Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03

پیپرز کے بعد وہ فارغ تھا ۔رزلٹ آنے سے پہلے اس نے مسکان کو شادی کے لےے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ اس وقت وہ یونیورسٹی کنٹین کے ایک گوشے میں بیٹھے چاے پی رہے تھے جب حماد نے یہ ذکر چھیڑا ۔
”میرا خیال ہے ہمیں شادی کر لینا چاہےے؟“
”اتنی جلدی ،کیسے ممکن ہے….؟ابھی تک تو پاپا کا کفن بھی میلا نہیں ہوااور پھر میری تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی؟“
”انکل کی موت کا جتنا افسوس تمھیں ہے مجھے اس سے کم نہیں ؟وہ صرف تمھارے باپ ہی نہیں ایک اچھے انسان بھی تھے ۔لیکن ان کا ہم ساری زندگی سوگ نہیں منا سکتے ۔کیونکہ سوگ منانے سے جانے وانے نہیں لوٹاکرتے ۔اوربہ خدا اگر ہمارے سوگ منانے سے ان لوٹنے کا ذرا سا بھی امکان ہوتا تو میں ساری زندگی شادی نہ کرتا ۔باقی جہاں تک تمھاری تعلیم کا تعلق ہے تو یہ دنیاوی تعلیم کس کام کی۔ تم کوئی سوشل ورکر تو نہیں ہو، نہ کوئی کاروباری عورت ہو، پھر ایم بی اے کی ڈگری کا کیا فائدہ ؟“
”محترم !….پاپاایک وسیع کاروبار ترکے میں چھوڑ گئے ہیں ۔اور بھائیوں کے ساتھ میں بھی وارث ہوں ۔ توآپ کاکیا خیال ہے سارا کاروبار ملازمین پر چھوڑ دوں گی ؟“
”میں کس لےے ہوں ….؟یا مجھ پر اعتبار نہیں ہے ؟“
”اپنی جان سے بڑھ کر اعتبار ہے ۔“
”پھر ؟“
”پھر یہ کہ ،تھوڑا انتظار نہیں ہو سکتا ؟“
”نہیں ….بالکل نہیں ۔تم سے دوری مجھے زہر لگتی ہے ؟“اس نے محبت جتائی ۔
”دو ر کب ہوں ؟“وہ شوخی سے ہنسی ۔”پاس ہی تو بیٹھی ہوں ۔“
”مجھے تو فون پر بات کرنے اور یوں بیٹھ کر بات کرنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ؟ فون پر بھی تمھارے لمس سے محروم رہتا ہوں اور یوں بھی چھونہیں سکتا؟“
”ہا….ہا….ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا۔”تو تصویر پر گزارا کر لو نا؟“ مسکان کی ہنسی یقیناََ ترنم سے بھرپور تھی مگر وہ فریحہ کے سحر میں گرفتا ر تھا۔اس خوب صورت ہنسی نے اسے بالکل متا¿ثر نہیں کیا تھا ۔ محبوبہ کو اگر چاہنے والے کے چہرے پر اپنی اداو¿ںکا اثر نظر نہ آئے تو وہ بے چین ہو جاتی ہے ،عجیب قسم کی تشنگی اور بے چینی محسوس کرتی ہے ۔مسکان بھی تو عورت ذات ہی تھی ۔اسے بھی یہ بات شدت سے کھلتی مگر وہ اس کی توجیہ سے قاصر تھی کہ آخر کیوں کبھی کبھی اس کا دل حماد سے اوب جاتا ہے ۔ کیوں اسے حماد کی چاہت میں کمی نظر آنے لگتی ہے ۔ اس وقت بھی اپنے قہقہے کے جواب میں حماد کا نارمل چہرہ اسے بالکل اچھا نہ لگا ۔ شوخی بھری ہنسی کااثر اس کے چہرے سے غائب ہو گیا۔
