Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33
حماد نے جیب سے مسکان کی تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
”ارے ظالم !….ایسی لڑکی بھی بھلا قتل کی جاتی ہے ۔کیا چکر ہے ؟کوئی محبت وغیرہ ….؟ دھوکا دہی کی کارروائی؟آخرکیوں پھول ایسی لڑکی کے پیچھے پڑ گئے ہو ؟“
”اسے اغواءکرنا ہے ۔اور اس کے بھائیوں سے تاوان مانگنا ہے ۔تاوان ملے یا نہ ملے آپ نے اسے قتل کر دینا ہے ۔لیکن کوشش کرنا ہے کہ اس کے بھائیوں کی کسی غلطی کو آڑ بنا کر یہ کام کیا جائے ،میرا مطلب اس کے قتل سے ہے ۔“
”تاوان کے بغیر قتل کر دیا تو مجھے کیا حاصل ہو گا ؟“اس بار کامی کا لہجہ سراسر کاروباری تھا ۔
”دس لاکھ ۔پانچ کام سے پہلے ۔“حماد نے جیب سے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ ”پانچ کام کے بعد ۔“
”کوئی اتا پتا ؟“
”یہ مرحوم سیٹھ داود کی بیٹی اور سیٹھ فہیم اور سیٹھ وسیم کی بہن ہے ۔شاید نام سنا ہو گاآپ نے؟“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ بولا۔”ایک غیر متعلقہ بات ،صرف اس لےے پوچھ رہا ہوں کہ آپ میرے کلاس فیلو رہے ہیں ۔قتل کرانے کی وجہ جان سکتا ہوں ؟“
چند لمحے سوچنے کے بعد حماد بولا ۔”یہ میری بیوی ہے ۔اور میں اس کی جائیداد کا وارث ہوں ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“کامی نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔”واہ رے پڑھاکو شاہ !….تو ہم سے بھی تیز نکلا؟“
”تو کب تک کام ہو جائے گا ؟“حماد نے شرمندہ ہوئے بغیر پوچھا ۔
”کل تک یہ بلبل ہمارے ہاتھ میں ہو گی ۔اور ہاں ،اگر ہم کوئی شغل میلہ کرنا چاہیں ؟…. تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ؟“
”نہیں ۔“وہ گھٹیا پن سے بولا ۔”میری طرف سے کھلی چھوٹ ہے ۔بس مجھے چند دن کے اندر اس کی لاش چاہےے ہو گی ۔لاش کے وصول ہوتے ہی آپ کے بقایا پانچ لاکھ مل جائیں گے۔اگر تاوان کی کوئی رقم لے سکو تو وہ آپ کا بونس ہو گیا۔“یہ کہتے ہی وہ جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”بیٹھو نا ؟….کوئی ٹھنڈا گرم تو پوچھا ہی نہیں آپ سے ۔“کامی نے اسے روکنے کی کوشش کی ۔
”نہیں پھر کبھی سہی ۔“اس نے الوداعی مصافحے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔اور پھرجیسے اچانک اسے یاد آیا اور وہ بولا۔ ”یاد آیا…. سیٹھ زادی نقاب بھی اوڑھتی ہے ۔“
” آپ جائیں جناب !….اب یہ ہمارا کام ہے ۔“کامی نے کہا ۔اور حماد سر ہلاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ۔
٭……..٭
”باجی !….وہ میری کال اٹینڈ ہی نہیں کر رہا ؟“مسکان کو فریحہ کی پریشان کن آواز سنائی دی ۔
”پر کیوں ؟“مسکان کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا تھا ۔
”کیا کہہ سکتی ہوں ؟….ہو سکتا ہے اسے اس سارے معاملے میں میرا ہاتھ نظر آرہا ہو؟….بلکہ دیکھا جائے تو واقعی میں اس کی ذمہ دار ہوں ۔“
”اس کی محبت کہاں غائب ہوگئی ؟“
”آپ کوبتایا تو تھا۔پہلے وہ اپنے مستقل کا سوچتا ہے پھر محبت کی باری آتی ہے ۔وہ ہمیشہ دماغ کی سنتا ہے ۔“ فریحہ کی آواز میں شرمندگی تھی ۔
