Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01
رشتا طے ہونا اتنی بڑی خوش خبری تھی کہ وہ ساری رات سو نہیں سکا تھا ۔خوابوں کی ان دیکھی شہزادی اس کی زندگی میں بہار بن کر آنے والی تھی ۔یہ رشتا اس کی ماں کی کوششوں کا نتیجا تھا۔اور پھر اگلے دن وہ اس زبانی کلامی رشتے کو منگنی کی زنجیرپہنانے پہنچ گئے ۔جانے کتنی دیر تک وہ منہ پر صابن رگڑتا رہا، لیکن پوری ٹکیا گھلانے کے بعد بھی چہرے کی کالک کو دور نہ کر سکا جو رب نے اس کے نصیب میں لکھ دی تھی۔من جتنا بھی صاف ہو خلق نے تو ظاہر دیکھنا ہوتا ہے ،جو وہ کسی کو دیکھانے کے قابل نہیں تھا۔اگر وہ ایتھوپیا کا باشندہ ہوتا تو رشتوں کی لائن لگ جاتی مگریہ پاکستان تھا اورسفید رنگت اس قوم کی کمزوری ہے ۔
اس کی ماں کی مسلسل بھاگ دوڑ اور منت سماجت کے بعد کہیں ہاں ہوئی تھی۔ مزدور گھرانا تھا،لیکن یہ بات اس کے لےے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔اسے تو بس شریک حیات چاہےے تھی۔گو خواب تو وہ بھی ان لڑکیوں کے دیکھتا تھا جن کے ملنے کا وعدہ ہر مومن سے کیا گیا ہے ، مگر ان کی موت کے بعد۔ اس میں بڑی رکاوٹ تو زندگی ہے، جبکہ ہر کوئی مرنے سے پہلے اس قسم کی لڑکی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ جو حور کا نعم البدل ہو ۔
بہ ہر حال وہ لڑکپن کے سپنے تھے۔اب وہ بھرپور جوان تھا …. جوان بدن کے تقاضے انسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتے ، جواں مرد کو عورت چاہےے ہوتی ہے چاہے وہ کیسی شکل کی بھی ہو۔
رکشے سے اتر کر وہ ماں کی رہنمائی میں چل پڑا ۔وہاں گلیوں کی حالت بھی ان کے محلے سے مختلف نہیں تھی ۔وہی گندگی ابلتے گٹر ،نالیوں میں بہتا بدبودار پانی ،ٹین اور لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے دروازے ،کچھ گھروں کے دروازے نہیں تھے ، دروازوں کا کام انھوں نے ٹاٹ کے ٹکڑوں سے لیا ہوا تھا۔ اسے لگا وہ گھوم پھر کر اپنے محلے ہی میں لوٹ آےا ہے ۔
ایک کوارٹر نما مکان کے دروازے پر اس کی ماںنے دستک دی ۔دروازہ کھولنے والا ایک کم عمر لڑکا تھا ۔ ایک کھانستے بزرگ نے ان کا استقبال کیا اور وہ صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے ۔
رسمی تعارف کے بعد جب بزرگ نے ”دولھا“ یعنی اسے اچھی طرح دیکھ لیا اور اس کے باوجوداس کے ارادے میں تزلزل نظرنہ آیا تو اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا ۔
وہ اس کاہونے والا سسر تھا۔ تھوڑی دیر بعد ساس صاحبہ تشریف لائیںاور پھراس کے خوابوں کی شہزادی بھی چاے کے برتن ٹرے میں رکھے وہاں پہنچ گئی ،عام شکل و صورت کی ایک ایسی لڑکی جو رستے میں مل جائے تو کوئی دوسری نظر ڈالنا پسند نہ کرے ۔ مگر اب وہ اس کی ہونے والی تھی ۔ بلا شرکت غیرے اس کی ملکیت۔جیسی بھی تھی اسے اچھی لگی ۔ منگنی کی انگوٹھی پہنا کر وہ واپس آگئے ۔
٭……..٭
