Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ابوبکر نے گاڑی ایک خوبصورت گرینڈ مارکی کے پاس روکی تھی۔ جہاں اس کے دوست کا ولیمہ تھا،اور سب کو اتر کے اندر جانے کا کہا تھا ،جبکہ خود اس کو گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرنی تھی۔ عالم شبیر، عائشہ بیگم اور الہام گاڑی سے اترے تھے۔ الہام نے خود کو چادر کے ساتھ بہت اچھے سے لپیٹ کر نقاب کیا ہوا تھا۔ وہ تینوں جب مارکی میں داخل ہوئے تو سامنے ہی ذیشان اور اس کے والد کھڑے تھے جو ان کو دیکھ کر ویلکم کے لیے آگے بڑھے ۔ذیشان عائشہ بیگم اور شبیرعالم سے ملا تھا اور شبیر عالم کو اپنے والد کے ساتھ اندر بھیج کر، عائشہ بیگم اور الہام کو لے کر عورتوں کی سائیڈ ان کو چھوڑنے کے لئے آگے بڑھا تھا۔ جہاں اپنی والدہ اور بہن سے ان کا تعارف کروایا تھا۔ جو الہام کو ایسے دیکھ کر تھوڑی حیرت میں مبتلا تھی لیکن وہ ان سے بہت اچھے سے ملی تھیں۔ عورتوں کی طرف آنے کے بعد الہام نے اردگرد کا جائزہ لیا تھا اور اس کے بعد اپنا نقاب اتار دیا تھا۔ الہام کے پردے کو دیکھتے ہوئے وہ انہیں اسٹیج کے لیفٹ سائیڈ پر رکھے گئے ایک ٹیبل کی طرف لے گئیں تھیں۔ الہام نے اپنے لئے ایسی کرسی لی کی جس کی بیک سائیڈ اسٹیج کی طرف آتی تھی اور اب وہ قدرے پرسکون تھی۔ اب وہ آرام سے بیٹھ کر وقت گزرنے کا انتظار کر رہی تھی۔ جب کہ عائشہ بیگم ساتھ بیٹھی خاتون سے بات چیت کر رہیں تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے ابوبکر کو جانے کا پوچھنے کے لیے میسج کیا ہی تھا کے ایک نفیس سی خاتون ان کی ٹیپل کی طرف آئیں تھیں اور سلام کرنے کے بعد وہیں بیٹھ گئی تھیں، انہوں نے اپنا تعارف کروایا وہ ذیشان کی خالہ تھیں ۔ اور عائشہ بیگم نے ان سے اپنا تعارف کروایا تھا۔ عائشہ بیگم سے تعارف لینے کے بعد انہوں نے الہام سے اس کے بارے میں پوچھا تھا جس کا الہام نے جواب دیا تھا۔ وہ خاتون الہام کو بہت محبت سے دیکھ رہیں تھیں جو الہام کو کنفیوز کر رہی تھی۔
” بیٹا میں آپ کو بہت دیر سے دیکھ رہی ہوں مجھے آپ کو ایسے پردے میں دیکھ کر بہت اچھا لگا، ہماری بچیوں کی یہی اصل پہچان ہے” انہوں نے بہت پیار سے الہام کو دیکھ کر کہا تھا۔ دیکھنے میں ہی وہ کسی الائیڈ خاندان سے لگتیں تھیں۔ ڈیزائنر کپڑے، برینڈیڈ جوتا پہنے سر پر دوپٹہ لیے وہ خاتون واقعی کسی بڑے خاندان سے لگتیں تھیں۔ تبھی ابوبکر نے باہر آنے کا میسج کیا تھا۔ اور الہام نے عائشہ بیگم کو باہر جانے کا بتایا تھا۔ عائشہ بیگم نے ان سے اجازت لی تھی جس پر وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کہ وہ بھی نکلنے والی ہیں تو باہر تک ساتھ ہی چلتے ہیں۔ الہام نے چادر سے منہ کو ڈھکا تھا۔ اور ذیشان کی والدہ سے اجازت لینے کے بعد وہ ان کے ساتھ ہی باہر کی طرف نکلیں تھیں۔ اب وہ باہر کھڑے ابوبکر کا ویٹ کر رہے تھے جو پارکنگ سے گاڑی لینے کے لیے گیا تھا کہ اتنے میں ایک بلیک سیویک پاس آ کر روکی تھی۔ اور ان خاتون نے اس میں بیٹھے لڑکے کو باہر آنے کا کہا تھا۔لڑکے نے گاڑی کو سائیڈ پر پارک کیا تھا اور نیچے اتر کر ان کے پاس آکر اسلام کیا تھا الہام کی اچانک نگاہ اس پر پڑی تھی اور ساتھ ہی الہام نے فورا نظریں نیچے کر لی تھیں۔ اور الہام کو ایک نظر دیکھ کر اس لڑکے نے بھی نظریں دوسری طرف پھیر لیں تھیں۔
