Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

الہام نے گھر آکر سب کے ساتھ کھانا کھایا تھا ، ساتھ عمر کی ان لوگوں کے لیے محبت کا تذکرہ وہ دیر تک کرتی رہی تھی جسے سن کر سب ہی خوش ہوۓ تھے۔ شبیرعالم اور عائشہ بیگم اپنے فیصلے پہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کے لیے بلکل صحیح فیصلہ لیا تھا۔ عمر جیسا نوجوان تو آج کل کی دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا لیکن ان کی بیٹی کو للہ نے نواز دیا تھا۔ الہام اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی تھی۔ وہ عمر کے بارے میں سوج رہی تھی۔ جب تکیے کے پاس پڑے سیل فون کی میسج ٹون بجی تھی۔اس نے فون اٹھا کر دیکھا تھا۔
“السلام علیکم ، عمر ہیر !!” واٹس اپ پہ عمر کا میسج جگمگایا تھا۔ الہام کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ چھائی تھی۔
” وعلیکم السلام !” الہام نے جواب لکھ کر بھیجا تھا۔ میسج فورا سین ہوا تھا۔
” کیسی ہیں آپ۔” دوسری طرف سے پوچھا گیا تھا۔
“جیسی شام میں تھی۔” الہام ٹائپ کرتے ہوئے مسکرائی تھی۔
“مطلب خوبصورت” فورا جواب آیا تھا۔ جواب پڑھ بےارادہ الہام کے چہرے پہ مسکان آئی تھی۔الہام نے اس جواب کے پیچھے اس کے ایکسپرشن نہیں جانتی تھی لیکن یقین سے کہہ سکتی تھی یہ لکھتے ہوئےوہ مسکرایا ہوگا۔
“آپ کیا کر رہے ہیں ” الہام نے بات بدلی تھی۔
” میں چائے پی رہا” ساتھ ہی اس نے ہاتھ میں موجود چاۓ کے کپ کی پیکچربھیجی تھی۔
“رات کے اس ٹائم ” الہام نے حیرت کا اظہار کیاتھا۔
“چاۓ کا کوئی مخصوص ٹائم ہوتا ہے کیا” جواب آیا تھا۔
“ہاں رات میں پی لو، نیند نہیں آتی” جواب دیا گیا تھا۔
“ہا ہا ہا، یہ اس صورت میں ہوتا ، جب آپ چاۓ رات میں کبھی کبھی پیتے، میں تو روٹین میں پیتا ورنہ نیند نہیں آتی” جواب آیا تھا۔
” آپ کو چاۓ کی ایڈیشن ہوگئی ہے” جواب آیا تھا۔
“مجھے اپنی یہ عادت بری نہیں لگتی ، تنہائی میں چاۓ، محفل میں چاۓ ، تھکاوٹ میں چاۓ ، خوشی میں چاۓ ، غم میں چاۓ ،یہ ہر جگہ ، ہر موقعے ، ہر کیفیت میں آپ کا ساتھ نبھاتی ہے” تفصیل میں جواب دیا گیا تھا۔ الہام جواب پڑھ کر مسکرائی تھی۔
“چاۓ صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی”الہام نے لکھا تھا۔
مشروب مضر صحت سبھی ترک ہوئے
ایک چھوڈی نہ گئی ہم سے یہ چاۓ ، ہائے۔۔
جواب پڑھ کر الہام پھر سےمسکرائی تھی مخالف کے پاس ہر بات کا جواب موجود تھ۔
“آپ کو یہ کام میرے لیے روز کرنا پڑے گا، ابھی تو میں خود کرلیتا ہوں لیکن شادی کے بعد آپ کے ہاتھ کی پیا کروں گا” ایک اور میسج آیا تھا۔ الہام میسج پڑھ کر بے احتیار مسکرائی تھی۔ اس کے لیے چاۓ بننے کا احساس کتنا خوبصورت تھا, وہ سوچ میں تھی جب پھر سے میسج ٹون بجی تھی۔
