روم سے وضو کر کے نکلی تھی۔ اس کے روم میں خدیجہ بچوں کے ساتھ بیڈ پر سو رہی تھی جبکہ کچھ کزنز نیچے بستر بچھاۓ سو رہیں تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر جاۓ نماز بچھائی تھی۔ اور دو نفل نماز پڑھنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تھے ان پہ مہندی کا گہرا رنگ آیا تھا۔
“یااللہ تیرے ہر فیصلے پہ میں سر تسلیم خم کرتی ہوں، تو نے ہمیشہ میرا بھرم رکھا ہے آگے بھی رکھنا ، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھے آزمائش کے لئے چنا، اے رب محمد!! میرا شمار ہمیشہ صبر کرنے والوں میں کرنا۔ یاللہ عمر سے کہنا کہ آج الہام ان کے لیے آخری بار آنسو بہا رہی ہے اور آنکھوں سے زروقطار آنسو جاری ہوۓ تھے “آج آخری بار دل کھول کہ رو رہی ہے ، لیکن وہ آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی، کبھی بھولے گی نہیں،ان سے کہنا وہ اپنے بیٹے کو آپ جیسا بناۓ گی، اس دنیا کو ایک اور عمر دے گی ، جو دنیا کی سوچ بدلے گا۔” اور پھر وہ دبی آواز میں کتنی ہی دیر آنسو بہاتی رہی تھی۔اور شاید دور آسمانوں پہ اس کے صبر کی داستان اللہ نے فرشتوں کو سنائی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
اگلی صبح ناشتے کے بعد الہام اور حرا کو خدیجہ نے پارلر بھیج دیا تھاجب کہ خود اس نے بعد میں آنے کا کہا تھا، کیونکہ آج ابوبکر کا ولیمہ جبکہ الہام کی رخصتی تھی۔ گھر میں ہر طرف گہما گہمی تھی۔
الہام اور حرا تیار ہو چکی تھیں اور ان کے ساتھ خدیجہ بھی پارٹی میک اپ کرواۓ تیار کھڑی تھی۔ الہام نے بیچ رنگ کے زری کے کام کا لہنگا پہن رکھا تھا اور خوب روپ لیے ہوۓ تھی ، جبکہ حرا ٹی پنک کلر کا لہنگا پہنے نکھر رہی تھی۔ جلد ہی ابوبکر ان لوگوں کو پارلر سے پک کرنے آگیا تھاجو آج بلیک اور وائٹ سوٹ پہ ٹی پنک ٹائی پہنے ہوۓ کافی ڈیشنگ لگ رہا تھا
ابوبکر نے اولڈ ایج ہاؤس کے سب افراد کو مدعو کیا ہوا تھا۔ جبکہ عمر کی والدہ اور والد نمرہ کے پاس دبئی گئے ہوۓ تھے اس لیے شادی میں شرکت کے لئے معذرت کر لی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام اور حرا کو سٹیج ہر لا کر بیٹھایا گیا تھا۔بارات آچکی تھی۔ تھوڑی دیر میں نکاح کی کاروائی شروع کی گئی تھی۔ جہانداد کے سائن کے بعد ابوبکر الہام کے پاس پیپرز لیے آیا تھا۔اور آج بھی سٹیج پہ آکر بنا لوگوں کی پرواہ کیے بنا وہ پاؤں کے بل الہام کے پاؤں میں بیٹھا تھا۔
“الہام بچے ایک بار پھر آپ نے ہمارا بھرم رکھ لیا، آپ کا بھائی ہمیشہ آپ کی ایک آواز پہ دوڑا چلا آۓ گا۔” آج اس کے پاس بہن کو کہنے کو زیادہ کچھ نہ تھا۔
“آپ کا نکاح جہاندادخان ولد دلاور خان سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو منظور ہے۔” ابوبکر نے الفاظ دہرے تھے اور گھونگٹ کے نیچے الہام کی آنکھیں چھلکی تھیں پھر خدیجہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھنے پہ اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور ابوبکر کے دو بار اور پوچھنے پہ بھی اس نے سر ہلایا تھا، پھر ابوبکر نے پیپرز سامنے کئے تھے ، خدیجہ نے تھوڑا گھونگٹ اٹھایا تھا تاکہ وہ آسانی سے سائن کر سکے پھر الہام نےابوبکر کی بتائی جگہ پہ سائن کئے تھے۔ سائن لینے کے ابوبکر نے اٹھ کر الہام کے سر پہ پیار کیا تھا اور چلا گیا تھا، جبکہ ساتھ بیٹھی حرا اور حدیجہ الہام سے باری باری گلے ملیں تھیں اس کے بعد عائشہ بیگم کے ساتھ جہانداد کی والدہ اور بہن بھی سٹیج پر آئیں تھی۔