حماد عجیب مخمصے میں پھنس گیا تھا ۔سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں جیسے کہ سلب ہو گئیں تھیں ۔ ایک طرف محبت اور دوسری جانب ضرورت ۔فریحہ کی طرح خوب صورت لڑکی اس سے پہلے اس کی نگاہ سے نہیں گزری تھی ۔لڑکیوں سے دوستی کرنا، انھیں محبت کے جال میں پھانسنااس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اور اس میں زیادہ دخل اس کے پر کشش چہرے ،اعلا پرسنالٹی اور چھریرے بدن کا تھا ۔ ایک کلرک کا بیٹا ہونے کے باوجود رکھ رکھاو¿سے وہ نواب زادہ نظر آتا تھا۔شروع میں وہ صرف لڑکیوں سے دوستی رکھنے کا شوقین تھا اور ایسا کرنے کے بعد دوستوں کی محفل میں ،ان معاشقوں کو فخر سے بیان کرنا اس کا مشغلہ تھا ۔بعد میںایک قدم آگے بڑھا کروہ امیر لڑکیوں سے رقم اینٹھنے لگا ۔ اس مقصد کے لےے وہ عموماََیونیورسٹی میں نئی آنے والی واجبی شکل و صورت کی امیر لڑکیوں کو تاڑتا۔اس کی اس روش کا خاتمہ مسکان کی یونیورسٹی آمد پر ہوا ۔پہلے پہل ایک سیٹھ زادی کو نقاب اوڑھے دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا تھا ۔پھر اسے خیال آیا کہ شاید وہ زیادہ ہی گئی گزری ہے جو نقاب اوڑھتی ہے ۔مگر نقاب سے نظر آنے والی آنکھیں کوئی اور کہانی سنا یا کرتی تھیں۔اس نے سب دوستیاں ترک کر کے مسکان پر ڈورے ڈالنے شروع دئےے آخر مہینے دو مہینے کی تپسیا رنگ لائی اور مسکان اس کی طرف متوجہ ہو گئی ۔ وہ شروع دن سے فاصلہ رکھ کر ملنے کی قائل تھی۔اس سے پہلے وہ جتنی لڑکیوں سے ملا تھا مسکان ان تمام سے مختلف ثابت ہوئی تھی۔حماد کو حیرانی ہوتی، کہ ایک سیٹھ زادی میں بھلااتنی مشرقیت اور دین داری کہاں سے آ گئی ہے ۔بہ ہر حال اس کی حیرانی کو مسکان کی نوازشیں زائل کر دیتی تھیں۔
مسکان نے اسے معاشی لحاظ سے بے فکر کر دیا تھا۔آئے روز نئے نئے قیمتی لباس، اعلا کوالٹی کے جوتے ، خوشبوئیں اور موبائل فون وغیرہ تحفے میں دینا، نقدی کی صورت اس کی جیب تازہ رکھنا ۔اس کی تو گویاپانچوں گھی اور سر کڑاہی میں تھا ۔سارے دوست اس کی قسمت پر رشک کرتے تھے ۔مسکان لامحالہ اسے بہت چاہتی تھی ۔اپنی گفتگو میں وہ کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکی تھی کہ اسے حماد کی محبت پر فخر ہے۔اور یہ کہ حماد اس کی پہلی اور آخری محبت ہے ۔ اس کی بات پر حماد کو اس لےے بھی سو فیصد یقین تھا کہ وہ مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولتی تھی ۔ اس کے باوجود اس نے ایک دن ہمت کر کے پوچھ لیا ۔
”مسکان !….تم جیسی خوش شکل لڑکی کو اس سے پہلے کسی لڑکے نے پرپوز نہیں کیا…. ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”میں نے کبھی کسی کو موقع ہی نہیں دیا ،نہ تو میں مخلوط محافل میں شامل ہوتی ہوں اور نہ کبھی مردرشتا داروں سے روابط رکھتی ہوں ۔ میری ان عادات سے تمام گھر والے نالاں ہیں ۔اس کے علاوہ میں نے نہم کلاس ہی سے نقاب اوڑھنا شروع کردیا تھا کبھی کسی لڑکے نے میرے قریب آنے کی جراَت نہیں کی ،کیونکہ اس بات سے تو ہر کوئی اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ ایک سیٹھ زادی کو چھیڑنے پر انھیں کیا صلہ مل سکتا ہے ۔آپ بھی جانے کس مٹی کے بنے ہیں میرے مسلسل نظر انداز کرنے اور بے نیازی برتنے پر بھی اپنی کوششوں سے باز نہ آئے ۔اور آخر مجھے اپنی چاہت میں گرفتا ر کر کے ہی دم لیا ۔ یقین مانومیں شادی سے پہلے ہونے والی محبت کی سب سے بڑی مخالف تھی ،اب بھی ہوں اور آپ کے ساتھ سے وقت گزاری نہیں کر رہی۔آپ کوجیون ساتھی چنا ہے اور بناو¿ں گی ۔“
