Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

صبح کا ناشتہ پلوشہ نے الہام کو کمرے میں ہی کروایا تھا۔ اس کے بعد وہ اس کو لے کر پارلر کے لئے نکل گئی تھی۔ آج ولیمے کی تقریب تھی۔ جہانداد نے ان دونوں کو پارلر چھوڑا تھا۔ جبکہ خود اسے گرئنڈ مرکی پہنچ کر سارے انتظامات کا ایک بار جائزہ لینا تھا۔
تیار ہوکر پلوشہ نے جہانداد کو فون کیا تھا۔جس پہ اس نے شاہ میر کو دونوں کو لینے کے لیے بھیجا تھا۔ الہام نے گرے کلر کی لونگ میکسی پہن رکھی تھی جو گولڈن تلے کے کام سے مزین تھی، سلیقے سے میک اپ کئے خوبصورت دلہن کا روپ دھارے ہوۓ تھی۔ پلوشہ کے پارٹی میک اپ نے اس کے پٹھانی حسن میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ شاہ میر کے آنے پہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تھیں۔
“آپی چڑیل لگ رہی ہو ۔” الہام کو شاہ میر کی آواز آئی تھی۔
” چڑیل ہوگی تمہاری دلہن ۔” پلوشہ کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ گھونگھٹ کی وجہ سے دونوں بہن بھائی کے فیس ایکسپریشن نہیں دیکھ پائی تھی ، لیکن وہ ان دونوں کی نوک جوک کو کافی انجواۓ کر رہی تھی۔
“میری دلہن تو پری ہوگی۔” شاہ میر نے پھر سے اسے چڑایا تھا۔
“ہاہاہا فنی” پلوشہ نے جواب دیا تھا۔ اس سے پہلے کے شاہ میر کوئی جواب دیتا ، اس کا فون بجا تھا۔
“جی بھائی بس پہنچ گئے ہیں،” اس نے گاڑی انٹرینس سے اندر لیتے جواب دیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام کو پلوشہ نے سٹیج پہ بیٹھایا تھا، اور اس کا گھونگھٹ بھی اوپر کردیا تھا۔
“الہام ویسے تو سب کو تمھارے پردے کا پتا ، اس لیے کوئی اس طرف نہیں آۓ گا ، پھر بھی کوئی آیا تو چادر کر لینا۔” اس نے الہام کو ہدایت کی تھی جس پہ الہام نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔تبھی الہام کی فیملی بھی آچکی تھی۔ جو اب سٹیج پہ آکر الہام سے مل رہی تھی۔ عائشہ بیگم کی بیٹی کو دیکھ فرط جذبات آنکھیں جھلکی تھیں، جس پہ الہام نے ان کو چپ کروایا تھا اور ساتھ کھڑی جہانداد کی والدہ نے ان کو تسلی دی تھی اس کے بعد خدیجہ اس سے ملی تھی اور بچے اپنی خالہ سے لپٹے تھے جن کو کل سے وہ گھر میں نظر نہیں آئی تھی پھر خدیجہ ان کو لے کر عائشہ بیگم کی طرف چلی گئی تھی جن کو جہانداد کی والدہ مہمانوں سے ملوانے لے گئیں تھیں۔
“لوگوں پہ تو بڑا روپ آیا ہے ۔” حرا نے الہام کو ساتھ لگتے چھڑا تھا۔
“کم تو آپ بھی نہیں لگ رہیں۔” الہام کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔
“اچھا چھوڑو یہ بتاؤ منہ دیکھائی میں کیا ملا۔” حرا نے ہاتھوں کو ٹاٹولتے سوال کیا تھا۔