”فری !….میں اس کا مطالبہ پورا نہیں کر سکتی ۔اب اس کے ساتھ ایک پل بتانا بھی کارِدار ہے۔یقین کرو، رات اس کے لہجے میں ایسی اجنبیت اور روکھا پن تھا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔“
”خیر !….یہی دعوا، وہ آپ کے متعلق بھی کر رہا ہو گا ۔آخر آپ نے بھی تو اسے ہری جھنڈی دکھادی ہے ؟“
”میں نے فقط حقیقت حال بیان کی تھی ،جب ہم ایک نہیں ہو سکتے اور میں کسی دوسرے کی بیوی ہوں تو اس بات پر چراغ پا ہونے کی کیا تُک ہے ؟“
”باجی !….کسی دوسرے کی بیوی تو آپ ایک منصوبے کے تحت بنی تھیں ۔“
”فری !….تم مجھے غلط ثابت کرنے پر تلی ہو ؟“
”نہیں ،صرف حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہوں ۔ایک ایسا آدمی جسے کامیابی چند قدم پر نظر آ رہی ہو اور اچانک اسے پتا چلے کہ جسے وہ منزل سمجھ رہا تھا وہ رستا کھو جانے کا نشان ہے ۔آپ خود سوچیں اس پر کیا گزرے گی ۔میں صبح آو¿ں گی آپ کی طرف ۔ شاید اس سے بالمشافہ ملاقات کرنے پر کوئی بہتری کی صورت نکل آئے ؟“
مسکان نے کہا ۔”نہیں پھر ایسا ہے کہ کل ڈنر ہمارے ساتھ کرو ۔“
”ٹھیک ہے باجی !“کہہ کر فریحہ نے رابطہ منقطع کر دیا۔
٭……..٭
”بیٹا !….طبیعت کیسی ہے اب ؟“عائشہ نے دانیال کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔
” ٹھیک ہوں ماں جی !“دانیال نے ماں کو تسلی دی ۔گو اس کے جسم کا جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا مگر یہ بات ماں کو بتانا اسے تکلیف دینا ہی تھا ۔
”بیٹا!….اگر ہو سکے تو فیکٹری سے کچھ رقم ایڈوانس لے آو¿ ۔گھر میں کھانے کو کچھ بھی موجود نہیں ہے ۔ بعد میں آہستہ آہستہ واپس کر دینا۔“
”مگر میں اس دن ….ایڈوانس لے تو آیا ……..“اچانک اسے یاد آیا کہ وہ رقم تو پولیس کے قبضے میں تھی ۔دانیال نے سختی سے ہونٹ بھینچ لےے ۔ ”ٹھیک ہے ماں جی میں لے آتا ہوں ۔“
”بیٹا !….بات کیوں بدل دی ۔تم پہلے کچھ اور کہہ رہے تھے ؟“
”ہاں ماں جی !….جس دن جھگڑا ہوا تھا اس دن بھی میں کچھ ایڈوانس رقم لا رہا تھا مگر وہ پولیس والوں نے رکھ لی ،مالِ غنیمت سمجھ کر ۔“
”ان سے تو اللہ پوچھے گا ……..“عائشہ خاتون پولیس والوں کو کوسنے لگی ۔
دانیال ہمت کر کے اٹھ گیا ۔دوپہر کے دس بج رہے تھے ۔گھر سے نکل کر وہ سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا۔کون سا ایسا دوست تھا جس سے وہ کچھ قرض مانگ سکتا۔ایک مرتبہ تو اس نے سوچا کہ وہ فریحہ سے مانگ لے مگر پھر اسے شرم آڑے آگئی ۔ایک لڑکی سے وہ کیوں کرادھار طلب کرتا ،جبکہ وہ بے روزگار بھی تھی ۔
