Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode (Watching)
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
”مس فریحہ !آپ بیٹھیں نا ۔“وسیم کی آواز اسے خیالوں سے باہر لے آئی تھی ۔وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
”وسیم صاحب !….میں بس یہ کہنے آئی تھی کہہ ….کہہ….باجی نے مجھے مجبور نہیں کیا، بلکہ میں …. میں ….“ اس سے آگے وہ کچھ نہیں کہہ پائی تھی اور شرما کر نیچے دیکھنے لگی ۔
”ہاں جانتا ہوں ….“وسیم بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا ۔”آپ تشریف تو رکھیں ۔“
بیڈ کے ساتھ پڑی قیمتی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے آہستہ سے پوچھا ۔”پھر بلانے کا مقصد؟“
”پہلے یہ بتائیں ،کچھ پینا پسند فرمائیں گی ؟“
”نو تھینکس ۔“اس نے انکار میں سرہلایا۔
”کیا میں آپ کو فری،کہہ سکتا ہوں ؟“
وہ شرماتے ہوئے بولی ۔”جس رشتے میں ہم منسلک ہونے جا رہے ہیں ….اس کے بعد آپ کسی بھی نام سے پکارنے کا حق رکھتے ہیں ۔“
”لیکن وہ حق نکاح کے بعد حاصل ہوگا نا محترما !“
”شاید آپ نے صرف گپ شپ کرنے کے لےے بلایا ہے ۔“
”نہیں ….“وسیم انکار میں سر ہلاتے ہوئے سنجیدہ ہوگیا ۔”زندگی رہی تو گپ شپ کا بہت وقت پڑا ہے ،اس وقت زحمت دینے کا مقصد ایک تو،آپ کو اپنے ماضی سے روشناس کراناتھا ،تاکہ بعد میں کوئی غلط فہمی نہ جنم لے…….. “
”میرا خیال ہے آپ کے ماضی کے بارے باجی مجھے سب کچھ بتا چکی ہیں۔“فریحہ نے قطع کلامی کی۔
”بہت خوب ….اب یہی درخواست میں آپ سے کرنا چاہوں گا ۔“
”میں سمجھی نہیں ۔“فریحہ کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”مطلب ….میں آپ کے بارے سب کچھ جاننا چاہوں گا ،وہ بھی جو سب کو پتا ہے اور وہ بھی جو صرف آپ کو پتا ہے ۔“
”بہت تلخ سوال ہے سیٹھ صاحب !….“اس مرتبہ فریحہ کے لہجے میں شرم و حیا کے بجائے تلخی کی آمیزش تھی ۔ ”حالانکہ جس نے مجھے آپ کے شب و روز سے مطلع کیا ، یقینا اس نے میرا ماضی بھی آپ کے سامنے دہرایا ہوگا ….لیکن آپ شاید میری منہ زبانی ہی سننا چاہتے ہیں ….جانے کیوں ؟“
”اگر آپ نہیں بتانا چاہتیں تو ……..“
”ضرور بتاوں گی ….سیٹھ صاحب!….ضرور….میرا نام جیسے آپ جانتے ہی ہیں، فریحہ رباب ، ابو بینک میں کیشیر ہیں ….ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اللہ نے شکل اچھی بنائی ہے اس لےے چاہنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی ….البتہ میں نے صرف حماد کو پسند کیا اور کوشش کہ ہماری شادی ہو جائے ،مگر اللہ پاک کو منظور نہیں تھا اسے روپے پیسے کا لالچ لے ڈوبا گو پہلے پہل میں بھی اس کے ساتھ شامل تھی مگر باجی سے ملنے کے بعد میں نے یہ خیال دل سے نکال دیاتھا …. باجی کی موت کی جھوٹی خبر پر میںنے دانیال کو پرپوز کیا ،کیونکہ ایک تو میں باجی کی موت کا بدلہ لینا چاہتی تھی اور دوسرا وہ بہت مخلص شخص ہے ۔اور اللہ گواہ ہے کہ میں آج بھی ان دونوں مردوں سے نگاہ ملا کر بات کر سکتی ہوں، نقاب اوڑھنے سے پہلے بھی میں اس حد تک جانے کو کسی قیمت پر تیار نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے میں اپنا وقار اور فخر کھو دوں ….آپ کے سامنے بھی نقاب اسی لےے نہیں اوڑھا کہ آپ نے مجھے پرپوز کیا ہے…. اس کے علاوہ اگر آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو بہ خدا میں صحیح جواب دوں گی ….؟“نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی انکھوں میں نمی بھرتی چلی گئی ۔
