Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41

Junoon Ishq by Riaz Aqib Kohler Episode41

”تمھارے لیے ایک خوش خبری ہے جانم ۔“کامی اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
مسکان کچھ کہے بنا اسے نفرت سے گھورتی رہی ۔
”کل اس قید سے تمھاری جان چھوٹ جائے گی اور تمھاری جگہ لینے آ رہی ہے تمھارے شوہر کی محبوبہ ….فریحہ نام ہے ،بہت خوب صورت لڑکی ہے ،تم سے بھی خوب صورت ہے وقت کافی اچھا پاس ہو گا ۔“
فریحہ کا نام سن کر مسکان نے بے چینی محسوس کی اور بادل نخواستہ اس کے لب وا ہوئے….
”اس کا قصور ؟“
”اس کا قصور یہ ہے کہ، وہ میرے دوست یعنی تمھارے شوہر ِ نامدار سیٹھ حماد سے بے وفائی کر کے ایک مزدور کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہی ہے ۔“
”مزدور کون ؟“مسکان کے دل کی دھڑکن بے ربط ہونے لگی ۔
”کیوں ….آپ بھی کسی مزدور سے واقف ہیں کیا ۔“کامی اس کے ساتھ ایک نازیبا حرکت کرتا ہوا استہزائی انداز میں ہنسا ۔
مسکان بے ساختہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا احتجاج کرنا کسی کام نہیں آئے گا….دو ہفتوں سے وہ یہی عذاب سہہ رہی تھی ،کئی بار اس کا جی خود کشی کرنے کو چاہا مگر پھر وہ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکی تھی ۔اب بھی اسے جینے کی آس تھی ،اسے اپنے دانی پر مکمل بھروسا تھا کہ اس کی آغوشِ محبت اس کے لےے پہلے کی طرح ہی وا ہو گی ۔
”تمھیں اس مزدورکا نام معلوم ہے ۔“ایک انجانے خوف کے زیر اثر اس کے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں ۔
”دانیال نام ہے ….ویسے میں حیران ہوں کہ فریحہ جیسی لڑکی اس حبشی پر کیسے مر مٹی۔“
مسکان کے ہونٹوں سے بہ مشکل نکلا۔”دد….دانیال ….؟“
”تم اسے جانتی ہو ؟“اس کا ہکلانا کامی کو حیران کر گیا تھا ۔
مسکان نے اسے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ،اس کے ذہن میں تو آندھیاں چل رہی تھیں ،اتنی جلدی دانیال اپنی مشی کو بھول گیا تھا ….
”ہیلو بے بی !….“کامی نے اسے اپنی جانب کھینچا ۔
”چھوڑو مجھے کمینے ….“اس نے حسب سابق مزاحمت کی کوشش کی ،مگر روزانہ کی طرح اس کی مزاحمت بے کار گئی تھی ۔
”ہائے بے بی ۱….تمھاری یہی ادائیں تو مجھے دوبارہ تمھارے پاس لے آئی ہیں ۔“کامی خنجر وحشیوں کی طرح اس پر پل پڑا اور وہ روزانہ کی طرح سسکتی رہ گئی ۔
حیوانی خواہشات کو پورا کرنے کے بعد وہ فاتحانہ انداز میں وہاں سے رخصت ہونے لگا ،غیر متوقع طور پر وہ اس سے مخاطب ہوئی ….
