Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
حرا اور الہام یونیورسٹی کے گراونڈ میں بیٹھی اسائنمنٹ بنا رہی تھیں۔جب ایک لڑکی نے پاس آکر سلام کیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔حرا اور الہام نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک ساتھ سلام کا جواب دیا۔وہ لڑکی بنا دوپٹے جینز پہ شارٹ فراک پہنے ہوئے تھی۔
“میرا نام سدرہ ہے ۔آپ لوگ شاید مجھے نہیں جانتے،میں آپ لوگوں سے ایک سال جونئیر ہوں۔میں آپ لوگوں کو دیکھتی تھی تو مجھے بہت بار دل کرتا تھا کہ آپ سے بات کروں لیکن کبھی موقع نہیں ملا۔آج آپ لوگوں کو دیکھا تو سوچا آپ لوگوں سے بات کروں۔” لڑکی نے ان کی حیرانگی دیکھتے ہوئے ان کو بتا تھا۔
“آہاں ایسا کیوں”؟ حرا نے سوال کیا تھا۔
“آپ دونوں جو یہ پردہ کرتی ھیں۔ یہ مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا تھا۔لیکن میرے ذہین میں بہت سے سوال تھے جن کے جواب میرے پاس نہیں تھے۔شاید آپ لوگ ان سوالوں کے جواب مجھے دے سکیں۔”اس نے حسرت سے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
“میں تو نہیں لیکن الہام تمہارے سارے سوالوں کے جواب دے سکتی ہے، اس سے سوال پوچھو”۔حرا نے الہام کی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا۔ اور الہام نے لڑکی کی طرف دیکھ مسکراتے ہوئے سر ہلا یا تھا. ۔مطلب یہ تھا کہ وہ سوال پوچھ سکتی ہے۔
“آپ پردہ کیوں کرتی ہیں”؟لڑکی نے الہام کی طرف دیکھ کر جھٹ سےسوال کیا تھا جیسے وہ بہت دن سے یہ سوال سوچ کے بیٹھی ہوئی تھی۔
“کیونکہ میرے اللہ کا حکم ہے۔” مختصر سا جواب دیا گیا تھا۔
” وہ تو میں جانتی ہوں لیکن اللہ نے تو یہ حکم چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔اب تو دنیا نے ترقی کر لی ہے۔اب پتھروں والا زمانہ نہیں رہا۔” لڑکی نے الہام کی طرف دیکھتے ہوئے ٹھہر کر ڈرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی جیسے اسے الہام کی طرف سے سخت ردعمل کی توقع ہو۔ الہام اس کی بات سن کر مسکرائی تھی۔ جبکہ حرا اس کی توقع پہ پورا اترتے ہوئے کچھ بولنے والی ہی تھی جب الہام اس سے پہلے بول پڑی تھی۔
“پیاری لڑکی! اگر اللہ نے اپنے حکم میں زمانے کو دیکھتے ہوئےکوئی تبدیلی کرنی ہوتی تو وہ محمد مصطفی ﷺ پہ نبوت کا سلسلہ ختم نا کرتے۔اللہ سورہ احزاب میں فرماتا ہے!
