Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ابوبکر کے لیے حرا کا ہاتھ مانگنے کے لیے سب گئے تھے ، اور حرا کے گھر والوں نے خوشی خوشی ہاں کر دی تھی اور الہام کی شادی کے ساتھ ہی ان دونوں کی شادی طے پائی تھی۔اب سب لوگ شاپنگ میں مصروف ہوچکے تھے۔ خدیجہ ویک اینڈ پہ آتی اور سب بازار نکل جاتے تھے، گھر میں شادی کا سا ماحول بن گیا ہوا تھا۔شادی میں صرف ایک ماہ رہ گیا تھا۔ الہام عائشہ بیگم اور ابوبکر شام میں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔
“حرا نے تو اب آنا ہی چھوڑ دیا ہے” الہام نے اداسی سے کہا تھا۔
“پورا دن تو شاپنگ کرتے ہوۓ ساتھ ہوتی ہیں آپ دونوں ، پھر بھی یاد ستا رہی ہے” ابوبکر نے جواب دیا تھا۔
“کوئی بات نہیں بیٹا، اب تو وہ ہمیشہ کے لئے آ جاۓ گی” عائشہ بیگم نے اس کو تسلی دی تھی۔
“تب میں چلی جاؤں گی ” الہام ایک دم سے اداس ہوگئی تھی۔ابوبکر اور عائشہ بیگم کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے، اداسی چھائی تھی۔ تبھی ابوبکر کا فون بجا تھا۔ جو اس نے اٹھایا تھا جبکہ الہام اٹھ کر کیچن میں گئی تھی۔ مخالف کی بات سننے کے بعد اس کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔ عائشہ بیگم نے یہ تبدیلی محسوس کی تھیں اور وہ بے چین ہوئیں تھیں۔ ابو بکر نے جلدی سے فون رکھ کر ریموٹ اٹھا کر ٹی آن کیا تھا۔
“کار حادثے میں مشہور مذہبی اسکالر عمر فاروق شہید” نیوز اینکر اونچا اونچا بول رہی تھی ساتھ ایکسیڈنٹ والی جگہ پہ موجود عمر کی گاڑی دیکھائی جا رہی تھی۔ عائشہ بیگم جو ابوبکر سے پوچھنا چاہ رہیں تھی کہ کیا ہوا ہے ، آواز پہ ساکن ہوئیں تھی۔ الہام جو کیچن سے چاۓ لے کر آرہی تھی، خبر اس کے کان میں پڑی تھی ، ٹرے ہاتھ سے چھوٹی تھی ، جیسے کسی نے آسمان سر پر دے مارا تھا ، دنیا سے رابطہ منقطع ہوا تھا، اور وہ دھڑم سے نیچے بیٹھی تھی ، خبریں چل رہیں تھیں لیکن اب تو جیسے سماعت ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ ابوبکر جو خود صدمے کی سی کیفیت میں تھا، پیچھے آواز آنے پہ جیسے ہوش میں آیا تھا۔
“ابوبکر یہ غلط خبر ہے بیٹا ، ہمارا ابوبکر ایسے نہیں جا سکتا، وہ ایسے نہیں جا سکتا۔” وہ رو رہیں تھیں, وہ بے یقینی کی کیفیت میں رو رہی تھیں۔ جب ابوبکر نے ان کی توجہ الہام کی طرف کروائی تھی ، جو زمین پہ بیٹھی تھی، وہ رو نہیں رہی تھی, بس چپ چاپ بیٹھی تھی، ابوبکر اور عائشہ بیگم اس کی طرف بڑھے تھے ، اس نے ان دونوں کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا تھا ، جیسے وہ ان کو جانتی ہی نا ہو ، اور عائشہ بیگم نے روتے ہوۓ اس کو گلے لگایا تھا، لیکن وہ خاموش تھی، بلکل ایسی جیسی کسی جنگل کے گھپ اندھیرے میں ڈوبی اس کی وحشت بھری رات کی خاموشی ۔۔۔۔
عمر بیرون شہر ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گیا تھا ، واپسی پہ آتے ہوۓ ایک تیز رفتار گاڑی اس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی،ایکسیڈنٹ اتنا شدید تھا کہ عمر موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ اور اس کی زندگی اس سے روٹھ گئی تھی ، وہ جو دوسروں کو جینا سکھاتا تھا،آج وہ خود جینا بھول گیا تھا۔ وہ جو راستہ دکھاتا تھا آج راستے میں ہی منہ موڑ گیا تھا، وہ گھنا درخت جس کے ساۓ تلے کوئی بھی آرام کر سکتا تھا وہ آج کاٹ گیا تھا ، صحرا میں موجود وہ ندی جو سب کو سیراب کرتی تھی وہ آج سوکھ گئی تھی۔ عمر فاروق کی زندگی کا باب آج ہمیشہ کے لیے تمام ہوا تھا ، وہ کسی اور دنیا کے سفر پہ نکل پڑا تھا ، اس دنیا والوں کو تنہا چھوڑ کر وہ جا چکا تھا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گی اک شخص سارے جہاں کو ویران کر گیا!