کھانے کے بعد جہانداد کو الہام کے پاس بیٹھنے کے لیے لایا گیا تھا۔ جہانداد کاٹن کی سفید قمیض شلوار پہ بلیک رنگ کا ویسٹ کوٹ پہنے ہوۓ پٹھانوں کی سی رؤب دار شخصیت لئے ہوۓ تھا۔ جہانداد جیسے ہی ابوبکر اور پلوشہ کے ساتھ سٹیج پہ چڑھا تھا اس نے الہام کے پاس حرا اور خدیجہ کو بیٹھے پایا تھا جبکہ بیک پہ باقی کی عوام موجود تھی مطلب وہ لوگ لوٹنے کی پوری تیاری کیے ہوۓ تھے۔
“ارے جہانداد بھائی مجھے تو لگا تھا ، آپ اپنی پوری آرمی کو لے کر آئیں گے ، لیکن آپ تو پلوشہ آپی کو صرف ساتھ لے کر آۓ ، اور ابوبکر آپ ادھر آئیں، پارٹی نا بدلیں ۔” ابوبکر کی طرف دیکھتے ہوۓ حرا نے اس کو خبردار کیا تھا۔ جس پہ وہ بھی ان کی سائیڈ ہوگیا تھا۔
“دلہنیں نہیں بولتی ہوتی ، اور یاد رکھیں میں آپ کا بھائی ہوں۔” جہانداد نے ہاتھ بندھے جواب دیا تھا۔
“اس ٹائم میں نا کوئی دلہن ہوں نا کسی کی بہن اس ٹائم میں صرف آپ کی دلہن کی دوست ہوں۔” وہ کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھی۔ جبکہ پیچھے سب اس نوک جوک سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
“چلو جہانداد بتاؤ اپنی دلہن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے کتنے دے سکتے ہو۔” خدیجہ بولی تھی۔
” آپ بتائیے آپی آپ لوگوں کو کتنے چاۂیں ۔” جہانداد بولا تھا۔
“پچاس ہزار ۔” فورا حرا بولی تھی۔
” ایسی بہن اللہ دشمن کو بھی نہ دے ۔” جہانداد نے حرا سے کہا تھا۔
“پتا نہیں پلوشہ آپی آپ کے ساتھ کیسے گزارا کر گئیں، ایسا کنجوس بھائی اللہ کسی کو نا دے!” پلوشہ حرا کی بات پہ ہنسی تھی۔
“چلو جہانداد بیٹھ جاؤ اپنی دلہن کے پاس۔” ابوبکر کے اشارہ کرنے پہ خدیجہ نے جگہ چھوڑ دی تھی جبکہ حرا منہ بناۓ دیکھتی رہ گئی تھی۔ جبکہ جہانداد نے بیٹھنے سے پہلے پانچ پانچ ہزارکے کچھ نوٹ نکل کر خدیجہ کو دینے چاہے جس پہ خدیجہ نے اسے منا کر دیا تھا لیکن پھر جہانداد کی ناراضگی دیکھانے پہ ان میں سے دو نوٹ لے کر پیچھے موجود کزنز کو تھماۓ تھے۔ الہام جو اس سارے مرحلے میں خاموش بیٹھی تھی۔ اب جہانداد کے ساتھ بیٹھنے پہ سمٹی تھی۔ پھر تصویروں کا دور چلاتھا اور پھر کچھ دیر میں رخصتی کا شور مچا تھا۔الہام کو گاڑی تک لایا گیا تھا۔ گاڑی پہ بیٹھنے سے پہلے وہ ماں کے گلے لگی تھی ، پھر خدیجہ کے ،پھر حرا کے جو دلہن کے لباس میں بھی دوست کو رخصت کرنے باہر چلی آئی تھی، اس کے بعد عالم شبیر کے گلے لگی تھی وہ باپ جس نے اسے شہزادیوں جیسی زندگی دی تھی اور آخر میں ابوبکر کے گلے لگی تھی تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تھا، ابوبکر جو اس کا بھائی تھا ، اس کا دوست تھا اور آج ابوبکر کو بھی سب نے روتے دیکھا تھا، وہ آج اپنے لاڈلی بہن کو رخصت کر کے رو پڑا تھا ، کون کہتا ہے مرد روتا نہیں ہے مرد بھی روتا ہے جب اپنے جان سے پیارے رشتے اس سے دور جاتے ہیں۔ پھر اس نے الہام کو خود سے الگ کر کے گاڑی میں بیٹھایا تھا،جہاں پلوشہ اس کے ساتھ بیٹھی تھی اور پھر جہانداد سے مخاطب ہوا تھا۔
“یار ہم سب تمہیں اپنی جان سے پیاری بیٹی دے رہے ہیں ، خیال رکھنا۔” آواز بھری ہوئی تھی۔
“کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔” پھر ابوبکر نے اس کو گلے لگایا تھا۔ پھر سب سے ملنے کے بعد سب اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گے تھے۔
جاری تھی !!
