Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

کھانا کھانے کے بعد جہانداد اور الہام اپنے کمرے میں آۓ تھے۔ جہانداد لیپ ٹاپ لئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھ گیا تھا۔ گھر بات کرنے کے بعد الہام نے وضو کر کے اپنی قضا نمازوں کے ساتھ عشاء کی نماز بھی ادا کی تھی۔ نماز سے فاراغ ہو کر اس نے جاۓ نماز ٹیبل پہ رکھی تھی۔
“الہام میں چاۓ بننے جارہا ہوں ، آپ پئیں گی۔” جہانداد نے الہام کو نماز سے فارع ہوتے دیکھ کہا تھا۔
“آپ کیوں ، میں چاۓ بناتی ہوں، بس آپ ساتھ چلیں۔” نئی جگہ پہ کیچن میں کام کرنے پہ وہ تھوڑی نروس ہورہی تھی اس لیے آخر میں اس نے یہ بات بولی تھی۔وہ آکر اس کے پاس بیڈ کے قریب کھڑی ہوئی تھی۔
” چاۓ اکثر میں خود بناتا ، اور اس میں کون سا کوئی بڑی بات۔” جہانداد نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھااورالہام نے نظریں سامنے سائیڈ ٹیبل پہ موجود جگ پہ مکروز کی تھیں۔وہ جہانداد کے دیکھنے سے پزل ہوحاتی تھی۔۔۔
“ہاں اس میں کوئی برائی نہیں، ابوبکر بھائی اکثر خود چاۓ بنا لیتے تھے ، لیکن میرے ہوتے اگر آپ اور ابوبکر بھائی میں سے کوئی بھی ایسا کرے گا تو مجھے برا لگے گا۔” الہام نے اس سے بناء نظریں ملاۓ کہا تھا۔
” اور یہ بات آپ مجھے دیکھ کر بھی کہہ سکتیں ہیں۔” جہانداد نے اسے چھڑا تھا ، وہ جانتا تھا وہ اس کے دیکھنے پہ پزل ہوجاتی ہے۔
“آپ آئیں گئے ساتھ ، یا میں اکیلی چلی جاؤں۔” اپنی کمزوری کھولنے پہ اس نے دھمکی دی تھی۔
“ارے کیا ہوگیا ہے ، چل رہا ہوں ، جہانداد نے اٹھ کر اس کے برابر کھڑے ہوکر جوتے پہنتے کہا۔ ” چلیں اب ،” اور وہ دونوں کمرے سے نکلے تھے۔ کیچن میں آکر اس نے چاۓ چڑھائی تھی۔ جب کہ جہانداد کیچن شیلف سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔ جب کہ الہام چولہے کے سامنے کھڑی تھی۔
” الہام ” جہانداد نے اسے پکارا تھا۔
“جی” الہام نے اسے بناء دیکھے جواب دیا تھا۔
” میری طرف دیکھیے ” جہانداد نے جیسے ریکوسٹ کی تھی۔ الہام نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا لیکن اس کی نظریں خود پہ پا کر فوراً سے نظریں دوبارہ جھکا لیں تھی، وہ سامنے کھڑے اس شاندار مرد کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔الہام کی اس حرکت پہ جہانداد کا قہقہ گونجا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر اس نے دونوں ہاتھوں سے الہام کے دونوں ہاتھ تھامے تھے۔
” الہام دس مومنٹ واز لائیک آ ڈریم ، ڈیٹ کیم ٹرو، آج کے دور میں تین دن کی ایسی شرماتی دلہن ۔” الہام سر جھکاۓ کھڑی تھی، وہ پاس موجود تھا ، اس کی خوشبو تھکے ذہین کو راحت پہنچا رہی تھی، بلیک نائٹ سوٹ میں سامنے کھڑا خوبصورت شخص اس کا تھا ، اللہ کتنا مہربان تھا اس پہ ، کتنی لڑکیوں کا خواب ہوتے ہیں جہانداد جیسے مرد ، اور اللہ نے اسے صرف اس سے نوازا نہیں تھا بلکہ اس کی محبت سے بھی نوازا تھا ، کہاں وہ عام سی الہام اور کہاں عمر فاروق اور کہاں جہانداد ۔۔۔۔۔ یہ سوچتے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ، جبکہ جہانداد سے یہ نمی چھپ نہیں پائی تھی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ چھوڑے تھے۔
“سوری الہام ، آپ کو برا لگا۔” الہام آنکھوں کی نمی صاف کرتی اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی، لیکن وہ اس کی بات سنے بناء وہاں سے جا چکا تھا۔ اور الہام وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا وہ جہانداد کی غلط فہمی دور کرے گی۔ چاۓ بنا کر مگز میں ڈالتی ، وہ کمرے میں آئی تھی، جہاں وہ آرام سے کرسی پہ کوئی کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔
“ارے آگئی چاۓ، لائیں دیں، آج دیکھتے ہیں آپ کیسی چاۓ بناتی ہیں۔” الہام کو اندر آتے دیکھ اس نے نارمل انداز میں کہا تھا۔ جب کہ اس کا نارمل انداز دیکھ کر الہام کو حیرانی ہوئی تھی۔ اس کے پاس آکرچاۓ کا مگ اسے تمھایا تھا۔جب کہ وہ خود اس کے پاس ہی کھڑی رہی تھی۔
“بیٹھ جائیں۔” جہانداد نے اسے کھڑا پاکر سامنے موجود کرسی کی طرف اشارہ کرتے اسے بیٹھنے کے لئے کہا تھا۔
“آپ ناراض ہیں۔” اپنا کپ کرسیوں کے درمیان موجود چھوٹے سے ٹیبل پہ رکھتے اس نے سوال کیا ہے۔
“بالکل بھی نہیں ، میں نے آپ سے پہلے دن کہا تھا ، تین الفاظ بول کرمحبت نہیں کی جاتی ، ظرف دیکھانا پڑتا ہے، اور میں وہاں سے صرف اس لیے چلا آیا کہ میں آپ کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر مزید قریب آتا تو یہ ٹھیک نہیں تھا۔” اس نے الہام کی طرف دیکھتے تفصیل سے جواب دیا تھا۔ الہام یک دم سے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔
“جہانداد آپ غلط سمجھے ہیں ، میں عمر کو سوچ کر نہیں روئی تھی۔” جہانداد کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھے وہ رو پڑی تھی۔
” ارے آپ نیچے کیوں بیٹھ رہی۔” جہانداد نے فوراً کتاب اور مگ ٹیبل پی رکھ کر اسے کندھے سے پکڑ کر سامنے کرسی پہ بیٹھایاتھا اور خود نیچے اس کے پاؤں میں بیٹھ گیا تھا۔
” اب بتائیں۔” جہانداد نے اس سے پوچھا، وہ جو رونے مصرف تھی ، وہ تو پہلے بھی بات بات پہ رو پڑتی تھی عمر کے جانے کے بعد تو اس عادت نے شدت احتیار کر لی تھی، اور اس وقت وہ اپنوں سے بھی بہت دور تھی ، اور یہاں جہانداد ہی اس کا اپنا تھا ، اس کی ناراضگی کا سوچ وہ اور گھبرا گئی تھی۔
” جہانداد ، میں نے آپ کو پہلے دن سے ہی پورے دل سے اپنایا تھا ، وہ کیچن میں مجھے اس لیے ورنا آگیا کہ اللہ نے مجھے شاندار لوگوں سے نوازا ، چاہے وہ عمر ہوں یا آپ ، میں ایک عام سی لڑکی اور کہاں آپ ، کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتے ہیں آپ، ” گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے اس نے اسے سچائی سے آگاہ کیا تھا۔ جہانداد نے گود میں موجود اس کے ہاتھوں اپنے ہاتھ میں لئے تھے۔