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)
“محمّد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ “
الہام نے قرآن کی آیت کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی پڑھا تھا جبکہ وہ لڑکی الہام کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔ یہ قرآن کی آیت ہے جس میں پہلے کہا گیا کہ محمد مصطفیﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں، ایسا کیوں کہا گیا کیونکہ محمد مصطفی ﷺ کے جتنے بھی بیٹے ہوئے ان کا بچپن میں ہی وصال ہوگیا تھا ہاں اگر اللہ کو نبوت کا سلسلہ ختم نا کرنا ہوتا، تو وہ نبیؐ کے کسی ایک بیٹے کو حیات رکھتا جو محمد مصطفی ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری رکھ سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔اس کے بعد اللہ نے آیت میں خاتم النبین کا لفظ استعمال کیا یعنی آخری نبی کیونکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ،تواس لئے ہمارے لئے قرآن مجید ہی اللہ کی آخری راہ نمائی والی کتاب ہے یعنی سب وہی حکم ہیں۔ تو آج بھی پردہ ہمارے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا چودہ سو سال پہلے ضروری تھا۔ “
الہام اب خاموش ہوگئی تھی اور وہ لڑکی کسی ٹرانس کی کیفیت میں بیٹھی الہام کو دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو پتا ہے”؟ لڑکی نے اپنی کیفیت پہ قابو پا کر الہام سے سوال کیا تھا۔”
“نہیں مجھے نہیں پتا، آپ بتا دیں “الہام نے سر نا میں ہلا کر مسکرا کر نرمی سے جواب دیا تھا۔الہام کے اس عمل پر وہ مسکرائی تھی۔
“میں اکثر دیکھتی تھی آپ سے کوئی لڑکا بھی پڑھائی کے متعلق بات کرتا تو اس کی نظریں جھکی ہوتی تھیں ۔ میں نے ایسے بھی لڑکے دیکھے جو دوسری لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔لیکن آپ سے بات کرتے ہوئے ان کی نظریں جھکی ہوتی ہیں۔آپ جس راستے سے گزرتی ہیں وہاں موجودلڑکے نظریں گھوما لیتے ہیں وہ آپ کو نہیں دیکھتے۔ وہ آپ کا احترام کرتے ہیں۔میں کنفیوز ہوں” لڑکی نے اپنی الجھن الہام کو بتائی تھی۔
الہام نےلڑکی کاہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
“ہم جب اللہ کی مانتے ہیں نا تو اللہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔ جن لڑکوں کی آپ بات کر رہی ہو یہ سب پڑھے لکھے با شعور لوگ ہیں، سو میں سےصرف بیس پڑھے لکھے جاہل ہوں گئے۔تو وہ جو اسی فیصد لوگ ہیں وہ عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں، بس عورت کو بھی اپنی عزت کروانی آنی چاہیے۔” الہام نے لڑکی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔جیسےوہ اسے کچھ باور کروا رہی ہو۔
“مجھے پردہ کرنے کی عادت نہیں ہے۔لیکن میں آہستہ آہستہ عادت ڈالوں گئی۔ تو کیا میں پہلے صرف دوپٹے سے اسٹارٹ لے سکتی ہوں۔” لڑکی نے شرمندگی سے سوال کیاتھا۔
“بلکل لے سکتی ہو، لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پورےپردے پہ آنے تک آپ زندہ رہو گی۔ کیا آپ اپنی اگلی سانس آنے کی گارنٹی دے سکتی ہو” الہام لڑکی کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہو گئی تھی اور حرا بھی اس کے پیچھے اٹھ گئی تھی اور الہام نے اپنے بیگ میں پڑا اسکارف نکل کر دوبارہ سے بیٹھ کر لڑکی کی گود میں رکھ دیاتھا۔ وہ لڑکی اس اسکارف کو دیکھ رہی تھی۔ اس لڑکی کو سوچوں میں ڈوبا چھوڑ کر دونوں چلی گئیں تھیں۔ کیونکہ الہام نے اپنا کام کر دیا تھا آگے کا فیصلہ اس کو خود کرنا تھا۔الہام نے تھوڑا آگے جا کر پیچھے موڑ کر اس لڑکی کو دیکھا تھا ،جو الہام کا دیا اسکارف اب سر پر رکھ رہی تھی۔الہام نےمسکرا کر قدم پھر سے آگے کو بڑھا دیےتھے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