آخر کار اس نے اپنے دوست انور سے مدد طلب کرنے ارادہ کیا اور سٹیل مل کی جانب بڑھ گیا ۔اس وقت اس نے وہیں ہونا تھا ۔کرایے کے نام پر اس کی جیب میں پھوڑی کوڑی بھی نہیں تھی ۔ اسے پیدل ہی وہاں تک جانا تھا ۔اللہ پاک کا مبارک نام لے کر وہ چل پڑا ۔سٹیل مل تک پیدل چلنا اس کے لےے مسئلہ نہیں تھا مگر پولیس والوں کے وحشیانہ تشدد کے بعد یہ آسان کام بھی اس کے لےے مشکل ترین بن گیا تھا ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ آہستہ آہستہ چلتا رہا ۔رستے میں کبھی کبھی وہ ایک دو منٹ کے لےے رک کر آرام بھی کر لیتا تھا ۔اس نے آدھے سے زیادہ سفر طے کر لیا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا ۔ موبائل سکرین پر مشی کا نام دیکھ کر اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا ۔
٭……..٭
رات کو وہ ڈنر نہیں کر سکی تھی مگر اس کے باوجود صبح اس نے چاے کے ساتھ کچھ لینا پسند نہ کیا ۔اس کی بھوک ہی مر گئی تھی ۔چاے پی کر وہ کچھ دیرلان میں ٹہلتی رہی ۔جب زیادہ جی گھبرایا تو گھر سے باہر نکل آئی اس کا رخ اسی جنت کی طرف جہاں اسے دلی سکون ملتا تھا ۔وہ چھوٹا سا گھر گویا چین وآرام کا مرقع تھا ۔
وہ گھر سے تھوڑی ہی دور آئی تھی کہ ،اسے فٹ پاتھ پر دانیال نظر آیا ۔وہ سر جھکائے جانے کہاں جا رہا تھا ۔ اس کے سستی سے اٹھنے والے قدم اس کی جسمانی حالت کا پتا دے رہے تھے ۔اس نے بے ساختہ انڈیکیٹر دے کر کار سائیڈ پر لے جا کر روک دی ۔ اگلے لمحے وہ موبائل نکال کر اسے کال ملانے لگی ۔
وہ ٹھٹھک کر رکا اور اگلے لمحے اس کی رندھی ہوئی آواز رسیور سے برآمد ہوئی ۔
”جی….؟“
اس” جی “میں جانے کتنی سسکیاں ، آہیں ،گلے ،شکوے ،التجائیں ،امیدیں اور حسرتیں مقید تھیں ۔
”دانی !….پیچھے مڑ کر دیکھو،میں چند قدم کے فاصلے پر کار میں بیٹھی ہوں ،میرے پاس آ جاو۔“
دانیال سرعت سے مڑا ۔مسکان کی کار پہچاننے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔یہ وہی کار تھی جس پر وہ اپنی جانِ حیات کے ساتھ ہنی مون منانے گیا تھا ۔وہ نپے تلے قدم رکھتا قریب پہنچا ۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوچ سرگرداں تھی۔ کہ…. ”جانے اس نے کس لیے یوں سر راہ آواز دی ہے۔“
”بیٹھو ۔“اس کے قریب پہنچتے ہی مسکان نارمل لہجے میں بولی۔
دانیال خاموشی سے بیٹھ گیا ۔مسکان نے کار آگے بڑھا دی ۔کار کے ائر کنڈیشنڈ ماحول میں اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا مگر یہ اس ٹھنڈک سے بہت کم تھی جو مسکان کے پکارنے پر اس کے دل کو پہنچی تھی ۔
”کہاں جا رہے تھے ؟“مسکان کی شیریں آواز نے اس کے کانوں میں رس انڈیلا ۔
”سٹیل مل ۔“
”کیوں ….میرا خیال ہے تمھاری جسمانی حالت اس قابل نہیں کہ مزدوری کر سکو ۔“ مسکان نے سرسری انداز میں بات آ گے بڑھائی ۔وہ اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ آیا وہ اس سے کتنا خفا تھا ۔ چند دنوں میں ہی ان کے درمیان بہت بڑی خلیج حائل ہو گئی تھی ۔ کیونکہ بہ ظاہر جدائی کی گھڑیاں چند دنوں پر مشتمل تھیں مگرمسکان کو یہ عرصہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا ۔
دانیال آہستہ سے بولا ۔”دوست کو ملنے جا رہا تھا ۔“
”تو ٹیکسی، رکشا کرا لیتے؟“
”خیال ہی نہیں آیا ۔“دانیال کرایہ نہ ہونے کی بات گول کر گیا ۔
”خیال نہیں آیا ….یا پیسے نہیں تھے ؟“مسکان نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا ۔
