Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15
جھوٹ بولاہے ۔ویسے تو آپ نے اتارنا نہیں تھا؟
”میں دوبارہ اٹھا لوں گا؟“دانیال نے اسے دوبارہ پکڑنے کے لیے ہاتھ پھیلائے ۔
وہ پیچھے ہٹتی ہوئی بولی ۔”اگر اب مجھے ہاتھ لگایا تو میں شور مچا دوں گی ۔“
”کوئی غم نہیں ۔“
”قسم سے خفا ہو جاوں گی ؟“
”اچھا ٹھیک ہے…. ٹھیک ہے ،صرف ہاتھ سے پکڑ کر کھینچوں گا ۔“
گھنٹے بھر بعد وہ آہستہ روی سے چڑھتے لکھائی کے قریب پہنچ گئے تھے۔وہاں تھوڑی دیر رک کر وہ مزید اوپر چڑھنے لگے۔چوٹی پر پہنچ کر وہ بیٹھ گئے ۔ دوسری جانب اکا دکا گھر نظر آرہے تھے۔“
مسکان بولی۔”مجھے تو سخت بھوک لگی ہے ؟“
”مجھے تم سے بھی زیادہ لگی ہے۔“دانیال نے پیٹھ پرلدا بیگ کھول کر پیک کھانا نکال لیا ۔ انھوں نے سپیشل پراٹھے اور کباب تیار کرا کے پیک کرائے تھے۔
مسکان شرارت سے بولی۔”ہاں اتنی موٹی تازی بیوی کو اوپر تک کھینچ کر لانا پڑا، بھوک تو لگے گی۔“
”تم اور موٹی تازی ….پاگل جتنا وزنی لوہا میں نے لوڈ ان لوڈ کیا ہے ،اس کے بعد سو کلو گرام تک کا وزن اٹھانا مجھے مذاق لگتا ہے ۔اور جہاں تک تمھاری بات ہے ، قسم سے گلاب کے پھول سے بھی ہلکی لگی ہو ؟
”بس بس زیادہ مسکا لگانے کی ضرورت نہیں ۔“
”ہاں جی !….ہمارا سچ کہنا بھی اب خوشامد کے زمرے میں آئے گا ۔اللہ ایسی اکھڑ مزاج بیوی، میرے علاوہ کسی کو نہ دے ۔“
مسکان جو اکھڑ مزج کے الفاظ سن کر آنکھیں نکالنے لگی تھی ،مکمل بات سن کر مسکرا دی ۔
”اچھا دانی !….یہ بتاو ،اگر آپ کی شادی کسی دوسری لڑکی سے ہوئی ہوتی تو کیا اسے بھی اتنی چاہت دیتے ؟“ مسکان نے کئی دنوں سے دل میں مچلتا سوال پوچھ ہی لیا۔
دانیال بالکل خاموش ہو گیا ۔مسکان کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا ۔وہ منتظر نگاہوں میں اسے گھورنے لگی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اسے چھوڑ کر چلی جائے گی، پھر بھی جانے کیوں وہ اسے یونھی اپنا دیوانہ دیکھنا چاہتی تھی۔
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے زبان کھولی۔
”مشی !….مجھے شادی کی خواہش تھی،اور بہت زیادہ تھی ۔جوان بدن کے تقاضے ایسے نہیں ہوتے کہ انھیں ٹالا جا سکے ۔ یہاں تک کہ میں ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لےے ایک مرتبہ جسم فروش عورت کے پاس بھی پہنچ گیا ،مگر میرے اللہ نے مجھے بچا لیا ۔مجھے اس سے کراہت محسوس ہوئی اور میں اس کے جسم کو ہاتھ لگائے بغیر وہاں سے نکل آیا۔میں نے شادی کے لےے کتنی دعائیں مانگیں کتنی کوششیں کیں یہ بیان سے باہر ہے ۔پھر میں نے سوچا ، شادی کے لےے دولت ضروری ہے ۔ کوئی بھی لڑکی تب میری جانب متوجہ ہو گی، جب میرے پاس موٹر کار،بنگلہ اور اچھا کاروبار ہوگا۔ اس خیال نے مجھے جرم کی ترغیب د ی۔ میں نے لوگوں کو لوٹنے کا ارادہ کیا،پر ناکام رہا میرا ضمیر اس بات پر راضی نہ ہوا کہ کسی غریب کی جیب کاٹ کر اپنی جیب بھروں ۔