Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

آج کے دن الہام کا نکاح تھا. اور گھر میں ہر طرف گہما گہمی تھی۔
الہام کے ماموں کی فیملی جن میں ان کی بیوی ، بیٹا ولید اور الہام کے نانا شامل تھے، لاہور سےایک دن پہلے ہی آ چکے تھے۔ خدیجہ بھی پھوپھو اور اپنے شوہر زبیر کے ساتھ آج کے دن صبح صبح گھر پہنچی تھی۔ ولیداور زبیر ،ابوبکر کے ساتھ مل کر چھوٹی موٹی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔ نکاح شام کے وقت تھا۔ جبکہ خدیجہ نے دن کے تین بجے ہی الہام اور حرا کو ابوبکر کے ساتھ پارلر بھیج دیا تھا۔ بڑی بہن ہونے کے ناطے وہ ہر چیز اچھے سے مینج کر رہی تھی۔ حالانکہ نکاح بہت بڑے پیمانے پہ نہیں تھا عمر کے گھر سے صرف چھ لوگ آ رہے تھے جن میں عمر، اس کی والدہ اور والد ،ذیشان اور اس کی بہن اور والدہ شامل تھیں وہ ایک ہی بار شادی میں سب رشتے داروں کو بلانا چاہتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ابوبکر اور خدیجہ کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہ رہے تھے۔ٹی وی الاونج کو ان سب نے مل کر خوبصورتی سے سجایا تھا۔ گھر ذیادہ بڑا نہ تھا جس کی وجہ سے ابوبکر نے کسی شادی ہال میں ارنینجمنٹ کرنے کو کہا تھا لیکن الہام اپنی زندگی کا نیا موڑ اپنے خود کے گھر میں لینا چاہتی تھی جس پہ وہ خاموش ہوگیا تھا۔ شاید لڑکیاں اپنے گھر کے معاملے میں ایسے ہی جذباتی ہوتی ہیں۔ لاونج میں مزید کرسیاں لگا کر بیھٹنےکی جگہ بنائی گئی تھی.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام تیار ہوچکی تھی ، اور حرا اس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہی تھی۔ ہاف وائٹ کلر کی لونگ فراک ، جس پہ ہلکا گولڈن موتیوں کا کام ہوا تھا ، اور ہاف وائیٹ ہی دوپٹہ جس کی چاروں طرف کم کم لیس لگی ہوئی تھی اچھے سے سر پہ سیٹ کیے ، بالوں کا جوڑا بنائے جس میں سے دو لٹھیں نکالی گئی تھی جو چہرے پر جھول رہی تھیں ، نفیس سی گولڈن چوڑیاں ، گلے میں نازک سی گولڈن چین پہنے، ہاتھوں میں ٹکی نما مہندی سجاۓ اور پاؤں میں گولڈن پنسل ہیل پہنے، نفاست سے کیے میک اپ میں وہ آج کوئی الگ ہی روپ لیے کھڑی تھی۔ وہ چہرہ جوکبھی کسی نامحرم کے لیے نا سجایا گیا ہو وہ جب محرم کے لیے سجایا جائے تو چہرے پہ نور آسمانوں سے آتا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی خوبصورت نہ لگے۔ اور یہ کوئی فنٹیسی نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔الہام کے نکاح کا جوڑا، جوتے اور باقی مہندی سے لے کر جیولری تک سب کچھ عمر کی والدہ خود الہام کو سونپ کر گئیں تھیں۔ حرا نے الہام سے میچنگ کلر کی شارٹ فراک کے نیچے پلازو پہن رکھا تھا اور دوپٹے کو حجاب کی صورت میں لے رکھا تھا۔اب وہ دونوں پارلر میں بیھٹی ابوبکر کے آنے کا انتظار کر رہیں تھیں۔ کچھ ہی دیر میں ابوبکر نے الہام کو باہر آنے کا میسج کیا تھا۔ باہر جانے سے پہلےحرا نے سب سے پہلے اس کو چادر کروائی تھی اور بڑا سا گھونگھٹ نکلوایا تھا۔ اور اس کا ہاتھ اور فراک پکڑ کر باہر لائی تھی جہاں سامنے ہی ابوبکر گاڑی کے پاس ہاف وائٹ قمیض شلوار پہنے ، قمیض کے بازو فولڈ کیے کھڑا تھا۔ ان کو دیکھ کر اس نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا، اور وہ دونوں اندر بیٹھ گئیں تھیں۔ جبکہ ابوبکر نے ڈرئیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔
“الہام بچے حرا کہاں ہیں ، ہم نے تو ان کو آپ کے ساتھ بھیجا تھا،یہ آپ کی کون سی دوست ہیں” ابوبکر نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے الہام کو مخاطب کیا تھا۔مقصد حرا کو چہرے پہ موجود میک اپ پہ چھیڑنا تھا۔ حرا کا منہ کھولا رہ گیا تھا ، جبکہ الہام نے اپنا گھونگٹ ذرا سا ہٹا کہ کنفرم کیا تھا کہ کیا واقعی حرا کی جگہ کوئی اور لڑکی ہے ، اور حرا کو دیکھ کر مرر میں ابوبکر کو دیکھاتھااور ساری بات سمجھ کر پھر سے گھونگٹ نیچے کر کے بیٹھ گئی تھی، وہ جانتی تھی اب گھر تک ان کی لڑائی جاری رہنی ہے۔
“میں لگ ہی اتنی پیاری رہی ہوں کہ آپ میرے حسن کی تاب ہی نہیں لاسکے، اور دماغ پہ اثر ہوگیا ہے۔” حرا نے آنکھیں جھپکتے ہوئے جواب دیا تھا۔ جبکہ گاڑی میں ابوبکر کا قہقہہ ابھرا تھا۔
“دل کے بہلانے کو غالب یہ خواب اچھا ہے، ویسے ہم ڈاکٹر سرجری کرکے بندے کو اتنا تبدیل نہیں کرپاتے ، لیکن یہ بیوٹی سیلون والےتو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔” ابوبکر نے جلتی پہ مزید تیل ڈالا تھا۔
“اپھا چھوڑیں یہ بتائیں مہمان آگئے ہیں، حرا نے موضوع بدلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
“نہیں ، بس تھوڑی دیر میں پہنچنے والے ہیں” ، ابوبکر نے گاڑی گھر کے آگے کھڑی کرتے جواب دیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
مہمان آچکے تھے، مرد خصرات ڈرائنگ روم میں جبکہ عورتیں لاونچ میں بیٹھں تھیں۔الہام اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، حرا اس کے ساتھ موجود اس سے زبردستی مختلف پوز بنوا کر پیکچرز لے رہی تھی کہ خدیجہ نے نکاح شروع ہونے کی خبر دی تھی ۔ الہام کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔ اس کا نام کسی اور کے ساتھ جوڑنے والا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں ابوبکر خود نکاح کے پیپرز ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا تھا۔ الہام ڈریسنگ کے پاس رکھی کرسی پہ بیٹھی تھی۔ابوبکر اس کے پاس آیا تھا اور اس کے پاؤں کے پاس نیچے بچھی کارپٹ پر پلٹی مار کر بیٹھ گیا تھا، الہام نے ناسمجھی کے عالم میں اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔ ابوبکر نےہاتھ میں موجود پیپرز کو گود میں رکھ کر دونوں ہاتھوں سے الہام کی گود میں موجود اس کے ہاتھ تھامے تھے۔
