Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

صبح جہانداد اور الہام سب کے ساتھ ناشتہ کرکے فیری میڈوز کے لیے نکل گئے تھے۔ فیری میڈوز کے کٹھن راستے نے الہام کے ہوش اڑا دیے تھے۔ قرانی آیات کا ورد کرتی الہام خیریت سے پہنچنے کی دعائیں کر رہی تھی ، جہانداد اس کے عمل کو دیکھتے مسکرایا تھا۔ ایک مسلمان کا یہی المیہ ہے آسانی میں خدا کو یاد کرے نا کرے مشکل وقت میں لازمی یاد کرتا ہے، اور وہ تو پھر الہام تھی جس کو ہر بات میں اللہ یاد رہتا تھا ، جو فارغ وقت میں زبان پہ ذکر جاری رکھتی تھی۔ آخر کار فیری میڈوز پہنچ کر الہام وہاں کی خوبصورتی میں کھو گئی تھی۔ جہانداد نے اس کی اور اپنی بہت ساری پکچرز کلک کی تھی۔ الہام پہاڑوں کی خوبصورتی میں اتنی مگن تھی کہ اس میں وہ جہانداد سے بے نیازی برت چکی تھی۔ وہ اپنے موبائل پہ پکچر لے رہی تھی ، جب سامنے سے کچھ لڑکیاں آتی نظر آئی تھیں۔
” سی ڈیٹ مین ، ہاؤ ہنڈسم ہی از ،” ان میں سے ایک لڑکی نے دوسری لڑکی کو مخاطب کیا تھا۔ الہام نے اس کی نظر کے تعاقب میں پیچھے موڑ کر دیکھا تھا ، جہاں اس کا شوہر ڈل بلو کلر کی قمیض شلوار پہنے ، گرے چادر لیے موبائل میں مصروف تھا۔ الہام تیزی سے جاکر جہانداد کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔ جہانداد کی آنکھوں سے یہ سارا عمل چھپ نہیں پایا تھا ، کیونکہ وہ اس لڑکی کی آواز سن چکا تھا اور الہام کا ایک دم پاس کھڑا ہونا اس بات کا یقین دلا گیا تھا وہ جملہ اسی کے لیے بولا گیا ہے۔ جہانداد نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔
” ڈیم ہی از میریڈ ” ان کے پاس سے گزارتے اس کے پاس الہام کو کھڑے پا کر اسی لڑکی نے بولا تھا۔ اب کی بار جہانداد کا قہقہ گونجا تھا۔
” اف ، شوہر کو اتنا بھی ہنڈسم نہیں ہونا چاہئے کہ بیوی کو فکر ہی لاحق رہے ۔” الہام نے اپنے موبائل کو دیکھتے ناراضگی سے کہا تھا۔
” آپ کا شوہر صرف آپ کا ہے ۔” اس نے مسکراتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
” میرے ہوتے ہوۓ یہ دو بار ہوچکا ہے ، میری غیر موجودگی میں پتا نہیں کتنی بار ہوتا ہوگا۔”الہام نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور اسے خود کو دیکھتے پا کر نظریں نیچے جھکا گئی تھی، اور اس سے الگ ہوئی تھی۔
” الہام محبت ایسی چیز ہے نا کہ یہ آپ کو جھکڑ کر باقی سب سے بیگانہ کر دیتی ، انسان دو طرح کی محبت کرتا ہے، ایک امربیل کی طرح ، جو کسی درخت پہ لپٹ کر اسے ختم کر دیتی ہے ، یہ اس سے فوائد حاصل کرکے اس سے ہریالی چھین لیتی ہے ، تو کچھ مرد بھی عورت سے ایسی محبت کرتے ہیں اسے استعمال کرکے اس کی ہریالی چھین لیتے ہیں، اور دوسری محبت سورج مکھی کی طرح ہوتی ہے ، اسے صرف ایک سورج کی تلاش ہوتی ہے ، اس کی موجودگی میں سورج مکھی اسی کی طرف منہ کیے رکھتا ہے ،اور اس کی غیر موجودگی میں کوئی دوسرا سورج تلاش نہیں کرتا بلکہ سب سے منہ موڑ لیتا ہے، اور میں آپ سے دوسری والی محبت کرتا ہوں۔” سامنے دیکھتے ہوۓ وہ اسے اپنی محبت کا یقین لا رہا تھا ، اور آخری بات پہ اس نے الہام کو دیکھا تھا جو ٹک ٹکی بندھے اسے دیکھ رہی تھی ، اس کے دیکھنے پہ نظر ہٹا کر اس کا بازو اپنے ہاتھوں سے تھامتے اپنا سر اس کے بازو سے ٹکایا تھا، یہ خاموش اظہار تھا کہ اس کا اظہار محبت اس کو اچھا لگا تھا۔ وہ مسکرایا تھا ، اسے اچھا لگتا تھا جب وہ خود اس پہ حق جتاتی اسے چھوتی تھی۔
