Kun Faya Kun By Amna Gull Readelle50230 Epidode 21
No Download Link
Rate this Novel
Epidode 21
ناول کن فیکون
تحریر آمنہ گل
الہام صدمے کی کیفیت میں بیٹھی ، اپنے الفاظ پہ غور کر رہی تھی۔ جب دروازہ ناک کرکے وریشہ نے اندر جھانکا تھا۔
” الہام کیا میں اندر آجاؤں۔” اس کے کہنے پہ الہام نے جلدی سے آنسو صاف کر کے خود کو کمپوز کیا تھا ، جو بھی تھا وہ وریشہ کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” وہ میں نے تم سے کل بات کرنی تھی ، لیکن ابھی جہانداد کو گاڑی لے باہر جاتے دیکھا ، تو سوچا ابھی بات کر لوں۔” اندر آتے اس نے وضاحت دی تھی۔ الہام نے بیڈ پہ بیٹھے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ، اب کیا کہنے والی تھی وہ ، کیا وہ کوئی خلاف توقع بات کرنے والی تھی ۔
” الہام کل کے لیے ایم سو سوری، میں بہت شرمندہ ہوں ، پتہ نہیں میں اتنی خود سر کیسے ہوگئی ، تم نے ٹھیک کہا تھا ، میں اپنے خاندان والوں کی پرچھائی سے بھی نہیں ملتی ، تمھارے کچھ جملوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ، تم نے کہا کہ اللہ جانتا کہ میں کیسی مجھے دنیا کی پرواہ نہیں ، تب میں ڈر گئی تھی الہام ،کیونکہ ایسے بندے پہ تہمت لگانے والے کوپھر خود اللہ اپنے طریقے سے جواب دیتا، مجھے لگا میں کبھی اللہ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکوں گی ، مجھے ایک دم اپنی ساری نمازیں بے معنی لگی الہام ۔” الہام کے پاس بیڈ پہ بیٹھی وہ رو رہی تھی اور ساتھ اپنی ندامت بتا رہی تھی۔ اور اس کے الفاظ سن کو الہام کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔ الہام کو خاموش پا کر وریشہ مزید بولی تھی۔
” شام سے میں کمرے میں ندامت کے آنسو بہاتی رہی ، شاہ میر نے جب جہانداد کو فون کر کے بتایا تو انھوں نے مجھے فون کیا ، میں ان کے سامنے روئی ، معافی مانگی اور انھوں نے مجھے ہمیشہ کی طرح سمجھا ، مجھے کہا کہ میں معافی مانگوں آپ سے ، لیکن میں اتنی شرمندہ تھی کہ میں نے کہا میں یہ نہیں کر پاؤں گی ، تو پھر میں نے کہا کہ جب آپ آئیں گئے تو آپ کے ساتھ جاکر الہام سے معافی مانگ لوں گی۔” وریشہ بول رہی تھی اور الہام کے ایکسپریشن تبدیل ہورہے تھے ، اب اس کو اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہورہا تھا۔
” پھر جب آج وہ آۓ تو کیونکہ کل شام سے ندامت میں، میں نے کچھ کھایا نہیں تھا تو میری طبیعت کافی ڈاون تھی اور ہلکا بخار بھی ہو چکا تھا ، تو جہانداد مجھے دیکھ کر ڈانٹتے ہوۓ ، ڈاکٹر کے لے گئے ، اور آتے ہوۓ مجھے کھانا بھی کھلایا اور آ کر کہا کہ میں آرام کروں ، الہام سے بعد میں بات کرلینا۔” وریشہ نے تفصیل سے بتایا تھا شاید وہ الہام کے آنسو دیکھ کر کچھ کچھ اندازہ کر پائی تھی کہ کچھ غلط ہے۔ الہام کو پوری بات سن کر خود کے جذباتی ہونے پہ انتہا کا غصہ آیا تھا۔
” الہام تم لکی ہو تمہیں جہانداد ملے ،وہ عام روایتی مردوں جیسے نہیں ہیں ، جذبات سے کام لینے والے ، وہ بہت اعلی ظرف انسان ہیں ، جن کو صرف محبت دینا آتی ہے ، تم مجھے معاف کردو۔” وریشہ اب رونا بند ہو چکی تھی ، لیکن ناک اب بھی سوں سوں کر رہا تھا۔ اس کی بات پہ الہام مسکرائی تھی ، وہ آگے بہت کچھ غلط کر چکی تھی اور سامنے بیٹھی لڑکی دل سے شرمندہ تھی ، وہ اسے مزید ندامت نہیں دلانا چاہتی تھی۔ الہام نے وریشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
” بچے کچھ غلط کر کے اپنی غلطی تسلیم کر لیں نا تو پھر بڑوں کو بھی چاہیے اپنا دل بڑا کر لیں ، مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ، مجھ سے دوستی کرو گی۔” ساری بات سنجیدگی سے کہتے آخری بات پہ الہام مسکرائی تھی ، اور وریشہ سر ہلاتے الہام کے گلے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں ماما بابا بھی آچکے تھے ، جہانداد ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ ماما بابا کے پوچھنے پہ شاہ میر نے بتایا تھا کہ بھائی کسی دوست کے ہاں کوئی ایمرجنسی ہوگئ ہے تو ادھر گئے ہیں۔ الہام کے علاوہ سب نے مل کر ایک ساتھ کھانا کھایا تھا۔ کیچن میں چاۓ بناتے ہوۓ وریشہ اور الہام کو خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے دیکھ شاہ میر پہ حیرت کے پہاڑ ٹوٹے تھے ، جبکہ وریشہ نے اس کی حالت پہ قہقہ لگایا تھا ، جبکہ الہام صرف مسکرائی تھی۔ وہ صرف جسمانی طور پہ ان کے ساتھ موجود تھی ، دماغی طور پہ اس کا دھیان جہانداد کی طرف تھا، غصے میں وہ بہت غلط بول چکی تھی۔ کتنی بار فون بھی کر چکی تھی مگر کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ باتوں باتوں میں رات کے گیارہ بج چکے تھے مگر اب تک جہانداد نہیں لوٹا تھا۔ الہام اب اپنے روم میں جا کر نماز پڑھنے کا سوچ رہی تھی جب گاڑی کی آواز آئی تھی۔ ” وہ آگئے۔” دل نے خوشی منائی تھی۔ ” تم نے جو کیا، کیا وہ تم سے بات کرے گا۔” دماغ سے سرزش کی تھی۔ دماغ کو کنٹرول نا کیا جاۓ تو یہ لامحدود سوچوں کا بھار آپ کے وجود پہ ڈالے رکھتا ہے۔ جہانداد اندر داخل ہوا تھا،شام والے حلیے میں تھکا ہوا سا ، الہام کو پھر سے خود پہ غصہ آیا تھا وہ اتنے لمبے سفر سے آیا تھا اور اس نے اسے آرام کرنے تک کا موقع نہیں دیا ۔سب کی نظریں اس پر اٹھی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح ماں سے آکر ملا تھا ،ان کو گلے لگا کر ان کے سر کو چھومتا، ان کی خیریت پوچھ رہا تھا، پھر اٹھ کر بابا سے ملا تھا ، اور پھر شاہ میر سے ملنے کے بعد پھر سے ماں کے پہلو میں جاکر بیٹھا تھا۔
” اب طبعیت کیسی ہے ۔” وریشہ کی طرف دیکھتے سوال کیا تھا۔
” جی اب بہت بہتر ، ” ہاں شام میں تھوڑی طبعیت خراب تھی تو جہانداد ڈاکٹر کے لے گئے تھے۔” سب کی سوالیہ نظروں کو دیکھتے وریشہ نے ساتھ ہی سب کو بتایا تھا۔الہام چپ چاپ کھڑی تھی ، جہانداد نے اب تک اسے نظر اٹھا کر دیکھا تک نہیں تھا، دل کو ٹھیس سی پہنچی تھی۔ بابا اجازت لیتے اپنے کمرے میں جاچکے تھے۔
” بھابھی آپ کھڑی کیوں ہیں ، بیٹھیں نا۔” شاہ میر نے الہام کو کھڑا دیکھتے کہا تھا، جہانداد نے سرسری سی نظر اٹھا کر اسے دیکھ کر واپس نظریں ہٹا لی تھی۔ اس سے پہلے الہام کچھ بولتی ، ماما نے جواب دیا تھا۔
” الہام میری بیٹی ، میرے پاس آکر بیٹھیں ، انھوں نے اپنی دوسری سائیڈ پہ بیٹھنے کو کہا تھا۔ الہام ان کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔ ماما نے جہانداد سے کھانے کا پوچھا تھا ، جس پہ اس نے کہا تھا کہ وہ کھا کر آیا ہے۔
” میں آپ کے لیے چاۓ بنا کر لاتی ہوں۔” وریشہ نے کہا تھا۔
” نہیں وریشہ بچے ، چاۓ اس ٹائم صرف الہام کے ہاتھ کی پیوں گا ، آپ کے ہاتھ کا گرم پانی تھکاوٹ میں پینے کا حوصلہ نہیں۔” جہانداد نے عام سے لہجے میں کہتے آخری بات پہ منہ بنایا تھا۔ جس پہ شاہ میر کا قہقہ گونجا تھا، جبکہ وریشہ نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا کیونکہ یہ اس کے لیے اب عام بات ہوگئی تھی الہام کو تو ایک دم اپنی قسمت پہ رشک محسوس ہوا تھا ، کیا تھا وہ ، ناراض بھی تھا مگر سب کے سامنے اس کو معتبر بھی کر رہا تھا۔ الہام اٹھی تھی جب پیچھے سے اسے ماما کی آواز آئی تھی، وہ رکی تھی۔
” دیکھو الہام نے تمھارے آنے کی کتنی اچھی تیاری کر رکھی تھی۔” جہانداد مسکرایا تھا۔
” جی ماما ایسی ویسی میں تو حیران رہ گیا۔” اس کے لہجے میں موجود طنز صرف الہام سمجھ پائی تھی ، شاہ میر ٹھیک کہتا تھا ، وہ بہت پیار سے لفظوں کی مار مارتا تھا۔ الہام جانے لگی تھی جب پھر سے پیچھے سے ماما کی آواز آئی تھی اور پھر سے قدم رکے تھے۔
” ہاں دیکھو میری بچی آج کتنی پیاری لگ رہی ، اور اس نے تمھاری لیے بریانی بنائی اور تم باہر سے کھانا کھا آۓ۔” ماما اس سے نازاض ہو رہیں تھیں۔ جہانداد نے اپنی ماں کو بہت محبت سے دیکھا تھا جو اس وقت اسے اپنے سے زیادہ الہام کی ماں لگ رہی تھیں۔
” سچ میں ماما میرے ذہین سے نکل گیا، ایم سوری ، سنیں میرے لیے تھوڑی سی بریانی بھی نکل کر لے آئیں۔” اس نے نرمل انداز میں الہام کو پیچھے سے کہا تھا ، جس پہ الہام سر ہلاتے کیچن میں چلی گئی تھی، اس کی بے رخی دل کو بوجھل کر رہی تھی اور غلطی بھی اس کی اپنی تھی ، اب اسے خود ہی سب ٹھیک کرنا تھا، ایک گہرا سانس لے کر وہ اپنے کام میں مصروف ہوچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ واپس اپنے کمرے میں آچکی تھی جبکہ جہانداد اب بھی وہیں موجود تھا۔ آج اس نے بناء سوچے سمجھے بہت کچھ خراب کر دیا تھا۔ لیکن اس نے سب گھر والوں کے سامنے اس کا مان رکھا تھا۔ واقعی ہی میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں جوآپس کی کمزوریوں پہ سب کے سامنے ایک دوسرے کا پردہ رکھتے ہیں ، اور جہانداد نے آج یہی کیا تھا۔ وضو کرکے نماز ادا کرکے اس نے دعا میں اللہ سے معافی طلب کی تھی۔ تبھی جہانداد کمرے میں داخل ہوا تھا۔ بناء الہام کی طرف دیکھے ، اب صوفے پہ بیٹھا جھک کر اپنے شوز اتر رہا تھا۔ الہام اٹھ کر جائے نماز تہہ کر رہی تھی۔
” لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور رب کے بندوں کا دل بھی دکھاتے ہیں۔”
شوز اٹھاۓ ڈریسنگ کی طرف جاتے بناء الہام کی طرف دیکھے جہانداد نے کہا تھا، الہام نے فرط جذبات آنکھیں بند تھیں ، اسے بھلا اس کے ایسے رویے کی کب عادت تھی، وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اپنے رب کے سامنے بھی شرمندہ تھی، لیکن ندامت اتنی تھی کہ وہ کچھ بول نہیں پائی تھی۔ انسان کی یہی کمزوری ہے غصے میں بولتے پیچھے موڑ کر نہیں دیکھتا، اور شرمندگی میں اس سے کچھ بولا نہیں جاتا۔ جہانداد شوز ریک میں رکھ کر ، اپنی چیزیں سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا ،ڈریسنگ سے کپڑے لے کر واشروم چلا گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد الہام نے جاۓ نماز ٹیبل پہ رکھی تھی اور صوفے پہ بیٹھے الفاظ ترتیب دینے لگی تھی جو اسے جہانداد کو بولنے تھے۔ دوپٹہ اتر کر شانوں پہ ڈالا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر بال ٹھیک کیے تھے ، بالوں کی ڈھیلی سی چوٹیا آگے کی طرف کی تھی، اور پھر دوبارہ سے صوفے پہ آکر بیٹھ گئی تھی۔ تھوڑی دیر میں جہانداد گرے ٹی شرٹ اور بلیک نائٹ پینٹ میں برآمد ہوا تھا، بالوں کو ٹاول سے رگڑتا ، الہام نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا تھا ، جو اس سے بے نیاز سے اب گیلا ٹاول ڈریسنگ کارنر کی ایک سائیڈ پہ پھیلا رہا تھا۔
” جہانداد ۔” الہام کو اس کا نام پہلی بار لینا اتنا مشکل نہیں لگا تھا ، جتنا آج لگا تھا۔ جہانداد اس کی آواز کو اگنور کرتا ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ہوا تھا الہام خاموشی سے اس کو دیکھ رہی تھی ، اس نے برش لے کر بال بنا کر واپس رکھا تھا۔ اور داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے پیچھے موڑا تھا اور بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔
” جہانداد ۔” الہام نے اس کو بیڈ کی طرف جاتے دیکھ پھر سے پکارا تھا۔
” میں بہت تھک گیا ہوں ، آرام کرنا چاہتا ہوں اور پلیز لائٹ آف کر دیں۔” یہ کہتے وہ بیڈ پہ دراز ہوا تھا، اور بازو آنکھوں پہ رکھے اس نے آنکھیں بند کی تھی۔اس کے جواب پہ الہام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوۓ تھے، لیکن ساتھ ہی اٹھ کر اس نے لائٹ آف کی تھی ، وہ پہلے ہی اسے بہت بے آرام کر چکی تھی مزید نہیں کرنا چاہتی تھی. موبائل کی روشنی کی مدد سے وہ سلائیڈنگ ڈور تک آئی تھی اور اسے کھول کر باہر ٹیرس پہ آئی تھی۔ شام سے رکی بارش نے ایک بار پھر سے زور پکڑ لیا تھا۔الہام کے آنسوؤں میں روانی آئی تھی۔ وہ ٹیرس پہ موجود کرسی پہ بیٹھی تھی، ٹیرس پہ موجود شیڈ اسے بارش سے محفوظ رکھے ہوۓ تھا۔بارش کی تیز بوندیں دل کی اداسی میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ کبھی تیز ہوا کی وجہ سے بارش کی کچھ چھینٹے اس پہ پڑ جاتے تھے، لیکن اسے پرواہ کہاں تھی ، ٹانگیں اوپر کیے کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔
” یہاں کیا کر رہی ہیں آپ ، اندر چلیں۔” دروازے پہ کھڑے جہانداد نے اسے پکارا تھا۔ الہام اس کی آواز پہ سیدھی ہوئی تھی فوراً آنسو صاف کرکے اسے دیکھا تھا جو کھڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔” الہام نے اسے دیکھتے نظریں جھکاۓ جواب دیا تھا۔
” اور آپ بارش میں باہر آ کر بیٹھ گئیں ، کیوں آپ مجھ بے سکون کر رہی ہیں ، فوراً اندر آئیں۔” وہیں کھڑے اس نے حکم دیا تھا۔
” میں آپ کو بے سکون کر رہی۔” نا چاہتے ہوۓ بھی لہجہ بھیگا تھا۔
” کیا آپ نے نہیں کیا ، اور اب آپ مزید کر رہی ہیں۔” وہیں کھڑے سوال کے بدلے سوال کیا گیا تھا۔ الہام کو پھر سے احساس شرمندگی نے گھیرا تھا۔ اور وہ اٹھ کر اندر کی طرف بڑھی تھی وہ واقعی ہی اس کو مزید بے سکون نہیں کرنا چاہتی تھی۔ الہام کے پیچھے جہانداد بھی اندر آیا تھا ، اور سلائیڈنگ ڈور بند کرکے بیڈ پہ آیا تھا، سائیڈ لیمپ اب کمرے میں روشنی کیے ہوئی تھی۔ الہام بیڈ کے دوسری طرف خاموش بیٹھی تھی۔
” کپڑے چینچ کرلیں، ورنہ ٹھنڈ لگ جانی آپ کو۔” جہانداد نے لیٹتے ہوۓ اسے کہا تھا۔
” نہیں لگتی۔” فورا جواب آیا تھا ، جہانداد کو نرم پا کر اسے تھوڑا حوصلہ ہوا تھا۔
” پلیز الہام میں بہت تھک گیا ہوں، مجھے سے مزید مت الجھیں۔” اپنی بات کرکے اس نے کمفرٹر اپنے منہ پہ ڈالا تھا، جو واضح اشارہ تھا کہ وہ اب سونا چاہتا ہے۔ اور اس کے منہ سے اپنا نام سن کر تو جیسے الہام کو سکون ملا تھا ورنہ وہ اس کا نام بھی نہیں لے رہا تھا۔
” میں نہیں کروں گی چینچ۔” اس کو نرم پڑتے دیکھ الہام نے اس کو دیکھتے جو کمفرٹر سر تک اڑھے لیٹا تھا، ضدی انداز اپنایا تھا۔ اس کی بات پہ فوراً کمفرٹر ہٹا کر اٹھ بیٹھا تھا۔ اور الہام کی طرف دیکھا تھا جو اس کے دیکھنے پہ فوراً آنکھیں جھکا گئی تھی۔ جہانداد نے غور سے اسے دیکھا تھا، آنکھیں اب بھی رونے کی گواہی دے رہی تھی۔ شرمندہ سی سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔ نظر اس کے بالوں کی ڈھیلی سی چوٹیا پہ گئی تھی، جس میں سے اب آدھے بال باہر آ کر اسے مزید پرکشش بنا رہے تھے۔ جہانداد نے گہری سانس لی تھی۔
” چینچ کرکے آئیں ، پھر جو کہنا کہہ سکتی ہیں میں سنوں گا۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے کہا تھا۔وہ ناراض ہوکر بھی فکر کرنا نہیں چھوڑتا تھا ،وہ اعلی ظرف تھا۔
” سچ میں۔” اس کے ایسا کہنے پہ الہام نے فوراً سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھتے پوچھا تھا ، جس پہ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ تھوڑی دیر میں چینچ کرکے کھولی سی سفید شرٹ فراک میں وہ واپس آئی تو جہانداد کو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھا پایا۔ وہ شرمندہ سی بیڈ کی دوسری طرف آکر بیٹھی تھی۔
” بولیں میں سن رہا۔” جہانداد نے کہا تھا۔ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ ، الہام نے الفاظ سوچے تھے۔
” ایم سوری ۔” اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے الجھتے منہ سے بس اتنا ہی نکل پایا تھا۔