” چلیے آپ سو جائیں ،اپنا خیال رکھیے گا ، پھر بات ہوگی” الہام نے میسج پڑھ کر اللہ حافظ بولا تھا۔ عمر کے آنے سےزندگی اور خوبصورت لگانے لگی تھی۔ ان ہی سوچوں میں گم وہ سو گئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الہام کے نانا ابو کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی تھی، جس کے باعث عالم شبیر عائشہ بیگم کو لے کر لاہور روانہ ہوگئے تھے۔ ڈاکٹرز نے ایک دن ہسپتال میں رکھنے کے بعد واپس گھر بھیج دیا تھا۔ عالم شبیر نے کچھ دن لاہور رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ الہام اور ابوبکر گھر میں تھے۔ الہام شام میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ابوبکر کی گاڑی کا ہارن بجا تھا۔ وہ اسے دروازہ کھول کر اندر آگئی تھی۔ کچھ دیر بعد پریشان ساابوبکر اندر آیا تھا، بنا کچھ بات کیے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ الہام نے جب ابو بکر کو ایسے دیکھا تو وہ پوری بات سمجھ گئی تھی، جب بھی ہاسپٹل میں اس کا کوئی مریض زندگی کی بازی ہار جاتا تو وہ ایسے ہیں پریشان گھر لوٹتا تھا۔ اور آج بھی وہ ایسے ہی لوٹا تھا۔ الہام نے چائے بنائی، اور مگ میں ڈال کر ابوبکر کے کمرے میں گئی تھی ، کمرے میں اندھیرا تھا اس نے لائٹ آن کی۔ ابوبکر کو منہ پہ بازو رکھے، بیڈ سے نیچے پاؤں لٹکاۓجوتوں سمیت بیڈ پر دراز پایا۔ چائے کا مگ ٹیبل پر رکھ کر وہ ابوبکر کی طرف بڑھی تھی جو شاید ایسے ہی سو گیا تھا۔ الہام نے اس کے شوز اتارنے کے بعد اس کی جرابیں بھی اتاریں تھیں، اور پاؤں اوپر کی طرف کیے تھے۔ جیسے ہی اس نے پاؤں اوپر کی طرف کیے تھے ابوبکر کی آنکھ کھولی تھی۔
” الہام بچے یہ کیا کر رہی ہو۔” وہ فورا اٹھ بیٹھا تھا اور اپنے پاؤں پیچھے کیے تھے۔
“بھائی! یہ کون سا میں پہلی بار کر رہی ہو۔” اس کی بات پر ابوبکر مسکرایا تھا۔ کیونکہ اکثر تھکاوٹ کے باعث ایسے ہی سوجاتا تھا۔ لیکن جب سو کر اٹھتا تھا تو اس کے پاؤں بستر پر ہوتے تھے اور شوز اور جرابیں بھی غائب ہوتی تھیں۔
” ویسے یہ ڈاکٹرز بیچارے اتنے تھک کیوں جاتے ہیں، کہ آتے ہی بستر پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔” الہام نے ٹیبل سے چائے کا مگ اٹھا کر لاتے ہوئے ابوبکر سے سوال کیا تھا۔ ابوبکر مگ پکڑتے ہوئے پھیکا سا مسکرایا تھا، آج وہ معمول سے ہٹ کر مسکرا رہا تھا، آج اس کی مسکراہٹ میں اداسی تھی۔
“شاید ہم ڈاکٹرز کا کام باقیوں کی نسبت زیادہ مشکل ہوتا، باقی شعبوں میں زیادہ تر دماغ کا استعمال ہوتا یا جسمانی تھکاوٹ ہوتی، ہمارے میں دل دماغ ،جذبات، انسانیت ،بے بسی سب ہوتا ، اس لیے شاید ہم زیادہ تھک جاتے ہیں” ابوبکر نے اداسی سے جواب دیا تھا۔
“بھائی اداس کیوں ہیں” الہام نے بالآخر پوچھ لیا تھا۔