”پیسے نہیں تھے ۔“وہ صاف گوئی سے بولا ۔جواباََ وہ خاموش رہی۔دانیال بھی گو مگو کی کیفیت میں بیٹھا رہا ۔ یہاں تک کہ وہ گھر کے سامنے پہنچ گئی ۔وہ نیچے اتری ،دانیال بھی اس کی تقلید میں نیچے اترا۔
کار لاک کر کے وہ گھر کا دروازہ کھولنے لگی ۔
”آئیں ۔“اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے کار کے ساتھ کھڑے دانیال کو پکارا ۔
وہ اس پیچھے اندر داخل ہو گیا ۔اس بہشت سے بے دخل ہوئے اسے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ عرصہ اسے بہت طویل لگ رہا تھا ۔ خواب گاہ کادروازہ کھو ل کر وہ اندر گھس گئی وہ بھی سحر زدہ سا اس کے پیچھے چلا آیا ۔
وہ پیچھے مڑی ۔اور پوچھا ۔
”دانی خفا ہو ؟“گو وہ دانیال کا جواب جانتی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ وہ دیوانہ اس سے خفا ہی نہیں ہوسکتا تھا، اس کے باوجود وہ پوچھنے سے باز نہ آ سکی ۔
دانیال نفی میں سر ہلا کر رہ گیا ۔مسکان نے گاون اتار دیا ۔دانیال ایک ٹک اسے گھورے جا رہا تھا ۔ مسکان نے ایک بار نظر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا مگر ان آنکھوں سے پھوٹتی بے پایاں چاہت کا سامنا نہ کر سکی اور شرما کر سر جھکا لیا ۔
”ہاں اسے محبت کہتے ہیں ۔“اس کے اندر سے آواز آئی ۔”یہ ہوتی ہے چاہت ،کہ زبان کا کام بھی آنکھیں سنبھال لیتی ہیں ۔“
”آوبیٹھو ۔“مسکان نے اس کا کھردرا ہاتھ تھاما ۔اور اس کے ساتھ اس کے دل میں جانے پہچانے جذبے ہلکورے لے کر بیدار ہو گئے۔کھلی آنکھوں میں اس خواب گاہ کے اندر گزرے دن فلم کی طرح چلنے لگے ۔
دانیال نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر آنکھوں سے لگایا اور پھر ہتھیلی کی پشت چومتا ہوا بولا ۔
”مشی !….میری جان ،میرا خیال ہے میں خواب دیکھ رہا ہوں ؟“
مسکان نے کہا ۔”نہیں ،یہ تعبیر ہے ۔“وہ بیڈ پر بیٹھ گئے ۔
”مشی !….ایک بات پوچھوں ؟“
”پوچھو ؟“
”تم اب بھی میری بیوی ہو نا؟….میری شریک حیات ہو نا ؟۔ انجانے میں طلاق نامہ دستخط کرنے سے طلاق تو نہیں ہوتی نا ؟“اس کے لہجے میں ہزاروں اندیشے پنہاں تھے ۔
”ہاں میں تمھاری بیوں ہوں ،تمھاری شریک حیات تھی اور ہوں ۔اور اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔اگر طلاق ہوئی ہوتی تو مسکان تمھیں یہاں نظر نہ آتی ؟“ مسکان کے لہجے میں امڈتی چاہت دانیال کو حیرا ن کر گئی تھی۔
”مشی !….“وہ چیختے ہوئے بے قابو ہو گیا تھا ۔پھر الفاظ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ۔محبت کی انتہا میں عموماََ زبانیں گنگ ہو جایا کرتی ہیں ۔اس نے مسکان کو اپنی جانب کھینچا ۔وہ مقناطیس کی طرح اس کے ساتھ چمٹ گئی تھی ۔ جانے کب سے وہ ان لمحات کے سپنے دیکھ رہی تھی ۔پھر بہت ساری دیر گزر گئی ۔وہ یقناََ اذان کی آواز تھی ۔دانیال اس کے بازو پر سر رکھ کر سو گیا تھا ۔وہ خود بھی غنودگی کے عالم میں تھی ۔اذان کی آواز سن کر وہ کسمسائی ۔
”دانی !….اٹھو نماز نہیں پڑھنی ؟“اس نے دانیال کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔
”امی جان !….امی جان !….دیکھو نا ؟مشی ادھر ہی ہے ۔“وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور چلانے لگا ۔
”اے دانی !….ہوش میں آو۔“مسکان کے جھنجوڑنے پر وہ چونک گیا ۔چند لمحے اس کی طرف حیران نظروں سے گھورنے کے بعد اس کے چہرے پر چھائی وحشت کم ہوئی اگلے لمحے وہ اس سے لپٹ گیا ۔
”مشی ….مشی ….مشی !….تم یہیں ہو نا ؟….ہاں تم یہیں ہو ،تم تو ہمیشہ سے میرے پاس ہی ہوتی ہو ، بس کبھی کبھی مجھے تنگ کرنے کے لیے لحظہ بھر کے لیے اوجھل ہوتی ہو ،ورنہ تم مجھ سے کب دور ہوئی ہو ؟“
اس نے چاہت سے پوچھا ۔”دانی !….کیوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ۔“
”پتا ہے مشی !….ہمیشہ اذان کے وقت تم مجھے جگانے آتی تھیں ۔تمھارا گیلا ہاتھ میں اپنے ماتھے پر محسوس کرتا اور پھر تم چھپ جاتیں ،میں آوازیں دیتا مگر تم جواب نہ دیتیں ،امی جان مجھے سمجھاتی تھیں کہ تمھاری مشی نہیں آئی ۔مگر جانتا تھا امی کو پتا نہیں ہے ۔تم آیا کرتی تھیں نا ؟“اس نے بچوں کی سی معصومیت سے پوچھا ۔
مسکان کی آنکھوں میں نمی ابھری اور وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی ۔
”ہاں ،میں ہمیشہ سے تمھارے پاس ہی تو تھی ۔“
”پاس ہی رہنا جانِ حیات !….پاس ہی رہنا ۔نہیں تو میں نہیں رہوں گا ۔“
”چپ !….ایسی باتیں نہیں کرتے ۔“مسکان نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔
”یہ سچ ہے مشی !….“
”اچھا!…. یہ گپ شپ بعد میں ہو گی، پہلے نماز پڑھو ۔“اور وہ سر ہلاتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ نماز پڑھ کر مسکان کو سخت بھوک کا احساس ہوا ۔
”دانی !….مجھے تو بھوک لگی ہے ۔“
دانیال نے جواب دیا ۔”مجھے بھی ۔“
مسکان نے مشورہ دیا ۔”تو چلیں !….کسی ہوٹل میں کھا لیتے ہیں ۔“
اس نے مسکان کے کومل ہاتھ تھام کر کہا ۔”نہیں !….تم خود بناو….کتنی صدیوں سے ان ہاتھوں کی پکی روٹی نہیں کھائی ۔“
”کیا ….کیا…. کیا ؟یہ صدیوں کہاں سے آ گئیں محترم!….؟“مسکان نے آنکھیں نکالیں۔
وہ اطمینان سے بولا ۔”تم سے دور ہونے پر ایک منٹ ایک سال کے برابر لگتا ہے ۔باقی کا حساب خود لگا لو،میری تعلیم یوں بھی نہ ہونے کے برابر ہے ؟“
”اچھا ایسا ہے ،میں روٹیاں بناتی ہوں۔ آپ سالن لے آئیں ڈراما باز کہیں کے ۔“ مسکان نے کہا۔ آج وہ تن من دھن سے خود کو دانیال کا محسوس کر رہی تھی ۔اس کا محبت بھرا انداز دانیال کی روح تک کو سرشار کر رہا تھا ۔
”اچھا ٹھیک ہے جاتا ہوں ۔لیکن تھوڑی دیر ہو جائے تو گبھرانا نہیں ۔“
”دیر کیسی !….؟“
دانیال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”وہ دراصل ہوٹل والے پیسے لے کر سالن دیتے ہیں ۔تو پہلے تو بھیک مانگ کر اتنی رقم اکٹھی کرنا پڑے گی نا کہ، دو آدمیوں کا سالن خرید سکوں ۔“
”بے شرم ۔“وہ ہنسنے لگی ۔
”بے شرمی کاہے کی ؟….بھیک مانگ رہا ہوں ڈاکا تو نہیں ڈال رہا ؟“
”اچھا بکواس نہ کرو ،یہ لو پیسے ۔“اس نے پرس سے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کی طرف بڑھا ئی ۔
”میں ہوٹل خریدنے نہیں جارہا ؟“