“یہاں ہے ،” الہام نے ہاتھ سے گلے میں موجود گولڈ بال پینڈنٹ کو چھوا تھا، جو گلے میں موجود باقی گولڈ کی جیولری کے ساتھ اس نے پہن رکھا تھا۔
“ارے واہ ، جہانداد بھائی کی چوائس تو کمال ہے۔” حرا نے جائزہ لیتے ہوۓ تعریف کی تھی۔
“اچھا ابو اور ابوبکر بھائی کہاں ہیں۔” الہام نے سوال کیا تھا۔
“یار انہوں نے عورتوں والی سائیڈ آنا مناسب نہیں سمجھا، تم بعد میں مل لینا۔” حرا نے وجہ بتائی تھی۔جس پہ الہام نے سر ہلایا تھا۔
“ویسے جہانداد بھائی بہت ہنڈسم لگ رہےآج ۔” حرا نے الہام کو پھر سے چھڑا تھا۔ اور الہام کی نظریں بے احتیار انٹرینس کی طرف اٹھیں تھیں آنکھوں نے انجانے میں اسے ڈھونڈا تھا کہ شاید وہ نظر آجائے ، اسں نے اسے صبح پارلر جاتے ہوۓ دیکھا تھا، اور اس کے بعد وہ اب تک اسے نظر نہیں آیا تھا۔
“ڈھونڈ رہی ہو۔” حرا نے ہنسی دبائی تھی۔
“نہیں تو۔” الہام نے فورا نظریں جھکائی تھی جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔
“لو وہ لوگ آگئے۔” حرا نے اس کی توجہ سامنے مکروز کروائی تھی۔ الہام نے نظر اٹھائی تو سامنے ہی ابوبکر اور جہانداد سٹیج کی طرف آتے دیکھائی دیے تھے۔ ہاف وائٹ قمیض شلوار کے اوپر گرے بلیزر پہنے وہ بےحد روب دار اور جانبدار پرسنلٹی لئے ہوۓ تھا، ابوبکر سٹیج پہ آکر الہام سے ملا تھا۔
“کیسا ہے میرا بچہ۔” جھک کر الہام کے سر پہ پیار کرتے ابوبکر نے پوچھا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں، ” الہام نے نظریں اوپر کرکے اپنے جان سے پیارے بھائی سے پوچھا تھا۔
” میں بھی ٹھیک ہوں ، اپنی گڑیا کو بہت مس کیا ۔” ابوبکر نے اسے پیار سے کہا تھا، جس پہ الہام کی آنکھیں بھیگی تھیں۔
“جہانداد بھائی مجھے تو لگا تھا آج آپ یونیفارم پہن کر ، اس فنکشن کو چار چاند لگا دیں گے، لیکن آپ نے خاصا مایوس کیا۔” حرا نے ماحول میں موجود اداسی کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
“وہ تو میں یونیفارم پہنے بناء بھی لگا رہا ہوں۔” اس نے ابوبکر کی طرف مسکراہٹ اچھلتے حرا کوزچ کرنے کے انداز میں کہا تھا۔ جبکہ الہام کو اس کی آنکھوں میں خود اعتمادی نظر آئی تھی۔
“خوش فہمی کا کوئی علاج نہیں ، یہ ساتھ ڈاکٹر کھڑے بے شک ان سے پوچھ لیں۔” حرا نے منہ بناتے ہوۓ جواب دیا تھا ، جبکہ ابوبکر نے مسکراہٹ دبائی تھی۔
“ہا ہا اچھا میری بہن آپ کی بات مان لیتے ، آپ خوش رہیں ہماری خیر ہے ۔” جہانداد نے اپنا ایک ہاتھ سینے پہ رکھے حرا کے آگے سر جھکاتے ہوۓ کہا تھا۔ جس پہ سب ہنس پڑے تھے۔ جبکہ ابوبکر خدیجہ کے بلانے پہ اس کے پاس چلا گیا تھا۔