“یہ میرے بیٹےعمر فاروق ہیں ، تعلیم مکمل کرکے آٹھ سال بعدپاکستان آئے ہیں، یہ مذہبی سکالر ہیں ،ابھی ایک سال ہوا ہے پاکستان آئے” ان خاتون نے لڑکے جو ان کا بیٹا تھا تعارف کروایا تھا۔
اور عائشہ بیگم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے، اتنا جوان لڑکا اور ایک سکالر، جبکہ الہام بھی حیران ہوئی تھی۔سامنےسرمئی رنگ کے قمیض شلوار پہ بلیک کلر کا بلیزر پہنے شاندار پرسنلٹی کا لمبا سا انسان ایک سکالر تھا ایک نظر میں وہ اس انسان کا اتنا ہی مشاہدہ کر پائی تھی وہ جتنی حیران ہوتی اتنا کم تھا۔ وہ کبھی بھی توجّہ نہ دیتی اگر وہ مذہبی سکالر نہ ہوتا، وہ اپنی زندگی میں اتنا کم عمر سکالر پہلی بار دیکھ رہی تھی
“وعلیکم اسلام، ماشااللہ بیٹا خوش رہیے” عائشہ بیگم نے حیرت پہ قابو پاتے جواب دیا تھا۔
“انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی” وہ خاتون معنی خیزی اندازمیں کہتے ہوئے ۔عائشہ بیگم اور الہام سے مل کر اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئیں تھیں۔ جب کہ عائشہ بیگم اور الہام حیران ابھی وہیں کھڑی تھیں اتنے میں ابوبکر گاڑی لے کر آ گیا اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں تھیں۔ عائشہ بیگم نے شبیر عالم کو عمر فاروق کے بارے میں بتایا۔
“اتنی سی عمر میں وہ بچہ سکالر بن گیا” انہوں نے حیرانگی سے کہا۔
” اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے جب ہمارے بچے چھوٹی عمر میں ایم بی بی ایس اور انجینرنگ کر کے ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتے ہیں تو دین کی تعلیم حاصل کر کےسکالرکیوں نہیں بن سکتے، آج تک ہم والدین نے ان کے ڈاکٹر اور انجینئر بننے پر ہی توجہ دی ہے”۔ عالم شبیر نے بہت آرام سے اپنی بات مکمل کی تھی۔ اور عائشہ بیگم ان کی بات سن کر خاموش ہو گئیں تھی کیونکہ وہ بالکل صحیح کہہ رہے تھے۔ جبکہ الہام اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ذیشان کی شادی کو دو دن ہی گزرے تھے کہ اس کی والدہ اپنی بہن کے ساتھ الہام کے گھر اس کے لئے عمر فاروق کا رشتہ لے کر آئیں تھیں۔ عائشہ بیگم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی وہ اپنی بیٹی کے لیے ایسا ہی نیک صفت انسان چاہتیں تھیں۔
“دیکھیں عائشہ مجھے الہام اپنے عمر کے لیے اچھی لگیں ہیں، اس لیے میں نے آپ کے سامنے اپنی بات رکھ دی ہے آپ جیسے چاہیں تسلی کرلیں”۔ عمر فاروق کی والدہ خدیجہ نے بہت ٹھہر اپنی بات مکمل کی تھی۔
“عائشہ ابوبکر توہمیں جانتا ہی ہےاور میرا بھانجا بہت ہی نیک بچہ ہے ۔پھر بھی آپ کا حق ہے آپ بے شک آ کر خود بچے سے مل لیں اور گھر بھی دیکھ لیں” ۔ زیشان کی والدہ نے عائشہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئےاپنی بات کہی تھی۔
“میں الہام کے ابو اور ابوبکر سے بات کروں گی”۔ عائشہ بیگم نے جھجھکتے ہوئے کہا تھا۔