پھر میں نے امیر آدمی کی بچی اغوا کی مگر بغیر تاوان لےے چھوڑ دی ۔ ایک ملک دشمن نے مجھے دہشت گردی کی کارروائی میں شامل ہونے پر کثیر دولت کی خوش خبری سنائی ۔لیکن میں اپنی خوشیوں کے لےے دوسروں کے گھر نہیں اجاڑ سکتا تھا ۔میں نے اس ذلیل کی، گھٹیا آفر کو دھتکار دیا ۔پھر میں نے ایک شادی دفتر سے رجوع کیا مگر وہ دھوکا باز تھے،خوب صورت لڑکیوں کی تصاویر دکھا کر مجھ جیسے شادی کے تمنائیوں کو لوٹنے والے۔وہاں بھی منہ کی کھانے کے بعد میں نے شادی کا خیال دل سے نکال دیا۔ اس کے بعد مجھے تم ملیں ۔میرے رب کا ایسا انعام جسے میں اپنی ذات پر رب کی لازوال رحمتوں کی تکمیل کا نام دے سکتا ہوں ۔اگر تمھارے علاوہ کوئی بھی لڑکی مجھے ملی ،ہوتی مجھے ضرور عزیز ہوتی ۔میں اس کے حقوق پورے کرتا ، اس پر کبھی ظلم یا زیادتی نہ کرتا ۔مگر اللہ پاک کی قسم میں نے اس بارے بہت سوچا ،بہت غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جتنی محبت مجھے تم سے ہے اتنی کسی سے نہیں ہوسکتی ۔میں تمھاری تصویر دیکھ کر ہی فریفتہ ہو گیا تھا ۔“
وہ بڑے غور سے اس کی باتیں سنتی رہی ۔وہ سچ کہہ رہا تھا ۔اس کا ہر لفظ ظاہر کر رہا تھا کہ اس کی باتوں میں کوئی تصنع اور بناوٹ نہیں تھی۔اس کی آخری بات سن کر مسکان کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔وہ موضوع بدلتے ہوئے بولی ۔
”میرا خیال ہے پراٹھے پہلے ہی ٹھنڈے ہیں ۔اور رزق کو انتظار کرانا بھی کوئی اچھا فعل نہیں ہے ؟“
”یہ تو ہے ؟“دانیال نے اثبات میں سر ہلا کر اس کی تصدیق کی ۔اور دونوں کھانے کے ساتھ انصاف کرنے لگے ۔اس بلندی پر کھانے کا لطف دوبالا ہوگیا تھا ۔
”اب اگر چاے مل جاتی نا ؟“پانی پی کر مسکان لیٹتے ہوئے بولی ۔
”چلو ان گھر والوں کے زبردستی کے مہمان بنتے ہیں ؟“دانیال نے قریبی گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشورہ دیا ۔
”چلو !….“مسکان غیر متوقع طور پر اس ایڈونچر کے لےے تیار ہو گئی ۔وہ دوسری جانب نیچے اتر گئے ۔ چڑھائی کی نسبت اترائی آسان تھی وہ چند منٹ میں گھر کے نزدیک پہنچ گئے ۔گھر سے باہر لگے ایک گھنے سے درخت کے نیچے دو چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے۔انھیں دیکھ کر وہ ان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
”بیٹا کیا نام ہے ؟“مسکان نے جھک کر بچے کے گال تھپ تھپاتے ہوئے پوچھا ۔
وہ جھجکتے ہوئے بولا۔”یاسر!“
”اور تمھارا کیا نام ہے گڑیا ؟“مسکان بچی سے مخاطب ہوئی ۔
مگر وہ خاموشی سے اسے گھورتی رہی ۔یوں بھی وہ بچے سے چھوٹی تھی ۔اسے خاموش دیکھ کر بچے نے جواب دیا۔
”آنٹی اس کا نام بسمہ ہے۔“
اسی وقت ایک عورت نے گھر سے باہر جھانکا ۔اجنبی عورت کو اپنے بچوں سے بات چیت کرتے دیکھ کر وہ قریب آگئی ۔ وہ شاید ان بچوں کی ماں تھی ۔