”انکل داو¿د!…. کو کون راضی کرے گا ؟“حماد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”پاپامیری بات کبھی نہیں ٹالیں گے ….وہ مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور جانتے ہیں میرا انتخاب غلط نہیں ہو سکتا ۔“
”بات انتخاب کی نہیں ،حیثیت اورمقام کی ہے ۔کیا وہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند برداشت کر لیں گے ؟“
”نہ تو میں مخمل ہوں اور نہ آپ ٹاٹ ہیں۔جہاں تک مقام کاتعلق ہے تو فہیم بھائی نے اپنی مرضی سے ایک متوسط گھرانے کی لڑکی سے شادی کی پاپا نے کوئی اعتراض نہ کیا ۔ وسیم بھائی نے بھی پسند کی شادی کی، گوبعد میں ان کا نبھا نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی تھی، مگرانتخاب تو ان کا اپنا تھا نا؟صرف میری باری پر پاپا کو اعتراض نہیں جچتا۔اور یاد رکھنا آپ کے لےے میں اپنی ساری دولت کو ٹھوکر مارنے پر تیار ہوں ۔“
حماد گھبرا کر بولا۔”نہیں ایسی غلطی کبھی نہ کرنا ۔“
”کیا مطلب ….؟“مسکان نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔”کیا میں آپ کو دولت کے بغیر قبول نہیں ؟“
”بکواس مت کرو ۔“حماد نے بات سنبھالی ۔”ہر بات کا الٹا مطلب لیتی ہو ۔میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم والدین کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کر سکتے ۔خود شریعت و اسلام کا ڈھنڈورا پیٹتی ہو اور اتنا نہیں معلوم کہ کنواری لڑکی کو شادی کے لےے سرپرست کی اجازت لیناضروری ہوتاہے ۔“
”بس کرو مولانا صاحب !….“وہ ہنسی ۔” فقہ میںایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔یہ حکم نابالغ لڑکی کا ہے ۔ بالغ لڑکی بہ حالت مجبوری اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے ۔ گو اس کا یہ عمل برا گردانا جاتا ہے مگر اس کا یہ مطلب لینا کہ سرے سے شادی نہیں ہوتی بالکل غلط ہے ۔“
”میں نے تو سنا تھا نہیں ہوتی ۔“حماد گڑبڑا گیا۔
مسکان اطمینان سے بولی ۔”جناب !….غلط سنا تھا ۔“
”بہ ہر حال ….پہلے انکل کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ۔اس کے بعد یہ انتہائی قدم اٹھائیں گے ۔“
”اس بات پر مجھے اصرار کرنا چاہےے تھا ۔“مسکان کے لہجے میں شوخی تھی ۔
”کیا تمھیں میری محبت پرشک ہے ؟….یا مجھے مال و دولت کا بھوکا سمجھ رکھا ہے ؟ “ حماد انے اکھڑے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔
”آپ!….تو خفا ہونے لگے ۔“مسکان گھبرا گئی تھی۔
”تو کیا ،تمھارے طنز پر داد دوں ؟“اس نے مسکان کو جھڑکا ۔
وہ اکثر اپنی غلطی چھپانے کے لےے اسی طرح کا اکھڑ لہجہ اور خشک رویہ اپناتا تھا ۔ جواباََوہ گھبرا کر اس کی ناز برداری میں لگ جاتی ۔
”پلیز حماد!….یہ طنز نہیں تھا ۔بھلا میں آپ سے طنزیہ گفتگو کر سکتی ہوں ؟آپ اچھی طرح جانتے ہیںکہ میں آپ بن نہیں رہ سکتی پھر آپ کیوں مجھے دکھی کر تے ہیں ؟“
”مسکان صاحب !….میں دیکھ رہا ہوں کہ تمھیں اپنی دولت پر کچھ زیادہ ہی گھمنڈ ہوتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنا اگر مجھے تم سے محبت نہ ہوتی تو آج کے بعد تم میری شکل دیکھنے کو ترس جاتیں ۔ مجھے رشتوں کی کمی نہیں ہے ۔“
