Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ابوبکر ناشتہ کر کےہسپتال کے لئے نکل گیا تھا۔ الہام لاؤنج میں بیٹھی خبریں دیکھ رہیں تھیں جہاں نیوز اینکر فلسطین پہ ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے بارے میں بتا رہے تھے، بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا ، کتنے ہی بچے ان کے ظلم کی نظر ہوگئے تھے۔ الہام نم آنکھیں لیے دیکھ رہی تھی جب ڈور بیل بجی تھی۔اور وہ دروازہ کھولنے کے لئے گئی تھی۔ دروازہ کھولنے پہ حرا اندر آئی تھی۔
“آج دیر سے کیوں آئی ہو” الہام نے اندر کی طرف اس کے ساتھ چلتے سوال کیا تھا۔
“امی کہتیں مجھے بھی ٹائم دے لیا کرو ، تو سوچا آج کیوں نا تھوڑا ان کو ٹائم دے دیا جاۓ” حرا نے لاپروائی سے جواب دیا تھا۔
“دشمن چلے گئے کیا۔؟” حرا نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوۓ آس پاس نظر دوڑاتے سوال کیا تھا۔
“ہاں چلے گئے ، تمہارے لیے چاۓ لاؤں کیا ۔” الہام نے پوچھا تھا۔
“ارے ، رہنے دو ، تم کیا کر رہی تھی ۔” حرا نے صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ سوال کیا تھا۔
“خبریں سن رہی تھی ، فلسطین کے بارے میں سن کے دل اداس ہوگیا ہے، پتا ہے محمد ﷺ نے کہا تھا کہ مسلمان جسم واحد کی طرح ہیں کہ جسم کے ایک حصے میں درد ہوگا تو سارا جسم بے چین رہے گا ، اب دیکھو نا ظلم ادھر ان کے ساتھ ہوتا اور درد ہمارے دلوں کو بھی ہوتا ، بندوق ان پہ تانی جاتی اور آنسو ہماری آنکھوں سے جاری ہوجاتے، پتا نہیں ہمارے حکمران کیوں اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ قبلہ اول کے لئے بھی ان کے دل نرم نہیں پڑ رہے، ان مسلم حکمرانوں سے اچھے تو وہ بے جان پتھر ہیں جو بیت المقدس کی حفاظت کے لئے وہاں کے مسلمانوں کو مدد دے رہے ہیں۔” الہام کی فرط جذبات آواز بھیگ گئی تھے۔
“الہام ہم کر بھی کیا سکتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔” حرا نے الہام کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔
” پتا ہے حرا میں اس وقت کا سوچتی ہوں تو مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ کل کو جب انشااللہ مسجد اقصی آذاد ہو جائے گی تو ہم کس منہ سے کہیں گے کہ ہمارا قبلہ اول آذاد ہوگیا جبکہ ہماری طرف سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ، ہم مسلمان اتنے بزدل کیسے ہوگئے ہیں ، ہمارے حکمران کیوں بھول گئے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی کسی پہ اثر انداز نہیں ہوسکتا،میرے اور تمہارے جیسے لوگ صرف دعا کر سکتے ہیں ، ان کے ہر غم میں آنسو بہا سکتے ہیں، کہ جب قیامت والے دن اللہ پوچھے تو ہم کہہ سکیں کہ یاللہ جب ہماری امت کے کچھ لوگ مشکل میں تھے تو دل ہمارے بھی ان کے لئے غمگین تھے، ان کے لئے دعا کرتے ہوۓ ہماری پلکیں بھی بھیگیں تھیں، وہ اگر غلامی میں اداس تھے تو ہم آذادی میں رہ کر ان کے لئے اداس تھے۔” الہام کی نم آنکھوں میں اداسی تھی ، جبکہ حرا نے اس کی بات پہ سر ہلایا تھا جیسے کہہ رہی ہو ہاں ہم ان کے لئے ان سے میلوں دور بیٹھے اداس ہیں!
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
عائشہ عالم اور شبیر عالم لاہور سےواپس آچکے تھے۔ الہام، عائشہ بیگم اور ابوبکر شام میں لاؤنج میں تھے۔ ابوبکر عائشہ بیگم کی گود میں سر رکھے صوفے پہ لیٹا ہوا تھا۔جبکہ الہام دوسرے صوفے پہ بیٹھی تھی کہ حرا گھر میں داخل ہوئی۔
” السلام علیکم یہ مین ڈور کیوں کھلا ہوا ہے۔” حرا نے اندر داخل ہوتے پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سوال کیا تھا۔
” وعلیکم السلام! ہمیں پتا تھا آپ کے آنے کا ٹائم ہوگیا ہے اس لئے ہم نے کھلا چھوڑ دیا تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔” ابوبکر نے ماں کے دوپٹے سے کھیلتے ہوئے بے فکری سے جواب دیا تھا۔ جس پہ عائشہ بیگم نے اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ لگایا تھا۔
“ارے بیٹا تمہارے انکل ابھی باہر نکلے ہیں تو اس لئے دروازہ کھولا ہے۔” عائشہ بیگم نے جواب دیا تھا۔ جبکہ الہام نے حرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا۔
“ابوبکر بیٹے آپ کو کوئی لڑکی پسند ہے کیا، ہم سوچ رہے ہیں الہام کے ساتھ آپ کی بھی شادی کر دیں” عائشہ بیگم نے ابوبکر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔
“کسی عورت کو اس نظر سے دیکھا ہی نہیں، زندگی صرف چار عورتوں تک ہی محدود رکھی” ابوبکر نے کچھ جتانے کے انداز میں جواب دیا تھا۔
“ایک امی، ایک حدیجہ آپی، ایک میں چوتھی کون” الہام کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“چوتھی، وہ جو تمہارے ساتھ بیٹھیں ہیں ” فٹ سے جواب آیا تھا ، عائشہ بیگم اور الہام نے ہنستے ہوۓ ایک دوسرے کو تالی دی تھی۔ جب کہ حرا حیران بیٹھی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” تو پھر ہم ہاں سمجھیں” عائشہ بیگم نے ابو بکر سے کہا تھا۔
” آپ کو انکار کر سکتا ہوں بھلا” ابوبکر نے شرارت سے جواب دیا تھا۔ اتنا کھلے عام اظہار ابوبکر عالم ہی کر سکتا تھا، اس کو باتیں بنانا نہیں آتیں تھیں۔ صورتحال کو سمجھتے ہوۓ حرا نے وہاں سے اٹھنا چاہا لیکن الہام اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئی۔
الہام حرا کو کرسی پہ بیٹھا کر اس کے سامنے نیچےکارپٹ پہ بیٹھ گئی تھی۔ حرا نے نا سمجھی کے عالم میں الہام کو دیکھا تھا۔
“حرا میں تم سے اپنے بھائی کے لئے تمہارا ساتھ مانگتی ہوں، کیا تم دو گی۔” الہام نے گود میں رکھے حرا کے ہاتھ تھامتے ہوۓ بولی تھی۔
“الہام تمہیں پتا ہے ، یہ سب بلکل ایک خواب جیسا ہے ، میں نے کبھی ابوبکر کے بارے میں اس طرح سے نہیں سوچا ، اس لئے نہیں کہ وہ مجھے اس قابل نہیں لگے بلکہ اس لئے کہ مجھے اپنا آپ کبھی بھی ان کے قابل نہیں لگا ، وہ ایک شاندار مرد ، ایک فرض شناس ڈاکٹر ، ایک زمہ دار بیٹے ، ایک اچھے بھائی ، اللہ کو راضی رکھنے والے انسان ، جنہوں نے کبھی کہیں غفلت نہیں بھرتی نا دین میں اور نا ہی دنیا میں، اور میں ٹہھری لاپروا سی ، اس لیے کبھی اپنی حدود سے باہر نہیں نکلی، الہام لڑکیاں خواب سجاتی ہیں ، اس میں برا نہیں ہے ، لیکن میرے خیال میں خواب اسی لڑکی کو دیکھنے چاہیں جو ان کے ٹوٹنے پہ ، ان کا درد سہہ سکے ، کیونکہ ہر خواب پورا نہیں ہوتا ، تمہیں پتا ہے میں نے ابوبکر کو لے کر کبھی کوئی خواب بھی نہیں سجایا ، کیونکہ میں الہام نہیں ہوں جو خواب ٹوٹنے پہ بھی ہنس کے سہہ جاۓ گی کہ جس میں میرا رب راضی ، میں حرا ہوں ، میں خواب ٹوٹنے پہ خوب روتی ، اللہ سے ڈھیر سارے گلے کرتی ، ناراض ہوجاتی، اس لئے میں نے اپنے لئے کبھی کوئی خواب نہیں دیکھا میں اسی میں خوش تھی کہ مجھے تم جیسے خوبصورت لوگوں کا ساتھ حاصل تھا ، میں اسی پہ رب کا شکر ادا کرتی تھی ، اور دیکھو میرے رب نے ابوبکر عالم جیسے مرد کو مجھ جیسی عام ، لاپرواہ ، بے وقوف لڑکی کی جھولی میں ڈال دیا۔” اس کی آنکھوں کے ساتھ آواز بھی نم ہوئی تھی اور پھر الہام نے اٹھ کر اسے گلے لگایا تھا۔
جاری ہے !!