”نہیں بس اتنا ہی سننا تھا ….“
”اوکے تھینکس….“اس نے ہاتھ کی پشت آنکھوں پر پھیری اور دروازے کی طرف چل دی ۔
”کیا میں توقع کر سکتا ہوں کہ اس سوال جواب نے ہمارے درمیاں کسی غلط فہمی کو جنم نہیں دیا ہوگا۔“
وہ رکی اور پیچھے مڑے بغیر بولی ….”نہیں سیٹھ صاحب ….بلکہ غلط فہمی دور ہوئی ہے ۔“
”فری !….ایک منٹ ۔“سیٹھ وسیم نے اس کی طرف قد م بڑھائے ۔
”میرا نام فریحہ رباب ہے سیٹھ صاحب ۔“وہ اس کی جانب مڑتے ہوئے نارمل انداز میں بولی۔
”واٹ !….ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ مجھے اجازت دے چکی ہیں ……..“
”وہ لمحات گزر گئے ہیں سیٹھ صاحب !….“وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔اس کے ساتھ اس نے دروازہ کھولنا چاہا،مگر غیر متوقع طور پر سیٹھ وسیم نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی تھام لی۔
”چھوڑیں مجھے ….“فریحہ نے اپنی کلائی چھڑانا چاہی ۔
”جس دن آپ مسکان کے مرنے کی خبر سن کر ہمارے گھر آئی تھیں اس دن آپ نے پنک کلر کے کپڑے پہنے تھے ،گلے میں کالا دوپٹا اوربالوں میں نیلے رنگ کی پونی تھی ….اور اسی رنگ کے پتھر کی انگھوٹھی تمھارے دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں تھی ……..“
”کیا مطلب ہے اس سب کا ؟“اس نے تلخ لہجے میں قطع کلامی کی ۔
”فری !….میں ٹھکرایا ہوا مرد ہوں۔یقینا میرے سوالات نے آپ کی عزت نفس کو مجروح کیا ہے ،لیکن معاف کرنا بھی تو تمھارے بس میں ہے ۔“اس کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ فریحہ ایک دم ڈھیلی پڑ گئی تھی ۔
”سیٹھ صاحب !….“
”وسیم ….آپ وسیم کہہ سکتی ہیں ۔“
اچانک فریحہ کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ ابھری۔”اچھا ٹھیک ہے،نہیں ہوں خفا ،اب مجھے جانے دیں ۔“
”جب خفا تھیں تو جانے نہیں دے رہا تھا ….اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”باجی منتظر ہو ںگی نا ۔“
”وہ مجھ سے اہم ہے ۔“
”ہاں ….“فریحہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی ۔”کیونکہ اسی کی وجہ سے مجھے وسیم ملا ہے ۔“
”سچ ….‘سیٹھ وسیم خوشی سے چلایا۔اس نے دونوں ہاتھوں سے فریحہ کے کندھے تھام لےے تھے ۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی ۔”اس دن آپ نے بلیک پینٹ ،سفید شرٹ اور بلیک کلر ہی کا کوٹ پہنا تھا ….گلے میں نیوی بلیو کلر کی ٹائی تھی ،بال بکھرے تھے ،پاو¿ں میں براو¿ن شوز تھے ….اور آپ بالکل کھوئے کھوئے سے نظر آ رہے تھے ، باجی کی موت کی خبر نے آپ کو بہت دکھی کر دیا تھا….“
”فری !….ان باتوں کا مطلب ….؟“وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔
”بچہ چاند کو دیکھ کر مچلتا تو ہے نا ؟“
وہ شکوہ کناں ہوا ۔”اگر ایسی بات تھی تو کبھی اپنی باجی ہی سے ذکر کر دیا ہوتا ؟“
”اپنی اوقات نے دامن ِ سوال دراز نہ کرنے دیا ۔“
”تمھاری اوقات….آئندہ ایسا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے ؟“
”شاید تمھیں اپنی شکل و صورت کا احساس نہیں ہے ؟“