”کامی خنجر !….“
”جی فرماو؟“وہ حیرانی سے پیچھے مڑا ۔
”کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم فریحہ کو کچھ نہ کہو…. اسے اغوا نہ کرو ۔“
”بھلااس کے ساتھ تمھیں کیا ہمدردی ہے ….وہ تمھاری رقیب ہے، تمھارے شوہر کی محبوبہ ہے…. بلکہ تھی اور اس کی وجہ سے تمھیں یہ سب کچھ جھیلنا پڑا ۔نہ حماد اس کے حصول کی تمنا کرتا اور نہ تمھیں اغوا ہونا پڑتا۔“
”وہ خبیث میرا شوہر نہیں ہے …. “
”پھر کون ہے تمھارا شوہر؟“
”یہ جاننا تمھارے لیے ضروری نہیں ہے ….البتہ ایک سودا کرنا چاہو تو….“
”سودا ….؟“کامی نے اشتیاق سے پوچھا ۔”کیسا سودا ؟“
” فریحہ کو ٹھکانے لگانے کے لےے حماد نے تمھیں کتنی رقم آفر کی ہے ؟“
”بارہ لاکھ روپے۔“
””مجھے رہا کر دو ….اور فریحہ کو کچھ نہ کہو ،میں تمھیں بارہ کروڑ روپے دوں گی ۔“
”آفر تو اچھی ہے لیکن تمھیں رہا کرنے کا مطلب اپنی بربادی ہی ہے ۔“
”میں وعدہ کرتی ہوں تمھارے خلاف کوئی کارروئی نہیں کی جائے گی ….میرے ساتھ جو وحشیانہ سلوک ہوا ، میں یہ بھی معاف کر نے کے لیے تیار ہوں ….اور یقین کرو میں جھوٹ نہیں بولتی ۔“
”تم نے پہلے کبھی یہ آفر نہیں کی ؟“
”کیونکہ پہلے مجھے زندگی عزیز نہیں تھی ،میں نہیں چاہتی تھی کہ اس پامال جسم کو لے کر اپنے محبوب کے پاس لوٹوں۔“
کامی کے لبوں پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔”اور اب ؟“
”اب کسی ڈینگیں مارنے والے کے کھوکھلے دعوے اس کے منہ پر مارنا چاہتی ہوں ۔“مسکان کی نگاہوں میں دانیال کا چہرہ گھوم گیا ۔
”ایک بات کہوں بے بی !….“کامی نے سنجیدہ لہجے میں کہا، مسکان سوالیہ نظریں سے اسے دیکھنے لگی۔
”یہ پیار محبت کے جھوٹے ناٹک ،سوائے پچھتاوں کے کچھ نہیں دےتے،تمھیں حماد سے محبت تھی اور نتیجہ تم بھگت رہی ہو،جبکہ اسے تم سے دولت کے علاوہ کچھ درکا ر نہیں تھا۔تواب اسے شرمندہ کرنے سے کیا حاصل؟“
”میں اغوا ہونے سے پہلے حماد کی جھوٹی محبت سے واقف ہو گئی تھی لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھاکہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا؟“
”جب پہلے سے واقف تھیں تو اب اسے کیا جتاو گی؟“
”مسٹر کامی !….تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ،میرا محبوب حما د نہیں کوئی اور ہے ۔“
”پہلے کہا میرا شوہر کوئی اور ہے ….اب محبوب بھی کوئی اور ہو گیا ….میرے پلے تو کچھ نہیں پڑ رہا ۔“
”میرا شوہر دانیال ہے….اور دانیال ہی مجھے ہر کسی سے عزیز ہے ….لیکن لگتا ہے میرے دل میں جس کی محبت پیدا ہوتی ہے وہ فریحہ کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔“
”تو مرنے دو سالی کو ۔“کامی استہزائی انداز میں ہنسا۔
”نہیں وہ بے قصور ہے۔“
”کیا تم مجھے پوری کہانی سنا سکتی ہو ؟“کامی کو اس معاملے میں دلچسپی محسوس ہوئی اور وہ اس کی کہانی سننے کے لیے دوبارہ بیٹھ گیا۔
مسکان چند لمحے سوچ میں ڈوبی رہی پھر کسی اچھی امید کے لالچ میں وہ کامی کو مختصراََ اپنی کہانی سنانے لگی….