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عائشہ بیگم اور حرا ، الہام کو لے کر عمر کے گھر کے وسیع و عریض لاونج میں داخل ہوئیں تھیں ، جس کے درمیان میں عمر کی میت رکھی گئی تھی، رونے کی آوازیں دور تک سنائی دے رہیں تھیں، الہام نے بس ایک چپ دھار لی تھی ، اس کو لے کر جیسے ہی آگے لے کر گئے تھے ، عمر کی والدہ جو بیٹے کی میت سے لپٹی آہ و بقا کر رہیں تھیں، انھوں نے الہام کو دیکھا تھا۔
“الہام ، میرا عمر ادھورے کام تو کبھی نہیں کرتا تھا، پتا نہیں اس بار کیسے وہ سب آدھے میں چھوڑ کر چلا گیا ہے ، میرے بیٹے کو معاف کر دینا، وہ تمہیں بیج راستے میں چھوڑ گیا۔” وہ رو رو کے الہام کو کہہ رہیں تھیں۔ اور الہام بھا گ کر جا کے ان سے لپٹی تھی۔ چپی ٹوٹی تھی، حواس بحال ہوۓ تھے ، اور پھر وہ عمر کی ماں کے گلے لگ کر دھڑیں مار مار کر روئی تھی۔ اور ان دونوں کی سسکیوں میں کتنی ہی لوگوں کی سسکیاں شامل ہوئیں تھیں۔ وہ تھا ہی ایسا جس کے لئے رویا جاۓ۔
“الہام تم میرے عمر کو نہیں دیکھو گی، دیکھواس کو بولو تم آئی ہو ، شاید اٹھ جاۓ، ماں کو ستا رہا ہے ، شاید تمہاری سن لے، اس کو بولو وہ آنکھیں کھول کر تمہیں دیکھے، تمہیں دیکھنے کا حق تو صرف اس کے پاس ہے نا۔” عمر کی والدہ الہام کو ساتھ لگاۓ بین کر رہیں تھیں۔ اور الہام ان کی باتوں پہ مزید ضبط کھو کر زور زور سے رو رہی تھی۔ وہ ان سے الگ ہوئی تھی، اس نے عمر کی طرف دیکھا تھا ، جو سامنے آنکھیں بند کیے پرسکون سو رہا تھا۔ اور پھر اس کے بعد الہام نے اس کے چہرے پر سے نظریں نہیں ہٹائی تھی، جیسے وہ اسے اپنی آنکھوں میں قید کر رہی ہو کہ پھر کبھی وہ یہ چہرہ نہیں دیکھ پاۓ گی، وہ چہرہ جو زندگی بھر دیکھنا چاہتی تھی،وہ اسے بس کچھ گھنٹوں کے لیے میسر تھا۔ عمر کی بہن جس نے دبئی سے پندرہ دن بعد بھائی کی شادی کے لیے خوشی خوشی آنا تھا ، آج وہ بھائی کے جنازے کے لیے روتی روتی آرہی تھی۔ الہام سب کو فراموش کیے بس عمر کو دیکھ رہی تھی،آنسو آنکھوں سے مسلسل رواں تھے ، اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ کون آ کر اس کو گلے لگا رہا ہے ، کون اسے صبر کی تلقین کر رہا ہے ، اسے بس اتنا پتا تھا کہ آج کے بعد وہ عمر کو نہیں دیکھ پائی گی۔ عائشہ بیگم اور حرا بھی پاس ہی بیٹھی آنسو بہا رہیں تھیں۔ اور وہ ماں جس کی برسوں کی کمائی لوٹ گئی تھی، کبھی عمر کو چومنے لگتی ، کبھی زور سے رونے لگتی اور کبھی بلکل خاموش ہوجاتی ، جوان بیٹا مر جاۓ اور اس کی قبر پہ مٹی ڈالنی پڑ جاۓ تو دیکھنے میں تو وہ مٹی قبر پہ ڈالتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ، وہ مٹی خود پہ ڈال رہے ہوتے۔ پھر عمر کی بہن نے جیسے ہی اندر قدم رکھا تھا۔ ایک کہرام مچ گیا تھا۔ وہ آکر ماں سے لپٹی تھی۔ بھائی تو بہنوں کے مخافظ ہوتے ہیں اور وہ بہن آج اپنے اکلوتے بھائی سے جدا ہوگئی تھی۔ وہ جو آج سال بعد بھائی کو دیکھ رہی تھی ، لیکن وہ آج جیسے ناراض ہوا بیٹھا تھا۔ صبح صادق کے وقت میت کو اٹھا لیا گیا تھا۔ لاکھ رکنے پہ بھی وہ لے گئے تھے ، وہ عمر جو دوسروں کو اپنا کندھا دیتا تھا۔آج وہ دوسروں کے کندھوں پہ دنیا میں اپنے آخری سفر کر رہا تھا۔