اس کی کیفیات سے بے خبر حماد اپنی رو میں بولا ۔”بتاو¿ نا ؟….کتنا انتظار کرنا پڑ ے گا؟“
”میں کیا کہہ سکتی ہوں اس بارے ؟“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی ۔“
”ارے واہ ….تم نہیں ،تو کیاتمھاری سہیلیاں بتائیں گی ؟“
”کیا دو تین سال صبر نہیں ہو سکتا ؟“
”دو تین ماہ بھی نہیں ہو سکتا ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
”اوکے جناب !….میں آپ کی خواہش نہیں ٹھکرا سکتی ۔اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیج دینا بھائی فہیم سے مل کر سب طے کر لیں گے ۔“یہ کہتے ہوئے اس کی پلکیں حیا سے جھک گئی تھیں ۔اس وقت اگر حماد کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتی تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ حیا آلود چہرہ فریحہ کے بے باک چہرے سے کتنا خوب صورت ،دلکش اور پرکشش ہے ۔مگر حماد کسی اور کے عشق میں مبتلا تھا اور محبوب اگر بدصورت بھی ہو تو کسی دوسرے کا حسن متاثّر نہیں کرتا فریحہ تو خود حسن کا شہکار تھی ۔مسکان غریب کی کیا دال گلتی ۔
”تم نے اسے بتایا ہے میرے بارے ؟“
”آج بتا دوں گی ۔اور یوں بھی اس نے خود بھی ایک متوسط گھرانے میں شادی کی ہے یقینا میری پسند پر ناک بھوں نہیں چڑھائے گا ۔“
”تو پھر کب بھیجوں ابو جان کو ؟“
”جب جی چاہے ۔“یہ کہہ کر وہ آہستہ سے ہنسی ۔”یہ نہ ہو ابھی بھیج دو ؟“
حماد بھی اس کے انداز پر ہنس پڑاتھا ۔
٭……..٭
اگلے تین چار دن وہ مسلسل ایک ایسے سکول کی نگرانی کرتا رہا جہاں کسی غریب کے بچے کا تعلیم حاصل کرنا ناممکنات سے تھا ۔ پانچویں دن اسے موقع مل گیا ،وہ نہایت پیاری سی بچی تھی اس کی عمر پانچ چھے سال کے قریب ہو گی ۔چھٹی کے وقت بچے گیٹ سے باہر نکلے اور پارکنگ ایریا میں منتظر قیمتی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے اس بچی نے دائیں بائیں دیکھا اور اپنی کار کو موجود نہ پا کر واپس مڑنے لگی ۔وہ دھڑکتے دل سے آگے بڑھا اور اس کا بازو تھامتے ہوئے بولا ۔
”چلو گڑیا ….اپنی گاڑی وہاں کھڑی ہے ۔“
اس نے معصومیت سے پوچھا ….”آپ نئے انکل ہیں ؟“
”ہاں گڑیا!….میں نیا ڈرائیور ہوں ۔“اور وہ اطمینان سے سرہلاتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑی ۔چند قدم لینے کے بعددانیال نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیا۔تھوڑا ساچلنے کے بعد ہی مجھے اسے خالی ٹیکسی نظر آئی جو اس کے اشارے پر رک گئی ۔دانیال نے پچھلی نشست سنبھال لی وہ معصومیت سے پوچھنے لگی ….