۔عالم شبیر اور عائشہ ولیداپنے تین بچوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک درمیانے طبقے کے علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ ساری زندگی انھیں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے واقف کر دی تھی۔ بینک میں منیجر کی نوکری کر کے انھیں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائی ۔اور آج ان کے بچے اس قابل تھے کہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہ سکتے تھےاور اب وہ اپنی نوکری سے ریٹائر ہوچکے تھے۔سب سے بڑی بیٹی خدیجہ کی تعلیم مکمل ہونے پر ماموں زاد کے ساتھ شادی کر دی گئی تھی اور اب اس کے دو بچے تھے 4 سالہ علی اور ایک سالہ زینب۔خدیجہ سے چھوٹا بیٹا ابوبکر ایم بی بی ایس کرنے کے بعد اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ہاوس جاب مکمل کرنے کے بعد وہیں نوکری لگ گیا تھا۔ابوبکر بلاشہ ایک خوبصورت نوجوان تھا، چھ فٹ ایک انچ کاقد ،ہلکی شیو سادہ سا ہیئر کٹ، بڑی آنکھوں کے ساتھ دراز پلکیں جو الہام اور اس نے عائشہ بیگم سے ترکے میں پائی تھیں اور پرکشش گندمی رنگت جس کو باہر والے ممالک مشرقی حسن کی وجہ قرار دیتے ہیں۔اور عالم شبیر کی سب سے چھوٹی بیٹی الہام ایم اے انگلش کے فائنل سیمسٹر میں تھی۔ انہوں نےبچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم پر بھی خاص توجہ دی تھی۔ یہی وجہ تھی ان کے بچے دین کی طرف کافی رغبت رکھتے تھے۔ خاص طور پر الہام جو شرعی پردہ بھی کرتی تھی۔الہام کے نقوش میں اس کی بڑی بڑی آنکھیں نمایاں تھیں۔ابوبکر کی طرح گندمی رنگت جو اس کو پرکشش بناتی تھی۔اور اس کے لمبے کمر تک آتے بال جن سے اس کو عشق تھا۔ الہام بہت ہی خاموش طعبیت کی مالک تھی۔ اس کو صرف وہی لوگ جانتے تھے جو اس کے قریب تھے، اور ان میں گھر والوں کے علاوہ اس کی سب سے پیاری بچپن کی سہیلی حرا بھی شامل تھی ،جو اپنے گھر میں کم اور الہام کے گھر میں زیادہ پائی جاتی تھی ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سہیلیاں ہونے کے ساتھ ساتھ ہمسایاں بھی تھیں ۔حرا کے گھر والوں کے الہام کے گھر والوں سے اچھے روابط تھے اور حرا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی، بہن کی کمی پوری کرنے کے لئے وہ اکثر الہام کے ساتھ ہی پائی جاتی تھی۔الہام اور اس کی بڑی بہن میں کیونکہ آٹھ سال کا عمر کا فرق تھا اور حرا اس کی ہم عمر تھی لہذا الہام کا ذیادہ وقت حرا کے ساتھ ہی گزرتا تھا اور خدیجہ کی شادی کے بعد تو الہام اور حرا تو اور بھی قریب ہوگئیں تھیں۔ حرا بھی الہام کی طرح عبایہ کرتی تھی اور اس کے اوپر نقاب لیتی تھی وہ الہام کی طرح شرعی پردہ نہیں کرتی تھی۔ یہ دونوں پطرس بخاری کی دوست کی ڈیفینیشن پر پورا اترتی تھیں۔ جبکہ ابوبکر کے معاملے میں حرا کا کہنا تھا کی وہ اس کا دنیا میں پہلا اورآخری دشمن ہے اور ابوبکر وہ ڈاکٹر تھالیکن اس کا پسندیدہ مشغلہ حرا کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کرنا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام تم کیوں پاکستان آرمی کی دیوانی ہو ، تمہاری واٹس ایپ پہ آرمی ، تہماری فیس بک پہ آرمی میں تو تنگ آگئی ہوں ، اوپر سے کئی دعاوں میں بھی تو آرمی آفیسر نہیں مانگتی ہو؟ حرا نے الہام کا واٹس ایپ سٹیٹس دیکھتے ہوئے منہ بنا کر کہا تھا۔ سٹیٹس پہ ایک فوجی کی تصویر پر لکھا تھا !