وسیم کے ہاتھوں کو آہستگی سے اپنے کندھوں سے ہٹاتے ہوئے وہ دھیرے قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ کے ساتھی رکھی منقش کرسی پر بیٹھ گئی ۔”وسیم !….“اس کا لہجہ خواب ناک سا تھا ۔”بالی عمر ہی سے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں کتنی خوب صورت ہوں…. سکول ،کالج اور پھر یو نیورسٹی میں کئی دل پھینک ایسے تھے جو میری ایک نظر کرم کے لےے ترستے تھے ….مگر میری آنکھوں میں کوئی نہ جچا ….یہاں تک کہ میں نے حماد کو دیکھا اور دیکھتے ہی دل نے کہا یہی ہے جو میرے خوابوں کا شہزادہ ہے ….میری عمر کی لڑکی صرف محبت ہی کو سب کچھ سمجھتی ہے وہ دیکھتی ہے تو محبوب کی آنکھ سے ،سوچتی ہے تو محبوب کے دماغ سے ،فیصلہ کرتی ہے تو محبوب کی مرضی کے مطابق، میں بھی ایسی ہی تھی ۔میں اس کے خوب صورت چہرے کے پیچھے چھپے گھناو¿نے پن کو نہ دیکھ پائی ۔مسکان کی قسمت پر رشک کرتی رہی کہ وہ اس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا ….پھر ایک دن مسکان یونیورسٹی نہیں آئی تھی میں یونیورسٹی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ حماد نے مجھے موٹر سائیکل پر لفٹ کی آفر کی ….مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہونے لگا ،اسی دن ہم نے اظہا رو اقرار کی ساری منزلیں طے کر لیں ….اس کے ساتھ حماد نے مجھے اس بات پر بھی راضی کر لیا کہ وہ وقتی طور پر مسکان کے ساتھ محبت کاناٹک کھیلتا رہے گا ،کیونکہ اسی طرح وہ اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتا تھا …. میں بھی بچپن ہی سے بہت سی ادھوری خواہشات کا بوجھ دل میں چھپائے پھر رہی تھی ….اور پھر میں نے سوچا کہ حماد یہ سب کچھ میرے ہی لےے تو کر رہا ہے ….اس کی مسکان سے شادی ہوگئی، میں اس پر زور دیتی رہی کہ وہ جلد سے جلد مسکان سے تعلق توڑے تاکہ ہم دونوں ایک ہو سکیں ….مگر پھر جب ہم نے سوچا تو مسکان کو ختم کےے بغیر اس کی دولت کا حصول ناممکن نظر آیا ۔میں کسی بے گناہ کی موت پر کبھی تیار نہ ہوتی لیکن حماد نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مجھے آمادہ کر لیا کہ وہ مسکان کو قتل کرے گا ۔اسی دوران ہماری تگڈم میں دانیال کی انٹری ہوئی۔ اس کی مسکان باجی سے جنونی محبت کو دیکھ کر میں دوبارہ حماد کے سر ہو گئی کہ وہ سب کچھ ٹھکرا کر میری طرف لوٹ آئے۔پھر میری مسکان باجی سے ملاقات ہوئی ۔اس ملاقات کے بعد میں اس مخلص لڑکی کی گرویدہ ہو گئی ۔ میں نے سختی سے حماد کو منع کر دیا کہ مسکان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ کرے ،مگر اس شخص کے نزدیک ہرچیز ،ہر رشتا ،ہر احساس دولت کے بعد آتا تھا ۔میرے زور دینے پر اس نے وقتی طور پر تو حامی بھر لی کہ مسکان کو کچھ نہیں کہے گا، لیکن در پردہ وہ اپنے منصوبے پر عمل پیرا رہا ۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مسکان بھی دانیال کی محبت پا کر اس سے برگشتہ ہو گئی ۔نتیجتاََ اسے کسی مجر م تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔میں اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی سوائے اس کے کہ اسے اس کی محبت سے محروم کر دوں ۔پس میں نے دانیال کے نزدیک ہو گئی ۔کیونکہ مسکان کی موت کے بعد وہ بالکل بکھر گیا تھا ، دوسرا مجھے حماد سے بھی بدلہ لینا تھا۔ مسکان باجی کی موت کی خبر سن کر میں یہاں آئی تھی اور اس دن آپ کو دیکھامگر مجھ میں اتنی جرا¿ت نہیں تھی کہ آپ کے خواب ہی دیکھ سکتی اور اب جبکہ باجی اللہ پاک کے کرم سے واپس آ گئی ہے تو اس نے جانے کیسے آسمان سے چاند کو توڑا اور میری گود میں پھینک دیا ۔“
