Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
الہام اور حرا گھر کے قریب ہی ایک پارک میں بیٹھیں تھی۔الہام نے اب سب کے ساتھ پھر سے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا ، اس نے اپنا دکھ اپنے اندر کئی چھپا دیا تھا، اس نے سب کے سامنے عمر کا غم منانا چھوڑ دیا تھا۔حرا کے اصرار پر وہ دونوں کچھ دن سے روز شام کو پارک آجاتیں تھیں اور اب الہام کو پارک آکر بچوں کو کھیلتے دیکھنا اچھا لگتا تھا۔
“الہام ایک سال سے اوپر گزار چکا ہے ، اور تمھارے لیے پرپوزلز بھی آرہے ہیں ، اتنی لمبی زندگی ہے ، کسی کا ساتھ چاہیے ہوتا۔” حرا نے الہام کا ہاتھ تھامتے ہوۓ اسے سمجھنا چاہا تھا، یہ سب وہ عائشہ بیگم کے کہنے پہ کر رہی تھی جن کو لگتا تھا کہ اگر الہام کی عمر گزر گئی تو اچھے رشتے نہیں آئیں گے۔
“یہ جو لوگ آتے ہیں نا ان کا کوئی اپنا ان کو چھوڑ کر نہیں گیااور اللہ نا کرے ان کے ساتھ ایسا کبھی ہو ،کبھی کبھی ھمارے پاس الفاظ نہیں ھوتے اپنا دکھ دوسرے کو سمجھانے کو … کہ اپنوں کا جانا کیسا ھوتا ہے ..لوگوں کو لگتا ھے کہ ھم وقت کے ساتھ ان اپنوں کو بھول گئے ھیں لیکن ان کو نہیں پتا ھوتا کہ کن کن موقعوں پر وہ اپنے ہمیں شدت سے یاد آتے ہیں..کھبی برشیں ان کی یاد دلاتی ہیں اور کبھی بارش کی پہلی بوند پہ آنے والی مٹی کی خوشبو , عید کا چاند بھی تو جانے والوں کی یاد دلاتاہے. کوئی کسی کو نہیں بھولتا بس وقت کی رفتار میں کھو جاتے ہیں، میں بھی اس رفتار میں کھو گئی ہوں لیکن شادی نہیں کر سکتی۔” الہام نے گود میں رکھے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا۔
“الہام ہم تمہیں بھولنے کا کہہ بھی نہیں رہے ، لیکن خود کو ایک موقع تو دو۔” حرا نے پھر سے اپنی بات منوانی چاہی تھی۔
“میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔” اور حرا سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر وہ گھر کے راستے چل پڑی تھی اور حرا اس کے پیچھے بھاگی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام پارک میں بیٹھی بچوں کو کھیلتے دیکھ رہی تھی، حرا تھوڑے ہی دور آئسکریم لینے چلی گئی تھی، تبھی الہام کی نظر ایک شخص پر پڑی تھی جو ان بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، بلیک ٹریک سوٹ پہنے،آرمی ہیر کٹ، درازقد ،ایک مکمل شخصیت کا حامل، الہام کو کسی اور کی یاد دلا گیا تھا وہ اسی سوچ میں تھی جب ایک بال آ کر اس کے پاوں پر لگی تھی اور اس کے منہ سے ہلکی سی آواز نکلی تھی ، تھوڑی دیر بعد اسےکسی نے اسے پکارا تھا۔
“آپ کو زور سے تو نہیں لگی ۔” الہام نے نظر اٹھا کر دیکھا سامنے وہی شخص کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا ، الہام نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
