Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Last updated: 12 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Kun Faya Kun
By Amna Gull
وہ دونوں شام میں واپس پہنچے تھے۔ جب دونوں حویلی کے داخلی دروازے سے اندر گئے تو وریشہ بھاگتی ہوئی ان کے سامنے آئی تھی۔ " جہانداد آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے کر گئے۔" اس نے جہانداد کا ہاتھ پکڑے ناراضگی سے کہا تھا۔ الہام نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا تھا جس سے اس نے جہانداد کا ہاتھ تھما تھا۔ آج اس کو وریشہ کی یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگی تھی۔ " آپ سو رہیں تھیں۔" جہانداد نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا۔ " تو آپ جگا دیتے ،" وہ جہانداد سے ایسے بات کر رہی تھی ، جیسے الہام تو موجود ہی نا ہو۔ " سوری معاف کر دیں۔" جہانداد نے منہ بناتے اس سے معافی مانگی تھی۔ " ایک شرط پہ ، مجھے ابھی آئسکرئم کھلانے لے جائیں۔" اس نے اس کی طرف دیکھتے محبت سے کہا تھا۔ " چلو چلتے ہیں ۔" جہانداد نے مسکرا کر کہا۔جب کہ الہام سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تو اس نے دونوں کو اگنور کرکے اندر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔ " الہام آپ کدھر جارہی ہیں ، آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔" جہانداد نے الہام کو جاتا دیکھ پیچھے سے کہا تھا۔ وہ اس سے غافل نہیں تھا۔ الہام کے دل کو سکون ملا۔ " الہام تھک گئی ہوگی اسے آرام کرنے دیں۔" الہام سے پہلے وریشہ کا جواب آیا تھا۔ جہانداد آگے بڑھ کر الہام تک آیا تھا۔ " تھک گئیں ہیں کیا۔" الہام کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے پوچھا تھا، الہام کا دل کیا وہ رو پڑے، اس کی ذرا سی خود پر سے لاپروائی وہ برداشت نہیں کر پائی، لیکن وہ اپنی کیفت اس کے سامنے آفشاں نہیں کرنے دینا چاہتی تھی، اس نے سر محض اثبات میں ہلایا تھا ، کیونکہ وہ بولتی تو جہانداد کو اس کو پڑھ لیتا ، پڑھ تو اس نے اب بھی لیا تھا مگر اس نے چہرے پہ موجود ادادسی کو تھکاوٹ وجہ قرار دیا تھا۔ " ٹھیک ہے ، آپ جاکر آرام کریں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔" اس کا گال چھوتے کہا تھا، اور پھر الہام کے اوپر جانے تک وہ وہیں کھڑا رہا تھا اور الہام یہ بات باخوبی معلوم تھی۔ وہ آئی تو ماما ، بابا اور شاہ میر کو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا پایا۔ اس کو سلام کرتی وہ ماما کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی ، جہنوں نے بہت محبت سے اسے ساتھ لگایا تھا ، اور بابا بہت محبت سے اسے آج کے دن کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، جبکہ جہانداد کے وریشہ کے ساتھ جانے پہ شاہ میر اور ماما کر فیس ایکسپریشنز بدلے تھے جو اس نے واضح محسوس کیے تھے۔ " شام میر جاؤ بھابھی کے لیے اچھی سی چاۓ بنا کر لاؤں ۔" ماما نے شاہ میر سے کہا تھا۔ " نہیں ماما ، میں خود بنا لیتی۔" الہام نے اٹھنے لگی تھی مگر انھوں نے اس واپس بیٹھا دیا تھا۔ " ارے بھابھی آپ میرے ہاتھ کی چاۓ ایک بار پی کر دیکھیں ، ویسے بھی آج صبح آپ میرے لیے کمال کا ناشتہ بنا کر گئیں ، اس کے بدلے چاۓ تو بنتی ہی۔" اس نے اٹھتے ہوۓ الہام سے کہا تھا کیونکہ صبح وہ سویا ہوا تھا مگر الہام اس کا ناشتہ بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ کر ماما کو بتا کر گئی تھی۔ اس کے نزدیک ناشتہ بننا کوئی بڑا کام نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے گھر میں بھی اکثر سب کے لیے خود ناشتہ بناتی تھی ، مگر یہاں اس کے اس عمل نے ان سب کے دل میں مزید اس کے لیے جگہ بنا دی تھی۔ شاہ میر جاچکا تھا جبکہ وہ بیٹھ کر ماما بابا سے باتیں کرتی رہی تھی ، ان کی محبت میں وہ بھول چکی تھی کہ وہ کچھ دیر پہلے اداس تھی۔ تھوڑی دیر میں شاہ میر اس کے لیے چاۓ کا مگ لایا تھا۔ " بھابھی آپ روم میں جاکر آرام سے پی کر فریش ہوکر آرام کریں۔" شاہ میر نے اس سے کہا تھا ، جس پہ ماما نے بھی اسے یہی کہا تھا وہ مگ اٹھاۓ روم میں آگئی تھی۔ چاۓ پی کر فریش ہوکر اس نے مغرب کی نماز ادا کی تھی۔ اور عصر کی قضا ادا کی تھی ، جبکہ ظہر اس نے جہانداد کے دوست کے گھر ادا کردی تھی۔ تھوڑی دیر وہ ٹیرس پہ کھڑی ہوئی توتازہ ہوا نے جیسے سکون بخشا تھا۔