وسیم مسکرایا ۔” میرے کہنے پر تو نے اپنی کہانی سنائی اور خفا بھی ہو گئیں۔اب بغیر میرے کہے اتنی تفصیل سے سب کچھ بتا دیا ۔“
”آپ کے لہجے نے میرے دل میں غلط فہمی کا بیج بو دیا تھا،لیکن یقینا میںغلط تھی ۔“
”نہیں غلطی میری تھی ۔“وسیم نے اس کا ملائم ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیج تھامتے ہوئے سہلایا۔ ”سوری ، مجھے معاف کر دو۔لیکن بہ خدا میرا مقصد وہ نہیں تھا جو آپ نے سمجھا ۔ہر آدمی کے ماضی میں کئی اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں ۔یقینا میرے بھی ہوں گے ۔اگین سوری فری!….مجھے معاف کر دو ۔“
فریحہ نے اپنا دوسرا ہاتھ وسیم کے ہاتھوں پر رکھا ۔”وسیم !….مجھ پر اعتبار ہے نا ؟“
وہ چاہت سے بولا۔”دل و جان سے ….“
”تو یقین رکھو ….مجھ پر ،میں نے اپنا سارا ماضی آپ کے سامنے کھول دیا ہے ….اور میں ایک دفعہ پھر کہتی ہوں ،کہ اس دنیا میں کوئی ایسا مردنہیں ہے جس کے سامنے مجھے نظریں جھکانا پڑےں ، میں حماد کو چاہتی تھی کیونکہ وہ مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا لیکن اس کی غلاظت بھری سو چ نے مجھے اس سے متنفر کر دیا اور پھر میری زندگی میں دانیال آیامیں اس پر خلوص شخص سے متاثر ضرور تھی مگر نہ تو وہ مجھے چاہتا تھا اور نہ مجھے اس سے کوئی محبت تھی ،ہمارے بیچ بس ہمدردی کا رشتا تھا ۔البتہ حماد کا متبادل اس کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا اور پھر حماد سے باجی کا انتقام بھی تو لینا تھا۔“
”فری !….اتنی صفائیاں دینے کی وجہ….؟“
وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی ۔”کیونکہ میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی ۔“
پگلی !….مجھے بس ایک ہی ڈر تھا ۔“
”وہ کیا ؟“فریحہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”یہی ،کہ آپ یہ حامی کہیں مسکان کے دباو¿ کی وجہ سے تو نہیں بھر رہیں ۔“
وہ شوخی سے مسکرائی ۔”واہ !میں پڑھی لکھی ہوںکسی کے دباو¿ میں آکر میں اپنی زندگی داو¿ پر کیسے لگا سکتی ہوں ؟“
”اجی!….پڑھے لکھوں کا بھی کوئی بھروسا نہیں ہوتا ۔“سیٹھ وسیم نے کہا اور فریحہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
٭……..٭
مسکان سرخ کپڑوں کی ڈھیری بنی آنے والے خوشگوار لمحات کے بارے سوچ رہی تھی ۔آخر کار دانیال نے اسے جیت ہی لیا تھا ۔یہ وہی خواب گاہ تھی جس میں چند ماہ پہلے وہ دلہن بن کر آئی تھی۔ گویا دلہن کے ساتھ خواب گاہ بھی نہیں بدلی تھی ۔دولھا بھی وہی تھا….بس بدلے تھے تو اس کے احساسات ….پہلی مرتبہ جب وہ دانیال کی دلہن بنی تھی تواس کا دل اندیشوں سے پر تھا اور وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کےے آنے والے وقت کوٹالنے کے لےے دعا گو تھی اس کے برعکس، آج وقت گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔سیکنڈز کی سوئی نے گھنٹوں کی سوئی سے ساز باز کر کے اس کی جگہ سنبھال لی تھی ….اور منٹوں اور گھنٹوں کی سوئیوں کی باری تو یوںبھی سیکنڈز کے بعد آتی ہے۔لمحہ لمحہ سال بن گیا تھا ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لمحہ لمحہ صدی کیوں نہ بن جائے وقت نے آخر گزرنا ہی ہے ….
دروازہ کھٹکھٹاکر دانیال اندر داخل ہوا ….