“میری بہن دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن لگ رہی ہے، اتنی خوبصورت کے دنیا کی سب دلہنوں کی خوبصورتی اس کے سامنے مانند پڑ جاۓ” ابوبکر نے الہام کو مسکرا کر دیکھتے ہوۓ تعریف کی تھی۔الہام نے اس کی آنکھوں میں نمی محسوس کی تھی۔ وہ مسکرائی تھی۔
“بھائی میں دنیا کی خوبصورت دلہن نہیں ہوں،بس میں آپ کی بہن ہوں اس لئے آپ کو ایسا لگ رہا ہے، ” الہام نے اس کے ہاتھوں پہ ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوۓ کہا تھا۔
“الہام بچے شکریہ تم نے کبھی ابو کا اور میرا سر جھکنے نہیں دیا ، بلکہ تمہاری وجہ سے ہم ہمیشہ سر اٹھا کر چلے ہیں، تم نے ہمیں کبھی کسی کڑے امتحان میں نہیں ڈالا، تم ہمیشہ ایک اچھی بہن اور اچھی بیٹی بنی ہو ، تم سوچ رہی ہوگی میں اس ٹائم ایسی باتیں کیوں کر رہا ، وہ ہلکا سا ھنسا تھا، میں سمجھتا ہوں اک بہن جب ساری زندگی پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے کہ اس کی وجہ سے اس کے بھائی اور باپ کا سر نہ جھکے تو پھر ہر بھائی کا فرض ہے کہ شادی کے دن بہن کے پاؤں میں بیٹھ کر بتاۓ کہ اسے اس پر فخر ہے”۔ وہ بول رہا تھا اور الہام کو اپنے گال پہ نمی محسوس ہوئی تھی ہاں وہ رو رہی تھی ہاں اس نے کر دیکھایا تھا، اللہ نے اس کو اپنے باپ اور بھائی کے سامنے سرخروکر دیا تھا۔
“اور تم نے میری بار تو ایسا کچھ نہیں کیا تھا” پاس کھڑی خدیجہ نے ماحول میں موجود سنجیدگی کو ختم کرنے کے لئے ابوبکر سے گلہ کیا تھا۔
“آپی آپ کی بار اتنی سمجھ نہیں تھی، آپ کہیں تو آپ کے لیے بھی ابھی کر دیتا ہوں ” ابوبکر نے حدیجہ کی طرف دیکھتے ہوئے آفر کی تھی۔
“چھوڑو بس زیادہ سریس نہ ہو ، ہماری دلہن پہلے ہی رو پڑی ہے ، میک اپ خراب کر دے گی”۔ خدیجہ نے گلہ کرتے ہوئے ابوبکر کو شکایتی نظر سے دیکھا تھا۔ الہام خدیجہ کو دیکھ کر مسکرئی تھی۔
“آپی میک اپ تو پھر ہوجائے گا لیکن آج کا دن واپس نہیں آئے گا ، لیکن آج کے دن کی ساری باتیں ہمیشہ خوبصورت یادوں کی طرح میرے ساتھ رہیں گی، آج کے دن کے اظہار ،محبتیں ہمیشہ یاد رہیں گی، لڑکیوں کو اپنے نکاح کے دن میں سب سے پہلے جو چیز یاد آتی ہے اپنے دستحط ہوتے ہیں، لیکن میں جب جب اس دن کو یاد کروں گی مجھے سب سے پہلے اپنے بھائی کا اپنے پاؤں میں بیٹھنا یاد آئے گا ، سب بھائی کہاں اپنی بہنوں کو ایسی یادیں دیتے ہیں، وہ بہت عقیدت سے ابوبکر کو دیکھ رہی تھی جو اسے نم آنکھوں سے دیکھتے مسکرا رہا تھا۔