”پلیز حماد !….غصہ تھوک دو ۔“مسکان نے مضطرب ہو کر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ اس کی چاہت اور محبت کا اظہار ہاتھ تھامنے تک محدود تھا۔شروع میں حماد نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی، مگر اس نے بڑی سختی سے جھڑک دیا تھا ۔شادی سے پہلے وہ کسی بھی ایسی ویسی حرکت کاارتکاب گناہ کبیرہ سمجھتی تھی ۔اور حماد کو اپنے فائدے کے لےے اس کی یہ بات ماننا پڑی تھی ۔ وہ تو اس مل بیٹھنے پر بھی کئی بار نادم ہو جاتی کہ یہ ایک غلط فعل تھا مگر پھر یہ خیال اسے تقویت دے جاتاکہ حماد اس کا ہونے والا شوہر ہے ۔
”اٹس اوکے !….“حماد نے نخوت سے کہا ۔مگر اس کے چہرے کے تاثرات اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اسے خوش کرنے کے لےے اگلے دن وہ ایک قیمتی لیپ ٹاپ لے کا تحفہ لے آئی۔
”یہ کیا ؟“حماد نے اندرونی خوشی پر قابو پاتے ہوئے مصنوعی حیرانی سے پوچھا۔
”لیپ ٹاپ ۔“وہ سادگی سے بولی ۔”میں نے دیکھاہے کافی سٹوڈنٹس کے پاس لیپ ٹاپ ہیں مگر میرے حماد کے پاس نہیں ہے ۔ وہ میرے حماد سے برتر تو نہیں ہیں نا ؟“
”مسکان !….تم بھی نا ؟“
”کیا ….میں بھی ؟“حماد کو خوش دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گئی تھی ۔
”بس ہر وقت مجھے شرمندہ کئے رکھتی ہو ۔“وہ ایسی باتوں پر نادم نہیں ہوتا تھا مگر اپنی بات رکھنے کے لےے ظاہر یہی کرتا کہ اسے مسکان سے تحفہ لے کر شرمندگی ہو رہی ہے۔
”حماد !….میرا سب کچھ آپ کا ہی ہے ۔ہم کوئی دو تو نہیں ہیں نا؟….اگرآپ امیر ہوتے تو کیا میرے لےے تحائف نہ لاتے؟۔“
”صحیح کہا ….اور پتا ہے میں اپنی پہلی تنخواہ سے کیا خریدوں گا ؟“
”کیا خریدو گے ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
وہ بولا۔”تمھاری ملائم انگلی کے لےے انگوٹھی ،نازک گلے کے لےے لاکٹ اور ریشمی کلائیوں کے لےے کنگن ۔“ یہ مکالمے وہ کئی لڑکیوں کے سامنے دہرا چکا تھا ۔ہر دفعہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔ اس وقت بھی مسکان ان دیکھے جذبوں میں کھو گئی ۔ اور جب وہ بولی تو اس کے ہونٹوں سے بہت مدہم اور چاہت سے لبریز آواز نکلی ۔
”حادی! آپ بہت اچھے ہیں ….آئی لو یو سو مچ۔“اس کے لےے زیورات کی کمی نہیں تھی ۔ اگر وہ چاہتی توپوری جیوری شاپ خرید لیتی ۔ مگر محبوب سے تحفہ لینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔
اور پھر وہ فائنل ایئر میں تھا کہ فریحہ یونیورسٹی میں وارد ہوئی ۔
٭……..٭
رات دو بجے اسے ماں کی پیار بھری ڈانٹ سنائی دی ۔
”دانی !….تم ابھی تک جاگ رہے ہو ….؟سو جا پتر ،صبح کام پر بھی جانا ہے ۔“
”جی ماں!….سو تو رہا تھا….آپ نے آواز دے کر جگا دیا ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولا۔
”چل بے شرم ….مجھے بیوقوف بنا رہا ہے ،ماں ہوں تمھاری ؟“
اس بار جواب دینے کی بجائے اس نے کروٹوں کے تسلسل کو روک دیا جواس کے جاگنے کا راز افشا کر رہے تھے اورجاگتی آنکھوں سے صالحہ کو دلہن کے روپ میں دیکھنے لگا ۔
رات بھر جاگنے کی وجہ سے صبح اس کاجسم ٹوٹ رہا تھا لیکن کام پر جانا ضروری تھا۔بلکہ اب تو یہ زیادہ ضروری ہو گیا تھا کہ شادی کے لےے اخراجات اکھٹے کرنا تھے ۔