”اسلام علیکم!….“
اس کی بھاری آوازمسکان کی سماعتوں میں پڑی اوروہ گھونگٹ الٹتے ہوئے بولی۔”وعلیکم اسلام! …. محترم وقت دیکھا ہے ؟“
دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”ارے منہ دکھائی سے پہلے دلہنیں باتیں نہیں کیا کرتیں؟“
مسکان نے منہ بنایا۔”بس کرو جی !….بڑا آیا منہ دکھائی والاپچھلی بار کتنی دیر تک گردن جھکائے بیٹھی رہی اور بدلے میں جناب نے ایک رومال پکڑا دیااب بھی کوئی ایسی ہی چیز اٹھا لائے ہوں گے محترم!“
”اگرمیرا تحفہ اتنا ہی برا لگا تھا تو اسی وقت بتا دیا ہوتا۔“
”اب بتا رہی ہوں نا ۔“
”اچھا جی !….اب تو سونے کا لاکٹ ،ہیرے کی انگوٹھی اور سونے ہی کی چوڑیاں لایا ہوں ۔“
”دانی !….منہ دکھائی میں تین تین تحفے یہ خوب رہی ؟“
”تو کیا کروں ،پچھلی بار ایک تحفہ دیا تھا اور نتیجہ بھگت رہا ہوں….“
وہ ہنسی ….”کیا ہوا جی۔“
”یہ دوسری شادی اسی وجہ سے تو کرنی پڑ رہی ہے نا محترما !….غریب آدمی کہاں بار بار خرچہ کرسکتا ہے یہ تو سیٹھوں کے چونچلے ہیں۔“
”اچھا ….یہ بات ہے ؟“مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔
”جی ہاں اورخفا ہونے سے بچت نہیں ہو سکتی ۔“دانیال اس کا ہاتھ پکڑ کر سہلانے لگا ۔
”دانی !….مجھے چوڑیاں پہناو¿ نا ۔“مسکان کھسک کر اس کے قریب ہوئی اور اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا ۔
دانیال اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔”مشی !….جانتی ہو تم مجھے کتنایاد آتی رہی ہو۔“
مسکان اس کی پیٹھ پر مکے برساتے ہوئے بولی ۔”جی ہاںاسی لےے تو میری قبر کی مٹی سوکھنے سے پہلے جناب نے ایک دوشیزہ ڈھونڈ لی تھی ۔“
”اب تک معاف نہیں کیا۔“دانیال نے اس کی ناک پکڑ کر آہستہ سے کھینچی ۔
”پہلے سزا تو کاٹو ۔“
”کاٹ تو لی ہے ،جانتی ہو ایک ایک لمحہ صدیاں بن گیا تھا ۔مشی !….تمھارے ساتھ ہی بہاریں تھیں اور تمھی سے خوشیاں تم چلی گئیں ،کچھ بھی باقی نہیں رہا ۔“
”مجھ پر کیا گزری ہو گی ،یہ کبھی سوچا ہے؟۔“مسکان آرزدہ ہو گئی تھی۔
دانیال نے خاموشی سے سر جھکا دیا تھا ۔
وہ سسکی ۔”جانتے ہو دانی !….انھوں نے میرے ساتھ کیا کیا ….میرے غرور ، خوداری،عصمت اور عزت نفس کی کیسے دھجیاں اڑائیںمیںہر پل موت کی دعا مانگتی رہی مگر موت بھی مجھ سے روٹھ گئی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ یہ سزا مجھے تمھارا دل دکھانے کی وجہ سے ملی ہے میں ……..“
”بس جان !….“دانیال نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب گھسیٹ کر آغوش میں لے لیا ۔”وہ خبیث اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اور یاد رکھنا گلاب کے پھول پرگندگی کے چھینٹوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ با رش کے چند قطروںسے دھل جاتے ہیں۔کبھی سنا ہے کہ گرد و غبار نے پھول سے خوشبو چھین لی ہے….؟نہیں نا….پھر میرے پھول سے وہ کیسے کچھ چھین سکتے ہیں ….مشی جان!….تم میرے لےے آج بھی اتنی ہی پاکیزہ ،مقدس اور اجلی ہو جتنی اپنی پیدائش کے وقت تھیں ۔“
”دانی !….آپ نے مجھے بگاڑ دیا ہے ۔“مسکان نے اس کی کشادہ چھاتی پر سر رکھ دیا ۔