” کس بات کے لیئے۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا۔ وہ اس کو احساس دلا رہا تھا ، اس کو پھر سے یاد کروا رہا تھا کہ اس نے جو کیا وہ غلط تھا۔ الہام نے حیران ہوکر نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ، مگر نظر پھر سےجھک گئی تھی۔
” میں نے غلط کیا، مجھے وہ سب آپ سے نہیں کہنا چاہئے تھا، نظریں اپنے ہاتھوں پہ جماۓ اس نے کہا تھا۔
” صرف ان کے لیے ، اور بھروسے کا کیا جو آپ نے مجھ پہ نہیں کیا، جس کے باعث آپ کو یہ الفاظ ادا کرنے پڑۓ، اتنے دن میں آپ مجھے اتنا بھی جان نہیں پائی کہ کیا میں ایسا مرد ہو سکتاجو اپنی عورت کے ہوتے دوسری عورت کی چاہ رکھے۔” اس کی طرف دیکھتے اس نے سوال کیا تھا۔ اس کی بات سنتے الہام نے پھر سے رونا شروع کیا تھا۔
” میری غلطی ہے ، میں جذباتی ہوگئی تھی ، غصے میں کچھ سوچا ہی نہیں ۔” روتے ہوۓ ہاتھوں کی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا۔ جہانداد نے اس کو آنسو بہاتے دیکھا تھا۔
” ادھر میرے پاس آئیں، ” جہانداد نے اپنا بازو اس کی طرف پھیلایا تھا۔ اور الہام نے نظر اٹھا کر اس کی بازو کو دیکھا تھا اور خاموشی سے اس کی طرف ہوکر اس کے پہلو سے جا لگی تھی، جہانداد نےاپنا بازو اس کے گرد پھیلایا تھا۔ اس کی خوشبو کے حصار میں آنسوؤں میں روانی آئی تھی، ایک مہینے سے وہ اس خوشبو کی چاہ کر رہی تھی۔
” اب کیوں رو رہی ہیں ۔” جہانداد نے اس کو چھپ ہونے کی بجاۓ مزید روتے دیکھ سوال کیا تھا۔
” جس چیز کی آپ اتنے دنوں سے چاہ کر رہے ہو ، وہ مل جاۓ تو رونا تو آ ہی جاتا، میں آپ کی خوشبو کو مس کر رہی تھی۔” الہام نے نظر اٹھاۓ بناء، دل کھول کر اظہار کیا تھا۔ جہانداد مسکرایا تھا۔
“” مطلب میری کوئی ویلیو نہیں ، میری پرفیوم کی ویلیو ہے” جہانداد نے سوال کیا تھا۔
” نہیں ، خوشبو بھی انسان سے جوڑی ہوتی، اس انسان کے بناء وہ خوشبوجس کی ہمیں طلب ہوتی ہے وہ خوشبو بھی ادھوری ہوتی ، وہ پرفیوم میں اپنے کپڑوں پہ لگا بھی لوں تو جہانداد کا احساس نہیں دے گی جب تک جہانداد وہ خود نہیں لگائیں گے۔” اس کے پہلو میں منہ چھپاۓ اس نے جواب دیا تھا۔ جہانداد کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ اس کے اظہار بھی اس کی طرح منفرد ہوتے تھے۔جہانداد نے نظریں نیچے کر کےاسے دیکھنا چاہا تھا مگر وہ چہرہ اس کے پہلو میں چھپاۓ ہوۓ شاید ابھی تک اس کی موجودگی کو محسوس کر رہی تھی۔ جہانداد کی نظر اس کے بالوں پہ پڑی تھی جو ڈھیلی سی چوٹیا میں قید آگے کی طرف تھے۔ اس نے ہاتھ آگے کرکے ان کو چھوا تھا۔ اور پھر ہاتھ میں لے کر آنکھیں بند کرکے ان کی خوشبو محسوس کی تھی۔
” کیا کر رہے ہیں ،” الہام نے پہلو سے سر نکلے نظریں اوپر کرکے اسے دیکھا تھا۔
” میں نے اس خوشبو کو بہت مس کیا۔” جہانداد نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھتے اسے جواب دیا تھا۔
” ایم سوری جہانداد ! ” اس کی محبت کو دیکھتے پھر سے ندامت نے آن گھیرا تھا۔ جہانداد مسکرایا تھا۔