“If a man says he is not afraid of death, he is either lying or he is a soldier”
الہام بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی تھی۔ اور حرا کی طرف مڑی تھی ۔
حرا ہر لڑکی خواب دیکھتی ہے ، بس ہر لڑکی کے خواب دوسری لڑکی سے الگ ہوتے ہیں کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن کے پیچھے بھاگ کر ان کو ہم نےپورا کرنا ہوتا ہے یعنی محنت درکار ہوتی ہے جیسے کہ پڑھ لکھ کرانڈیپینڈنٹ ہونا. پھر کچھ خواب ہوتے جن کے پیچھے ہم بھاگ نہیں سکتے، کہہ سکتی ہو جو ہمارے نصیب سے جوڑے ہوتے ہیں اور نصیب تو دعاوں سے ہی مانگے جاتے، بے شک ہر خواب کی تکمیل میں دعا کرنی چاہیے۔
ہم دوسرے والے خوابوں کے پیچھے کیوں نہیں بھاگ سکتے ،دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی ہوتی نا، حرا نے الہام کے پاس آکر سوال کیا تھا
الہام کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اور ساتھ ہی اس نے بولنا شروع کیا تھا۔
“یہ جو دوسرے خواب ہوتے نا جیسے کہ میں تمہیں اپنی مثال دیتی کہ مجھے آرمی آفیسر پسند تو میں خود اپنے لئے آرمی آفیسر ڈھونڈنے لگ جاوں اور پھر میں اس سے دوستی کروں ، پھر اس کو محبت میں بدلوں، تو تم بتاو کیا میرا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس بات کو چھوڑ دو کہ معاشرہ کیا کہے گا اور وہ انسان میری عزت کرے گا بھی یا نہیں ہم صرف اللہ کی بات کرتے کہ وہ کیا کہے گا، اور اب تم مجھے یہ کہو گی کہ اب زمانہ ویسا نہیں رہا تو میں پھر تمہیں یہی کہوں گی کہ ٹھیک ہے پھر مجھے اس زمانے سے معاف ہی رکھو۔”
“الہام اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے”۔حرا الہام کی طرف دیکھتے کہا تھا۔
الہام نے حرا کی طرف دیکھا تھا ” تو میں نے کب کہا کہ اجازت نہیں دیتا ، بلکل اجازت دیتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کا غلط فائدہ اٹھائیں، اسلام یہ نہیں کہتا کہ خود کو جا کر پیش کر کے پسند کروایا جائے۔ اگر ہم پلینگ کی ساتھ خود کو پسند کروایں گے تو وہ غلط ہوگا۔اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے، اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ایک غیر محرم سےصرف اس لیے ملاقاتیں کریں کہ وہ ہمیں پسند کرے ، اور پھر شادی کا پیغام بھیجے یہ تو بلیک منی کووائٹ کرنے والا حساب ہو گیا، ایک بات یاد رکھنااللہ ہر کام میں نیتیں دیکھتا۔”
“تو جب لڑکا لڑکی کو دیکھنے آتا تو کیا تب غلط نہیں ہوتا۔” ،حرا بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے کہاں تھی۔
“تب دو میملز انولو ہوتی ہیں، لڑکا لڑکی باہر ملاقاتیں نہیں کر رہے ہوتے۔ اور ایسے میں کسی اونچ نیچ کا خطرہ نہیں ہوتا۔” الہام نے مطمئن لہجے میں جواب دیا تھا۔
حرا نے الہام کو دیکھا تھا وہ آج بھی الہام کے سامنے لاجواب ہوگئی تھی، الہام آرمی آفیسر ہی کیوں؟ حرا نے پھر سے سوال کیا تھا۔
الہام مسکرائی تھی اور آنکھوں میں ایک چمک بھر آئی تھی ” کیونکہ مجھے ان کا یونیفارم پسند جو سینے پہ ہوتا ہے تو ہر نگاہ میں ان کے لئے احترام ہوتا ہے ، اس پہ لگا پاکستان کا جھنڈا جو اس یونیفارم کو اور خوبصورت بنا دیتا ہے ، ان کے شوز جو دشمن کو دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں کبھی پیچھے کی طرف قدم نہیں اٹھاتے ،ان کا ہیر کاٹ جو ان کو سب سے منفرد بنا دیتا ہے ،اوران کے رولز جو ان کو جنٹلمین بنا تے ہیں۔”
حرا کو اپنی دوست پہ بہت پیار آیا تھا، اس نے الہام کا ہاتھ پکڑا تھا
“اور اگر میری شہزادی کو آرمی پرسن نہ ملا تو” حرا نے الہام کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا تھا۔
الہام کے چہرے پہ اداسی چھا گئی تھی جیسے کوئی اس سے اس کا خواب اس سے چھین رہا ہو لیکن ساتھ ہی وہ مسکرائی تھی۔
“وہ تو رب ہے ستر ماؤں سے ذیادہ محبت کرنے والا ، جب ماں ہمارے لیے غلط فیصلے نہیں لیتی تو اللہ کیسے لے سکتاجیسے ماں بچے کی خواہش پر بھی اس کو پسٹل والا کھلونا نہیں لے کر دیتی، کیونکہ وہ جانتی ہے وہ اس کے بچےکو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ، تو پھر اللہ کیسے اپنے بندے کو محض اس کی خواہش پر غلط چیزیں اس کے ہاتھ میں سونپ دے۔”
تمہیں پتا ہے حرا ،اللہ کہتا ہے !