”پگلی !….تمھیں کیا معلوم اس دل میں تمھاری کتنی چاہ ہے ۔“
”اچھا زیادہ ڈائیلاگ بازی کی ضرورت نہیں ….مجھے چوڑیاں پہناو¿۔“مسکان نے اپنی ریشمی کلائیاں سامنے کرتے ہوئے لاڈ سے کہا۔
اور دانیال بڑی چاہت سے سونے کی چوڑیاں اس کی کلائی میں ڈالنے لگا ۔
”دانی !….ایک بات مانو گے ۔“
”مشی !….ہر بات منوا سکتی ہے ۔“
”مجھے ہنی مون منانے کے لےے لے جاو¿ گے ….؟“
”ہاں ….مگر ایک شرط پر۔“
”وہ کیا ؟‘مسکان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
و ہ شرارت سے بولا۔”وہاں سے ایک دم واپسی کے لےے نہیں کہو گی ….کم از کم مجھے ایک دن پہلے بتاو¿ گی کہ کل واپس جانا ہے ۔“
مسکان کے چہرے پر خفت بھری ہنسی پھیلی اور وہ بولی ۔”دانی !….اب طعنے بھی دینے لگ پڑے۔“
”طعنے نہیں جان!….درخواست ہے ….یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنی مشی کو طعنے دوں۔“
”ٹھیک ہے کل ہم جا رہے ہیں اوراس بار پورا مہینا وہیں بِتائیں گے ۔“
”مشی !….زندہ باد۔“دانیال نے نعرہ لگایا اورمسکان نے طمانیت سے آنکھیں موند لیں۔
٭……..٭
پھٹے پرانے کپڑے ،پاو¿ں میںجوتے ندارد،جھاڑ جھنکار داڑھی،الجھے ہوئے بال جن میں میل کچیل بھرا تھا ،یقینا اس نے کئی ماہ سے جسم پر پانی کا قطرہ نہیں بہایا تھا۔
چوکیدار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے گیٹ کے سامنے سے ہٹنے کو کہا ۔مگر وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے چوکیدار کو گھورتا رہا ۔
”اچھا بابا!….یہ لو اور پھوٹو یہاں سے ….“چوکیدار نے پانچ روپے کا سکّانکال کر اس کی طرف بڑھایا۔مگر پیسوں کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر وہ اسے گھورتا رہا۔
”باباجی !….صاب لوگوں کے آنے کا وقت ہو گیا کیوں مجھے بے عزت کرانے پر تلے ہو۔“اس مرتبہ چوکیدارنے اسے بازو سے پکڑ کر آگے کی طرف دھکیلا۔
”چھوڑو مجھے ….“وہ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا ۔”جانتے نہیں یہ میری کوٹھی ہے ۔“
”بابا !….تم نے بیچ دی ہے نا ….؟“چوکیدار نے اسے بہلا پھسلا کر وہاں سے ہٹانا چاہا۔
”مسکین خان !….یہ میری کوٹھی ہے ….کس نے کہا کہ میں نے بیچ دی ہے ؟“ مجنون شخص نے چوکیدار کو اس کے نام سے پکارا۔
چوکیدار نے اسے غور سے دیکھا ….اور اس کے وحشت زدہ چہرے پر اسے شناسائی کی جھلک نظر آئی ،
”ارے حماد صاحب!….آپ ….یہ کیا حال بنا رکھا ہے ؟“مسکین خان نے ترحم آمیز لہجے میں پوچھا ۔
”ہا….ہا….ہا….یہ تو بس یونہی حلیہ بدل رکھا ہے ۔تم دیکھنا جلد ہی میں ان سیٹھوں پر کیس کر رہا ہوں ،انھوں نے میری کوٹھی اور کاروبار ہتھیا لیا ہے ۔“
اس سے پہلے کہ مسکین اس کی بات کا کوئی جواب دیتا اچانک روڈ سے ایک کار نمودار ہوئی ۔
”اوہ !….یہ لازماََ مجھے پکڑنے آ رہے ہیں ؟“حماد متوحش آواز میں بولا اور مخالف جانب دوڑ پڑا ۔ جبکہ مسکین ترحم آمیز نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا ۔اچانک کار کے ہارن نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا وہ دانیال اور مسکان تھے ۔