“اچھا آپ دونوں ایک ساتھ بیٹھیں ، میں آپ دونوں کی پکچرز لے لوں۔” حرا نے اٹھ کر جہانداد کو جگہ دیتے ہوۓ کہا تھا۔ اور جہانداد الہام کے ساتھ جاکے بیٹھا تھا۔ جس پہ الہام سیمٹی تھی۔ اس کی خوشبو حواسوں پہ چھائی تھی۔ حرا نے جہانداد کو الہام کا ہاتھ پکڑنے کا کہا تھا۔ جہانداد کے ہاتھ پکڑنے پہ اس نے پکچر کلک کی تھی۔ اور الہام جیسے اس لمحے میں قید ہوگئی تھی ، اس کا لمس راحت افزا تھا جیسے گرمیوں کی تپتپاتی دھوپ میں ہوا کا ٹھنڈا جھونکا۔ اب حرا دونوں کو کھڑا ہونے کا کہہ رہی تھی۔ الہام نے اسے گھورا تھا جس کو وہ سہولت سے اگنور کر گئی تھی۔ اور اس کے حکم پہ وہ دونوں کھڑے ہوۓ تھے۔
“ویسے الہام ہم دونوں بےشک چھوٹی سی ہیں ، دلہے ہمیں عالم چنے کے قد جتنے ملے ہیں۔” الہام جو ہائی ہیل پہن کے بھی صرف جہانداد کے کندھے تک آرہی تھی، اسے دیکھتے حرا نے ہنساتے ہوۓ کہا تھا ، کیونکہ وہ خود بھی ہیل پہن کر ابوبکر کے کندھے تک آتی تھی۔جہانداد نے اس کی بات پہ قہقہ لگایا تھا۔ جبکہ الہام حرا کو گھورتی رہ گئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
کھانے کے بعد پکچرز کا دور چلا تھا۔ اور اس کے بعد تقریب اپنے اختتام پہ پہنچی تھی۔ الہام کے گھر والوں نے بھی اب اجازت چاہی تھی اور جاتے ہوۓجہانداد کی فیملی کو ڈنر پہ مدعو کیا تھا اور الہام سے مل کر سب چلے گئے تھے۔ سب مہمانوں کے جانے کے بعد جہانداد کے والد اور والدہ بھی جہانداد کو ضروری ہدایت کرتے اپنی گاڑی کی جانب بڑھے تھے۔ اتنی دیر میں شاہ میر نے گاڑی جہانداد کے پاس لا کر روکی تھی۔ اور پلواشہ نے الہام کو باہر لاتے اسے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول کر اندر بیٹھایا تھا۔
“لو جہانداد تم دونوں جاؤ ، شاہ میر میرے ساتھ ہماری گاڑی میں جا رہا ہے۔” پلوشہ یہ کہتے شاہ میر کا ہاتھ پکڑے ساتھ لے گئی تھی جبکہ جہانداد مسکراتا رہ گیا تھا۔ جہانداد نےڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔
“آپ گھونگھٹ اوپر کر سکتی ہیں ۔” جہانداد نے گاڑی روڈ پہ ڈالتے الہام سے کہا تھا۔ جس پہ اس نے گھونگھٹ اوپر اٹھا لیا تھا۔ گاڑی سے اندر آتی دھوپ فرحت بخش تھی ، وافر مقدر میں بارشوں کی وجہ سے مارچ کا مہینہ بھی ابھی سردی لیے ہوۓ تھا۔گاڑی میں کافی دیر خوموشی چھائی رہی تھی جسے آخر میں جہانداد نے توڑا تھا۔
“کہتے ہیں آنکھوں میں محبت اتر آۓ تو محبوب ہر حال میں حسین لگتا ہے، لیکن آج آپ سچ میں بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔” الہام نے جہانداد کو سڑک پہ نظریں جماۓ کہتے سنا تھا، اس کی تعریف کرنے کے انداز پہ الہام نے نظریں جھکائی تھیں۔ گاڑی میں اس کی خوشبو بکھری ہوئی تھی جسے الہام محسوس کر سکتی تھی، تبھی جہانداد کا فون بجا تھا جس پہ وہ کال پہ بات کرتا ڈرائیور کر رہا تھا۔ جبکہ الہام نے نظر اٹھا کر باہر دیکھا تھا ، اور باہر دیکھتے ہی اس نے حیرانی سے جہانداد کی طرف دیکھا تھا ، جو کال پہ مصروف تھا ، اور اب اس نے گاڑی بڑے سے گیٹ سے انٹر کی تھی۔ جبکہ الہام کال بند کرنے کے انتظار میں اسے دیکھ رہی تھی۔ کال بند کرکے جہانداد بنا الہام کی طرف دیکھے گاڑی سے اترا تھا اور الہام کی سائیڈ والا دروازہ کھولا تھا، جو اب بھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“سوال بعد میں کر لینا پہلے جا کے اندر سب سے مل لیں۔” اور الہام حیران پریشان اپنی چادر سے نقاب کرتی نیچے اتری تھی۔ جہانداد اسے اولڈ ایج ہاوس لایا تھا۔اور جب وہ اندر گئے تھے جہانداد سٹاف سے بھی ایسے مل رہا تھا جیسے یہ سب ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہوں۔ اور وہ حیران سی سب کو دیکھ رہی تھی اور بزرگ لوگ تو ان دونوں کو دیکھ کر کھل اٹھے تھے۔ اور وہ ان سب کو گلے لگاتا ، ہاتھ چومتا اسے بلکل عمر لگا تھا۔ اس سے زرا فاصلے پہ کھڑے اسے دل کیا تھا وہ زور زور سے رو دے، لیکن کس لئے ورۓ عمر کے چلے جانے پہ یا سامنے کھڑے انسان کی اعلی ظرفی پہ، وہ کس پہ روۓ اس کا ذہین مفلوج ہوچکا تھا۔ پھر وہ لوگ عورتوں والی طرف گئے تھے اور یہاں بھی جہانداد سب سے بہت محبت سے ملا تھا ، اور یہ سب لوگ اسے محبت دے رہے تھے کیونکہ وہ الہام کا شوہر تھا اور الہام ان کو کیوں پیاری تھا کیونکہ وہ ان کے محروم بیٹے عمر کی بیوی تھی، وہ دروازے پہ کھڑی جہانداد کو دیکھ رہی تھی جو بوڑھے دلوں کو بہلانے میں لگا تھا۔
“الہام۔” الہام کو پاس سے کسی نے پکارا تھا۔ اس نے موڑ کر دیکھا تو سٹاف ممبر کی لڑکی جس کے ساتھ اولڈ ایج ہاوس آتے آتے الہام کی کافی جان پہچان ہوگئی تھی اس کو ساتھ کھڑے پایا۔
“آپ کو بتاؤں میں نے آپ کی زندگی سے کیا سیکھا۔” اس لڑکی نے الہام سے کہا تھا جس پہ الہام نے سر ہلا دیا تھا۔
” میں نے سیکھا اگر آپ الہام کی طرح دنیا کی رنگنیوں کو ترک کرکے شرم وحیا کو اپناؤ گئے تو آپ کو عمر فاروق سے نوازا جاۓ گا، اور پھر وہ آپ سے لے لیا جاۓ گا اور آپ کو صبر سے روشناس کروایا جاۓ گا ، اور جب آپ صبر کو اپنائیں گئے تو آپ کے صبر کے بدلے اللہ آپ کو جہانداد سے نوازے گا۔” اس نے جہانداد کی طرف اشارہ کرتے اپنا آخری فقرہ کہا تھا ، جو سب کے ساتھ بیٹھا باتیں کرنے میں مصروف تھا۔ اور الہام اس کی بات پہ ساکن کھڑی تھی۔وہ لڑکی اپنی بات کرکے چلی گئی تھی، اور الہام سوچوں میں گم تھی ہاں اس کے رب نے اسے خالی دامن نہیں چھوڑا تھا ، جو لوگ کل اس کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے ، آج بھی اس کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے ، اللہ نے اسے لوگوں کی ترس بھری نگاہوں کا مرکز نہیں بنایا تھا۔ واپسی پر گاڑی میں خاموشی تھی۔