” ایکچلی میں ان بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو تھوڑی اونچی شاٹ لگ گئی لیکن مجھے بالکل آئیڈیا نہیں تھا یہ آپ کو لگ جائے گی ، آپ کو اگر زیادہ چوٹ آئی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں۔”الہام نے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“جن کی روح پہ گہرےزخم لگے ہوں ان کا یہ ظاہری زخم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔” وہ درد جس کو کچھ ماہ سے اس نے اپنے اندر چھپا لیا تھا آج اتنے عرصے بعد الہام نے اپنے اندر کے دکھ کو باہر نکلا تھا وہ بھی کسی اجنبی کے سامنے، اور پھر وہ تیزی سے اٹھ کروہاں سے چلی گئی تھی ،لیکن سامنے کھڑے شخص کو الجھن میں ڈال گئی تھی۔ دور سے آتی حرا نے اس کو جاتے دیکھ اس کا پیچھا کیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام اور حرا دونوں شام میں جب پارک آئیں تو حرا کی آنکھیں اس انسان کو ڈھونڈ رہیں تھیں جس کے بارے میں الہام نے اس کو بتایا تھا ،تبھی الہام نے اسے بینچ پر بیٹھنے کے لئے کہا تھا ،اور وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی ، جب کہ وہی کل والا شخص دور کھڑا دونوں کو دیکھ رہا تھا ، وہ کب سے اس انجان لڑکی کا انتظار کر رہا تھا جو کل اس کو ایک عجیب سی الجھن میں ڈال گئی تھی،یہ لڑکی حجاب میں، یہاں موجود جینز،اور ٹریک سووٹس پہنے ہزاروں لڑکیوں کو شکست دےرہی تھی پتا نہیں ماڈرن وہ تھیں یا یہ لڑکی تھی ، ایسی ہی لڑکی کی تو تلاش تھی اس کو، جو قیمتی ہو ، جو اپنی پہچان جانتی ہو ، اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ وہ ان طرف بڑھا تھا۔
اسلام و علیکم لیڈیز ، الہام نے جب دیکھا تو اس نے حرا کی طرف دیکھ کر سر ہلا دیا تھا جس پر حرا سمجھ گئی تھی ، حرا نے جلدی سے سلام کا جواب دیا تھا۔
“میں امید کرتا ہوں میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب نہیں کیا، ویل آئی ایم کپٹن جہانداد خان ، ساتھ آرمی کا بتانے کا مقصد یہ ہے کہ میں ایک شریف انسان ہوں” اپنا تعارف دیتے ہوۓ وہ آخری بات پہ مسکرایا تھا۔سامنے کھڑے شخص نے اپنا تعارف کروایا تھا ۔جس پر سامنے بیٹھی حرا نے حیرت سے اس کو دیکھا تھا، جب کہ الہام نے بے نیازی دیکھائی تھی لیکن حرا نے جلد ہی خودکو جواب کے لئے تیار کیا تھا۔
” نہیں سر ایسی بات نہیں میں حرا ہوں اور یہ الہام ہے ، اور ہم دوستیں ہیں، الہام نے حرا کو گھورا تھا جیسے اس کا یوں تعارف کروانا اچھا نہیں لگا تھا ، لیکن حرا نے اس کو اگنور کر دیا تھا، جہانداد نے اس سب کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ دبائی تھی کیونکہ اس کا یہ عمل الہام کو مزید غصہ دلا سکتا تھا۔
“ارے آپ مجھے سر تو نہ بولیں آپ بھائی کہہ سکتی ہیں” وہ مسکرائی تھی حرا کو یہ شحض اچھا لگا تھا۔
“سوچ لیں وقت پڑنے پر بھائی بن کر دیکھانا پڑے گا منہ سے کہہ دینا کافی نہیں ہوتا۔” اس نے ساتھ بیٹھی الہام کو دیکھ کر کہا تھا جو اب دونوں کو اگنور کئے اپنی سوچ میں تھی۔
” آپ آزما کر دیکھ لینا یہ ایک فوجی کی زبان ہے جو مر تو سکتا ہے لیکن اپنی زبان سے پھیر نہیں سکتا۔”