”سلام بہن ۔“اس نے مسکان کو سلام کر کے مصافحے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔
”وعلیکم اسلام !“مسکان نے خوش دلی سے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
”سلام بھائی !“اس نے دانیال کے سامنے سر جھکا کر کہا۔
”وعلیکم السلام بہن ۔“دانیال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔
”آپ لوگ یقینا مسافر ہو ؟“
مسکان نے جواب دیا ۔”ہاں باجی!“
”آئیں نا ؟….کھانے کا وقت ہے ؟“اس نے بے تکلفی سے دعوت دی ۔
”کھانا تو ہم نے کھا لیا ہے باجی ۔“
”تو پھر چاے پی لو ۔“اس نے ان کی دل لگتی کہی ۔اور وہ بغیر کسی تکرار کے اس کے ہمراہ ہو لیے۔ گھر میں دو خواتین اور بھی موجود تھیں ۔دانیال کو اکیلے کمرے میں بٹھا کر وہ مسکان کو ساتھ لے گئیں۔تھوڑی دیر بعد یاسر نامی بچہ تھرماس اور چاے کا کپ اس کے لےے لے آیا ۔ مسکان عورتوں میں ہی بیٹھ گئی تھی۔چاے پینے کے بعد بھی اسے آدھا گھنٹا مزید مسکان کا انتظار کرناپڑا ۔گھر سے نکلتے وقت مسکان نے صحن میں کھڑے بچوں کے ہاتھ پر ایک ایک بڑا نوٹ رکھ دیا۔میزبان خاتون نے چیخ کر اسے منع کیا مگر مسکان مسکرا کر بولی ۔
”تمھیں نہیں دے رہی باجی ،اپنے بھانجوں کو دے رہی ہوں ۔“
واپسی کے لیے انھوں نے دوسرا رستا استعمال کیا تھا ۔جو مسکان کو میزبان خاتون سے پتا چلا تھا۔ واپس پہاڑ پر چڑھنے کے بجائے وہ نیچے اترے اور روڈ پر پہنچ گئے ۔وہاں سے انھیں ایک خالی ٹیکسی مل گئی ۔ ان کا رخ ایبٹ آباد کی مشہور اور تاریخی مسجد ،الیاسی مسجد کی طرف ہو گیا ۔ ان کی ہوٹل میں واپسی عصر کی اذان کے بعد ہی ممکن ہو سکی تھی۔
دانیال شاور لینے کے لےے باتھ روم میں گھس گیااسی وقت مسکان کے موبائل فون پر حماد کی کال آنے لگی ۔
وہ تھکی تھکی آواز میں بولی ”یس ؟“
”مسکان !….تم اس وقت کہاں ہو ؟“حماد کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ وہ یک دم سنبھل کر بیٹھ گئی ۔
”مم ….میں اس وقت عارضی طور پر کراچی سے باہر ہوں ۔“اس نے بات کو گول مول کرنا چاہا۔
”میں نے پوچھا کہاں ہو ؟“حماد نے اپنی بات دہرائی ۔
”ایبٹ آباد ۔“اس سے جھوٹ نہ بولا گیا
”وہاں کس مقصد سے گئی ہو ؟“حماد کا لہجہ بہت سنجیدہ تھا۔
”وہ دانیال کہہ رہا تھا کہ اس نے کوئی پہاڑی علاقہ نہیں دیکھا تو میں نے سوچا چلو اس بہانے آو¿ٹنگ ہو جائے گی ….“
”شٹ آپ ۔بند کرو بکواس“حماد دھاڑا ۔”مجھے صرف بچے کی خواہش تھی، یہ نہیں کہ میں تمھیں کسی اور کے پاس رنگ رلیاں منانے کے لےے بھیجنا چاہتا تھا۔ میں نے کئی دنوں کی تلاش کے بعد ایسا بدصورت مرد تلاش کیا کہ جس کی طرف تمھارا دل مائل نہ ہو ؟ اور تم اس کالے کلوٹے کے ساتھ ہنی مون منا رہی ہو ،گل چھرے اڑا رہی ہو پہاڑی مقام پر ۔ بھول گیا تمھیں اپنا حماد ،جسے بستر اس طرح کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے جیسے گدے کے بجائے کانٹے بچھاے گئے ہوں ۔اور یہ تو ایک بدصورت مرد کے ساتھ تمھارابرتاوہے اگر کوئی خوب صورت ہوتا تو شاید تم ہر حد عبور کر لیتیں ہے نا ….؟“