” رات میں آپ نے مجھے نہیں بتایا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے ،” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا تھا۔ اس کے سوال پہ اس نے نظر اٹھائی تھی۔
” انسان محبت کرنے والے کے زیر سایہ رہے تو محبت ہو ہی جاتی ہے۔” وہ جہانداد سے کہتی آگے بڑھ گئی تھی ، جبکہ جہانداد اس کے آسان سے اقرار محبت پہ مسکرایا تھا۔ اور ہاتھ میں موجود سن گلاسز پہنتا اس کے پیچھے بڑھا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات گئے جب وہ دونوں واپس پہنچے تھے، تو سب کو حویلی کے لان میں موجود پایا تھا۔ کل سب کی واپسی تھی اس لیے چچا نے سب کے لیے میں باربی کیو کا انتظام کروایا تھا۔ وہ الہام کو لیے لان کی طرف بڑھ گیا تھا۔ وریشہ سب سے پہلے اٹھ کر جہانداد کی طرف آئی تھی۔ الہام اس کو اگنور کرتی ماما سے ملنے آگے بڑھ گئی تھی، اب بابا اس سے خیریت پوچھ رہے تھے۔ اور شاہ میر جو بار بی کیو کرنے میں مصروف تھا ، الہام کو دیکھتا اس کی طرف آیا تھا۔ اور اس سے حال احوال پوچھ رہاتھا۔جہانداد نے آکر ماں کو گلے لگایا تھا ، وہ باہر سے آکر ہمیشہ ماں سے ایسے ہی ملتا تھا۔ جہانداد اور الہام بھی سب کے ساتھ بیٹھ چکے تھے۔ باربی کیو کے بعد سب بڑے جا چکے تھے ، جبکہ اب صرف شاہ میر ، اسفند ، وریشہ ، جہانداد اور الہام موجود تھے۔
” چلیں بھائی ، بھابھی کے لیے ایک گانا ہوجاۓ۔” شاہ میر نے محفل کو تھوڑا بارونق بنانا چاہا تھا۔اس کی بات سن کر وریشہ کا منہ بنا تھا جبکہ الہام نے جہانداد کی طرف دیکھا تھا جو شاہ میر کو دیکھ رہا تھا۔
” تم مجھ سے صرف نغمے کی امید کر سکتے ہو ، گانے نہیں آتے مجھے۔” جہانداد نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
” واہ ، اور وہ جو آپ آرمی والے مل کر لوڈیاں ڈالتے رہتے وہ کیاہوتا۔” شاہ میر نے فٹ سے جواب دیا تھا۔ اور الہام نے اسے حیرانی سے دیکھا تھا۔
” شاہ میر بچے لوڈی اور گانا گانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا۔” اس نے شاہ میر کی درستگی کی تھی۔
” اچھا یار بھائی ، کوئی شاعری ہی سنا دیں۔” اس نے چڑ کر کہا تھا۔
” ہاں یہ کر سکتا ، تو پھر میں اپنی فیورٹ سناتا۔” اس کے کہنے پہ سب متوجہ ہو گئے تھے۔ اور وہ سنانا شروع ہوا تھا۔
‏پریتم ایسی پریت نا کریٔو
جیسی کرے کھجور
دھوپ لگے تو سایہ ناہی
بھوک لگے پھل دور
پریت کبیرا ایسی کریٔو
جیسی کرے کپاس
جیو تو تن کو ڈھانکے
مرو نہ چھوڑے ساتھ
پریت نہ کیجیٔو پنچھی جیسی
جَل سوکھے اُڑ جائے
پریت تو کیجیٔو مچھلی جیسی
جل سوکھے مر جائے
بھگت کبیر