“آپ کو کس نے بتایا۔” الہام نے خاموشی توڑی تھی۔
” ویسے تو حرا نے مجھے سب بتایا تھا پھر بارات پہ ان سب سے ابوبکر نے مجھے ملوایا بھی تھا ، اور ابوبکر کے تعارف کروانے پہ سب مجھ سے اتنی محبت سے ملے کہ میں حیران ہوگیا ، پھر آج میں نے سوچا کہ اپنے ساتھ لے جاکر ان سب سے آپ کو ملوا کر لے آؤں تاکہ سب خوش ہوجائیں” جہانداد نے اسے تفصیل بتائی تھی۔
“مجھے بہت اچھا لگا ، شکریہ ۔” الہام نے اس کی طرف دیکھتے کہا تھا جو نظریں سڑک پہ جماۓ ڈرائیور کر رہا تھا۔
” شکریہ کس بات کا ، پہلی بات یہ سب بزرگ محبت اور عزت ڈیزرو کرتے ، دوسری بات میں بتاؤں آپ کو یہ جو محبت ہوتی نا یہ ایسے ہی نہیں چلتی ،روزانہ تین الفاظ بول دیے بات ختم، اس میں بڑی اعلی ظرفی ہوتی محبوب کی محبوب چیزوں کو بھی اپنانا پڑتا ہے۔ محبت تو اوپر والے نے ہمیں پہلے ہی بتا دی ہے جیسے اگر کعبہ سے محبت ہے ، تو روضہ رسول سے بھی تمہیں محبت ہونی چاہے ورنہ تمہاری محبت کھوکھلی ہے۔ تو انسانوں سے محبت میں بھی کچھ ایسا ہی ہے جس سے محبت کرتے ہو ، اس سے جوڑی ہر شے کو اپناؤ ورنہ تمہاری محبت کھوکھلی ہے۔” جہانداد نے اپنی بات کرتے دو بار موڑ کر اسے دیکھا تھا جو اس کی چہرے پہ نظریں جماۓ اسے غور سے سن رہی تھی۔ جہانداد کی بات ختم ہونے پہ بھی اس نے نظریں نہیں ہٹائی تھیں۔ گاڑی ریڈ سگنل پہ روکی تھی۔ جہانداد نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی چادر پکڑ کر اس کے چہرے کے آگے کی تھی جس پہ ہوش کی دنیا میں آتے سوالیہ نظروں سے جہانداد کی طرف دیکھا تھا جس نے آنکھوں کے اشارے سے باہر موجود ٹریفک کی طرف اشارہ کیا تھا، اور ٹریفک کو دیکھتے اس نے چادر جہانداد کے ہاتھ سے لی تھی۔ جہانداد کا یہ عمل اسے اچھا لگا تھا، وہ عمل سے محبت دیکھاتا تھا،اور پھر وہ تھوڑی دیر میں ہی گھر پہنچ چکے تھے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
کمرے میں آکر جہانداد نے اسے تیار ہونے کے لئے کہا تھا کیونکہ ابوبکر نے ان کو سختی سے کہا تھا کہ شام تک پہنچ جانے چاہیں جبکہ ابھی سات بج چکے تھے۔ شاور لینے کے بعد الہام وائٹ قمیض شلوار جو موتیوں کے کام سے مزین تھے، پہنے باہر آئی تھی۔ اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ جبکہ جہانداد بیٹھا چاۓ پی رہا تھا۔
“یہ رہی آپ کی چاۓ ، میں فریش ہونے جا رہا ہوں۔” اس نے الہام کے مگ کی طرف اشارہ کرتے بتایا تھا جبکہ خود اٹھ کے کپڑے لینے کے بعد واشروم میں گیا تھا۔ الہام نے چاۓ دیکھ کر شکر کیا تھا کیونکہ تھکاوٹ کی وجہ سے اسے چاۓ کی کافی طلب ہورہی تھی۔ وہ بیٹھی چاۓ پی رہی تھی جب وریشہ کمرے میں آئی تھی۔
“الہام جہانداد کدھر ہیں۔” کمرے میں نا پا کر اس نے الہام سے پوچھا تھا۔