”انکل !….یہ گندی گاڑی ہماری تو نہیں ہے ؟“
”کار آج پاپا لے گئے ہیں ۔“ دانیال نے اسے پیار سے پچکارا ،وہ نہیں چاہتا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور کوکوئی شک گزرے۔
”پاپا کی تو اپنی کار بھی ہے ….پھر وہ مما کی کار کیوںلے گئے ہیں ؟“
”پاپا کی کار خراب تھی گڑیا۔ “
”وہ خود اس گندی کار میں جاتے ناں ؟“
”اچھا کل سے وہ اس کار میں جائیں گے ….اب خوش ؟“
”ہاں ….اب ٹھیک ہے۔“اس نے معصومیت سے سر ہلا دیا ۔
رستے میں کولڈ ڈرنک شاپ پر دانیال نے اسے آئس کریم بھی لے کر دی ۔اس کے ساتھ اس نے چند چاکلیٹس بھی لے لی تھیں ۔گھر سے تھوڑی دور اس نے ٹیکسی رکوائی اورڈرائیور کو فارغ کر کے نیچے اتر آیا ۔
”انکل ہم کہاں جا رے ہیں ؟“بچی کافی چالاک تھی۔
”گڑیا یہاں سے ہم پیدل جائیں گے ؟“
”کیوں انکل ….گاڑی میں چلیں نا ؟“
”نہیں…. اپنی گڑیا کو میں گود میں اٹھا کر چلوں گا ۔“دانیال نے اسے اٹھایا اور وہ ہنسنے لگی ۔
”انکل آپ بہت اچھے ہیں ….پہلے والا انکل مجھے گود میں نہیں اٹھاتاتھا ۔“
”اچھا میری گڑیا کا نام کیا ہے ؟“دانیال نے اس کے پھول سے گال کو چوما۔
”ماہین….امی جان ماہی کہتی ہیں ۔“
”اچھا ….۔“ اس نے لہجے میں مصنوعی حیرانی سموئی۔
وہ فخریہ لہجے میں بولی ” پاپامجھے گڑیارانی کہتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہی کہتے ہیں “اس نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔
”انکل آپ مجھے روازانہ لینے آئیں گے نا ؟“ دانیال کے ہاتھ سے دوسری چاکلیٹ جھپٹتے ہوئے اس نے معصومیت سے پوچھا ۔
”ہاں ،اب تو میں روزانہ اپنی گڑیا رانی کو لینے آو¿ں گا۔“اس کے لہجے میں حقیقی پیار کی جھلک تھی ۔پہلی دفعہ بھیجے جانے والی منگنی کی انگوٹھی اگر واپس نہ آئی ہوتی تو وہ بھی شاید اتنی بچی کا باپ ہوتا ۔
”انکل یہ ہمارا گھر تونہیں ہے؟“ وہ جیسے ہی گھر کے دروازے میں داخل ہونے لگا وہ تیزی سے بولی ۔
”یہ میرا گھر ہے گڑیا!….“
”پر مجھے تو اپنے گھر جانا ہے ۔امی کے پاس جانا ہے۔“وہ مچل گئی ۔
”پاپا نئی کار لے کے آئیں گے نا اس میں چلیں گے ….یہ پرانی والی تو گندی تھی ،تم نے خود کہا کہ یہ گندی کار ہے تو گندی کار میں میں اپنی گڑیا رانی کو کیسے لے جاتا ؟“
”پاپا کس وقت لے کے آئیں گے کار ؟“
”بس آنے ہی والے ہوں گے ۔“اس نے اسے بہلایا ….اسی وقت ماں کمرے سے نکلی اور حیرانی سے بولی۔
”دانی ….یہ کسے اٹھا لایا ہے ؟“
”پتا نہیں اماں!….کس گلشن کا پھول ہے ،اکیلی پھر رہی تھی میں گھر میں لے آیا کہ اعلان کرا دوں گا جس کی ہوئی لے جائے گا ۔“
”کتنی پیاری ہے “ماں نے ممتابھرے لہجے میں کہتے ہوئے اسے دانیال سے لے لیا ۔
”آنٹی !….امی کے پاس جانا ہے ،مجھے بھوک لگی ہے ۔“
”آنٹی نہیں، میں دادی ہوں میری شہزادی ۔“دانیال کی ماں اسے بے ساختہ چومنے لگی ۔
”اچھا دادو۔“اس کے معصومیت بھرے الفاظ نے عائشہ خاتون کو بے کل سا کر دیا ۔
”دانی !….سنا ہے ،یہ مجھے دادو کہہ رہی ہے ۔ہائے او میرے ربّاکب مجھے دادی کہنے والے پیدا ہوں گے ؟“