مسکان پوچھنے لگی ۔”چچا !….کون تھا؟“
”کوئی پاگل تھابیگم صاحبہ!….“مسکین خان نے کہااورآنکھوں میں آئی نمی چھپانے کے لےے گیٹ کی طرف مڑ گیا ۔
٭٭٭
عائشہ خاتون نے ننھے داو¿د کو گود سے نکال کر بے بی کاٹ پر لٹایااور وہ زور زور سے رونے لگا۔
”اَلّے ….کیا ہوا میرے لال کو….؟“وہ اسے پچکارنے لگی۔”میں بس دودھ گرم کر کے ابھی آئی ۔“مگر بچے پر کوئی اثر نہ ہوا وہ اسی طرح روتا رہا ۔
”یہ بد معاش کیوں رو رہا ہے بھئی !….؟“دانیال آنکھیں ملتا ہوا بیڈ روم سے برآمد ہوا ۔دفتر سے واپسی پر سونا اس کا معمول تھا ۔
”دانی !….ایک منٹ اسے سنبھالو ،میں اس کے لےے دودھ گرم کر لوں ۔“
”معافی چاہتا ہوں امی جان….اپنی بہو کو آواز دے لیں۔“دانیال بہ ظاہر منہ بناتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
”آئے ہائے ….باولا ہوا ہے کیا ….وہ غریب سو رہی ہے ۔“
”تو نہ سوئے ….اس کا کام ہے وہ خود ہی کرے گی ۔“دانیال کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا ۔
”ماں جی !….کیا بحث ہو رہی ہے ؟“مسکان جمائی لیتے ہوئے دروازے پر نمودار ہوئی۔
دانیال نے جلدی سے وضاحت کی ۔”امی جان !….کہہ رہی تھیں کہ کاکے کے لےے دودھ گرم کرنا ہے تو مشی کو جگا دوں،میں نے کہا کہ میں خود سنبھال لوں گا ،آپ دودھ گرم کر لیں۔بس اتنی سی بات ہوئی ہے۔“
عائشہ خاتون نے ہنستے ہوئے کہا ۔”دانی !….کچھ خدا کا خوف کرو۔“
”امی جان !….آپ تو کہہ رہی تھیں نا ،کہ مشی کو جگا دوں ورنہ لوگ مجھے زن مرید سمجھنا شروع کر دیں گے اور میں نے کیا کہا ،یہی نا کہ کہتے رہیں۔اب بتاو¿ نا مشی کو؟“
”ڈرامے بازنہ ہو تو ۔“عائشہ خاتون کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔
”ماں جی !….یہ کس نے کہا تھا کہ بچے کو سنبھالنا میری ذمہ داری ہے ۔“مسکان ہنسی ضبط کرتی ہوئی عائشہ خاتون کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔
”دانی سے پوچھو بیٹی !….“
”مم….میں کیا بتاو¿ںامی جان!….ابھی آپ کی چغلی کھاتا اچھا لگوں گا ؟“
”ارے بھئی یہ کیا ،آپ لوگ گپیں ہانک رہے ہو اور میرا بھانجا رو رو کر ہلکان ہوا جا رہا ہے ؟“اچانک فریحہ نے اندر داخل ہو کر انھیں حیران کر دیا تھا ۔اس نے آتے ساتھ داو¿د کو بے بی کاٹ سے اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔
دانیال نے جلدی سے پوچھا۔”فری !….ایک بات بتاﺅ؟“
وہ بولی ۔”پوچھو….؟“
”بچے کو سنبھالنا ماں کی ذمہ داری ہے یا باپ کی ؟“
فریحہ اطمینان سے بولی ۔”اگر بچے کی ماں کا نام مسکان عرف مشی ہو تو پھر یہ کام باپ کا بنتا ہے….کیونکہ ماں نے آخر کچن بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔“
دانیال نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ”اور اگر بچے کی ماں کانام فریحہ عرف فری ہو تو ؟“
وہ اطمینان سے بولی ”پھر تو بچے کے ساتھ کچن سنبھالنا بھی باپ کی ذمہ داری ہو گا ۔“
”ادھر کرو میرا بیٹا….شکر ہے میں سیٹھ وسیم نہیں ہوں ؟“دانیال اظہار تشکر کرتا ہوا فریحہ کی جانب بڑھا ….اور تینوں خواتین بے ساختہ ہنسنے لگیں ۔