“وہ واشروم میں ہیں۔” الہام نے واشروم کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“آہاں اچھا، میں کب سے انتظار کر رہی تھی، تم لوگ کافی لیٹ آئے ہو۔” اس نے تفتیش کرنے والے انداز میں الہام سے پوچھا تھا۔ اس کے پوچھنے کا انداز الہام کو عجیب لگاتھا۔
“ہمیں ایک جگہ جانا تھا اس لیے دیر ہوگئی۔” الہام نے اس کے انداز کو اگنور کرتے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ اتنی دیر میں جہانداد وائٹ ہی قمیض شلوار پہنے گیلے بال ٹاول سے رگڑتا باہر نکلا تھا۔
“ارے وریشہ تم ادھر۔” اس نے وریشہ کو کمرے میں دیکھتے پوچھا تھا۔
“ہاں آپ سے ملنے آئی ہوں ، شادی کے بعد تو آپ لفٹ ہی نہیں کروا رہے۔” اس نے یہ پشتو میں بولا تھا جس پہ الہام نے ناسمجھی میں اسے دیکھا تھا۔ وریشہ نے جان بوجھ کر الہام کو کچھ جتانے کے لئے ایسا کیا تھا۔
“ارے ایسی بات نہیں ہے گڑیا ، تمہیں کون بھول سکتا ۔” اس نے پاس آتے اس کے سر پہ ہلکی سی چت لگائی تھی۔ جبکہ الہام بیٹھی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“میں چھوٹی نہیں ہوں جو آپ مجھے گڑیا کہتے اتنی پیاری سی لڑکی ہوں ، اور ہم پٹھان لڑکیاں تو کسی کو بھی مات دے سکتی۔” اب کی بار اردو میں جملہ بولتے آخری جملے پہ کچھ جتاتے ہوۓ اس نے الہام کی طرف دیکھا تھا۔
” اگر تم بڑی ہوتی تو کبھی خوبصورتی کو برتری کا ذریعہ نا کہتی، جب بڑی ہوجاؤ گی تو تب تمہیں یہ باتیں سمجھ آئیں گی۔” جہانداد جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوۓ اپنے بازو فولڈ کر رہا تھا ، وریشہ کی بات پہ اسے سمجھنے کے انداز میں جواب دیا تھا۔ جبکہ الہام اس کی باتوں میں چھپا مطلب کھوج رہی تھی۔ تبھی وریشہ کا فون بجا تھا اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
“وریشہ نے آپ کو پشتو میں کیا کہا۔” الہام نے اس کے جاتے جہانداد سے سوال کیا تھا جس پہ جہانداد سے اسے بتایا تھا۔
“وہ یہ بات اردو میں بھی تو کہہ سکتی تھی۔” الہام نے گلہ کیا تھا۔
“چھوڑیں یار بچی ہے ، ابھی ابھی تو اس نے یونیورسٹی جوئن کی ہے ، بچوں والا ذہین ہے ، اسے باتوں کی سمجھ نہیں آتی۔” جہانداد نے بال بناتے وریشہ کا دفاع کیا تھا۔ جبکہ الہام کو جانے کیوں یہ بات دل کو لگی تھی۔
“الہام ذرا اٹھ کر دیکھیں یہ میرے بالوں میں کیا ہے ،” اس نے ہاتھ بالوں میں مارتے الہام سے کہا تھا، جس پہ الہام اٹھ کر اس کے پاس گئی تھی۔ پاس پہنچ کر بنا کچھ بولے جہانداد کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے اپنی ایڑیاں اٹھائی تھیں، لیکن جہانداد تک نہیں پہنچ پائی تھی جبکہ وہ ہنسا تھا۔