”میں محبت کے نام سے الرجک تھی،یونیورسٹی آمد پر حماد میری طرف متوجہ ہوا اور مختلف حیلوں سے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ….میں اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی مجھے اس کے علاوہ کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے اسے جیون ساتھی بنا لیا ۔شادی کے بعد حماد کی محبت کہیں غائب ہو گئی ….لیکن میں اس کے عام سے روےے ہی کو محبت کی معراج سمجھتی رہی ،پھر اس کے سر پر بچے کا جنون سوار ہوا ۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ بچے کے لیے اتنا بے چین کیوں تھا بس وہ چاہتا تھا کہ ہم جلد از جلدایک بچے کے ماں باپ بن جائیں۔جب شادی کے دو سال بعد بھی یہ آرزو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکی ،تو وہ مجھے شہر کی مشہور گائنالوجسٹ کے پاس لے گیا ۔چیک اپ کے بعد پتا چلا کہ میں تو ٹھیک ہوں البتہ وہ خود بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے…………….“ مسکان کی بات جاری رہی آخر میں وہ کہہ رہی تھی ……..
”میں نہیں جانتی کہ کس بات نے حماد کو اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا شاید اسے دانیال کے ساتھ میری محبت نے ایسا کرنے پر اکسایا،یاہو سکتا ہے تم اس پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو، کہ میرے اغوا میں اس کا ہاتھ ہے۔“
”تم نے بعد میں اس سے پتا نہیں کیا کہ وہ بچے کے لیے اتنا بے چین کیوں تھا ؟“
”نہیں ….“مسکان نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے موقع ہی نہیں ملا کہ اس سے پوچھ سکوں ،یوں بھی دانیال کے گھر سے آنے کے بعد ہم اسی کوشش میں رہے کہ میں کسی بہانے دانیال سے طلاق لے لوں۔“
”پتا ہے وہ حبشی کیوں فریحہ سے شادی کر رہا ہے۔“
مسکان کا نفی میں ہلتا سر دیکھ کر اس نے جواب دیا ۔”کیونکہ اس کی نظر میں تم مر چکی ہو ۔“
”کیا ……..؟“اب حیران ہونے کی باری مسکان کی تھی ۔
”محترما !….حماد نے تمھیں ٹھکانے لگانے کے لیے مجھ سے ڈیل کی تھی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمھاری دولت و جائیداد پر قابض ہونا چاہتا ہے ….بلکہ اس نے تم سے شادی ہی اس مقصد سے کی تھی اور شروع میں تمھاری فریحہ بی بی بھی اس کھیل میں شامل تھی، البتہ تم سے ملنے کے بعد وہ اس منصوبے سے متنفر ہوئی اور حماد کو مجبور کرنے لگی کہ تمھیں کچھ نہ کہا جائے لیکن حماد نے اس سے بالا ہی بالا ہمارے ساتھ ڈیل کر لی نتیجتاََ تم یہاں ہو ۔اور حمادکیوں بچے وغیرہ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا اس ڈرامے سے میں واقف نہیں ہوں ، باقی یہ حقیقت ہے کہ تم دنیا والوں کی نظر میں مر چکی ہو ،تمھارا جنازہ ہو چکا ہے اور ایک قبر پر تمھارے نام کی تختی لگ چکی ہے ۔“
”مم….مگر کیسے ….میںتو زندہ سلامت موجود ہوں ،کیا تم نے انھیں کہا ہے کہ میں مر چکی ہوں۔“