”نہیں حادی نہیں ….پلیز ؟“وہ رو پڑی ۔”ایسی کوئی بات نہیں ۔میرا وہ مقصد ہر گز نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میں تو…. میں تو….بس احساس ندامت کم کرنا چاہتی ہوں ؟ایک بھولے بھالے مزدور سے ہم نے غلط بیانی کی ۔سوچاکم از کم اس کی ایک چھوٹی سی خواہش ہی پوری کر دوں ،وہ پہاڑی علاقہ دیکھنا چاہتا تھا ۔ اور یہ اتنی بڑی بات نہیں تھی ۔میں کوئی خوشیاں منانے نہیں آئی یہاں ؟“
حماد تلخی سے بولا۔”محترما !….اتنا خوب صورت مکان ،ایک سوزکی کار اور ایک خوب صورت لڑکی کی معیت میں ماہ ڈیڑھ ماہ کی عیاشی ۔اور کیا چاہےے اس بھیک منگے کو ؟“
”حادی !….پھر بھی ہم نے اسے اندھیرے میں تو رکھا نا ؟“
حماد دو ٹوک لہجے میں بولا۔”میں کچھ نہیں جانتا ….تم ابھی ابھی وہاں سے واپسی کا قصد کرو ۔“
”صبح واپسی……..“
”میں نے کہا ابھی اسی وقت ،اگلے دس منٹ میں مجھے ایس ایم ایس آ جانا چاہےے کہ تم وہاں سے چل پڑی ہو؟“
”حادی!….میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔“مسکان سخت تھکی ہوئی تھی۔اس وقت اتنے لمبے سفر پر نکلنا بہت مشکل تھا۔
”ابھی ….اسی وقت ،یا پھر کبھی نہیں ؟“
”اوکے ….اوکے ،ہم آدھے گھنٹے میں روانہ ہوتے ہیں ۔“
”اگر تم نہ نکلی ،تو ……..؟“
وہ گھبرا گئی اور روہانسی ہو کر بولی ۔”آرہی ہوں نا…. آرہی ہوں۔“اور حماد نے رابطہ منقطع کر دیا۔
٭……..٭
موبائل فون بند کر کے اس نے مسکرا کر سامنے بیٹھی فریحہ کی طرف دیکھا۔
”کیسا رہا ؟
”بہت ڈرا دیا ہے بے چاری کو ؟“
”غضب خدا کا !….مجھے پتا نہیں اور محترما ہنی مون منا رہی ہے ۔“
فریحہ نے فخریہ لہجے میں پوچھا۔”یاد ہے…. میں نے کیا کہا تھا ؟“
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ،میں نے ذرا سی سختی کی تو رونے لگ گئی۔میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں ،تمھیں پتا نہیں اصل بات اور ہے ۔“
”ذرا میں بھی سنوں ؟“فریحہ نے دلچسپی ظاہر کی۔
”وہ بہت نرم مزاج اور اسلامی سوچ رکھنے والی لڑکی ہے ۔تم اسے آسانی سے بنیادپرست کہہ سکتی ہو ۔ وہ اس کالے کو خوش کر کے اپنے دل سے احساس گناہ ختم کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ وہ اس شادی کو سراسر دھوکا اور فریب سمجھ رہی ہے۔“
”تم خود ہی تو کہہ رہے تھے کہ اس نے ایک چھوٹا سا خوب صورت مکان ،اور ایک سوزکی کار اس کے حوالے کر دی ہے ۔کیا یہ کم تھا ۔وہ بچی نہیں ہے اچھی طرح جانتی ہے ۔اصل بات وہی ہے جو میں نے پہلے سے پیشن گوئی کر دی تھی۔اور اب بھی تمھیں متنبہ کر رہی ہوں ،اس پر گہری نگاہ رکھنا ۔یہ نہ ہوغلط فہمی میں یہ بازی ہار جاو؟…. نہ مسکان بی بی رہے اور نہ اس کی دولت جائیداد۔وہ کیا کہتے ہیں ….