”پہلے ان کی ماں تو پیدا ہونے دو اماں ۔“حسرت سے کہتے ہوئے وہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔ماہین بھوکی تھی،گو اس کلاس کے لوگ ،ایسے گھروں میں پکا ،کھانا تو درکنار چکھنا بھی معیوب سمجھتے ہیں، مگر وہ معصوم بچی ان کلاسوں سے مبرا تھی ۔ رات کی بچی ہوئی مسور کی دال ،تازہ روٹی کے ساتھ اس نے بڑی رغبت سے کھائی تھی۔عائشہ خاتون کے ہاتھ سے کھانا کھانے کے بعد وہ اسی کی گود میں ہی لیٹ گئی اوراس سے باتیں کرتے کرتے چند ہی لمحوں بعد اسے نیند آگئی ۔
”اماں اسے چارپائی پر لٹا دو ۔“
”نہیں پتر!…. مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ “اس کی ماں اسے گود میں سلانے پرہی بہ ضد رہی ۔وہ وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آگیا ،بچی کا سکول بیگ اپنے ساتھ لانا وہ نہیں بھولا تھا ۔اب اسے بچی کے والد سے رابطے کی کوئی صورت پیدا کرنی تھی اوراس کی یہ مشکل ماہین کی ہوم ورک بک نے آسان کر دی جس پر اس کے والد کا موبائل نمبر لکھاہوا تھا اور یہ نمبر اس کی ساری کاپیوں پر درج تھا لازماََ یہ اس کے والد یا والدہ کا کام تھا۔نمبر اپنے پاس نوٹ کر کے وہ باہر نکل آیا۔
٭……..٭
اتنے بڑے گھرانے میں رشتا طلب کرنے کے لےے جانا اس کے والد کو بہت مشکل لگا ۔مگر بیٹے کی ضد کے سامنے اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔
سیٹھ داود کی محل نما کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اترتے ہوئے حماد کے والد رفیق علی کو ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا کہ انھیں ہاں سننے کو ملے گی ۔اس کے بر عکس اس کے دل میں توہین کا اندیشہ جاگزیں تھا۔ خود حماد کا دل بھی ڈانو ڈول ہو رہا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک مرتبہ تعزیت کے سلسلے میں یہاں آ چکا تھا مگر آج معاملہ دوسرا تھا ۔
”جی کس سے ملنا ہے ؟“ان کے گیٹ کے قریب پہنچنے سے پہلے مستعد چوکیدار نے آگے بڑھ کر استفسار کیا۔ مو¿دب ہونے کے باوجود اس کے لہجے میں چھپا تحکم محسوس کیا جا سکتا تھا۔
”سیٹھ فہیم سے ہماری ملاقات طے ہے ۔“حماد نے با اعتماد انداز میں جواب دیا ۔
”جناب آپ کے نام ؟“
”حماد علی ….اور یہ میرے والد صاحب ہیں رفیق علی ۔“
انھیں وہیں رکنے کا اشارہ کر کے چوکیدار پیچھے مڑا اور ذیلی کھڑکی کھول کر ساتھی چوکیدار کو ان کی آمد کی غایت بتانے لگا ۔ دوسرے چوکیدار نے غالباََ انٹر کام پر ان کے متعلق کسی سے اجازت لی تھی کہ چند منٹ کے بعد انھیں اندر جانے کی اجازت مل گئی ۔
”آئیں جی ۔“چوکیدار نے ان کے لےے گیٹ کھولتے ہوئے مو¿دبانہ لہجے میں کہا ۔
”دونوں اندر داخل ہو گئے ۔محل نما کو ٹھی کا وسیع صحن عبور کر کے وہ اندرونی عمارت کے قریب پہنچے ۔ وہاں ان کی رہنمائی کے لےے ایک ملازم کھڑا تھا ۔انھیں ہمراہ لےے وہ ایک سجے سجائے ڈرائنگ روم میں پہنچا اور صوفہ سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