اس نے ٹھہر ٹھہر کر شاعری پوری کی تھی آخر میں الہام کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ، اور الہام نے اس کے دیکھنے پہ نظریں دوسری طرف کی تھیں ، مگر وہ اس کے ذوق سے متاثر ہوۓ بناء نہیں رہ سکی تھی۔ سب اس کو سراہا رہے تھے۔
” جہانداد مجھے تو سمجھ ہی نہیں آئی۔” وریشہ نے سب کے تعریف کرنے پہ منہ بنا کر کہا تھا۔
” آپ ایک ایک بند بولتے جائیں میں سمجھا دیتی ہوں۔” جہانداد کے بولنے سے پہلے الہام بولی تھی، جو اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی۔
” یہ ٹھیک ہے ، جہانداد مسکرایا تھا۔ اور پھر اس نے غزل کا پہلا بند بولا تھا۔
” محبت کجھور کے پودے جیسی نا کرنا ، کہ جب بھوک لگے تو اس کا پھل ہی دور ہو، اور جب چھاؤں چاہیے ہو تو سایہ ہی نا ہو کیونکہ کجھور کے پودے کی چھاؤں نہیں ہوتی۔” اس کے پورا کرنے پہ جہانداد نے اگلا بند پڑھا تھا۔
” پھر شاعر کہتا ہے محبت کپاس جیسی کرنا کپاس ہمیں کپڑا مہیا کرتی جس سے ہمارا جسم ڈھکا رہتا ، اور مرنے کے بعد بھی کفن کی صورت وہ ہمارے ساتھ جاتی۔”
اب جہانداد نے اگلا بند پڑھا تھا۔
” محبت پرندے جیسی نا کرنا ، جو ندی کے سوکھنے پہ بےوفائی کرکے دوسری جگہ چلا جائے ، بلکہ مچھلی کی سی کرنا جو ندی سوکھنے پہ ہیں تڑپ تڑپ تڑپ کر مر جاۓ۔” الہام نے آخر میں جہانداد کو دیکھا تھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔
” واہ جہانداد آپ کی چوائس تو کمال ہے ۔” وریشہ نے اسے سراہا تھا۔ جس پہ جہانداد نے محض سر ہلایا تھا۔
” بھابھی اب آپ کی باری۔” شاہ میر بولا تھا۔
” میں کیا سناؤں ” الہام نے کنفیوز ہوتے جہانداد کو دیکھا تھا، جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا ، اس کے دیکھنے پہ وہ مسکرایا تھا، الہام نے نظریں پھیری تھی۔
” کوئی بھی اپنی فیورٹ غزل سنا دیں۔” شاہ میر نے اس کی توجہ اپنی طرف کی تھی۔
” یہ میری فیورٹ ہے ، سنا دوں۔” الہام نے پوچھا تھا۔
” ہاں بلکل ۔” شاہ میر بولا تھا۔ جہانداد نے اپنا بازو پاس پڑی الہام کی کرسی پہ پھیلایا تھا ، شاید وہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اس کے پاس ہے۔ الہام نے پڑھنا شروع کی تھی۔
کیوں تو اچھا لگتا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں کیا کیا دکھتا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
اس نے پڑھتے ہوۓ نظر اٹھا کر جہانداد کی طرف دیکھا تھا، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا جس پہ اس نے اپنی نظریں گود میں موجود ہاتھوں پہ مکروز کی تھیں ، جہانداد کے لب مسکراۓ تھے۔
سارا شہر شناسائی کا دعویدار تو ہے لیکن
کون ہمارا اپنا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
ہم نے اس کو لکھا تھا کچھ ملنے کی تدبیر کرو
اس نے لکھ کر بھیجا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
موسم‘ خوشبو‘ بادِ صبا‘ چاند‘ شفق اور تاروں میں
کون تمھارے جیسا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
یا تو اپنے دل کی مانو یا پھر دنیا والوں کی
مشورہ اس کا اچھا ہے وقت ملا تو سوچیں گے!!