قسمت کی خوبی دیکھئے ،ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
”اس کالے کلوٹے کے لےے مسکان مجھے چھوڑے گی ؟….ناممکن ….؟“حماد نے نفی میں سر ہلایا۔
”حماد !….احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔یہ نہ ہو بعد میں ہمارے پاس پچھتانے کوکچھ نہ رہے ۔ اور جہاں تک دانیال کی بد صورتی کا تعلق ہے ،کالی صورت کوئی بدصورتی کی علامت نہیں ہے ۔وہ صحت مند ہے ، جسمانی لحاظ سے مضبوط ہے،متناسب جسم ، چہرے پر کوئی عیب نہیں ،کسی بیماری یا عارضے میں مبتلا نہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کے پاس ایسا ترسا ہوا دل ہے جو صرف مسکان صاحبہ کے لےے دھڑکتا ہے اور اس کی ہر جائز، نا جائز خواہش تسلیم کرنے کے لےے بے تاب رہتا ہے ۔ تو پھر وہ کیسے اس کی جانب مائل نہیں ہو گی ؟“دانیال کے متعلق فریحہ نے دل میں چھپائے خیالات بے ساختہ اگل دےے۔
حماد بھڑکتا ہوا بولا۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے وہ کلوٹا ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل شوہر ہے ، ہے نا ؟اور میں عیب دار ہوں ۔نہ تو سمارٹ ہوں اور نہ صحت مند ہوں ؟“
”بات سمجھنے کی کوشش کرو ،یہ سب میں مسکان کے نقطہ نظر سے کہہ رہی ہوں َ“فریحہ نے جلدی سے بات سنبھالی۔ ” میرے نزدیک وہ آج بھی پہلے دن کی طرح ہی نفرت انگیز ہے ۔ اور یوں بھی موضوعِ بحث تمھاری مسکان ہے ، میں نہیں ؟“
”اگر میں یہ کہوں کہ مسکان تم سے بھی بڑھ کر مجھے چاہتی ہے ؟“
”تو ٹھیک ہو گا ۔یوں بھی، میں کیا اور میری چاہت کیا ؟“فریحہ کے چہرے پر خفگی بھرے تاثرات نمودار ہوئے۔
”خفا ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہ حقیقت ہے ۔کیا تم میرے لےے دانیال سے شادی کر لو گی ؟ …. نہیں نا ؟…. جبکہ اس نے میری خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لیا ۔ اور یہ بھی دیکھو وہ ایک سیٹھ زادی ہے۔ اور بیوی ہوکر شوہر کی معاشی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے ۔مطلب میری کسی بھی طرح محتاج نہیں ۔پھر بھی میری کسی بات کو رد نہیں کرتی۔اور کیا محبت کے سینگ ہوتے ہیں ؟“
فریحہ طیش میں آکر بولی۔”تو رکھو اسے اپنے پاس ۔نہ علاحدہ کرو خودسے؟“
”یہ بھی ممکن نہیں ؟….میں خود تو اپنی فری کو چاہتا ہوں نا؟….ایسی ہزار مسکانوں کو میں فری کے قدموں میں قربان کر دوں ۔“
”مجھے نہیں چاہےے تمھاری محبت ۔“فریحہ نے منہ پھلا لیا ۔
”دیکھو مجھے مجبور نہ کرو ؟“حماد دھمکی دیتا ہوا بولا۔”کمرے کا دروازہ بند ہے،یہ نہ ہو مجھے کوئی دوسرا طریقہ استعمال کرنا پڑے؟“
”تم ہاتھ لگا کر دیکھو؟ایسی چیخیں ماروں گی، میرے گھر والے تو کیا پورا محلہ اکھٹا ہو جائے گا؟“
”تم دوبارہ بکواس کرو ؟“
”سچ کہا ہے نا ؟“فریحہ یہ کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی اور پھر دروازے پر رک کر بولی ۔ ”استاد جی !….میں آپ کے لےے چاے لاتی ہوں ۔“
حماد کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی ۔فریحہ اسے حقیقت میں بہت عزیز تھی۔ اور مسکان سے اس کا واسطہ فقط ضرورت کی حد تک تھا ۔اس کی اہمیت سونے کا انڈا دینے والی مرغی جتنی تھی ۔ کہ انڈوں کے حصول کے بعد مرغی کی حیثیت باقی نہیں رہتی ۔اور حماد اس مرغی کا پیٹ چاک کر کے سارے انڈے اکھٹے ہی حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس کے ذہن میں فریحہ کے بیان کےے اندیشے کلبلائے ۔ مگر اس نے سر جھٹک کر ان ناممکن سوچوں کو دورجھٹک دیا ۔
وہ روزانہ فریحہ کے گھر عصر کی اذان کے وقت آتا ۔آج وہاں آتے ہوئے اس نے ضروری سمجھا کہ مسکان سے ملتا آئے کہ وہ چند روز سے ا سے نہیں مل سکا تھا ۔اس دن وہ رات کو اس کی کار دینے گیا تب بھی اس سے نہیں مل سکا تھا اور کار کی چابی دانیال کی ماں کے حوالے کر کے واپس لوٹ آیا تھا ۔ لیکن آج بھی اس کا مسکان سے ملنے کا ارادہ پورا نہیں ہو سکا اور جب دانیال کی ماں نے بتایا کہ ….
”وہ تو گھومنے کے لےے کراچی سے باہر گئے ہوئے ہیں ۔“اس کا دماغ گھوم گیا تھا ۔ فریحہ کے پاس آکر اس نے مسکان کواچھی خاصی جھاڑ پلادی ۔
انھی سوچوں کے دوران اسے مسکان کا ایس ایم ایس موصول ہوا ۔”ہم ایبٹ آباد سے نکل پڑے ہیں ۔“
حماد کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ کھلنے لگی ۔اور وہ زیر لب بڑبڑایا۔
”مظلوم سیٹھ زادی؟عشق نے ہیر بنا دیا ہے ۔وہ بھی کچے گھڑے پر دریا پار کرتے ڈوب گئی تھی اور اس بے چاری نے بھی مارے جانا ہے۔اُسے پانی نے ڈبویا تھا اِس کا خاتمہ حماد کی محبت نے کر دیناہے۔“
٭……..٭
فون بند کرکے وہ خیالوں میں کھو گئی ۔دانیال کا ذرا سا” بکواس بند کرو ۔“کہنے پراس نے سخت قسم کی ناراضی کا اظہار کیا تھا ۔اس کے برعکس حماد اسے اچھی خاصی جھاڑ پلا چکا تھا پھر بھی اسے ذراسا بھی محسوس نہیں ہو ا تھا ۔اس نے سوچا ۔
”شاید محبت اسی کو کہتے ہیں؟کہ محبوب کی کوئی بات بری نہ لگے ؟“
وہ زیادہ دیر بیٹھی نہ رہ سکی کہ اسے جلدی جلدی وہاں سے جانے کی تیاری کرنا تھی۔
جب دانیال نہا کر باتھ روم سے باہر نکلا تو مسکان مختصر سا سامان سمیٹ کر بیگ میں ڈال رہی تھی ۔
”مشی !….یہ کیا ؟“
”واپس چلنا ہے ابھی کے ابھی ۔“وہ کھردرے لہجے میں بولی ۔
اس کا لہجہ ایسا نہیں تھاکہ وہ نہ چونکتا۔”مِشّی !….خیر تو ہے ؟“تولیا بستر پر پھینک کر وہ اس کے قریب آیا ۔
”ہاں خیریت ہے ۔“اس نے دانیال سے نظریں ملانے سے گریز کیا ۔
”مِشّی !میری طرف دیکھو ؟“دانیال نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
وہ تپ کر بولی۔”بتا دیا نا؟…. کچھ نہیں ہے ؟“اس کے دماغ میں حماد کی باتیں ہتھوڑے کی طرح ضربیں لگا رہی تھیں۔دانیال کو واقعی اس نے کچھ زیادہ ہی اہمیت دینا شروع کر دی تھی ۔
”م….مم….مجھ سے کوئی قصورسرزد ہو گیاہے ؟“اس کا رویہ دیکھتے ہوئے دانیال ایک دم گھبرا گیاتھا۔
اس نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔دانیال کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں۔
”روم سروس کو کھانے کا بتا دو ….ہمارے پاس وقت کم ہے،بس جو بھی پکا ہے منگوا لو ؟“ اس کے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔دانیال کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اسے سخت الجھن ہورہی تھی ۔مگر حماد کی تلخ باتیں سننے کے بعد وہ تسلی کے دو بول بھی نہ کہہ سکی ۔پہلے اس کی اپنی محبت تھی بعد میں کسی اور کا نمبر آتا تھا ۔ پھر بہ قول حماد انھوں نے دانیال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔اور جتنا کچھ اسے اس شادی سے ملا تھا اتنا وہ ساری زندگی بچت کر کے نہیں بنا سکتا تھا ۔ اس نے کیا دیا تھا مسکان کو؟ …. اگر وہ شادی کر کے اس کے ساتھ ایک ماہ گزارتی اور اسے کوئی مالی فائدہ نہ پہنچاتی تب بھی فائدہ دانیال ہی کا نظر آتا تھا ۔ مہینا بھر ایک حسین دوشیزہ کا شوہر ہونا، ہر کسی کانصیب نہیں ہوتا۔