”آپ بیٹھیں جناب ….سیٹھ صاحب کو اطلاع کر دی ہے وہ آیا ہی چاہتے ہیں ۔“
وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئے ۔چند منٹ بعد ایک ملازما چاے کی ٹرالی دھکیلتی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی ۔ٹرالی درجنوں لوازمات سے بھری ہوئی تھی ۔چینی کا پوچھ کر ملازما نے دو کپ چاے بنا کر انھیں پکڑائی اور ان کے سامنے رکھی ٹیبل پر کھانے کی مختلف اشیاءچن دیں ۔ اور ٹرالی دھکیلتی وہاں سے نکل گئی ۔اس کا والد رفیق علی سخت مرعوب نظر آ رہا تھا ۔اتنے قیمتی صوفے پر وہ زندگی میں پہلی مرتبہ بیٹھا تھا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ سیٹھ فہیم سے کس طرح اس کی بہن کا رشتا طلب کرے گا ۔جبکہ اس کے اندازے کے مطابق ان کے ملازمین کی تنخواہ بھی اس سے زیادہ ہونی تھی ۔بیٹے نے اسے بری طرح پھنسا دیا تھا ۔
انھیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔وہ بہ مشکل چاے پی پائے تھے کہ سیٹھ فہیم ڈرائینگ روم میں داخل ہوا ۔ وہ ے ساختہ کھڑے ہو گئے ۔
”پلیز بیٹھیں ۔“فرداََ فرداََ دونوں سے مصافحہ کر کے سیٹھ فہیم نے انھیں بیٹھنے کا کہا اور خود ان کے سامنے نشست سنبھال لی ۔
”تو آپ کا نام حماد ہے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کر رکھا ہے ؟“ان کے بیٹھتے ہی سیٹھ فہیم نے بغیر کسی تمہید کے احماد کا انٹر ویو لینا شروع کر دیا ۔
”جی جناب ۔“حماد کا لہجہ خود بخود مو¿دبانہ ہو گیا تھا۔
”تو حماد صاحب !….بات یہ ہے کہ مسکان مجھے بہن نہیں بیٹی کی طرح عزیز ہے ۔ میں کبھی یہ نہ سنوں کہ آپ نے اسے دکھ دیا ہے ۔ باقی مجھے تمھاری شخصیت میں کوئی بات قابل اعتراض نظر نہیں آ رہی …. صرف ایک شرط پیش کروں گا، مسکان کو والدین سے علیحدہ رکھو گے ۔ اینڈ دیٹس آل ۔“سیٹھ فہیم نے ایک ہی منٹ میں بات مکمل کر دی تھی ۔ دونوں کے دل میں پرورش پانے والے اندیشے بھک سے اڑ گئے تھے ۔
حماد کے کچھ کہنے سے پہلے رفیق علی نے جواب دیا ۔
”سیٹھ صاحب !….میں خودشادی شدہ اولاد کو اپنے ساتھ رکھنے کا قائل نہیں ہوں ۔ حماد کا بڑا بھائی بھی شادی کے بعد ہم سے علیحدہ رہ رہا ہے ۔اور حماد کے لےے بھی علیحدہ مکان کا بندوبست کردوں گا۔“
”نہیں محترم !….“سیٹھ فہیم نے نرم لہجے میں کہا ۔”آپ کو مکان کا بندوبست کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسکان کی اپنی کوٹھی موجود ہے ۔اور باقی علاحدہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیٹے سے ملنے نہیں آ سکتے یا بیٹا آپ کے پاس نہیں جا سکتا ۔ایسی کوئی بات نہیں ہماری طرف یہ روزانہ آپ لوگوں کو ملنے جا سکتا ہے ۔آپ کی مالی امداد کر سکتا ہے ۔ بس ہماری بہن کو اس کے لےے مجبور نہیں کرے گا ۔“
”ٹھیک ہے سیٹھ صاحب !….“جواب اس بار بھی رفیق علی نے ہی دیا تھا ۔حماد کا دل بلیوں اچھل رہا تھا ۔ اتنا مشکل مرحلہ اس آسانی سے عبور ہو جائے گا اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔
”اوکے پھر ؟“سیٹھ فہیم کھڑا ہو گیا ۔”کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔چلیں ہمارے ساتھ کھاناتناول فرمائیں ؟…. باقی شادی کا پروگرام کل پرسوں تک آپ کو مل جائے گا ۔“
”معذرت چاہیں گے سیٹھ صاحب !….کھانا ہم کھا کر آئے ہیں ….اب اجازت لیں گے؟“ رفیق علی کو کبھی امرا کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔اور وہ نہیں چاہتا تھاکہ وہاں اس کا تماشا بن جائے ۔
”جیسے آپ کی مرضی ۔“سیٹھ فہیم نے اصرار نہیں کیا تھا ۔وہ دونوں اس سے مصافحہ کر کے وہاں سے نکل آئے ۔
٭……..٭
سلمان شاہ نے میٹنگ روم کی طرف قدم بڑھائے ۔وہ بہ مشکل دروازے تک پہنچا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔ اس نے ناگواری سے موبائل نکالااور سکرین پر نگاہ ڈالی کال گھر سے تھی ۔اسے رسیو کرتے بنی ۔
”یس ؟“
”سلمان !….ماہین سکول سے غائب ہے ۔“اسے اپنی چہیتی بیوی سدرہ کی پریشانی میں ڈوبی آواز سنائی دی ۔
”کیا ؟“اس کے قدم میٹنگ روم کا دروازہ عبور نہ کر سکے ۔”مگر کیسے ؟“
ڈرائیور آج رش کی وجہ سے چند منٹ لیٹ ہوگیا ۔وہاں پہنچا تو ماہین موجود نہیں تھی ۔ سکول سٹاف سے پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ چھٹی کے وقت تک اپنی کلاس میں موجود تھی ۔یوں بھی چھٹی سے پہلے سکول سے کسی بچے کا اپنی مرضی سے باہر آنا ناممکن ہے ۔ وہ چھٹی کے وقت ہی پر باہر نکلی اور اب اس کا پتا نہیں ہے ۔“سلمان کو لگا سدرہ رونے کو ہے ۔ خود اسے بھی محسوس ہو رہا تھا گویا کسی نے اس کا دل مٹھی میں دبا لیا ہے ۔ماہین ان کی اکلوتی اورلاڈلی بیٹی تھی ۔
”کسی سہیلی کی گاڑی میں نا بیٹھ گئی ہو ؟….میرا مطلب ہے اس کی کسی ساتھی کے باپ بھائی یا ڈرائیور نے ساتھ نا بٹھا لیا ہو ؟‘ ‘ سلمان بیوی سے زیادہ خود کو تسلی دینے کا خواہاں تھا ۔
”اس صورت میں اس کو اب تک آجانا چاہےے تھا ۔اتناغیر ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا کہ پرائے بچے کو گھر میں بٹھا رکھے ۔“
”اچھا میں آ رہا ہوں رونا مت ۔اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“رابطہ منقطع کر کے اس نے میٹنگ روم کے سامنے کھڑے چپڑاسی کو میٹنگ ملتوی ہونے کی اطلاع ارکان میٹنگ تک پہنچانے کا حکم سنایا اور لمبے ڈگ بھرتا دفتر سے نکل آیا ۔ تھوڑی دیر بعد اس کی کار گھر کی طرف اڑی جا رہی تھی زیر لب وہ اپنی بیٹی کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا تھا ۔دفتر سے نکلے اسے دس بارہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کا موبائل دوبارہ بجنے لگا ۔ انجان نمبر کو دیکھ کر وہ کال منقطع کرنے لگا تھا کہ اچانک اسے یا آیا کہ سدرہ نے ماہین کی تمام کتابوں پر اس کا نمبر لکھ رکھا تھا ۔یہ خیال اسے کال رسیو کرنے پر آمادہ کر گیا ۔
”یس ؟“
”کون ؟“ایک نامانوس آواز اس کی سماعتوں میں گونجی ۔
”مسٹر فون آپ نے کیا ہے۔اس لحاظ سے تعارف کرانا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے ۔“