شام کوکام سے واپسی پر ماں اسے بجھی بجھی نظر آئی ۔
”ماں !….خیر تو ہے ؟….پریشان دکھ رہی ہو ؟“
اس کے سوال پہ اماں کی آنکھیں چھلک پڑیں اور وہ گھبرا گیا ۔
”ماں !….کیا بات ہے ؟….کیوں رو رہی ہو ؟“
”پتر !….رب جس کے نصیب میں خوشی نہ لکھے وہ کب خوش رہ سکتا ہے ؟“
”کچھ پتا تو چلے ماں ؟کیسی خوشی ….؟کون سی خوشی؟“
”پتر !….جانتی ہوں کہ میری پوتے پوتیوں کو گود میں لینے کی خواہش ہمیشہ تشنہ رہے گی۔ “
وہ خفگی سے بولا….”اب تو ایسا نہ کہیں اماں ….اب تو ……..“
”تو پھر کب بولوں ؟“اس نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کے سامنے بند مٹھی کھولی جس پر وہ انگوٹھی جگمگا رہی تھی جو کل وہ صالحہ کو پہنا کے آیا تھا ، یہ انگوٹھی چھٹی مرتبہ واپس آرہی تھی۔
”کک….کیا ہوا ….یہ کیوں ؟اس وقت تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا ؟“
”لڑکی کا باپ واپس کر گیا ہے ….کہہ رہا تھا وہ کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ “
اور ماں کی بات سنتے ہی وہ اسے تسلی دئےے بغیر گھر سے نکل آیا ۔اس کے پاس ایسے الفاظ موجودنہیں تھے کہ ماں کی ڈھارس بندھا سکتا،حالانکہ ابو کی وفات کے بعد جب معاشی مسائل منہ کھولے سامنے آئے تھے ، اس وقت اس نے بڑے اعتماد سے ماں کو حوصلہ دیا تھا….
” فکر نہ کر ماں!….میں موجود ہوں ناں ؟“اور پھر اس نے کہے کی لاج بھی رکھی اور گھر کا چولھا بجھنے نہ دیا ۔ اسی طرح گھر کے اکلوتے کمرے کی چھت گرنے پر بھی جب اس کی ماں نے پریشانی ظاہر کی تھی تو دانیال نے اسے اطمینان دلایا تھا کہ وہ فکر نہ کرے چھت کی مرمت ہو جائے گی ۔اور چند دن کے اندر اس نے چھت ڈال دی تھی ۔بلکہ اگلے چند ماہ میں اس نے ایک، اور کمرہ بھی بنا لیا تھا ۔اس کے علاوہ بھی جب کبھی مشکل وقت آیا اس نے ماں کو پریشان نہیں ہونے دیا تھا۔ لیکن آج وہ اس قابل نہیں تھاکہ ،ماں کو تسلی کے دو لفظ کہہ سکتا ، اسے اطمینان دلا سکتا کہ تو فکر نہ کر،میں جلدہی چاند سی دلہن ڈھونڈ لاو¿ںگا۔اس مسئلے میں وہ مجبور و بے بس تھا ۔ وہ ایسے سپنے تو دیکھ سکتا تھا جن میں چاند سے بھی روشن چہرے کی لڑکی اس کی دلہن بنتی مگر حقیقت میں توّا، رخ بنو بھی اس کے نصیب میں نہیں تھی ۔
وہ رات گئے تک سڑکوں پہ آوار پھرتا رہا ۔ایسا اس کے ساتھ چھٹی بار ہو رہا تھا کہ منگنی کی انگوٹھی کسی تھپڑ کی طرح اس کے منہ پرماری گئی تھی۔ اس کے دل ودماغ میں عجیب حسرت اور دکھ بھرہوا تھا۔ایک جوان مرد کو عورت کی اتنی ہی حاجت ہوتی ہے جتنی اسے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔جسمانی تقاضے ایک جوان مرد کو کس طرح بے حال کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا کسی بھی باشعور کے لےے مشکل نہیںہے۔
گھر واپسی پر ماں اسے جاگتی ملی،وہ جیسے ہی چارپائی پر لیٹاوہ چراغ کے جن کی طرح نمودار ہوئی۔
”پتر کھانا گرم کر دوں ؟“
”باہر سے کھا کے آیا ہوں ماں! “اس نے صریحاََجھوٹ بولا اور ماں بغیر مصر ہوئے لوٹ گئی۔
اگلے دن کام سے واپسی پر اس کے قدم چچا خیر دین کی بیٹھک کی طرف بڑھ گئے ۔ لوگ ہر قسم کے مسائل اس سے بیان کرتے تھے۔دانیال نے بھی اسے دل کادکھڑاسنانا مناسب سمجھا….