ان سوچوں کے باوجود باتھ روم میں گھستے ہی اس کی آنکھیں برسنے لگیں ۔ وہ کیوں رو رہی تھی اس بارے وہ خود بھی کچھ نہیں جانتی تھی ۔حماد کی جدائی ، دانیال کی بے بسی ،اپنی الجھنیں ،پتا نہیں کس بات پر اس کا دل کٹا جا رہا تھا ۔وضو کرتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں کو خوب دھویا ۔
جب وہ باہر نکلی تو کھانا آ گیا تھا ۔دانیال گہری سوچ میں گم تھا ۔
”چلیں جی وقت نہیں ہے ؟“اس نے دانیال کو کھانے کی طرف متوجہ کیا ۔
دانیال نے زخمی نظروں سے اس کی جانب دیکھا مگر وہ اس سے نظر چراتے ہوئے کھانا شروع کر چکی تھی ۔ دانیال سے شادی کے بعد پہلا دن تھا کہ اس نے پہلا نوالا خود توڑ کر کھایا تھا ۔وہ تھوڑی دیر اضطراب میںہاتھ مروڑتا رہا اور پھربے دلی سے نوالا توڑ کر کھانے لگا ۔
مسکان جانتی تھی کہ وہ صرف اسے دکھانے کے لےے نوالے چبا رہا ہے ۔خود مسکان کے حلق سے بھی نوالے نہیں اتر رہے تھے مگر حماد کی باتیں ایسی نہیں تھیں کہ وہ دل سے جھٹک پاتی ۔
”تم اس کالے کلوٹے کے ساتھ ہنی مون منا رہی ہو،رنگ رلیاں منا رہی ہو،گل چھرے اڑا رہی ہو؟ بدصورت کے ساتھ تمھارا یہ برتاو¿ ہے، خوب صورت ہوتا تب تو تم ہر حد پار کر جاتیں ؟ “
اس کے کھانا کھانے تک وہ بھی اس کا ساتھ دیتا رہا ۔
اس کی عاجزی نے مسکان کو غمگین کر دیا ۔اس نے سوچا ۔
”حماد کون سا میری حرکات کو دیکھ رہا ہے ؟ اس نے واپسی کا کہا ہے تو لوٹ جاتی ہوں ، لیکن دانیال کو جدا ہونے سے پہلے اذیت دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟“
اس نے نوالا بنا کر دانیال کے منہ کی طرف بڑھایا۔اتنی زیادہ توہین کے بعد کوئی غیرت مند وہ خیرات قبول نہ کرتا ،مگر دانیال کے دل میں مسکان کو جو مقام حاصل تھا۔ اس کے بعد کسی بھی قسم کی غیرت مندی کا اظہار بعید تھا۔
اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کے ہاتھوں سے نوالاکھالیا ۔لیکن اس کے ساتھ ہی آنکھوں کے اندر کے پانی کو بہنے کا موقع مل گیا تھا ۔
مسکان تڑپ اٹھی ۔”اے دانی !….کیا ہوا ؟“
”کچھ نہیں ،خوشی کے آنسو ہیں ۔“وہ زبردستی مسکرا دیا ۔”ڈر گیا تھا کہ تم سچ مچ خفا ہو گئی ہو؟“
”نہیں گھر سے فون آیاتھا ۔مجھے کافی جھاڑ پلائی گئی ہے کہ بغیر بتائے میں اتنی دور کیوں آئی ہوں ۔ بس اس وجہ سے پریشان ہو گئی تھی ۔“
”مِشّی !….ایک بات کہوں ؟“
”جی ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”یہ بات نہیں ہے ،جو تم نے ابھی بتائی ہے ،اصل بات کچھ اور ہے ؟“دانیال پر اعتماد لہجے میں بولا۔
مسکان نے بات گول مول کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر دانیال نے اس کی غلط بیانی کو پکڑ لیا تھا۔اس کی بات صحیح ہوتے ہوئے بھی حقائق کے خلاف تھی ۔
”دانی !….مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ؟“اپنے لہجے میں اعتماد کا فقدان خود اسے بھی محسوس ہو رہا تھا۔ تو دانیال کو کیوں نہ پتا چلتا جو حقیقی معنوں میں اس کا نبض شناس تھا۔