باقی کی ساری غزل اس نے گود میں موجود ہاتھوں کو دیکھتے پوری کی تھی۔ سواۓ وریشہ کے سب نے اس کے ذوق کی تعریف کی تھی۔ اس کے بعد جہانداد نے سب کو زبردستی سونے کے لیے بھیجا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ماما بابا کی شام کی فلائیٹ تھی۔ اس لیے ان سے مل کر سب سفر پہ روانہ ہوچکے تھے۔ وریشہ نے اس بار ان کے ساتھ جانے کی بجاۓ ماما بابا کے ساتھ باۓ ائیر آنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ اس نے شاہ میر کے ساتھ ہی اس کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا۔ اور چچا نے اس کو پڑھائی مکمل ہونے تک اپنے بھائی کے سپرد کیا تھا۔ وہ لوگ رات اسلام آباد پہنچے تھے ، اور شاہ میر کو گھر اترانے کے بعد جہانداد الہام کو اس کے گھر سب سے ملوانے لے گیا تھا۔ الہام کے آنے سے جیسے گھر میں رونق آگئی تھی۔ جہانداد سب سے بہت پیار سے ملا تھا۔ ابوبکر کی ڈیوٹی تھی، وہ گھر میں موجود نہیں تھا۔ حرا اور عائشہ بیگم کھانے کی تیاری کے لیے کیچن میں موجود تھیں جبکہ الہام ان کے پاس ہی کھڑی ان کو وہاں کی باتیں بتا رہی تھی۔رات کے نو بج رہے تھے ، جب گاڑی کا ہارن بجا تھا ، الہام دروازہ کھولنے کے لیے بھاگی تھی ، وہ ابوبکر کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھا جہانداد اس کی تیزی پہ حیران ہوا تھا۔ اس نے مین ڈور کھولا تھا ، ڈرائیورنگ سیٹ پہ بیٹھا ابوبکر اس کو دیکھتا بے احتیار گاڑی سے اترا تھا۔ اس کو اترتے دیکھ الہام دروازے سے اندر ہوئی تھی۔ اندر آکر ابوبکر نے الہام کو گلے لگایا تھا۔
” میں نے اپنے بچے کو بہت مس کیا۔” اس کے سر پہ پیار کرتے ابوبکر نے کہا تھا۔
” میں نے بھی۔” الہام کی آواز بھیگی تھی۔ وہ دونوں اندر آۓ تھے ، ابوبکر کو دیکھتے جہانداد کو الہام کی تیزی سمجھ آئی تھی۔ ابوبکر جہانداد سے ملا تھا۔ پھر سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ واپس گھر کے لیے نکلے تھے۔ راستے میں اشارے پہ جہانداد نے گاڑی رکی تھی، جب ایک گجرے بیچنے والے بچے نے گاڑی کا شیشہ ناک کیا تھا۔ جہانداد نے شیشہ نیچے کیا تھا۔ اور پیسے دے کر گجرے لیے تھے۔ جہانداد نے گجرے الہام کو پہناۓ تھے۔
“ذیادہ سفید پھول اور لال کم ، ایسا کیوں؟ الہام نے اپنے ہاتھ میں پہنے ہوئے گجروں کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تھاجن میں سارے سفید پھولوں کے بیچ ایک لال گلاب تھا، کیونکہ وہ جہانداد کو لال کی بجاۓ سفید گجرے سلیکٹ کرتے دیکھ چکی تھی۔
جہانداد نے قہقہہ لگایا تھا۔
” آپ کو میری سائیکی سمجھ نہیں آئے گی۔” اس نے الہام کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔
“آپ پھر بھی بتا دیں”۔ الہام نے اصرار کیا تھا۔
“لال پھول محبت کی علامت ہوتا ہے ،جبکہ سفید پھول میرے نزدیک پاکیزگی اور احترام کی علامت ہوتا ہے۔احترام کے بنا محبت اپنا مقام کھو دیتی ہے۔اور میں آپ سے محبت سے زیادہ احترام کرتا ہوں۔”
جاری ہے !!
See translation