” ہاں بالکل آپ جتنا چاہے وقت لے لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے” ۔ عمر فاروق کی والدہ خدیجہ نے فراخدلی سے مسکراتے ہوئے عائشہ بیگم سے کہا تھا۔
اتنے میں الہام اور حرا چائے کے لوازمات لے کر آ گئیں تھیں۔ ابھی تک ان دونوں کو اچانک آئےمہمانوں کی آمد وجہ معلوم نہیں تھی۔ چائے سرو کرنے کے بعد وہ دونوں بھی وہیں بیٹھ گئیں تھیں۔ جبکہ خدیجہ بیگم نے الہام کو اپنے پاس بٹھایا تھا۔ ڈیلے سے کالے پرنٹڈ کرتے کے نیچے کھلا ٹروزر پہنے سر پر اچھے سے دوپٹہ لپیٹے وہ ان کے دل میں اتر رہی تھی۔ وہ الہام سےاس کی تعلیم اور پسند ناپسند کے بارے میں پوچھ رہیں تھیں۔ چائے پینے کے بعد انہوں نے عائشہ بیگم سے جانے کی اجازت مانگی تھی۔ اور جاتے ہوئے خدیجہ بیگم نے ایک پانچ ہزار کا نوٹ الہام اور ایک پانچ ہزار کا نوٹ حرا ہاتھ میں تھمایا تھا۔ جس پر عائشہ بیگم نے بہت منع کیا تھا اور حرا اور الہام کے انکار کے باوجود انہوں نے ایک نہیں مانی تھی۔
” یہ میں اپنی خوشی سے دے رہی ہو مجھے آپ کی بچیاں بہت اچھی لگی ہیں اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو بالکل ان کے جیسی ہوتی اور بیٹیاں تو ویسے بھی سانجھی ہوتی ہیں اور میں اپنی بیٹیوں کودے رہی ہو”۔ انہوں نے بہت اپنائیت سے عائشہ بیگم کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا۔ جس پر عائشہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں۔ انھوں نے ان کو دروازے تک چھوڑا تھا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
حرا الہام کے کمرے میں آئی تھی۔ الہام بیڈ کے کراون کے ساتھ ٹیک لگائے کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھی۔
“تو آپ کو آنٹی نے بتایا کہ کل مہمان کس سلسلے میں آئے تھے؟”حرا نے الہام کے ساتھ پر بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔
” نہیں” مختصر سا جواب دیا گیا۔
” کیا یاد رکھو گی تمہاری دوست آنٹی سے پوری انفارمیشن لے کر آئی ہے۔”حرا نے الہام سے کتاب لے کر بند کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا تو پھر بتاؤ کیوں آئے تھے؟” الہام نے کتاب واپس لیتے ہوئے لاپرواہی سے سوال کیا۔
“وہ جن سکالر کے بارے میں تم نےحیران پریشان ہو کر مجھے بتایا تھا ان کا رشتہ تمہارے لیے لے کر آئے تھے۔” حرا نے آنکھ مارتے ہوئے الہام کو ان کے آنے کی وجہ بتائی تھی۔ جبکہ الہام حیران پریشان بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی۔
” کیا ہو گیا ہے”۔ حرا نےاپنا ہاتھ الہام کی آنکھوں کے آگے لہرا تے ہوئےاسے واپس اپنی دنیا میں لایا تھا۔
” امی ابو نے کیا کہا”؟الہام نے سوال کیا تھا۔
” آنٹی نے شام میں ابوبکر اور انکل سے بات کی تھی اور کیوں کہ ابوبکر ان کو ذیشان بھائی کی وجہ سے پرسنلی جانتے ہیں انہوں نے بہت تعریف کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک انسان جس نے اپنی زندگی کے رنگین آٹھ سال قرآن اور اسلام کی تعلیم کو دیے وہ برا کیسے ہو سکتا ہےوہ تو پہلے ہی خود کو یونیک ثابت کرچکا ہے ۔اور وہ مزید کہتے ہیں کہ عمر فاروق کو کون نہیں جانتا نوجوان نسل کی توانسپائریشن ہے، سوشل میڈیا پہ ملین کے حساب سے فالوورز ہیں۔” انکل آنٹی بہت خوش ہیں اور آنٹی نے مجھے تم سے پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔” حرا نے رٹے ہوئے سبق کی طرح پوری تفصیل بتائی تھی۔
