Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

آج سنڈے تھا۔ اور کیوں کہ الہام نے رضامندی دے دی تو آج ابوبکر عائشہ بیگم اور شبیر عالم کو لے کر عمر فاروق کے گھر جا رہا تھا۔ جبکہ خدیجہ اپنی ساس کے ساتھ جو کے ان کی پھوپھو بھی تھیں سیدھا عمر کے گھر ہی جا رہے تھے ، عائشہ بیگم اور شبیر عالم تیار بیٹھے ابوبکر کا انتظار کر رہے تھے۔ جب کہ حرا اور الہام شام کی چائے پی رہیں تھیں۔ تھوڑی دیر میں وہ تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلا تھا۔ ہلکے سبز رنگ کے کرتے کے نیچے وائٹ ٹراوزر پہنے اس نے سب سے پہلے حرا کی طرف دیکھا تھا۔
“سنڈے والے دن تو ہمارے گھر سے چھٹی کر لیا کریں، میری خواہش ہی رہے گی کہ کسی دن آپ ہمارے گھر نہ آئیں اور میں الہام سے پوچھ سکوں کہ آج حرا ہمارے گھر کیوں نہیں آئیں۔” ابوبکر نے صوفے پہ عالم شبیر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے حرا پہ حملہ کیا تھا۔
“آپ نا ایک بات یاد رکھنا کچھ خواہششیں کبھی پوری نہیں ہوتیں وہ حسرتیں بن جاتیں ہیں۔” اس سے پہلے کہ عالم شبیر ابوبکر کو ڈانٹتے حرا نے پہلے ہی بھڑک کر جوابی حملہ کیا تھا۔ حرا تو عالم شبیر اور عائشہ بیگم کے لیے بیٹی کی حیثیت رکھتی تھی،ان کے ساتھ گپ شپ کرنا، الہام کے ساتھ مل کر ان کے سارے کام کرنا۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی ابوبکر اسے چھیڑتا اسے اپنے ماں باپ سے ڈانٹ پڑجاتی تھی۔ حرا کے جواب پہ سب کا قہقہ ابھرا تھا کہ ابوبکر کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی جبکہ ابو بکر مسکراتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“چلیں امی ابو اب زرا دلھا بھائی سے بھی مل آئیں،ان بچارے کی ہمت کی داد دینی ہوگی ، بنا دیکھے میری بہن سے شادی کرنے کے لئے تیار ہیں، جس دن دیکھیں گے ان پہ کیا گزرے گی” ابوبکر نے اپنی توپوں کا رخ الہام کی طرف کیا تھا۔
الہام آنکھیں کھو لےخود پر ہوۓ اچانک حملے پہ حیران ابوبکر کو گھور رہی تھی۔ جبکہ ابوبکر اس کو ایسے گھورتے پا کر اس کے پاس آیا تھا۔ اس کو صوفے پر سے اٹھا کر اپنے ساتھ لگایا تھا۔ وہ ایسی ہی تھی حساس ، اسے اپنوں سے اپنے لئے صرف محبت بھرے الفاظ سننے کی عادت تھی ، وہ باہر والوں کی بڑی سے بڑی بات سن کر صبر کرنے والی تھی لیکن گھر والوں کی مذاق میں کی گئی باتیں دل پہ لے لیتی تھی۔ شاید ان سب کی بے پناہ محبت نے اسے ان کے معاملے میں حساس بنا دیا تھا۔
” میری بہن دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے ، عمر تو دنیا کا خوش قسمت مرد ہے کہ میری الہام اس کو مل رہی ہے” ابوبکر نے بہت پیار سے کہتے ہوئے،اسے اپنے ساتھ سے الگ کیا تھا جبکہ وہاں موجود باقی تین نفوس ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
“چلو اب نکلتے ہیں، اور خدیجہ کو میسج کر دو وہ لوگ بھی نکلیں”شبیر عالم یہ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے تھے۔ جبکہ ابوبکر موبائل نکال کر اب میسج ٹائپ کر رہا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عالم شبیر اور باقی سب کو عمر اور اس کی فیملی بہت پسند آئی تھی۔وہ اپنے والدین کا اکیلا بیٹا تھا اور ایک بہن تھی جو چچا زاد سے بیاہ کر بیرون ملک سیٹل تھی۔ دونوں خاندانوں نے مل اگلے مہینے کی دس تاریخ کو نکاح کی ڈیٹ فکس کی تھی۔