“الہام تمہیں پتا ،آج ایک عورت کو ایمرجنسی میں لایا گیا،ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا، سامنے سے آتی گاڑی نےہیٹ کیا تھا،بری طرح زخمی تھیں، خون بہت بہہ گیا تھا، ہسپتال لیٹ پہنچایا گیا، ہم نہیں بچا سکے، اور جب میں ایمرجنسی روم سےباہر نکلا، تو سب سے پہلے میرے پاس بھاگ کر ان کی بیٹی آئی ، شاید آٹھ، نو سال کی تھی۔اس کی آنکھوں میں امید تھی، وہ مجھے دیکھ رہی تھی کہ میں اسے زندگی کی نوید سنا دوں کیونکہ ماؤں کے بعد تو بیٹیاں مر ہی جاتیں ہیں نا ، اور الہام میں نے اپنے الفاظ سے اسے مر دیا ، آج وہاں بظاہر ایک انسان وہاں زندگی کی بازی ہارا ، لیکن میں نے آج دو لوگوں کو مرتے دیکھا۔” وہ خاموش ہو گیا تھا، آخری بات کہتے ہوۓاس کی آواز بھر گئی تھی، الہام نے اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی۔
“بھائی یہ تو اللہ کے فیصلے ہیں، ان فیصلوں کے پیچھے کی مصلحت میں اور آپ نہیں جان سکتے”الہام نے اس کو دیکھتے ہوۓنرمی سے کہا تھا۔
“مگر الہام کیا ہوتا اگر میں ان کو بچا لیتا” ابوبکر نے جواب دیا تھا۔
“بھائی ڈاکٹر صرف وسیلہ بنتا ہے، باقی کام اللہ کا ہوتا، آپ نے اپنی پوری کوشش کی، باقی اللہ کے ہاں ان کی اتنی ہی زندگی تھی، اگر ایسے ہی ہر روز ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض بچتے رہیں گےاور اگر روز ہی ہر ڈاکٹر سر اٹھا کر فخر سے آپریشن تھیٹر سے باہر نکلے گا، تو اس کی گردن جھکنا بھول جائے گی، وہ نیچے کی چیزیں نہیں دیکھ پاۓ گا، اسے اپنے سے نیچے ہر چیز چھوٹی لگے گی، اس میں تکبر آجائے گا، وہ بھول جائے گا کہ اوپر بھی کوئی ذات رہتی ہے، بچانے والی وہی ذات ہے، وہی اصل مسیحا ہے وہ تو بس وسیلہ ہیں، اصل فیصلے اسی ذات کے ہیں، اور ہمیں اس کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنا ہے” الہام بول رہی تھی جبکہ ابو بکر اس سے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہی نہیں، تم میری چھوٹی بہن ہو،ہم لوگ کبھی ان باتوں پہ دھیان ہی نہیں دیتے، چھوٹی باتوں سے ہی تو بڑی باتیں بنتی ہیں ، اور جو ہمیں مخص چھوٹی لگتی وہی ہمیں اکثر کفر کی طرف لے جاتیں ، جیسے کہ اپنی ذات کو کسی سے افصل سمجھنا یہ وہ چیز ہے جو سب عمل پہ پانی پھیر دیتی ” ابوبکر نے الہام کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنی بات مکمل کی تھی۔
“بلکل ایسا ہی ہے، چلیے اب اٹھیے ، فریش ہوجائیں ،اور بتائیں کھانے میں کیا بناؤں” الہام نے اٹھ کر ابوبکر کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ کہا تھا۔
“چلو آج رات کا کھانا باہر کھاتے ہیں” الہام کا ہاتھ پکڑ کر اٹھتے ہوۓ کہا تھا ، اور دوسرے ہاتھ میں موجود مگ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔
“حرا بھی ساتھ چلے گی” مگ ہاتھ میں پکڑتے الہام نے کہا تھا۔