وہ صرف اس کا بھائی نہیں تھا، وہ شبیر عالم کی غیر موجودگی میں الہام کے لیے باپ بن جاتا تھا، عائشہ بیگم کی غیر موجودگی میں وہ اس کی ماں بن جاتا تھا، خدیجہ کی شادی کے بعد وہ بڑے بھائی کے ساتھ اس کی بڑی بہن بن گیا تھا، حرا جب آس پاس نہیں ہوتی تھی وہ اس کا دوست بن جاتا تھا ، باقی سب نے صرف اپنے اپنے کردار نبھائے تھے لیکن ابوبکر نے بھائی ہونے کے ساتھ وقت پڑنے پہ باقی سب کے کردار بھی نبھاۓ تھے۔ابوبکر نے اپنے ہاتھ میں موجود الہام کے ہاتھ پہ پیار کیا تھا۔ خدیجہ کے پاس کھڑی حرا کی آنکھوں نے ان بہن بھائی کو دیکھ کر نمی پکڑی تھی وہ حیران تھی اس نے تو ہمیشہ “مرد کا عاشق ہونا” لکھا پڑھا تھا، اس نے کبھی “مرد کا بھائی ہونا” لکھا نہیں پڑھا تھا، اس نے عاشق کا عورت کے پاؤں میں بیٹھنا پڑھا تھا، اس نے کبھی بھائی کا بہن کے پاؤں میں بیٹھنا نہیں پڑھا تھا ، پتا نہیں کیوں ہمیشہ مرد کو صرف عاشق ہی کیوں دیکھایا جاتا ہے۔
“چلو اب ذرا اصل کام کی طرف آتے ہیں۔” الہام کے ہاتھ چھوڑ کر آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوۓ اس نے گود میں موجود پیپرز اٹھائے تھے۔
“الہام بچے آپ کا نکاح عمر فاروق ولد حامد اعظم کے ساتھ کیا جاتا ہے ،کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے” ابوبکر نے الہام کی طرف دیکھ کر مولوی صاحب کے بتاۓ گئے کلمات دہرائے تھے۔ الہام کے دل کی کیفیت بدل لی تھی ، ایک بے نام سی کیفت جس کو آج تک کوئی بھی لڑکی نام نہیں دے سکی تھی۔ خدیجہ نے پیچھے سے الہام کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔ جس پہ الہام نے دھیمی آواز میں قبول ہے بولا تھا۔ ابوبکر نے دو بار پھر سے ویسے ہی الفاظ دوہراے تھے ، جن کا الہام نے پھر سے جواب دیا تھا۔ اب ابوبکر اس سے پیپرز پہ سائن لے رہا تھا اور وہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی جگہ پہ سائن کر رہی تھی،سائن مکمل ہو چکے تھے۔ اور وہ عمر فاورق کی زوجیت میں جا چکی تھی۔ ایک آنسو گال سے ہوتا ہوا نیچے گرا تھا۔ ابوبکر نے اٹھ کر اس کے سر پر پیار کیا تھا۔اور باہر نکل گیا تھا۔اب خدیجہ اور حرا اس سے مل رہیں تھیں اور عائشہ بیگم کے ساتھ عمر اور زیشان کی والدہ بھی کمرے میں آ کر الہام سے مل رہیں تھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
نکاح کے بعد گھونگٹ میں الہام کو باہر الاونج میں صوفے پہ بیٹھایا گیا تھا۔ اور اب عمر کو بھی اس کے ساتھ بیٹھانے کے لیے ابوبکر کو اسے لانے کے لئے کہا گیا تھا۔تھوڑی دیر میں ابوبکراور ولید عمر کے ساتھ آئے تھے سفید رنگ کے کاٹن کی قمیض شلوار پہ سرمئی رنگ کا بلیزر پہنے، قیمتی گھڑی پہنے وہ ہمیشہ کی طرح شاندار لگ رہا تھا ، عمر کو آتے دیکھ حرا نے الہام کے پاس سے اٹھ کر اس کے لئے جگہ چھوڑی تھی ، اور عائشہ بیگم کے پاس جا کر بیٹھ گئی تھی ،عمر کی والدہ نے اٹھ کر عمر کا ہاتھ پکڑ کراسے الہام کے ساتھ بیٹھایا تھا۔ الہام کے دل کی دھڑکن جو پہلے ہی تیز تھی ،اس کے پاس بیٹھنے پہ اور تیز ہوئی تھی۔ اس کے پرفیوم کی خوشبو گھونگھٹ کے باوجود وہ محسوس کر سکتی تھی اس کا کندھا الہام کے ساتھ مس ہوا تھا۔ الہام سمٹی تھی۔ یہ ایک خوبصورت احساس تھا، کل تک جس انسان کے لئے اکیلے میں بھی اس کو دیکھنا گناہ تھا ، آج وہ سب کے سامنے اس کے ساتھ بیٹھنے کا حق رکھتا تھا۔وہ جو ہر دل عزیز تھا وہ اس کے ساتھ اس کا محرم بن کر بیٹھا تھا۔وہ جو کسی کی بھی چاہ ہو سکتا تھا ،وہ اس کا تھا، جس کی خوشبو کسی کی بھی خواہش ہوسکتی تھی ، وہ خوشبو اس کو حاصل تھی، جس کی آواز کسی کی بھی جستجو ہوسکتی تھی، وہ آواز اس کی دسترس میں تھی۔ اللہ نے اسے بے پناہ چاہے گئے مرد سے نوازا تھا۔ باری باری سب لوگ ان کے پاس بیٹھ کر دونوں کو سلامی وغیرہ دی تھی اور ساتھ مٹھائی بھی کھلا رہے تھے لیکن الہام کو گھونگٹ کی وجہ سے نہیں کھلا پا رہے تھے۔
“الہام کی جگہ آپ لوگ مجھے مٹھائی کھلا سکتے ہیں” ابوبکر نے الہام کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔سب ہنسے تھے ، اور اس نے حرا کو الہام اور عمر کے ساتھ اپنی پکچر لینے کو کہا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
مغرب کی اذانوں کو کچھ دیر ہوچکی تھی، مرد خصرات نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد جا چکے تھے، الہام کو خدیجہ اس کے کمرے میں لائی تو حرا پہلے ہی نماز ادا کر رہی تھی۔ الہام اس کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔ اس نے الہام سے ہی سیکھا تھا کہ ذاتی مفاد کے لئےکبھی نماز نہیں چھوڑنی، یہی وجہ تھی کہ میک اپ کی پرواہ کیے بنا، اورماحول کی رنگینی کے باوجود نماز ادا کرنے کے لئے اندر آگئی تھی۔ حرا نے نماز ادا کرنے کے بعدالہام کو پاس موجود کرسی پہ پریشان بیٹھے دیکھا تو فکر مندی سےپوچھا۔
“الہام کیا ہوا ہے” ایسے کیوں بیٹھی ہو”
“وہ امی نے ابھی بولا ہے، کہ عمر نماز پڑھ کر آئیں گے تو ان کو مجھے دیکھنے کے لئےمیرے کمرے میں بھیجیں گی، “انھوں نے ابو سے بات کر لی ہے۔
“تو اس میں اتنا منہ بنانے کی کیا ضرورت ہے، وہ اب شوہر ہیں تمہارے ، ویسے یہ مشورہ میں نے اور عمر بھائی کی امی نے ہی آنٹی کو دیا تھا۔ “حرا نے شوخ انداز میں جواب دیا تھا۔
“اور ہاں اب عمر بھائی کو دیکھنے دو ، قضا نماز پڑھ لینا۔ حرا نے مزید کہا تھا۔
“ہاں میں یہی سوچ کر نماز نہیں پڑھ رہی کی شاید ان کو مجھے دلہن کے روپ میں دیکھنے کی خواہش ہو، لڑکی تیار ہی تو اپنے شوہر کے لئے ہوتی ہے، اللہ تو کہتا ہے اپنے بعد اگر کسی کو سجدہ کرنے کا کہتا تو وہ عورت کو اس کے شوہر کو کرنے کا کہتا۔ اللہ کی محبت میں انسان کا خیال نا کریں تو ساری عبادتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔”
الہام بول رہی تھی جب حرا نے الہام کو آنکھوں سے دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جہاں ابوبکر اور عمر کھڑے تھے، الہام اور حرا کو ان کے آنے کی خبر تک نہیں ہوئی تھی۔ اچانک حرا کی نظر پڑی تھی، جس پہ اس نے الہام کو آگاہ کیا تھا۔ الہام دروازے کی طرف مڑی تھی نظریں ملیں تھیں، وقت تھم گیا تھا، آج الہام کی نظر اس کو دیکھ کر جھکی نہیں تھی، آج وہ اس پہ نظر رکھنے کا حق رکھتی تھی۔اور نا آج عمر نے اپنی نظریں دوسری طرف پھیریں تھیں۔ ابوبکر اور حرا دروازہ بند کر کےچلے گئے تھے۔ عمر کی نظریں الہام کے چہرے پر تھیں ، کسی کو پہلی بار دیکھنا، وہ اس کیفیت کو کچھ نام نہیں دے پایا تھا۔ بس اس کو دماغ میں ایک سوچ تھی کہ اسے زمین پر مو جود بہترین عورتوں میں سے ایک سے نواز دیا گیا تھا، الہام ٹرنس سے باہر آئی تھی اور اس نے نظریں جھکائی تھی۔جس پر عمر بھی نارمل کیفیت میں آیا تھا۔
اسلام علیکم، آپ کیسی ہیں! عمر ہاتھ کمر کے پیچھے نبدھےدو قدم آگے چل کر آیا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں” الہام نے بہت ہی آہستہ آواز میں جواب دیا تھا۔
“کیا آپ کے ہاں مہمانوں کو بیٹھنے کے لیے نہیں کہا جاتا “عمر نے اس کی گھبراہٹ دور کرنے کے لیے مذاق کا سہارا لیاتھا
آپ ،پلیز آپ بیٹھیے اس نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
آپ بھی بیٹھ جائیں، عمر نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے اسے کہا۔وہ بیڈ کے کارنر پہ جا کر بیٹھ گئی تھی۔
“”””آپ کو پتا ہے ، ماما جب آپ کے لیے میرا رشتہ مانگ کر گئیں تو مجھے کہا” عمر میں تمھارے لیے ایک پری پسند کر کے آئی ہوں ، میں اپنی ماں کی بات سے اتفاق کرتا تھا ، کیونکہ جب میں نے آپ کو پہلی بارآپ کو خود کو چادر میں ڈھانپے دیکھا اور مجھے دیکھ کر فورا نظریں نیچے کرتے دیکھاتو مجھے آپ واقعی زمینی مخلوق نہیں لگیں تھیں،پاکستان میں بہت سی لڑکیاں پردہ کرتی ہوں گی، لیکن میرا پہلا سامنا آپ سے ہوا، شاید آپ نے پردہ نا کیا ہوتا تو میں ایک نگاہ بھی نا ڈالتا، تب میں آپ کو کوئی نام نا دے سکا، پھر جب ماما نے کہا پری تو مجھے لگا کہ ہاں آپ واقعی اس زمین کی نہیں ہیں ،آپ تو کوئی پری ہیں۔ ابھی دراوزے پہ آپ کی باتیں سنی تو میرے قدم زمین پہ نہیں رہے ، دیکھنے کو تو میں زمین پر تھا لیکن میں ہواؤں میں تھا کہ اللہ نے مجھے بہترین سے نوازا ہے۔ آپ اگر منہ دھو بھی لتیں تو مجھے فرق نہ پڑتا ، مجھے آپ کو دیکھنے دیا جاتا میرے لیے یہی بہت تھا ، آپ مجھے ہر روپ میں پیاری ہیں۔ چلیں اب میں چلتا ہوں۔” اپنی بات مکمل کر کے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا جبکہ الہام اپنی جگہ پہ بت بنی بیٹھی تھی۔
“ویسے سنیں ! دروازے کے پاس پہنچ کر پیچھے موڑ کر اس نے الہام کو مخاطب کیا تھا۔الہام نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
ممکن نہیں ہے آپ کو لفظوں میں ڈھالنا
آپ وسعتِ سخن سے بڑھ کر حسین ہیں
“اس نےاس کے لئے شعر پڑھا تھا۔ اور الہام نے نظریں جھکائی تھیں اور آپ پہ یہ مہندی بہت اچھی لگ رہی ہے۔اور معذرت کہ میں آپ کے لیے منہ دیکھائی کا تحفہ نہیں لا سکا ،وہ رات تک آپ کو مل جائے گا۔” اور وہ دروازہ کھول کر چلا گیا تھا۔ اور وہ اٹھ کر اس کرسی پر بیٹھی تھی جہاں سے تھوڑی دیر پہلے وہ اٹھ کر گیا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
رات کا کھانا سب مہمانوں نے اچھے ماحول میں کھایا تھا۔ اس کے بعد باری باری سب رخصت ہو گئے تھے۔ الہام کی رخصتی دو مہینے بعد طے پائی تھی۔ عائشہ بیگم اور عالم شبیر اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لئے چلے گئے تھے۔ جبکہ الہام لاؤنج میں بیٹھی ابوبکر کا انتظار کر رہی تھی جو کسی کام کا بتا کر باہر چلا گیا تھا۔ رات گیارہ بج رہے تھے کے ابو بکر کی گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ الہام دروازہ کھولنے کے لیے گئی تھی۔ ابوبکر نے گیراج میں گاڑی کھڑی کی تھی اور پھر مین گیٹ خود بند کیا تھا۔ پھر گاڑی سے ایک ڈبہ اور کچھ سفید پھول جن کے ساتھ ابھی بھی ٹہنیاں موجود تھی اور ان کو لال ریبن سے بندھا گیا تھا،ان کو الہام کو دیا تھا۔الہام نے چیزیں پکڑتے ہوئے ابو بکر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
“تمھارے آٹھ گھنٹے پہلے بنے شوہر نے اپنی آٹھ گھنٹے پہلے بنی بیوی کے لیے تخفہ بھیجا ہے”۔ ابوبکر نے اس کے سر پر ہلکی سی چت لگتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
“لیکن امی ابو ” الہام نے پریشانی ابوبکر کو دیکھا تھا۔
“ان کو پتا ہے، میں ان کو بتا کر گیا تھا اور عمر نے پہلے مجھ سے اجازت لی تھی، اب وہ تمہارا شوہر ہے، اس کا تم پر اتنا ہی حق ہے، جتنا ہمارا حق ہے۔” ابوبکر نے کندھے سے پکڑ کر اسے اندر لاتے ہوئے کہا تھا۔
“آپ کے لئے چائے بناؤں”
نہیں میں عمر کے ساتھ چائے پی کر آیا ہوں،اب آرام کروں گا، اور تم اپنا تحفہ دیکھو وہ شرارت سے کہتا ہوں اپنے کمرے کی جانب گیا تھا۔ جبکہ الہام نے صوفے سے کشن ا ٹھاکر مارا تھا جو ابوبکر کے جلدی سے دروازہ بند کرنے پر دروازے کو لگا تھا۔
الہام نے کمرے میں جا کر بکس کھولا تھا اس میں بہت خوبصورت نفیس سا ٹی پنک کلر کا اسکارف تھا ، جس کے چاروں طرف موتی لگے ہوۓ تھے اور اس کے ساتھ پڑا خوبصورت سا کارڑ نکال کر اس نے کھولا تھا۔جس میں خوبصورت اردو خطاتی میں تحریر درج تھی۔
“نکاح بہت مبارک ہو زوجہ” اور اس کے نیچے اس نے اپنا نام لکھا تھا۔
“عمر فاروق “
وہ تحریر پڑھ کراپنا دایاں ہاتھ دائیں آنکھ پر رکھ کر مسکرائی تھی۔اور پھر اس نے چھ سفید پھول جن پہ لال ریبن لگا تھا اٹھا کر ہاتھوں سے چھوئے تھے لیکن وہ سفید پھولوں کا مطلب نہیں سمجھ پائی تھی۔
جاری ہے!