“آپ نہیں پہنچ سکتی۔” اس نے الہام کو چیلنجنگ انداز میں کہا تھا۔ جس پہ الہام نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا تھا، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“میں پہنچ سکتی ہوں۔” الہام نے کہا تھا۔ اور یہ کہتے نظریں پھر سے جھکائی تھی۔
“پہنچ کے دیکھائیں۔” جہانداد نے پہلے کے انداز میں جواب دیا تھا۔ الہام نے بنا جواب دیے اس کے پاؤں پہ اپنے پاؤں رکھتے اپنی ایڑیاں اٹھائی تھیں ، اور ایک ہاتھ سے اس کے بازو کو پکڑے دوسرے ہاتھ اس کے بالوں تک لے گئی تھی لیکن الہام کے دونوں بازوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑتے وہ اپنا سر آرام سے پیچھے لے گیا تھا۔ الہام نے ناراض نظروں سے اسے دیکھا تھا، اور ساتھ ہی جہانداد الہام کو اس کے بازو کے سہارے اٹھا کر اپنے پاؤں سے نیچے اترتاپیچھے ہوا تھا، اور اپنا سر الہام کے آگے پورا جھکا گیا تھا، جبکہ الہام حیران کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی۔ جہانداد نے ویسے ہی جھکے اپنا سر اوپر اٹھایا تھا۔
” الہام آپ ایک بار میرے بازو سے پکڑ کر کہتیں آپ تھؤڑا جھک جائیں میں آپ کے قدموں میں بیٹھ جاتا محبوب کا تو لمس ہی زیر کردیتا “وہ مسکرایا تھا۔ “لیکن آپ نے “میں” کو اپنایا کہ نہیں بھائی میں تو کر لوں گی ، جہاں ساتھ نبھانا ہوتا ہے وہاں “میں” نہیں ہوتی ، وہاں برابری ہوتی ، وہاں مقابلے نہیں کیے جاتے ، تھوڑا میں جھک جاتا تھوڑی آپ اوپر ہو جاتی بات بن جاتی۔” الہام ٹک ٹکی بندھے اسے دیکھ رہی تھی ، وہ کتنی بڑی باتیں آسانی سے سمجھا دیتا تھا۔ اب وہ سیدھا ہو کرکھڑا ہوا تھا۔
“ویسے میرے بالوں میں کچھ نہیں ہے ، بس آپ کی توجہ اپنی طرف کروانی تھی، تیار ہوکر باہر آجائیں میں ماما کے پاس آپ کا ویٹ کررہا” وہ یہ کہتا اس کا گال اپنے ہاتھ سے چھوتا، ٹیبل سے اپنا موبائل ، گھڑی اور گاڑی کی کییز اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ وہ اب بھی اس کی خوشبو کے زیر اثر کھڑی تھی، اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تھا جن سے تھوڑی دیر پہلے اس نے جہانداد کو چھوا تھا، پھر اس نے اپنے پاؤں کو دیکھا تھا ، جن سے تھوڑی دیر پہلے اس نے اس کے پاؤں کو چھوا تھا، پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے بازو کو چھوا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے اس نے اپنا لمس چھوڑ ا تھا اور آخر میں اپنا گال چھوا تھا جہاں آخر میں وہ اسے چھو کر گیا تھا، وہ اس کیفت کو جب کوئی نام نا دی سکی تو ڈریسنگ کی جانب تیار ہونے کے لیے بڑھی تھی۔ وہ ابھی یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ حلال لمس رب کی ایسی عطا ہے جو آپ کی روح تک کو نکھار دیتا ہے۔
جاری ہے !!