“یہ مرنے والی بات کہاں سے آگئی ، حد ہوتی ہے،” اور جہانداد مسکرایا تھا اس چھوٹی سی لڑکی نے پل میں اس کے دل میں جگہ بنا لی تھی اور جہانداد نے اس چھوٹی سی لڑکی کے دل میں ، جب دل میں فریب نہیں ہوتے تو ایسے ہی پل میں کچھ لوگ اپنے بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے الفاظ میں مخلصی ہوتی ہے ،اور آنکھوں میں احترام ہوتا ہے ، حرا نے الہام کی طرف دیکھا تھا جو اپنی سوچ میں گھوم تھی اس کو کوئی سروکار نہیں تھا کہ ان کے بیچ کیا گفتگو ہوئی، لیکن حرا کچھ سوچ کر مسکرائی تھی اور یہ سارا عمل جہانداد نے نوٹ کیا تھا، تبھی الہام کا فون بجا تھا اور اس نے کال رسیو کی تھی اور بات کرنے کے بعد فون بند کر کے اس نے حرا کو چلنے کا کہا تھا کیونکہ گھر پر کوئی مہمان آئے تھے اور امی نے گھر آنے کو کہا تھا۔حرا نے جلدی جلدی جہانداد کو اللہ خافظ کے ساتھ یہ بھی بولا تھا ہم لوگ پھر میلں گئے بھائی، اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی کسی ارادے کو تکمیل تک پہنچانے کی چمک ،وہ دونوں اتنی جلدی میں گئی کہ جہانداد کو کچھ بولنے کا موقع نہ دیا وہ بس مسکرایا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں ایک آس تھی، پھر سے ملنے کی ، کچھ جاننے کی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام آج پارک کے لئے اکیلی نکل آئی تھی کیونکہ حرا کے گھر ان کے ماموں کی فیملی آئی ہوئی تھی اور اس نے الہام کو بولا تھا کہ وہ کچھ دیر تک پہنچ آۓ گی ۔الہام جب پارک میں اپنی مخصوص جگہ پہنچی تو جہانداد کو پہلے سے ہی اس نے وہاں بیٹھا پایا تھا آج اس کے ساتھ ایک آٹھ ،نو سال کا چھوٹا بچہ بھی تھا ، بلیک ٹریک سوٹ پہنے ایک پرفیکٹ باڈی،سفیدرنگت، بھورے رنگ کی داڑھی اور ترتیب سے سیٹ کئے ہوئےبھورے رنگ کے آرمی ہیر کٹ کے بالوں کے ساتھ وہ کسی لڑکی کا بھی دل دھڑکا سکتا تھا ۔ الہام آگے کو چل دی تھی جب اس کو پیچھے سے جہانداد کی آواز آئی تھی۔
“کیا ہم تھوڑی دیر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ، دیکھیں ہم اکیلے نہیں ہیں، ہمارے ساتھ ایان بھی ہے ، پھر اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“سے ہیلو ٹو آنٹی”اس نے بچے کو مخاطب کیا ۔اور ایان نے الہام کے پاس آکر ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“ہیلو آنٹی ،ایم ایان اینڈ یو”الہام نے اپنا ھاتھ آگے بڑھا کر سلام کیا تھا۔
“ہاۓ لیٹل بواۓ ، ایم الہام اینڈ ہو آر ٹوکیوٹ۔”ایان نے آنکھیں نیچے کی تھیں جیسے وہ اپنی تعریف پر شرما گیا تھا اور الہام مسکرائی تھی ،ایان نے اوپر منہ کیا تھا۔
“یو آر بیوٹیفل ٹو۔”اور الہام مسکرائی تھی وہ نقاب میں تھی اور وہ اس کو خوبصورت کہہ رہا تھا۔ ایان اس کا ہاتھ پکڑ کر بینچ کے پاس لے آیا تھا۔
“آنٹی آپ اور ماموں یہاں بیٹھ کر ہمارا میچ دیکھیں ،میں کیسے ان کو ہارتا ہوں۔” اور الہام چاہ کر بھی اس چھوٹے سے بچے کی چھوٹی سی خواہش کو رد نہیں کرسکی تھی ،اس لیے وہ وہاں بینچ کے بلکل رنر پر بیٹھ گئی تھی ، اور جہانداد یہ دیکھ کر مسکرایا تھا، اور ایان سے مخاطب ہوا تھا۔
” گڈ لک مائے چیمپ” اور ساتھ ہی ہائی فائف دیا تھا اور ایان نے الہام کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے بھی ہائی فائف لیا تھا۔
“گڈ لک لٹل بوائے” الہام نے ایان کو بولا تھا۔اور ایان باقی بچوں کی طرف بڑھ گیا تھا جو سامنے ہی کرکٹ کھیلنے کو تیار کھڑے تھے۔جہانداد بینچ کی دوسرے رنر میں بیٹھ گیا تھا وہ الہام کو ان کمفرٹیبل فیل نہیں کروانا چاہتا تھا ان کی نظریں بچوں کی طرف تھی جو آپس میں اب ٹاس کر رہے تھے ، لیکن سوچیں کہیں اور تھیں، الہام حرا کا کا انتظار کر رہی تھی جو ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔
“آپ کے نام کا کیا مطلب ہے،” الہام کو جہانداد کی آواز آئی تھی۔
“انسپائررنگ (متاثر کرنے والی )”الہام نے جواب دیا تھا۔
“آہاں، توکیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ انسپائر کر رہیں ہیں لوگوں کو، “جہانداد نے اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا۔لیکن الہام خاموش ہوگئی تھی جیسے جواب سوچ رہی ہو۔
“ضروری تو نہیں ہوتا کہ انسان اپنے نام پر پورا اترے۔”الہام نے بہت آہستہ سے اور اداسی سے جواب دیا تھا اور جہانداد نے اس کی اداسی کو محسوس کیا تھا۔
“اگر میں کہوں کہ آپ نے مجھے متاثر کیا ہے تو آپ یقین کریں گی۔”الہام نے بس خاموشی سے سر نیچے کر لیا تھا۔
“مس الہام آپ کہہ رہی ہیں کہ ضروری نہیں کہ نام پہ پورا اترے انسان، جبکہ میں سوچ رہا ہوں کہ آپ سے بہتر کوئی اس نام پہ پورا اتر ہی نہیں سکتا۔”الہام نے تجسس سے سر اوپر اٹھایا تھا لیکن اس کی طرف دیکھا نہیں تھا۔
“آپ یہ عبایا ، اسکارف لیتی ہیں، نظر اٹھا کر دیکھیں ،آس پاس آپ کو کوئی بھی ایسی لڑکی نظر آرہی ہے ، سب جینز ، ٹریک سوٹ پہنے جوگنگ کرتے نظر آئیں گی، یعنی سب کا ایک جیسا ہی لباس ہوگا، یہ چیز آپ کو یونیک بنا رہی ہے، آپ ان سب لڑکیوں کے لئےانسپائریشن ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ ویسٹرن ڈریسنگ کرنے والی لڑکیوں میں وہ یہ عبایا اور اسکارف نہیں پہن سکتی، جبکہ آپ روز عبایا اور اسکارف میں ان سب کے بیچ کونفیڈنس کے ساتھ کر بیٹھتی ہیں،اور کتنی لڑکیاں ہیں جو ایسی لڑکیوں میں بیٹھ کر اپنا کانفیڈنس لوز کر دیتی ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لڑکی جس نے ماڈرن ڈریسنگ کی ہوتی ہے وہ اچھی نہیں ہوتی، یہ تو اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن ہاں ایک لڑ کی جو ان کے بیچ اپنے مذہب کوریپریزنٹ کر رہی ہو گئی، میں اس کی تعریف لازمی کروں گا ،ہاں قابل احترام میرے لئے دونوں ہیں اور دونوں کو دیکھ کر میں نظریں نیچی رکھاوں گا۔” وہ تھوڑی دیر رکا تھا جبکہ الہام خاموش بیٹھی اس کو سن رہی تھی۔
“”آپ نے یہ تسبیح اٹھائی ہوئی ہے جہانداد نے الہام کے ہاتھوں کی طرف دیکھ کر کہا، آپ اس تسبیح کے بنا بھی تو ذکر کر سکتی ہیں نا،””جہانداد نے بہت نرم لہجے میں سوال کیا تھا۔
“الہام نے اپنی تسبیح کی طرف دیکھا تھا “آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں بنا تسبیح کے بھی ذکر کر سکتی ہوں، لیکن میں کوئی پیغمبر یا ولی تو ہوں نہیں عام سی انسان ہوں بھٹک جاتی ہوں دنیا میں، توجہ کسی اور چیز پہ چلی جائے تو زبان پہ ذکر بھی رک جاتا ، تسبیح ہاتھ میں ہوتی ہے تو مجھے یاد رہتا ہے کہ میں نے ذکر کرنا ہے۔”