”جوان!….جب گھر میں روٹی پکانے والی موجود نہ ہو تو بندے کو بازاری کھانا کھا لینا چاہےے ، مقصد تو بھوک مٹانا ہی ہوتا ہے نا؟“ساری بات سنتے ہی اس نے اطمینان سے مشورہ دیا ۔
”کک….کیا ….مطلب….آپ ،کہیں….میرا مطلب ہے ….؟“
”بالکل میرا یہی مطلب ہے برخوردار….آخر انھوں نے بھی تو پیٹ بھرنا ہے۔اور تعاون سے کام چلتا ہے ،انھیں روزی ملے گی اور تمھیں روزینہ ۔“
”مم ….مگر ….میں نے اس پہلے ….؟“وہ ہکلایا۔
”ہاں ….مگر ہر کام کی کوئی نہ کوئی شروعات توہوتی ہے …. یاد رکھو یہ نہیں کرو گے توشاید نفسیاتی مریض بن جاو¿۔ یہ ایسا تقاضا نہیں جسے دبا لیا جائے اور پھر بات صرف شکل و صورت کی نہیں دھن دولت کی بھی ہے اور مالی لحاظ سے تم اپنی صورت سے بھی گئے گزرے ہو۔ “
اس نے پوچھا۔”ایسی لڑکی ملے گی کہاں ….؟“کیونکہ خیر الدین سے متفق ہونا اس کی مجبوری تھی ۔
”ایسے کئی محلے ہیں جہاں دن رات یہ کاروبار شروع ہے ۔“
”کیا ….انھیں میری رنگت پر اعتراض نہیں ہو گا ؟“
’ہا….ہا ….ہا“چچا خیر دین کا قہقہہ کافی بلند تھا ۔”پاگل!…. دکاندار بھی کبھی گاہک کی شکل و صورت پر معترض ہوا ہے؟“
چچا خیر دین کی بات اس کی عقل میں آگئی تھی اور پھر اگلے دن اس کے قدم ایک ایسے ہی محلے کی طرف اٹھ گئے جس کے بارے اسے پہلے سے سن گن تھی لیکن کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔
”آجا بابو!….“ ۔“ محلے کے پہلے مکان کے دروازے پر کھڑی بوڑھی دلالہ نے اسے اندر آنے کی ترغیب دی اور وہ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہو گیا ۔
”چل نکال ہزارروپے۔“اس کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے مطالبہ کیا ۔
”مم….مگر میرے پاس تو صرف یہ ہیں۔“اس نے چار سو کے بہ قدر مڑے تڑے نوٹ جیب سے نکالے ۔
”چلو پہلی مرتبہ آئے ہو ،کوئی بات نہیں آئندہ خیال رکھنا ؟“دلالہ نے نوٹ اس کے ہاتھ سے جھپٹ لےے۔اسے ایک کمرے کی طرف دھکیلا۔
وہ جھجکتے ہوئے کمرے میں گھس گیا ….عجیب قسم کی بد بو پھیلی تھی وہاں ۔اس کا جی متلانے لگا ۔ اس نے کمرے کا سرسری جائزہ لیا ،کمرہ ہر قسم کے سامان سے عاری تھا ۔صرف درمیان میں ایک مسہری پڑی تھی جس پر ایک پختہ عمر اور درمیانی شکل و صورت کی عورت براجمان تھی ۔اس نے چہرے پر ضروت سے زیادہ سرخی پاو¿ڈر تھوپا ہوا تھا ۔