”ایسا ہی سمجھو۔“کامی نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور انھوں نے تمھاری بات کا یقین کر لیا ۔“
”ان کی مجبوری تھی بے بی ….ہم نے تمھارا لباس ایک دوسری لڑکی کو پہنایا اور اسے تمھاری کار میں بٹھا کر تم سے متعلق سارا سامان ،مطلب تمھارا پرس موبائل وغیرہ ساتھ رکھا اورکا کوبم دھماکے میں اڑا دیا ….نتیجہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہے ،تمام یہی سمجھ رہے ہیں کہ تم باقی نہیں رہیں ۔“
”اس لڑکی کا قصور؟“
”اس کا والد تاوان کی رقم ادا کرنے پر تیار نہیں تھا ۔“
”کیا تم لوگوں کو اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے ۔“
”اللہ کا خوف….“کامی ہنسا ۔”بے بی !….اللہ کا خوف نہ ہوتا تو تم اتنے دن کیسے زندہ رہتیں ، حالانکہ تمھیں ٹھکانے لگانے کا معاوضا ہم کب کا ڈکار چکے ہیں ۔“
”میری جگہ دوسری کو کیوں مروا دیا ؟“
” وہ باسی تھی اور تم نئی ….کچھ دن ہم نے بھی تو شغل میلہ کرنا ہوتا ہے نا….باقی اب فریحہ کی جگہ تمھیں مروا دیں گے …. حساب برابر ۔“
”تو تمھیں سودا منظور نہیں ؟“مسکان کی آواز میں مایوسی تھی۔
”نہیں ….البتہ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ فریحہ اور اس کے محبوب دانیال کو تم سے ضرور ملواوں گا تو جو گلہ شکوہ کرنا ہوں کرلینا کیونکہ وہ کلوٹا تمھارا بھی تو محبوب ہے ….بس یا کچھ اور؟“
”رقم دگنی کر لو،بارہ کے بجائے چوبیس کروڑ کر لو ۔“
”سوری ۔“
”تم ساری زندگی بھی اتنی رقم اکھٹی نہیں کر سکو گے جتنی میں آفر کر رہی ہوں “
”صحیح کہا ….مگر اس میںرسک بہت زیادہ ہے ،میں چوبیس کروڑ کے بدلے اپنے گروہ کو داو پرنہیں لگا سکتا۔اور پھر ہم اپنے گاہکوں کے خلاف ہی سودا بازی میں مصروف ہو گئے تو ہماری دکان داری ٹھپ ہو جائے گی ۔ نہیں محترما تھینکس ۔“ کامی کھڑا ہو گیا۔ ”کافی گپ شپ ہو گئی ہے اب مجھے چلنا چاہےے،کل تمھاری ملاقات فریحہ اور دانیال سے کراوں گا ۔“
اس کے وہاں سے جاتے ہی مسکان لڑکھڑاتے قدموں سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی ۔وہ روزانہ صابن کی پوری ٹکیہ اپنے بدن پر رگڑ رگڑ کر گھلا دیتی،مگر صفائی کا وہ احساس جو وہ حاصل کرنا چاہتی اسے میسر نہ ہوتا ، حالانکہ وہ جانتی تھی بدن کی صفائی سے روح میں سرایت کر جانے والی غلاظت کے احساس کو زائل کرنا ممکن نہیں مگر اس کے بس میں بدن کی صفائی تھی اور اس بات سے اس نے کبھی فروگزاشت نہیں کی تھی ،اپنے رب کو اس نے اس حالت میں بھی نہیں بھلایا تھا ،کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہوتا وہی ہے جو رب کی مرضی ہوتی ہے اور وہ اپنے رب کے فیصلے پر شاکر تھی ۔
٭……..٭
”یس ؟“احمد دروازے پر ہونے والی دستک سن کر باآواز بلند بولا۔
دروازہ کھول کر صفدر اندر داخل ہوا ۔”سر !….مسٹر حماد نے کسی کامران نامی شخص سے بات کی ہے ۔ اور یہ اس کی آڈیو ریکارڈنگ ہے ۔“ صفدر نے ایک چھوٹا سا ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے سامنے رکھ کر چلا دیا ۔
