Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler NovelR50806 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04
Rate this Novel
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode01 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode02 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode03 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04 (Watching)Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode05 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode06 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode07 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode08 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode09 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode10 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode11 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode12 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode13 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode14 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode15 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode16 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode17 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode18 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode19 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode20 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode21 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode22 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode23 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode24 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode25 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode26 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode27 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode28 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode29 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode30 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode31 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode32 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode33 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode34 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode35 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode36 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode37 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode38 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode39 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode40 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode42 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode43 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode44 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode45 Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04
Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode04
میری جان، میراجسم عارضی طور پر مسکان کے قبضے میں سہی میرا دل میری روح اپنی فری کے پاس رہے گا ۔“
”حماد مجھے ڈر لگتا ہے۔ دولت کی چکا چوند ،مسکان کی دلکشی ،قیمتی گاڑیوں کی سواری اور محل نما کوٹھیوں کی سکونت تمھیں مجھ سے چھین نہ لے ۔ یہ نہ ہو پر آسائش زندگی کا لالچ مجھ سے میری زندگی جدا کر دے؟“فریحہ نے ذہن میں کلبلاتے اندیشوں کو الفاظ میں ڈھالا۔
”کیا اپنے حماد پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے ؟“اس کا ہاتھ گرفت میں لیتے ہوئے اس نے چاہت سے پوچھا ۔
”نہیں ….لیکن انسان کے احساسات بدلتے دیر نہیں لگتی یہ نہ ہو اس کی محبت تمھیں جیت لے؟“
”ناممکن ….ایسا سوچنا بھی مت ،اگر ایسا ہوتا تو اب تک میں اس کا بن گیا ہوتا۔“
”یہ ڈراما کتنا عرصہ چلے گا ؟“
”میری جان !….تم اپنی تعلیم تو مکمل کر لو ؟“حماد نے اسے تسلی دی ۔
فریحہ نے منہ بنا کر کہا ۔”مجھے اپنے سوال کا جواب چاہےے ؟“
وہ اطمینان سے بولا۔”دو تین سال سے زیادہ نہیں چلے گا ۔“
”اور اس عرصے کے دوران تم کیسے ،کسی مقام تک پہنچو گے ؟“
”یار !….ایک ارب پتی سیٹھ کے داماد کے لےے کسی مقام تک پہنچنے میں کیا رکاوٹ ہوگی ؟“
”ہو گی نا رکاوٹ ؟“فریحہ نے زور دے کر کہا ۔”اگر تمھارا مقصد کسی اچھی جاب کا حصول ہے تو ایسی صورت میں کسی مقام تک پہنچنے کے لےے دو تین سال کا عرصہ بہت کم ہے ۔ جانتے ہو نا ؟ایک کوٹھی کی قیمت کیا ہو سکتی ہے ۔پھر اچھی گاڑی اور دوسری ضروریات ….کیا ایک اچھی جاب حاصل کرنے کے بعد ان تمام آسائشوں کا حصول ممکن ہے ؟…. وہ بھی دو تین سال میں ۔“
”نہیں ۔“حماد نے انکار میں سر ہلایا۔
اس نے وضاحت چاہی ۔”تو پھر ؟“
”سیٹھ داو¿د کی دولت کس کام آئے گی ،جو مسکان کو وراثت میں ملنی ہے ؟“
”محترم !….وہ مسکان کو نوٹوں کی صورت نہیں ملے گی کہ تو اس سے ہتھیا لے گا ۔ وہ لازماََکوٹھی، فیکٹری وغیرہ کی وارث بنے گی ۔ علاحدگی کی صورت میں تمھیں کیا ملے گا ؟بلکہ تجھ سے تو منہ دکھائی میں دیا جانے والاقیمتی تحفہ بھی وہ واپس لے لیں گے ؟“ مسکان کا سوال ایسا نہیں تھا کہ اسے نظر انداز کیا جاتا۔
”بات تو تمھاری ٹھیک ہے ۔“حماد کے لہجے میں پریشانی جھلکی ۔”یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔“
فریحہ نے منہ بنایا۔”ہاں ایک سیٹھ زادی کی محبت اور دلکش بدن کے سامنے ساری ضرورتیں پسِ پشت چلی جاتی ہیں ۔“
”بکو مت ….تم نے مجھے سچ مچ الجھا دیاہے ۔“
”الجھن کیسی ؟….ایک خوب صورت لڑکی ،کار ،کوٹھی ،فیکٹری اور وسیع کاروبار کے ساتھ مل رہی ہے گل چھرّے اڑاو¿ بقیہ زندگی ۔ اور بھول جاو¿ فریحہ نام کی کوئی بے وقوف لڑکی بھی تھی ۔“
وہ جھلا کر بولا۔”میں لگاو¿ں گا ایک جھانپڑ ۔“
”ہاں ….اب تمھارا غصہ تو مجھی پر نکلے گا نا ؟“
”اچھا تمھاری چوں چوں بند ہو گی کہ نہیں ؟….سوچنے دو مجھے ۔“
”تم سوچو ….اور میں چلی ۔“وہ کھڑی ہو گئی ۔
”پیدل جاو¿ گی ؟“
”ٹریفک کی ہڑتال نہیں ہے سمجھے ۔“فریحہ کا موڈ بھی آف ہو چکا تھا ۔
”بڑی آئی ہڑتال کی کچھ لگتی ۔“وہ بھی اٹھ گیا ۔
فریحہ کو ڈراپ کر کے وہ گھر پہنچا اور ساری رات اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا ۔ صبح اذان کے وقت وہ ایک بے داغ منصوبہ بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔دن چڑھے اس نے ایک مفتی صاحب سے فون پر مسئلہ پوچھنے کے بہانے وراثت کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ۔ چھٹی کے وقت وہ اس سٹاپ پر کھڑا تھا جہاں فریحہ نے اس سے ملنے کے لےے یونیورسٹی بس سے اترناتھا۔
٭……..٭
رابطہ منقطع کر کے دانیال نے موبائل آف کر دیا ۔وہ بچی کے باپ کو ڈرانے میں کامیاب رہا تھا۔ یہ ساری ڈائیلاگ بازی اس نے فلموں سے سیکھی تھی ۔بات چیت کے لےے اسے گھر سے باہر آنا پڑا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں کو اس سارے معاملے کی ہوا لگے ۔ گھر واپس جاتے ہوئے اس نے ایک دکان سے ٹافیاں اور چاکلیٹ خرید لیں ۔جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی ماں ماہین کو چارپائی پر لٹا رہی تھی ۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”اماں !….اب تک اسے گود میں لٹایا ہوا تھا ؟“
اس کی ماں جھینپتے ہوئے بولی ۔”میں نے سوچا کہیں جاگ نہ جائے ۔“
”اماں !….آپ بھی نا بس ؟“اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔وہ ماں کے دل میں دبے ممتا بھرے جذبات سے ناواقف نہیں تھا ۔اتنی اسے دلہن کی تڑپ نہیں تھی جتنی وہ پوتی پوتوں کے لےے تڑپتی ، مچلتی تھی ۔
وہ بچی کو موسم کی مناسبت سے باریک چادر اوڑھا کر دانیال سے پوچھنے لگی ۔”کچھ پتا چلا اس کے والدین کا ؟“
”اتنی جلدی کہاں اماں ….ابھی تک تو اخبار میں خبر دی ہے ،جو کل صبح شائع ہو گی ۔ اس کے بعد کہیں پتا چلے گا ۔ ہو سکتا ہے دو تین دفعہ خبر دینی پڑے۔“
”کیا پتا یہ لاوارث ہو ؟“عائشہ خاتون کے لہجے میں عجیب سی حسرت بھری تھی ۔ ”کیا پھر ہم اسے پال سکیں گے؟“
”اماں!…. لاوارث سکول میں نہیں پڑھا کرتے اور نہ ان کا لباس ہی اتنا اچھا ہوتا ہے ۔“
”اچھا اچھا….غصہ نہ دکھایا کر ہر بات پر ۔ماں ہوں تمھاری ۔“وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی ان کے گھر کا دروازہ عام معمول میں دن کے وقت کھلا رہتا تھا لیکن آج ماہین کی وجہ سے اس نے کنڈی کر دیا تھا ۔اس کی کوشش تھی کہ پڑوسی ماہین کے وجود سے بے خبر رہیں ۔
وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔دروازے پر بوڑھی پڑوسن کو دیکھ کر اس نے بہانہ گھڑا ۔
”اماں تو کہیں گئی ہوئی ہیں خالہ ؟“
”اچھا۔“وہ ہلکی سی مایوسی سے بولی ۔”واپس آئے تو میرے بارے بتا دینا ۔“
”ٹھیک ہے خالہ!….“کہہ کر اس نے دروازہ دوبارہ کنڈی کر دیا ۔
”کون تھا بیٹا ؟….اور میں تو گھر میں ہوں ؟“عائشہ خاتون نے لازماََ اس کی پڑوسن سے ہونے والی گفتگو سن لی تھی ۔
”بشریٰ خالہ تھی ماں ۔“
”اسے دروازے پر دستک دینے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی ،پہلے تو بے دھڑک آجاتی تھی ؟ اور پھر تو نے یہ کیوں کہا کہ میں گھر میں موجود نہیں ہوں ؟“
”دروازہ میں نے کنڈی کیا تھا ماں ۔“دوسرے سوال کو وہ جان بوجھ کر گول کر گیا ۔
”اور جھوٹ کیوں بولا؟“اس کی ماں بال کی کھال اتارنے پر تلی تھی ۔
”وہ ….ماں میں نہیں چاہتا کہ کسی کو بچی کا پتا چلے ۔“
”کیوں ….کیوں پتا نہ چلے بچی کا ؟….اور کب تک چھپائیں گے اسے ؟“اس کی ماں بات کو کسی اور سمت موڑ کر لے گئی تھی ۔
”ماں!…. بس دو تین دن کی تو بات ہے ۔“
”اے لڑکے !….باو¿لا ہوا ہے کیا؟….دو تین دن کا کیا مطلب ؟“
”کچھ نہیں ماں ….آپ چھوڑیں اس بات کو، بعد میں سمجھادوں گا ۔“
”یہ ہماری قید میں تو نہیں ہے ۔اور نہ ہم نے اسے اغواءہی کیا ہے ؟“اس کی ماں کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں تھیں ۔
”اماں !….ایک تو آپ ہر بات کی کھوج میں پڑ جاتی ہیں ۔چھوڑیں اس موضوع کو اور کھانابنائیں سخت بھوک لگی ہے۔“ اس نے جان چھڑانی چاہی ۔اس کے انداز پر عائشہ کا ماتھا ٹھنکا ۔
”اے دانی !….سچ بتا کیا چکر ہے ؟تمھارا انداز مجھے مشکوک نظر آرہاہے ۔
”اچھا ادھر آماں!…. تمھیں بتاتا ہوں ۔“وہ اسے بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے گیا ۔
”کیا ادھر نہیں بتایا جا سکتا تھا ؟“عائشہ کو بیٹے کا مشکوک انداز نہ بھایا۔
”ماں !….یہ کسی امیر آدمی کی بیٹی ہے ۔اور اس کا باپ اسے چھڑانے کے لےے کافی رقم ادا کر دے گا ۔“
”دد….دانی تمھارا دماغ جگہ پر ہے ؟“بیٹے کی بات پر اس کا رنگ اڑ گیا تھا۔
”کیا ہوا میرے دماغ کو ،ٹھیک ہی تو ہے ۔ہمارے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرنے والے کسی سرمایہ دار سے اگر چند لاکھ لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا ….کوئی کمی نہیں ہو گی ان کے بینک بیلنس میں ، بلکہ کچھ ماہ بعد وہ چند لاکھ بھی اس کے یا اس کے کسی دوسرے بھائی کے اکاو¿نٹ میں واپس منتقل ہو جائیں گے ۔“
”باو¿لا ہوا ہے لڑکے !….“عائشہ نے بیٹے کی چھاتی پر دو ہتھڑ مارے ۔”حرام کی کمائی گھر لانا چاہتا ہے ۔ تمھارے باپ نے ساری زندگی محنت مزدوری کر کے کھایا ہے تو کیسے بے غیرت ہو گیا ہے ، خبردار جو دوبارہ اس طرح کے کسی گندے کام کا سوچا ۔نہیں چاہےے مجھے اس طرح کی حرام کی دولت ۔یہ روکھی سوکھی میرے لےے مرغن غذاو¿ں سے بہتر ہے ۔“
دانیال نے حجّت پیش کی ۔”ماں اس رقم سے میں شادی کر سکتاہوں ؟“
”ایسی شادی سے تمھارا کنوارا مر جانابہتر ہے ۔“عائشہ رونے لگ گئی تھی۔
وہ زچ ہو کر بولا۔”ٹھیک ہے ماں !….ٹھیک ہے ۔صبح واپس چھوڑ آو¿ں گا ۔“
”نہیں ….ابھی ابھی چھوڑ آو¿….اس کے والدین بیچاروں پر کیا گزر رہی ہو گی ۔وہ ماں تھی اور جانتی تھی کہ ممتا کی تڑپ کیا ہوتی ہے۔
”ماں میں نے اس کا گھر نہیں دیکھا ناں ؟“دانیال نے دامن بچانا چاہا۔
”تو اس کے والد سے کس طرح رقم کا مطالبہ کرتے ؟“آخر وہ بھی اس کی ماں تھی ۔
”فون پر بات کرتا۔“
”ٹھیک ہے ابھی فون ملاو¿ میرے سامنے ۔“عائشہ حکمیہ لہجے میں بولی ۔
بادل نخواستہ اس نے فون نکالااور اس کے باپ کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔
٭……..٭
اس سٹاپ پرفریحہ کے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی اترتی تھیں ان کے جانے تک فریحہ لاتعلق ہو کر مخالف سمت میںچلتی رہی ۔ جیسے ہی وہ گلی میں مڑیں حماد بائیک فریحہ کے قریب لے آیا ۔ اپنے شولڈر بیگ سے ایک بڑی سی کالی چادر نکال کر فریحہ نے نقاب کے انداز میں اوڑھی اور اچک کر اس کے پیچھے بیٹھ گئی ۔ یہ اہتمام وہ حما دکے کہنے پر کرتی تھی ۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے پسندیدہ ریستوراں میں ،کونے کی مخصوص نشستیں سنبھال چکے تھے ۔
کھانے کا بتا کر حماد اسے ساری تفصیل بتانے لگا ۔کھانا آنے تک وہ اسے سارا منصوبہ بتا چکا تھا۔
”حماد !….یہ ٹھیک نہیں ہے ؟“فریحہ گھبرا گئی تھی ۔”دولت کے لےے کسی کی جان لینا بہت غلط حکمت عملی ہے ؟“
”فری!…. میری جان پتا ہے دولت کے لےے یہ سیٹھ غریبوں کا کتنا خون چوستے ہیں ؟ کتنوں کو ان کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑتا ہے ؟…. سارے سماج کو انھوں نے کیسے جکڑا ہوا ہے ؟ ان کے کاروبار نے مکڑی کے جالے کی طرح پورے ملک کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو اہے ۔جینے کا حق صرف ان کو حاصل ہے باقی لوگ تو کیڑے مکوڑے ہیں ۔اور نجانے کتنے کیڑے روزانہ ان کے قدموں تلے آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔اس دوران اگر ایک کیڑا ہمت کر کے کسی سیٹھ کو کاٹ لے تو یہ غلط کیسے ہو گیا؟“
” پلیز حماد !….یہ ٹھیک نہیں ہو گا، یہ نہ ہو تم پکڑے جاو¿؟….اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو میں بے موت ماری جاو¿ں گی ؟“
”کچھ نہیں ہو گا ….“حماد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”جانتی ہو دنیا میں کون سا اصول کارفرما ہے ؟ …. ایک مفکر کہتا ہے انتظار کرنے والوں کو وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والوں سے بچ جائے اور میں انتظار نہیں کر سکتا ۔کوشش کروں گا ۔زندگی کی بنیادی ضروریات کے لےے ترستے رہنا مجھے قبول نہیں۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میری فری رکشے اور بائیک پر سفر کرے اور وہ لڑکیاں جو میری شہزادی کی کنیز بننے کے بھی قابل نہیں وہ لینڈ کروز اور مرسڈیز میں گھومیں ۔میری ملکہ چار مرلے کے مکان میں گھٹ گھٹ کر زندگی گزارے اور وہ پانچ ،دس کنال کی کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہوں ۔نہیں فری بالکل نہیں …. مجھے ظالم بننا قبول ہے مفلس بننا منظور نہیں ۔بہت سسک چکے ،بہت تڑپ چکے ۔اب میں اپنا حصہ چھین لوں گا ۔ یقین مانو اس دولت پر امرا کا ناجائز قبضہ ہے صریحاََ ناجائز ، اتنا حصہ ان کا نہیں بنتا کسی حساب سے نہیں بنتا جتنا ان کے قبضے میں ہے ۔“
”حماد!…. مجھے ڈر لگتا ہے ….؟“
”کیسا ڈر ….؟میں اسے گولی تو نہیں ماروں گا ۔ایسی دوا کا حصول کوئی مشکل بات نہیں جس کی ہلکی سی مقدار ایک تسلسل سے کھانے سے وہ مالک حقیقی سے جا ملے ….یا پھر ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں موت کوگلے سے لگا لے ؟“
”کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ؟“فریحہ سخت پریشان نظر آ رہی تھی ۔ایک عام سی لڑکی کو کسی کے قتل کی خبر متوحش کرنے کے لےے کافی تھی ۔ چاہے وہ قتل اس کی رقیب کا کیوں نہ ہوتا ۔
وہ اطمینان سے بولا۔”ہے ،کیوں نہیں ہے ؟“
”کیا ؟“اس نے بے صبری سے پوچھا۔
”شادی کے بعد اپنی پیاری بیوی کے ناز اٹھاتا رہوں ،ساری زندگی عیش سے گزرے گی ۔بس اپنی محبت سے محروم ہونا پڑے گا ۔ اپنی فری سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ؟“
فریحہ نے پریشان ہو کر سر تھام لیا ۔چند منٹ سوچنے کے بعد روہانسی ہو کر بولی ۔
”فری ،تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی ….مر جائے گی ۔“
”حماد بھی مر جائے گا ۔“وہ اطمینان سے بولا۔”صرف مسکان زندہ رہے گی اور حماد کی موت کے بعد ایک اور گبرو سے بیاہ رچا لے گی ۔آخر زندگی انجوائے کرنا ان سیٹھوں ہی کا حق بنتا ہے ؟“
”اوکے ….جو مرضی آئے کرو ۔مجھے صرف اپنا حمادصحیح سلامت چاہےے اور بس ۔“
وہ مسکرایا۔”دیٹس لائیک اے گڈ گرل (That,s like a good girl)
”اب چلیں ؟“وہ کھڑی ہو گئی ۔”دل اچاٹ ہو گیا ہے کھانے سے ۔“
حماد کو بھی کھانا ادھورا چھوڑنا پڑا ۔بل ادا کر کے وہ ریستوراں سے باہر نکل آئے ۔
٭……..٭
پہلی ہی بیل پر کال رسیو کر لی گئی تھی ۔بچی کے باپ نے بے تابی سے کہا۔
”یس! ….بھائی صاحب ،میں نے رقم کا بندوبست کر لیا ہے ؟“
”رقم کو چھوڑیں اپنا ایڈریس بتائیں ۔میںماہین کو آپ کے پاس لا رہا ہوں ۔“
”کک….کیا مطلب ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”مطلب یہ ہے محترم!….کہ وہ سب ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں تھا ۔میں ایک شریف آدمی ہوں ۔ تمھاری بچی مجھے اکیلی ملی ، رو رہی تھی۔ میں اسے گھر لے آیا اور تمھارے جیسے بے پرواہ والد کو سزا دینے کے لےے یہ سارا ڈراما کیا ۔“ دانیال کو بروقت اپنی حرکت کی توجیہ سوجھ گئی تھی۔
”مم ….میں کس منہ سے آپ کا شکر ادا کروں ؟“سلمان شاہ کو لگا کوئی فرشتہ اس سے مخاطب ہے۔
”شکریہ کو چھوڑو ،اور یہ بتاو¿ بچی کو کہاں لے آو¿ں ؟“
”مم….میں ….ہم خود آجاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں ۔“
”اوکے پھر اس پتے پر آ جاو¿۔“دانیال نے گھر کا ایڈریس اسے بتا دیا ۔اس کا موڈ سخت آف ہو رہا تھا ۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ اس کے بعد غلط طریقے سے دولت کمانے کا سوچے گا بھی نہیں ۔چچا خیر دین کی ہر تجویز الٹی اس کے گلے ہی پڑی تھی ۔اچانک بچی نے اٹھ کر امی…. امی پکارنا شروع کر دیا ۔عائشہ خاتون نے بھاگ کر اسے گود میں اٹھا یا اور چپ کرانے لگی۔
وہ مچل کر بولی۔”دادو !….امی کے پاس جانا ہے ؟“
”امی، یہیں پر آرہی ہے میری گڑیا ۔“عائشہ اس کے ناز اٹھانے لگی ۔دانیال نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر بچی کو دی۔چاکلیٹ کو دیکھ کر اس کا رونا وقتی طورپر تھم گیا۔
”انکل !….چلیں نا ؟….امی کے پاس چلتے ہیں ؟“چاکلیٹ چباتے ہوئے اس نے معصومیت سے کہا۔
عائشہ نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا ۔وہ نظریں چرا کر ماہین سے باتیں کرنے لگا ۔
”گڑیا !….پاپا اور امی بس آنے ہی والے ہیں ۔“
”نہیں نا؟….آپ بھی میرے ساتھ چلیں ،آپ اچھے انکل ہیں ناں ؟“
”ہاں ،میں بھی آتا رہوں گا اپنی گڑیا کے پاس ۔“وہ اس کی معصوم باتوں کا جواب دینے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اسے داخلی دروازے پر گاڑی رکنے کی آواز آئی ۔وہ اس طرف بڑھ گیا ۔ اسی وقت دستک بھی ہونے لگی ۔ دروازہ کھولنے پر اسے جدید تراش خراش کے سوٹ میں ملبوس ایک جواں سال مرد دکھائی دیا اس کے پیچھے ایک خوب صورت سی عورت بھی تھی جس کی سرخ متورم آنکھیں دیکھ کر دانیال کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس بچی کی ماںہے ۔
”آئیں جی ۔“اس نے ایک طرف ہو کر انھیں اندر آنے کا رستا دیا۔وہ بے تابی سے اندر داخل ہوئے ۔ماہین عائشہ خاتون سے باتیں کر رہی تھی ۔عائشہ نے اسے دروازے کی طرف متوجہ کیا ۔
”گڑیا!….دیکھوتو کون آیا ہے ؟“
ماہین نے سر گھما کر دروازے کی طرف دیکھا اور ماں باپ کو پہچانتے ہی اٹھ بیٹھی ۔
”امی !….دیکھو نا….؟ میں دادو کی گود میں سو رہی ہوں۔“
”امی کی جان ۔“سدرہ نے اسے اٹھا کر چھاتی سے بھینچ لیا ۔سلمان بیٹی کے سر پر بوسے دینے لگا۔ چار پانچ منٹ تک دونوں میاں بیوی بیٹی کے ساتھ مشغول رہے ۔یہ جذباتی ملاپ دانیال کی آنکھوں میں بھی آنسو لے آیا ۔اسے لگا امیر غریب کے مابین صرف دولت حد فاضل ہے ،ورنہ احساسات دونوں کے ایک جیسے ہیں ۔ خاص کر اولاد کی محبت امراءکے دل میں بھی اتنی ہی ہوتی ہے ،جتنی غریبوں کے دل میں ۔ماں کی بدولت وہ ایک بڑے ظلم کے ارتکاب سے بچ گیا تھا ۔اس نے دل ہی دل میں پختہ توبہ کی ،کہ آئندہ کسی بھی غلط کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا ۔
”آپ کی بڑی مہربانی بھائی صاحب !“سلمان شاہ اپنے قیمتی لباس کی پرواہ کےے بغیر اس سے لپٹ گیا۔”آپ کے اس اقدام نے واقعتا میری آنکھیں کھول دی ہیں ۔میں ،اپنی بچی کی حفاظت سے بے پرواہی برت رہا تھا ،اور فی زمانہ چھوٹے بچوں کے ساتھ جو درندگی بھرا سلوک ہو رہا ہے ،وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔“
”بھائی جان!….میں بھی نادم ہوں کہ آپ لوگوں کی اذیت کا باعث بنا ۔اصل میں بچی مجھے بہت پیاری لگی تھی۔ اور پھر اکیلی پھر رہی تھی، مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اسے گود میں اٹھا لیا ،یہ بھی پٹر پٹر باتیں کرتی رہی ،بس میری سمجھ میں کچھ نہ آیا اور انجانے میں آپ کو تکلیف دینے کا باعث بن گیا ….غصہ آگیا تھا کہ کراچی جیسے شہر میں اتنی پیاری گڑیا یوں لاوارث پھر رہی ہے ؟“
”بس !….اب مزید شرمندہ نہ کریں ۔“سلمان شاہ ممنونیت سے بولا ۔دانیال کی کہانی جیسی بھی تھی ، بچی ملنے کی خوشی میں وہ ہر قصور اپنے سر لینے کو تیار تھا ۔
”بچو!….بیٹھو نا؟ ….میں چاے لاتی ہوں ۔“
”نہیں ماں جی !“سدرہ جلدی سے بولی ۔”بس ہمیں آپ کی دعاو¿ں کی ضرورت ہے ۔“
”بیٹا!….مہمانوں کا یوں کچھ کھائے بغیر چلے جانا اچھا شگون نہیں ہوتا۔“
”ماں جی !….اس تکلف کی ضرورت تو نہیں تھی بہ ہر حال آپ مصر ہیں تو لے آئیں ۔“ عام حالات میں شاید وہ اس گھر میں پانی پینا بھی گوارا نہ کرتے مگر اس وقت بیٹی کی اچانک واپس ملنے والی خوشی ان سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی ۔
عائشہ خوشی سے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔چاے پی کر انھوں نے ایک دفعہ پھر ماں بیٹے کا شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت چاہی ۔عائشہ نے دونوں میاں بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر انھیں دعا ئیں دیں اور ماہین کوپیار کیا ۔
وہ معصومیت سے بولی۔”پاپا!….انکل اوردادو کو بھی ساتھ لے چلیں نا؟….یہ اچھے انکل ہیں مجھے سکول لے جایا کریں گے اور دادو مجھے گود میں سلائے گی ۔“
”ہاں گڑیا!….انکل اور دادو تمھیں ملنے آیا کریں گے ۔“سلمان بیٹی کو پیار کرنے لگا ۔
”ہاں گڑیا ….!ہم آیا کریں گے ۔“دانیال نے بھی اس کے والد کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر انھیں رخصت کرنے کے لےے ان کے ساتھ چل پڑا ۔
(جاری ہے )