“ﺍﮮ ﺍﺑﻦ ﺁﺩﻡ ﺍﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﮔﺮ ﺗﻮ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﻧﮕﺎ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﮔﺮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ تمہیں تھکا دونگا اس میں ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ میری ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ”
اور آخر الفاظ کہتے ہوئے الہام کی آنکھوں میں چمک آئی تھی اور اس نے حرا کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
“کیا تم چاہو گی کے جسے تم چاہو ، جسے تم انتہا کی محبت کرو وہ تمھارے علاوہ بھی کسی سے محبت کرے، نہیں نا ، تم تو عام انسان ہو نا جس کی اوقات ایک مٹی کے ذرے کے برابر بھی نہیں ہے اور پھر وہ تو اللہ ہے تمام جہانوں کا بنانے والا جو کہتا ہے میں اپنے بندے سے ستر ماؤں سے ذیادہ محبت کرنے والا ہوں ، وہ کیسے ایسی محبت پہ یقین کرلے جس میں دنیا کی خواہش ہو ، جس میں ملاوٹ ہو جب کے اس کی محبت اپنے بندے کے لئے ملاوٹ سے پاک ہے ، وہ چاہتا ہے اس کا بندہ خالص اس کا رہے ، تمہیں پتا ہے اللہ کے نیک بندوں پہ سب سے زیادہ مشکلیں آتی ہیں، ہماری تاریخ دیکھ لو شاہ منصور کو سولی پہ لٹکا دیا گیا اور جنگل میں درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
میں نے شاہ منضور کے بارے میں پڑھا تھا ،کہ جب شاہ منصور نے “انا الحق” یعنی “میں نے خدا کو دیکھ لیا” کا نعرہ لگایا، بغیر تحیق کیے لوگوں نے ان کو مجرم قرار دے دیا۔اور ان کو اس جرم میں سولی پہ چڑھا دیا گیا ،کوئی ان کو دفن کرنے نہیں آیا, بے گورکفن ان کا لاشہ پڑا رہا، قصور کیا تھا عشق الہی،اسی طرح پیغمبروں میں حضرت موسی علیه السلام نے در در کی ٹھوکریں کھائیں ، حضرت ابراہیم نے بیٹے کی قربانی تک قبول کر لی،حضرت امام حسین کو شہید کردیا گیا اور سب سے بڑھ کر محمد مصطفی ﷺ کو(نعوذباللہ) پتھر(طائف) مارے گئے، سب پہ آنے والی مشکالات کی وجہ عشق الہی، اللہ سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں تو شاعر لکھتے ہیں کہ جس طرح مسلمان قصائی کے پھٹے پہ کتے اور خنزیر ذبخ نہیں ہوتے اسی طرح اللہ کے تحت عشق پر بھی حلال لیا جاتا ہے ۔ اللہ کے عشق کے پھٹے پہ وہی آتے ہیں جو پاک ہوتے ہیں ، وہ کھوٹے نہیں لیتا، وہ کھرے لیتا ہے ، وہ مشکلات دیتا ہے ، وہ امتحان لیتا ہے تاکہ جو آۓ خالص آۓ جو جھوٹا ہو وہ بھاگ جائے،جو یہاں آئے وہ سچا ہو۔” الہام رکی تھی جب کہ حرا ساکن تھی۔
“ہاں میں ان عظیم ہستوں کے جوتے کہ خاک کے برابر بھی نہیں ہوں لیکن میری محبت سچی ہے ، اللہ کے لئے ایسی ہزار خواہشش قربان ہیں ، میں نے اس کے پاس دنیا کی محبت لے کر نہیں جانی، ایک خالص محبت لے کر جانی ہیں۔ وہ اپنی بات پوری کر چکی تھی لیکن حرا کسی سکتے کے ذیر اثر کھڑی تھی اور پھر وہ الہام کے گلے لگی تھی ، پر خاموش تھی جیسے اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام، حرا اور عائشہ کے ساتھ ٹی وی لانچ میں بیٹھی تھی۔ جب ابو بکر اپنے کمرے سے نکلا تھا۔ اور حرا کو گھورتے ہوئے عائشہ بیگم کے پاس آیا تھا۔