” آپ کو کس نے کہا کہ آپ عام ہیں ، ایک بات یاد رکھیے گا جو عام ہوتے ہیں نا وہی خاص ہوتے ہیں ، میں جہانداد خان اوروں کے سامنے خاص ہوکر الہام کے سامنے بہت عام سا ہوجاتا ، اور الہام لوگوں میں عام ہو کر اللہ کے لیے خاص،۔” جہانداد نے اسے دیکھتے کہا تھا، الہام نے نظر اٹھا کر سامنے موجود شخص کو دیکھا تھا، لیکن اس کو خود کودیکھتے پا کر نظر جھکا گئی تھی۔
” آپ مجھے دیکھتی کیوں نہیں ۔” جہانداد نے سوال کیا تھا۔
” دیکھتی ہوں ، لیکن جب آپ دیکھ رہے ہوتے تب نہیں دیکھ پاتی۔” آج وہ جیسے سب راز افشاں کرنے کے موڈ میں تھی۔ جہانداد اس کی بات پہ مسکرایا تھا۔
” تو مطلب آپ چھپ کر دیکھتی ہیں۔” جہانداد نے اس کی چوری پکڑی تھی۔
” نہیں تو۔” فوراً جواب آیا تھا۔ جہانداد اٹھا تھا اورجھک کر اس کے سر پہ پیار کرکے وہ سامنے موجود کرسی پہ بیٹھا تھا۔ اور وہ تو جیسے منجمد ہوگئی تھی ، یہ شخص انسان کو اپنے بس میں کرنا جانتا تھا، اس کے کچھ پل کے محبت بھرےساتھ میں سفر کی تھکاوٹ تو جیسے کہیں دور بھاگ گئی تھی۔اپنی کیفیت پہ قابو پاتے اس نے جہانداد کو دیکھا تھا ، جس نے چاۓ کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔
” چاۓ تو آپ نے واقعی ہی اچھی بنائی ہے ” چاۓ کاگھونٹ بھرتے اس نے الہام سے کہا تھا۔
” لیکن آپ کو میں نے ہمیشہ گرم چاۓ پیتے دیکھا ، یہ تو ٹھنڈی ہوچکی ہے۔” الہام نے اپنا مگ اٹھاتے اس سے کہا تھا۔ چاۓ کا مگ ہاتھوں میں لئے وہ مسکرایا تھا۔
” محبت ایسی چیز نا کہ گرم چاۓ پینے والا بھی ٹھنڈی چاۓ پینے لگتا ،محبت میں اعلی ظرفی نا ہو تو محبت بیکار ہے ، ایک طرف میں آپ سے محبت کا دعوا کروں اور دوسری طرف آپ کے ہاتھ سے بنی چاۓ صرف اس لیے نا پیوں کہ وہ ٹھنڈی ہو چکی ہے، پھر تو مجھے خود کو اپنی محبت پہ ہنسی آۓ۔” اس نے اس کی طرف دیکھتے جواب دیا تھا ، جبکہ اس کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود کپ پہ تھیں۔
” جہانداد آپ کو مجھ سے محبت کب ہوئی ” اس نے جہانداد کی طرف دیکھ کر سوال کیا تھا ، لیکن اس کو خود کو دیکھتے نظریں جھکا لی تھیں۔ جہانداد مسکرایا تھا۔
” جب آپ نے کہا تھا کہ جب روح پہ زخم ہوں تو ظاہری زخموں سے کیا فرق پڑتا ہے۔” اس نے چاۓ کا گھونٹ لیتے اس سے کہا تھا۔ الہام نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا جبکہ اس نے اپنی نظر ٹیبل پہ موجود کتاب پہ ڈالتے ، کتاب ایک ہاتھ میں اٹھائی تھی۔ وہ چاہتا تھا وہ اسے دیکھے ، اور الہام نے اس بار واقعی ہی نظریں نہیں ہٹائی تھی ، وہ کتاب کھول رہا تھا اور الہام نے اب بھی نظر نہیں ہٹائی تھی ، کتنا مکمل شخص تھا جس کا ظاہر کے ساتھ باطن بھی خوبصورت تھا ، جس کے مقاصد میں اعلی ظرف تھی، اور آنکھوں میں احترام تھا۔
” کیا میں بہت ہنڈسم ہوں ؟ ” کتاب پہ نظریں جماۓ اس نے پوچھا تھا۔ الہام نے ایک دم نظروں کا ذاویا بدلا تھا۔ اور چاۓ کا کپ رکھتے وہ اٹھی تھی۔