طوائف نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا مگر اس کے چہرے پر کوئی ایسے تاثرات نہ ابھرے جنھیں وہ نفرت یا کراہیت کا نام دے سکتا ۔وہ چند لمحے اسے گھور گھور کر دیکھتا رہا، مگر قریب جانے کی جراَت نہ کر سکا ۔عورت کا یہ روپ اس کے لےے بالکل نیا تھا ۔وہ جو ساری ساری رات اس جنس کے قرب کی خواہش میں کروٹیں بدلتا رہتا، اس وقت اپنے اندر کوئی ایسی تحریک پیدا نہ کر سکا۔ اس کے برعکس اسے ایک قسم کی نفرت محسوس ہوئی اور بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نکل آیا ۔
”ا رے بابو!….کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟“ بوڑھی دلالہ اسے مخاطب ہوئی۔ مگر وہ سنی ان سنی کرتا ہوا اس مکان اور پھر اس محلے سے بھی نکل آیا ۔
٭……..٭
مسکان کی خوب صورتی میں کوئی کلام نہیں تھا۔لیکن فریحہ آتے ہی یونیورسٹی بھر کی لڑکیوں پر چھا گئی تھی ۔ وہ گویا چودھویں کا چاند تھا جو تمام تاروں کو ماند کر دیتاہے ۔وہ خاندانی لحاظ سے حماد کے ہم پلہ تھی۔اس کا والد بینک میں کیشئر تھا ۔ اورخاندانی منصوبہ بندی کا قائل تھااس وجہ سے اس کے دوہی بچے تھے ۔ بیٹا جاذب اور اس سے چھوٹی بیٹی فریحہ رباب۔
چند دن کے اندر وہ یونیورسٹی بھر کے دل پھینک لڑکوں کی منظورِ نظر بن گئی تھی ۔ہر دوسرا اس کی نظر ِ کرم کا طلب گار نظر آتا ۔ اس کا خاندانی پسِ منظر بھی ایسا تھا کہ عشاق اظہارِ محبت پر جری رہے ۔ ان عشاق میں حماد بھی شامل تھا ۔زندگی میں پہلی مرتبہ اسے حقیقی معنوں میںکوئی لڑکی پسندآئی تھی ۔مگر مسکان کی ناراضی کے ڈر سے وہ فریحہ کے قریب نہ جا سکا۔اس کے دل و دماغ میں جنگ چھڑ گئی تھی ۔ایک جانب پسند تھی اور دوسری جانب ضرورت۔ مسکان کا پیچھا وہ اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتا تھا جب تک اسے سیٹھ داو¿د کی طرف سے صاف جواب نہ مل جاتا۔دوسری صورت میں اپنے مستقبل کو تاب ناک بنانے کے لےے اسے مسکان کی ضرورت تھی ۔
فریحہ بھی دل پھینک عاشقوں کے معاملے میں بہت سخت واقع ہوئی تھی ۔وہ کسی کو بھی لفٹ کرانے پر تیار نہیں تھی۔ بس اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہی گھومنا پسند کرتی ۔دوتین ماہ کے اندر لڑکوں نے اس کا پیچھا چھوڑ دیا تھا۔ اس میں اس کی بے نیازی کے علاوہ ان شکایات کا بھی عمل دخل تھا جو اس نے چند بے باک اور بے شرم لڑکوں کے متعلق وائس چانسلر سے کی تھی ۔اور وائس چانسلر کی ایک جھاڑ عشق کا بھوت اتارنے کے لےے کافی و شافی رہی تھی ۔ البتہ دو تین ایسے ڈھیٹ ضرور اپنی محبت پر ثابت قدم رہے جنھیں ہمیشہ ہر خوب صورت لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے ۔ ہاں یہ اور بات کہ ان کا عشق ،اظہار کی آلودگی سے پاک ہی رہا ، ورنہ وہ بھی ضرور وائس چانسلر کی جھاڑ کھاتے ۔
جاری ہے