”ہاں ….ہاں جانتی ہوں ۔باقی کے پیسے اپنے پاس رکھ لینا بعد میں حساب لے لوں گی ۔ اب ڈرامے چھوڑو اور جلدی جاوبھوک سے برا حال ہے ۔ “دانیال سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا ۔جبکہ وہ کچن میں گھس کر آٹا گوندنے لگی ۔ اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔دانیال کی پر جوش اور بے پایاں محبت نے اسے نہال کر دیا تھا ۔وہ بھی کتنی بے وقوف تھی کہ اس مسرت بھری زندگی کو ٹھوکر مار کر چل دی تھی ۔
وہ دل ہی دل میں فریحہ کی شکر گزار ہوئی جس کی رہنمائی کی بدولت وہ دوبارہ اپنی جنت میں لوٹ آئی تھی ۔ اسے امید تھی کہ وہ دونوں مل کرآج رات حماد کو بھی کسی نہ کسی طرح راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔حماد کو راضی کرنے کے لیے وہ ہر قیمت دینے کو تیار تھی ۔دانیال کے لوٹنے تک وہ دو تین روٹیاں پکا چکی تھی ۔ وہ کچن میں بیٹھ کر اسے روٹیاں پکاتے دیکھتا رہا ۔روٹیاں بنا کر وہ خواب گاہ میں آ گئے ۔وہی جگہ تھی جہاں دانیال اس کے ناز نخرے برداشت کرتا ، اسے ہاتھوں سے روٹی کھلاتا ، اس کا جھوٹا پی کر تعریفوں کے ڈونگرے برساتا ۔آج بھی دانیال کے رویے میں سرِمو فرق نہیں آیا تھا ۔ وہ اسی طرح اپنی مشی کی ایک ایک بات پر قربان جا رہا تھا ۔ فرق آیا تھا تو مسکان کے رویے میں ۔جو پہلے اس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتی اور آج ا سے چمٹی جا رہی تھی ۔
”مشی !ایک بات پوچھوں ؟“وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکا تھا ۔
”منع کس نے کیا ہے ؟“
”آج تم بہت بدلی بدلی لگ رہی ہو ؟“
وہ ہنسی ۔”کیوں یہ تبدیلی بری لگ رہی ہے کیا ؟“
”نہیں….یہ تو ایسی تعبیر ہے کہ جس کا میں سپنا بھی نہیں دیکھ سکا تھا ۔مگر ڈر لگتا ہے کہیں یہ کسی آزمائش کا آغاز نہ ہو ؟“
”پگلا نہ ہو تو ؟“وہ چاہت بھرے لہجے میں بولی ۔”اب کیسی آزائش ؟….آپ ہر امتحان میں سر خ رو ہو چکے ہیں ۔“
”مشی !….مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔اتنی زیادہ مسرت کا تو میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔اگر یہ سپنا ہوا تو میں بے موت مارا جاوں گا ۔“
مسکان نے اسے ڈانٹا۔”چپ !….ایسی باتیں نہیں کرتے ۔“اس کے ساتھ اس نے کھانے کے برتن ایک طرف رکھے اور اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔دانیال اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔
”دانی !….فریحہ بہت پیاری ، اچھی اور مخلص لڑکی ہے ۔“
”ہاں !….بالکل ،اسی کی بہ دولت تو مجھے اپنی مشی واپس ملی ۔“
”دانی !….وہ تو مجھ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہے ، کنواری بھی ہے ۔اور اس نے آپ کو شادی کی پیش کش بھی کی تھی پھر اس کی آفر قبول نہ کرنے کی وجہ ؟“
”یہ کس نے کہا کہ وہ تم سے خوب صورت ہے ؟“
”اس میں شک ہی کیا ہے ؟“مسکان ناز سے اٹھلائی ۔
”مشی صاحبہ !….یہ میرے دل سے پوچھو نا؟ کہ کون خوب صورت ہے میری مشی سے ۔“
”اچھا پتا ہے میری مجبوری کیا تھی ؟اور میں کس وجہ سے آپ سے دور ہوئی ؟“