” میں سونے جا رہی ۔” اور بیڈ کی طرف قدم بڑھاتے اس نے اپنا دوپٹہ اتر کر شانوں پہ ڈالا تھا جو پہلے اس نے حجاب کی صورت میں لے رکھا تھا ، شاور لینے کی وجہ سے بال کھول رکھے تھے ، جو کمر سے نیچے تک آرہے تھے۔
” آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں ۔” وہ جو اپنا بستر ٹھیک کر رہی تھی اس نے اپنے پیچھے جہانداد کی آواز سنی تھی ، دل بے احتیار دھڑکا تھا۔
” شکریہ ” اس نے بناء پیچھے دیکھے کہا تھا۔ پھر اپنے بستر پہ بیٹھ کر چور نظر اس پہ ڈالی تھی ، جو پھر سے کتاب میں مصروف ہو چکا تھا۔ جوتے اتر کر پاؤں اوپر کر اس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی تھی جب اس نے جہانداد کو اپنا چاۓ کا مگ اٹھاتے اور گھونٹ بھرتے دیکھا تھا وہ اس کی آخری بات سے کنفیوز چاۓ چھوڑ کر آگئی تھی لیکن وہ مشکل سے ایک دو گھونٹ ہی تھی ، وہ حیران سامنے موجود شخص کو دیکھ رہی تھی۔اس کے موڑنے پر وہ لحاف خود پہ ڈالے لیٹ رہی تھی ، اس نے اس پہ یہی ظاہر کیا تھا جیسے اس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو۔
” الہام صبح ہم نے گوپس گاؤں کے لیے نکلنا ہے ، میرے دوست نے ہم دونوں کی دعوت کی ہے۔” جہانداد نے بیڈ کے دوسری طرف بیٹھتے اسے اطلاع دی تھی۔
” جی ٹھیک ہے ، کب نکلنا ہے ۔” اس نے اس کی طرف دیکھتے سوال کیا تھا جو اب لحاف خود پہ ڈالتے لیٹنے لگا تھا۔
” سات بجے تک ، راستے میں روکتے جائیں گئے تاکہ آپ گلگت دیکھ لیں ، ورنہ صرف چار گھنٹے کا راستہ ہے ” اس نے لیٹ کر لیمپ آف کرتے جواب دیا تھا۔ کمرے میں تاریکی پھیلی تھی۔الہام نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اندھیرا ہوتے ہی اسے سکون ملا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے اندھیرے میں سونے کی عادی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الارم پہ اس کی آنکھ کھلی تھی جو اس نے نماز کے لیے لگایا تھا۔ اس نے اٹھ کر الارم بند کر کے لیمپ آن کر کےبیڈ کی دوسری طرف نظر دوڑائی تھی، جہانداد وہاں موجود نہیں تھا۔ آج اس کی جہانداد کے ساتھ تیسری صبح تھی اور تینوں دن وہ اس سے پہلے بیدار ہوچکا ہوتا تھا۔ وضو کر کے نماز ادا کرنے کے بعد وہ کمرے میں موجود بلکونی میں چلی گئی تھی ، باہر اسے خاصی ٹھنڈ محسوس ہوئی تھی کیونکہ وہ بناء شال لیے باہر آگئی تھی۔ اس نے شال لینے کے لیے اندر کی طرف قدم بڑھاۓ جب ہاتھ میں شال پکڑے جہانداد بالکونی میں داخل ہوا تھا۔
“آپ کا بیمار پڑنے کا ارادہ ہے کیا۔” جہانداد نے آگے بڑھ کر اسے شال اڑھی تھی اور الہام جیسے ایک جگہ فریز ہوچکی تھی ، اس کی پاس اس شخص کی موجودگی اس کو منجمد کر دیتی تھی ، اور شال کے سروں کو اس کے ہاتھوں میں تھامتے اس نے محسوس کیا تھا اس کے ہاتھ کافی ٹھنڈے ہوچکے تھے۔ اس نے شال اس کے ہاتھوں پہ پھیلاتے اس کے ٹھنڈے ہاتھ اپنے گرم ہاتھ میں لیے تھے ، اور اپنا ایک بازو اس کے گرد پھیلاتے اس اپنے ساتھ لگایا تھا۔