سب بہت خوش تھے۔ اور نکاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ الہام اپنے کمرے میں بیٹھی ابھی نماز سے فارغ ہوئی تھی کہ حرا تقریبا بھاگتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“الہام حنا نے سوسائیڈ کر لی ہے ، اور ہاسپٹل میں ہے ،ابھی یونیورسٹی کے گروپ میں میسج آیا ہے” حرا نے پریشانی کے عالم میں الہام کو بتایا تھا۔ اور الہام جو جائے نماز اٹھا کر اٹھنے لگی تھی اس کی بات سن کر دوبارہ وہیں بیٹھ گئی تھی۔ اور حرا اس کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی تھی۔
“کیوں” صدمے کی سی کیفیت میں الہام کے منہ سے بس یہی نکلا تھا۔
“سب کہہ رہے ہیں، اس نے یہ اپنے بوائے فرینڈ کی وجہ سے کیا ہے”۔ حرا نے الہام کو جواب دیا تھا۔ حنا الہام اور حرا کی کلاس فیلو تھی۔ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی، اور ان کی کلاس کا ہی ایک لڑکا اس کو پسند کرتا تھا، پہلے پہل تو حنا نے خاص لفٹ نہیں کروائی تھی لیکن پھر جب لڑکے نے ہار نہیں مانی تو پھر وہ آہستہ آہستہ وہ اس کی طرف مائل ہوگئی تھی۔ ہر جگہ دونوں ساتھ نظر آتے تھے، باہر گھومنا پھرنااور پھر کچھ ٹائم کے بعد ہی اس لڑکے نے حنا کو اگنور کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ یونیورسٹی کی آخری دنوں کی بات تھی۔ اور آج حناکی خود کشی کی خبر ملی تھی۔
“اب حنا کی طبیعت کیسی ہے” الہام نے دھیرے سے سوال کیا تھا۔
“پتا نہیں، مجھے زارون پہ غصہ آرہا ہے، پتا نہیں یہ مرد خود کو کیا سمجھتے ہیں اگر ساتھ نہیں چلانا تھا تو اس کو اتنا آگے تک کیوں لے کر گیا” حرا کے الفاظ میں نمی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔
“پتہ ہے اس میں مرد کا کوئی قصور نہیں،آسانی سے مل جانے والی کوئی بھی شے اس کے لیے اہمیت نہیں رکھتی، تمہیں پتا ہے پہاڑوں کو سردی کے موسم سر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں ہر وقت برفانی طوفانوں کا خطرہ ہوتا ہے، ایک کوہ پیما خراب موسم کے باوجود اگر کسی پہاڑ کو آسانی سے سر کر کے اس پہ اپنی فتح کا جھنڈا لہرا دے تو اس کو اس سے دل چسپی ختم ہوجاتی ہے اور وہ دوسرے پہاڑ کی تلاش میں نکل جاتا ہے، کہ اس نے تو خراب موسم کے باوجود اس کو فتح کر لیا باقی موسموں میں تو وہ اس کے لئے معمولی سی بات ہے۔ لیکن جو پہاڑ اسے مشکلوں سے دوچار کرتا ہے وہ اس کے آگے ہار مان جاتا ہے، اور پھر سب سے پہلے اسے آسان موسم میں سر کرتا ہے، یہ اس کی ہار اور پہاڑ کی جیت ہوتی ہے کہ تمہارے قاعدے نہیں چلیں گے ،یہاں صرف میرے قاعدے چلیں گے، اور پھر وہ اس پہاڑ کو ہر موسم میں فتح کرنا چاہتا ہے۔ عورت کے معاملے میں بھی مرد ایسا ہی ہوتا ہے، جو جتنی آسانی سے اس کے ہاتھوں فتح ہو جائے گی وہ اتنی ہی آسانی سے اس کے دل سے اتر جاتی ہے،لیکن جس کو وہ فتح نہیں کر پاتا، وہاں وہ خود ہار جاتا ہے، وہ محبت کر بیٹھتا ہے، اور پھر وہ اس کو بیوی بنا کر فتح کر لیتا ہے، اور میں سمجھتی ہوں عورت کو محبوبہ کی صورت میں مرد کو فاتح نہیں بنانا چاہیے بلکہ بیوی کے روپ میں ہی اس کو فاتح بنانا چاہیے۔” الہام اپنی باتوں میں خود ہی کھوئی ہوئی تھی جبکہ حرا ٹکٹکی بندھے اس کو دیکھ رہی تھی۔
“چلو تم جا کر امی کے ساتھ بیٹھو،” میں نفل پڑھ کر حنا کے لیے دعا مانگ کر آتی ہوں۔ حرا مخص سر ہلا کر اٹھ گئی تھی۔
جاری ہے !!