” آپ سے سخت خفا تھا ، آپ کے الفاظ نے جیسے زمین پہ پٹخ دیا تھا ، ارادہ تو تھا کچھ دن ناراض رہوں گا ، لیکن آپ کی ضد اور آپ کے آنسو۔” اس کی طرف دیکھ کر کہتے ، جو آج اس کے دیکھنے پہ بھی نظریں نہیں جھکا رہی تھی، آخری بات پہ وہ ہنسا تھا۔ اس کی نرمی پہ ایک بار پھر آنکھ میں آنسو آۓ تھے۔
” اوف الہام آپ اتنے آنسو لاتی کہاں سے ہیں۔” اس کے آنسو دیکھ جہانداد نے اس سے پوچھا تھا۔
” محبت کرنے والے کے سامنے تو یہ خود باخود بات بات پہ نکل آتے ہیں۔” الہام نے یہ کہتے نظریں نیچے کی تھی۔ جہانداد کے لب مسکراۓ تھے اور اپنے بازو پہ رکھے الہام کے سر پہ پیار کیا تھا۔
” الہام وریشہ کے بارے میں جب شاہ میر نے مجھے بتایا میں بہت شرمندہ ہوا ، پھر وریشہ کو کال کی ، وہ رو پڑی وہ شرمندہ تھی ، آپ کے جوابی الفاظ سے اس کو ندامت محسوس ہوئی تھی ، اس نے مجھے کہا وہ میرے ساتھ آپ سے معافی مانگے گی ، شاید وہ اکیلے فیس نہیں کر پا رہی تھی، رات میں آپ سے شرمندگی میں ، میں کوئی اور بات تک نہیں کر پایا کہ کل سب باتیں آپ کے سامنے کروں گا، لیکن آپ نے کوئی موقع نہیں دیا ، دیکھیں وریشہ نے شاہ میر کے تھپڑ کا اثر اتنا نہیں لیا جتنے آپ کے الفاظ کا لیا، میں آپ کی باتیں سن کر آپ کو تھپڑ مار دیتا توآپ کے دل سے اتر جاتا۔۔ میرے نزدیک مرد عورت پہ کبھی ہاتھ نہیں اٹھا سکتا ، مرد کے الفاظ میں ہی اتنا روب اور اثر ہونا چاہے کہ ہاتھ اٹھانے کی نوبت ہی نا آۓ ، شاہ میر ابھی امیچیور لیکن اس کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔” اس نے بہت آرام سے ساری تفصیل الہام کو بتاۓ تھی۔ جس پہ الہام مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔
” آپ نے مہندی کیوں نہیں لگائی ،” اس کو خاموش پا کر اپنے سینے پہ موجود اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے جہانداد نے سوال کیا تھا۔
” آپ نے رات میں لیٹ بتایا تھا ۔” الہام نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکھتے کہا تھا۔
” ہر وقت لگا کر رکھا کریں ، آپ کے ہاتھوں کی مہندی آپ کو یاد دلاۓ گی کہ میں کہیں بہت دور بیٹھا آپ کا ہوں۔” اس نے محبت سے الہام کا ہاتھ سہلاتے کہا تھا، جبکہ الہام نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ایک دم سے سب اچھا لگنے لگا تھا، سب مکمل لگانے لگا تھا۔
“جہانداد آپ کدھر گئے تھے۔” اچانک یاد آنے پہ الہام نے اس سے پوچھا تھا۔
” پہاڑوں پہ ۔” اس نے سکون سے جواب دیا تھا۔
“کیوں۔” الہام نے پہرہ اٹھا کر اسے دیکھتے پوچھا تھا۔
” خود کو پرسکون کرنے کے لیے۔” جہانداد نے اس کے چہرے کو دیکھتے جواب دیا تھا۔الہام خاموش رہی تھی۔
” آج تو آپ نظریں بھی نہیں جھکا رہی۔” جہانداد نے اس کی طرف ویسے ہی دیکھتے سوال کیا تھا، جس پہ الہام نے فوراً نظریں نیچے کرکے اپنا چہرہ اس میں چھپایا تھا۔ جہانداد نے اس کو ایسا کرتے دیکھ گہرا سانس لیا تھا، یعنی اس کی بیوی اس سے مسلسل آنکھیں نہیں ملا سکتی تھی۔
” آپ نے مجھے مس کیا۔” الہام نے اسی پوزیشن میں سوال کیا تھا۔
” میں نے اپنی الہام کو بہت مس کیا۔” اس کے سر پہ پیار کرتے جہانداد نے جواب دیا تھا۔
جاری ہے !!