ایک نامانوس آواز ابھری ۔”یس؟“
اس کے ساتھ حماد کی آواز آئی ۔”میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔“احمد غور سے ان کی گفتگو سننے لگاپچیس سیکنڈ کی وہ ریکارڈنگ نظر انداز کرنے کے قابل نہیں تھی ۔
”صفدر !….ان دونوں کی ملاقات کی مکمل ریکارڈنگ ہونا چاہیے….اور میراخیال ہے مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ یہ ریکارڈنگ کیسے ہو گی ؟“
”نو سر !….“کہہ کر صفدر باہر نکل گیا ۔جبکہ احمد سوچ میں کھو گیا ،سیٹھ وسیم سے ساری تفصیل سننے کے بعد اس کا شک فوراََ حماد کی طرف گیا تھا،مگر پھر دونوں بھائیوں کے پیہم اصرار نے اس کے شک کو ڈانو ڈول کر دیا کہ وہ دونوں بھائی اپنے بہنوئی کو ہر شک سے مبرا سمجھتے تھے ۔اگر اسے ہر کسی پر شک کرنے کی ٹریننگ نہ ملی ہوتی تو شاید وہ حماد کو مشکوک افراد کی فہرست سے خارج کر دیتا ۔اس مختصر سی ریکارڈنگ نے احمد کے دل میں امید کی شمع جلا دی تھی ،اسے لگا کہ جلد ہی مسکان کے قتل کا کیس حل ہونے والا ہے ۔گو وہ جس فیلڈ میں تھا وہاں اس طرح کے چھوٹے موٹے کیسوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ،کہ ان کا کام صرف ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرناہوتا ہے ،لیکن دوست کی پریشانی دیکھتے ہوئے اس نے اپنے طور پر اس کیس کو دیکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
باقی کا دن بھی اس نے دفتر ہی میں گزارا کہ وہ حماد کی ملاقات کا نتیجہ معلوم کرکے چھٹی کرنا چاہتا تھا ۔
٭……..٭
اس کی عمر پچیس سے ستائیس سال کے درمیان تھی۔چاے کا کپ پی کر وہ پچھلے ایک گھنٹے سے اس جگہ براجمان تھا….کوئی بھی غور کرنے والا آسانی سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کسی کا منتظر ہے ۔موبائل فون کی رنگنگ ٹون سے وہ چونکا اور موبائل کان سے لگا کر کال سننے لگا
”عمر !….وہ پارکنگ سے نکل کر ہوٹل کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔“ دوسری جانب صفدر تھا۔
”اوکے ….“اس کی طرف سے اشارہ ملتے ہی عمر نے رابطہ منقطع کرتے ہوئے موبائل جیب میں ڈالا اور ایک باریک چپٹا سا آلہ دائیں ہاتھ میں تھامتے ہوئے تیزی سے گیٹ کی طرف چل پڑا ۔وہ بہ مشکل چند قدم اٹھا پایا ہو گا کہ اس نے حماد کو ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا ،وہ تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ایک سرسری نظر اس پر ڈال کر عمر عجلت کا مظاہرہ کرتا ہوا دروازے کی طرف بڑھتا رہا ۔حماد کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اچانک لڑکھڑایا اور بے ساختہ حماد کا سہارا اس انداز میں لیا گویا وہ گرنے سے بچنا چاہتا ہو ،اس دوران اس نے وہ چپٹا آلہ بڑی صفائی سے اس کے کوٹ کی اوپر والی سامنے کی جیب میں ڈال دیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ….
