Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20
اب شاید،اس جھونپڑی میں جانا اسے گوارا نہ ہو؟….یوں بھی اب اسے رشتوں کی کمی نہیں رہے گی ؟“
”اچھا میری طرف سے ماں جی ….کی خدمت میں معذرت عرض کر دینا ،میں آج کچھ زیادہ بد تمیزی پر اتر آئی تھی ۔دانی کو تو تھپڑ تک مار دیا۔“
”واہ !….کیا خوب صورت نک نیم ہے ….دانی ؟“حماد کے لہجے میں طنز کا عنصر نمایاں تھا ۔
وہ خفیف ہوتے ہوئے بولی ۔”بس ماں اسے دانی کہتی تھی۔ میری بھی عادت بن گئی ۔“
”تھپڑ کیوں مارا ؟….دانی کو ؟“حماد نے استہزائی قہقہہ لگایا۔
”روکنے کے لےے مجھے بازو سے پکڑنا چاہااور میں نے تھپڑ جڑ دیا ۔“
”بہت اچھا کیا ….اب کم از کم اس کے دل میں کوئی خوش فہمی جڑ نہیں پکڑے گی ۔“
مسکان نے جھجکتے ہوئے کہا۔”اچھا حادی !….برا نہ مانےے گا لیکن انھیں نرمی سے راضی کرنا ۔“
”بہت ترس آرہا ہے ان پر ؟“وہ طنز سے باز نہ آ سکا ۔
”ہاں ….“مسکان جرا¿ت آمیز لہجے میں بولی ۔”وہ بہت مخلص اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ آپ یقین کرو اس کی ماں نے کبھی مجھے بیٹی کے علاوہ مخاطب نہیں کیا ۔“
”کہنے اور سمجھنے میں بڑا فرق ہے ؟“
”صحیح کہا ….لیکن وہ بیٹی کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی تھی۔“
”اچھا جی !….بڑا افسوس ہوا کہ تم میرے لےے اپنی ماں تک کو چھوڑ کر آ گئی ہو ۔لیکن کیا کریں، یہ تو منہ بولی ماں تھی شوہر کے لےے تو لڑکی کو حقیقی ماں بھی چھوڑنا پڑتی ہے ؟“
”مجھے محسوس ہورہاہے؟….آپ کچھ زیادہ ہی طنز اور طعنوں کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ شاید جناب کے ذہن سے یہ بات نکل گئی ہے کہ میرے اس فعل کے ذمہ دار سراسرآپ خود ہیں ۔نہ تو مجھے دوسری شادی کا شوق تھا اور نہ بچے کا۔“ اس کا مسلسل طنزیہ لہجہ مسکان سے برداشت نہیں ہو ا تھا ۔
حما دکو لگاکچھ غلط ہونے جارہا ہے ۔مسکان کے لہجے میں بغاوت کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس نے جلدی سے پینترا بدلا۔”سوری !….میں مذاق کر رہا تھا ۔“
”آپ کا مذاق ،سر آنکھوں پر ۔لیکن میں کسی ایسی بات پر طعنے برداشت نہیں کروں گی جس کا سبب خود آپ ہوں۔ یہ تو وہی بات ہوئی ۔الٹا چور کوتوال کوڈانٹے۔“
”اٹس اوکے مسکان !….تم تو خفا ہونے کے چکروں میں پڑ گئی ہو ؟“حماد کے ذہن میں فریحہ کا مشورہ تازہ ہو گیا۔اس نے عافیت اسی میں جانی کہ اسے ناراض نہ کرے ۔عورت ذات سے کوئی بعید نہیں ہوتا کہ کس وقت کیا کر گزرے ۔ یوں بھی اسے مسکان پہلے سے کافی بدلی بدلی لگ رہی تھی ۔ لیکن وہ اس تبدیلی کی کسی مناسب توجیہ سے قاصر تھا۔
”اچھا ایک بات کا خیال رکھنا ۔طلاق کا لفظ اس سے منہ سے ضرور کہلوانا۔“
” ٹھیک ہے ،میں اس بات کا خیال رکھوں گا ….اور باقی گپ شپ رات کھانے پر ہوگی ، ابھی میں فریش ہو جاو¿ں؟“وہ جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
اور مسکان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
٭……..٭
ایک دن میں اس نے کتنا طویل فاصلہ طے کر لیا تھا ۔مسکان کے التفات سے بے رخی ،پیار سے نفرت ،راحت سے وحشت اور سکون سے بے سکونی تک کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہو گیا تھا ۔
گزشتہ رات ،اس کی زندگی کی یادگار رات تھی۔مسکان کی وارفتگی اور چاہت بھرے اندازنے جہاں اس کے دل کو سکون و اطمینان کی بخشا تھا، وہیں اس کی چھٹی حس نے بے چینی بھی محسوس کی تھی ۔مگر یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر اس طرح کوہ گراں ٹوٹ پڑے گا ۔مسکان کی جدائی کا تصور تو دور دور تک اس کی سوچ میں نہیں تھا ۔
رات کا کھانا زہر مار کرنے کے بعد وہ اپنی خواب گاہ میں گھس آیا ۔جانے والی کی یادیں اس طرح امڈ پڑیں کہ اسے سانس لینا دشوار ہو گیا ۔کمرے میں اس کے معطربدن کی باس رچی تھی اور دل و دماغ پر اس کی من موہنی صورت اور مترنم آواز کا قبضہ تھا۔آج اس پر ہجر و وفراق اور دوری و جدائی کا فلسفہ آشکارا ہوا تھا ۔
سانس چل رہا ہوتا ہے اور جسم بے جان ہوتا ہے ۔نہ بھوک لگتی ہے، نہ پیاس،نیند آتی ہے، نہ کسی کروٹ سکون ملتا ہے ، کھڑے ہوں تو لیٹنے کو دل کرتا ہے اور لیٹیں تو بے ساختہ اٹھ بیٹھنے کو من کرے ۔
”مشی !….خدا را لوٹ آو¿ ،تم جیتیں اور میں ہارا ۔میں قصور وار ہوں ،خطا کار ہوں ، تمھاری قدر نہ کر سکا اور توہین کا مرتکب ہوا ۔یہ سب کچھ مجھے قبول ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی بات ہے تو وہ بھی قبول ہے۔ بس تم لوٹ آو¿۔مجھے ہر سزا منظور ہے سوائے تمھاری جدائی کے ،دوری کے ،بچھڑنے کے ۔“
وہ اٹھ کر ٹہلنے لگا ۔قد آدم آئینے کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اس کے سامنے رک گیا ۔ اپنی کالی رنگت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں مسکان کی شبیہ لہرائی ۔اور ساتھ ہی ذہن میں سوال اٹھا۔
”کیا میری صورت اس قابل ہے کہ مسکان میری کمی محسوس کر سکے ؟“اس کاجواب واضح ،مگر تکلیف دہ تھا۔اس کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی۔
”اے میرے اللہ !….میں اچھی صورت نہیں مانگتا،بس اسی صورت کو میری مشی کے لےے پسندیدہ بنا دے ۔“ وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گیا۔عجیب منہ پھٹ اور گنوار آئینہ تھا ۔کسی غریب کا دل رکھنے کو دو جھوٹے بول ہی نہیں بول سکتا تھا ۔
یونھی ٹہلتے ٹہلتے اس کے دل میں حمادکی شکل امید کی کرن بن کر چمکی۔ وہ مسکان کو منانے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا تھا۔اس نے حماد کو کال کرنے کے لےے موبائل فون نکالا مگر وقت دیکھ کر اس کی جرا¿ت نہ ہوئی ،اور اس نے یہ کام صبح تک موخّر کر دیا ۔مگر صبح تھی کہ ہونے میں نہیں آرہی تھی ۔ہجر کی رات کی لمبائی کے قصے زبان زد عام ہیں، مگر اس شب کا عذاب جھیلنے والے بہت قلیل۔اور مسکان کی مہربانی سے وہ بھی ان اقل لوگوں میں شامل ہو گیا تھا ۔گزشتہ شب کی صبح اس نے مو¿ذن سے جتنے گلے کےے تھے آج اتنی ہی منتیں کر رہا تھا ،مگراس ہٹ دھرم نے نہ کل اس کی منت سنی تھی اور نہ آج اس کی آہ و زاری کا کوئی جواب دے رہا تھا۔کھٹورکل تاخیر پر آمادہ نہیں ہوا تھا اور آج آنے پر تیار نہیں ہورہا تھا ۔
یقینا اس شب کی طوالت کو ناپنا کسی عاشق کے بس سے باہر تھا ۔اس کے ذہن میں کسی شاعر کا شعر گونجا۔
طولِ شبِ فراق جو ناپا کبھی غریب
لیلیٰ کی زلف سے رہا دوچار ہاتھ کم
وہ ٹہلتے ٹہلتے تھک گیا،بیٹھے بیٹھے اوب گیا،لیٹے کروٹیں بدلتے تنگ پڑ گیاتو مو¿ذن کو اس پر ترس آیااوردور کسی مسجد میں اللہ پاک کی بڑائی اور عظمت کا اعلان ہونے لگا ۔مقدس آواز ہوا کی لہروں پر تیرتی اس کی سماعتوں تک پہنچی ۔اس نے گہرا سانس لے کر اپنے زندہ رہنے کا یقین کیا ۔
”کاش ….کاش ،مِشی تم میری زندگی میں نہ آئی ہوتیں ؟….کاش کوئی ایسا طریقہ ہو ،کوئی ایسا طلسم ہو ،جو تمھاری یادوں کو مجھ سے دور رکھ سکے ….
کوئی ایسا اسم عظیم ہو
مجھے تیرے دکھ سے نجات دے
اس کی آنکھوں میں غنودگی سی اتری ۔اچانک اسے اپنے ماتھے پر گیلا ہاتھ محسوس ہوااور ساتھ مسکان کی سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی ۔
”دانی!….اب تک لیٹے ہو ؟ نماز نہیں پڑھنی ؟“وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ۔کمرا اس کے وجود سے خالی تھا ۔ مگر اس کی خوشبو اب بھی موجود تھی۔
”مِشّی پڑھتا ہوں نا ؟“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ واش وم کی طرف بڑھ گیا ۔
٭……..٭
ملازما نے کھانا لگنے کی اطلاع دی اور وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی ۔حماد پہلے سے وہاں موجود تھا۔
”میں نے سوچا آج بیگم کے ہاتھ کا بنا کھانا ،کھانے کو ملے گا مگرشاید موڈ ٹھیک نہیں تھا میڈم کا؟“
”ہاں ،تھکی ہوئی تھی ۔“طبیعت کی خرابی کے بجائے اس نے تھکن کہنا مناسب سمجھا کہ طبیعت کی خرابی کو حماد پھر دانیال کی جدائی سے جوڑ دیتا ۔
ملازما ،کھانا سرو کر کے باہر نکل گئی ۔حماد نے اپنے لےے سالن نکالا اور کھانے لگا ۔ ایک بار اس کے جی میں آیا کہ اسے کہہ دے ۔”مجھے بھی کھلاو¿….“مگر پھر شرم مانع آگئی ۔ یوں بھی محبت کرنے والوں کو چاہنے کے طریقے نہیں سکھائے جاتے ۔محبت تو ایک اندرونی جذبے کا نام ہے ۔محبوب کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ، اس سے ہر وقت جڑے رہنا ،اس کی خواہش کو بغیر اس کے کہے سمجھ لینا ،عاشق کو اس کا وجدان سکھا دیتا ہے ۔
”آپ لیں نا سالن؟“حماد، دو تین نوالے لے چکا تھا ،اسے آرام سے بیٹھے دیکھ کر سالن کا ڈونگا اس کی جانب بڑھایا۔
ڈونگا اپنی جانب کھسکا کر اس نے تھوڑا سا سالن لیا اور بے دلی سے کھانے لگی ۔دن کا کھانا بھی وہ نہیں کھا سکی تھی مگر اس کے باوجود اسے کھانااچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
”اچھا سالن بنا ہے ؟“ تعریف کرتے ہوئے وہ پلیٹ میں دوبارہ سالن لینے لگا ۔
”جی ۔“مختصراََ کہتے ہوئے اس نے سالن کی پلیٹ سائیڈ پر کی اور سویٹ کھانے لگی ۔
”میرا خیال ہے دن کا کھاناتم نے لیٹ کھایا ہے ؟“اسے سویٹ کھاتے دیکھ کر وہ مستفسر ہوا ۔
”نہیں…. لیٹ تو خیرنہیں کھایا۔آج کل کھاتی ہی کم ہوں ۔“اس نے بات کو گول مول کیا ۔
وہ مسکرایا۔”اتنی موٹی تو نہیں ہوئیں کہ تمھیں ڈائیٹنگ کی ضرورت پڑے ؟“
”کل کس وقت وہاں جاو¿ گے ؟“وہ مطلب کی بات پر آگئی ۔
”نو بجے اٹھتا ہوں ،ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر دس ساڑھے دس بجے تک پہنچ جاو¿ں گا ۔“
”تو پھر آپ کو اس کی دکان پر جانا پڑے گا ۔وہ قریباََ آٹھ ،ساڑھے آٹھ گھر سے نکل جاتا ہے۔“
”ٹھیک ہے جی !….وہیں چلا جاو¿ں گا ۔“
”اور ہاں ،اسے میں نے بچے کی بابت پتا نہیں چلنے دیا۔ یہ نہ ہو آپ پھوٹ دیں ۔“
”میں کان سے روٹی کھاتا ہوںنا؟“حماد نے خفگی ظاہر کی ۔”مسکان صاحبہ!….مجھے تم سے زیادہ بچے کی ضرورت ہے ۔“
”ہر وقت بجلی کی تار بنے رہتے ہو ؟….کبھی پیار سے بھی بول لیا کرو ۔“
حماد نے منہ بنایا۔”اتنے پیار سے تو پکارا ہے !….مسکان صاحبہ کہہ کر ۔“
”مسکان کے بجائے مِشّی کہہ دیتے ۔“
”واٹ ….؟مِشّی ….؟یہ بھلا کیا نام ہوا ؟….مِشّی ….ہا….ہا….ہا۔“حماد کی ہنسی نے اس کا موڈ آف کر دیا تھا ۔
”میرا خیال ہے ،میں نے لطیفہ نہیں سنایا جو آپ قہقہے لگا رہے ہیں ۔“
”یار مسکان کتنا پیارا نام ہے ۔اور تم مِشّی ….بلکہ مجھے یاد آرہاہے کہ اس نام کی ایک اداکارہ بھی تھی غالباََ اسی سے متاثر ہو کر ہماری بیگم ،مسکان سے مشی بنے پر تلی ہے ؟….مگر وہ تم سے خوب صورت تونہیں تھی ؟“
”اچھا چھوڑو یہ موضوع ….کوئی اور بات کرو ؟“اسے شدت سے احساس ہوا کہ یہ بات کرنا اس کی غلطی تھی ۔ چاہنے والے بتانے کے محتاج نہیں ہوا کرتے ۔
کہیں وہ کالا تمھیں مِشّی کہہ کر تو مخاطب نہیںکرتا تھا ؟“
وہ اس کی تردید یا تائیدکےے بغیر بولی ۔”مجھے امی جان مِشّی کہتی تھیں ؟“
”اچھا سوری ….خفا نہ ہو نا،میں بھی کہہ دیا کروں گا ۔“اس کی ماں کے ذکر پر حماد کو سنبھلنا پڑا ۔
وہ جلے کٹے لہجے میں بولی ۔”تھینک یو ،میں مسکان ہی ٹھیک ہوں ؟“
”او کم آن یا ر!….ہر وقت خفا نہیں ہوا کرتے ؟“
وہ اٹھتے ہوئے بولی ۔”اچھاچلتی ہوں ،نیند آرہی ہے۔“
”اتنی جلدی ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہاں ….اور یوں بھی ہمیں دور دور رہنا چاہےے۔شیطان انسان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ جب تک دوبارہ نکاح نہیں ہو جاتا یہ قربت ہمیں کسی گم راہی میں بھی مبتلاکر سکتی ہے ؟“
”اف ….!“حماد دونوں ہاتھوں سے سر تھامتے ہوئے بولا۔”ملانی صاحبہ!….“
وہ زبردستی کی ہنسی ہونٹوں پر بکھیرتی اپنے بیڈ روم میں گھس گئی ۔بیڈ پر لیٹتے ہوئے بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔اس کی سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ وہ خوشی جو اسے اپنے گھر پہنچنے پر ہونی چاہےے تھی وہ کہاں جا چھپی تھی ۔اپنے مطلب میں کامیاب ہونے کے باوجود اداسی کی وجہ کیا تھی ….اسے عظمی اختیارضوکی مختصر سی نظم اپنے حال کے مطابق لگی ….
اداسی بے سبب ہے یا ….
سبب اس کی جدائی ہے ؟
جسے ہم نے حقارت سے ،
نخوت سے بتایاتھا
وفائیں پاس رکھو تم
محبت ،ہم سے نہ ہوگی
”نہیں ….نہیں ،میں اس سے محبت نہیں کرتی ؟“اس نے بے ساختہ اس خیال کو جھٹلایا۔” وہ اگر دیوانہ ہے تو اس بات پر اسے میں نے مجبور نہیں کیا ۔“
وہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر دن کو بھرپور نیند لینے کی وجہ سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ اپنے حالات پر غور کرنے لگی ۔حماد کی ضد کی وجہ سے اسے ماں بننے کا موقع مل رہا تھا ۔
”کیا ؟حماد اس کے بچے کو ایک باپ کا پیار دے سکے گا ؟“ایک لمحہ سوچنے کے بعد اسے جواب اثبات میں ملا۔اگر اسے بچے کی خواہش نہ ہوتی تو وہ کبھی اسے کسی دوسرے کے حوالے نہ کرتا۔اسے حماد کے الفاظ یاد آئے ۔ ”تمھارا بچہ ، میرا بھی تو بچہ ہوگا۔“
”لیکن پھر بھی اپنا بچہ تو اپنا ہی ہوتا ہے ؟کیا وہ دانیال جتنی چاہت دے سکے گا بچے کو؟“
”ہاں ….کیوں نہیں ؟“حما د کی محبت میں ڈوبا دل بے اختیار بولا۔”وہ خود بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔اس کے لےے تو اپنی بیوی کا بچہ ہی سب کچھ ہوگا؟“
اچانک اس کے دل میں ایک تلخ سی سرگوشی گونجی ۔”دانیال جتنی چاہت تو وہ بچے کی ماں کو نہ دے سکا جو اس کی اپنی محبت ہے ،ایک غیربچے کو خاک دے گا؟“
”محبت صرف دانیال کی طرح دیوانگی کے اظہار کا نام نہیں ہے ؟“اس نے ایسی گھٹیا سوچ کودماغ سے جھٹکنے کی کوشش کی ۔
”تو اور محبت ہوتی کیا ہے؟….محبت دیوانگی کا دوسرا نام ہی تو ہے ؟“غلط سوچ بھی اتنی جلدپیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی۔
وہ تلخی سے بڑبڑائی۔ ”تو ہوتی رہے محبت مجھے کیا ؟….میں نے منت نہیں کی تھی کہ مجھے چاہے ؟ میرے لےے میر ا حماد کافی ہے ۔اس کے علاوہ نہ مجھے کسی کی محبت کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی چاہت کی ؟“
”کیا وہ آسانی سے طلاق دے دے گا ؟“الجھی سوچیں دوسری سمت بہہ پڑیں ۔
”تو کیا ؟“وہ بڑبڑائی ۔”کار ،مکان اور کاروبار چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہو گا ؟“
”مطلب!…. محبت کے وہ سارے دعوے جھوٹ تھے ؟“
اچانک اسے سبکی محسوس ہوئی ۔وہ اسے ڈیڑھ ماہ تک بے وقوف بناتا رہا تھا ۔ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کو دیکھ کر وہ اپنی جان سے پیاری مشی کو طلاق دے دے گا۔اور وہ جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ دنیا کی خوب صورت ترین لڑکیوں میں سے ایک ہے ،کہ ایک مرد اس شدت سے اسے چاہتا ہے ۔اور اس چاہنے والے کی چاہت ،کار اور کاروبار کو دیکھ کر بدل جائے گی ۔
”طلاق کی وجہ، وہ توہین بھی تو ہو سکتی ہے جو میں نے ماں بیٹے کی ہے ؟“اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔اس کے ساتھ اسے بے ساختہ ہنسی آگئی ۔
” اس نے اب تک طلاق تو نہیں دی ؟میں پہلے ہی طے کےے بیٹھی ہوں کہ وہ طلاق دے دے گا ؟“
اس نے خود سے سوا ل کیا۔”تو کیا میں یہ چاہتی ہوں کہ وہ مجھے طلاق نہ دے ؟“
”اگر اس نے طلاق نہ د ی تو میں اپنے محبوب کو کیسے حاصل کروں گی ؟“
”پھر میں کیا چاہتی ہوں ؟“وہ جھنجلا گئی ۔
”میں چاہتی ہوں ….میں چاہتی ہوں ؟“وہ سوچنے لگی ۔”وہ مجھے طلاق دے،لیکن حماد کے کہنے پر نہیں ۔ یہ نہیںکہ اس نے مطالبہ کیاہو، مجھے اتنے پیسے دے گی تو میں اسے طلاق دوں گا ؟“
”کچھ بھی کہے بس مجھے طلاق دے دے ۔“حماد کی محبت میں دھڑکتے دل نے حتمی فیصلہ سنایا۔اوروہ لائیٹ بجھا کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر لائیٹ کے آف ہوتے ہی اسے شدت سے بیڈ کے خالی ہونے کا احساس ہوا ۔جانی پہچانی خواہشیں انگڑائی لے کر بیدار ہوئیں ۔ لطیف جذبوں نے لوہے کی طرح ٹھوس اور مضبوط بدن کو بے قرار ہو کر پکارا۔اس کے سر کو تکیہ اجنبی اجنبی محسوس ہوا، گردن کسی مضبوط بازو کی متلاشی ہوئی، چہرے کو کھردرے ہونٹوں کی بے طرح یاد آئی، ناک وحشی اورگرم سانسوں کی پھوار سونگھنے کو بے تاب ہوئی ،دونوں ہاتھ چٹانی سینے کے لمس کو ترسے اور وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی ۔اس کے تنفس کی رفتا ر تیز ہو گئی تھی۔ لائیٹ جلا کر وہ فرج کی طرف بڑھ گئی اگلے لمحے ٹھنڈے پانی کی بوتل منہ سے لگائے وہ تشنہ خواہشات کو رام کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پانی پی کر وہ ٹہلنے لگی ۔ اسے بیڈ سے ڈر لگنے لگا تھا۔
اچانک اس کے دل میں حماد کے پاس جانے کا خیال پیدا ہوا۔ وہ اس کا شوہرہی تو تھا ۔ اور اسی کی مدد سے وہ اس کالے جادو گر کے سحر سے چھٹکارا پا سکتی تھی۔اس نے نگاہ اٹھا کر بیڈ روم کے بند دروازے کو دیکھا اور اسی لمحے اس پر ندامت کی کیفیت طاری ہوئی ۔وہ شرعی طور پر دانیال کے بارے تو سو چ سکتی تھی مگر حماد فی الحال اس کے لےے غیر تھا ۔ندامت کا احساس کم کرنے کے لےے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد وہ وضو کر کے مصلے پر کھڑی اپنے پاک پروردگار کے حضور سر بہ سجود تھی ۔وہی رحیم و کریم ذات اسے گناہ کے خیال سے بچنے کی طاقت اور قوت عطا فرما سکتی تھی۔نوافل پڑھ کر اسے ذہنی سکون اور آسودگی حاصل ہوئی ۔ جائے نماز لپیٹ کر اس نے دوبارہ سونے کے ارادے سے بیڈ کا رخ کیا ،لیکن اس مرتبہ اس نے لائیٹ بجھانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
تھوڑی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد اسے نیند کی آغوش میں پناہ مل گئی ۔مگر پراگندہ خیال اور الجھی سوچوں نے نیند میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔مختلف پرچھائیاں اس کے تصور میں سرگرداں رہیں۔پھر آہستہ آہستہ ان پرچھائیوں نے واضح شکل اختیار کی ۔حماد کا ہنستاہوا چہرہ اس کے سامنے آیا۔
”یقین کرو مسکان اس نے تو سکون کا سانس لیاکہ اس مزدوری سے جان چھوٹی ۔بہت شکر گزار تھا ہمارا ۔شاید تمھارا شکر اداکرنے کے لےے یہاں بھی آئے ؟“
”اچھا ….اتنی آسانی سے اس نے طلاق دے دی ؟“مسکان نے بہ ظاہر خوشی سے کہا ۔
”ہونہہ !….آسانی ….کہہ رہا تھا اگر میں نہ آتا تو وہ خود پہنچ جاتا۔بیگم صاحبہ !….دولت کا نشہ ایسا نہیں کہ اس کے مقابل کسی اور کو چیز کو اہمیت دی جا سکے ؟“
وہ آہستہ سے بولی ۔”صحیح کہا۔“اسی وقت منظر بدلا ۔دانیال سلام کرتے ہوئے اس کے سامنے آیا ۔
”سلام بیگم صاحبہ !….؟“
مسکان کو اس کے چہرے پر جھینپی جھینپی اور ندامت بھری مسکراہٹ نظر آئی ۔
”جی محترم!…. تشریف آوری کا مقصد ؟“مسکان کو اس کے جھوٹے مکالمے یاد آئے ۔
”آپ کی مہربانی سے، آج مجھے یہ مقام ملا۔میں نے سوچا آپ کا شکر یہ ادا کر دوں ؟ امی جان بھی آپ کی بہت زیادہ شکر گزار ہیں ۔“
”اوکے تھینکس !….“وہ بیزاری سے بولی ،اور وہ ایک بار پھر مووّبانہ انداز میں سلام کہتا ہوا باہر کی طرف مڑا مگر دروازے سے جھانک کر پھر واپس آگیا۔
”مِشّی !….تمھاری قسم میں مجبور تھا ،میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، مگر حماد صاحب نے مجھے دھمکی دے کر مجبور کیا؟“ اس کی آواز سرگوشی سے بلند نہیں تھی ۔
”مت کہو مجھے مشی ۔“وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی ۔اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے دانیال اس قدر برا اور مکار کیوں لگ رہا تھا ۔وہ خود طلاق لینا چاہتی تھی اور اس نے اس کی خواہش ہی پوری کی تھی ۔ اس کا دانیال کے گھر کو چھوڑ کر آجانا ٹھیک تھاتو دانیال کا طلاق دینا کیسے برا ٹھہرایا جا سکتا تھا ۔
”پلیز میری بار سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
”کیا سمجھنے کی کوشش کروں ؟….اور کون سی دھمکی دی ہے حماد نے تمھیں ؟ذرا میں بھی سنوں۔“
”وہ کہہ رہا تھا ،کہ اگر میں نے طلاق نہ دی تو وہ کار ،مکان اور دکان مجھ سے واپس لے لے گا۔“
”اف !….اتنی سخت دھمکی ۔“وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔
”مشی !….میں غریب ……..“
”شٹ اپ !….وہ غصے سے دھاڑی۔
”شٹ اپ نہ کہو۔“دانیال نے جرا¿ت مندانہ لہجے میں کہا۔”مجھے اسی وقت دس لاکھ کا چیک کاٹ کر دو ورنہ میں اپنی طلاق واپس لے لوں گا۔“
” طلاق دے کر کیسے واپس لی جا سکتی ہے ؟“
”ہا….ہا….ہا۔“دانیال نے بھیانک آواز میں قہقہہ بلند کیا ۔”میں جب طلاق نامے پر دستخط کروں گا تو طلاق ہو گی نا سیٹھ زادی !….تمھارا کیا خیال ہے اتنی آسانی سے تمھاری جان چھوٹ جائے گی…. اب تک تو میں اپنے ہونے والے بچے کے پیسے نہیں مانگے ۔کم از کم پچاس لاکھ روپے بچے کے ادا کرنے پڑیں گے، نہیں تو بچہ میرا ہوگا۔“
”تم یہاں سے دفع ہوتے ہو یا بلاو¿ں نوکروں کو۔“
اچانک دانیال کے چہرے پر بدحواسی کے اثرات نمودار ہوئے اور وہ اس کے قریب آکر ہاتھ باندھتا ہوابولا۔”پلیز مِشّی !….مجھ سے دور نہ جاو¿،تمھاری قسم میں نے طلاق نہیں دی ۔ حماد تمھیں جھوٹا طلاق نامہ دکھا رہاہے ۔میں بھلا تمھیں طلاق دے سکتا ہوں ۔مجھے اور کچھ نہیں بس تمھاری محبت درکار ہے ۔چلو مشی ، ابھی یہاں سے بھاگ جاتے ہیں بہت دور ،اتنی دور کہ جہاں حماد پہنچ سکے اور نہ کوئی دوسرا دشمن ۔“ یہ کہہ کر دانیال نے اسے پکڑ کر سینے سے لگا لیا ۔
وہ منمنائی ۔”پلیز چھوڑو مجھے کوئی آ جائے گا ۔“
”تو آتا رہے ۔تم غیر تھوڑی ہو ؟میری شرعی بیوی ہو۔“
وہ غصے سے بولی ۔”طلاق کے بعد میں بیوی کیسے رہی ۔“
”طلاق تو صرف ایک دن کے لےے دی تھی نا۔ہمیشہ کے لےے تھوڑا دی تھی ۔ بس اب واپس لے لیتا ہوں۔“
”نہیں اب میں حماد سے شادی کر رہی ہوں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”تم اس طرح نہیں کر سکتیں،میں تمھیں جان سے مار دوں گا ۔“اس نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے اس کا گلا پکڑ لیا،اس کا دم گھٹنے لگا ۔
”چھوڑو مجھے ….ذلیل ،وحشی ،کمینے ۔“اس کے منہ بہ مشکل نکلا۔
”نہیں چھوڑو ں گا۔“دانیال غرایا۔اسی وقت حماد کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھ کر مسکان چلائی ۔
”حما د !….مجھے اس سے بچاو¿۔“
مگر وہ بجائے اس کی مدد کے دانیال کے ساتھ مل کر اس کا گلا دبانے لگا۔وہ ان دنوں کے ہاتھوں سے نکلنے کے لےے زور سے مچلی ۔اور اس کی آنکھ کھل گئی ۔ خوف سے اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔اس کے بعد اسے نیند نہ آسکی اوروہ اسی اوٹ پٹانگ خواب کے بارے سوچتی رہی ۔
(جاری ہے )