”مِشّی !….میں تم سے اصل بات نہیں اگلوا رہا ۔تمھیں صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ؟“
” صفائی کیوں پیش کروں گی ،میں چور تھوڑی ہوں ؟“مسکان کے لہجے میں چھلکتی تلخی نے ایک بار پھردانیال کو پریشان کر دیا تھا ۔
”میں نے ایسا کب کہا ہے کہ تم کوئی غلط بات چھپا رہی ہو ؟….میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اصل بات کچھ او ر ہے ؟“
”چھوڑو اس موضوع کو اور چلو۔“مسکان اٹھ کھڑی ہوئی ۔دانیال بھی بیگ اٹھا کر اس کے ساتھ ہو لیا۔مسکان کا رخ پارکنگ کی طرف ہو گیا جبکہ وہ ریسپشن پر جا کر ہوٹل کا حساب بے باق کر نے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ کار میں بیٹھے واپسی کا رخ کر رہے تھے۔مسکان حماد کو واپسی کی اطلاع دینا نہیں بھولی تھی۔
وہ بہ مشکل حویلیاں تک پہنچے تھے کہ مسکان کو نیندنے آلیا۔اس نے سر جھٹک کر نیند بھگانے کی کوشش کی مگر اس کی کوشش بے سود رہی۔اسی وقت دانیال نے اسے مشورہ دیا ۔
”میرا خیال ہے تمھیں سو جانا چاہےے؟“
”نہیں آپ اکیلے بو ر ہو جائیں گے ۔“مسکان نے ایک بار پھرسر جھٹک کر نیند بھگانے کی کوشش کی ۔
دانیال نے کار روک کر کہا ۔”پلیز مِشّی!…. لیٹ جاو۔دو تین گھنٹے آرام کر لو پھر میں تمھیں اٹھا دوں گا ۔اور خود لیٹ جاو¿ں گا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“مسکان نیچے اتر کر پچھلی نشست پر منتقل ہو گئی ۔گھر سے آتے وقت وہ ایک خوب صورت کمبل ساتھ لائی تھی۔کار کے اندرفضا معتدل تھی۔اس نے کمبل سیٹ پر بچھایا اور لیٹ گئی۔زندگی میں پہلی بار اس نے اتنی مشقت اٹھائی تھی۔ذہنی طور پر ڈسٹرب ہونے کے باوجود ،وہ چند منٹوںہی میں گہری نیند میں کھو گئی ۔
دانیا ل ڈرائیونگ کرتے ہوئے مسکان کے روےے پر غور کرتا رہا ۔ آج مسکان اسے بہت زیادہ اجنبی اور پرائی لگ رہی تھی ۔یوں جیسے اس کے ظاہر اور باطن میں فرق ہو ۔گواس کی طبیعت کا تضاد پہلے دن سے دانیال پر واضح تھا۔ مگر آج وہ تضاد کھل کر سامنے آگیا تھا ۔پہلے کبھی کبھی اسے مسکان کی آنکھوں میںاتنی چاہت نظر آتی کہ وہ مسرور ہو جاتا اور کبھی وہی آنکھیں بالکل بے گانی اور پرائی پرائی لگتیں ۔آج وہ کبھی کبھی چھلکنے والی چاہت بھی معدوم ہو گئی تھی۔ایسا کیوں تھا ۔ کیا وہ فراڈ تھی اور دانیال کے قریب آنے میں اس کا کوئی مفاد پوشیدہ تھا ؟یا وہ کسی کے مجبور کرنے پر وہ اس کے قریب آئی تھی۔بہ ظاہر اسے کوئی بات نظر نہیں آ رہی تھی ۔اس کی شخصت میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ اتنی حسین اور امیر کبیر لڑکی اس کے قریب ہوتی ۔ مختلف الٹی سیدھی سوچیں اس کے دماغ میں سرگرداں رہیں ۔ اسے سب سے زیادہ ڈر مسکان کے بچھڑنے کا تھا ۔کسی بھی لڑکی کے طلب گار کو اب مسکان کے علاوہ کوئی درکار نہیں تھی ۔ چاہے وہ کوئی حور ،اپسرایا مس یونیورس کیوں نہ ہوتی ۔
٭……..٭
جاری ہے