“لیکن اس دن تو شادی سے آتے ہوئےابوبکر بھائی نے نہیں بتایا” الہام نے حیرانگی سےحرا سےسوال کیا تھا۔
“کیا پتا تب انہوں نے ضروری نہ سمجھا ہو” حرا نےالہام کو جواب دیا تھا۔
” ہو سکتا ہے” الہام نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا تھا۔
“تو اب تم کیا کہتی ہو”۔ حرا اپنی اصل بات پہ آئی تھی۔
“جیسا امی ابو کو ٹھیک لگے وہ لوگ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔” الہام نے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔
“واہ سچ میں۔” حرا نے خوشی میں الہام کو گلے لگایا تھا۔
“الہام تم خوش ہو نا”حرا نے الہام کو خود سے الگ کرتے ہوئے اداسی سے پوچھا تھا۔
“ہاں میں خوش ہوں، کیونکہ یہ اللہ نے میرے لئے پسند کیا ہے، اللہ کی پسند تو اپنے بندے کے لئےانمول ہوتی ہے، کہاں میں اللہ کی ایک عام سی بندی اور کہاں وہ اللہ کا خاص بندہ، اللہ نے مجھے میری سوچ سے زیادہ نواز دیا ہے۔” الہام نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا تھا۔
“تم بھی تو اللہ کی خاص بندی ہوں، پسندیدہ بندی ہو،” حرا کو الہام کا خود کو عام کہنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔
“میں صرف اللہ کو جانتی ہو، وہ اللہ کو پہچانتا ہے” الہام کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
“اچھا چلو جو بھی ہے، یہ بتاؤ تمہاری آرمی کا کیا ہوگا” حرا کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ الہام کی آنکھوں میں ایک دم اداسی بھر آئی تھی۔ جسے حرا نے باخوبی نوٹس کیا تھا۔
” کوئی نہیں تم اپنے بیٹے کو آرمی میں بھیج دینا” حرا نے ایک دم سے بات پلٹی تھی۔ جس پر الہام خوب ھنسی تھی۔
“پتا ہے حرا ہو سکتا ہے مجھے کوئی آرمی پرسن مل جاتا لیکن اس بات کی کیا گارنٹی تھی کہ وہ ایک نیک انسان بھی ہوتا اور مجھے ایسے ہی اپناتا جیسی میں ہوں، ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، ضروری نہیں ہوتا جس چیز کی ہم چاہ کر رہے ہو ہمارے حق میں بہتر ہو، اللہ کی ذات پہ اندھا یقین کیا جاتا ہے وہاں اگر مگر نہیں ہوتی۔” الہام نے اپنی بات پوری کی تھی اور حرا نے اس کو گلے لگایا تھا۔
“ہمیشہ خوش رہو، میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں، چلو اب ذرا عمر بھائی کوسرچ کرتے ہیں میں بھی تو دیکھوں دیکھنے میں کیسے ہیں” حرا نے الہام سے الگ ہو کر آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی پاس پڑا لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔ فیس بک آن کرکے اس نے سرچ بار میں عمرفاروق لکھا تھا۔ جس میں بہت سارے عمر فاروق آ گئے تھے۔
“یہ رہے ہمارے عمر فاروق بھائی” سب سے پہلے نمبر پر آئے عمر فاروق پہ اس نے کلک کیا تھا، کیوں کہ ایک وہی واحد عمرفاروق تھا جس کے ملین کے حساب سے فالورز تھے۔
“یہ کیا کرتے ہیں، میرا مطلب ہے ان کا ذریعہ معاش کیا ہے” الہام نے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ حرا لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر مسکراتے ہوئے الہام کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
“آہم آہم یہ کیا کرتے ہیں” اس نے الہام کوزچ کرنا ضروری سمجھا تھا۔
“بس میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ وہ دین کے نام سے تو پیسا نہیں کما رہے، ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے لیکن میں یہ سوچ رکھتی ہوں کہ اگر آپ کوئی اور قابلیت رکھتے ہیں تو دین کے نام پہ پیسا اپنے لیے نہ کمائیں” الہام نے اپنے سوال کی وجہ حرا کو بتائی تھی۔
“ابوبکر اور آنٹی بتا رہے تھے عمر بھائی کے ابو مشہور میڈسن کمپنی اون کرتے ہیں “کیا نام بتایا تھا اس نے ہاتھ سر پر رکھتے دماغ پہ زور ڈالتے سوچنے کی کوشش کی تھی “میں بھول گئی ہوں، خیر عمر بھائی کو باہر سے آئے ابھی ایک سال ہوا ہے اور آتے ہی اپنے بابا کے ساتھ کمپنی جوئن کرلی تھی۔ اس کے علاوہ ایک پرائیویٹ چینل پہ ان کا روحانی پروگرام بھی آتا ہے، کسی یونیورسٹی میں لکچر بھی دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ حرا نے ایک سانس میں پوری تفصیل بتائی تھی اور آخر میں گہرا سانس لیا تھا “اور کچھ پوچھنا ہے” یعنی وہ اپنی دوست کے لئے پوری ڈیٹیل لے کر آئی تھی۔الہام نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا تے ہوئے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کیا تھا کہ یعنی اب وہ اپنا کام جاری رکھ سکتی ہے۔ حرا اس کو گھوری سے نوازتے ہوئے دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
حرا نے اونچی آواز میں نام کے نیچے بئیو میں لکھے گئے الفاظ پڑھے تھے
Be a modern man with good Ikhlaq and a lot of Deen in you!!
الہام جو خود کو کتاب میں مصروف ظاہر کر رہی تھی اس کے ان الفاظ پہ اس کی آنکھیں اٹھیں تھیں ہاں یقینا مرد کو ایسا ہی ہونا چاہیے اس نے سوچا تھا اور اس کی آنکھ میں ایک چمک ابھری تھی۔اس نے بے احتیار نظر اٹھا کر لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا تھا جہاں اب حرا اس کی انفو پڑھنے میں مصروف تھی۔
Studied Quran and hadith at Al-Azhar University, Eygpt
From Islamabad, Pakistan
اس نے اپنا کوئی لمبا چوڑا انٹروڈکشن نہیں دیا تھا۔ اب حرا نے پروفائل پکچر اوپن کی تھی۔ بلیک جینز کےاوپربلیک ہڈ، سر پر گرم ٹوپی پہنے، بنا موچوں کے لمبی داڑھی، دراز قد کے ساتھ وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس کی یہ پکچر نادرن ایریا میں کسی جگہ پر لی گئی تھی!
” الہام” حرا نے ایکسائٹڈ ہو کر اونچی آواز میں پکارا تھا۔
“یہ تو وہی ہیں جن کی کچھ مہینے پہلے نادرن ایریا میں نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی تھی”۔ اس نے الہام کو دیکھتے ہوئے اپنی بات کہی تھی۔ الہام نے تصویر کو پھر سے دیکھا تھا۔
“ہاں واقعی ہی یہ تو وہی ہیں” الہام نے حرا کی پیروی کرتے ہوئے کہا تھا۔ وہ حیران تھی کچھ ہی مہینے پہلے جب ویڈیو وائرل ہوئی تھی الہام ویڈیو دیکھنے کے بعد کتنی ہی دیر اس انسان کے بارے میں سوچتی رہی تھی، کہ دسمبر کی اتنی ٹھنڈ اور بھیڑ بھی اسے اللہ کے ذکر سے روک نہیں پائی تھی۔ الہام کی دلچسپی اس انسان میں بڑھانے لگی تھی۔
” ویسے عمر بھائی سکالرکم اور بالی وڈ ہیرو زیادہ لگتے ہیں بس ان ہیروز کی داڑھی زیادہ لمبی نہیں ہوتی، میں تو ابھی سے ان سے بہت ہی امپریس ہو گئی ہوں” حرا نے چھیڑنے کے انداز میں الہام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جس پر الہام نے اسے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ مارا تھا۔ اور کمرے میں حرا کا قہقہ گونجا تھا۔
“اچھا یار ان کی کوئی ویڈیو دیکھتے ہیں “، حرا نے یہ کہتے ہوئےویڈیوز اوپن کی تھی ان میں سے ایک ویڈیو کھولی تھی۔ ویڈیو میں وہ سپیچ دے رہا تھا۔ یہ شاید کسی کالج کا سیمینار تھا کیونکہ وہاں موجود بچے سب ٹین ایجرز تھے۔ بلو جینز پہ بلیک ٹی شرٹ اور سر پر بلیک اسپورٹس کیپ پہنے وہ اسٹیج پر کھڑےمسلسل بول رہا تھا۔ وہ عام سے حلیے میں بھی پر اثر شخصیت کا مالک تھا۔ حرا نے ویڈیو کو تھوڑا سا آگے کیا تھا جہاں وہ بچوں سے مخاطب تھا۔
“آپ لوگ دین اسلام کا مستقبل ہیں، آپ آنے والی جنریشن کے معمار ہوں گے، لیکن سوال یہ ہے کیا آپ لوگ خود اس قابل ہیں کہ آنے والی جنریشن کو اچھی تربیت دے سکیں، بات یہ ہے کہ ہم سب نے دین پہ دنیا کو فوقیت دی ہوئی ہے،ہم آج تک دونوں میں بیلنس نہیں کر پائے ہیں، دین یہ نہیں کہہ رہا کہ دنیا کو چھوڑ دو، اللہ نے صرف اگر اپنی عبادت کروانی ہوتی تو دنیا کیوں بناتا فرشتے تو پہلے سے اس کی عبادت کے لیے موجود ہیں، پر افسوس ہم آج تک اس بات کو سمجھ نہیں پائے، چلیں چھوڑیں آپ لوگوں کی بات کرتے ہیں، ہمارا نوجوان آج کل کیا کر رہا ہے، ہمارا نوجوان آج کل خود کو کول دکھانے میں مصروف ہے۔ سگریٹ ہاتھ میں پکڑ لی ، دوسرے انسان کو نیچا دیکھادیا، شیشہ پیتے ہوئے رینگز نکال کر ویڈیو بنا لی، ڈی ایس ایل آر سے فوٹو شوٹ کروا لیا، اوہو میں تو بڑا کول لگ رہا ہوں، اور مذاق میں گالی نکال دی ان کے نزدیک یہ سب چیزیں ان کو کول بناتی ہیں، اس کے بعد سب سے بڑی بیماری مخالف جنس کی طرف اٹریکشن، گرل فرینڈ بوائےفرینڈ بنانا عام سی بات ہو گئی ہے۔ اس سے بھی بڑی بیماری آپ کے ہاتھ میں پائے جانے والا فون،جو سب بیماریوں کا سبب بنا۔ فون ہاتھ میں ہواور تنہائی میسر ہواور نئی نئی جوانی چڑھی ہو تو آپ آٹومیٹکلی سکچول کانٹینٹ کے لئے مختلف ویب سائٹس وزٹ کرتے ہیں۔ آپ خود پر کنٹرول لوز کر دیتے ہیں، آپ اپنے نفس پہ کنٹرول ہی نہیں کر پاتے۔ یہ تو میں نے نوجوان نسل کی اہم بیماریاں بیان کی ہیں اب ہم اس کے حل کی طرف آتے ہیں۔ اب آپ لوگ بتائیں میں پہلے کس پہ بات کروں۔ایک لڑکا کھڑا ہوا تھا۔
Sir, Firstly we want you to talk on the last one.
لڑکے نے مہذب انداز میں اپنی خواہش ظاہر کی تھی۔ جس پر عمر نے سر ہلا یا تھا۔
“”او کے پھر ہم شروع کرتے ہیں ، اللہ قرآن کی سورہ نحل ، آیت نمبر نوے کے آخر میں فرماتا ہے۔
وَيَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ وَالۡبَغۡىِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ
اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو!!
اس نے بہت خوبصورتی سے قرآن کی آیت پڑھنے کے بعد اس کا ترجمہ پڑھا تھا ، بچے توجہ سے اس کو سن رہے تھے جیسے سب اس کی آواز کے سحر میں جکڑے ہوں۔
یعنی اللہ نے ہمیں یہاں بتا دیا کہ بے حیائی کے پاس نہیں جانا اور ہر بری بات سے دور رہنا ہے اب بری بات کو پہچان میں کیسے لانا ہے ، تو میں آپ کو بتا تا ہوں کہ ہر وہ بات جو آپ کے دل میں کھٹکے وہ بری ہے۔یہاں تو اللہ نے ہمیں بے حیائی سے منع کر دیا، اور پھر قرآن میں ہی اس سے بچنے کی ترعیب دے دی ،سورہ العنکبوت آیت نمبر 45 میں فرمایا،
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ؕ
اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا اچھا ہے۔
یعنی اگر آپ نماز کے پابند رہو گئے تو بے حیائی سے بچ جاؤ گئے اب آپ سب کے دماغ میں بات ہوگی کہ ایسا کیسے ہو سکتا، یہ ایسے ہوگا کہ مثال کہ طور پر آپ نماز ادا کر کےاپنے روم میں اکیلے بیٹھے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں فون ہے ، اور فری ٹائم بھی ہے ، اور آپ فیس بک سکرل کر رہے ہیں اچانک کسی لڑکی کی قابل اعتراض تصویر سامنے آگئی، آپ کا نفس اکٹیو ہوگیا، اس سے زیادہ کی خواہش، شیطان نے ترغیب دی، کیونکہ وہ صرف ترغیب دیتا ہے عملی جامہ ہم خود پہناتے ہیں، ضمیر نے جھنجھوڑا ” نہیں تم نے ابھی نماز پڑھی ہے ، تم وضو میں ہو ، تم نے ابھی اگلی نماز بھی پڑھنی ہے ، سو میں سے ننانوے لوگ ضمیر کی آواز سن کر ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔اور شیطان منہ کی کھاتا ہے۔ نماز پڑھ کے آپ خود با خود اچھے کاموں کی طرف گامزان ہو جاتے ہیں کیونکہ جب آپ کے ذہین یہ چیز بیٹھ جاتی ہے نا کہ میں تو نماز پڑھتا ہوں تو آدھے کام تو اس بات پہ بن جاتے ہیں ، بہت سے اچھے کام آپ یہ سوچ کر اپنا لیتے ہیں کہ فائدہ ایسی نماز کا اگر میں یہ اچھا کام نہیں کر رہا تو ، اسی طرح بہت سے کام یہ سوچ کر چھوڑ دیں گئے کہ کیا فائدہ ایسی نماز کا اگر میں یہ برا کام نہیں چھوڑ رہا تو ، اس طرح نماز آپ کی کریکٹر بلڈنگ کرتی ہے۔آپ نے فائٹر بننا ہے اپنے نفس سے فائٹ کرنے والا، آپ نے اپنے نفس کا غلام نہیں بننا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی تنہائی کو پوزیٹیو وےمیں استعمال کریں، بھیڑ میں تو ہر انسان پاسا بنا پھرتا ہے، بات تب ہے تنہائی میں پارسا بنے، خود کو مصروف رکھیے، وہ ٹائم جس میں آپ کو لگے کہ آپ فری ہوں گے اس میں جم جوائن کرلیں، یا سوئمنگ کلاسز جوائن کرلیں، کوئی کتاب پڑھ لیں اور یہ سب تبھی پوسیبل ہوگا جب آپ کی ول پاور مضبوط ہوگی کہ ہاں بھائی! میں نے اپنی تنہائی کو پاکیزہ بنانا ہے۔ وقت کی کمی ہے اور باتیں زیادہ ہیں۔
Now come towards girlfriend,boyfriend, heartbreaks۔
آپ میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ اسلام گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسے رواج کو بالکل ایکسیپٹ نہیں کرتا، کوئی پسند ہے نکاح کر لیں، کیا آپ میں سے کوئی چاہے گا کہ آپ کی بہن کسی کی گرل فرینڈ بنے ،یقینا نہیں، تو پھر آپ دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو گرل فرینڈ بنانا چھوڑ دیں، آپ کی اپنی بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہو جائیں گی۔ جب اس دور کے ابن آدم، یوسف کے اوصاف اپنا لیں گے تو اس دور کی زلیخا اس دور کی زلیخا کی طرح سدھر جائے گی۔ اگر کسی عورت کو نکاح میں نہیں لے سکتے تو اس کے دل کے ساتھ کھیلنا بھی چھوڑ دو ، ہر چیز کا کفارہ موجود ہے لیکن دلوں کے توڑنے کا کوئی کفارہ نہیں ہے، روزہ چھوٹ گیا دوبارہ رکھ لو، نماز رہ گئی قضاء ادا کر لو لیکن اگر کسی کا دل توڑ دیا تو یہی اصل مشکل ہے، اس کے لیے کوئی کفارہ نہیں ہے اس میں تمہیں مکافات عمل سے گزرنا پڑے گا جیسے تم نے کسی کی بہن بیٹی کا دل دکھایا اسی طرح تمہاری بہن یا بیٹی کا دل دکھایا جائے گا لیکن معافی پھر بھی نہیں ہوگی جب تک وہ انسان خود معاف نہیں کرے گا۔ بلھے شاہ فرماتے ہیں
مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے
ڈھیندا جو کُج ڈھا دے
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں
رَبّ دِلاں وِچ رہندا۔۔۔
بُلھے شاہ
آپ میں سے اگر کسی کو مسجد کو شہید کرنے کا کہا جائے تو کیا آپ ایسا کریں گے بالکل بھی نہیں اور جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی جائے گی تو کہیں گے یہ اللہ کا گھر ہے، تو ہمارا دل بھی تو اللہ کا مسکن ہے تم اس کو کیسے توڑسکتے ہو، تو آپ لوگ دلوں کو جوڑنے والے بینں۔ خود کو اللہ کے ذکر سے آراستہ کریں ورنہ ہمیشہ بے چین رہیں گے۔ جس طرح مٹی پر پانی کے چھینٹے مارو تو وہ خوشبو دیتی ہے، اسی طرح روح کو اللہ کے ذکر کا چھینٹا دیا جائے تو وہ روحانی سکون دیتی ہے۔ دین اور دنیا کو بیلنس رکھیں۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر رکا تھا۔
Any question ,after that I will make an end
جس پرایک لڑکا کھڑا ہوا تھا، عمر نے سر ہلا کر سوال پوچھنے کا کہا تھا۔
Sir, I don’t have any question but I want to say some words for you, You are an inspiration for the youngsters, you changed the people thoughts regarding religion, we used to think Deen will make us prisoner , but seeing you in a western dress with beard , and seeing your pictures while hiking ,swimming, gyming really motivate us towards our religion. Thank you for bringing positivity in us.
لڑکے کی بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ جبکہ عمر مسکرا رہا تھا۔ تالیاں ختم ہونے پہ اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا تھا۔ بچو آپ نے اپنے ذہن میں یہ چیز بٹھا لینی ہیں کے سلام صرف حرام سے روکتا ہےزندگی جینے سے منع نہیں کرتا۔ دین اور دنیا میں بیلنس قائم کریں۔میرا سوشل میڈیا کا استعمال صرف اسی وجہ سے ہے کہ نوجوان نسل کی سوچ کو بدل سکوں کہ
Be a modern man with good Ikhlaq and a lot of Deen in you!
اب آخر میں آپ لوگوں سے کہوں گا یاد رکھیے گا بڑی منزلوں کے مسافر چھوٹا دل نہیں رکھتے۔ منزل کیا ہے، ہماری منزل جنت ہے، بڑا دل کیسے رکھنا ہے، بڑی سے بڑی مشکل میں صبر کرنا ہے ، معاف کر دینا ہے، خواہشیں چھوڑ دینی ہیں، جھکنا سیکھنا ہے ، درد میں بھی مسکراہٹیں بانٹنی ہیں، بانٹنا سیکھنا ہے چاہے وہ دکھ ہو ، رزق ہو، خوشی ہو ، بوجھ ہو!!
ہم جنّت میں ساتھ بیٹھے خود پے ہنسیں گے
کہ یونہی افسردہ تھے بے وجہ کی باتوں پہ
آخر میں اس نے شعر پڑھنے کے ساتھ ہی فی امان اللہ کہا تھا اور ہال میں تالیوں کی گونج تھی۔ اب وہ اسٹیج سے نیچے اتر رہا تھا اور لڑکے اس سے ملنے کے لیے اس کے ارد گرد جمع ہو رہے تھے۔ ویڈیو ختم ہوچکی تھی، الہام اور حرا کسی ٹرانس کی کیفیت سے باہر آئی تھیں۔
جاری ہے !!