” یہاں باہر آنے سے پہلے شال لیا کریں۔” وہ اسے تلقین کر رہا تھا۔ اس کا ساتھ ملتے ہی اسے کرماہٹ کا احساس ہوا تھا, جسم میں ایک سکون اترا تھا، وہ خاموش اس کے ساتھ کھڑی تھی، وہ ساتھ تھا تو لگا تھا زندگی بھر کا سکون اس کی آغوش میں تھا۔ کافی پل خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔ جہانداد نے جب نظر نیچے کر کے دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ جہانداد کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
” الہام ” اس نے اسے پکارا تھا۔
” جی” بناء حرکت کیے اس نے جواب دیا تھا۔
” ناشتہ بنا دیں ، خانساماں کے آنے میں ابھی ٹائم ” اس نے الہام سے کہا تھا۔
” تو ٹھیک ہے میں بنا دیتی ہوں اس میں کون سا بڑی بات ۔” یہ کہتے شرم وحیالیے وہ جہانداد سے الگ ہوتی اپنی شال سنبھالتی اندر کی طرف بڑھی تھی۔ جب وہ کیچن میں گئی تو جہانداد کی والدہ پہلے سے کیچن میں موجود چاۓ بنا رہیں تھیں۔ الہام نے ان سے سلام کرنے پہ ان سے ناشتے کے بارے میں پوچھا تھا ، لیکن الہام کو خود کو آنٹی اور جہانداد کے والد کو انکل پکارنے پہ انھوں نے پیار سے اسے کہا تھا کہ وہ ان کی بیٹی ہےتو اس لیے وہ انھیں جہانداد کی طرح ماما اور بابا بلاۓ جس پہ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا ، مگر ناشتے کے لیے انھوں نے یہ کہہ کر منا کر دیا تھا کہ وہ صرف چاۓ پئیں گئے مگر الہام نے اصرار کیا تھا کہ آج وہ اپنی بیٹی کے ہاتھ کا ناشتہ کریں جس پہ وہ مان گئیں تھیں۔ اور الہام نے سب کے لئے چاۓ کے ساتھ آملیٹ اور پراٹھے بناۓ تھے۔ ناشتہ کرنے کے بعد تیار ہوکرجانے کے لیے تیار تھے۔ الہام نے بلیک عبایا کے ساتھ میچنگ اسکارف کے ساتھ میرون کلر کی اونی شال بھی لے رکھی تھی، جبکہ جہانداد بلیک قمیض شلوار کے ساتھ گرے کلر کی چادر لیے ہوۓ تھا۔ آج کے سفر کے لیے جہانداد نے چچا زاد اسفند سے جیپ کی چابی پہلے ہی لے لی تھی ، کیونکہ یہاں کے راستوں کے لیے جیپ کو موزوں سمجھا جاتا تھا۔ والدین سے دعائیں لیتے دونوں جیپ پہ سوار ہوۓ تھے۔ جہانداد سن گلاسز پہنے ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ الہام آس پاس کی خوبصورتی سے آنکھوں کو سیراب کر رہی تھی۔ جہانداد نے کئی جگہوں پہ چیپ رکے الہام کو ان جگہوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ بلند وبالا پہاڑ اور صاف شفاف پانی کے چشمے دیکھ کر الہام وہاں کی خوبصورتی کو بار بار سراہا رہی تھی۔
” کیا یہاں کے پہاڑوں پہ مارخور بھی پاۓ جاتے ہیں ۔” درائیو کرتا جہانداد اس کے سوال پہ چونکا تھا۔
” جی لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ۔” جہانداد نے حیرت سے پوچھا تھا۔
” جانوروں میں مارخور اور اور بھیڑیا میرے پسندیدہ جانور ہیں۔” الہام نے خوشی سے بتایا تھا۔ جبکہ جہانداد مزید حیران ہوا تھا ، اسے تو لگا تھا لڑکیوں صرف کتے بلیاں پسند کرتی ہیں ، جبکہ ساتھ بیٹھی اس کی بیوی کا پسندیدہ جانور مارخور تھا، جس کے بارےمیں زیادہ تر لڑکیاں صرف نام کے حد تک جانتی ہیں اور وہ بھیڑیے کو سراہا رہی تھی جوکہ ایک خونخوار جانور تھا۔