“ظاہر ہے ان کے بنا ہمارے گھر کا کوئی پلان پورا ہوسکتا کیا۔” ابوبکر نے الماری سے کپڑے نکالتے ہوۓ کہا تھا۔
“ٹھیک ہے میں اسے فون کر دیتی ہوں کہ وہ تیار ہو جاۓ” الہام یہ کہتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
شام سے رات ہوگئی تھی اور ابوبکر ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا، اسلام اباد کے حالات خراب تھے ، حکومت مخالف جماعت نے حکومت کے خلاف دارلحکومت میں جیسے ہلا بول دیا تھا، شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ پولیس کے ساتھ جھڑپں ہورہیں تھیں، پولیس کے کنڑول سے چیزیں باہر ہورہی تھیں، اور امی ابو کو بتا کر وہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔پھر حرا نے اسے عمر سے کہہ کر ذیشان سے پوچھنے کا کہا تھا۔ اس نے عمر کو کال کر کے ساری صورتحال بتائی تھی جس پہ اس نے اسے تسلی دی تھی، کہ وہ ابھی پتا کر لیتا ہے۔عمر کو کال کر اسے کچھ تسلی ہوئی تھی کہ وہ ابوبکر کا پتا لگوا لے گا۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
“کدھر جارہی ہو” حرا نے پیچھے سے پوچھا تھا۔
“میں نفل نماز حاجت پڑھنے جارہی ہوں ، فون آۓ تو رسیو کر لینا اور مجھے بتا دینا” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ حرا نے اس کی بات پہ سر ہلا دیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد حرا الہام کے کمرے میں گئی تھی جہاں وہ جاۓنماز پہ بیٹھی تھی، یہ لو عمر بھائی کی کال ہے ،حرا نے فون اس کی طرف بڑھایا تھا۔اس نے فون لے کر کان سے لگایا تھا۔
“الہام ذیشان سے میری بات ہوئی ہے ، ابوبکر پانچ بجے ہی نکل گیا، شاید ٹریفک میں پھنس گیا ہے، احتجاج کی وجہ سے آج ٹریفک بری طرح بلاک ہے۔” عمر نے اس کو تسلی دی تھی۔
“ان کا فون کیوں نہیں لگ رہا، وہ فون کر کے بتا دیتے ، وہ مجھے لے کر اتنے لاپرواہ نہیں ہیں، رات کے آٹھ بج رہے ہیں وہ آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ جاتے ہوتے ہیں۔” الہام نے اب باقاعدہ رونا شروع کردیا تھا۔
“اچھا آپ پلیز رونا بند کریں،شہر کا ٹریفک بری طرح بلاک ہے، میں جس روٹ پہ آپ کا گھر پڑتا ،اس روٹ پہ جاتا ہوں اور ابوبکر کو دیکھتا ہوں، آپ پلیز رونا بند کریں ، اور اللہ سے دعا کریں۔” عمر الہام کے رونے سے پریشان ہوگیا تھا۔
“آپ کو جیسے ہی وہ ملیں ، مجھے کال کر کے بتائیں گا۔” الہام نے روتے ہوۓ عمر سے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے ، آپ حرا کو فون دیں۔” الہام نے فون حرا کو تھمایا تھا، عمر نے حرا کو الہام کے پاس رہنے کو کہہ کر کال بند کردی تھی۔ الہام کے رونے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی، وہ جاۓ نماز پہ بیٹھی دعا کرتے مسلسل رو رہی تھی، رونا توحرا کو بھی آ رہا تھا، لیکن وہ ضبط کیے بیٹھی تھی۔ اتنے میں ابوبکر کی گاڑی کا ہارن بجا تھا۔ حرا دروازے کی طرف بھاگی تھی، جبکہ الہام سجدے میں گری تھی، جیسے زندگی کی نوید مل گئی ہو۔ تھوڑی دیر میں ابوبکر گھر میں داخل ہوا تھا۔ اور الہام نے اپنے کمرے سے آتے ہی ابوبکر پہ مکوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی تھی۔
“کدھر رہ گئے تھے، ایک فون کر کے بتا نہیں سکتے تھے ، میں کتنی پریشان ہوگئی تھی، مجھے سانس نہیں آرہا تھا۔” ابوبکر اچانک ہوۓ حملے پہ گھبرایا تھا ، پھر اس نے الہام کے ہاتھوں کو قابو کیا تھا،اور اسے گلے سے لگایا تھا۔
“یار ٹریفک سخت بلاک تھا اوپر سے موبائل کی بیٹری بھی ڈیڈ ہو گئی تھی، مجھے احساس تھا، لیکن اب تو آگیا ہوں نا، معاف کر دو ” ۔ اس نے الہام کے سر پہ پیار کرتے ہوۓ خود سے الگ کر کیا تھا۔ جو اب اس کو گھور رہی تھی۔ حرا ابوبکر کے لیے پانی لائی تھی، اور گلاس اس کو تھمایا تھا۔
“الہام عمر بھائی کو تو بتا دو ، وہ ابوبکر کو ڈھونڈنے نکلے ہیں” حرا نے ابوبکر اور الہام کے سامنے دوسرے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے الہام سے کہا تھا۔ ابوبکر نا سمجھی کے عالم میں حرا کو دیکھا تھا ، جس نے اسے ساری بات بتائی تھی۔
“لو جی اس بچارے کو بھی تم لوگوں نے تنگ کر دیا، اب اس کو بولو ، اب نکل آیا ہے تو ہماری طرف چائے پی کر جائے۔” ابوبکر نے الہام سے کہا تھا۔
” بھائی امی ابو گھر نہیں ہیں” الہام نے مخالفت کی تھی۔
” تو،،،میں تو ہوں نا، دو فون میں خود کرتا ہوں” اس نے الہام سے فون لے کر عمر کو کال ملا کر ساری صورتحال بتائی تھی، اور عمر کو گھر آنے کی دعوت دی تھی، جو عمر نے من لی تھی۔
“چلواب تم دونوں چائے اور دیگر لوازمات کا بندوبست کرو، میں فریش ہو کر آتا ہوں” یہ کہتے ہوئے وہ اٹھا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب ابوبکر اپنے کمرے سے باہر آیا ہی تھا کہ ڈور بیل بجی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی وائٹ ٹی شرٹ، بلیک جینز ، سر پر اسپورٹس کیپ پہنے عمر ابوبکر کر ساتھ اندر آیا تھا۔ ابو بکر نے اس کو ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھایا تھا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ کچھ دیر میں حرا عمر کے لیے پانی لائی تھی اور عمر سے حال احوال پوچھا تھا۔عمر اور ابوبکر ادھر آدھر کی باتیں کر رہے تھے۔حرا نے کیچن میں جاکر زبردستی چائے الہام کو لے جانے کا کہا تھا اور خود دوسری ٹرے میں باقی لوازمات لئے تھے۔ہاف وائٹ کھلے کرتے کے نیچے کیپری پہنے ، سر پر دوپٹہ اوڑھے جس سے تھوڑے سے بال نظر آرہے تھے، الہام جیسے ہی سامنے گئی تھی ، عمر نے اسے دیکھا تھا۔پندرہ منٹ سے آنکھیں اسی کا ہی تو انتظار کر رہیں تھیں، آنکھوں کو جیسے ٹھنڈک ملی تھی۔ اس کی آنکھوں کو یہ منظر بہت بھلا لگا تھا۔