”نہیں ،نہ جاننا ہی چاہتاہوں اور نہ تم اپنے بیتے دنوں کی کوئی بات مجھے صفائی پیش کرنے کی نیت سے سنانا۔“
”دانی !….ایک بات یاد رکھنا ،الحمد اللہ مجھے اپنی عزت و حرمت ہمیشہ سے عزیز رہی ہے ۔ آج تک مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد نہیں ہوا،کہ مجھے نظریں جھکانے کی ضرورت پڑے ۔میں مطلقہ ہوں، جب تک پہلے شوہر کے عقد میں تھی وہی میرے جسم و جاں کا مالک تھا ۔اب آپ کی منکوحہ ہوں تو بس مجھے آپ ہی مجھے چھو سکتے ہیں۔“
”اگر اس کے بر عکس ہوتا تو کیا دانیال کے دل سے اس کی مشی کی چاہت کم ہو سکتی تھی؟“
وہ شرارت سے مسکرائی ۔”کیا پتا ؟….منہ ہی نہ لگاتے ؟“
”منہ ہی نہ لگاتے ۔“دانیال نے اس کی ناک کی پھننگ کو پکڑ کر مروڑا۔
”اچھا !….آپ نے پھر وہی مزدوری شروع کر دی تھی ؟“
”تواور کیا کرتا؟….“
”دکان جو تمھارے حوالے کر کے گئی تھی ؟“
”تمھارے بدلے وہ حقیر سی دکان قبول کر لیتا۔“
”تو اور کیا چاہیے ؟“
”مشی کے بدلے تو تخت و تاج بھی ٹھکرا دیتا ۔“دانیال نے اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔
”بے وقوف !….“وہ ہنسی ،اور پھر کہنے لگی ۔”وہ دکان تمھارے نام کر دی تھی میں نے ۔اور اس پر تمھارا قبضہ ہے۔ میں چاہوں بھی تو تم سے واپس نہیں لے سکتی ۔“
”تم میری جان بھی لے سکتی ہو ،دکان تو بہت معمولی چیز ہے ۔“
”جانتے ہو ؟….تمھارا مکرم خان میرا بھائی بن گیا ہے ؟“مسکان نے موضوع بدلا۔
”ہاں….بہت اچھا انسان ہے ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اچھا ٹھہرو اس سے بات کرتے ہیں ۔“مسکان موبائل فون نکال کر مکرم خان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
”اسلام علیم باجی !….“مکرم خان کی بھاری آواز رسیور سے برآمد ہوئی ۔مسکان نے سپیکر آن کر دیا تھا ۔
”خان بھائی کیسے ہو ؟“
”باجی !….ام بلکل ٹیک اے ۔“
”کوئی مددگار ساتھ رکھا ہے یا اکیلے ہی جڑے رہتے ہو ؟“
”ابی تک تو کسی کو نہیں رکھا ۔“
”اچھا تمھارے دانیال صاحب سے صلح ہو گئی ہے ۔اور یہ دکان میں نے اسے بیچ دی ہے ۔“
”پھر تو ام خوش ہے باجی !….دانیال صاحب تو بہت اچا آدمی ہے۔“
”بس اب سارا حساب کتاب اس کے حوالے کر دینا ۔“مسکان نے ہنستے ہوئے کہا ۔
”ٹیک ہے باجی ۔“مکرم خان نے کہا اور مسکان کال ختم کرتے ہوئے بولی ۔
”کیسا ہے دانی صاحب!….؟“
”مشی !….نہ تو مجھے دکان چھننے کا کوئی دکھ تھا۔ اور نہ واپس ملنے کی کوئی خوشی ہوئی ؟“
”نظر تو خوش آرہے ہو ؟“
”تم!…. اچھی طرح جانتی ہو،یہ کس بات کی خوشی ہے ؟“دانیال نے اس کی خوب صورت آنکھوں میں جھانکا۔
”اچھا یہ اپنی کار کی چابی بھی لے لو ؟“اس نے پرس سے کار کی چابی نکال کر اس کی جانب بڑھائی ۔
”شکریہ !“اس مرتبہ دانیال منہ بناتے ہوئے بولا ۔اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
”چلیں امی جان کو لے کے آتے ہیں ۔“ مسکان اٹھ بیٹھی ۔
”چلو ۔“دانیال بھی اٹھ گیا تھوڑی دیر بعد وہ دانیال کے گھر کی طرف جا رہے تھے ۔ ڈرائیونگ کی ذمہ داری دانیال نے سنبھالی ہوئی تھی ۔گھر کے سامنے کار روکتے ہوئے وہ بولا ۔
”خبردار مشی !….معافی وغیرہ کے چکروں میں نہ پڑنا ۔امی جان تم سے بالکل ناراض نہیں ہیں ۔“
”جی محترم !….میں اپنی امی کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں ۔“کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی ۔
عائشہ خاتون صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی تھی ۔دانیال کے ساتھ نقاب پوش لڑکی کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی اس کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔ بیٹیوں کی سی بہو کو وہ بڑی آسانی سے پہچان گئی تھی ۔اسی وقت مسکان نے نقاب الٹ دیا رہا سہا شک بھی دور ہو گیا ۔وہ بے صبری سے اٹھی ۔مسکان بھی بھاگ کر اس سے لپٹ گئی ۔
”میری بچی ۔“عائشہ اس کی آنکھوں اور ماتھے پر بوسے دیتے ہوئے اس کی بلائیں لینے لگی ۔نہ کوئی شکوہ ہوا ،نہ گِلہ اور نہ شکایت ۔نہ یہ ہی پوچھا کہ کیوں لوٹی ہو ۔بیٹیوں کے لیے تو یوں بھی ماں کی آغوش وا رہتی ہے ۔
جذبات کا طوفان تھما تو مسکان بولی ۔
”امی جان !….میں آپ کو لینے آئی ہوں ….چلیں اپنے گھر ۔“
”چلو بیٹی !….“عائشہ فوراََ تیار ہو گئی ۔مسکان کو ناراض کرنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
مسکان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ اس آسانی سے ہو جائے گا ۔اتنے غیرت مندلوگ کہ ہر چیز کو ٹھوکر مار کر چلے جائیں ۔مگر اس کے ذرا سے بلانے پر بغیر کسی حجت کے یوں جھٹ سے تیار ہو جانا ؟…. یقینا وہ اسے اپنا سمجھتے تھے۔ایسا اپنا جو کبھی پرایا نہ ہو سکے ۔
دانیال نے اس گھر سے صرف مسکان کا شبِ عروسی کا لباس لیا تھا ۔
مسکان نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔”اب تو کپڑوں والی آ گئی ہے ۔اب بھی یہ جوڑا سنبھالتے پھرو گے ؟“
”تمھیں کیا پتا کہ میں یہ لباس کس مقصد سے لا یا تھا ؟“
”محبت اور خوشبو چھپائی نہیں جا سکتیں دانی !“
اس نے کہا ۔”مشی !….میں جانتا تھا ایک دن دوبارہ تمھیں پا لوں گا ۔“
مسکان خاموشی سے کار کا دروازہ کھول کر عائشہ کے ساتھ بیٹھ گئی ۔وہ دانیال کی وارفتگی سے واقف تھی۔ بعید نہیں تھا کہ وہ ماں کے سامنے اس سے لپٹ جاتا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھر پہنچ گئے تھے۔مسکان نے واپسی کی اجازت چاہی ۔
”کیا مطلب ؟….تم کہاں جاوگی ؟“ دانیال نے حیرانی سے پوچھا ۔
وہ بے بسی سے بولی ۔”دانی !….دو تین دن تک تمھیں میرے بغیر رہنا ہو گا ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے ، وہ جیسے ہی حل ہوتا ہے میں ہمیشہ کے لےے یہیں آ جاوں گی یا تمھیں اپنے پاس بلا لوں گی ۔“
”کیسا مسئلہ ؟“اس کی حیرانی دور نہیں ہوئی تھی ۔
”حماد !….تھوڑی پریشانی پیدا کر رہا ہے ،بعد میں تفصیل بتاوں گی ۔بس ایک دو دن صبر کرو میں تمھاری ہوں اور تمھاری رہوں گی ان شاءاللہ ۔“
دانیال نے بے بسی سے سر ہلا دیا ۔”میں ہمیشہ تمھارا منتظر رہوں گا جان !….“
مسکان نے عائشہ خاتون کے پاس جا کراس سے اجازت لی اور واپسی کا قصد کیا ۔
جاری ہے