” اس کی وجہ ” اس نے اپنی حیرت کو پس پشت ڈالتے اس سے سوال کیا۔
” مار خور ایک حیرت انگیز جانور ہے اور یہ ہمارا قومی جانور ہے ، جس کے لیے زمینی کشش کوئی معنی نہیں رکھتی ، اور یہ سیدھے اونچے پہاڑوں پہ چڑھ جاتا ہے کہ آنکھیں دنگ رہ جائیں ، پھر پہاڑوں پہ رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلے سانپ کو اپنے کھر سے ماردیتا ہے ، اور مارنے کے بعد اسے کھا لیتا ہے ، حلاناکہ یہ بات سائنسی لحاظ سے ثابت نہیں ہے ، لیکن پھر بھی حیران کن ہے، اور ہماری خفیہ ایجنسی کا لوگو بھی ماخور ہے ، کیونکہ یہ بلندیوں پہ رہتا، اسی طرح ہماری خفیہ ایجنسی کے بھی اعزائم ہمیشہ بلند ہوتے ، جس طرح ماخور کے لیے زمینی کشش میٹر نہیں کرتی ، اسی طرح ہماری ایجنسی کے نوجوانوں کے لیئے وطن کی محبت کے آگے کوئی کشش میٹر نہیں کرتی ، فارسی زبان کے اس لفظ مارخور کا مطلب ہے سانپ کھانے والا ، بالکل جیسے ہماری ایجنسی دشمن کا مار دیتی ہے ، دشمن کو سر اٹھانے نہیں دیتی۔” اتنی لمبی تفصیل سنانے کے بعد باآخر وہ خاموش ہوئی تھی۔ جبکہ جہانداد اس کی معلومات پہ حیران تھا۔
” اور بھیڑیا کیوں ، وہ تو ایک خونخوار جانور ہے ۔” اس نے دوسرا سوال پوچھا تھا۔
” کیونکہ وہ کبھی اپنی آذادی پہ سمجھوتہ نہیں کرتا ، وہ غلامی قبول نہیں کرتا ، جب والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کے لیے شکار کرتا ہے ، رشتوں میں تمیز کرتا ہے ، جبکہ باقی جانوروں میں ایسا نہیں ہوتا یہ صرف ایک مادہ کا وفادار رہتا، خونخوار تو شیر بھی ہوتا ہے پھر بھی اس کا نام بطور بہادری استعمال کیا جاتا ہے ، اس لیے بہتر ہے کہ اگر ہم نے بہادری کے لئے ایک خونخوار کو ہی چنا ہے تو شیر کی بجاۓ بھیڑیے کو چنائیں ، جو بہادر ہونے کے ساتھ ایک غیرت مند جانور بھی ہے اور مجھے لگاتا ہمارے معاشرے کے مرد کو شیر بن کے دوسروں کی عورتوں پہ نظر رکھنے کی بجاۓ بھیڑیا بننا چاہیے جو ایک کے ساتھ مخلص رہے ، اور بھیڑیے کی طرح ایک اچھا بیٹا بنے اور خونخوار صرف اس حد تک رہے کہ دشمن کے غلیظ ارادوں پہ اسے چیر پھاڑ کر رکھ دے۔” جہانداد نے ڈرائیو کرتے موڑ کر اسے دیکھا تھا جو اپنی بات پوری کر چکی تھی ، وہ یہ معلومات پہلے سے جانتا تھا مگر الہام کے منہ سے سن کر وہ حیران ہوا تھا۔جبکہ ایک صاف پانی کے چشمے کو دیکھتے الہام نے اسے گاڑی روکنے کے لیے کہا تھا۔جس پہ اس نے گاڑی روکی تھی۔ وہ لڑکی ایک گہری سوچ رکھتی تھی۔ وہ دن میں گوپس ویلی پہنچے تھے ، جہانداد کے دوست اور اس کے گھر والوں نے ان کی اچھی خاطر داری کی تھی۔ واپسی پہ آتے ہوۓ جہانداد نے اسے ایک جگہ دیکھانے کا کہا تھا۔ گاڑی روک کر پیدل چلتے ہوۓ وہ ایک بلند پہاڑ کے قریب آکر روکے تھے۔ یہ دیکھیں ، جہانداد کے اشارہ کرنے پہ الہام نے جب دیکھا تو اسے پہاڑ پہ ایک بڑے سے دروازے کی تراش نظر آئی۔
” یہ تو دروازہ لگتا۔ ” الہام نے حیرانی سے جہانداد سے پوچھا تھا۔
” جی ہاں اور یہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دروازے کے پار ایک الگ دنیا بستی ہے ، جو پریوں اور دیوؤں کی ہے ، جسے ہم کوہ قاف کہتے ہیں۔” جہانداد نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
” کیا سچ میں ایسا ہے ،’ الہام نے حیران ہوتے جہانداد سے پوچھا تھا۔
” لوگوں کا تو یہی کہنا ۔” اس میں کتنا سچ میں نہیں جانتا۔
” میں پکچر لے سکتی ہوں۔ ” الہام نے جہانداد سے پوچھا تھا۔
” ہاں کیوں نہیں ، مگر ہوسکتا جب آپ پکچر لے رہی ہوں ، کوئی دیو اس وقت دروازے سے نکل رہا ہو اور وہ آپ کے کیمرے میں محفوظ ہوجاۓ۔” جہانداد نے اسے ڈرانا چاہا تھا۔ جہانداد کی بات سننے پہ اس نے فون واپس نیچے کی طرف کرلیا تھا۔ جہانداد مسکرایا تھا۔
” آپ ڈر گئی ہیں ،” جہانداد نے اس کی طرف دیکھتے مسکراہٹ دباتے اس سے پوچھا تھا جو حیرانی سے پہاڑ میں تراشے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
” لڑکی ہو کے کہوں گی کہ نہیں ڈری تو یہ جھوٹ ہوگا۔” اس نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تھا مگر اس کو خود کو دیکھتے آنکھیں جھکا گئی تھی۔ وہ مسکرایا تھا ، وہ اس کو دیکھ کرکبھی بات نہیں کرپاتی تھی۔
” میرے ہوتے آپ کو کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے ، اللہ نے مجھے آپ کا محافظ بنایا ہے ، اور میں یہ ذمہ داری خوشی سے نھباؤں گا۔”جہانداد نے آگے بڑھ اس اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ اور اس کے ہاتھ سے فون لے کر سامنے دراوزے کی پکچر لی تھی۔ ہاں اس کی موجودگی میں وہ خود کو محفوظ سمجھتی تھی ، وہ تو ملک کا مخافظ تھا تو پھر بھلا اپنی بیوی کا کیسے ناہوتا۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
وہ دونوں شام میں واپس پہنچے تھے۔ جب دونوں حویلی کے داخلی دروازے سے اندر گئے تو وریشہ بھاگتی ہوئی ان کے سامنے آئی تھی۔
” جہانداد آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے کر گئے۔” اس نے جہانداد کا ہاتھ پکڑے ناراضگی سے کہا تھا۔ الہام نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا تھا جس سے اس نے جہانداد کا ہاتھ تھما تھا۔ آج اس کو وریشہ کی یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگی تھی۔
” آپ سو رہیں تھیں۔” جہانداد نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا۔
” تو آپ جگا دیتے ،” وہ جہانداد سے ایسے بات کر رہی تھی ، جیسے الہام تو موجود ہی نا ہو۔
” سوری معاف کر دیں۔” جہانداد نے منہ بناتے اس سے معافی مانگی تھی۔
” ایک شرط پہ ، مجھے ابھی آئسکرئم کھلانے لے جائیں۔” اس نے اس کی طرف دیکھتے محبت سے کہا تھا۔
” چلو چلتے ہیں ۔” جہانداد نے مسکرا کر کہا۔جب کہ الہام سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تو اس نے دونوں کو اگنور کرکے اندر کی طرف قدم بڑھائے۔
” الہام آپ کدھر جارہی ہیں ، آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔” جہانداد نے الہام کو جاتا دیکھ پیچھے سے کہا تھا۔ ہاں وہ اس سے غافل نہیں تھا۔ الہام کے دل کو سکون ملا۔
” الہام تھک گئی ہوگی اسے آرام کرنے دیں۔” الہام سے پہلے وریشہ کا جواب آیا تھا۔ جہانداد آگے بڑھ کر الہام تک آیا تھا۔
” تھک گئیں ہیں کیا۔” الہام کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے پوچھا تھا، الہام کا دل کیا تھا ، وہ رو پڑے لیکن وہ اپنی کیفت اس کے سامنے آفشاں نہیں کرنے دینا چاہتی تھی، اس نے سر محض اثبات میں ہلایا تھا ، کیونکہ وہ بولتی تو جہانداد کو اس کو پڑھ لیتا ، پڑھ تو جہانداد نے اب بھی لیا تھا مگر اس نے چہرے پہ موجود ادادسی کو تھکاوٹ وجہ قرار دیا تھا۔
” ٹھیک ہے ، آپ جاکر آرام کریں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔” اس کا گال چھوتے اس کو کہا تھا، اور پھر الہام کے اوپر جانے تک وہ وہیں کھڑا رہا تھا اور الہام کو یہ بات باخوبی معلوم تھی۔ وہ آئی تو ماما ، بابا اور شاہ میر کو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا پایا۔ ان کو سلام کرتی وہ ماما کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی ، جہنوں نے بہت محبت سے اسے ساتھ لگایا تھا ، اور بابا بہت محبت سے اسے آج کے دن کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، جبکہ جہانداد کے وریشہ کے ساتھ جانے پہ شاہ میر اور ماما کے فیس ایکسپریشنز بدلے تھے جو اس نے واضح محسوس کیے تھے۔
” شاہ میر جاؤ بھابھی کے لیے اچھی سی چاۓ بناؤ ۔” ماما نے شاہ میر سے کہا تھا۔
” نہیں ماما ، میں خود بنا لیتی۔” الہام اٹھنے لگی تھی مگر انھوں نے اسے واپس بیٹھا دیا تھا۔
” ارے بھابھی آپ میرے ہاتھ کی چاۓ ایک بار پی کر دیکھیں ، ویسے بھی آج صبح آپ میرے لیے کمال کا ناشتہ بنا کر گئیں ، اس کے بدلے چاۓ تو بنتی ہی۔” اس نے اٹھتے ہوۓ الہام سے کہا تھا کیونکہ صبح وہ سویا ہوا تھا مگر الہام اس کا ناشتہ بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ کر ماما کو بتا کر گئی تھی۔ اس کے نزدیک ناشتہ بننا کوئی بڑا کام نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے گھر میں بھی اکثر سب کے لیے خود ناشتہ بناتی تھی ، مگر یہاں اس کے اس عمل نے ان سب کے دل میں مزید اس کے لیے جگہ بنا دی تھی۔ شاہ میر جاچکا تھا جبکہ وہ بیٹھ کر ماما بابا سے باتیں کرتی رہی تھی ، ان کی محبت میں وہ بھول چکی تھی کہ وہ کچھ دیر پہلے اداس تھی۔ شاہ میر اس کے لیے چاۓ کا مگ لایا تھا۔
” بھابھی آپ روم میں جاکر آرام سے پی کر فریش ہوکر آرام کریں۔” شاہ میر نے اس سے کہا تھا ، جس پہ ماما نے بھی اسے یہی کہا تھا وہ مگ اٹھاۓ روم میں آگئی تھی۔ چاۓ پی کر فریش ہوکر اس نے مغرب کی نماز ادا کی تھی۔ اور عصر کی قضا بھی ادا کی تھی ، جبکہ ظہر اس نے جہانداد کے دوست کے گھر ادا کر لی تھی۔ اس کے بعد وہ ٹیرس پہ کھڑی ہوئی توتازہ ہوا نے جیسے سکون بخشا تھا۔
جاری ہے !!