جہانداد کے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی” مس الہام اور آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ اپنے نام پر پورا نہیں اترتیں یہاں تو آپ کے سامنے والا بندہ آپ سے انسپائر ہو گیا جو ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ تسبیح ہاتھ میں رکھوں گا تو لوگ سمجھیں گے کہ میں دیکھاوا کر رہا ،لیکن دیکھیں آپ نے لوگوں کی بات ہی نہیں کی آپ کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے آپ نےتو بس رحمان کا ذکر کرنا۔”ابھی وہ یہی بات کر رہے تھے کہ ایان کی آواز آئی تھی وہ بھاگتے ہوئے رن سکور کر تے ہوئے گرا تھا اور الہام بسم اللہ کہتی آٹھ کر ایان کی طرف بھاگی تھی اور ساتھ ہی جہانداد بھی اٹھ کر اس کی طرف بھاگا تھا لیکن الہام اس سے آگے تھی اور اس نے ایان کو اٹھایا تھا اور اس سے پوچھ رہی تھی اس کو چوٹ تو نہیں آئی اور ساتھ ہی اس کے کپڑے بھی جھاڑ رہی تھی جب جہانداد بھی ساتھ آ کر بیٹھا تھا اور ایان نے دونوں کی طرف دیکھا تھا۔
“ڈونٹ وری ایم او کے، آپ دونوں جاکر بیٹھیں، بس گیم ختم ہونے والی ہے۔” اور ایان دوبارہ کھیلنے کےلئے موڑ گیا تھا۔اور وہ دونوں واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئے تھے ۔
“مس الہام آیان تو میرا بھانجا ہے نا ،پھر آپ کیوں مجھ سے پہلے بھاگ کر گئیں۔” الہام نے نظر اٹھا کر دور ایان کو دیکھا تھا ۔
“پہلی بات انسانیت میں رشتے ناطے نہیں ہوتے اور دوسری بات بچے تو سارے ایک جیسے ہوتے ہیں ،میں کوئی بھی بچہ دیکھتی ہوں تو ان میں مجھے اپنے بھانجی بھانجا نظر آتے ہیں۔”
” تو مس الہام یہ چیز آپ کو سب سے منفرد بناتی ہے ،اس پارک میں کتنے لوگ موجود ہیں ،کوئی کیوں بسم اللہ کہتا ایان کی طرف نہیں گیا ، کیا میں نہیں جانتا مس الہام کہ آپ یہاں میرے ساتھ اتنی دیر سے صرف ایان کی خوشی کے لئے بیٹھی ہیں کہ اس کی چھوٹی سی خواہش پوری کرسکیں، حالانکہ کہ آپ انکار کر سکتیں تھی لیکن آپ کو انکار کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ آپ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے کہ کوئی آپ کو یہاں میرے ساتھ بیٹھے دیکھ گیا تو آپ کیا جواب دیں گی ،آپ بس یہ سوچ رہی ہیں کہ میرے رب کو میری نیت پتا میں لوگوں کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی۔”الہام پر صدمے کی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی وہ شخص اس کی سوچیں پڑھ رہا تھا جیسے وہ برسوں سے اس کو جانتا ہے۔اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ،تبھی ایان بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔
“سی انکل ، آنٹی آئی ون”ایان بہت خوشی سے بتا رہا تھا جیسے وہ کوئی بہت بڑی جنگ جیت آیا ہو۔الہام ایان کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گئی تھی۔
“ارے واہ چیمپئن آپ نے تو کمال کردیا۔” اور ساتھ ہی الہام نے ایان کو ہائی فائف دیا تھا۔اور الہام اٹھ گئی تھی۔اور ایان الہام کی تعریف پہ بہت خوش ہوا تھا۔
ایان جہانداد کی طرف موڑا تھا۔
“ماموں ناؤ یو ہیو ٹو ٹیک می فور ہارس ریڈنگ ۔”جہانداد ہنسا تھا۔
“یس آف کورس آئی ول ٹیک یو”اور ایان خوشی سے جمپ کر کے جہانداد کے گلے لگا تھا لیکن کیونکہ وہ جہانداد تک نہیں پہنچ پایا تھا جہانداد نےاس کو اٹھا کر گلے لگایا تھا۔الہام خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھے۔ جب حرا نے اچانک انٹری ماری تھی جبکہ الہام ایان سے مل کر غصے سے اس کو دیکھ کر چلی گئی تھی جبکہ اب وہ جہانداد اور ایان سے ہیلو ہاۓ کر رہی تھی۔
جاری ہے!!