”تعارف چھوڑیں جناب ۔کیا آپ ماہین نام کی بچی کو جانتے ہیں ؟“
”جی جی ….“وہ تیزی سے بولا۔”وہ میری بیٹی ہے ۔“
”وہ میرے قبضے میں ہے۔“
”قق ….قبضہ ۔“الفاظ اس کے گلے میں اٹکنے لگے ۔اور اس نے کار سائیڈ پر کھڑی کر دی ۔
”جی بالکل ….میرے قبضے میں ہے ۔بلکہ سمجھیں میں نے اسے اغواءکر لیا ہے ۔“ اسے اغواءکنندہ کا اطمینان بھرا لہجہ سنائی دیا ۔
دماغ میں ابھرنے والی غصے کی لہر کو زبردستی دباتے ہوئی وہ بہ مشکل بولا۔
”دیکھو جناب !….میں تمھارا ہر مطالبہ پورا کرنے کے لےے تیار ہوں مگر میری بیٹی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہےے۔وہ بہت معصوم ہے ۔“
”نہیں ہوگی ،جی بالکل نہیں ہو گی ….لیکن تم نے پولیس کو اطلاع دی یا کوئی اور چالاکی دکھائی تو پھر کوئی رعایت نہیں برتوں گا…. غلط حرکت تمھاری معصوم بیٹی کو لولا، لنگڑا ،کانا،بہرہ یا اسی قسم کی کسی اور معذوری میں بھی مبتلاکر سکتی ہے ۔“
”نہیں نہیں پلیز میں کسی کو کچھ نہیں بتاو¿ں گا ….کسی کو بھی نہیں بتاو¿ں گا ۔وہ گھبرا گیا تھا ۔”بس میری گڑیا رانی کو کچھ نہیں ہونا چاہےے۔“
”گڈ ….وہ بالکل محفوظ رہے گی ۔تیس لاکھ کا بندوبست کر لو اور میرے اگلے فون کا انتظار کرو ۔اور یاد رکھنا تم میرے آدمیوں کی نظر میں ہو ۔“
”بات سنو ؟“وہ جلدی سے بولامگر رابطہ منقطع ہو گیا تھا ۔اس نے اس نمبر پر کال بیک کی مگر نمبر بند ہو گیا تھا ۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کے اغواءنے اسے ذہنی طور پر ماو¿ف سا کر دیا تھا۔
اچانک اس کے دماغ میں اپنے دوست بابرکا خیال آیا ،جو ایک نامی گرامی بدمعاش تھا ۔لوگ اسے بابر قصائی کہتے تھے۔لیکن اس کے ساتھ ہی اسے یہ سوچ پریشان کر گئی ،کہ بابر اس ضمن میں اس کی کیا مدد کرسکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ اغوا کرنے والے کو درد ناک موت سے ہم کنار کر سکتا دے گا ،مگر وہ بھی اسے پہچاننے کے بعد ۔اور اگر بابر کی کسی بے احتیاطی وجہ سے اس کی گڑیا کو کچھ ہو جاتا تو یہ خسارا قیامت تک پورا ہونے والا نہیں تھا ۔
تیس لاکھ کی رقم کوئی معمولی رقم نہیں ہوتی ،مگر اپنی اکلوتی بیٹی کے لےے وہ اتنی رقم بہ ہر حال قربان کر سکتا تھا ۔
٭……..٭
”اتنی آسانی سے مان گیا ؟“فریحہ کے لہجے میں خوشی کے بجائے دکھ کا عنصر نمایاں تھا ۔
”تمھیں خوشی نہیں ہوئی ؟“حماد نے حیرانی سے پوچھا ۔
”خوش ؟“وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”اپنے محبوب کے ساتھ دوسری لڑکی کی شادی کی واقعی خوشی کی خبر ہے ۔“
”فری یہ شادی نہیں ایک معاہدہ ہے ۔اپنے مقصد کی حصول کی کارروائی ہے۔ بھول گئیں میں نے تمھیں زندگی کی ہر آسائش ،ہر سکھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اور ایسا کرنے کے لےے مجھے قربانی دینی ہو گی …. میری جان، میراجسم عارضی طور پر مسکان کے قبضے میں سہی میرا دل میری روح اپنی فری کے پاس رہے گا ۔“
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *