Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25
”میڈم !….اگر آپ اپنا مطمح نظر بتا دیں تو مہربانی ہو گی ؟“
فریحہ نے پینترا بدلا۔”دانی !….سچ تو یہ ہے کہ میں ایک غریب لڑکی ہوں ۔تمھاری مسکان نے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں تمھارے ساتھ شادی کر لوں تو وہ مجھے مالا مال کر دے گی ۔بس لالچ میں آ گئی ۔حماد ایسے ہی مجھے دھوکا دے چکا ہے ۔ اب زندگی کا کوئی مصرف ہی نظر نہیں آتا ۔“
”میڈم !….میں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔میں مِشّی کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتا ۔ اگر آپ سے شادی کر بھی لوں تو مشی مجھے نہیں بھولے گی ۔ اور شاید دن رات اس کا تذکرہ آپ سے برداشت نہ ہو ؟ سب سے بڑھ کر مشی کو طلاق میں اس صورت میں بھی نہیں دوں گا ۔“
”وہ با آسانی، عدالت سے خلع لے سکتی ہے ؟“فریحہ ایک بار پھر اسے سمجھانے جت گئی ۔
دانیال نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔”بے شک لے سکتی ہے ،بلکہ امید واثق یہی ہے کہ جج مجھے دیکھتے ہی بغیر کسی دوسری دلیل کے کیس کا فیصلہ مشی کے حق میں کر دے گا ؟“
”تو پھر ؟“
”پھر یہ کہ میں اس کے بعد بھی مشی کو طلاق نہیں دوں گا ۔ساری زندگی اس کے انتظار میں گزار دوں گا ۔ اگر پوری دنیا بھی اسے دھتکار دے گی تب بھی میری بانہیں اسے گلے سے لگانے کے لےے پھیلی رہیں گی ا ورمیری آنکھیں اس کی راہ میں بچھی رہیں گی وہ کیا کہتے ہیں ….“
ہم یہ آنکھیں تمھارے رستے میں
زندگی بھر بچھا کے رکھیں گے
فریحہ نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا ۔دانیال اس کے لےے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوا تھا ۔
”دانی !….وہ اس ہٹ دھرمی پر مشتعل ہو کر تمھیں کوئی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ؟“
”ہاں یہ دھمکی وہ دے چکی ہے ۔اسے تو میں نے مطلع کر دیا تھا آپ سن لیں کہ اب مجھے موت زندگی سے بہت پیاری لگنے لگی ہے ۔میرے لےے سب سے بڑا صدمہ مشی کی جدائی کا تھا ۔وہ میں جھیل چکا ہوں ۔“
”اچھا !….پتا ہے ؟ صبح سے ہم باتیں کر رہے ہیں لیکن کھانے پینے کے بارے ویٹر کو کچھ نہیں بتا سکے ہیں ؟“ فریحہ نے ہنستے ہوئے موضوع بدلا۔دانیال کی نفسیات دیکھ کر اسے وہ آسان کام بہت مشکل لگنے لگا تھا ۔
دانیال نے پوچھا ۔”آپ بتائیں کیا پسند کریں گی ؟“
”مہمان تم ہو ؟“
”نہیں ….یہ آپ کا گھر نہیں ہوٹل ہے اور ہوٹل کا بل مرد کے ذمہ ہوتا ہے ۔“
”کچھ بھی کہو…. بلایا تو میں نے تھا ؟“فریحہ اڑ گئی ۔
”بھائی !….چاے اور کچھ کھانے کو لے آو¿۔“دانیال نے قریب سے گزرتے بیرے کو آرڈر پاس کر دیا ۔
”دانی !….میں اتنی غریب نہیں ہوں جتنا تم نے سمجھ لیا ہے ؟“
”اچھا چھوڑو اس لایعنی بحث کو ؟میری ایک بات مانو گی ؟“
”سن کر ہی کچھ بتا سکوں گی ؟“فریحہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا ۔
”نقاب اوڑھا کرو ۔“
”کیا ؟“وہ متعجب انداز میں ہنسی ۔”بھلا یہ کیا بات ہوئی ؟“
”میڈم !….ذرا دائیں بائیں کی ٹیبلز پر نظر دوڑاو¿ ؟“
”ہاں تو کیا ہے ؟“اس نے چاروں طرف سرسری نظر ڈالی زیادہ تر مرد اسی کی جانب متوجہ تھے اور اس قسم کی بھوکی نظروں کی وہ عادی ہو چکی تھی ۔
”حرام خور گدھ بھی انھی نظروں سے اپنے شکار کو گھورتے ہیں ؟“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”تو گھورتے رہیں مجھے کیا ؟“
”شاید تمھارے شوہر کو یہ پسند نہ آئے ۔یقین کرو میں بڑی مشکل سے برداشت کےے بیٹھا ہوں ۔ اگر آپ کی غلطی نہ ہوتی تو اب تک جانے کتنوں کا گریبان تھام چکا ہوتا؟“
”مگر کیوں ؟“اس کی حیرانی دو چند ہو گئی ۔
”میڈم !….اگر آپ میری ہوتیں تو میں کیسے برداشت کرتا ،کہ کوئی اور آپ کو دیکھے ۔“
”ہا….ہا….ہا….گویا تم مجھ پر کسی کی نظر بھی نہ پڑنے دیتے ؟“
”ہاں ….کسی بھی غیر مرد کی نظر نہ پڑنے دیتا ۔آپ ذرا دائیں طرف پانچویں میز پر بیٹھی لڑکی کو دیکھیں ؟“
مطلوبہ جانب فریحہ کو ایک نقاب پوش لڑکی اپنے ساتھی کے ساتھ بیٹھی نظر آئی ۔
”میڈم !….پتا نہیں وہ خوب صورت ہے یا بدصورت ۔لیکن اس کے سامنے موجود مرد جو یقینا اس کا شوہر ہو گا اسے معلوم ہے وہ کیسی ہے ۔باقی مردوں کی گندی نظروں سے وہ بچی ہوئی ہے ۔اگر شوہر کو وہ پسند ہے تو اسے کسی دوسرے کی پسندیدگی کی کیا ضرورت ؟اور اگر شوہر کو ناپسند ہے تو کسی دوسرے کی پسندیدگی سے اسے کیا حاصل ؟….میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ دلہن کو سجایا جا رہا تھا ،جو عورت آتی اس کے حسن کی تعریف کرتی مگر وہ دلہن ان ساری تعریفوں سے بے نیاز کسی گہری سوچ میں تھی ۔ایک قریبی سہیلی نے اس سے پوچھا کہ ….
”سب عورتیں تمھاری تعریف کر رہی ہیں تمھیں اس بات پرخوشی نہیں ہو رہی ؟“
اس دلہن نے بڑا پیارا جواب دیا کہنے لگی ۔”خوشی تو تب ہو گی ؟کہ جس کے لےے مجھے سجایا جا رہا ہے اسے بھی اتنی خوب صورت اور پیاری لگوں …. ان سب عورتوں کی تعریف یا تنقید سے مجھے کیا حاصل ؟“
دانیال کی بات نے اسے سوچ میں ڈال دیا تھا ۔ایک دم اسے چبھتی نظروں کا احساس ہوا اور وہ کسمسا کر رہ گئی ۔ اسی وقت بیرے نے بھی آکر ان کے سامنے چاے اور کھانے کے لوازمات رکھ دےے ۔
”میڈم میری بات بری تو نہیں لگی ؟“
”نہیں۔“ اس نے گلے میں جھولتا مختصر سا دوپٹا سر پر جمانے کی کوشش کی مگر وہ فیشن ایبل دوپٹا عورت کی تکریم کے تقاضے کہاں پورے کر سکتا تھا ۔
”میں جانتا ہوں آپ شاید میرا دل رکھنے کے لےے ایسا کہہ رہی ہیں ،مگر فری ،یقین کرو یہ عورت کی توہین ہے ۔ بہت سوں کو کہتے سنا ہے کہ پردہ آنکھ کا ہوتاہے۔اگر یوں ہے پھر تو سارے کپڑے اتار دینے چاہییں ۔ کیونکہ حیا والا بغیر کپڑوں کی عورت کو بھی نہیں دیکھے گا اور بے حیا کے تصور میں تو کپڑوں والی بھی برہنہ ہے ۔“ وہ میڈم سے براہ راست فری کہنے پر اتر آیا۔
”بہت سخت بات کہہ دی ہے تم نے ؟“فریحہ سنجیدہ ہو گئی تھی۔
’ہاں !….مگر حقیقت ہے ۔آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ مغرب زدہ، بیمار ذہنیت کی عورتیں ،آزادی نسواں کے خوش کن نعرے ،مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے دعوے اور مرد عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، جیسی کہاوتیں سنا کر شور مچاتی رہتی ہیں ۔ کوئی ان سے پوچھے ،کیا آزادی کا مطلب لباس کی قید سے آزاد ہونا ہے ؟…. مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا مطلب، مردوں کی مشکلات میں ان کا ہاتھ بٹانا ہے یا کہ غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی عزت کا جنازہ نکالناہے اور جہاں تک ایک گاڑی کے دو پہیوں کا تعلق ہے تو گاڑی تب ہی چلتی ہے جب دونوں پہیے اپنی اپنی جگہ گھومتے ہیں ۔اگر دونوں پہےے ایک سائیڈ پر لگا دیں تو گاڑی نے گرنا ہی ہے ۔مرد کی ذمہ داریاں گھر سے باہر کی اور عورت کی گھر کی حدود میں ۔ کتنی پیاری اور مناسب تقسیم ہے ۔ایک عورت کو شوہر ،بھائی اور باپ کو کھانا پیش کرنا برا لگے اور غیر مردوں کے سامنے ویٹرس کی ڈیوٹی کرتے ہوئے وہ خود کو آزاد محسوس کرے کیا اندھی منطق ہے ؟“
فریحہ متاثر کن لہجے میں بولی ۔”دانی !….تمھاری تعلیم مڈل ہے اور باتیں پروفیسروں کی طرح کر رہے ہو ؟“
”آپ نے میری بات ماننا ہے کہ نہیں؟“
”دانی!…. مجھے عجیب سا لگے گا ۔“وہ سچ مچ روہانسی ہونے لگی ۔
”نہیں لگے گا ۔آپ اٹھیں چلیں میرے ساتھ ۔“وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا ۔
”مگر کہاں ؟“
”چلنا ہے کہ نہیں ؟“وہ مصر ہوا ۔
”اچھا چلتی ہوں ۔“وہ کھڑی ہو گئی ۔دانیال نے کاو¿نٹر پر جا کر بل ادا کیا ۔فریحہ جانے کیا سوچ کر خاموش رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھے مارکیٹ کا رخ کر رہے تھے۔ایک کپڑے کی دکان سے دانیال نے کالے رنگ کی خوب صورت سی چادر خریدی اور فریحہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
”لو یہ اوڑھو ۔“
”پاگل !….“اس نے ہولے سے مسکرا کر کہا اور چادر لے کر اوڑھ لی ۔یوں کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
”حیا عورت کا زیور ہے فری ؟“دانیال چاہت سے بولا۔”اورآو¿ اب تمھیں گھر چھوڑ دوں ۔“
”دانی !….کل ملنے آو¿ گے ؟“
”نہیں ۔“دانیال نے نفی میں سر ہلایا۔”کل سے میں مزدوری کے لےے جاو¿ں گا ۔“
”کیا ؟ اب بھی اپنی بات پر قائم ہو ۔مسکان سے سودانھیں کرنا ؟“
”کیسا سودا ؟“
”طلاق کے بدلے ،کار ،دکان اور مکان لینے کا سودا۔“
”نہیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ….“
دل میں ہوتا تو کسی طور نکل بھی جاتا
اب تو وہ شخص بہت دور تلک ہے مجھ میں
”اگر میں کہوں پھر بھی نہیں ؟“فریحہ نے بڑے مان سے کہا۔
”فری !….تم بہت اچھی ہو ۔میں جانتا ہوں مجھے موت کے حوالے کرنے پر تم قطعی تیار نہیں ہو گی؟“
اس مرتبہ فریحہ خاموش ہو گئی تھی ۔اسے محسوس ہوا وہ کالا اسے بہت اچھا لگ رہا ہے ، اپنا اپنا،بہت قریبی ،کوئی ایسا جسے وہ برسوں سے جانتی ہے ،کوئی ایسا جس سے وہ ہر بات منوا سکتی ہے ،کوئی ایسا جو اس کی بہت عزت اور خیال رکھنے والا ہے اور کوئی ایسا جس کی جان اسے عزیز ہے ؟“
”خفا ہو ؟“اسے خاموش پا کر دانیال نے پوچھا ۔
”نہیں ۔“
”چپ کیوں ہو گئیں ؟“
”یونھی ….کہنے کو کچھ رہاہی نہیں ہے ۔کیا کہوں ؟“
دانیال پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”میں تمھیں بہت بدصورت لگتا ہوں ….ہے نا ؟“
فریحہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا،اور پھر اس کا کھردرا ہاتھ اپنے ملائم ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولی ۔”اگر گھنٹا بھر پہلے مجھ سے یہ پوچھا جاتا اور میں سچ بولنے پر مجبور ہوتی تو، میرا جواب اثبات میں ہوتا ۔“
”اور اب ؟“
وہ چند لمحے اس کے چہرے کو گھورتی رہی اور پھر بے ساختہ جھک کر اس نے دانیال کی ہتھیلی پر یاقوتی لب رکھ دےے ۔
دانیال کی آنکھوں میں نمی ظاہر ہوئی ۔”فری !….کاش تم مجھے مشی سے پہلے ملی ہوتیں ؟“ یہ کہہ کر اس نے ڈرائیور سے ٹیکسی روکنے کو کہا ۔
اس نے سائیڈ پر کرتے ہوئے ٹیکسی روک دی۔
”کیا ہوا ؟“فریحہ نے پوچھا ۔
”فری !….اپنا بہت خیال رکھنا ،بہت زیادہ ۔آئندہ مجھے کال کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔ میں تمھاری چاہت کے قابل نہیں ہوں ۔ایک تہی دست اور مفلس شخص ہوں ۔ایک د ل تھا میرے پاس جو ،اب کسی اور کے قبضے میں ہے ۔“
”دانی !….میں تمھیں کچھ بتانا چاہتی ہوں ؟“
”کوئی ضرورت نہیں ،میں تمھارے بارے اچھی سوچ رکھتا ہوں،سچ کی ملاوٹ سے اسے تلخ نہیں کرنا چاہتا ۔“ یہ کہہ کر اس نے جیب سے اپنی آخری پونجی نکالی اور ٹیکسی ڈرائیور کو کرائے کی مد میں دے دی ۔وہاں سے اسے پیدل ہی گھر تک جانا تھا ۔فریحہ اداسی سے اسے جاتا دیکھتی رہی ۔اس کے دل میں اس مخلص ،سادے اور محروم شخص کے بارے بہت زیادہ ہمدردی جمع ہو گئی تھی ۔
”باجی!…. چلیں ؟“ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا ۔
اس نے چہرے سے لپیٹی چادر درست کرتے ہوئے کہا ۔”ہاں چلو ۔“
اور ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ٹیکسی آگے بڑھا دی ۔
٭……..٭
”آئی ایم ویری سوری حماد !….مجھے افسوس ہے لیکن میں ناکام ہو گئی ہوں ۔“
فریحہ کی بات سن کر حماد ششدر رہ گیا تھا۔
”پہلے ہی دن ناکامی کا اعتراف کر رہی ہو ؟“
”ہاں !….کیونکہ وہ جان تو دے سکتا ہے، مسکان کو طلاق نہیں دے سکتا ۔“
”مطلب اسے زندگی عزیز نہیں ہے ؟“حماد کے لہجے میں درندگی جھلکی ۔
”حماد !….تم ایسا کچھ نہیں کرنے والے ؟“فریحہ کے لہجے میں چھپی گھبراہٹ اسے حیران کر گئی۔
”فری !….کیا ہوا ہے تمھیں ؟“
”مم….مجھے کچھ نہیں ہوا ؟“اس نے گڑبڑاتے ہوئے وضاحت کی ۔”لیکن میں تمھیں قاتل نہیں دیکھنا چاہتی؟“
”شٹ آپ یا ر!“حماد نے اسے جھڑکا ۔”میرے سارے منصوبے کی راہ میں ایک احمق روڑے اٹکا رہا ہے اور تم اس کی طرف داری کر رہی ہو ؟“
”یو شٹ آپ !….“فریحہ تپ کر بولی ۔”وہ میرا یار ہے نا کہ تم اس طرح بکواس کر رہے ہو ؟تم اچھی طرح جانتے ہو اس کے بارے میرے دل میں کیا ہے؟پھر ایسی بکواس کا مطلب ؟“
”فری !….کامیابی چند قدم کے فاصلے پر رہ گئی ہے ؟اور ایک گدھا فضول ضد میں اڑ گیا ہے ۔ پتا ہے نا ….؟ جب گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو کیا کیا جاتا ہے؟“
”ہاں ….پتا ہے ؟گھی گرم کر لیا جاتا ہے ۔کیونکہ ٹیڑھی انگلی ڈبے میں پھنس کر زخمی بھی ہو سکتی ہے ؟“
”فری!….میں مذاق نہیں کر رہا ؟“
”میں بھی مذاق نہیں کر رہی ۔تم دانیال کو ہاتھ بھی نہیں لگاو¿ گے ۔وہ ایک مظلوم اور بے ضرر شخص ہے۔“
”تو کیا کروں ؟“
فریحہ نے کہا۔”ایک بات پوچھوں ؟“
وہ بے زاری سے بولا۔”پوچھو؟“
”دولت عزیز ہے یا فری ؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ؟“
”وضاحت کرو؟“
”فری عزیز ہے ۔“
”ٹھیک ہے ۔لعنت بھیجو اس دولت پر مجھے نہیں چاہےے یہ عیش ۔بہت ہو گیا تم میرے پاس آ جاو¿؟“
”فری !….ہر وقت فضول کی نہ ہانکتی رہا کرو؟“
وہ جذباتی ہو گئی ۔”بس !….یہی محبت تھی۔اس احمق ،گنوار اور گدھے نے تو اپنی مسکان کے لےے ہر قسم کی آسائش کو ٹھوکر مار دی ۔ویسے صحیح کہتے ہو کہ وہ احمق ہے، کوئی احمق ہی ایسا کر سکتا ہے ۔ورنہ عقل و شعور رکھنے والا ایک لڑکی کے لےے بھلااتنی قربانی دے سکتا ہے ؟…. یوں بھی دولت ہو تو کئی لڑکیاں مل سکتی ہیں۔ پیسے کی جھلک دکھاو¿ ،کئی فریحائیں دوڑ کر گلے سے لگ جائیں گی ۔اور دولت نہ ہو تو کوئی خانہ بدوش بھی نہیں ملتی ؟“
حمادنے زہر خند لہجے میں پوچھا ۔”اس ساری بکواس کا مطلب ؟“
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔”تم دانیال کو کچھ نہیں کہو گے ؟“
حماد اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا بولا۔”وہ کل کا سورج نہیں دیکھ سکے گا ۔“یہ کہہ کر وہ جانے کے ارادے سے مڑا ۔مگربہ مشکل دو تین قدم لے پایا ہو گا کہ اسے فریحہ کی آواز سنائی دی ۔
”حماد !…. یہ میرا وعدہ ہے تمھارے ساتھ ،اگر دانیال مرا توفریحہ بھی تمھیں زندہ نہیں ملے گی ؟“
٭……..٭
حماد کے قدم رک گئے تھے ۔وہ تعجب سے فریحہ کی طرف مڑا ۔
”تمھاری اس بکواس کا مطلب کیا ہے ؟“
وہ اطمینان سے بولی ۔”وہی جو تم نے سمجھا ۔“
”میرا خیال ہے وہ کالا تمھیں کچھ زیادہ ہی عزیز ہو گیا ہے ۔“
”اگر تم دیکھنے والی نظر رکھتے تو یقینا اس بات میںتمھیںمیر ی وہ محبت نظر آجاتی جو تم پر کوئی آنچ آتے نہیں دیکھ سکتی ۔“
”وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔چند لمحوں بعد اس کے منہ سے نکلا۔
”فری !….تم کیا چاہتی ہو ؟“
وہ حتمی لہجے میں بولی ۔”تمھیں قتل کی اجازت نہیں دوں گی ….اینڈ ڈیٹس آل ۔“
اس نے جھلا کر پوچھا ۔”تو پھر یہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی ؟“
”میں نہیں جانتی ۔“
”میں جانتا ہوں ….لیکن تمھارا رویہ میرے لےے حیران کن ہی نہیں پریشانی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا ۔“
”نہیں ….صرف مسکان کی موت پہلے طے ہوئی تھی ۔اور اب میرا جی اس سے بھی کھٹا ہو گیا ہے۔“
”یہ بکواس اپنے پاس رکھو ۔فی الحال میں اس حبشی سے نبٹنے کا کوئی پلان سوچ لوں ،پھر دیکھوں گا تم کیسے روکتی ہو مجھے ؟“ یہ کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر چل دیا ۔اس مرتبہ فریحہ نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اس کے جاتے ہی وہ بیڈ پر لیٹ کر اس گورکھ دھندے پر غور کرنے لگی۔اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کا کیا بنے گا ؟….حماد کی محبت جس پر اسے کبھی ناز ہوا کرتا تھا ،آج دانیال کی محبت کے سامنے ہیچ نظر آ رہی تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ مسکان اتنی خوش قسمت ہو سکتی ہے ۔دانیال کی بے لوث چاہت نے اس کی سوچ میں بھی انقلاب پیدا کردیا تھا ۔وہ کالا کلوٹا جسے وہ شرم سار کرنے گئی تھی ،وہ بد صورت جسے اس نے نیچا دکھانا تھا ، وہ کنگلا جس نے اس کے انتقام کا نشانہ بننا تھا ،اسے پتا ہی نہ چلا وہ اسے کیسے اتنا اچھا لگنے لگااوراسے بے حد ہمدردی محسوس ہونے لگی ۔اس ہمدردی کے پس پردہ کیا جذبہ کا رفرما تھا یہ وہ نہ جان سکی ۔
٭……..٭
جاری ہے