سنے کون قصہ دردِ دل میرا غمگسار چلا گیا
جسے آشناؤں کا پاس تھا ،وہ وفا شعار چلا گیا۔۔۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عائشہ بیگم الہام اور حرا کو لے کر گھر آگئیں تھیں۔ گھر میں تمام رشتہ دار جو عمر کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے آۓ تھے، موجود تھے۔ سب کو الہام سے ہمدردی تھی، اور وہ سب کے بیج ٹوٹی پھوٹی بیٹھی تھی۔آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں۔ پھر اچانک اٹھ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ اور کمرے میں آکر اس نے وضو کیا تھا اور جاۓ نماز بچھائی تھی۔ وہ لڑکی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جاۓ نماز بچھا لیتی تھی ،وہ آج اتنی بڑی بات پہ سب لوگوں کی ترس بھری نگاہوں میں آرام سے کیسے بیٹھ سکتی تھی۔ عائشہ بیگم کمرے میں اسے جاۓ نماز بچھاۓ دیکھ واپس چلی گئیں تھیں۔اس نے نفل کی نیت بندھی تھی اور سجدے میں جا کر ایک بار پھر سے ضبط ٹوٹا تھا۔ اور سجدہ طویل ہوا تھا۔ پھر اٹھ کر دوسرا سجدہ کیا تھا، پھر سے ضبط ٹوٹا تھا، ہر سجدے میں ضبط ٹوٹا تھا۔ سلام پھیر کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تھے، کیا دعا کروں سوچا تھا ، آنکھ سے آنسو گرے تھے، پھر لب کھلے تھے۔
“یا رب عمر تیری امانت تھے ، تو نے لے لیے ، میں تیری رضا میں راضی ہوں، مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں ،میں تجھ سے صبر مانگتی ہوں ، ہم سب کے لئے ، تو مالک ہے ، ہمیں اس آزمائش میں کامیابی عطا فرما، یہ آنسو تیری عطا ہیں یہ بہہ رہے ہیں تو دل چل رہا ہے ، یہ نا ہوتے تو شاید آج دل پھٹ جاتا، وہ گئے ہیں تو لگتا ہے جیسے دنیا تو تھی ہی انہی کے دم سے ، رات کو میرے سے بات کی اور آج وہ اس جہاں چلے گئے، جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا، یا اللہ میں ان کے لئے کیا دعا کروں،وہ تو تیرے بہترین بشر تھے، پھر میں تجھ سے دعا کرتی ہوں ، ان کو وہاں بہاریں عطا کرنا ، ان کے پاس خزاں کا گزر نہ کرنا ، ان کو اس جہاں کی راحتیں عطا کرنا، یا اللہ وہ تو تیرے پاس ہیں نا ان کو کہنا، روتے ہوۓ سسکی بندھی تھی، ان کو کہنا الہام کے ہاتھوں پہ اب بھی مہندی لگی ہوئی ہے ، ان کو کہنا الہام ان سے بہت محبت کرتی ہیں،۔” بولتے ہوۓ سسکیاں بندھ گئیں تھیں کہ ابوبکر دروازہ ناک کر کے اندر آیا تھا۔ اور الہام کے پاس نیچے آ کر بیٹھ گیا تھا۔
“چھوڑ آۓ ان کو تہہ زمین ، بھائی ان کو بتانا تھا نا کہ ابھی زمین والوں کو ان کی ضرورت تھی ۔” اور پھر وہ ابوبکر کے گلے لگ کر رو پڑی تھی۔اور وہ ابوبکر جس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہوتا تھا ، آج خاموش تھا۔
جاری ہے !!