“آپ اپنے گھر میں بھی رہ لیا کریں” عائشہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے وہ حرا سے مخاطب ہوا تھا۔
حرا نےحفگی سے عائشہ بیگم کی طرف دیکھا تھا۔
“بیٹا یہ جتنا تم دونوں کاگھر ہے اتنا اس کا بھی ہے” عائشہ بیگم نے ابوبکر کی طرف گھورتے ہوئے جواب دیا تھا۔”اور حرا نے اس کو دیکھ کر وکٹری کا سائن بنایا تھا۔
” اچھا امی میں آپ کو یہ بتانے آیا تھا۔ ذیشان کااس اتوار ولیمہ ہے اور اس نے پوری فیملی کو انوائٹ کیا ہے۔ اس نے بہت سختی سے مجھے کہا ہے کہ آپ تینوں کو لے کے آؤں اس لیے پلیز آپ اور الہام بھی تیار رہیے گا اور ابو سے میں خود بات کر لوں گا۔” اس نے الہام کی طرف دیکھ کر اپنی بات کمپلیٹ کی تھی۔ کیونکہ وہ اپنی بہن کو جانتا تھا۔ وہ اس طرح کی تقریبات میں جانے سے دور بھاگتی تھی۔ اور وہی ہوا تھا۔
“بھائی امی ابو چلے جائیں گے مجھے رہنے دیں”۔ الہام نے منہ بنا کر ابو بکر کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
“خبردار جو تم نے انکار کیا” ۔ ابوبکر نے ہاتھ کی انگلی دکھا کر الہام کو خبردار کیا تھا۔
” بھائی وہ لوگ بہت اپر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں وہاں بہت ان کمفرٹیبل فیل کروں گی۔” الہام نے اپنا مسئلہ بیان کیا تھا۔
” تو میری الہٰام کب سے لوگوں کی پرواہ کرنے لگی۔ تم تو ہمیشہ کونفیڈینٹ رہی ہو۔ تم نے یہ بات کرکے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔” اس نے الہام کی طرف خفگی سے دیکھا تھا۔وہ الہام کو منانا جانتا تھا تبھی اس نے دوسرا راستہ چوزکیا تھا۔ وہ اس کو ایموشنل کر رہا تھا۔
“اچھا بھائی اتنے سینٹی نہ ہوں۔ میں چلوں گی۔” الہام نے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا۔
” اور ہاں باہر کے لوگ انوائٹ نہیں ہیں پتہ لگے، وہ بھی تیار بیٹھے ہیں۔”ابوبکر نے حرا کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ دبائی تھی۔ اور وہ جوکب سے بہن بھائی کی باتیں سن رہی تھی۔ اپنے اوپر اچانک ہوے حملے پہ ہوش میں آئی۔
” ہم دشمن کے دوست کو بھی دشمن رکھتے ہیں”حرا نے گھورتے ہوئےفوراً جواب دیا تھا۔اور الہام ہمیشہ کی طرح ان کی نوک چوک انجوائے کر رہی تھی جب کہ عائشہ بیگم ہمیشہ کی طرح ابوبکر کو ایسا کرنے سے منع کر رہی تھی۔
“او یہ تو بہت اچھی بات ہے مجھے لگا تھا جہاں کھانے کی بات ہوتی ہے آپ دشمنی بھول جاتی ہیں۔” ابوبکر نے اگلا تیر پھینکا تھا۔
“رات کو آئس کریم کیا لے آئے تھے اب زندگی بھر گنتے رہیں گے۔” حرا کے جواب میں تینوں کا قہقہ گونجا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
شام کے وقت حراخلاف توقع آج اپنے گھر میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ جب اس کی امی اس کے پاس بیڈکر بیٹھیں۔
“آج گھر میں اس وقت کیسے الہام گھر پر نہیں ہے کیا”۔ حرا کی امی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی آج الہام خدیجہ آپی کی طرف گئی ہے”۔حرا نے کتاب رکھتے ہوئے اپنا سر ماں کی گود میں رکھتے ہوئے اداسی دے جواب دیا۔
“بیٹا تمھارا ہر وقت الہام کے گھر ہونا اچھی بات نہیں ہے، اس کا جوان بھائی بھی ہے، ہاں مجھے پتا ہے وہ سب بہت اچھے خاندانی لوگ ہیں لیکن پھر بھی بیٹا مرد ذات ہے اور محلے والے بھی باتیں کرتےہیں”۔ انھوں نے حرا کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔وہ حرا کو دیکھ رہیں تھیں جو پوری آنکھیں کھولے ماں کو دیکھ رہی تھی جیسے اس کو یہ بات بہت ناگوار گزری ہو۔
” کیا آج پھر آنٹی نیلم آئی تھیں۔ جو آپ کے کان میں پھر سے یہ باتیں بھر کر گئیں ہیں۔ امی آپ کو کتنی بار کہا ہے آپ اپنے دماغ سے سوچ کر فیصلے کیا کریں”۔اس نے دکھ سے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔”لوگ کیا کہتے ہیں اس کی مجھے پرواہ نہیں ہے امی ، کیونکہ وہ منافق ہیں آپ کے سامنے آپ کے ،اور ان کے سامنے ان کے ہیں، اور جہاں تک بات ابوبکر عالم کی تو دنیا کے سارے مرد ایک طرف اور ابوبکر عالم ایک طرف، پتا ہے امی میں ایسا کیوں کہہ رہی ہوں ، اس نے ماں کی طرف دیکھا تھا۔ماں کے جواب کا انتظار کئے بنا بول رہی تھی۔
“کیونکہ ابوبکر عالم ،الہام عالم کا بھائی ہے وہ الہام عالم جو خود کو ایسے ڈھانپ کر رکھتی کہ غیر مرد کی نظر بھی اس پر اٹھے تو وہ خود با خود احترام میں جھک جائے۔ تو الہام عالم کےبھائی کی نظر ایسی ہے کہ وہ نظر بھر کر دیکھتا ہی نہیں کہ اگلی کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کی فکر پڑ جائے ۔اس کی نظر سراسری سی ہوتی ہے۔ کتنی بار میں نے دیکھا وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے مجھ پر سرسری سی نظر ڈالتے ہیں اور جب کبھی میں ان کی طرف اسی وقت دیکھوں، تو وہ سرسری نظربھی دوسری طرف کر لیتے ہیں۔ہم بچپن سے ایک دوسرےکو جانتے ہیں، ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے۔ کہا جاتا ہے عورت ہمیشہ اپنے اوپر پڑنے والی نظر کو پہچان لیتی ہے، ان کی نظر میں اپنے لئے مجھے احترام، محبت، فکر،شرارت ، ہنسی ،مذاق سب نظر آیا لیکن حواس دور دور تک نظر نہیں آئی۔مجھے نہیں لگتا حواس والی آنکھوں میں یہ چیزیں پائی جاتی ہیں۔
وہ بات کرتے ہوئے رکی تھی اور مسکرا کر ماں کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہیں تھیں۔حرا کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
“پتا ہے امی اس میں ابوبکر عالم کا کوئی کمال نہیں، بس وہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ الہام عالم کے بھائی ہیں، جس نے اللہ کے لئے دنیا کی خواہشات چھوڑ دی ۔ تو وہ اللہ اس سے ابوبکر عالم کو ہمیشہ کے لئے اس سے لے کر آزمائش میں تو ڈال سکتا ہے، مگر اس کے بھائی کو حواس پرست بنا کر دنیا کی نظر میں رسوا نہیں کرسکتا۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں گی نا کہ ” مرد کو کیسا ہونا چاہیے ” تو میرا جواب جھٹ سے ہوگا ” کہ مرد کو ابوبکر عالم جیسا ہونا چاہئے”۔
حرا کی آواز میں نمی تھی اور اب وہ خاموش ہو گئی تھی جبکہ اس کی امی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہیں تھیں۔
“اور ایسی باتیں بھی تمہیں الہام نے ہی سکھائی ہوں گی کیونکہ تم میں تو اتنی عقل نہیں ہے۔حرا کی امی نے اسے پیار کرتے ہوئےکہا تھا اور اس نے ہنستے ہوئے سر ہاں ہلایا تھا۔
جاری ہے !!