” السلام علیکم” الہام نے چاۓ رکھتے ہوۓاسلام کیا تھا۔
“وعلیکم السلام” عمر نے اس کے ہاتھوں پہ موجود مہندی کو دیکھتے ہوۓ جواس دن کے مقابلے میں گہری ہوچکی تھی، جواب دیا تھا۔حرا باقی لوازمات رکھ چکی تھی اور سامنے والے صوفے پہ اپنے ساتھ الہام کو بھی ہاتھ پکڑ کر بیٹھایا تھا۔
“الہام ہمارے معاملے میں جذباتی ہے ، اس نے تمہیں بھی پریشان کردیا” ابوبکر نے الہام کو دیکھتے ہوئے عمر سے کہا تھا۔
“جن سے محبت کی جاتی ہے ان کے لیے ہی توجذبات رکھے جاتے ہیں، جذبات کہاں ہر ایک پر لٹائے جاتے ہیں” عمر نے ابوبکر کو دیکھ کر مسکرتے ہوۓ بولا تھا۔
“صحیح کہہ رہے ہو، لیکن انسان کو مضبوط ہونا چاہیے ” ابوبکر نے جواب دیا تھا۔
“ہاں بالکل لیکن اپنوں کے سامنے جذبات دکھا دینے چاہیے، بتا دینے چاہیے، رو لینا چاہیے، کہہ لینا چاہیے، اپنے اپنا لیتے ہیں، سن لیتے ہیں، رونےکے لئے کندھا دے دیتے ہیں، گلے لگا لیتے ہیں، آدھی پریشانی تو اپنے دور کر دیتے ہیں کہ ہاں وہ ساتھ ہیں” بات مکمل کرکے عمر نے چاۓ کا مگ ٹینل سے اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔ جبکہ ابوبکر الہام کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا ، جو عمر کو دیکھ رہی تھی۔
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو، اپنے ساتھ ہوں تو مشکلیں بھی آسان لگنے لگتیں ہیں، آج تم نہ ہوتے تو الہام ذیادہ پریشان ہوتی” ابوبکر نے اب عمر کی طرف دیکھ کر جواب دیا تھا۔
الہام تو خود بہت بہادر ہیں، بس اپنوں کے معاملے میں یہ تھوڑی ڈر جاتیں ہیں۔” عمر نے الہام کو دیکھتے ہوۓ آخر میں ابوبکر کو دیکھا تھا۔الہام نظریں جھکاۓ بیٹھی تھے جیسے وہ دونوں کسی اور کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔ جبکہ حرا دونوں کی باتیں غور سے سن رہی تھی۔
“چاۓ بہت اچھی بنی ہے۔”عمر نے ساتھ ہی بولاتھا۔الہام نے نظریں اٹھائی تھی، لیکن وہ ابوبکر کی طرف متوجہ تھا۔
“ہاں الہام بہت اچھی چاۓ بناتی ہے، میرے لیے چاۓ بنا بنا کر اکسپٹ ہو گئی ہے، چاۓ کے بنا تو مجھے لگتا میں زندہ لاش ہوں، چاۓ پیتا تو لگتا ہاں میں زندہ ہوں” ابوبکر نے ہنستے ہوۓ جواب دیا تھا۔ جبکہ عمر نے قہقہ لگایا تھا۔
“آج کوئی مجھے اپنے جیسا ملا ہے۔” عمر نے ہاتھ ابوبکر کے آگے کیا تھا ، جس پہ اس نے تالی ماری تھی۔ دونوں ہنس رہے تھے جبکہ الہام سامنے بیٹھی نے دونوں کی ہنسی دیکھ کر ، اس ہنسی کی سلامتی کی دعا کی تھی، دونوں کتنے مکمل انسان تھے، دونوں اس کے بہت اپنے تھے، اللہ نے اسے کتنے پیارے لوگوں سے نوازا تھا ایک اس کا بھائی تھا اور دوسرا اس کا شوہر ، اور دونوں ایسے تھے کہ لوگ ان پہ رشک کرتے تھے، بے احتیار اس نے دل میں شکر ادا کیا تھا۔
جاری ہے !!