”سوری سر !….آئی ایم ویری سوری ۔“کہہ کر باہر کی راہ لی ۔اس نے حماد کا جواب سننے کی زحمت نہیں کی تھی ۔ حماد کے پیچھے آنے والا شخص بھی عمر کا ساتھی ہی تھا ۔وہ عمر کی طرف دیکھے بغیر حماد کے پیچھے چلتا رہا ۔
ہوٹل سے باہر نکل کرعمر کے عجلت سے اٹھتے ہوئے قدم نارمل ہو گئے اور وہ جیب سے موبائل فون نکال کر صفدر کو رپورٹ دینے لگا ۔
”سر !….میراکام ہو گیا ہے ….اور شہباز اس کے تعاقب میں ہے ۔“
جواب ملا ۔”اوکے !….میں گاڑی میں تمھارا منتظر ہوں ۔“
ہوٹل کی حدود سے باہر آ کر اس کے قدم ایک بغلی گلی کی طرف اٹھ گئے ،تھوڑی دیربعدوہ ہوٹل کی عقبی گلی میں موجود کالوں شیشوں والی ایک ویگن میں بیٹھ رہا تھا ۔صفدر وہاں پہلے سے موجود تھا ۔عمر پر توجہ دئےے بغیر وہ رسیونگ سیٹ سے آنے والی گفتگو کی طرف متوجہ رہا ۔ہیڈ فون کی وجہ سے وہ گفتگو صرف اسی کو سنائی دے رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں کی چمک اور چہرے پر چھائے دبے دبے جوش سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کی محنت رایگان نہیں گئی تھی ۔
عمر اسے ڈسٹرب کےے بغیر دائیں بائیں کا جائزہ لیتا رہا ۔اسی وقت اسے شہباز کی کال آنے لگی۔
”یس ؟“وہ اٹنڈنگ بٹن پریس کرتا ہوا مستفسر ہوا ۔
”وہ تھرڈ فلور ، کمرہ نمبر فورٹی فائیو میں چلا گیا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ….تم نگرانی جاری رکھو ….حماد باہر نکلے تو اس کا پیچھا کرنے کی ضرورت نہیں ، البتہ اس کے علاوہ کوئی نکلے تو اس کے پیچھے چلے جانا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کرشہباز نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
صفدر حماد اور کامران کی گفتگو سننے میں مگن رہا ۔گفتگو کے اختتام پر اس نے مسکراتے ہوئے ہیڈ فون کانوں سے ہٹایا اور کہا ۔
”گڈ میاں عمر !….تمھاری محنت رنگ لائی ہے ۔“
عمر ہنسا ۔”مطلب کوئی کام کی بات معلوم ہو گئی ہے۔“
”ایسی ویسی ….سمجھو مشن ہی مکمل ہو گیا ۔“
”کچھ پتا بھی چلے ؟“
”لو یہ ریکارڈنگ خود سن لو ۔“ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے حوالے کر کے صفدر ویگن کو سٹارٹ کر نے لگا۔اسی وقت شہباز کی کال آنے لگی ۔عمر نے کال اٹینڈ کی ۔
”حماد کمرے سے باہر آ کر بہ مشکل لفٹ تک پہنچا ہوگا کہ دوسرا آدمی بھی باہر نکل آیا ہے ۔اور میں اس کے تعاقب میں جا رہا ہوں ….“یہ الفاظ کہتے ہی شہباز نے رابطہ منقطع کر دیا تھا ۔
عمر ریکارڈنگ ڈیوائس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
گھنٹے بھر بعد وہ احمد صاحب کے پاس پہنچ گئے تھے۔وہ اپنے آفس میں ان کا منتظر تھا ۔ کامیابی کی نوید سنا کر صفدر نے ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے سامنے رکھ دیا۔احمد کوئی سوال کیے بغیر ریکارڈنگ سننے لگا ۔جبکہ وہ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے تھے ۔
گھنٹے بھر کی ریکارنگ نے احمد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔
”گڈ مسٹر صفدر اینڈ عمر!….“
”تھینک یو سر !….“صفدر نے جواب دیا جب کہ عمر فقط سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔اسی وقت عمر کے موبائل فون پر شہباز کی کال آنے لگی ۔
”یس ؟“اس نے کال رسیو کی ۔
”وہ آدمی گھنٹا بھرہوٹل منیجر کے آفس میں بیٹھا رہا ،پھر وہاں سے نکل کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے ؟“
”ویٹ ….احمد صاحب سے پوچھ لوں ۔“عمر احمد کی طرف متوجہ ہو ا….
”سر !…. ہمارا مطلوبہ آ دمی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے، اب شہباز کے لیے کیا حکم ہے ؟“
”اسے کہو واپس آ جائے ….صبح ان لوگوں سے نبٹ لیں گے ،رات کو مشکل ہے کہ یہ فریحہ یا دانیال کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں ۔“
عمر، اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شہباز کو بتانے لگا ….
”تم واپس آ جاو۔“
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *